In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Browse Al Islam

Archives of 2011 Friday Sermons

Delivered by the Head of the Ahmadiyya Muslim Community

Televised via Satellite by MTA International

Browser by year

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
30-Dec-2011 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)Urdu (U.m)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Exemplary Lives of Companions of the Promised Messiah(as)
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Indonesian | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضور نے فرمایا پس وہ لوگ جنہوں نے حضرت مسیح موعود ؑ سے فیض پایا ، یقینا ان کا ایک مقام ہے اور ان میں سے ہر ایک ہمارے لئے ایک نمونہ ہیں ، جن کی نیکی ،تقویٰ اور پاک تبدیلیوں کا معیار یقینا قابل تقلید ہے ۔ حضرت مولوی صوفی عطا محمد صاحبؓ : آپ بیان کرتے ہیں کہ اخبار میں یہ پڑھا کہ حضرت مسیح موعود ؑ جہلم تشریف لا رہے ہیں ، لیکن مجھے توملازمت سے جہلم جانے کی بھی اجازت نہ مل سکتی تھی مگر میں بہت بیقرار تھا ، گھر والوں کو میں نے کہا کہ کل اتوار ہے اور حضرت مسیح موعود ؑ جہلم تشریف لا ئے ہیں میں جاتا ہوں۔ حضرت خلیفہ نورالدین صاحبؓ : حضور نے فرمایاکہ یہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول ؓ نہیں ہیں بلکہ یہ اور صحابی ؓ ہیں ، آپ فرماتے ہیں کہ آپ ایک دفعہ جموں سے پیدل براہ گجرات کشمیر گئے ، راستہ میں گجرات کے قریب ایک جنگل میں نماز پڑھ کر الھم انی اعوذبک من الھم والحزن والی دعا نہایت زاری سے پڑھی۔ حضرت مولوی جلال الدین صاحبؓ : آپکے صاحبزادے میاں شرافت احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ مولوی صاحب متوکل انسان تھے ، بیان کیا کرتے تھے کہ ہم کو جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے خدا تعالیٰ خود ہی مہیا فرما دیتا ہے ، ہمیں ضرورت نہیں ہوتی کہ کسی سے کہیں ۔ حضرت صوفی غلام محمد صاحب ؓ : آپ لکھتے ہیں کہ ۱۹۱۲ میں میں نے پنجاب یونیورسٹی سے بی اے کا امتحان پاس کیا ، اس کے بعد میں نے حضرت خلیفۃ المسیح الاول ؓسے پوچھا کہ قرآ ن شریف یاد کروں کہ ایم اے کا امتحان دوں ، فرمایا قرآ ن کریم یاد کرو ۔ حضرت سید اختر الدین احمد صاحب ؓ: آپ لکھتے ہیں کہ آپ اپنے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے کامل بروز کے ذکر کی بہت تڑپ رکھتے تھے لیکن خوف مجھے یہ ہوتا تھا کہ اس عاجز کا حافظہ کمزور اور حضرت مسیح موعودؑ کی پاک صحبت کو مدت گزر گئی اور اس وقت میری عمر ۲۴ سال کی تھی۔ حضرت خیر الدین صاحب ؓ : آپ نے ۱۹۰۶ میں بیعت کی اور اسی سال حضرت مسیح موعودؑ کی زیارت کا شرف حاصل ہوا۔ حضرت حافظ نبی بخش صاحب ؓ : آپ محکمہ نہر میں پٹواری تھے اور گرداوری کے دنوں میں سارا سارا دن گھومنا پڑتا ، حتی کہ سخت گرمی کے دنوں میں بھی گھومنا پڑتا تھا۔ اس سے جس قدر تھکاوٹ انسان کو ہو جاتی ہے وہ بالکل واضح ہے ، پھر رات کو آپ تہجد کیلئے ضرور اٹھتے اور بچوں کو بھی کہتے، جب رمضان کے دن ہوتے تو باوجود اس قدر گرمی کے روزے بھی باقاعدہ رکھتے۔ حضور نے فرمایا کہ ان کے پڑ پوتے عزیزم عمیر کو ۲۸ مئی ۲۰۱۰ کو ماڈل ٹاؤن لاہور میں اﷲ تعالیٰ نے شہادت کا مرتبہ بھی عطا کیا ہے۔ حضرت محمد یعقوب صاحب ؓ : آپ نے ۱۹۰۰ میں بیعت کی اور ۱۹۰۴ میں حضرت مسیح موعودؑ سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا، لکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ اپنی آغوش محبت میں بچوں کو زیادہ جگہ عطا فرماتے ۔ بندہ حضور انور کی گود میں کھیلتا رہتا، حضور انور کا چہرہ نور علیٰ نور تھا۔ جمال الدین صاحب آ ڈیٹر صدر انجمن احمدیہ کی وفات۔

Hudhur explained that those who lived through the lifetime of the Promised Messiah(as), met him, took his Bai’at and had the blessing of his company, advanced in their faith and belief and that is the group of people which is referred to here. Hadhrat Maulwi Sufi Atta Muhammad sahib(ra): He writes that he read in the paper that the Promised Messiah(as) was going to visit the city of Jhelum. He became anxious about not getting leave from work to visit Jhelum. So, he told his family that as the next day was a Sunday he would try and visit Jhelum. Hadhrat Khalifa Nur uddin sahib(ra): Hudhur clarified that this was not an account of Hadhrat Khalifatul Masih I(ra). Nur uddin sahib writes that once he stopped in a jungle on a long journey to offer Salat and said the prayer starting with ‘Allahumma inni a ‘uthu bika minal hummi wal huzni…’ with the deepest of pathos and tenderness. Hadhrat Maulwi Jalal Uddin sahib(ra): His son Mian Sharafat Ahmad sahib writes that Maulwi sahib used to say that God provided whatever he was in need of and he did not need to ask anyone for anything. Hadhrat Sufi Ghulam Muhammad sahib(ra) writes that in 1912 he did his BA from Punjab University and asked Hadhrat Khalifatul Masih I(ra) if he should memorise the Qur’an or go on to take his MA. He was advised to memorise the Qur’an first. Hadhrat Syed Akhtar uddin Ahmad(ra): He writes that he is desperately eager to narrate about the perfect Baruz of our master the Holy Prophet(saw) but is wary of his memory as a long time had elapsed when he had kept the blessed company at the age of twenty four. Hadhrat Khair ud Din sahib(ra): He took his Bai’at in 1906 and also saw the Promised Messiah(as) in the same year. Hadhrat Hafiz Nabi Buksh sahib(ra): He was employed in the department of waterways and as such had to walk long distances even in intense heat. He used to get exhausted but always woke up to offer Tahajjud and kept his fasts during Ramadan. Hudhur said a great-grandson of Hadhrat Hafiz Nabi Buksh sahib, Umair, was martyred during the 28 May 2010 incident in Model Town, Lahore. Hadhrat Muhammad Yaqub sahib(ra): He took his Bai’at in 1900 and saw the Promised Messiah(as) in 1904. He writes that the Promised Messiah(as) used to hold little children most affectionately in his lap. He recalls that he would play in the lap of the Promised Messiah(as) for long and gaze at his face which was light upon light. Death of Jamal uddin sahib who was auditor of the Anjuman.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
23-Dec-2011 Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Tribute to Syed Abdul Hayee Shah sahib
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Full Text: Urdu | Tamil | Indonesian | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

پس خوش قسمت ہیں ہم میں سے وہ جو اس دنیا پر اگلی دنیا کو ترجیح دیتے ہیں ، خدا تعالیٰ کی رضا کی کوشش کرتے ہیں، اس حقیقی دلدار کو راضی کرنے کیلئے اپنی زندگی کا اکثر حصہ گزارتے ہیں یا یہ کوشش کرتے ہیں کہ اس طرح گزاریں جس سے دلدار راضی ہو، دین کو دنیا پر مقدم رکھتے ہیں اور اس کیلئے ہر قربانی کیلئے تیار رہتے ہیں۔ اس حد تک آگے چلے جاتے ہیں کہ خدمت دین کے علاوہ انہیں کوئی دوسری دلچسپی نظر نہیں آ تی۔ گزشتہ دنوں ان خوبیوں کے مالک ہمارے ایک بزرگ کی وفات ہوئی ہے ، جو یقینا جماعت کا ایک عظیم سرمایہ تھے ، جن کا نام محترم سید عبدالحئی شاہ صاحب ہے ۔ اناللہ و انا الیہ راجعون ۔ اﷲ تعالیٰ انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ عطا فرمائے۔ شاہ صاحب ۱۲ جنوری ۱۹۳۲ کو کشمیر میں پیدا ہوئے ۔بعد میں آپ قادیان آ گئے تھے ، اور انڈو پاک کی پارٹیشن کے وقت آپ پاکستان چلے گئے ، ان کی والدہ کشمیر میں ہی تھیں اور ان سے یہ علیحدہ ہو ئے ہیں تو چالیس سال کے بعد ملے ہیں ۔ یہ جدائی انہوں نے دین کی خاطر برداشت کی۔انکے دادا سید محمد حسین شاہ کا تعلق سری نگر کشمیر سے تھا ۔ بڑے سادہ مزاج ، شریف النفس ، معاملہ فہم، حلیم الطبع ، مدبر، کم گواور ہمیشہ نپی تلی بات کرنے والے تھے ۔ٹھوس علمی پس منظر کی وجہ سے ہر معاملہ کی خوب گہرائی سے تحقیق کرتے تھے اور اپنی پختہ رائے سے نوازتے تھے ۔ خلفاء سلسلہ کی طرف سے موصول ہونے والے علمی موضوعات کی تحقیق اور حوالہ جات کی تخریج و تکمیل کو اول وقت میں انجام دینے کی کوشش کرتے تھے۔ کتب کی تیاری، طباعت ، اشاعت تک کے مراحل میں اپنے عملے کی راہنمائی کرتے اور بڑے گہرے مشورے دیتے ۔ حضور نے فرمایا کی جب حضور نے ۲۰۰۸ میں ان سے فرمایا کہ روحانی خزائن کی کمپیوٹرائزڈ اشاعت ہونی چاہئے ، پرنٹنگ ہونی چاہئے ، تو بڑی محنت سے انہوں نے اس کام کو سر انجام دیا ، اس کمپوٹرازڈ سیٹ کی بہت سی خصوصات کے علاوہ سید عبدالحئی صاحب نے اس بات کا بھی خیال رکھا کہ یہ ایڈیشن روحانی خزائن کے سابقہ ایڈیشن کے صفحات کے عین مطابق رہے تاکہ جماعتی لٹریچر میں گزشتہ نصف صدی سے آ نے والےجو حوالہ جات ہیں ان کی تلاش میں سہولت رہے ۔ عربی ڈیسک کے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ جب سے خاکسار نے روحانی خزائن کا ترجمہ شروع کیا ہے ان کے ساتھ تعلق رہا ، خاکسار کو بعض مشکل مقامات کے حل کے سلسلے میں ان سے راہنما ئی اور ہدایت کی ضرورت پڑتی تھی، محترم شاہ صاحب نے ہر دفعہ خندہ پیشانی سے نہات محققانہ اور عالمانہ رنگ میں بر وقت راہنما ئی فرمائی۔ حضور نے فرمایا غرض کہ بہت علمی آدمی تھے اور بڑی محنت کرنے والے واقف زندگی تھے ۔ اپنے پرانے مبلغین کو بتایا کرتے تھے کہ صدر انجمن احمدیہ کا میں نے وہ زمانہ بھی دیکھا ہے جب بہت سادگی تھی اور کفایت شعاری کی وجہ سے بہت سی سہولتیں جو غیر ضروری سمجھی جاتی تھیں وہ نہیں ہوتی تھیں، اور پرانے دفتر کی چھت کی طرف اشارہ کر کے کہتے تھے کہ رسی سے پنکھے چلائے جاتے تھے۔

Fortunate are those among us who give precedence to the Hereafter over this life, who are ever on the lookout to please God and spend most of their lives in trying to please their Beloved God. They excel in giving precedence to faith over worldly matters to such an extent that they have no interest other than to serve religion. An elder of ours who possessed such qualities and was certainly a great asset of the Community recently passed away. His name was Syed Abdul Hayi Shah sahib. Inna lillahi wa inna illaihi raji’oon. May God grant him a place near His dear ones. Shah sahib was born in June 1932 in Kashmir. He came to Qadian and later, at the partition of the subcontinent he went to Pakistan. His mother remained in Kashmir and he was separated from her for forty years. He endured this separation for the sake of faith. His grandfather was Syed Muhammad Hussein Shah who was from Srinagar, Kashmir. He was a simple-natured, forbearing, ingenious and quiet person who spoke measuredly. He researched matters thoroughly and then gave his opinion. He tried to fulfil the tasks given by the Khalifa of the time in optimum time. He guided his team in preparation of books and other publication matters and gave sound advice. Hudhur said when Hudhur told him in 2008 that Ruhani Khaza’in should be computerised, Shah sahib accomplished the task with great hard work. Apart from many other distinctive features of the computerised set, one is that it is exactly in accordance with the previous editions so that references can be looked up easily. Amer sahib of Arabic Desk writes about Shah sahib’s extensive knowledge. During translation work on Ruhani Khaza’in, at times he needed guidance and instructions from Abdul Hayi sahib which he gave each time in a cheerful manner. Hudhur said in short he was an academic person who worked extremely hard. He would recall the early times when there were no unnecessary facilities. He recounted how a ceiling fan was operated with the help of a rope.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
16-Dec-2011 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Holy Quran, The source of guidance and salvation
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضور نے فرمایا کہ جب حضور پوچھتے ہیں کہ تلاوت باقاعدگی سے کی جاتی ہے یا نہیں ، تو عام طور پہ تلاوت میں باقاعدگی کا مثبت جواب نہیں ہوتا ، حالانکہ ماؤں اور باپوں کو قرآن کریم ختم کروانے کے بعد بھی اس بات کی نگرانی کرنی چاہئے اور فکر کرنی چاہئےکہ بچے پھر باقاعدہ قرآن کریم کی تلاوت کرنے کی عادت ڈالیں۔ بچے کا خود صبح تلاوت کرنا اور پڑھنا اسے قرآن کریم کی اہمیت کا احساس دلائے گا، حضرت مسیح موعودؑ نے بھی اس طرف توجہ دلائی ہے کہ اس زمانے میں جب مختلف قسم کی دلچسپیوں کے سامان ہیں، مختلف قسم کی کتابیں موجود ہیں دلچسپی کی ، مختلف قسم کے علوم ظاہر ہو رہے ہیں، اس دور میں قرآن کریم پڑھنے کی اہمیت اور زیادہ ہو جاتی ہے اور ہمیں اس طرف توجہ کرنی چاہئے۔ قرآن کریم کی اصل عزت یہ ہے اور اس کی محبت یہ ہے کہ اس کے احکامات پر عمل کرنے کی کوشش کی جائے ، اس کے اوامر اور نواہی کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا جائے ، جن چیزوں سے خدا تعالیٰ نے روکا ہے ان سے انسان رک جائے ، اور جن کے کرنے کا حکم ہے ان کو انجام دینے کیلئے اپنی تمام تر قوتوں اور استعدادوں کو استعمال کرے ۔ اﷲ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھتے ہوئے اس کی تلاوت کی جائے۔ ایک بہت بڑے اسلام پر اعتراض کرنے والے پادری نے امریکہ میں قرآ ن کریم کے کچھ ترجمو ں پر، صرف ترجمے لئے تھے عربی متن نہیں لیا تھا، اعتراض کردیا کہ اسلام یہ کہتا ہے اور قرآن یہ کہتا ہے ، اس کو جب ہم نے اپنی یہ تفسیر بھجوائی تو اس کا جواب نہیں اس نے دیا اور بڑا پیچھا کرنے کے بعد یہی جواب تھا کہ میں نے جو ترجمے لئے ہیں وہ بھی مسلمانوں کے لکھے ہوئے ہیں ۔ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا: ’قرآ ن کریم صرف اتنا ہی نہیں چاہتا کہ انسان ترک شر کر کے سمجھ لے کہ بس اب میں صاحب کمال ہو گیا ، بلکہ وہ تو انسان کو اعلیٰ درجہ کے کمالات اور اخلاق فاضلہ سے متصف کرنا چاہتا ہے کہ اس سے ایسے اعمال و افعال سر زد ہوں جو بنی نوع کی بھلائی اور ہمدردی پر مشتمل ہوں اور اس کا نتیجہ یہ ہو کہ خدا تعالیٰ اس سے راضی ہو جائے ‘۔ حضور نے فرمایا پس اگر ایک مومن کو قرآن کریم سے حقیقی محبت ہے تو وہ اس معیار پر خود بھی پہنچنے کی کوشش کرے گا اور کرتا ہےاور اپنے بچوں کو بھی وہاں تک لےجانے کی کوشش کرے گا ۔ جیسا کہ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا شر اور برائی سے رکنا کوئی کمال نہیں ، کسی بری حرکت سے رکنا، کسی شر سے رکنا تو یہ کوئی کمال نہیں ہے ، یہ ہمارا مطمع نظر نہیں ہونا چاہئے بلکہ ہمیں اپنے ٹارگٹ بڑے رکھنے چاہئیں۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں : ’قرآن شریف تدبر اور غور و فکر سے پڑھنا چاہئے ، حدیث شریف میں آتا ہے کہ بہت سے ایسے قرآن کریم کے قاری ہوتے ہیں جن پر قرآن کریم لعنت بھیجتا ہے ۔ جو شخص قرآن پڑھتا اور اس پر عمل نہیں کرتا اس پر قرآن مجید لعنت بھیجتا ہے ۔

Hudhur said when Hudhur asks about regular recitation of the Qur’an, Hudhur usually gets the response that reading is not done on a regular basis. Mothers and fathers should inculcate children to read the Qur’an regularly with due care and supervision. Early morning recitation of Qur’an would make children aware of its significance. The Promised Messiah(as) had drawn our attention that in a world with diverse interests, where new sciences are introduced, the significance of the Qur’an increases. Real love of the Qur’an is to make one’s full effort to obey its commandments, to avoid what the Qur’an forbids and to employ one’s full capacity and capability to fulfill what it commands. Its recitation should be done with fear of God. A priest from USA who is a prominent detractor of Islam obtained various translations of the Qur’an as well as the Arabic text, and raised objections about what the Qur’an states. When we sent him our Qur'anic commentary he did not respond and after much chasing said that the translations he referred to were also done by Muslims. The Promised Messiah(as) said: ‘The Holy Qur’an does not simply require that having given up evil, man should assume he has attained excellence. Rather, it wants to define man with supreme excellence and high morals and that his actions and deeds involve sympathy and welfare of mankind. The consequence of which should be that Allah the Exalted is pleased with him. Hudhur said if a believer truly loves the Qur’an, he tries to attain such a standard himself and would also try and take his children to it. There is no distinction in avoiding evil and such should not be our aim. We should keep our targets high. The Promised Messiah(as) said: ‘Holy Qur’an should be read with care, concentration and interest. Hadith relates that there are many reciters of the Holy Qur’an who are cursed by the Qur’an. The Holy Qur’an curses the person who reads the Qur’an but does not practice on it.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
09-Dec-2011 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Islam Ahmadiyyat - The Truth Prevails
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian | English | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت مسیح موعودؑ نے ہزاروں دلائل از روئے قرآن، ازروئے حدیث، از روئے اقوال و تفسیرات، صلحاء و علماء گزشتہ سے ثابت فرمایا ہےکہ آپ ہی وہ مسیح و مہدی ہیں جس کی پیشگوئی قرآن و حدیث میں موجود ہے ۔ یہ نام نہاد مولوی اور ان کے چیلے اپنی گراوٹوں کی انتہا تک پہنچ چکے ہیں، اس حد تک گر چکے ہیں کہ احمدیوں پر ظلم ڈھانے کیلئے اﷲ تعالیٰ کی کتاب قرآن کریم اور اس کے رسول کی ہتک سے بھی باز نہیں آتےاور پھر کہتے ہیں کہ یہ تو قادیانیوں نے کیا ہے۔ اسلام کی خوبصورت تعلیم آج دنیا میں ہمیں حضرت مسیح موعودؑ کے ذریعہ سے پھیلتی نظر آ رہی ہے ، آج آپ کی جماعت ہی ہے جو باقاعدہ نظم و ضبط کے ساتھ ایک نظام کے ماتحت ، خلافت کے سائے تلے تبلیغ اسلام کا کام سر انجام دے رہی ہے ۔ افریقہ میں تبلیغ اسلام ہو یا یورپ میں یا کسی بھی دوسرے برا عظم میں ، کسی بھی ملک میں اسلام کی حقیقی تصویر جماعت احمدیہ ہی پیش کر رہی ہے ۔ حضور نے فرمایا : گزشتہ دنوں جب حضور یورپ کے دورہ پر گئے تھے تو واپسی پر حضور نے ایک جمعہ ہالینڈ میں بھی پڑ ھایا تھا ، اور حضور نے وہاں کے ایک سیاستدان اور ممبر آ ف پارلیمنٹ خیرط بلڈر کو ایک پیغام خطبہ میں دیا تھا کہ تم لوگ اسلام کے خلاف اور آ نحضرت ﷺ کے خلاف جو دریدہ دہنی میں بڑھے ہوئے ہو، گھٹیا قسم کی باتیں کر رہے ہو، دشمنی میں انتہا کی ہوئی ہے ، اس چیز سے باز آؤ نہیں تو اس خدا کی لاٹھی سے ڈرو ۔ گزشتہ دنوں کبابیر کے امیر صاحب کو ایک وفد کے ذریعہ سے اٹلی جانے کا موقع ملا ، جانے سے پہلے انہوں نے مجھے یہ بھی کہا کہ یہ وفد جو جارہا ہے اور اس میں کیونکہ ہر مذہب کے لوگ ہیں اور یہ مذہبی تقریب ہے اور پوپ سے بھی ملاقات ہوگی اس لئے اگر مناسب سمجھیں تو آپ کی طرف سے اس کو کوئی پیغام دے دوں اور قرآ ن کریم کا تحفہ بھی دے دوں ۔چنانچہ حضور نے پوپ کیلئے پیغام لکھ کے بھجوایا جو پوپ کے علاوہ ویٹی کن کے اور بڑے بڑے پادری تھے ان کو بھی دیا۔ حضرت مسیح موعودؑ کے خلاف ایک مقدمہ قائم ہوا تھا ، بڑا مشہور مقدمہ ہے جو ایک پادری ہینری مارٹن کلارک نے قائم کیا تھا ۔ اصل میں تو اس کے پیچھے اس شکست کا بدلہ لینا تھا جو حضرت مسیح موعودؑ اور عیسائیوں کے درمیان ایک مباحثے میں عیسائیوں کو ہوئی تھی۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ میرا انکار میرا انکار نہیں بلکہ یہ اﷲ اور اس کے رسول ﷺ کا انکار ہے کیونکہ جو میری تکذیب کرتا ہے وہ میری تکذیب سے پہلے معاذاﷲ اﷲتعالیٰ کو جھوٹا ٹھئرالیتا ہے جبکہ وہ دیکھتا ہے کہ اندرونی اور بیرونی فساد حد سے بڑھے ہوئے ہیں ۔ مریم خاتون صاحبہ کی پاکستان میں شہادت۔ عظیم النساء صاحبہ آف قادیان کی وفات، سلمان احمد صاحب مبلغ کی انڈونیشیا میں وفات، الحاج ڈی ایم کالوں صاحب آ ف سیرا لیون کیوفات۔

Promised Messiah(as) has verified through thousands of arguments derived from the Holy Qur’an, derived from Hadith and derived from the words and commentaries of earlier scholars of Islam, that he indeed was the one about whom the Qur’an has prophesised. So-called maulwis and their cohorts have reached the extreme pits of morality where in order to persecute Ahmadis, they do not even desist from affronting the Holy Qur’an and the Holy Prophet(saw) and put the blame on Ahmadis. Today it is through the Promised Messiah(as) that the teaching of Islam shines. It is his Community that is undertaking the task of Tabligh under the auspices of Khilafat in Africa, Europe and other parts of the world to present a true picture of Islam. During Hudhur’s recent European tour, he led a Friday Prayer in Holland and Hudhur gave a message to a Dutch politician, a member of parliament Geert Wilders in his Friday sermon. Hudhur had said that those who are excessive in disrespecting Islam and the Holy Prophet(saw) should desist from it, or else fear God’s chastisement. Recently the Ameer sahib of Kababir happened to go to Italy with a delegation. He informed Hudhur about the inter-religious nature of the delegation and the opportunity he would have to meet the Pope and asked Hudhur if Hudhur wished to send a message to the Pope. Hudhur sent a message which was given to the Pope as well as other high-ranking priests at the Vatican. Hudhur said a very infamous law case was filed against the Promised Messiah(as) by a priest named Henry Martin Clark. This was done to avenge the defeat of Christians by the Promised Messiah(as) in a debate. The Promised Messiah(as) said whoever rejected him in fact rejected God and His Prophet(saw) because whoever accused him of falsehood, prior to doing so, God forbid, considered God false although he could see that internal and external disorders had exceeded limits. Martyrdom of Maryam Khatoon sahiba in Pakistan. Death of Azeem un Nisa sahiba of Qadian, Death of Salman Ahmad sahib missionary in Indonesia, Death of AlHaj D. M. Kallon sahib of Sierra Leone.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
02-Dec-2011 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Ahmadiyyat - The unification of Muslims
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian | English | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

لوگوں کی ایسی تعداد بھی ہے جو مذہب کا اور اسلام کا زیادہ علم تو نہیں رکھتےلیکن خواہش رکھتے ہیں کہ غیر کی طرف سے اسلام اور مسلمانوں پر جو انگلی اٹھتی ہے ، اعتراضات ہوتے ہیں، ان کا تدارک کیاجائے، ان کو کسی طرح روکاجائے،ان کوجواب دیاجائے، ان کے منہ بند کروائے جائیں، ان کی خواہش ہے کہ اسلام کے تمام فرقے ایک ہو کر دشمنان اسلام اور دجالیت کا مقابلہ کریں۔ اس گروہ میں پاکستان ، ہندوستان کے رہنے والے مسلمان بھی ہیں ،عرب ممالک کے مسلمان بھی ہیں اور دوسرے ممالک کے مسلمان بھی ہیں۔ حضور نے فرمایا : اﷲ تعالیٰ نے مسلم امہ پر رحم کھاتے ہوئے آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی کے مطابق اور اپنے وعدے کے عین مطابق حضرت مرزا غلام احمد قادیانی ؑ کو مسیح موعود اور مہدی موعود بنا کر اسی لے بھیجا ہے کہ فرقوں کا خاتمہ ہو ۔ جماعت احمدیہ میں جب مسلمان شامل ہو کر مسیح موعودؑ کو آنحضرت ﷺ کا سلام پہنچا رہے ہیں وہ اسلام کے مختلف فرقوں میں سے آ کر فرقہ بندی کو ختم کرتے ہوئے حقیقی اسلام کی تعلیم پر عمل پیرا ہونے کیلئے ہی جماعت احمدیہ میں شامل ہوتے ہیں۔ حضور نے فرمایا کہ یہ غلط فہمی ہے کہ امت مسلمہ پہلے ہی فرقوں میں بٹی ہوئی ہے اور جماعت احمدیہ نے ایک اور فرقہ بنا کر فساد کی ایک اور بنیاد رکھ دی ہے ، یہ غلط فہمی اور قرآن و حدیث کے علم میں کمی کا نتیجہ ہے ۔ آجکل ہم محرم کے مہینے سے گزر رہے ہیں اور ہر سال اس مہینے سے ہم گزرتے ہیں ، تو جن جن ممالک میں سنی اور شیعہ کی تعداد زیادہ ہے ، وہاں ہمیں محرم کے مہینے میں دونوں طرف کا جانی اور مالی نقصان نظر آ تا ہے ۔ پاکستان ہو یا عراق ہو یا کوئی اور ملک ہو ، ہر طرف ہم یہی دیکھتے ہیں کہ محرم میں کوئی نہ کوئی فساد برپا ہوتا ہے، جان اور مال کا نقصا ن کیا جا رہا ہوتا ہے گو کہ اب تو ایک روزانہ کا معمول بن گیا ہے یہ نقصان۔ حضرت مسیح موعودؑ لکھتےہیں: آنحضرت ﷺ نے جو حضرت ابوبکرؓ کو صدیق کا خطاب دیا تو اﷲ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ آپ میں کیا کیا کمالات تھے، آنحضرت ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ حضرت ابو بکر ؓ کی فضیلت اس چیز کی وجہ سے ہے جو اس کے دل کےاندرہے ۔ حضرت عمرؓ کے مقام کے بارے میں حضرت مسیح موعودؑ ایک اور جگہ فرماتے ہیں: حضرت عمر ؓ کا درجہ جانتے ہو کہ صحابہؓ میں کس قدر بڑا ہے، یہاں تک کہ بعض اوقات ان کی رائے کے موافق قرآن شریف نازل ہو جایا کرتا تھا اور انکے حق میں یہ حدیث ہے کہ شیطان عمرؓ کے سا ئے بھاگتا ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ حضرت علیؓ کے مقام و مرتبہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: حضرت علی ؓ بڑے متقی اور پاک صاف تھے اور ان لوگوں میں سے تھے جو خدائے رحمان کے سب سے پیارے ہیں اور اچھے خاندانوں والے تھے اور زمانے کے سرداروں میں سے تھے ۔ غالب خدا کے شیر اور مہربان خدا کے نوجوان تھے، بہت سخی اور صاف دل تھے۔

There are also a number of people who, in spite of having little knowledge of Islam, wish that objections raised by people outside Islam are responded to. They wish all the sects of Islam to act as one and face the enemies of Islam. This group of people includes Muslims from Pakistan, India and some Arab countries. Hudhur said that in His mercy for the Muslim Ummah, and in accordance with His promise and the prophecy of the Holy Prophet(saw) God sent the Promised Messiah(as) to eradicate sectarianism. When people from within Islam come into the fold of Ahmadiyya Islam, they depart from sectarianism and practice true Islam. Hudhur said it is a misunderstanding to consider that Ahmadiyya Community has created a new sect and thus started a new wave of disorder. Such thoughts are borne out of a lack of knowledge of the Qur’an and Ahadith. We are going through the [Muslim] month of Muharram these days. In countries with large sections of Sunni and Shia people, both sides suffer loss of property and life in this month. Be it Pakistan, Iraq or another country, disorder ensues in Muharram, although now the disorderly state has become the norm. The Promised Messiah(as) wrote: ‘God alone knows best what excellences he possessed that the Holy Prophet(saw) gave Hadhrat Abu Bakr(ra) the title of Siddeeq. The Holy Prophet(saw) also said that the distinction of Hadhrat Abu Bakr(ra) was because of what was in his heart. The Promised Messiah(as) also wrote that the station of Hadhrat Umer(ra) was so elevated that sometimes Quran was revealed in accordance to his view. A Hadith relates that Satan runs away from the shadow of Umer. The Promised Messiah(as) writes about Hadhrat Ali(ra) that he was extremely righteous and pure and was from among those who are most beloved of the Gracious God. He was a lion of God, was very generous and pure-hearted.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
25-Nov-2011 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Elucidation of Freedom, Slavery and Islamic teachings
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian | English | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

غلامی سے آزادی اور آزادی مذہب و ضمیر ایک بہت بڑی نعمت ہے ، افریقہ بھی وہ براعظم ہے جس کے اکثر ممالک بڑا لمبا عرصہ محکوم قوم کے طور پر غلام بن کر زندگی گزارتے رہے ۔ اس لئے ان ممالک کی یوم آزادی کی خوشیاں اور جوبلی منانا یقینا ان کیلئے بہت اہم ہے اور یہ ان کا حق ہے ۔ اگر مذاہب کی تاریخ پر ہم نظر ڈالیں تو بانیان مذاہب یا انبیاء اﷲ تعالیٰ کی طرف سے دنیا میں جن اہم کاموں کیلئے آتے ہیں ، ان میں سے ایک بہت بڑا اور اہم کام آزادی ہے ، چاہے وہ ظالم بادشاہوں اور فرعونوں کی غلامی سے آزادی ہو، یا مذہب کے بگڑنے کی وجہ سے ، یا مذہب کے نام پر مذہب کے نام نہاد ٹھیکیداروں کے اپنے مفادات کی خاطر رسم و رواج یا مذہبی رسومات کے طوق گردنوں میں ڈالنے کی غلامی سے آزادی ہو ۔ تمام انبیاء میں سب سے بڑھ کر جو ہمارے سامنے آزادی کا سورج ہے ، جس کی کرنیں دور دور تک پھیلی ہوئی ہیں اور ہر قسم کی آزادی کا احاطہ کئے ہوئے ہیں وہ آنحضرت ﷺ کی ذات ہے ، جنہوں نے ظاہری غلامی سے بھی آزادی دلوائی اور مختلف قسم کے جو طوق تھےجو انسان نے اپنی گردن میں ڈالے ہوئے تھے، ان سے بھی آزاد کروایا۔ آنحضرت ﷺ فرماتے تھے : ’جو کوئی مسلمان غلام آزاد کرے گا ، اﷲ تعالیٰ اسے جنہم کی آ گ سے مکمل نجات عطا کرے گا‘۔ اسلام میں مختلف مواقع پر کفارہ کے طور پر غلام آزاد کرنے کی تعلیم قرآن کریم میں متعدد جگہ ہے : فرمایا کہ اگر کوئی مومن غلطی سے کسی مومن کے ہاتھ قتل ہو جائے تو غلام آزاد کرو اور خون بہا بھی ادا کرو۔ ایک اٹالین مستشرک وگلیری لکھتے ہیں کہ غلامی کا رواج اس وقت سے موجود ہے جب سے انسانی معاشرے نے جنم لیا اور اب تک بھی باقی ہے ۔ مسلمان خانہ بدوشوں یا متمدن ان کے اندر غلاموں کی حالت دوسروں سے بدرجہ بہتر پائی جاتی ہے۔حدیث نبویْﷺ کے اندر کس قدر انسانی ہمدردی ہے۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ یہ مت کہو کہ وہ میرا غلام ہے بلکہ یہ کہو کہ وہ میرا لڑکا ہے، اور یہ نہ کہو کہ وہ میری لونڈی ہے بلکہ یہ کہو کہ وہ میری لڑکی ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں :’ہمارے نبی کریم ﷺنےجو جماعت بنائی تھی اس میں سے ہر ایک پاک نفس تھا، اور ہر ایک نے اپنی جان کو دین پر قربان کردیا ہوا تھا ، ان میں سے ایک بھی ایسا نہ تھا جو منافقانہ زندگی رکھتا ہو۔ جس پاکستان کو حاصل کرتے وقت قائداعظم نے اعلان کیا تھا کہ یہاں ہر مذہب کے ماننے والوں کو مذہبی آزادی ہےاور پاکستانی شہری کی حیثیت سے تمام شہری برابر ہیں۔ احمدیوں کے ساتھ کیا کچھ نہیں کیا جا رہا ، غلط باتیں احمدیوں کی طرف منسوب کر کے خاتم الانبیاءﷺ جن کی غلامی میں رہنا ہر احمدی ہزاروں آزادیوں پر ترجیح دیتا ہے اور اپنی گردنیں کٹوانے کیلئے تیار ہے ، احمدیوں پر افتراء کرتے ہوئے ،جھوٹے الزام لگاتے ہوئے ، احمدیوں کےمتعلق یہ کہا جاتا ہےکہ ہم نعوذ با ﷲآنحضور ﷺ کی ہتک کرنے والے ہیں۔ خدا کی قسم ہم میں سے ہر احمدی بوٹی بوٹی ہونا تو گوارہ کرسکتا ہے لیکن ایسی آزادی اور حق رائے دہی پر تھوکتابھی نہیں جو ہمیں ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے علیحدہ کردے۔

Freedom from slavery as well as freedom of religion and conscience is a great blessing. The continent of Africa was enslaved and subjugated for a very long period of time. For this reason celebration of independence is certainly most significant for them and is their rightful due. A great and most significant task of founders of religion and Prophets is to bring about freedom; be it from tyrants, Pharaoh-like rulers, or so-called care-takers of religion who exploit religion and put people under the burden of neck yokes. Among all the Prophets, our Holy Prophet(saw) was the most brilliant star of freedom whose rays reached far and wide and encompassed all forms of freedoms. The person of the Holy Prophet(saw) brought about apparent freedom and also freed people from all kinds of neck yokes, shackles. The Holy Prophet(saw) said: ‘Whichever Muslim will free a slave will be granted complete salvation by God from the fire of Hell.’ Islam teaches freeing of slaves as expiation in many places in the Qur’an, which also teaches that if a Muslim kills another Muslim by mistake, he should free a slave as well as give blood-money. An Italian professor, Laura Veccia Vaglieri writes that slavery has been around ever since human civilisation began and it remains. She opines that the condition of slavery among Muslim nations is comparatively better. She writes about the benevolence of the Prophet(saw) and cites him as saying ‘do not say he is my slave, rather say he is my son and do not say she is my female-slave rather say she is my daughter. The Promised Messiah(as) said: ‘Each person in the community of our Holy Prophet(saw) was of pure nature. Each one of them had sacrificed their lives for faith. Not a single one of them led hypocritical life. Qaid e Azam had declared at the time of independence of Pakistan that followers of all religions would have freedom in the country and all citizens were equal. Yet, what is being meted out to the Ahmadis? Ahmadis give preference to be in the slavery of the Seal of all Prophets(saw), to thousands of freedoms, but they levy accusations on us that, God forbid, we insult him. By God, every Ahmadi can tolerate being cut down to pieces but would not even spit on such freedom and enfranchisement which separates us from our master, the Holy Prophet(saw).

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
18-Nov-2011 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: A correction explained and a tribute to Sahibzadi Amatul Naseer sahiba
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Indonesian | English | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضور نے گزشتہ خطبہ جمعہ میں بیان کی گئی ایک حدیث کی تصحیح فرمائی جس میں پانچوں نمازیں اکٹھی کر کے پڑھنے کا ذکر تھا ۔ حضور نے فرمایا احادیث کی تمام کتب میں اس حدیث کو اس طرح سے نہیں پیش کیا گیا جس طرح حضور نے فرمایا تھااور احادیث کی سب کتب اس پر متفق بھی نہیں ہیں ، یہ روایت جن احادیث میں ہے وہ چار نمازوں کے متعلق ہے پانچ نمازوں کے متعلق نہیں ہے، لیکن اس پر بھی اختلاف ہے۔ اس معاملہ پرایک عیسائی کے اعتراض کاجواب دیتےہوئے حضرت مسیح موعودؑ لکھتے ہیں یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ خندق کھودنےکےوقت چار نمازیں قضاء کی گئیں ، اول آپ کی کم علمی تو یہ ہے کہ قضاء کا لفظ استعمال کیا ہے ، اے نادان قضاء نماز ادا کرنے کو کہتے ہیں ، ترک نماز کا نماز قضاء ہر گز نہیں ہوتا۔ حضور نے فرمایا کہ وہ گزشتہ دنوں وفات پانے والے چند بزرگان کا ذکر خیر کرنا چاہتے ہیں ، جن میں سے سب سے پہلے حضور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ کی بیٹی، صاحبزادی امتہ النصیر بیگم صاحبہ جو حضور کی خالہ بھی تھیں کا ذکر کریں گے۔ صاحبزادی امتہ النصیر بیگم صاحبہ بہت ہنس مکھ، خوش مزاج اور دوسروں کا خیال ہر طرح سے رکھنے والی تھیں ، مالی مدد بھی اورجذبات کاخیال رکھنابھی آپ کاخاص وصف تھا ۔ حضور نے فرمایا کہ حضور کو جو تعزیت کے خط آ رہے ہیں انکے جاننے والوں کے، ان میں یہ بات تقریبا ان کے ہر واقف نے لکھی ہے کہ ان جیسا بے نفس اور دوسروں کے احسا سات اور جذبات اور گہرائی سے خیال رکھنے والے ہم نے کم دیکھے ہیں ۔ حضور نے فرمایا کہ حضور کے والدین اور حضور کی خالہ کا گھر ساتھ ساتھ ہیں، دیوار سانجھی ہے ،اور ایک دوسرے کے گھر آنا جانا تھا ۔ حضور نے فرمایا کہ حضور نے اپنی خالہ کو ہمیشہ ہنستے اور خوش دلی سے ملتے اور اپنے گھر میں ہر بڑے چھوٹے کو استقبال کرتے دیکھا ہے ۔ مہمان نوازی آپ میں بہت زیادہ تھی، امیر ہو یا غریب ہو ، بڑا ہے یا چھوٹا ہے ، اپنے گھر آئے ہوئے کی خا طر کرتی تھیں ۔ حضور نے فرمایا کہ حضور جب بھی ان کے گھر گئے ہیں پہلے تو خوب خاطر مدارات ہمیشہ کیں جس طرح بڑوں کی کی جاتی ہے ، اور خلافت کے بعد تو ان کا تعلق پیار اور محبت کا اور بھی بڑھ گیا ، اطاعت اور احترام بھی اس میں شامل ہو گیا ۔ یہاں یوکے دو مرتبہ جلسے پہ آئیں ہیں ، انتہائی ادب اور احترام اور خلافت کا پاس انتہا درجہ کا جو کسی احمدی میں ہونا چاہئے وہ ان میں اس سے بڑھ کر تھا ، اس حد تک کہ بعض دفعہ ان کے سلوک سے حضور کو شرمندگی ہوتی تھی۔ صاحبزادی امتہ النصیر صاحبہ کہا کرتی تھیں کہ ’ بہو کو سمجھانا ہو تو بیٹے کو نصیحت کرنی چاہئے اور اگر داماد کو سمجھانا ہو تو بیٹی کو نصیحت کرنی چاہے ‘۔ عبادات اور چندوں میں غیر معمولی باقاعدگی تھی۔ حضور نے فرمایا جب ان کی والدہ کی وفات ہوئی ہے تو حضرت مصلح موعودؓ سفر پہ تھے اور تدفین بھی آپکے پیچھے سے ہو چکی تھی ۔ حضرت مصلح موعودؓ لکھتے ہیں جب میں سفر سے واپس آیا اور امتہ النصیر کو پیار کیا تو اس کی آنکھیں پر نم تھیں لیکن وہ روئی نہیں ، میں نے اسے گلے لگا کر پیار کیا ، مگر وہ پھر بھی نہیں روئی ، حتی کہ مجھے یقین ہوگیا کہ اسے نہیں معلوم موت کیا چیز ہے۔ عبداﷲ و ہاب احمد صاحب شاہد کی وفات، عبدالقدیر فیاض صاحب کی وفات، منیر احمد خان صاحب آف کراچی کی وفات۔

Hudhur presented a clarification of a Hadith he had narrated in his last Friday sermon which related combining five daily Prayers during battle. Hudhur said all books of Ahadith do not quite agree on one narration of the Hadith Hudhur had quoted. The citation is regarding four Prayers and not five and there is disagreement on this as well. Elucidating the matter in response to an objection raised by a Christian, the Promised Messiah(as) wrote that it was a satanic mischief to say that the Prophet(saw) had missed offering four Salat in a day. He said that the foolish objector had not understood the term ‘qadha’ properly. Hudhur said the subject he wished to speak on next was the passing away of some Community elders, among whom the first mention was to be of one of the daughters of Hadhrat Musleh Maud(ra), Sahibzadi Amatul Naseer Begum sahiba, who was also Hudhur’s aunt. Sahibzadi Amatul Naseer Begum sahiba was a very cheerful, caring person who helped people emotionally as well as financially. Those who knew her are writing to Hudhur that few people are as selfless and deeply caring about others as she was. Hudhur said his parents’ home and his Khala’s (aunt) home shared a wall and both families saw a lot of each other. Hudhur always found his Khala cheerful and happy. She was most hospitable; regardless of the social status or age of the guest, she was welcoming and warm. Hudhur said his Khala was most welcoming to him when he visited her and after Hudhur’s Khilafat her warmth increased. She came to the UK twice during Hudhur’s Khilafat and her respect and esteem was so extreme that it embarrassed Hudhur. Sahibzadi Amatul Naseer Begum sahiba would say, ‘if you want to advise your daughter-in-law, counsel your son and if you wish to advise your son-in-law, counsel your daughter.’ She was extraordinarily regular in her worship of God and in paying financial dues. At the time of the passing away of her mother, Hadhrat Musleh Maud(ra) was on travels and the burial took place while he was still away. He wrote that on his return when he expressed love to little Amatul Naseer, she had tears in her eyes but she did not weep. He hugged her but she still did not weep. So much so that he was convinced that she did not understand death. Death of Abdullah Wahab Ahmad sahib Shahid, Abdul Qadeer Fayaz sahib, Munir Ahmad Khan of Karachi.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
11-Nov-2011 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Persecution and Relationship with Allah
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Indonesian | English | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

پاکستان میں احمدیوں کی مخالفت کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے فرمایا احمدیوں پر اس وقت سے سختیاں روا رکھی جا رہی ہیں یا ان پر زمین تنگ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ، جب سےکہ احمدیوں کو اسمبلی نے ۱۹۷۴ میں غیر مسلم قرار دینے کیلئے قانون پاس کیا تھا۔اور پھر جنرل ضیاء الحق نے اپنی آمریت کا بھرپور فائدہ اٹھاتےہوئے اس قانون کو مزید سخت کیا۔ پس جب ہم احمدی اس مخالفت کو دیکھتے ہیں تو ایمان تازہ ہوتے ہیں کہ انبیاء کی تاریخ دہرائی جا رہی ہے ۔ ہم بیشک آج تھوڑے ہیں اور دنیا کی نظر میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ ہمیں یہ جراَت اور موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑے ہونے کا حوصلہ اس جری اﷲ نے دیا ہے جسے اس زمانے میں اسلام کی نشعت ثانیہ کیلئے اﷲ تعالیٰ نے بھیجا ہے ۔ ہمیں اپنی زندگیوں سے زیادہ اپنے ایمان کی حفاظت کرنے کا حوصلہ آنحضرت ﷺ کے اس عاشق صادق نے دیا ہے جو ثریا سے زمین پر ایمان لے کر آیا ہے۔ حضور نے فرمایا پس جن مشکلات اور جماعت کے خلاف کاروائیوں اور قانون سازیوں سے خاص طور پر پاکستان کی جماعت اور پھر انڈونیشیا ، ملائیشیا کی جماعتیں یا بعض اور مسلم ممالک کی جماعتیں گزر رہی ہیں، انکے پیچھے اس سے زیادہ کامیابیوں اور فتوحات کی نویداور خوشخبریاں ہمیں اﷲ تعالیٰ دے رہا ہے ۔ جب حضرت مسیح موعودؑ کے ساتھ خدا تعالیٰ کی تائیدات کو ہم دیکھ رہے ہیں تو یقینا یہ سب باتیں ہمیں اس یقین پر مزید قائم کرتی ہیں کہ اﷲ تعالیٰ جس طرح آپ کے زمانے میں آپ کے ساتھ تھا اور آپ کی تائید فرماتا تھا ،آئندہ زمانے میں بھی فرماتا رہے گا ۔ اور آج بھی فرمارہا ہےاﷲ تعالیٰ کے فضل سے ۔ مخالفین کو مخاطب کرتے ہوئے حضور نے فرمایا: ’اے مخالفین احمدیت اس خدا سے ڈرو جس کے سامنے تمہارے دولت، تمہارے گھمنڈ، تکبر ، تمہاری مساجد کی امامت، تمہاری سیاسی پارٹیاں ، تمہاری حکومت ، تمہاری عددی اکثریت کوئی حیثیت نہیں رکھتی‘ ۔ دشمنوں کے تمام مکر، تمام حیلے ، معصوم بچوں کو تنگ کرنے کی کوششیں ، احمدی ملازموں کو تنگ کرنے کی کوششیں ، احمدی کاروباری لوگوں کو تنگ کرنے کی کوششیں ، راہ چلتوں پر مقدمے قائم کرنے کی کوششیں ، اﷲ اور اس کے رسول کے غلبے کو روک نہیں سکتیں۔ حضور نے فرمایا پس اگر ہم محبت اور وفا سےاس قوی اور زبردست خدا کے آگے جھکے رہے تو دشمن کا کوئی مکر، کوئی کوشش جماعت کو انشاء اﷲ تعالیٰ نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ اسی لئے حضور نے گزشتہ دنوں دعاؤں اور عبادتوں اور نفلی روزوں کی خاص تحریک کی تھی۔ حضور نے فرمایا کہ وہ کہنا چاہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ کا الہام ہے کہ ’بعد گیارہ‘ ۔ حضور نے فرمایا احمدی اپنے طور پر اندازے لگاتے رہتے ہیں اور حضور کو بھی لکھتے رہے ہیں۔ درویش چوہدری محمد صادق صاحب اور احمد یوسف صاحب شہید آف شام کی وفات۔

Summarising the persecution of Ahmadis in Pakistan, Hudhur said the oppression started when the legislative body of the country, the National Assembly, passed a bill and declared us non-Muslims in 1974. Later, taking full advantage of his dictatorship, Gen. Zia made the law even harsher. When Ahmadis experience opposition, it only strengthens our faith given that history of Prophets of God is being repeated. Without doubt we are few in number and are insignificant in the eyes of the world. The courage and valour and the passion to look death in the eye is given to us by the champion of God who was sent by God in this age to establish the second phase of Islam. It is given to us by the true and ardent devotee of the Holy Prophet(saw) who brought faith back down to earth from the Pleiades. Hudhur explained that in the backdrop of all the adversities and hostile legislations that the Community is experiencing, especially in Pakistan and also in Indonesia, Malaysia and some other Muslim countries, God is giving us glad-tidings. As we see the signs of Divine help and support with the Promised Messiah(as), it further strengthens our belief that just as God was with him in his lifetime and helped him, God will do so in the future. Indeed, He is helping us today. Addressing our detractors, Hudhur said ‘O opponents of Ahmadiyyat, fear God for Whom your wealth, your conceit and arrogance, your Imamat of mosques, your political parties, your governmental power, your majority in numbers has no significance. Hence, all the scheming of the opponents, harassment of school children, harassment of Ahmadi employees or business fraternity, filing lawsuits against completely unconnected and innocent Ahmadis will not stop the triumph. Hudhur said if we continue to turn to All Powerful God with love and sincerity, none of the enemy’s ploys can harm our Community. This is why Hudhur had recently especially asked for prayer, worship and optional fasting. Hudhur said he wished to mention a revelation of the Promised Messiah(as) that includes the words, ‘After eleven.’ Hudhur said Ahmadis make personal inferences [about revelations] and also write to Hudhur about them. Death of Dervish Chaudhry Muhammad Sadiq sahib and Ahmad Yusuf sahib shaheed of Syria.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
04-Nov-2011 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Blessings of Financial Sacrifice by Ahmadiyya Muslim Community
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

اس زمانے میں جس جری اﷲ نے قرآن کریم کی تعلیم کو دنیا میں پھیلانا تھا ، قرآن کریم کی تعلیم کو دنیا کے ہر باشندے کو اس کی زبان میں پہنچانا تھا ، وہ یہی عاشق قرآن اور غلام آنحضور ﷺ ہے جس کانام حضرت مرزا غلام احمد قادیانی ؑہے ۔ خدائی تقدیر کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا ۔ اپنوں اور غیروں کی یہ مخالفتیں اور دشمنیاں تو وہ کام کرتی رہیں اور اب تک کر رہی ہیں جو فصلوں اور درختوں کیلئے کھاد کا کام کرتے ہیں ،آج بھی ہم نظارہ دیکھتے ہیں جب بھی جماعت کو کسی بھی جگہ کسی بھی طریقے سے دبانے کی کوشش کی گئی، ایک نئی شان سے اس جری اﷲکی جماعت اﷲ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بنتے ہوے ترقی کی نئی منزلیں دکھانے والی بنی۔ جب بھی جماعت کو اس مقصد کے حصول کیلئے توجہ دلائی گئی، جماعت نے ہمیشہ خدا تعالیٰ کے فضل سے لبیک کہا، اور پہلے سے بڑھ کر جماعت اور اسلام کی ترقی کیلئے دعاؤں میں مشغول ہو گئے باقی قربانیوں میں لگ گئے ۔ گزشنہ دنوں جب حضور نے نفلی روزوں اور دعاؤں کی طرف توجہ دلائی تو جو خطوط حضور کو آرہے ہیں اس سے لگتا ہے بے انتہا شوق سے جماعت نے اس طرف توجہ دی اور لبیک کہا اور ہر ایک دعاؤں میں مصروف ہے۔ فی زمانہ تبلیغ اسلام کیلئے لٹریچر ، کتب کی اشاعت بڑی ضروری ہے ، مبلغین کا انتظام ہے ، مساجد اور مشن ہاؤسز کی تعمیر ہے اور دوسرے ذرائع جو آج کل کے تیز زمانے میں میڈیا میں ایجاد ہوئے ہیں ، ان سب کیلئے مالی قربانیوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جب تحریک جدید کا اجراء کیا گیا تو ایک والہانہ لبیک کا نظارہ دنیا نے دیکھا اور آج ہم اﷲ تعالیٰ کے فضل سے دنیا کے ۲۰۰ ممالک میں موجود ہیں اور ایم ٹی اے کے ذریعہ ہی ایک انقلاب دنیا میں آرہا ہے ۔ آج ہم دنیا میں تحریک جدید کے پھل لگے ہوئے دیکھ رہے ہیں بلکہ دنیا میں اﷲ تعالیٰ کے فضل سے احمدیت کے پھلدار درخت بلکہ پھلوں سے لدے ہوئے درخت لگے ہوئے دیکھ رہے ہیں ان قربانیوں کے نتیجے میں ۔ جہاں مختلف لازمی چندوں اور دوسری تحریکات میں جماعت کے افراد قربانی کر رہے ہیں وہاں تحریک جدید میں بھی غیر معمولی قربانی ہے ، آج کل جب کہ دنیا مالی بحران کا شکار ہے ، یہ قربانیاں جو احمدی کر رہے ہیں ، اﷲ تعالیٰ کی حمد سے لبریز کر دیتی ہیں ۔ گھانا کے مبلغ سلسلہ لکھتے ہیں کہ وہ اور ایک اور احمدی ایک دور دراز علاقے میں تبلیغی دورے پر گئے جہاں انہوں نے دھوپ میں کھڑے ہو کر نماز ادا کی ، انہوں نے کہا اس علاقے کے لوگوں کیلئے مسجد بنانا ان کا حق ہے ، چنانچہ انہوں نے ایک بڑی مالی قربانی کرتے ہوئے ایک خوبصورت مسجد ان کیلئے بنوادی اور اس مسجد میں ۳۰۰ افراد نماز ادا کرسکتے ہیں ۔ برکینا فاسو کے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ ہمارے مشنری کی تقریر سن کر ایک شخص نے عہد کیا کہ بیشک میں غریب ہوں اور سوائے اناج کے اور کوئی ذریعہ معاش بھی نہیں ہے کہ وہ اپنا ماہانہ چندہ مقامی کرنسی میں ایک سو کی تعداد میں دے گا ۔ ابھی اس بات کو کچھ عرصہ ہی گزرا تھا کہ بارشوں کی کمی کا سامنا کرنا پڑا اور سارے لوگ اس کی وجہ سے پریشان ہونے لگے لیکن ان کی فصل بہت اچھی تھی۔ قازقستان کے ایک نومبائع دوست کے بارے میں ہمارے مبلغ سلسلہ لکھتے ہیں کہ جماعت کی مرکزی مسجد اور مشن ہاؤس کیلئے ایک قطعہ زمین انہوں نے خرید کر دیا اور اس کے ساتھ ایک دو منزلہ زیر تعمیر مکان کی خرید کی ۔ حضور نے تحریک جدید کے ۷۸ ویں سال کے آغاز کا اعلا ن کیا ۔حضور نے فرمایا کہ رپورٹس جو آئی ہیں ان کے مطابق تحریک جدید کے مالی نظا م میں ۶،۶۳۱،۰۰۰ پاؤنڈ کی قربانی جماعت نے پیش کی ہے ۔ یہ وصولی گزشتہ سال کی وصولی کے مقابل پر اﷲ تعالیٰ کے فضل سے ۱،۱۶۲،۰۰۰ پاؤنڈ زیادہے۔ صرف ایک سال میں اتنا بڑا اضافہ پہلے کبھی تحریک جدید کے چندوں میں نہیں ہوا۔ مسعود احمد خان دہلوی صاحب کی وفات۔

Hadhrat Mirza Ghulam Ahmad(as) was that devotee of the Holy Prophet(saw) who was appointed by God in the current age to spread the teaching of the Qur’an, taking it to all the inhabitants of this world in their own language. None can contend with God’s decree. They can observe that even today, each time the Community has been suppressed in any way at all, it has moved onwards and progressed. Whenever an appeal is made to the Community, with the grace of God, it has always responded eagerly and has excelled in prayers and sacrifice. Recently Hudhur had drawn attention to optional fasting and prayers. The letters he is receiving show that people are eagerly engaged in these. These days publication of books and other literature is essential for Tabligh, then there is the organisation of missionaries, building of mosques and mission houses and other media resources in this age of electronic means of communication. All these require financial giving. When Tehrike Jadid was launched, the Community’s response was overwhelming and today we are represented in 200 countries of the world and a revolution is being brought about in the world through MTA. Today we witness the fruits of Tehrike Jadid all over the world and fruits of Ahmadiyyat. Let alone the obligatory chanda, extraordinary sacrifices are also made in Tehrike Jadid chanda at a time when the world is embroiled in financial crisis. Missionary sahib of Ghana writes that an Ahmadi wrote to him that he happened to be in a far flung area where he said his Salat in the open under hot sun and thought that a mosque should be built in the area. He accomplished this and the mosque he built accommodates 300 worshippers. The Ameer sahib of Burkina Faso writes that after hearing the speech of a missionary sahib someone decided that although he was poor, he would increase his monthly chanda to a thousand of the local currency. Rainy season followed and although people were bothered by it, his crop grew very well. Our missionary in Kazakhstan writes that a new convert Ahmadi has donated a plot of land for the main mosque and a mission house. He also purchased a building for the Community. Next Hudhur announced the start of the 78th Tehrike Jadid year. According to reports received so far the total contributions worldwide for last year stand at £6,631,000.00. This is an increase of £1,162,000.00 from the contribution of the year before and is the biggest annual increase ever. Death of Masood Ahmad Khan Dehlwi sahib.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
28-Oct-2011 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: God's help is needed to attain righteousness
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian | English | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

ہزاروں لاکھوں نیک فطرت مسلمان اس زمانے کو پانے کی خواہش میں اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ پس ہم میں سے ہر ایک کو جو اپنے آپ کو حضرت مسیح موعودؑ کی جماعت سے منسوب کرتا ہے ، ان باتوں پر غور کرنےکی ضرورت ہے جن پر پہلوں نے عمل کیا۔ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا جب خدا تعالیٰ کا فضل ہوتا ہے اور زمین پر بارش ہوتی ہے تو جہاں مفید اور نفع رساں بوٹیاں پیدا ہوتے ہیں اس کے ساتھ ہی زہریلی بوٹیاں بھی پیدا ہو جاتی ہیں ، اس کے بارے میں آپ نے فرمایا کہ کچھ لوگ ایسے بھی پیدا ہونگے جو غلط قسم کے دعوے کرنے والے ہونگے ۔ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایاپس سچی معرفت اسی کا نام ہے کہ انسان اپنے نفس کو مسلوب اور لا شے محض سمجھے ، اور آستانہ الوہیت پر گر کر انکسار اور عجز کے ساتھ خدا تعالیٰ کے فضل کو طلب کرے اور اس نور معرفت کو مانگے جو جذبات نفس کو جلا دیتا ہے، اور اندر ایک روشنی اور نیکیوں کیلئے قوت اور حرارت پیدا کر تاہے ۔ اپنی جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں : اے سعادت مندلوگو تم زور کے ساتھ اس تعلیم میں داخل ہو جو تمہاری نجات کیلئے مجھے دی گئی ہے ، تم خدا کو واحد لا شریک سمجھو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک مت کرو ، نہ آسمان میں سے اور نہ زمین میں سے ۔ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایایہ تو سچ ہے کہ وہ میرے متبعین کو میرے منکروں اور میرے مخالفوں پر غلبہ دے گا لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ متبعین میں سے ہر شخص محض میرے ہاتھ پر بیعت کرنے سے داخل نہیں ہو سکتا، جب تک اپنے اندر وہ اتباع کی پوری کیفیت پیدا نہیں کرتا ، متبعین میں داخل نہیں ہو سکتا، پوری پوری پیروی جب تک نہیں کرتا، ایسی پیروی کہ گویا اطاعت میں فنا ہو جائے اور نقش قدم پر چلے ، اس وقت تک اتباع کا لفظ صادق نہیں آسکتا ۔ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا: یاد رکھو اب جس کا اصول دنیا ہے اور پھر وہ اس جماعت میں شامل ہے ، خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ اس جماعت میں نہیں ہے ، اﷲ تعالیٰ کے نزدیک وہی اس جماعت میں شامل ہے جو دنیا سے دستبردار ہے ۔ حضور نے فرمایا : جماعت اﷲتعالیٰ کے فضل سے بعض لحاظ سے بالغ ہو چکی ہے لیکن زمانے کے ساتھ ساتھ بعض برائیاں بھی جڑ پکڑ رہی ہیں، تکبر، عبث کی انائیں وغیرہ بعض جگہ بہت زیادہ نظر آنے لگ گئیں ہیں۔ حضور نے فرمایا : گزشتہ جمعہ خطبہ ثانیہ کے دوران حضور کی لمبی کھانسی کی وجہ سے بعض لوگوں کو بریشانی بھی ہوئی تھی، کثیر تعداد میں فیکس اور خط بھی آئے عرب ملکوں سے بھی اور بعض اور جگہوں سے بھی ۔ حضور نے فرمایااس کے ساتھ نسخے بھی اتنی بڑی تعداد میں آئے ہیں کہ اگر حضور ان کا استعمال کرنا شروع کردیں تو مزید بیمار ہو جائیں۔

Hundreds of thousands of pious-natured people departed this world in the hope of finding this era. Each one of us who associates him or herself to the Ahmadiyya Community should reflect over these matters. Promised Messia(as) said when God’s blessings shower down on the earth, along with the beneficial growth weeds and toxic plants also grow. Hudhur explained that this signifies that some wrong claimants will also rise. The Promised Messiah(as) said that true spiritual insight is in considering oneself to be completely worthless and falling down on the threshold of God and seek God’s grace and that spiritual light which burns selfish desires. Calling on his Community, the Promised Messiah(as) said they should follow the teaching that has been given to him for the salvation of people. They should associate no partners with God, from the heavens or from the earth. The Promised Messiah(as) said while it was true that his followers would be triumphant, but everyone who took his Bai’at could not be included in his followers, until he or she was completely and perfectly obedient to him and did not consider anything of him or herself. The Promised Messiah(as) said that a worldly person who is included in his Community is not really from his Community in the eyes of God. Only that person is included in this Community who is free from this world. Hudhur said with God’s grace, the Community has matured in some ways but with the passage of time since the days of the Promised Messiah(as) getting longer, some ills are taking root; like arrogance, selfishness. Hudhur said following his long bout of cough during last Friday sermon many wrote him concerned, including from Arab countries. Hudhur said people sent him many remedies and Hudhur joked that if he tried them, he would perhaps feel worse.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
21-Oct-2011 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Blessed and Successful European Tour
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian | English | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

پس یہ اﷲ تعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ ہر قدم جو جماعت کا ترقی کی طرف اٹھتا ہے ، ہماری کوشش سے بڑھ کر حضرت مسیح موعودؑ کا تعارف اور آپ کے حوالے سے اسلام کا جو حقیقی پیغام دنیا کو پہنچ رہا ہے ، اس کے نتائج نکل رہے ہیں۔ لیکن جیسا کہ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کا ارادہ ہے کہ جمات ترقی کرے اور اسلام کا غلبہ حضرت مسیح موعودؑ کی جماعت کے ذریعہ سے ہو، اور یہ ہوگا انشاء اﷲ، ان مخالفین کی تمام کوششیں اور دشمنیاں رائیگاں جائیں گی اور ہر سعید فطرت اس جماعت کی آغوش میں آئے گاانشاء اﷲ۔ حضور نے فرمایا کہ جماعت کو دوروں کے دوران ملنے سے فائدہ ہوتا ہی ہے ، غیروں کو ، دنیا داروں کو ن کی اسلام کی طرف توجہ ہو رہی ہے ، ان کو بھی فائدہ ہو رہا ہوتا ہے۔ حضور نے فرمایا ہماری جماعت جہاں چند مسلمانوں کی طرف سے ڈالی گئی غلط فہمیاں دور کرنے کی کوشش کر رہی ہے ، اس پہ روکیں ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ حضور نے فرمایا کہ جرمنی میں حضور نے خدام، اطفال اور لجنہ کے اجتماع میں شمولیت کی، حضور کے وہاں جانے اور شامل ہونے میں اﷲ تعالیٰ نے بہت برکت ڈالی اور وہیں حضور کو خط آنے لگ گئے کہ ہم نصائح پر عمل کریں گے، دعا کریں کہ اﷲ تعالیٰ ہمیں توفیق دے ۔ اطفال نے موبائل فون ، انٹرنیٹ اور ٹیلی ویژن سے متعلق حضور کی نصائح پر عمل کرنے کا وعدہ کیا۔ دورہ کا اگلا قیام ناروے میں تھا۔ حضور نے پہلے ہی ناروے میں مسجد نصر کے افتتاح کا ذکر کیا۔ حضور نے فرمایا کہ یہ صرف شمالی یورپ کی سب سے بڑی مسجد نہیں ہے بلکہ یہ بیت الفتوح کے بعد یورپ کی سب سے بڑی مسجد ہے ۔ناروے کی جماعت تو بہت چھوٹی ہے لیکن اس مسجد کو دیکھ کر لگتا ہے کہ بہت بڑی جماعت ہے یا یہ بہت امراء کی جماعت ہے ، لیکن دونوں باتیں غلط ہیں ۔ ناروے کے وزیر اعظم نے بھی اعتراف کیا کہ یہ مسجد اس سڑک پہ ایک خوبصورت اضافہ ہے ، حضور نے فرمایا روزانہ تقریبا ۸۰،۰۰۰ گاڑیاں یہاں سے گزرتی ہیں۔ مسجد کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے حضور نے فرمایا مسجد ایک خدا کی عبادت کیلئے ہے اور یہاں جب انسان ایک خدا کی عبادت کیلئے آتا ہے تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ دہشت گردی اور کسی بھی قسم کی بد امنی کا خیال دل میں پیدا ہو۔ دورے کا اگلا قیام ڈ ینمارک کا ایک شہر تھا ، وہاں ہمارے البانین اور بوسنین دوستوں کی جماعت ہے اور کوئی پاکستانی نہیں ہے ، بہت اخلاص ہے اس جماعت میں اور بعض خاندان تو اخلاص و وفا میں اس قدر بڑھے ہوئے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے ۔ حضور نے فرمایا اس کے بعد برسلز بیلجیئم میں پہلی مسجد بیت المجیب کا سنگ بنیاد رکھنے کی توفیق ملی، اور انشاء اﷲ تعالیٰ امید ہے یہ مسجد ایک سال میں مکمل ہو جائےگی ۔ یہ بیلجیئم کی پہلی مسجد ہوگی ۔ خورشید بیگم صاحبہ والدہ محمد اقبال صاحب کی وفات ۔

This is indeed through the grace of God alone that the progress of the Community is greater than our efforts. We are seeing the results of the introduction of the Promised Messiah(as) and through him the propagation of the true message of Islam. However, as the Promised Messiah(as) informed us, it is God’s will that the Community will progress, the animosity of others will be in vain and each pious-natured person will come in the fold of Ahmadiyyat, Islam. Hudhur said our Community avails of Hudhur’s tours anyway, but the outsiders who are drawn towards Islam also benefit from them. While our Community is engaged in removing misconceptions spread by some sections of Muslims, they in turn lay obstacles in our way. When in Germany, Hudhur also attended the Ijtimas of Atfal, Khuddam and Lajna. This proved to be very blessed and letters from the Atfal started arriving while Hudhur was still in Germany in response to the various advices Hudhur had given them about use of mobile phones, the internet and television. The next stop on the tour was Norway. Hudhur has already spoken about the inauguration of the Nasr Mosque there. Hudhur said it is not just the largest mosque in northern Europe, in fact it is the second largest mosque in Europe after Baitul Futuh. The Jama’at in Norway is quite small but the mosque gives the impression that either the local Jama’at is big or is made up of very well-heeled people. Neither of these assumptions is correct. The Norwegian Prime Minister said the mosque was a beautiful addition on the busy road that it is built on. Hudhur said around 80,000 vehicles pass the road daily. The mosque will now be in their view. In his address at the reception Hudhur said that we build mosques to worship One God, and when a person comes to a mosque to worship God, it is out of the question that any extremism should be involved. The next stop was a city in Denmark which has a small Jama’at comprising of Albanian and Bosnian Ahmadis only and perhaps no Pakistani. The Jama’at is most sincere with some families excelling others in sincerity. Next, foundation stone was laid for a mosque Baitul Mujeeb in Brussels, Belgium. It is hoped it will be completed in a year. It will be the first mosque in Belgium. Death of Khurshid Begum sahiba mother of Muhammad Iqbal sahib.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
14-Oct-2011 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Renaissance and Victory of Islam
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Indonesian | English | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

عیسائی اور سعید فطرت مسلمان اس بات کو تسلیم کر رہے ہیں کہ راہ ہدایت احمدیت میں ہی ہے اور اس سے وہ راہ ہدایت پا رہے ہیں، اس بات پر یقین ہے ان سعید فطرت لوگوں کہ حضرت مسیح موعودؑ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔ ایک بہت بڑی روک اور دیوار تھی جو حضرت مسیح موعودؑ نے کھڑی کر کے خدا ئے واحد کی وحدانیت اور اسلام کی سچائی اور برتری دنیا پر ثابت کر دی۔ سعید فطرت لوگ آہستہ آہستہ مسیح محمدی کی جماعت میں شامل ہوتے رہے ہیں اور ہو رہے ہیں ، لیکن اکثریت نام نہاد ملاؤں کے خوف اور علم کی کمی کی وجہ سے مخالفت پر کمر بستہ ہیں ۔اور ہر روز کوئی نہ کوئی مخالفانہ کاروائی مسلمان کہلانے والے ملکوں اور خاص طور پر پاکستان میں احمدیت کے خلاف ہوتی رہتی ہیں۔ ملا نے کم علم مسلمانوں کے جذبات کو انگیخت کرنے کا کام سنبھالا ہوا ہے ، ان ملاؤں کو اتنی توفیق بھی نہیں ہے کہ اسلام کی تبلیغ کیلئے چند روپے خرچ کر دیں، ہاں ملک کی دولت لوٹنے کی ہر ایک کو فکر ہے ۔ احمدی ملک کے وفا دار ہیں باوجود اس کے ان پر قانون کے مطابق بعض تنگیاں وارد کی جارہی ہیں ، تنگ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ، یہ دعا کر تے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ ملک کو ہر طرح کی تباہی سے بچائے ۔ حضور نے یاددہانی کروائی کہ اس حوالے سے گزشتہ جمعہ حضور نے دعا کی تحریک کی تھی اور روزہ رکھنے کا بھی کہا تھا ، حضور نے فرمایا کہ مناسب ہوگا اگر جماعتی نظام کے تحت ایک ہی دن روزہ رکھا جائے ۔ حضور نے فرمایا کہ یہ حضرت مسیح موعودؑ ہی تھے جنہوں نے برصغیر میں باطل کی یلغار کو روکا ، آپ ؑ ہی تھے جنہوں نے مسلمانوں کو شرک کی جھولی میں گرنے سے بچایا ، آپ ہی تھے جنہوں نے آنحضرت ﷺ کی ناموس کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر دیا ۔ ربوہ میں بھی جہاں ۹۸فیصد احمدیوں کی آبادی ہے ، وہاں احمدیوں کو جلسہ اور اجتماع کرنے کی اجازت نہیں لیکن ختم نبوت کے نام پر دشمنان احمدیت کو احمدیت کے خلاف اور حضرت مسیح موعودؑ کے خلاف غلیظ زبان استعمال کرنے کی اجازت ہے ۔ عراق سے مراد صاحب لکھتے ہیں کہ میں شیعہ ماحول میں رہتا ہوں لیکن امام مہدی کے بارہ میں شیعہ عقائد پر اطمینان نہ ہوتا تھا اور خیال آتا تھا ضرور کہیں کوئی خلل موجود ہے ، ایک روز خواب میں دیکھا کہ ایک کمرے میں بیٹھا ہوں ، اسی دوران چار اشخاص کی کمرے میں آنے کی آواز سنائی دی جن کو میں نہیں جانتا تھا، باہر نکل کر دیکھا تو یہ چاروں پانی کا پائپ لے کر میرے گھر پر پانی چھڑک رہے تھے ۔ امیر صاحب کینیڈا لکھتے ہیں کہ ٹورنٹو میں رہنے والی ایک عیسائی خاتون نے نبی اکرم ﷺ اور حضرت عیسیٰ ؑ کو خواب میں دیکھا جنہوں نے تسلی دی اور اسلام کی طرف دعوت دی چنانچہ انہوں نے بیعت کر لی۔ پس جب اﷲ تعالیٰ اپنی قدرت کے نظارے دکھا رہا ہے ، خود سعید فطرت انسانوں کی دنیا میں ہر جگہ راہنمائی فرما رہا ہے اور گھیر گھیر کر جماعت میں شامل کر رہا ہے ، تو ہمیں ان مخالفین احمدیت کی روکوں اور مخالفتوں اور گالیوں سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ہاں جب مخالفین ہمارے پیارے آقا آنحضرت ﷺ کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرتے ہیں اور آپ کے عاشق صادق کیلے بیہودہ گوئی کرتے ہیں تو ہمارے دل ضرور چھلنی ہوتے ہیں ۔

Christians as well as pious-natured Muslims concede that the path to guidance is now with Ahmadiyyat and they believe that the Promised Messiah(as) came from God. The Promised Messiah(as) thus erected a huge barrier in the way of the Christian priests and proved the Unity/Oneness of God and superiority of Islam. Gradually pious-natured people started coming into the fold of Ahmadiyyat and indeed continue to do so. The majority though, fearful of the so-called mullah is relentless in its oppression. They regularly persecute Ahmadis in Muslim countries in general and Pakistan in particular. The mullah has taken on the task of playing with the religious sentiments of the uninformed Muslims. They are not even able to spend a few rupees for the Tabligh of Islam, but they are busy pillaging the country. Ahmadi are loyal citizens and in spite of the legal restrictions, they pray for the country to be saved from every kind of calamity. Hudhur(aba) reminded that last Friday he had asked for an optional weekly Fast to be observed in this regard. He said it would be appropriate if everyone fasted on a designated day. Hudhur said it was the Promised Messiah(as) who stopped unbelief in the Indian sub-continent and it was indeed him who sacrificed everything for the honour of the Holy Prophet(saw). 98% of the population of Rabwah is Ahmadi, yet they have restrictions placed on them, while our opponents are free to use abusive language in the name of Finality of Prophethood and Honour of Prophethood. Murad sahib from Iraq writes that he had grown up with Shia beliefs but was not happy with the Shia creed about Imam Mahdi. He saw a dream in which four strange persons were sprinkling water on his house with a hose. Ameer sahib from Canada writes that a young Christian woman from Toronto saw the Holy Prophet(saw) and Jesus(as) in her dreams who assured her and invited her to Islam. As a result she took her Bai’at. Hudhur said when God Himself is guiding pious-natured souls to Ahmadiyyat, we need not get perturbed by the animosity of our detractors. However, when offensive remarks are made about our beloved master(saw) and abuse is directed at his true and ardent devotee(as), we are certainly hurt.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
07-Oct-2011 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Increase the fervour of supplications in face of intensified persecution
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Indonesian | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت مسیح موعودؑ پر دائر کئے گئےمقدمات اور دوسری تکالیف کےعلاوہ جو آپ کی راہ میں حائل کی گئیں، آپؑ کو اپنے مریدوں میں سے دو وفاشعاروں کی زمین کابل میں شہادت کی تکلیف دہ ا ور بے چین کرنے والی خبر بھی آپؑ کو سننا پڑی۔ان میں سے ایک شہید رئیس اعظم خوست تھے ، ان کا نام شہزادہ عبداللطیف شہید تھا۔ ابتلاء اور امتحان کے دور ہمیں ایمان میں ترقی کی طرف بڑ ھاتے چلے جانے کیلئے آتے ہیں ، ہمیں خدا تعالیٰ سے اپنے تعلق کو مزید مضبوط کرنے کیلئے آتے ہیں ، ہمیں دعاؤں کی طرف توجہ دلانے کیلئے آتے ہیں ۔ اس وقت جہاں جماعت احمدیہ دوسرے مذاہب کے سامنے اسلام کی برتری ثابت کرنے کیلئے سینہ سپر ہے ، قرآن کریم پر کئے جانے والے اعتراضات کے جواب دے رہی ہے بلکہ قرآن کریم کی برتری دنیا کی دوسری مذہبی کتابوں پر ثابت کر رہی ہے۔ آج پاکستان میں بسنے والا احمدی صرف اپنے جان و مال کے نقصان کی وجہ سے پریشان نہیں ہے ، بلکہ ہمیں زیادہ بے چین کرنے والی یہ چیز ہے کہ یہ ظالم لوگ انتہائی نازیبا الفاظ میں اشتہار چھاپ کر تقسیم کرتے ہیں اور بڑے بڑے پوسٹر لگاتے ہیں ، انتہائی گھٹیا اور لچر زبان استعمال کرتے ہیں ۔ حضور نے فرمایا کہ وہ پاکستان میں رہنے والے احمدیوں کو خاص طور پر توجہ دلانا چاہتے ہیں کہ وہ خاص دعاؤں کی طرف پہلے سے بڑھ کر توجہ دیں ۔ ان دعاؤں کے ساتھ ساتھ ہفتہ میں ایک نفلی روزہ بھی رکھنا شروع کر دیں ۔ حضور نے فرمایا کہ مجھے یاد ہے کہ خلافت رابعہ میں جب حضورربوہ میں تھے، پاکستان کے حالات کیلئے حضور نے اس وقت دعا کی تو خواب میں حضور کو آواز آٗی کہ اگر ۱۰۰ فیصد پاکستانی احمدی خالص ہو کر اﷲ تعالیٰ کے آ گے جھک جائیں تو ان حالات کا خاتمہ چند راتوں کی دعاؤں سے ہوسکتا ہے ۔ حضور نے فرمایا پس یہ تو یقینی بات ہے کہ حضرت مسیح موعود ؑ کے ساتھ جو خدا تعالیٰ کا غلبہ کا وعدہ ہے وہ تو پورا ہونا ہی ہے انشاءاﷲ، اور پورا ہو رہا ہے اور اس وعدہ کے پورا ہونے کا نظارہ ہم پاکستان میں بھی دیکھتے ہیں ۔ دنیا میں احمدیت کی ترقیات میں پاکستان کے احمدیوں کی دعاؤں اور قربانیوں کا بہت بڑا حصہ ہے ۔ ماسٹر دلاور حسین صاحب کی شیخوپورہ میں شہادت ۔ عبدالجبار صاحب آف ربوہ اور ناصر احمد مظفر صاحب کی وفات۔

Apart from the court cases and other difficulties presented in way of Promised Messiah(as), he also witnessed the martyrdom of two of his loyal and devoted disciples in Kabul. One of those martyred was the Raees-e-Aazam of the King’s court, his name was Sahibzada Abdul Latif Shaheed. Such periods of difficulty also provide us with the opportunity to gain further nearness to God Almighty by offering supplication and lamentations before our Lord and to continue to strengthen this bond with The Divine. The Jamaat Ahmadiyya is on the forefront to prove the superiority of Islam over other religions, to reply to the false allegations on the beautiful teachings of the Holy Qur'an. Ahmadis who live in Pakistan today are not distressed by the sacrifice of their properties and lives alone, they are tormented and troubled by the attacks and onslaughts in form of verbal abuse and printed posters using extremely filthy and heinous language. Huzur(aba) said that he wished to draw the attention of those Ahmadis living in Pakistan specifically to special prayers with greater zeal. Along with prayers, try to fast (nafl i.e. supererogatory) one day during the week as well. Hadhrat Khalifatul Massih V(aba) experienced a dream during the previous Khilafat, in which he heard that if 100% of Ahmadis in Pakistan lament before God with the purity of heart, then these atrocities can be eliminated as a result of prayers offered merely in a few nights. Huzur(aba) said that the promise of God Almighty of success to the Promised Messiah(as) will be fulfilled, and indeed it is being fulfilled as we witness the scenes of grand blessings on the Jamaat Ahmadiyya, even in Pakistan. The successes which are destined for the Ahmadis in other parts of the world are deeply tied in with the sacrifices offered by the Ahmadis in Pakistan. Martyrdom of Master Dilawar Hussain Sahb in Shaikhupura. Death of Abdul Jabbar Sahib of Rabwah and Nasir Ahmad Muzaffar Sahib.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
30-Sep-2011 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Fulfill obligations of populating mosques with taqwa and quality salat
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Bengali
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضور نے فرمایا پس آج حضور کا یہاں آنا اس احسان کے شکر گزاری کے طور پر ہے جو اﷲ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ ناروے پر اس مسجد کی صورت میں فرمایا ہے ، یہ بھی اﷲ تعالیٰ کا حکم ہے کہ اس کی نعمتوں کو اس کا شکر ادا کرتے ہوے بیان کریں ۔ ایک حدیث میں حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جومسجد کو صبح شام جاتا ہے اﷲ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں اپنی مہمان نوازی کا سامان تیار کرتا ہے ۔ حضور نے فرمایا : گزشتہ دو دنوں میں ریڈیو، ٹی وی ،اور اخباری نمائندوں نے حضور کا انٹر ویو لیا ، اس میں ہر ایک اس بات میں دلچسپی رکھتا تھا کہ مسجد کا مقصد کیا ہوگا اور کیا ہوگا یہاں۔ آج احمدی مسلمانوں کو اس بات کا نشانہ بنایا جاتا ہے کہ تم مسلمان نہیں ہو، حالانکہ ہم تو وہ ہیں جنہوں نے اﷲ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہوئے زمانے کے امام کو مانا،آج احمدی ظلموں کا نشانہ بنائے جاتے ہیں لیکن پھر بھی احمدیت سے منحرف نہیں ہوتے۔ اﷲ تعالیٰ نے مومن کی جو خصوصیات بیان فرمائی ہیں ان میں سے پہلی یہ ہے کہ وہ سب سے بڑھ کر اﷲ تعالیٰ سے محبت کرے ، اس کی اﷲ تعالیٰ سے محبت تمام محبتوں پر حاوی ہونی چاہئے ، اور ایسی محبت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ مسجد نمازیوں سے بھر جائےگی۔ جب بندہ خدا سے محبت کرتا ہے، خدا اس سے بڑھ کر اس سے محبت کرتا ہے اور اپنے بندے کا مولا اور ولی ہو جاتا ہے ، اور جس کا ولی خدا ہو جائے اس کو یہ عارضی مخالفتیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتیں ۔ حضور نے فرمایاجب ایک احمدی مسلمان کو عہدہ کی اضافی ذمہ داری سونپی جاتی ہے تو انہیں اپنی ذمہ داریوں کے حق صحیح طور پہ ادا کرنے کی کوشش کر نی چاہئے۔ حضور نے ناروے جماعت کی مسجد کی تعمیر کی مد میں مالی قربانی کا ذکر کیا جس کی تعمیر ۱۰۴ ملین کروناز لاگت آئی ۔ حضور نے فرمایا : بہت بڑی ذمہ داری ہم پر یہ مسجد ڈال رہی ہے ، مسجد بنا کر ہم نے اپنے اوپر ذمہ داریوں کو بہت وسعت دے دی ہے ، پس جہاں ہمارے لئے بہت بڑی خوشی ہے کہ ناروے میں پہلی احمدیہ مسجد تعمیر ہوئی ہے وہاں فکر کا مقام بھی ہے ۔ سفیر احمد بٹ صاحب آف کراچی کی شہادت۔

The fact that Huzur(aba) has officially inaugurated the mosque is just an outward expression of gratitude to Allah, Who commands us that when He bestows us with blessings, we should express our gratefulness in return of these rewards. A Hadith, narrated by Hadhrat Abu Hurairah(ra), says that the Holy Prophet(saw) said: Whoever goes to the mosque in the morning or in the evening, Allah prepares for him a good hospitality in Paradise. Huzur(aba) mentioned that in the past day or so, many radios, television and newspapers have interviewed him upon his arrival in Oslo. One of the questions they ask among others is what is the objective of constructing this mosque, and what kind of activities will take place in it. Today, Ahmadi Muslims are targeted as Non-Muslims and are persecuted. But Huzur(aba) said that we have faith, therefore we are Muslims. Despite the severe persecution, Ahmadis remain steadfast. Allah Almighty has given some signs of a true Momin. The first is that he loves Allah above all other beings and things, and such a love will guarantee the fact that Mosques will be filled with worshippers. When man loves God, God loves him back and becomes his Wali (Friend). When God Almighty becomes a man’s friend, then no amount or no type of persecution or enmity has any effect on that person. Huzur(aba) said that when an Ahmadi Muslim has the added responsibility of holding an office, then he or she must be conscious of their duties at a much higher level. Huzur(aba) then elaborated on the financial sacrifices of the Norway Jamaat in way of this mosque, which cost 104 million kronos to build. Huzur(aba) re-emphasized the great responsibility being laid by the construction of this mosque. Where this is a time to rejoice, it is also a time to reflect. Martyrdom of Mr. Safeer Ahmad Butt Sahib of Karachi.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
23-Sep-2011 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Reflect and practice upon the teachings of The Promised Messiah(as)
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Bengali
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضور نے فرمایا ایم ٹی اے پر سننے والے بھی حضور کےخطاب سے بہت متاثر ہوئےہیں، ایک بچے کی ماں نے حضور کو بتایاکہ میرا بچہ جب خطاب سن رہا تھا تو اس نے منہ کے آگے تکیہ رکھ لیا کہ میں بعض وہ باتیں کرتا ہوں جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے، مجھے لگتا ہے ٹی وی پر مجھے دیکھ دیکھ کر یہ خطاب کر رہے ہیں ، پس یہ سعید فطرت ہے اور یہ وہ روح ہے کہ نصیحتوں پر اندھے اور بہرے ہو کر نہیں گرتے بلکہ شرمندہ ہو کر اپنی اصلاح کی کوشش کرتے ہیں۔ حضور نے فرمایا کہ وہ لجنہ اور ناصرات سے بہت متاثر ہوئے ہیں کہ وہ حضور کے لجنہ سے خطاب کو توجہ کےساتھ اور بہت خاموشی سے سنتی رہی ہیں جو کہ معمول سے زیادہ وقت کاتھا جو عام طور پر حضور لجنہ سے خطاب کیلئے مختص کرتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کا زمانہ تکمیل ہدایت کا زمانہ تھا اور مسیح محمدی کا زمانہ تکمیل اشاعت ہدایت کا زمانہ ہے ۔ حضور نے فرمایا پس تکمیل اشاعت ہدایت کی بہت بڑی ذمہ داری ہم پر ہے، آنحضرت ﷺ کے صحابہؓ اور قرون اولیٰ کے مسلمانوں نے اپنے آپ کو اس ہدایت اور تعلیم کا نمونہ بنایا تھا، اپنے قول و فعل سے اس کا اظہار کیا تھا اور ان کے نمونے دیکھ کر ،ان کے عمل دیکھ کر ، ان کا خدا تعالیٰ سے تعلق دیکھ کر ، ان کے اعلیٰ اخلاق دیکھ کر ایک زمانہ انکا گرویدہ ہو گیا تھا۔ اﷲ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو جو آپ کی امت کے بارے میں خوشخبریاں عطا فرمائی ہیں ان خوشخبریوں میں ایک خلافت کی خوشخبری بھی تھی ، یہ خلافت کی خوشخبری پر مرکزیت کا انحصار ہے اور وہ بنیادی اہمیت کی چیز جس پر امت کی ترقی کا مدار ہے وہ خلافت ہے ۔ حضور نے فرمایا جیسا کہ میں اکثر کہتا رہتا ہوں ہمیں اپنے جائزے بھی لینے ہونگے ہم جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں ہم میں سے کتنے ہیں جو ۲۴ گھنٹے میں ایک مرتبہ یا ہفتہ میں ایک مرتبہ یا مہینے میں ایک مرتبہ اس بات پر گہرا غور کرنے کی کو شش کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ کی طرف منسوب ہو کر ہماری کیا ذمہ داریاں ہیں ۔ انقلاب لانے کیلئے ہمیں قرآن کریم کی طرف رجوع کرتے ہوئے اس کےاحکامات پر غور کرنا ہوگا ، پس پھر دنیا بھی جنت میں بدل جاتی ہے اور اور دنیا ہمارے پیچھے آئے گی ۔ مالی قربانی کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے فرمایا کہ کل ہی ایک خاتون ڈھیر زیورات کا مجھے دے گئیں ، حضور نے فرمایا کہ باوجود میرے اس کہنے کے کہ اپنے لئے کچھ رکھ لو ، انہوں نے کہا کہ میں نے جماعت کو دینے کاعہد کیا ہوا تھا اب یہ مجھ پر حرام ہے ۔ حضور نے حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کی ہمشیرہ سے متعلق جو ایک پیر کی پیروکار تھیں ایک واقعہ کا ذکر کیا

Many people were also influenced by Hudhur’s discourses via MTA. A mother wrote to Hudhur that her young child had his face in a cushion when he heard Hudhur speak on a matter that he felt Hudhur was addressing him on. Such is the spirit of the children of the Community that they are embarrassed and try and correct themselves. Hudhur said he was much impressed by the attention with which the Lajna and Nasirat listened to his address which was longer than the traditional time he allocates to addresses to ladies. The time of the Holy Prophet(saw) was an era of accomplishment of guidance and the current age, the age of the Messiah is a time when accomplishment of propagation of the guidance of the Prophet(saw) has to take place. Hudhur said a huge responsibility of accomplishing the propagation lays on us. The Companions and other early Muslims demonstrated great models of connection with the Divine and high morals and won the admiration of the world. Among other glad-tidings to his Ummah, the Prophet(saw) foretold about Khilafat. This glad-tiding is dependent on Khilafat being the central aspect and the progress of the Ummah is reliant on Khilafat. As ever, Hudhur reminded to self-reflect. He asked how many of us reflected over our responsibility in being associated with the Promised Messiah(as) once a day, once a week or once a month? Pondering over Quranic commandments, followed by putting them in practice, is required to bring about revolutions. The world is thus transformed into paradise and then the rest of the world too follows. In terms of financial giving, Hudhur said only yesterday a lady came and gave Hudhur a pile of gold. In spite of Hudhur asking her to keep some for herself, she said she had committed herself to give this to the Jama’at and now it was haram on her. Hudhur narrated a story relating to a sister of Hadhrat Khalifatul Masih I(ra) who followed a Pir.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
16-Sep-2011 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Strive for high quality God consciousness and purity
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

اﷲتعالیٰ کے فضل سے ہم ہر دن جماعت کی ترقی دیکھتے ہیں ،اور جوں جوں یہ ترقی کی رفتار بڑھ رہی ہے ، دنیا کے ہر ملک میں حسد کرنے والے اور شر پھیلانے والے پیدا ہو رہے ہیں ، اور یہ حاسدین اور شر پھیلانے والوں کا بڑھنا ہی اس بات کی علامت اور دلیل ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے فضل سے دنیا میں جماعت احمدیہ کے قدم ترقی کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ اگر نیکی اور تقویٰ میں ایک جگہ ٹھئر بھی گئے ہو تو یہ بھی تمہارے لئے بڑی خطرناک بات ہے ،سوچنے کا مقام ہے ، کیونکہ اس کے بعد پھر نیچے گراوٹ شروع ہوجاتی ہے ۔ فلسطین سے ایک احمدی لکھتے ہیں کہ بچپن کی ایک خواب میں آنحضرت ﷺ نے خوشخبری دی تھی کہ تم امام مہدی کے سپاہی بنو گے ، تب سے امام مہدی کی تلاش میں تھا۔ محمد عبدل صاحب مصر سے کہتے ہیں دو سال پہلے کی بات ہے کہ ٹی وی چینل گھماتے ہوئے اچانک ایم ٹی اے دیکھنے کا موقع مل گیا ، اور پروگرام سن کر میں حیران رہ گیا اور جماعت کی طرف سے کی جانے والی قرآن وحدیث کی تفسیر پر غور و خوض کرنےپر مجبور ہو گیا۔ ہستی صاحب مصر سے کہتے ہیں کہ بیعت کر کے یوں لگا کہ جیسے ہم نئے سرے سے پیدا ہوئے ہیں اور آنحضرت ﷺ کے زمانے میں رہ رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ مولویوں نے ہماری شدید مخالفت اور تکفیر شروع کردی ہے ۔ طیب صاحب مراکش سے لکھتےہیں کہ اگرعیسائیوں کا ایک خاص چینل نہ ہوتا تو مجھے بیعت کی توفیق نہ ملتی ، چینل پہ گستاخانہ زبان کا استعمال اور مسلمانوں کو جواب سے عاجز آکر اور خاموشی اختیار کر تے دیکھ کر دل ہی دل میں کڑھتا تھا ۔ یاسر صاحب سلطنت اومان سے لکھتے ہیں کہ میں ایک عرصے سے حق کی تلاش میں تھا جسے اب پالیا الحمدللہ ۔ مسلمانوں کی موجودہ حالت کو دیکھ کرخواہش کرتا تھا کہ کاش آنحضرت ﷺ امت کی ترقی کیلئے دوبارہ لوٹ آئیں۔ عراق سے ایک شخص لکھتے ہیں کہ میں تین سال سے ایم ٹی اے دیکھ رہا ہوں اور تحقیق کررہا تھا بھر استخارہ کیا تو انہوں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص نے مجھ سے کہا کہ آنحضور ﷺ تمہیں یاد فرمارہے ہیں پھر وہ شخص مجھے لے گیا اور کہنے کگا کہ اس خیمے میں جا کر آنحضور ﷺ سے مصافحہ کرو ، تب میں نے ٹیلے کے اوپر لگے ایک خیمے میں جا کر آنحضور ﷺ سے مصافحہ کیا ۔ حضور نے فرمایا ایسے بہت سے واقعات ہیں کہ خدا تعالیٰ کس طرح نیک فطرت لوگوں کی باوجود مخالفتوں اور راہ راست سےگمراہ کرنے کی کو ششوں کے اﷲ تعالیٰ مختلف طریقوں سے راہنمائی فرماتا ہے ۔حضرت مسیح موعودؑ کا پیغام سن کر یا تصویر دیکھ کر ایک کشش کی کیفیت ان میں پیدا ہوجاتی ہے ۔

With God’s grace each day we witness progress of the Community. Just as our Community expands, its opponents and enviers too are growing in every country. Their growth is proof that with the blessings of God, we are moving onwards in the world. The Promised Messiah(as) said that it is precarious even if piety and Taqwa get stagnant in a person because this leads to downward slope. An Ahmadi from Palestine wrote that in a childhood dream the Holy Prophet (saw) had given him the glad tiding that he would be a soldier of the Imam Mahdi and he had been in search ever since. Muhammad Abdul sahib of Egypt wrote that two year ago he was flicking through the channels when he came across MTA. He was astonished by what he saw and was compelled to ponder over it. Hasti sahib from Egypt wrote that after his Bai’at he felt as if he was re-born and was living in the time of the Holy Prophet(saw). He said after the Bai’at the maulwis opposed him a lot. Tayyab sahib of Morocco wrote that if a specific Christian channel did not exist he would not have taken his Bai’at. Abuse on the channel and subsequent silence from the Muslims troubled him a great deal. Yasir sahib of Oman wrote that he had been in search of truth for a long time. Alhamdolillah, he has now found it. The dire straits of Islam made him wish with great intensity that the Holy Prophet(saw) would return. A person from Iraq wrote that he has been watching MTA for three years and was also researching it. He then did Istikhara and saw a dream in which he was asked to go and shake hands with the Holy Prophet(saw) in a tent atop a hillock, which he did. Hudhur said there are many similar incidents of pious-natured people being guided by God in spite of all the opposition. Photograph or message of the Promised Messiah(as) creates an attraction in them.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
09-Sep-2011 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Practice truth in all aspects of your life
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | English | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

انسان کی ذا تی زندگی سے لے کر بین الاقوامی تعلقات تک میں سچائی کا خلق اپنانے کا جس شدت سے اظہار کیا جاتا ہے اسی شدت سے وقت آنے پر اس کی نفی کی جاتی ہے ۔ ذاتی زندگی میں گھروں میں ناچاقیاں اس لئے بڑھتی ہیں کہ سچائی سے کام نہیں لیا جاتا اور اس سچائی سے کام نہ لینے کی وجہ سے میاں بیوی پر اعتماد نہیں کرتا اور بیوی میاں پر اعتماد نہیں کرتی اور جب بچے دیکھتے ہیں کہ ماں باپ بہت سے موقعوں پر جھوٹ بول رہے ہیں تو بچوں میں بھی جھوٹ بولنے کی عادت ہو جاتی ہے، نئی نسل جو بعض غلط کاموں میں پڑ جاتی ہے وہ اس لئے کہ گھروں کے جھوٹ انہیں برائیوں پر ابھارتے ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ مذہب کے نام پر مذہب کے نام نہاد علمبردار سچائی کو رد کرتے ہیں اور جھوٹ کو فروغ دیتے ہیں ، اس میں اسلام دشمن طاقتیں بھی ہیں جو اسلام کے خلاف ہیں اور اس زمانے میں آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق کے مخالفین بھی ہیں ، ان میں مسلمان بھی ہیں جو مسلمان دشمن طاقتوں کا ہی کردار ادا کر رہے ہیں ، سچائی کو جانتے ہیں لیکن اپنے مفادات اور منبر کی خاطر جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں ۔ ہر زمانے میں جب بھی اﷲ تعالیٰ اپنے کسی فرستادے کو بھیجتا ہے تو مخالفین یہی کوششیں کرتے ہیں، لیکن اﷲ تعالیٰ کی تقدیر بھی ایک چلتی ہے اور اﷲ تعالیٰ کی تقدیر ہمیشہ غالب رہتی ہے۔ اس زمانے میں اسلام ہی وہ آخری مذہب ہے جو تمام سچائیوں کا مرکز ہے ، یہی وہ واحد مذہب ہے جو اپنی تعلیم کو اصلی حالت میں پیش کرتا ہے، یہی وہ واحد مذہب ہے جس میں خدا تعالیٰ کی کتاب اپنی اصل حالت میں موجود ہے ۔ حضور نےفرمایا کہ ہم احمدی جو آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق کی جماعت ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ، ہم نے یہ سچائی کا پیغام دنیا کو پہنچانا ہے ۔ ہمارے کاموں اور ہماری باتوں میں برکت تبھی پڑے گی اور یہ معیار تبھی حا صل ہونگے جب ہم ہر سطح پر خود اپنی زندگی کے ہر لمحے کو سچائی میں ڈھالیں گے ، ہماری گھریلو زندگی سے لے کر ہماری باہر کی زندگی اور جو بھی ہمارا حلقہ اور ماحول ہے اس میں ہماری سچائی ایک مثال ہو ، تبھی ہماری باتوں میں بھی برکت ہوگی،تبھی ہمارے اخلاق اور سچائی دوسرے کومتاثر کر کے احمدیت اور اسلام کے قریب لائیں گے۔ ہم حضرت مسیح موعودؑ سے جڑنے کا دعویٰ کرتے ہیں ان کے ساتھ حقیقت میں جڑنا تبھی ہوگاجب کوئی تم پر انگلی اٹھا کر یہ نہ کہ سکے کہ یہ شخص جھوٹا ہے ۔ اگر یہ جھوٹا ہے تو جس کے ساتھ جڑ کر یہ سچائی کا اعلان کررہا ہے اس کی سچائی بھی معل نظر ہوگی ۔ نسیم احمد بٹ صاحب شہیدآف فیصل آباد کی شہادت۔

From individual to international level, truthfulness is negated with the same intensity with which it is verbally promoted. Disagreements and acrimony in family life stems from lack of use of truth and when children observe parents using falsehood, they too indulge in it. The falsehood of family life incites them to other ills and some families ruin their children in the process. We observe so-called caretakers of religion dismiss truth and promote falsehood. Anti-Islamic powers as well as the opponents of the true and ardent devotee of the Holy Prophet(saw), who are also playing a role against Islam, perpetrate this. They are aware of truth but use falsehood for personal gains. Those who come from God are always treated in this manner by worldly people. However, God’s decree also comes into operation and is always dominant. Islam is the only religion which today presents its original teaching in the form of the Holy Qur’an, which is the fountainhead of truth and guidance. Other revealed books have been interpolated. Hudhur said we Ahmadis claim to be in the Community of the true and ardent devote of the Prophet(saw) and we have to take the message of truth to the world. Our efforts, our words will only be blessed on each and every level when we will adopt truth in every aspect of life and every moment of life. From our family life to our social circle, our truthfulness should be exemplary, then alone will our efforts be blessed and will impress others and bring them closer to Ahmadiyyat and Islam. We have connected ourselves to the Promised Messiah(as) but our connection will only be genuine when no one can point a finger of falsehood at us. Otherwise we will also be putting the truthfulness of one whom we are declaring to be truthful in doubt. Martyrdom of Naseem Ahmad Butt sahib shaheed of Faisalabad.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
02-Sep-2011 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Pious Change in New Converts to Islam Ahmadiyya
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Indonesian | English
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

ایک انقلاب ہے جو ان لوگوں میں پیدا ہوا ہے اور ہو رہا ہے جنہوں نے بیعت کی حقیقت کو سمجھا اور آج حضور ایدہ ﷲ تعالیٰ ان لوگوں کے چند واقعات پیش کریں گے جو اپنے اندر بیعت کے بعد ایک انقلاب پیدا کرنے والے بنے ۔ یہ واقعات دنیا کی مختلف قوموں اور مختلف نسلوں کے لوگوں کے ہیں جنہوں نے اﷲ تعالیٰ سے تعلق جوڑنے میں ترقی کی ہے ، اپنے نفس کی خواہشات کو مارنے اور اﷲ تعالیٰ کے احکامات کا پابند رہنے میں ترقی کی ہے اور اپنی روحانیت کے بڑھانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں ۔ امیر صاحب جماعت احمدیہ دہلی لکھتے ہیں کہ عثمان صاحب جو جلسہ سالانہ ۲۰۱۰ کے موقع پر بیعت کر کے جماعت میں داخل ہوئے بیعت کرنے سے پہلے کبھی کبھار نماز پڑھا کرتے تھے لیکن بیعت کے دن سے ہی نہ صرف پانچوں وقت نماز ادا کرتے ہیں بلکہ اکثر تہجد ادا کرنے کی توفیق ملتی ہے ۔ راکوسا ریجن کے صدر صاحب لکھتے ہیں کہ پہلے مجھے بہت جلد غصہ آجاتا تھا اور اس حالت میں بیوی اور بچوں کو مارنا شروع کر دیتا تھا اور گالی گلوچ میرا معمول تھا ، بیعت کرنے کے بعد نمازوں کی طرف میری توجہ ہو گئی ہے اور میں محسوس کرتا ہوں کہ مجھ میں صبر اور برداشت پہلے سے بہت زیادہ ہو گئی ہے۔ امیر صاحب غانا تحریر کرتے ہیں کہ جب ہم تبلیغ کیلئے اپر ایسٹ گئے تو وہاں ایک ٹیچر نے احمدیت کی تعلیم سے متاثر ہو کر بیعت کرلی ، اس کے اخلاص کا یہ عالم تھا کہ کچھ عرصہ کے بعد وہ ٹیچر خدام کے نیشنل اجتماع کے موقع پر اپنے ساتھ ۲۰ اساتذہ کو لے کر اس اجتماع میں شامل ہوا اور سب لوگ پہلے ہی اس کی تبلیغ سے احمدی ہو چکے تھے ۔ امیر صاحب جماعت احمدیہ دہلی تحریر کرتے ہیں کہ محمد مرسلین صاحب ۲۰۰۸ میں بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے ، بیعت کرنے کے تین دن بعد ایک تفصیلی خواب میں آنحضور ﷺ کی زیارت ہوئی اور آپ ﷺ نے پنجاب جانے کا ارشاد فرمایا ۔ بینن کے ایک معلم زکریا صاحب بتا تے ہیں کہ ایک احمدی کا بچہ گم ہوگیا ، اس پریشانی میں انہوں نے سارے علاقے کی خاک چھان ماری ، ریڈیو پہ کئی دفعہ اعلانا ت بھی کرواتے رہے مگر بچہ نہ ملا ، بریشانی کے کے عالم میں ان کا فون آیا کہ میرا نہیں خیال کہ اب بچہ ملے ۔ معلم صاحب کہتے ہیں کہ میں نے انہیں کہا کہ مایوسی گنا ہ ہے ، تم بھی دعا کرو میں بھی دعا کرتا ہوں۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ سوچ کر دیکھو ۱۳۰۰ برس میں ایسا زمانہ منہاج نبوت کا زمانہ اور کس نے پایا وہ خدا تعالیٰ کے نشانوں اور تازہ بہ تازہ تائیدات سے نور اور یقین پاتے ہیں جیسا کے صحابہ ؓنے پایا ۔ خورشید بیگم صاحبہ کی وفات۔

A revolutionary change comes about after taking Bai’at among those who understand the significance of it and today Hudhur presented some incidents illustrating this. These incidents are about people from different racial backgrounds who shun egotistic wishes, progress in following the commandments and try to enhance spiritual development. Ameer sahib of Delhi Jama’at writes about an important change in an Usman sahib who took his Bai’at at the Jalsa of 2010. Prior to Bai’at he used to say his Salat randomly. Not only is he now regular in his five daily Prayers, but he also offers Tahajjud. President of Rakosa region writes about a new Ahmadi who recounts that he used to flare up in temper very easily and would verbally and physically abuse his family. Since taking Bai’at, his attention is drawn towards Salat and God has given him patience and steadfastness. Ameer sahib Ghana writes about a new convert that once they had gone for Tabligh purposes to the Upper East area where a school teacher took his Bai’at. Later, he came to a national Ijtima of Khuddam with twenty other school teachers whom he had already converted to Ahmadiyyat. Ameer sahib of Delhi writes that Muhammad Mursaleen sahib came into the Jama’at in 2008. Three days after his Bai’at he had a detailed dream in which he saw the Holy Prophet(saw) who asked him to go to Punjab. A mu’allim from Benin, Zakaria sahib writes that an Ahmadi’s child went missing He searched all over the place and had it announced on the radio that his child had gone missing. With no results, he lost hope. The mu’allim told him that it was a sin to lose hope and asked him to pray, saying he too would pray. The Promised Messiah(as) wrote that in the past century none other than the Ahmadiyya Community experienced has a time which was on the precepts of Prophethood where people attained spiritual light as the Companions of the Prophet attained. Death of Khurshid Begm Sahiba.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
26-Aug-2011 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Strive for real worship of Allah
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Full Text: Urdu | Tamil
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

یہ اﷲ تعالیٰ کا ہم پر بہت عظیم احسان ہے کہ اس نے ہمیں زمانے کے امام کو ماننے کی توفیق عطا فرمائی جن سے ہمیں قرآن کریم کے گہرے معانی اور تفسیر کا علم ہوا۔ حضور نے فرمایا پس یہ ہیں ایک مومن کیلئے ہدایات جو ہدایت کی تلاش میں ہیں کہ دعا اور استقامت کی رسی کو مظبوطی سے پکڑو، یہ کبھی نہ چھوٹے، طلب ہدایت میں سست نہ ہو ورنہ گمراہ ہو جاؤگے، یاد رکھو ہدایت پر ثابت قدمی ،مستقل مزاجی سے دعا اور گریا زاری کے بغیر یہ چیزیں ممکن نہیں۔ حضرت مسیح موودؑ لکھتے ہیں : صراط لغت عرب میں اس راہ کو کہتے ہیں جو سیدھی ہو یعنی تمام اجزاء اس کے وضع استقامت پر واقع ہوں اور ایک وسرے کی نسبت عین محاضات پر ہوں۔ حضور نے فرمایا پس جب ’اھدنا صراط المستقیم‘ کی دعا بندہ کرتا ہے تو اﷲ تعالیٰ کےاحکامات کو بھی سامنے رکھنا ہوگا ، اﷲ تعالیٰ کے حقوق کے ساتھ بندوں کے حقوق بھی ادا کرنے ہونگے۔ جب خالص ہو کر کوئی بھی شخص کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والااگر اﷲ تعالیٰ سے راہنمائی چاہے تو صحیح دین کی طرف اﷲ تعالیٰ راہنمائی کرتا ہے بلکہ لا مذ ہبوں کی بھی راہنمائی فرماتا ہےان کیلئے بھی ہدایت کا ذریعہ بن جاتی ہےبشرطیکہ نیت نیک ہو۔ اسلام کا نام قرآن شریف میں استقامت رکھا ہے جیسا کہ وہ دعا سکھلاتا ہے اھدنا صراط المستقیم صراط الذین انعمت علیھم یعنی ہمیں استقامت کی راہ پر قائم کر ان لوگوں کی راہ جنہوں نے تجھ سے انعام پایا اور جن پر آسمانی دروازے کھلے۔ نو ع انسان خدا تعالیٰ کی عبادت کیلئے پیدا کیا گیا ہے پس انسانی وضع استقامت یہ ہے کہ جیسا کہ وہ اطاعت عبدی کیلئے پیدا کیا گیا ہے ایسا ہی وہ در حقیقت خدا کیلئے ہو جائے ۔ جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ جب آفتاب کی طرف کی کھڑکی کھولی جائے تو آفتاب کی شعائیں ضرور کھڑکی کے اندر آجاتی ہیں، ایسا ہی جب انسان خدا تعالیٰ کی طرف بالکل سیدھا ہو جائے اور اس میں اور خدا میں کچھ حجاب نہ رہے تب فی الفور ایک نورانی شعلہ اس پر نازل ہوتا ہے اور اس کو منور کر دیتا ہےاور اس کی تمام اندرونی غلاظت دھو دیتا ہے ۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں : ’اھدنا صراط المستقیم ‘ میں تمام مسلمانوں کو لازم ہے ’ایاک نعبد‘ کا لحاظ رکھیں کیونکہ ’ایاک نعبد ‘ کو ’ایاک نستعین‘ پر مقدم رکھاہے۔

It is an enormous favour of God on us that He has enabled us to accept the Promised Messiah (as), who has expounded the profound meanings of the Qur’an for us. Hudhur explained that this is the instruction for a believer; never leave the rope of prayer and steadfastness and never be indolent in seeking guidance and always remember that one’s resolve on remaining guided is from God alone. The Promised Messiah (as) wrote:‘The word Sirat means the way that is straight, so that all parts of it are in orderly array and are properly adjusted to one another. Hudhur explained that when one prays ‘Guide us in the right path’ one should be mindful of God’s commandments as well as be aware of discharging the dues of God and the dues of mankind. When a person belonging to any religion or even no religion seeks guidance from God, God guides. The only condition is that one’s intention is good. Islam has been called steadfastness in the Holy Quran, as it teaches the prayer: Guide us along the straight path; that is, make us steadfast in the path of righteousness, the path of those who became the recipients of Thy bounties and for whom the gates of heaven were opened. The ultimate object of man's creation is the worship and service of God. The steadfastness of man, therefore, is that having been created for perpetual obedience to God, he should be dedicated solely to Him. As you observe that when a window facing the sun is opened, its rays enter through the window. Similarly when a person faces up to God, the Supreme, and there is no intervening screen between him and God, the Sublime, then at once a luminous flame descends on him and illumines him and dispels all his inner uncleanliness. The Promised Messiah (as) said that it is essential for all Muslim to be mindful of ‘Thee alone do we worship’ while praying ‘Guide us in the right path’ because it has been given precedence to ‘Thee alone do we implore for help’.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
19-Aug-2011 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Prayer begets prayer
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضور نے فرمایا یہ تمام باتیں ہمیں اس بات کی طرف توجہ دلانے کیلئے راہنمائی کرتی ہیں کہ ہماری عبادتیں اور دعائیں کیسی ہونی چاہئیں؟ دعائیں کرنے کیلئے ہمیں کیا طریق اختیار کرنا چاہئے؟ ان عبادتوں اور دعاؤں کے ہماری حالتوں پر کیا نتائج مترتب ا ور ظاہر ہونے چاہئیں؟ یہ عبادتیں اور دعائیں کس طرح اﷲ تعالیٰ کے حضور قبولیت کا درجہ پائیں گی؟ یہ بھی اﷲتعالیٰ کا اپنے بندوںپہ احسان ہے کہ ہر سال رمضان کا مہینہ لا کر اﷲتعالیٰ اپنے قریب ہونے کا اعلان فرماتا ہے ،یہ اعلان فرماتا ہے کہ میں ہر اس بندے کی مدد کرتا ہوں جو خالص ہو کر میری طرف آتا ہےاور میرے حکموں پر عمل کرتا ہے ۔پس اگر کوئی کمزوری ہے تو وہ ہمارے اندر ہے ۔ حضور فرماتے ہیں کہ جب بندہ اﷲتعالیٰ کے احسانوں کو یاد کر کے جو اﷲ تعالیٰ نے اپنی رحمانیت کی وجہ سے کئے ہیں اﷲ تعالیٰ کا شکر گزار بنتا ہے تو یہ عبادت اور حقیقی عبد بننے کی طرف پہلا قدم ہے ۔ حضور نے فرمایا جب یہ سوچ انسان رکھتا ہے کہ نفس امارہ مجھے برائیوں کی طرف لے جارہا ہے اور میں نے اس سے بچنا ہے تو اپنی کوشش اور طاقت سے نہیں بچ سکتا ۔ اﷲ تعالیٰ ہی ہے جو شیطان کے حملوں سے بچا سکتا ہے۔ حضرت مسیح موعوددؑ فرماتے ہیں کہ ایا ک نعبد و ایاک نستعین جو لوگ اپنے رب کے آگے انکسار سے دعا کرتے رہتے ہیں کہ شاید کوئی عاجزی منظور ہو جائے تو ان کا اﷲ خود مدد گار ہو جاتا ہے۔ حضور نے حضرت مسیح موعودؑ کے ایک صحابی کا واقعہ سنایا جو کافی دیر سے مسجد اقصیٰ قادیان میں کھڑے ہو کر نوافل ادا کر رہے تھے۔تجسس کے باعث کہ وہ کیا دعا کر رہے ہیں ایک شخص ان کے قریب گیا ، قریب جانے پر تقریبا بندرہ منٹ تک ہلکی آواز میں صرف ایاک نعبد و ایاک نستعین پڑھنے کی آواز آتی رہی۔ حضور نے فرمایا ہمیں اﷲ تعالیٰ کی صفات کا ادراک کرتے ہوئے اپنے آپ کو اس کے مطابق ڈھالنے کی بھی ضرورت ہے ورنہ یہ دہرانا طوطے کی طرح رٹے ہوئے الفاظ کو بولنے کی طرح ہی ہے۔ حضور نے فرمایا پس چاہے دنیاوی معا ملات اور ترقیات ہیں یا روحانی معا ملات اور ترقیات ،اﷲ تعالیٰ کا حقیقی عبد بن کر ہی انسان ان سے حقیقی طور پہ فیض یاب ہو سکتا ہے ، اور نماز عبادت کا مغز ہے ۔

Hudhur said this draws us to the question as to what should our prayers, our Salat be like? What manner should we adopt and what effect should worship and prayer have on us and how does worship, prayer and Salat achieve acceptance? It is also a blessing of God to grant us the month of Ramadan and declare that He is near, that He listens to every one of that servant of His who turns to Him and practices His commandments. If there is any deficiency, it is in us. Hudhur explained that when a person prays to God mindful and grateful of the favours He has bestowed by virtue of His Rahmaniyyat , it is the first step towards worship and becoming a true servant of God. Hudhur said one is made aware that Nafse Ammarah (the self that incites to evil) or the evil-promoting ego, is taking one towards evil and one has to protect oneself but is also aware that protection cannot be achieved all by oneself. God alone saves one from Satan. Promised Messiah(as) said that God becomes the Helper of those who continue to pray to their Lord with humility: ‘Thee alone do we worship and Thee alone do we implore for help’, with the thought that may be God would accept some of their humility. Hudhur related an incident of a companion of the Promised Messiah(as) who was offering nafl Salat in Masjid Aqsa, Qadian for a long duration of time. Curious to know what was he praying, someone went up close to him and as he tried to listen, he heard the worshipper softly and repeatedly utterring the prayer of ‘Thee alone do we worship and Thee alone do we implore for help’ for about fifteen minutes. Hudhur said we should pray to God with an insight into His attributes otherwise our prayer will be parrot-like repetition. Hudhur said we can only meet our needs, be they worldly or spiritual, by becoming true servants of God and that Salat is the core of worship.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
12-Aug-2011 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Ramadhan and servants of the Gracious God
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

خدا سے تعلق جوڑنے کا دعویٰ کرنے والے بھی اس بات کو سمجھنے کی طرف توجہ نہیں دے رہےکہ خدا تعالیٰ سے تعلق جوڑنے کیلئے صرف ظاہری ایمان اور ظاہری عبادت ہی کافی نہیں بلکہ اس روح کی تلاش کی ضرورت ہے جو ایمان اور عبادات کی گہرائی کی طرف لے جاتی ہے۔ اگر ہماری اپنی حالتوں پہ نظر نہیں ، اگر ہم اپنے خدا سے زندہ تعلق پیدا کرنے والے نہیں ، اگر ہم اپنی نسلوں اور اپنے ماحول کو اس آنے والے کے پیغام سے رو آشناس کروانے والے نہیں اور اس سے آگاہی دلانے والے نہیں ، تو پھر ہم نے بھی پا کر کھو دیا۔ حضر ت مسیح موعودؑ لکھتے ہیں : اﷲ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنے قول رب العالمین میں اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ وہ ہر چیز کا خالق ہے اور جو کچھ آسمان و زمین میں ہے سب اسی کی طرف سے ہے۔ حضر ت مسیح موعودؑ لکھتے ہیں :اﷲ پاک ذات نے اپنے قول رب العالمین میں یہ اشارہ فرمایا ہےکہ وہ ہر چیز کا خالق ہے اور آسمانوں اور زمینوںمیں اسی کی حمد ہوتی ہے اور پھر حمد کرنے والے ہمیشہ اس کی حمد میں لگے رہتے ہیں اور اپنی یاد خدا میں محو رہتے ہیں اور کوئی چیز ایسی نہیں مگر ہر وقت اس کی تسبیح اور تحمید کرتی رہتی ہے۔ یہ اﷲ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے ہمیں ہماری حالتوں کو سنوارنے کیلئے ایک اور رمضان المبارک سے گزرنے کا ہمیں موقع عطا فرمایا ہے ، جس میں خدا تعالیٰ کا قرب پانے ، اﷲتعالیٰ کے احکامات پر لبیک کہنے ، ایمان میں ترقی کرنے کے راستے مزید کھل جاتے ہیں ۔ اﷲ تعالیٰ نے اس زمانے میں حضرت مسیح موعودؑ کواس کام کو آگے بڑھانے کیلئے بھیجا ہے جس کو لے کر آ نحضرت ﷺ مبعوث ہوئے تھے۔ دعاؤں کی قبولیت کے جو بعض طریق ہمیں حضرت مسیح موعودؑ نے بتائے ہیں ان میں سے پہلا طریق تقویٰ ہے۔ دعا کے لوازمات میں سےیہ بھی لازمی امر ہے کہ جو دعا کی جائےاس میں رقت اور سوز ہو۔دل پگھل جائے اور آنکھوں سے آنسورواں ہوں، جو اس سوچ کے ساتھ بہ رہے ہوں کہ خدا تعالیٰ ہی آخری سہارا ہے جو میری دعاؤں کو قبول کرنے والا ہے۔ حضور نے فرمایا متکبر انسان کا خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے،اور جب خدا تعالیٰ کا وصل اور قرب میسر نہیں تو پھر دعاؤں کی قبولیت بھی نہیں۔ صوبیدار راجہ محمد مرزا خان صاحب اور امینہ بیگم صاحبہ کی وفات۔

Those who appear to have a connection with God also do not seem to understand that outward faith and worship are not sufficient. What is needed is to search for the essence of the spirit which leads to faith. If we do not keep an eye on our own condition, if neither we have a living connection with God nor do we inculcate it in our next generation and if we do not make those around us aware of the message of the Promised one, then having found it, we have now lost it. The Promised Messiah(as) wrote:‘In His word Rabbilalameen, Allah, the Holy, points out that He is the Creator of everything and from Him has emanated everything that is in the heavens and in the earth. Promisd Messiah(as) wrote: Allah, the Holiest, has indicated in His word Lord of the worlds (Rabbil Aalameen) that He is the Creator of everything and is praised highly in the heavens and in the earth and that His praise is celebrated constantly by His servants who are ever occupied with His remembrance. Hudhur said we are fortunate to have experienced yet another Ramadan, during which greater paths to attain spiritual development are opened. God sent the Promised Messiah(as) to further the task for which the advent of the Holy Prophet(saw) took place. The Promised Messiah(as) has explained to us various ways and means for acceptance of prayers. The first of these is Taqwa. Another requirement of prayer is that it should have tenderness and pathos. One’s heart should have a melting quality and one should weep with the thought that God is one’s last support and is the One Who would listen to prayers. Hudhur explained that an arrogant person does not stand a chance of gaining nearness to God. And where there is no nearness and union with God, there cannot be acceptance of prayer. Death of Subedar Raja Muhammad Mirza Khan sahib and Ameena Begum sahiba.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
05-Aug-2011 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: 'Everything will Perish except God': Life of Hadhrat Sahabzadi Nasira Begum Sahiba
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضور نے فرمایاکہ حضرت مسیح موعودؑ نے اپنے سب سے بڑے بیتے سیدنا محمودؓ کی آمین پہ ’محمود کی آمین ‘ کے عنوان سے ایک نظم لکھی جو دعائیہ اشعار اور نصائح سے پر ہے۔ حضور نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعودؑ اس زمانہ میں اس لئے مبعوث ہوئے تھے کہ بندے کو خدا سے ملائیں، اسے فاد خلی فی عبادی کا مضمون سمجھائیں۔ رمضان المبارک کا مہینہ بھی ہر سال اس لئے آتا ہے کہ ہم اپنے پیدا کرنے والے خدا کو پہچان کر اپنے آپ کو ہلاکت سے بچائیں۔پس خوش قسمت ہیں وہ جو ان مواقع سے فائدہ اٹھاتے ہیں ، اور پھر اﷲ تعالیٰ کی بندگی کی ادائیگی کیلئے سارا سال کوشش کرتے ہیں۔ حضور نے فرمایا کہ گزشتہ دنوں ان کی والدہ کی وفات ہوئی ۔ انا للہ و انا الیہ و انا الیہ راجعون۔ حضور نے فرمایا کہ میں جب بھی ان کی زندگی پر غور کرتا ہوں ، ان کی عبادت کے معیار مجھے نمونہ نظر آتے ہیں۔ حضور نے فرمایا کہ میری والدہ کی وفات پر جو بے شمار تعزیت کے خطوط آرہے ہیں اور جن سے انکا براہ راست واسطہ پڑتا رہا ، سب ہی ان کے مختلف اوصاف کی تعریف لکھ رہے ہیں۔ حضور نے فرمایا کہ میری والدہ حضرت مصلح موعود ؓ اور سیدہ محمودہ بیگم صاحبہ کی سب سے بڑی بیٹی تھیں اور آپکی پیدائش ۱۹۱۱ میں ہوئی۔ آپکی والدہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صا حب ؓکی بیٹی تھیں۔ حضور نے فرمایا کہ میری والدہ لمبا عرصہ لجنہ ربوہ کی صدر رہی ہیں ، اس دوران آپکی کوشش رہی ہے کہ ربوہ کی پوزیشن پورے پاکستان میں نمایاں رہے اور اس کیلئے بھر پور کوشش کرتی تھیں۔ حضور نے فرمایا کہ میری والدہ نے مجھ سے ذکر کیا کہ انہوں نے ایک دفعہ خواب میں آنحضور ﷺ کادیدار کیا ۔اسی طرح ایک خواب میں انہوں نے جرمن جماعت کا روشن مستقبل دیکھا۔ ۱۹۱۳ میں حضرت مصلح موعود ؓ نے الفضل جاری کرنے کا ارادہ فرمایا تو حضرت ام ناصر ؓ نے ابتدا ئی سرمایہ کے طور پہ اپنا کچھ زیور پیش کیا ۔ حضور نے دعا کی کہ اﷲ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرماتا چلا جائےاور انکی دعائیں ہمیشہ ہمیں پہنچتی رہیں ۔ چوہدری نذیر احمد صاحب اور صاحبزادہ مرزا رفیق احمد صاحب کی وفات۔

Hudhur said at the Ameen ceremony of his son Syeddna Mahmood(ra), the Promised Messiah(as) wrote a poetic composition entitled ‘Mahmood’s Ameen’, which is full of prayerful and advisory verses. Hudhur said the advent of the Promised Messiah(as) took place to connect man with God and make him understand the subject of ‘So enter thou among my chosen servants,’. The month of Ramadan comes every year so that we recognise God and save ourselves from destruction. Fortunate are those who avail of this opportunity and having done so, continue to strive towards it for the rest of the year. Hudhur said that recently, his mother passed away. Inna lillahe wa inna illahe raji’oon. When Hudhur reflects over her life, he notes her standard of worship as a model. Hudhur said people who knew his mother are writing her many attributes in the numerous letters of condolence that he is receiving on her passing away. Hudhur said his mother was the eldest daughter of Hadhrat Musleh Maud(ra) and Syedda Mahmooda Begum Sahiba and was born in 1911. Her mother was the daughter of Dr. Khalifa Rasheeduddin Sahib. Hudhur said his mother had served as Lajna sadr for Rabwah for a long time and during her term she always aspired and worked hard for Rabwah Lajna to secure prominent position within Pakistan. Hudhur said his mother related one of her dreams to Hudhur in which she saw the Holy Prophet(saw). She once told Hudhur about a dream she had about the bright future of German Jama’at. In 1913 when Hadhrat Musleh Maud(ra) wished to start the newspaper Al Fazl, his wife Hadhrat Umme Nasir sahiba offered her jewellery to fund it initially. Hudhur prayed that may God continue to elevate her station in Paradise and may her prayers reach us. Death of Chaudhary Nazir Ahmad sahib and Respected Mirza Rafiq Ahmad sahib.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
29-Jul-2011 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Divine grace and blessings during Jalsa Salana UK
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حقیقی فائدہ اور شکر تبھی ہوگا جب ہم جلسہ کو اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کا ذریعہ بنا دیں گے۔ حضور نے فرمایا کہ انہوں نے جماعت پر ہونے والے فضلوں کی بارش کو گزشتہ ماہ جرمنی میں بھی ملاحظہ کیا ، وہاں جلسہ کے پروگرام کے علاوہ اور پروگرام بھی تھے، ان کی شکر گزاری کا ذکر چل رہا تھا کہ یوکے کا جلسہ بھی اﷲ تعالیٰ کے فضلوں کی بارش دکھاتا ہوا آیا اور چلا گیا۔ ہماری روحانی اور اخلاقی ترقی کیلئے خدا تعالیٰ چند دن بعد ایک اور موقع فراہم کرنے لگا ہے جو رمضان المبارک کی صورت میں آئے گا، پس ہماری شکرگزاری اگر اپنی عملی حالتوں کی بہتری کی کوششوں اور اﷲ تعالیٰ کی طرف سے مواقع مہیا فرمانے اور بھرپور فائدہ اٹھانے پر ہوگی تو بپھر فضلوں کی بارش بھی پہلے سے بڑھ کرہم اپنے اوپر برستادیکھیں گے۔ حضور نے فرمایا والدین کو خدا تعالیٰ کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ اس نے ہمارے بچوں کو جلسہ کے دوران نمازیں اور تہجد پڑھنے کی طرف توجہ پیدا فرمائی، حقیقی شکر گزاری یہ ہے کہ والدین اپنے نوافل کو پہلے سے بھی احسن رنگ میں ادا کرنے کی کوشش کریں۔ حضور نے فرمایا کہ امسال ترکی کے وفد میں بعض غیر از جماعت مختلف مذہبی تعلیمات کے یونیورسٹی پروفیسر آئے ہوئے تھے، کوئی حدیث کا ماہر تھا تو کوئی تصوف کا، جلسہ کے انتظاما ت دیکھ کر اور ایک پر امن ماحول دیکھ کر بڑے متاثر ہوئے تھے۔ ایک غیر احمدی خاتون جن کا تعلق یمن سے تھا کہتی ہیں کہ میں اس جلسہ میں شمولیت سے بہت خوش ہوں اور احمدی بہن بھائیوں سے مل کے بہت خوش ہوں جنہوں نے احمدیت سے متعلق میرے خیالات کی اصلاح کی۔آپ کی غیر معمولی مہمان نوازی کا شکر واجب ہے ۔ ایک شخص نے مولدووا سے لکھاکہ عالمی بیعت کے وقت جب تمام لوگ خلیفہ وقت کے ساتھ ہاتھوں کی زنجیر بناتے ہوئے عہد بیعت دہراتے جارہے تھےاس وقت اس منظر اور ان کلمات نے ایسا جوش دل میں پیدا کردیا کہ ہم بے اختیار ہو کر اشک آلود آنکھوں کے ساتھ بیعت کے الفاظ دہرانے لگے اور خواہش کی کہ میں بھی اس مبارک موقع پر وہاں پہ موجود ہوتا۔ شام سے ایک احمدی خاتون نے جلسہ کی مبارک باد بھیجی ہے اور کہتی ہیں کہ بدقسمتی سے انہیں ویزہ نہیں ملا اور وہ جلسہ پہ نہ آسکیں ۔ ایم ٹی اے نے دنیائے احمدیت کو ایک کرنے میں جو کردار ادا کیا ہے اس وجہ سے تمام دنیا کے احمدی ایم ٹی اے کے کارکنوں کے شکر گزار ہیں ۔اس مرتبہ جلسہ کے دنوں میں وقفوں کے دوران مختلف پروگرام دکھا ئے گئے۔

Real benefit is derived from, and real gratitude lies in, making the Jalsa a source of bringing about pure changes. Hudhur said the flow of the tremendous blessings of God on the Jama’at was seen last month when Hudhur was in Germany. There, apart from the Jalsa programme, many other very successful programmes took place and thankfulness was being expressed for those events when the UK Jalsa came with all its blessings and then concluded with many more blessings. After a few days God will provide us yet another opportunity of spiritual development in the form of the blessed month of Ramadan. If our thankfulness will materialise in bettering our practices and availing full advantage of the opportunities provided, the blessings will shower on us in greater number than before. Hudhur said parents should be grateful to God for the regular offering of Tahajjud by their children during Jalsa. True thankfulness would be for the parents to enhance their own Nawafil and for those who do not offer Nawafil, to pay attention to them. Hudhur said this year a delegation from Turkey attended the Jalsa. It comprised of university professors as well as experts of Hadith and Mysticism. They were very impressed by the Jalsa. A lady from Yemen said that she was very pleased to meet the Ahmadis and correct her misconceptions. She said it was right and proper to express thanks for the very good hospitality. Someone wrote from Moldova that seeing the link of hands in the hand of the Khalifatul Masih at the time of International Bai’at the surge of emotions was so powerful that he repeated the words of Bai’at with tear-filled eyes and yearned that he too was present at Jalsa. An Ahmadi lady from Syria sent her congratulations on Jalsa and said it was unfortunate that she did not get a visa to come to Jalsa. Ahmadis the world over are extremely grateful for the role that MTA has played in ‘uniting’ the world of Ahmadiyyat. This year MTA broadcast various programmes during Jalsa breaks.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
22-Jul-2011 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Bengali (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)

Title: Jalsa Salana, an opportunity for moral, educational and spiritual improvement
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضور نے فرمایا کہ آج کے خطبہ میں وہ جلسہ کے حوالہ سے میزبانوں اور کارکنان کو ان کی ذمہ داریوں کی یادہانی کروائیں گے، جلسہ سالانہ کے مہمانوں کیلئے چند ہدایات، اور اسکے علاوہ چند انتظامی امور کے متعلق بھی ہدایات دیں گے۔ حضور نے فرمایا کہ ہم بطور جماعت بہت خوش قسمت ہیں کیونکہ ہم آنحضورﷺ کے عاشق صادق کے پیروکار ہیں اور نظام خلافت سے وابستہ ہیں۔ حضور نے فرمایا کہ یقینا عزت و تکریم کے ساتھ مہمان نوازی مہمان کا جائز حق ہے لیکن مہمان کو بھی اپنی حدود کا خیال رکھنا چاہئے۔ جلسہ سالانہ کا ایک مقصد حضرت مسیح موعودؑ نے یہ بھی بتایا ہے کہ پیار محبت اور اخوت کا رشتہ قائم ہو، معاشرہ قائم ہو۔یہ خوبصورت رشتہ محبت اور اخوت کاتبھی قائم رہ سکتا ہے جب ہم خدا تعالیٰ کی اور آنحضور ﷺ کی کامل اطاعت کریں گے۔ اﷲ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے جماعت پہ کہ ۹۹،۹۹فیصد لوگ اگر نصائح کو سنتے ہیں تو اس پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک اور نصیحت جو حضور نے کی وہ ضیافت اور لنگر کے متعلق تھی، حضور نے فرمایا کہ عام طور پہ تمام مہمانوں کو ایک جیسا کھانا دیا جاتا ہے لیکن کچھ خاص مواقع پر مہمانوں کو ان کی ضروریات کے مطابق مختلف کھانا فراہم کیا جاتا ہے۔ حضور نے یادہانی کروائی کہ جلسہ کا اصل مقصد خدا تعالیٰ سے مضبوط تعلق پیدا کرنا ہے۔ حضور نے فرمایا کہ جلسہ پر جو لوگ آتے ہیں ان سے میل ملاقات بھی ہوتی ہے، بعض لمبے عرصے بعد ایک دوسرے کو ملتے ہیں، یہ ملاقاتیں جلسہ کی کاروائی کے بعد وقفہ کے دوران ہونی چاہئیں۔ عورتوں کو خاص طور پر یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ یہ جلسہ کوئی دنیاوی میلہ نہیں ہے،اس لئے اپنے روحانی اور اخلاقی معیاروں کو بلند کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے۔

Huzur(aba) said that in the sermon today, he would like to re-emphasize the responsibilities of hosts and duty-holders, provide some guidelines to the guests of the Jalsa Salana, and in addition, would give some organizational instructions. Huzur(aba) said that we as a Jamaat are blessed to be the followers of the servant of the Holy Prophet(saw) and to be associated with the Nizam-e-Khilafat (system of Khilafat). Huzur(aba) said that indeed it is the right of a guest to enjoy the hospitality and accommodation provided by his generous host, but he should remember what his limits are. One of the objectives of holding Jalsa Salana as described by the Promised Messiah(as) is to establish brotherhood among the participants and form a loving community. This beautiful bond of brotherhood and unity can only be established by practicing complete obedience to God Almighty and to the Holy Prophet(saw). It is Allah Almighty’s favour on the Jamaat that 99.99% of Jamaat members pay heed to the advice that is delivered and obey the instructions. Another advice that Huzur(aba) gave in the area of Ziafat or Langar is that although all guests are served the same meals, there are occasions when some guests are served different meals; those with special dietary requirements or those who do not have the taste for Pakistani food due to their own cultural background. Huzur(aba) then reminded that the main objective of the Jalsa Salana is to inculcate a deeper relationship with Allah Almighty. Huzur(aba) said that Jalsa provides an opportunity to many people to meet with their relatives and friend they have not met in many years. Meetings between these people should take place when Jalsa proceedings are not taking place. Women should specifically remember that this is not a worldly festival, therefore every effort should be made to raise spiritual and moral standards.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
15-Jul-2011 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)Bengali (mp3)Spanish (mp3)

Title: Significance of hospitality
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان لانے والےمہمان کا جائز حق ادا کریں، عرض کیا گیا کہ جائز حق کیا ہے؟حضورﷺؑ نے فرمایا ایک دن اور رات مہمان نوازی۔ جلسہ کے موقع پر کی گئی مہمان نوازی سے باہر سے آئے ہوئے غیر از جماعت اور غیر مسلم مہمان ہمیشہ متاثر ہوتے ہیں، یہاں یو کے میں بھی اور باقی ممالک میں بھی، پس میزبان کارکنان آئندہ بھی اپنے اس تاثر کو قائم رکھنے کی کوشش کریں۔ حضرت فضل الہٰی صاحب ؓ کہتے ہیں کہ قادیان میں یہ عاجز کثرت لاہور سے جایا کرتا تھا ،کئی دفعہ حضرت اقدس ؑاندر بلا لیتے اور بڑی شفقت سے چائے وغیرہ نیچے جاکر خود اٹھا کے لاتے۔ حضرت ذوالفقار علی خان صاحب ؓ کہتے ہیں جب بھی میں قادیان آتا تھا تو میرے کھانے میں پلاؤ ضرور ہوتا تھا۔ حضرت بدر دین صاحبؓ کہتےہیں کہ ایک روز بعد از نماز عشاء عاجز اپنے والد صاحب کے ہمراہ باہر تھا کہ تو حضور ؑ اپنے ہاتھ میں ایک پیالہ جس میں دودھ اور ڈبل روٹی پڑی تھی اٹھائےآگئے اور پوچھنے لگے کہ کوئی مہمان بھوکا ہے ۔ حضرت نور احمد خان صاحب ؓ لکھتےہیں کہ مجھے جلسہ سالانہ قادیان میں شامل ہونے کا اتفاق ہوا،رات کو قادیان پہنچے تھے، بہت دوست بھوکے سو گئےکہ اچانک چند آدمی نمودار ہوئے اور کہنے لگے کہ حضرت صاحبؑ کو الہام ہوا ہے کہ مہمان بھوکے ہیں ان کو کھانا کھلاؤ۔ حضرت مولوی ابراہیم بقاپوری صاحبؓ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ سب مہمانوں کو ایک جیسا کھانا کھلاؤ۔ حضرت ملک غلام حسین شاہ صاحبؓ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ جلسہ کے موقع پر ایک مولوی صاحب آئے اور حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ ان کا خاص خیال رکھو یہ بوڑھے ہیں اور ان کا کھانے میں بھی خیال رکھو تاکہ ان کو تکلیف نہ ہو۔ حضرت چوہدری عبدالعزیز صاحب ؓفرماتے ہیں کہ میں لاہور تعلیم مکمل کرنے کیلئے گیا ، وہاں سے میں ایک رات کیلئے قادیان گیا ۔ صبح جب میں واپس جانے لگا تو حضور نے خود اپنی زبان مبارک سے فرمایا کہ ذرا ٹھہر جاؤ۔ حضرت چوہدری عبداﷲ خان صاحب ؓ لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ وہ قادیان گئے، نماز کے بعد حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایاکہ چوہدری صاحب ابھی آئے ہیں کھانا کھا لیں ، چوہدری صاحب نے عرض کیا کہ کھانے کا کوئی وقت ہے ، اس پر حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا چوہدری صاحب کھانے کا بھی کوئی وقت ہوتا ہے جب بھوک لگی کھا لیا۔ میاں اﷲ دتہ صاحبؓ لکھتے ہیں کہ میں جب ۱۹۰۶ میں سالانہ جلسہ پر قادیان آیا، حضور نے مہمانوں کے آگ تاپنے کیلئے انگیٹھی بھجوائی تاکہ مہمان سرد موسم میں اپنے آپ کو گرم رکھ سکیں۔ حضرت ملک غلام حسین صاحب مہاجرؓ لکھتے ہیں کہ حضورؑ ہمیشہ تاکید فرمایا کرتے تھےدیکھو میاں غلام حسین مہمانوں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔ شیخ مبارک احمد صاحب آف یو کے اور رضیہ بیگم صاحبہ آف ربوہ کی وفات۔ ملک مبرور احمدصاحب شہید کو انکے چیمبرمیں نوابشاہ میں مورخہ ۱۱ جولائی کو شہید کر دیا گیا ۔

A Hadith relates that the Holy Prophet (saw) said: ‘Those who believe in God and the Day of Judgement should pay the rightful dues of a guest.’ When it was enquired what constituted rightful dues, he replied, ‘[stay of] a day and a night’. The hospitality at Jalsa always impresses the guests from outside, here in the UK as well as other countries. The host volunteers/workers should also bear this in mind in future. Hadhrat Fazal Ilahi sahib writes that he used to often travel to Qadian from Lahore. Many times the Promised Messiah(as) invited him to his residence and personally served tea. Hadhrat Zulfiqar Ali sahib relate that each time he visited Qadian he was served Pilao. Hadhrat Badr Din sahib relate that once after Isha, he was out with his father that he saw the Promised Messiah(as) with a bowl of milk and some bread asking if any guest was hungry. Hadhrat Nur Ahmad Khan sahib relate that once he had the opportunity to go to Qadian during Jalsa Salana. He arrived at Qadian late in the evening. Many went to sleep hungry when suddenly some people emerged saying the Promised Messiah(as) had received a revelation that the guests were hungry and they should be fed. Hadhrat Maulwi Ibrahim Baqapuri sahb relate that the Promised Messiah(as) said that all the guests should be given the same kind of food. Hadhrat Malik Ghulam Hussein sahib relate that once a Maulwi sahib came for Jalsa and the Promised Messiah(as) specifically instructed to look after him properly and serve him suitable food as he was elderly. Hadhrat Chaudhry Abdul Aziz sahib relate that he was a college student in Lahore when he went to Qadian for an overnight stay. When he prepared to leave in the morning, the Promised Messiah(as) asked him to stay a while. Hadhrat Chaudhry Abdullah Khan sahib relate that once he went to Qadian. After Salat the Promised Messiah(as) said as he had arrived just then he should have a meal. Chaudhry sahib replied it was not a meal time. The Promised Messiah(as) smiled and said there was no fixed time for food, one should eat when one felt hungry. Mian Allah Ditta sahib relate that when he went to Qadian for the Jalsa of 1906, the Promised Messiah(as) sent portable stoves of coal for the guests to keep warm in the cold weather. Hadhrat Malik Ghulam Hussein sahib Mahajir relate that the Promised Messiah(as) always advised him, ‘Ghulam Hussein, see to it that the guests are not inconvenienced in any way. Death of Shaikh Mubarak Ahmad sahib of UK and Razia Begum Sahiba of Rabwah. Malik Mabroor ahmad sahib shaheed was martyred in his chambers in Nawabshah Pakistan on 11 July.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
08-Jul-2011 Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Bengali (mp3)Spanish (mp3)

Title: Blessings of Jalsa Salana and Allah's Guidance towards Truth
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضور نے ذکر کیا کہ کس طرح انہوں نے جلسہ سالانہ جرمنی میں خدا تعالیٰ کے فضلوں کو دیکھا، محسوس کیااور اس کے علاوہ بھی جو دیگر پروگرام جرمنی کی جماعت نے بنائے ہوئے تھے، ان میں بھی وہ فضل نظر آئے۔ حضور نے فرمایا کہ جرمنی جاتے ہوئے حضور نے بیلجیئم میں قیام فرمایا اور واپسی میں حضور نے ہالینڈ میں قیام فرمایالیکن گو یہاں مختصر قیام تھا لیکن خدا تعالیٰ کے فضلوں کے نظارے یہاں بھی دیکھے۔ حضور نے فرمایا کہ بیلجیئم کا جلسہ سالانہ بھی منعقد ہوا ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے جماعت احمدیہ بیلجیئم بھی اب بیعتوں اور رابطوں اور احمدیت کا پیغام پہنچانے میں بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ ہالینڈ کا جلسہ بھی آج سے شروع ہو رہا ہے، ہر لحاظ سے یہ جلسہ بابرکت ہو اور جلسہ میں شامل ہونے والے لوگ تربیتی اور تبلیغی میدان میں پہلے سے زیادہ ترقی کرنے والے بنیں، اور وہاں اسلام کے خلاف کہیں نہ کہیں سے آ واز اٹھتی رہتی ہے اس لئے انہیں بہت زیادہ محنت اور دعا کی ضرورت ہے ۔ حضور نے فرمایا کہ گزشتہ دنوں وہ کیمیرون کی ایک رپورٹ دیکھ رہے تھے، وہاں ہمارے مبلغ انچارج لکھتے ہیں کیمیرون کے انگریزی بولنے والے علاقوں کے بعدفرنچ بولنے والے علاقوں میں بھی احمدیت تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ کرغزستان سے ہمارے نمائندہ لکھتے ہیں کہ انہوں نے گزشتہ رمضان المبارک میں بیعت کی تھی ، انہوں نے بتایا کہ ان کے اساتذہ نے انہیں برائیوں سے بچنے اور سیدھے راستہ پر چلنے کیلئے دعا سکھائی ، اس دعا کو سیکھے ہوئے کافی عرصہ گزر چکا تھا لیکن میں نے وہ دعا نہیں کی تھی۔ایک روز جب میں نے یہ دعا مانگی، اس کے تین چار روز بعد میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک پہاڑی کی چوٹی پر کھڑا ہوں اور میں ایک چوٹی سے پھلانگ کر دوسری چوٹی پر جارہا ہوں۔ انڈونیشیا سے ایک احمدی لکھتے ہیں کہ احمدی ہونے سے قبل ایک دفعہ وہ بیمار تھے اور ملٹری ہسپتال میں داخل تھے تو ہوش آتے ہی میں نے ایک کشف دیکھا کہ ایک وسیع سکرین پہ کلمہ شہادت لکھا ہوا ہے ، بعد ازاں قرآنی آیات اور احادیث بھی دکھائی گئیں اور آخر پر یہ کلمات لکھے ہوئے دکھائے گئے’اسلام سے قبل نہیں مرنا‘۔ برکینا فاسو کے مشنری صاحب لکھتے ہیں کہ ایک ۶۵ سالہ شخص نے بیعت کی اور کہا کہ آپ لوگوں کے آنے سے پہلے میں نے رؤیا میں ایک بزرگ کو دیکھا جو مجھے کہنے لگے کہ آدم ؑ نازل ہوئے ہیں ان کو قبو ل کرو۔ حضور نے فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ کے دلو ں میں سچائی ڈالنے کا واقعات بے شمار ہیں اور اس طرح کے واقعات آپ جلسہ میں بھی سنیں گے ، حضور نے فرمایا کہ سب کو بیان کر نا تو ممکن نہیں اس لئے دوران سال بھی حضور نے ان کو بیان کرنا شروع کر دیا ہے ۔ ڈاکٹر سید فاروق احمد صاحب کی وفات، صادقہ قدسیہ صاحبہ کی وفات، شاہد تالپور صاحب کی وفات۔

Hudhur mentioned the Divine blessings of Jalsa Salana Germany which Hudhur saw and felt at Jalsa as well as the blessings Hudhur experienced during other programmes organised by the German Jama’at. During the travel to Germany, Hudhur had stopped overnight at Belgium whereas on the way back Hudhur had stopped over at Holland and observed many blessings in both these places. Hudhur said Jalsa Salana has also taken place in Belgium and with the grace of God, Belgium is also progressing in Bai’ats, community relations and in taking the message of Ahmadiyyat to others. Today the Jalsa Salana of Holland begins; may it be blessed in every way and may the people there also greatly progress in Tabligh and Tarbiyyat matters. As voices against Islam are raised time and again in Holland, they need to work extremely hard as well as pray. Hudhur said he was recently looking at a report from Cameroon in which our missionary-in-charge wrote that after the English-speaking areas, the message of Ahmadiyyat is also fast spreading among the French-speaking areas. Our representative from Kyrgyzstan writes that he took his Bai’at last Ramadan. His teachers had taught him a prayer for guidance on the straight path a while ago but he did not make that prayer. A few days after he eventually made that prayer he saw a dream in which he saw himself standing on the top of a hill and then jumping from one hilltop to another. The account of an Ahmadi from Indonesia is that years ago before he became an Ahmadi he fell ill and was in hospital. When he came to conscious, he saw in a vision the Kalima Shahadah written on a large screen, later Quranic verses and Ahadith appeared on the screen, followed by words; ‘do not die before accepting Islam’ and some other phrases. Missionary sahib from Burkina Faso writes that a 65 year old person took his Bai’at and said that he saw a holy man in a dream who told him that Hadhrat Adam’s advent had taken place and he should be accepted. Hudhur said there were numerous other accounts like this and he would relate some during the forthcoming Jalsa. Hudhur said it is not possible to mention them all and that is why now Hudhur has started mentioning some accounts during the year. Death of Dr. Syed Farooq Ahmad sahib, Sadiqa Qudsia sahiba, Shahid Talpur sahb.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
01-Jul-2011 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Bengali (mp3)Spanish (mp3)

Title: Sense of Gratitude for Jalsa Salana
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضور نے فرمایا اس دفعہ جلسہ سالانہ جرمنی نئی جگہ پر منعقد کرنے کی وجہ سے جماعت جرمنی کی انتظامیہ اور امیر صاحب کو ایک شوق اور جوش و خروش تھا جو یقیناً باقی افراد جماعت کوبھی ہوگا۔ آج دنیائے احمدیت میں ہر ملک میں جلسے منعقد ہو رے ہیں اور تقریباً سارا سال کہیں نہ کہیں جلسہ منعقد ہوتا رہتا ہے۔ گزشتہ ہفتہ کو جرمنی کا جلسہ تھا تو آج سے کینیڈا اور امریکہ کا جلسہ شروع ہو رہا ہے۔ حضور نے فرمایا ہر احمدی جو جلسہ میں شامل ہوا ہے اپنے تقویٰ کے معیار کو بڑھانے کی ہمیشہ کوشش کرتا رہےاور پھر جیسا کہ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت نہیں ہے جو ہمارے غلبہ میں روک ڈال سکے ۔ حضرت مسیح موعودؑ سے وعدہ کے مطابق غلبہ تو اﷲ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعودؑ کو عطا فرمانا ہے ، اس کا یہ مطلب ہے کہ ہم بھی اگر تقویٰ سے چمٹے رہے تو ہم بھی اس غلبہ کا حصہ بن جائیں گے۔ ہر لمحہ ہمیں خدا تعالیٰ کے احسانوں کو یاد کر کے اپنے دل و دماغ کو اس یاد سے تازہ رکھنا چاہئے، ہر لمحہ ہمیں اپنے عملوں کو خدا تعالیٰ کی رضا کے مطابق ڈھال کر اپنے جسم کے ذرے ذرے کو خدا تعالیٰ کا شکر گزار بنانا چاہئے۔ حضور نے فرمایا کہ بعض باتیں جو میں نے نوٹ کی ہیں یا مجھے بتائی گئی ہیں انکا آئندہ بہتری کیلئے ذکر کردیتاہوں، وہ لوگ جو صرف تنقید کرنا جانتے ہیں اگر حقیقت میں بہتری کے خواہشمند ہیں تو ادھر ادھر باتیں کرنے کی بجائے انتطامیہ کو اپنے مشورے دیں اور کام کرنے والوں کیلئے دعا کریں ۔ جو غیر مہمان جرمنی سے اور باقی ہمسایہ ممالک سے آئے ہوئے تھے انہوں نے اچھا تاثر لیا ہے ۔ حضور کی جس بھی مہمان سے بات ہوئی ، انہوں نے بتایا کہ وہ انتظامات اور لوگوں کے آپس کے تعلقات اور ڈیوٹی دینے والوں کے رویوں سے بہت متاثر ہوئے ہیں۔ کارکنان نے جس محنت اور ذمہ داری سے عمومی طور پر اپنی ڈیوٹی دی ہے اس پر شاملین جلسہ کو بھی ان کا شکر گزار ہونا چاہئے۔ جرمنی میں افراد جماعت میں عمومی طور پر بہت زیادہ خدا تعالیٰ کے فضل سے اخلاص و وفا کے جذبات ابھرے ہوئے ہیں۔ حضور نے فرمایا ایم ٹی اے کا ذکر بھی ہونا چاہئے، ایم ٹی اے جرمنی کے کارکنوں نے بھی دن رات محنت کر کے بہت اچھے پروگرام پیش کئے۔ لندن سے بھی مدد کیلئے کچھ نوجوان آئے ہوئے تھے۔

Hudhur said due to the Jalsa Salana Germany taking place at a new venue this year, the German Ameer sahib and the management were excited and certainly the Jama'at members must have also felt it. Today Jalsa takes place in the entire Ahmadiyya world. Almost all year round Jalsa takes place somewhere or the other. Last weekend it was the German Jalsa and this weekend the Jalsa of USA and Canada are taking place. Hudhur said each Ahmadi who attended Jalsa should always try and enhance the standard of Taqwa. According to His promise to the Promised Messiah(as) God is going to grant triumph to him. The significance here is that if we adhere to Taqwa we can be part of the promised triumph. We should be grateful to God each moment by remembering His favours on us and by engaging in His remembrance each moment and by practising His commandment each moment we should make each fibre of our being grateful to Him. Hudhur said he noted a few things and others were reported to him which he would mention now for future betterment. If those who only criticise really wish for betterment then rather than talk among themselves they should inform the management and should pray for the management. The outside guests from Germany and other neighbouring countries had a very good impression of the Jalsa. Whichever guest Hudhur spoke to told him that they were impressed with the arrangements, the mutual love and bond of the Community and the duty-holders. The overall hard work of the workers at the Jalsa was such that the attendees should be grateful to them. The German Jama'at is very developed in sincerity and loyalty. Hudhur said MTA should have been mentioned. The German MTA worked day and night and presented very good programmes. A few young men from London had also come to help.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
24-Jun-2011 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Bengali (mp3)

Title: Narratives of Companions of the Promised Messiah(as)
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضور نے فرمایا کہ ہم یہ جلسہ کے تین دن خالصتاَ خدا تعالیٰ کی خاطر گزارنے کیلئے جمع ہوں، علمی تربیتی اور روحانی ماحول میں یہ دن گزار کر اپنے دینی علم میں ترقی کریں۔ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ اس جماعت میں شمولیت اختیار کرنے کیلئے اور اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کرنے کیلئے قومیں تیار کی جا رہی ہیں، تو اس بات کو پرانے احمدیوں کو بھی ایک فکر کے ساتھ لینا چاہئے۔ حضرت ضیاء الحق صاحب ؓ ہندوستان کا سفر طے کر اپنے دو دوستوں کے ساتھ قادیان پہنچے، آپ ظہر کی نماز کے بعد حضرت مسیح موعودؑ سے ملے اور مغرب کے بعد آپ نے بیعت کی۔ حضرت نظام الدین صاحب ؓ لکھتے ہیں کہ جب جلسہ کے بعد انہوں نے حضرت مسیح موعودؑ سے جانے کیلئے اجازت مانگی ، تو ایک شخص نے حضرت مسیح موعودؑ سے دریافت کیا کہ مجھے کوئی وظیفہ بتائیں،اس پر حضرت مسیح موعودؑ مسکرادیئے اور فرمایا کہ درود شریف کثرت سے پڑھو، یہی وظیفہ ہے۔ حضرت میاں امیر دین صاحبؓ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک دفعہ اپنے قرض دار ہونے کی شکایت حضرت مسیح موعودؑ سے کی تو آپؑ نے فرمایاکہ کثرت سے درود شریف پڑھا کرو اور کثرت سے استغفار کیا کرو۔ حضرت چوہدری عبدالعزیز صاحبؓ فرماتےہیں کہ میں نے ۱۹۰۷ کے جلسہ میں شمولیت اختیار کی جو حضرت مسیح موعودؑ کی زندگی کا آخری جلسہ تھا۔ حضرت اﷲ دتہ ؓصاحب فرماتے ہیں کہ غالباَ ۱۹۰۳ یا ۱۹۰۴ کا واقعہ ہے کہ میں قادیان گیا ہوا تھا، موقع عید کا تھا اور لنگرخانے میں لنگر چلا تو عام و خاص کی تجویز ہونے لگی۔ مولوی برہان الدین صاحب جہلمی سے روایت ہے کہ جب حضرت مسیح موعودؑ نے براہین احمدیہ لکھی اور میں نے اس کو پڑھا تو میں نے خیال کیا کہ اس شخص کو آئندہ کوئی بڑا رتبہ اور مقام ملنے والا ہے، اس لئے میں اس کو دیکھ آؤں۔ حضرت محمد علی اظہر صاحبؓ سےروایت ہے کہ ۱۹۰۶ کا جلسہ مسجد اقصٰی میں ہوا جس کی اس وقت توسیع ہو چکی تھی ، جگہ کی کمی کی وجہ سے کچھ لوگ ملحقہ ایک ہندو کی چھت پر نماز ادا کرنے لگے. حضرت مولوی محمد ابراہیم صاحب بقاپوریؓ جب قادیان آئے تو انہوں نے سوچا کس طرح قادیان والوں کو آزمایا جائے، انہوں نے قادیان میں بڑےعالم کو دیکھا اور انہیں علم سے بھرا ہوا پایااور اخلاق میں اعلیٰ پایا،اور حضرت مسیح موعودؑ کو بھی دیکھا جن کی کوئی مثال نہیں تھی۔ حضرت زین العابدین شاہ صاحب ؓروایت کرتے ہیں کہ جن دنوں حضرت مسیح موعودؑ کو آپ کی وفات کے متعلق الہامات ہورہے تھے، انہی دنوں میں حضرت مسیح موعودؑ نے سورۃ فاتحہ کی تشریح کرتے ہوئے مسجد اقصیٰ میں تقریر فرمائی اور عبودیت کے معنی پر روشنی ڈالی۔ حضور نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے اپنے وعدوں کو پورا فرمایا اور حضرت مسیح موعودؑ کی جماعت روزانہ بڑھ رہی ہے اور بڑھتی چلی جارہی ہے۔

Hudhur said we should spend these three days of the year purely for the sake of God in the educational, instructive and spiritual environment of Jalsa. The Promised Messiah(as) said that nations are being prepared to bring about pious changes and be included in this Community. This should be a cause for concern for the long-term Ahmadis. Hadhrat Zia ul Haq sahib(ra): he travelled through India to reach Qadian, along with two friends. They met the Promised Messiah(as) after Zuhr and took their Bai’at after Maghrib. Hadhrat Nizam uddin sahib(ra): He writes that just as he wanted to seek leave from the Promised Messiah(as) after Jalsa, a person asked the Promised Messiah(as) to give him a Wazifa (a prayer). The Promised Messiah(as) smiled and said ‘recite Durud profusely, this alone is the Wazifa. Hadhrat Mian Ameer ud Din(ra): He writes that he once told the Promised Messiah(as) about his debts. The Promised Messiah(as) told him to recite Durud profusely and say Istaghfar profusely. Hadhrat Chaudhry Abdul Aziz sahib(ra): He writes that he attended the Jalsa of 1907, which was the last Jalsa of the lifetime of the Promised Messiah(as). Hadhrat Allah Ditta sahib(ra): He writes that it was perhaps 1903 or 1904 that during his visit to Qadian on the occasion of Eid some discrimination was made about special and ordinary guests at the Langar. Maulwi Burhan uddin Jhelumi(ra): When the Promised Messiah(as) wrote Braheen e Ahmadiyya, Burhan sahib felt this person was auspicious and felt he needed to go and see him. Hadhrat Muhammad Ali Azher sahib(ra): He writes that the Jalsa of 1906 was held in Masjid Aqsa which had been extended by then. Due to lack of space, some people stood on the roof top of a neighbouring house that belonged to a Hindu for Salat. Hadhrat Maulwi Muhammad Ibrahim sahib Baqapuri(ra): He writes that when he arrived in Qadian he thought how he could put the people there to the test. He had found a scholar there most knowledgeable and courteous and had found the Promised Messiah(as) to be matchless. Hadhrat Zainul Abadeen Shah sahib(ra): He writes that during the time when the Promised Messiah(as) was receiving revelations about his passing away, he delivered a speech in Masjid Aqsa in which he gave a commentary of Surah Al Fatihah and spoke on the meanings of Ebudiyyat (servitude to God). Hudhur said God fulfilled His promises and the Community of the Promised Messiah(as) is growing by the day and continues to grow.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
17-Jun-2011 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Bengali (mp3)

Title: Guide us in the right path
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | English
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

اس وقت دنیا میں مسلمان دو ارب کے قریب ہیں، سب کے سامنے آنحضورﷺ کہ یہ پیشگوئی اور حکم ہے کہ چودہویں صدی (ہجری) میں مسیح اور مہدی کا ظہور ہوگا۔ صحابہؓ نے ایسا رشتہ آنحضور ﷺ سے قائم فرمایا تھاجس کی مثال نہیں ملتی،اور پھر خدا تعالیٰ نے بھی ان کو ایسا نوازا کہ رضی اﷲ عنہم کا اعزاز ان کو ملا۔ انسان پر اگر اﷲ تعالیٰ کا فضل نہ ہو تو وہ کبھی اپنی کوشش سے کامل اطاعت اور فرمانبرداری نہیں دکھا سکتا،اﷲ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے کیلئے اﷲ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔ اگر ہم نےزمانہ کے امام کے ساتھ کئے گئے عہد بیعت کو نبھانا ہے تو اھدنا الصراط المستقیم کو سمجھے کی بھی ضرورت ہےاور غور کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ خوش قسمت ہیں ہم میں سے وہ جنہوں نے حضرت مسیح موعودؑ کو قبول کرنے کے بعد دوسری قدرت کے ساتھ بھی تعلق اخوت اور وفا کو بھی قائم کیا۔ ہدایت صرف کسی مامور کو مان لینا ہی نہیں ہے، یا نظام سے وابستہ ہو جانا ہی نہیں ہےبلکہ اپنی زندگیوں کو اس تعلیم کے مطابق ڈھالنااور اس پہ قائم ہونا ہدایت کی اصل بنیاد ہے۔ اھدنا الصراط المستقیم کی دعا صرف حقوق اﷲ کی ادائیگی کیلئے نہیں ہے ، صرف اپنے ایمان کی مضبوطی کیلئے نہیں ہے، بلکہ حقوق العباد کی ادائیگی کیلئے بھی یہ دعا ہے۔ حضرت مسیح موعود ؑ ایک جگہ نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اگر خدا تعالیٰ سے معاملہ میں کچھ حصہ کھوٹ کا ہوگا توایسا ہی دوسری طرف سے بھی ہوگا۔ صراط مستقیم جانوروں کی حرکات چھوڑ کر انسان بنانے والی ہےاور پھر تعلیم یافتہ انسان بنانے والی ہے ، اور پھر تعلیم یافتہ انسان سے باخدا انسان بنانے والی ہے۔

It is said that there are around two billion Muslims in the world at this time. The prophecy and directive is in front of all the muslims that the Messiah and the Mahdi will appear in the fourteenth century [after Hijrah]. Companions of Holy Prophet(saw) had developed such relationship with the Holy Prophet Muhammad(saw) that its example cannot be found. And therefore Allah also blessed them so that they attained the honor of radiyallahu ‘anhum [Allah is well pleased with them… 5:120]. If it is not the blessing of Allah, one can never with his effort show complete obedience and fellowship. One will have to turn to God to absorb his favors. Therefore, if we have to abide by the pledge of allegiance with the Imam of the age in reality then we need to understand the reality of ihdinas-siratal-mustaqim [Guide us in the right path. 1:6]. Fortunate are those of us who, after accepting the Promised Messiah, peace be on him, established the relationship of affinity and fidelity with the second manifestation. Guidance is not just to accept a person sent by Allah, or not just being affiliated with the Community but to mold lives to the teaching and to establish oneself on it is the basis for the foundation of guidance. The prayer of ihdinas-siratal-mustaqim [Guide us in the right path. 1:6] is not just for discharging the rights of the Creator, it is not just to strengthen one’s belief, but this prayer also is for discharging the rights of creation. The Promised Messiah(as), advising us, said at one place, “If there is a part of deficit in dealing with Allah, the same will be from the other side.” The sirat mustaqim [straight path] was to make man after abandoning the traits of animals, and then it was to turn him into a civilized man. And then turn civilized men to godly men.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
10-Jun-2011 Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Bengali (mp3)

Title: Khilafat and Mujaddidiyyat
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

مجدد کی آمد سے متعلق سوالات جماعت میں مختلف وقتوں میں اٹھتے رہے ہیں، جماعت کے مخلصین میں نہیں بلکہ ایسے لوگ جو جماعت میں رخنہ ڈالنے والے ہوں ان لوگوں کی طرف سے ایسے سوالات اٹھائے جاتے رہے، حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓنے بھی مختلف موا قع پر اس موضوع کی وضاحت فرمائی ہے۔ اﷲ تعالیٰ کا حضرت مسیح موعودؑ سے وعدہ ہےکہ آپ کے بعد آپ کی خلافت کیلئے بھی خدا تعالیٰ زبردست ہاتھ دکھائے گا۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ خدا نے اسلام کے ساتھ ایسا نہ کیا اور چونکہ وہ چاہتا تھا کہ یہ باغ ہمیشہ سر سبز رہے اس لئے اس نے ہر یکصدی پر نئے سرے سے اس کی آبپاشی کی اور اس کو خشک ہونے سے بچایا، اگرچہ ہر صدی کے سر پر جب بھی کوئی بندہ خدا اصلاح کیلئے قائم ہوا، جاہل لوگ اس کا مقابلہ کرتے رہے۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ بذریعہ وحی الٰہی مجھ پر بتصریح کھولا گیا کہ وہ مسیح جو امت کیلئے ابتدا سے موعود تھا ، وہ آخری مہدی تنزل اسلام کے وقت اور گمراہی کے پھیلنے کے زمانہ میں براہ راست خدا سے ہدایت پانے والا اور اس آسمانی مائدہ کو نئے سرے انسانوں کے آگے پیش کرنے والا تقدیر الٰہی میں مقرر کیا گیا تھاجس کی بشارت رسول کریم ﷺ نے دی تھی میں ہی ہوں۔ حضور نے فرمایا حضرت مسیح موعود ؑ صرف ۱۴ ویں صدی کے مجددنہیں بلکہ مسیح اور مہدی ہیں اور آپکا مقام مجددیت سے یقینا بہت بلند ہے۔ حضور نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعودؑ آخری ہزار سال کے مجدد ہیں اور آپکے ذریعہ سے حدیث کے مطابق خلافت علیٰ منہاج نبوت قائم ہوگی اور خلافت ہی اس کام کو آگے چلائے گی جو تجدید دین کا کام ہےپس یہ کام خلافت کے ذریعے سے ہو رہے ہیں۔ حضور نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت خلافت احمدیہ کےلئے ظاہر ہوتے ہے جب دوسرے مذاہب کے لوگ خواب میں خلفاء سے ملاقات کاشرف حاصل کرتے ہیں۔ خیرالدین برود صاحب آف انڈونیشیا کی وفات۔

Questions relating to coming of mujadid have arisen in the Jama’at at different times, not by sincere members but by those who wish to create discord. Hadhrat Khalifatul Masih II(ra) expounded this matter on various occasions. God promised the Promised Messiah(as) that after him Khilafat would be established and for this God would show tremendous signs of His power. The Promised Messiah(as) wrote that God willed the garden of Islam to be evergreen and fresh, therefore at the turn of every century, He sent a person for the reformation and the ignorant contended with him. Promised Messiah(as) said it was made quite clear to me through Divine revelation that the Messiah, whose advent among the Muslims had been promised from the beginning, and the last Mahdi whose advent had been Divinely decreed to take place at the time of the decline of Islam and the spread of error, and who was to be guided directly by God, and who was to invite people to partake of the heavenly banquet, and whose advent had been foretold by the Holy Prophet(saw) thirteen hundred years in advance, was none other than myself. Hudhur explained that the Promised Messiah(as) was not simply the Mujaddid of the 14th century, rather, he was also the Messiah and the Mahdi and his status was considerably higher than that of a Mujaddid. Hadhur said that the Promised Messiah(as) is the Mujaddid of the last millennium and Khilafat was to be established through him and the work of revival of faith was to be accomplished via Khilafat alone and this indeed has been going on. Hudhur said that God’s support and succour for the Ahmadiyya Khilafat is demonstrated when people of other religions see its Khulafa in their dreams. Death of Khairuddin Barud sahib of Indonesia.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
03-Jun-2011 Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Bengali (mp3)

Title: Allah's guidance for the righteous towards truth
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت مسیح موعودؑ نےآنحضورﷺ کی پیروی کرنے کی وجہ سے فیض پایا اور اس مقام تک پہنچایا جس کے بعد خدا تعالیٰ نے آپ کو نبوت کے عہدہ پر فائز فرمایا۔ لیکن آپ نے فرمایا کہ صرف کامل پیروی کرنے کی وجہ سے انسان نبی نہیں بن جاتا کیونکہ اس میں بھی آنحضرت ﷺ کی ہتک ہے۔ مودو نیجی صاحب آف گیمبیا سے ایک احمدی نے تبلیغ کے دوران رابطہ کیا ۔ آپ نے ایک خواب کے بعد جماعت احمدیہ میں شمولیت اختیار کرلی جس کے بعد آپ میں ایک انقلابی تبدیلی آگئی۔ عیسیٰ جوو صاحب آف گیمبیا نے خواب میں حضرت مسیح موعودؑ کو دیکھا اور بعد ازاں کئی سال بعد جب آپکی تصویر دیکھی تو احمدیت قبول کرلی۔ محمد علی صاحب آف تنزانیہ نے حضرت مسیح موعودؑ کو خواب میں دیکھا اور بعد ازاں احمدیہ مسجد میں حضرت مسیح موعودؑ کی تصویر دیکھ کے آپ کو پہچان لیا۔ قبور موسا صاحب آف بورکینا فاسو کو آپ کے والد نے امام مہدی پر بغیر ہچکچاہٹ کے ایمان لانے کا کہا۔ آپ کو خواب میں حضرت مسیح موعودؑ نے ہدایت دی، اور آپ نے مشن ہاؤس میں حضر ت مسیح موعودؑ کی تصویر دیکھ کر آپ کوپہچان لیا۔ سینیگال کے پیر صاحب کے ۱۳۲ مقامات میں پیروکار تھے، آپ نے ایک خواب کے بعد احمدیت قبول کر لیاور آپ نے قرآن مجید پر قسم اٹھا کے کہا کہ انکو کئی سال خواب آئی جب وہ امام مہدی کی تلاش کر رہے تھے۔ عبداﷲ فاتح صاحب آف الجیریا سوال جواب کی ایک محفل میں شامل ہونے ہمارے مشن ہاؤس آئےاور ان کو حضرت مسیح موعودؑ کی چند کتب پڑھنے کیلئے دی گئیں۔ پڑھنے کے بعد آپ نے کہا کہ یہ تحریرات کسی جھوٹے کی نہیں ہو سکتیں۔ شمس الدین صدیق صاحب آف کردستان نے ایک ۲۵ سال قبل ایک خواب میں چاند پہ بیٹھے ہوئے حضرت مسیح موعودؑ کو نیچے آتے ہوئے دیکھا۔ ایم ٹی اے دیکھنے کے بعد انکو یقین ہو گیا کہ یہ سیٹلائٹ چینل ہی انکے خواب کی تعبیر ہے اور انہوں نے بیعت کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔

By virtue of Promised Messiah(as)'s following of the Holy Prophet(saw), God raised him to the station of Prophethood. However, he maintained that absolute following was not sufficient to be granted Prophethood and therein was an element of insult of the Holy Prophet(saw). Modu Neejay sahib from Gambia was contacted by an Ahmadi doing Tabligh. He accepted Ahmadiyyat through a dream and it brought revolutionary changes in him. Isa Juv sahib from Gambia saw Promised Messiah(as) in a dream and years later accepted ahmadiyyat when he saw his photo. Muhammad Ali sahib from Tanzania saw Promised Messiah(as) in a dream and later recognized him when he saw his photo in Ahmadiyya Mosque. Kaboore Musa sahib from Burkina Faso was told by his father to accept Imam Mehdi and do not hesitate. He was guided in a dream by Promised Messiah(as) and recognized him when he saw his photo in Mission House. Pir sahib from Senegal had followers spread in 132 places. He accepted Ahmadiyyat following a dream and said on oath on the Holy Qur’an that he saw a dream many years ago when he was looking for Imam Mahdi. Abdullah Fateh from Algeria came to our mission house to attend a Question and Answer session and was given two books of the Promised Messiah(as) for reading. After reading the books he returned and said he felt these could not be the writings of a liar. Shamsuddin Sadeeq sahib from Kurdistan saw the Promised Messiah(as) coming down while seated inside the moon in a dream twenty five years ago. After seeing MTA, he was convinced that this satellite channel was an interpretation of his dream and he wished to take his Bai’at.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
27-May-2011 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Bengali (mp3)Kyrgyz (mp3)Malayalam (mp3)Spanish (mp3)Uzbek (mp3)

Title: Second Manifestation of Divine grace: Ahmadiyya Khilafat
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

آیت استخلاف میں اﷲ تعالیٰ مومنین سے خلافت کی نعمت کا وعدہ فرماتا ہے۔ اس ضمن میں حضرت مسیح موعودؑ نے اپنی کتاب رسالہ الوصیت میں اپنے بعد نظام خلافت کے جاری ہونے کی خوشخبری دی ہے۔ اﷲ تعالیٰ ان لوگوں کو جو کامل اطاعت نہیں دکھاتےاور اپنی مرضی کرتے ہیں فرماتا ہےکہ تمہارا ان احکامات پر عمل نہ کرنے کا گناہ تمہارے سر پر ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اطاعت ضروری ہے؛ اگر تم اس کی اطاعت کرو گے تو تم ہدایت یافتہ ہو جاؤ گے۔ اب چونکہ شریعت کامل ہوگئی اور آنحضور ﷺ تا قیامت آخری شرعی نبی ہیں، اس لئے خداتعالیٰ نے خلافت راشدہ کا اجراء فر مادیا۔ حضور نے فرمایا کہ میں اکثر کہا کرتا ہوں کہ آجکل مسلم امہ کو بے چینیوں نے گھیرا ہوا ہے، اور غیروں کے دباؤ میں آکر اتنی بے حسی طاری ہو گئی ہے کہ مسلمانوں کو مروانے کیلئے مسلمان خود غیروں کی مدد حاصل کررہے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعودؑ کے ذریعے جو انعامات کا سلسلہ جاری فرمایا ہے، ان سے فیض پانے کیلئے ہر احمدی کو اﷲ تعالیٰ کے اس حکم کو یاد رکھنا چاہئے کہ ان انعامات کا وعدہ کامل اطاعت کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ حضور نے فرمایا کہ مالی قربانی اور زکوٰۃ کا نظام بھی دنیا میں صرف جماعت احمدیہ کے ذریعہ ہی چل رہا ہے۔ خلیفہ وقت کی ہدایت کے ماتحت دنیا میں چندہ کے نظام کے ذریعہ سے افراد جماعت اور جماعتوں کی ضروریات پوری کی جاتی ہیں۔ حضور نے حضرت مسیح موعود ؑ کی کتاب رسالہ الوصیت سے خلافت کی پیشگوئی کی تشریح کرتے ہوئے اقتباس پڑھ کر سنایا۔ حضور نے فرمایا کہ آج جماعت احمدیہ اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کی پیشگوئیاں ہر آن اور ہر لمحہ ایک نئی شان کے ساتھ پوری ہو رہی ہیں۔ دشمن کی آنکھیں اندھی ہیں جو انہیں خدا تعالیٰ کی تائیدات کے نظارے نظر نہیں آتے۔دشمن کا زیادتی پہ اتر آنا اور ہتھیاروں سے حملہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ دشمن کے پاس دلیل سے مقابلہ کرنے کی صورت نہیں ہے، اور جماعت احمدیہ کے دلائل سے لوگوں کا منہ بند کرنا بھی خدا تعالیٰ کی وعدہ کےپورا ہونے کی دلیل ہے۔

Ayat e Istikhlaf, a verse in which God promises true believers the blessing of Khilafat. In this regard, the Promised Messiah(as) has given the glad-tiding of Khilafat after him in his booklet ‘Al Wasiyyat’. God states to those who do not show perfect obedience and follow their own inclinations, that they will be answerable for their noncompliance. God states that this obedience is essential; ‘And if you obey him, you will be rightly guided’. Since perfecting Shariah and making the Holy Prophet(saw) the last law-bearing Prophet till the end of time, God also established rightly-guided Khilafat. Hudhur said that he often refers to the restlessness of the Muslim world. So insensitive have they become under the dominance of the outsiders, that Muslims are seeking the help of others to kill Muslims. Each Ahmadi should remember that in order to attain the beneficence of God’s grace that He has started through the Promised Messiah(as), God’s promise is only with those who are perfectly obedient. Hudhur added that distribution of financial giving and Zakat is also only administrated in the Ahmadiyya community in the world. Under the instructions of the Khalifa of the time, financial contributions are utilised to help people of the Community. Hudhur read extracts from the booklet ‘Al Wasiyyat’ illustrating the Promised Messiah’s(as) prophecy about Khilafat. Hudhur said today the Ahmadiyya Community is a testimony that whatever the Promised Messiah(as) foretold is coming true with great glory. The enemy is blinded and cannot see God’s support and help for us. The fact that the enemy is attacking us in defencelessness is proof that he has no reasoning to contend with us, whereas we will silence our detractors with the power of reasoning, as it was foretold.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
20-May-2011 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Bengali (mp3)Spanish (mp3)

Title: Potent Power of Salaat, Dua and connection with God
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

شکر کا بہترین ذریعہ یہ ہے کہ اﷲتعالیٰ کے بھیجے ہوئے اس فرستادے کے اقوال، ارشادات اور تحریرات کو پڑھ کر غور کریں اور اپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں۔ ۱۹۰۷ میں جلسہ کی ایک تقریر میں دعا کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ یاد رکھو خدا تعالیٰ نے قرآن مجید کی ابتدا بھی دعا سے ہی کی ہے اور اختتام بھی دعا ہی پر کیا ہےتو اس کا یہ مطلب ہے کہ انسان ایسا کمزور ہے کہ خدا کےفضل کے بغیر پاک ہو ہی نہیں سکتا۔ دعا کے لوازم کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ دل پگھل جاوے اور روح پانی کی طرح حضرت احدیت کے آستانے پہ جا گرےاور ایک کرب اور اضطراب اس میں پیدا ہو۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ دعا کی قبولیت کیلئے استقامت شرط ہے، نماز کو رسم اور عادت کے رنگ میں پڑھنا مفید نہیں بلکہ ایسے نمازیوں پر خدا تعالیٰ نے خود لعنت بھیجی ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں جب تک سینہ صاف نہ ہودعا قبول نہیں ہوتی،اگر کسی دنیاوی معاملے میں ایک شخص کے ساتھ بھی تیرے سینے میں بغض ہےتو تیری دعا قبول نہیں ہو سکتی۔ بہت ہیں جو زبان سے تو خدا تعالیٰ کا اقرار کرتے ہیں لیکن اگر ٹٹول کر دیکھو تو معلوم ہوگا کہ انکے اندر دہریت ہےکیونکہ دنیا کے کاموں میں جب مصروف ہوتے ہیں تو خدا تعالیٰ کے قہر اور اسکی عظمت کو بالکل بھول جاتے ہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ دعا دو قسم کی ہےایک معمولی طور سے ہے اور دوم وہ جب انسان اسے انتہا تک پہنچا دیتا ہے پس یہی دعا حقیقی دعا ہے ۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں دعا کی مثال ایک چشمہ شیریں کی طرح ہے جس پہ مومن بیٹھا ہوا ہے، وہ جب چاہے اس سے اپنے آپ کو سیراب کر سکتا ہے۔جس طرح ایک مچھلی بغیر پانی کے زندہ نہیں رہ سکتی اسی طرح مومن کا پانی دعا ہے جس کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے با ر بار مجھے الہام کیا ہے کہ جو کچھ بھی حاصل کیا جائے گا دعا کے ذریعہ حاصل کیا جائے گا۔ آپ نے فرمایا یہ دعا ہی ایک ہتھیار ہے جو ہمارے پاس ہے۔

The best way to try and thank God would be to read the pronouncements and the writings of the one commissioned by God, reflect over them and make them a part of our lives. Explaining dua in his Jalsa address of 1907, the Promised Messiah(as) said that God began the Qur’an with dua and ended it on dua. This signifies that mankind is weak and cannot be purified without the grace of God۔ Explaining the requisites of prayers, the Promised Messiah(as) said prayer should be such that it makes: ‘The heart melt and the soul flow at the Divine threshold with pain and anxiety instilled in it. The Promised Messiah(as) said that steadfastness is the condition for acceptance of dua. He also said that it is not wise to offer Salat as a mere ritual because God has condemned such worshippers. Promised Messiah(as) said: ‘Until the heart is clean, prayer does not gain acceptance. Even if you have malice about a worldly matter with one person your prayer cannot be accepted. There are many who pay lip service to God’s existence but if they are probed it is discovered that they are atheistic. Because when they are occupied in worldly matters they completely forget God’s wrath and His greatness. Promised Messiah(as) said that dua is of two kinds. One that is made in an ordinary way and the other that it is taken to its extreme. The latter is the real dua. The Promised Messiah(as) said dua is like a spring of delicious water and a believer can satiate himself on it whenever he wishes. Just as fish cannot survive without water, similarly dua is like water for a believer without which he cannot live. The Promised Messiah(as) said that God repeatedly informed him through revelations that whatever will be accomplished will be through dua. He said dua was the only weapon he had.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
13-May-2011 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Bengali (mp3)

Title: Status of Prophethood of the Promised Messiah and Divine Promises of Triumph
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ آیت کتب اﷲ.... انا و رسلی (۵۸:۲۲)ایک وفعہ پھر میرے حق میں سچی ثابت ہوگی۔ حضور نے فرمایا کہ انہیں حال ہی میں پاکستان سے ایک خط ملا جس میں لکھا گیا تھا کہ جماعتی رسائل میں اس بات کی اشاعت کو ترجیح بنائی جائے کہ حضرت مسیح موعودؑ خدا کے نبی تھے۔ اگر ہم حضرت مسیح موعودؑ کو بطور نبی تسلیم نہیں کرتے تو ہمارا یہ دعوٰی غلط ہوگا کہ اسلام اپنے دوسرے دور میں فتحیاب ہوگا۔ اس بات کو بھی مد نظر رکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعودؑ کو نبوت کا درجہ دیئے بغیر خلافت نہیں ہوسکتی۔ استغفار کی تشریح کرتے ہوئے حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ یہ اپنے اگلے پچھلے گناہوں کی معافی مانگنا اور خدا تعالیٰ کی پناہ میں آجانا ہے۔ یہ یقینا خداتعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ حضرت مسیح موعودؑ کو فتح عطا فرمائے گا لیکن آپ نے اپنے ما ننے والوں کو نصیحت کی کہ یہی فتح کے ہتھیار ہیں۔ ہمیں اس بات پہ مکمل ایمان ہونا چاہئے کہ حضرت مسیح موعودؑ سے کئے گئے وعدے یقینا پورے ہونگے۔ ہر احمدی کا فرض ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری کو سمجھےاور اس بات پر اطمینان سے نہ بیٹھ جائے کہ خدائی وعدے تو پورے ہو ہی جائیں گے۔ کچھ اسلامی ممالک میں ہم پر پابندیاں ہیں اور ہم کھل کے تبلیغ نہیں کرسکتے، اگر تبلیغ کی ایک راہ بند ہے تو عقلمندی سے دوسرا راستہ اپنایا جاسکتا ہے۔ یہ پاکستان اور انڈونیشیا کے احمدیوں کی قربانیاں اور باقی ممالک کے احمدیوں کی قربانیاں ہی ہیں جہاں مخالفت ہےکہ آج ہمارے لئے تبلیغ کے نئے راستے کھل رہے ہیں۔ صاحبزادہ راشد لطیف صاحب راشدی آف امریکہ کی وفات، مبارک محمود صاحب مربی سلسلہ کی وفات، مظفر احمد صاحب اور انکی فیملی آف شیخوپورہ کی وفات۔

Promised Messiah(as) said, the following verse will yet again, come true in my support: ‘Allah has decreed: ‘Most surely I will prevail, I and My Messengers.’ Verily, Allah is Powerful, Mighty.’ (58:22). Hudhur said he recently received a letter from Pakistan which stated that it needs to be emphasised in the publications of the Community that the Promised Messiah(as) was a Prophet of God. If we did not accept the Promised Messiah(as) as a Prophet then our claim that Islam will be triumphant through its second phase would be erroneous. It should also be remembered that without the status of Prophethood for the Promised Messiah(as) there can be no Khilafat. Explaining Istaghfar, the Promised Messiah(as) said, it is seeking forgiveness for one’s past sins as well as future sins and to come in God’s refuge. It is indeed God’s promise that He will grant triumph to the Promised Messiah(as), but he advised his followers that these were the ‘weapons’ to bring about triumph. We should be firm in our belief that the promises made to the Promised Messiah(as) will certainly be fulfilled. It is the task of each Ahmadi to understand his or her responsibility and not be complacent that the Divine promise will be fulfilled anyhow. Hudhur said we face restrictions in some Muslim countries and cannot openly do Tabligh there. If one Tabligh source is not available, with wisdom another can be adopted. It is the sacrifices of Pakistani and Indonesian Ahmadis, as well as Ahmadis of countries where persecution takes place that are opening new avenues of Tabligh. Death of Sahibzada Rashed Latif sahib Rashedi of USA, Mubarak Mahmood sahib a missionary of the Community, Muzaffer Ahmad sahib from Sheikhupura and his family.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
06-May-2011 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Bengali (mp3)Spanish (mp3)

Title: The Correct Islamic Viewpoint of Intercession
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

تعلیم کی کمی کی وجہ سے ہندوستان اور پاکستان میں لوگوں کی ایک کثیر تعداد یہ سمجھتی ہے کہ پیر ان کی خواہشات کو پورا کرسکتے ہیں۔ عیسائی یہ دعوٰی کرتے ہیں کہ حضرت عیسٰیؑ کی صلیبی موت کی وجہ سے آپ کے پیروکاروں کا کفارہ ہوا۔ حضرت مسیح موعود ؑ نے فرمایاکہ ’یاد رکھو حضرت عیسیٰؑ پرخدائی کا دعویٰ منصوب کرنا بہت بڑی تہمت ہے‘۔ اپنی زندگی میں حضرت عیسیٰؑ اپنے چند حواریوں کو بھی درست نہ کر سکےاور صلیب کے اوپر آپ کی وفات کو یہودی ایک لعنتی موت قرار دیتے تھے۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ آنحضورﷺ کا مقام ہی اصل شفاعت کامقام ہے اور آپﷺ کی زندگی سے لیکر آپﷺ کےوصال کے بعد آج تک یہ معجزات ہوتے چلے آرہے ہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ آیت الکرسی کی روشنی میں تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ خدا تعالی وہ ذات ہے جو تمام خوبیوں کی جامع اور تمام نقائص سے پاک ہے۔ حضرت مسیح موعودؑفرماتے ہیں کہ ایک دفعہ نواب محمد علی خان صاحبؓ کے بیٹے ایک دفعہ شدید بیمار ہوئے اور انہوں نے حضرت مسیح موعودؑ سے دعا کی درخواست کی۔جب دعا قبول نہ ہوئی تو حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کی میں شفاعت کرتا ہوں۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ دعا اسی کو فائدہ پہنچا سکتی ہے جو خود اپنی اصلاح کرتا ہے۔ اگر پیغمبرکسی کیلئے شفاعت کرےلیکن وہ شخص جس کی شفاعت کی گئی ہے اپنی اصلاح نہ کرےاور غفلت کی زندگی سے نہ نکلےتو وہ شفاعت اس کوفائدہ نہیں پہنچا سکتی۔ حضور نے حضرت مسیح موعودؑ کی شفاعت سے متعلق چند دعائیں پڑھیں۔ حضور نے فرمایا کہ اب ہمیشہ رہنے والا اور زندہ نبی آنحضور ﷺ کی ذات ہی ہےاور آپ کے فیض سے فیض پا کر حضرت مسیح موعودؑ آئے۔

Due to lack of education, a large majority in India and Pakistan assume that Pirs can fulfil their wishes. Christianity claims that through the atoning death of Jesus(as) his followers are ‘reconciled’ to God. The Promised Messiah(as) informs us: ‘Remember, it is wholly calumnious to ascribe divinity to Jesus (as). In his lifetime, Jesus(as) could not reform his disciples, his death on the Cross was also considered accursed by the Jews. Always remember that the lofty station of the Holy Prophet(saw) is the real station of intercession. And his miracles have taken place from his lifetime to this day. The Promised Messiah(as) explained in light of Ayatul Kursi that God is that Being Who combines all perfect attributes and is free from all defects. The Promised Messiah(as) related that once Nawab Muhammad Ali Khan sahib(ra)’s son fell very ill and he requested the Promised Messiah(as) for prayer. The prayer was not answered favourably, so the Promised Messiah(as) said he would try intercession. The Promised Messiah(as) also said that prayer can only be beneficial for that person who also reforms himself. If the Prophet intercedes but the person for whom he intercedes does not come out of life of negligence, intercession can not avail that person. Hudhur presented a few prayers of the Promised Messiah(as) as regards intercession. Hudhur explained that now the only living Prophet is the Holy Prophet (saw) and it is through seeking beneficence of his beneficence that the Promised Messiah(as) came.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
29-Apr-2011 Urdu (wmv)English (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Bengali (mp3)

Title: Faith inspiring stories of new converts to Islam
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Bengali
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ بہت سے نیک فطرت لوگ جنہوں نے خدا تعالیٰ سے مدد چاہی، خدا تعالیٰ نے ان کی راہنمائی کی۔ اس دور میں بھی حضرت مسیح موعودؑ کی سچائی کو ثابت کرنے کیلئے ، اﷲ تعالیٰ سچے دل سے سچائی کی تلاش کرنے والوں کی راہنمائی کرتا ہے۔ ایک مصری دوست نے حضرت مسیح موعودؑ کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق استخارہ کیااور ان پر جب سچائی ایک خواب کے ذریعہ ظاہر ہوگئی تو انہوں نے احمدیت قبول کر لی۔ ہمارے مربی سلسلہ امریکہ سے لکھتے ہیں کہ عبدالسلیم کو استخارہ کے طریق کے متعلق آگاہ کیا گیا۔ انہوں نے استخارہ کیا اور بعد ازاں خواب میں حضرت مسیح موعودؑ کی زیارت ہوئی جس کے بعد انہوں نے جماعت احمدیہ میں شمولیت اختیار کرلی۔ انڈونیشیا کے امیر صاحب ایک ممبر کے متعلق لکھتے ہیں کہ ایک روز ان کو استخارہ کرنے کا کہا گیا جس کے بعد انہیں ایک کشف کے ذریعہ حضرت مسیح موعودؑ اور احمدیت کی سچائی کا علم ہوا۔ بعد ازاں ا ٓپ نے اور آپکی زوجہ نے احمدیت میں شمولیت کر لی۔ کینیڈا کے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ بل رابنسن سینٹ تھامس اونٹایو کا رہائشی تھا اور ایک پر جوش عیسائی تھا۔ خدا تعالیٰ سے دعا کرنے کے بعدانہیں سچائی تک پہنچنے کی توفیق ملی اور آپ نے مارچ ۲۰۱۱ میں احمدیت میں شمولیت اختیار کی۔ محمد یحییٰ صاحب الجیریا سے لکھتے ہیں کہ انہیں چند ماہ قبل احمدیت میں شامل ہونے کی توفیق ملی۔ چینل تبدیل کرتے ہوئے انہیں ایم ٹی اےنظر آیا جہاں الحوار المباشر لگا ہواتھا، چند پروگرام دیکھنے کے بعد انہوں نے احمدیت میں شمولیت اختیار کرلی۔ محمود یحیٰ صاحب یمن سے لکھتے ہیں کہ انہوں نے استخارہ کیا جس کے بعد انہیں حضرت مسیح موعودؑ کی سچائی کا یقین ہوگیا۔ بینن کے امیر صاحب لکھتے ہیں، ایک دن صبح کے وقت مولوی نے ہمیں بلایا اور اپنے گاؤں ہمیں ملنے کی دعوت دی، جب ہم وہاں پہنچے تو اس نے کہا میں نے تمہارے امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس کو خواب میں دیکھا ہے اور وہ کہ رہے ہیں تم کس چیز کا انتظار کر رہے ہو، جماعت میں داخل ہو جاؤ۔ اس خواب کے بعد انہوں نے احمدیت میں شمولیت اختیار کر لی۔ احمد باقر صاحب،کامل رشید صاحب اور محمد مصطفیٰ رب صاحب کی شام میں وفات۔ لطف الرحمٰن شاکر صاحب کی وفات۔

Promised Messiah(as) said many pious natured who sought guidance from Allah, Allah guided them. In these times too, to prove the truth of the Promised Messiah(as), Allah continues to guide those who are sincere in the search of truth. An Egyptian friend who performed Istikhara in accordance with the procedure outlined by the Promised Messiah(as) accepted Ahmadiyyat after truth was unfold to him through a dream. A missionary of ours in the US writes that Abdus-Saleem was made aware of the traditional procedure for the Istikhara Prayer. He offered the istikhara Prayer and later on accepted Ahmadiyyat after he saw Promised Messiah(as) in his dream. The Amir sahib of Indonesia writes about a member. One day he was asked to consider performing the Istikhara Prayer. He was shown a vision explaining the truth of Promised Messiah(as) and Ahmadiyyat after which he along with his spouse came in the fold of Islam Ahmadiyyat. The Amir sahib of Canada writes, Bill Robinson was a resident of St Thomas, Ontario and was an enthusiastic Christian. After praying to God, he managed to reach the truth and accepted Ahmadiyyat in March 2011. Muhammad Yahya from Algeria says, I availed the opportunity to enter Ahmadiyyat a few months ago. He came across MTA while his son was surfing different channels and during his searches where the program Al-Hiwarul-Mubashir was on. He accepted Ahmadiyyat after watching few programs. Mahmud Yahya Ali from Yemen writes, I performed Istikhara to discover the truth of the Promised Messiah(as). The Amir sahib of Benin writes, One day in the morning the Maulawi called, and requested a visit to his village to see him. When we went to him, he said, I saw your Imam, Khalifatul-Masih V, in a dream and he said, What are you waiting for? Enter the Community. After this dream he accepted Ahmadiyyat. Death of Ahmad Baqir sahib, Kamil Rasheed Rashid sahib and Muhammad Mustafa Rab sahib of Syria. Death of Lutfur-Rahman Shakir Sahb.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
22-Apr-2011 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Bengali (mp3)Malayalam (mp3)Spanish (mp3)

Title: Truth, Faith, Righteousness and Obedience
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Bengali
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

ایک احمدی جو حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت میں شامل ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، ہمیشہ حضرت مسیح موعودؑ کی جماعت سے توقعات مد نظر رکھنی چاہئیں۔ جب ہم یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ بطور احمدی ہم حضرت مسیح موعودؑ پر ایمان لائے، تو ہمیں اس بات کا جائزہ لینا چاہئے کہ کیا ہم نے اپنے اندر وہ تبدیلی پیدا کرنے کی کوشش کی جس کی قرآن کریم تعلیم دیتا ہے اور جو آنحضورﷺ کےصحابہؓ نے اپنے اندر پیدا کی۔ حضرت مسیح موعودؑ نے بار بار اپنی تحریرات میں اور اور اپنی تقاریر میں اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ احمدیت کی روح تبھی برقرار رکھی جا سکتی ہے جب ہم اپنا جائزہ لیتے رہیں اور ہمارے قول و فعل میں کوئی تضاد نہ ہو۔ مودی خان صاحب نے علی گڑھ یونیورسٹی سے بی ایس سی کی جب بہت کم مسلمان نوجوان سائنس پڑھا کرتے تھے، انہیں ایک اچھی نوکری کی پیشکش ہوئی، انہوں نے یہ سب حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کو بتایا اور کہا کہ دنیا داری میں پڑنے سے قادیان کی گلیاں صاف کرنے کو ترجیح دیں گے۔ یہ دور جس سے ہم گزر رہے ہیں ، یہ بھی حضرت مسیح موعودؑ کا دور ہے اور ابھی ہم نے بہت سے وعدوں کو پورا ہوتے دیکھنا ہے۔ حضور نے فرمایاکہ انہوں نے پاکستان میں سانحہ لاہور کے بعد سیکیورٹی ڈیوٹی دینے والے خدام کے متعلق فکر کا اظہار کیا تھا۔ حضور نے فرمایا کہ اطاعت کی مختلف قسمیں اور معیار ہیں، ایک خداتعالیٰ کے احکامات کی اطاعت اور نظام جماعت کی اطاعت ہے۔ اسکی بہترین مثال جماعت احمدیہ میں حضرت خلیفۃ المسیح الاول ؓمیں دیکھی جاسکتی ہے۔ خلافت احمدیہ کبھی وہ فیصلہ نہیں کرتی جو خدا تعالیٰ کے احکامات سے متصادم ہو۔ عہدیداروں کو مخاطب کرتے ہوئےحضور نے فرمایاکہ وہ تبھی خلافت کے نمائندےسمجھے جاسکتے ہیں جب وہ انصاف کے تقاضے خداتعالیٰ کا خوف رکھتے ہوئے پورے کریں۔

An Ahmadi who claims to come into the fold of the Bai’at of the Promised Messiah(as) should always keep his expectations from the community in view. When we assert that as Ahmadis we have believed in the Promised Messiah(as), we need to reflect whether we have tried to bring about those changes in our faith which the Qur’an teaches and the Companions of the Prophet(as) inculcated. The Promised Messiah(as) has drawn a lot of attention in his pronouncements and writings that the true spirit of Ahmadiyyat can only be sustained when we continue to self-reflect and when there is no conflict between our word and deed. Moodi Khan sahib had obtained a BSc from Aligarh University at a time when very few Muslim young men studied science, he was offered a good job but he related all this to Hadhrat Khalifatul Masih II(ra) and added that he did not wish to get embroiled in worldliness and would rather sweep the streets of Qadian. The time that we are going through is also the time of the Promised Messiah(as) and we have yet to see the fulfilment of many promises. Hudhur said he had once expressed concern regarding those who give security duties in Pakistan after the Lahore incident. Hudhur said obedience has different forms, different standards. There is obedience of God’s commandment and of the Nizam (administration) of the Community. The finest example of this in the Ahmadiyya Community can be seen in Hadhrat Khalifatul Masih I(ra). The Ahmadiyya Khilafat never takes decisions that are contrary to the commandments of God. Addressing the office-holders, Hudhur said they can be deemed representatives of Khilafat only when they fulfil the requisites of justice with fear of God.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
15-Apr-2011 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Bengali (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)

Title: Corruption among Muslim leadership
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضور نے ایم ٹی اے ۳ کے پروگرام کیلئے شریف اودھے صاحب کو حضرت مسیح موعود ؑ کی کتاب ’الہدٰی‘ سے اقتباس بطور حوالہ کے دیا۔ جو صورتحال حضرت مسیح موعود ؑ نے ارشاد فرمائی وہ چند ممالک کی موجودہ حالت کے بارہ میں نہیں جہاں بغا وت ہو رہی ہے ، بلکہ آپ کی تحریر کے وقت بھی ایسے ہی حالات تھے۔ آپؑ کے اعلان کے ردعمل میں مخالفت کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوالیکن ایک اچھی چیز جو اس کے نتیجے میں ہوئی وہ یہ تھی کہ مخالفین احمدیت نے دین کی خدمت اور تبلیغ کا عہد کیا۔ حضور نے فرمایا کہ نئی ہونے والی بیعتیں اس بات کو ظاہر کرتی ہیں کہ پاکیزہ روحیں سچائی کو پانے کیلئے کس طرح بے چین تھیں اور کس طرح خدا تعالیٰ نے ان کی مدد کی۔ جب بھی اسلام کی صحیح تعلیمات حضرت مسیح موعودؑ کے ذریعہ کھلتی ہیں تو ہر وہ شخص جو دین کیلئے درد رکھتا ہے ، اس پیغام کو اہمیت دیتا ہے اور اس کیلئے ہر قربانی دینے کو تیار ہو جاتا ہے۔ مسلمان حکمرانوں کی حالت زار بیان کرتے ہوئےحضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ حکمران وقت جو ایمانی لحاظ سے بڑے تصور کئے جاتے، اصل میں دنیا کی آسائشوں اور آسانیوں کی طرف جھک گئے ہیں۔ اسلامی دنیا پہ ہر قسم کی آفات اور مصائب آچکے ہیں اور عالم اسلام اس بیمار شخص کی طرح ہے جو اپنی آخری سانسیں لے رہا ہو۔ مذہبی علماء کی حالت بیان کرتے ہوئے حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ زیادہ تر ان میں سے اسلام کیلئے بطوربیماری کے ہیں۔ و ہ نصائح تو کرتے ہیں لیکن اس پر عمل نہیں کرتے۔ اس تمام صورتحال کا حل بیان کرتے ہوئے حضرت مسیح موعودؑ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ لوگوں کو چاہئے کہ سب فرقوں کو چھوڑ کر اس بات کی تلاش کرنے کی کوشش کریں کہ کیا خدا تعالیٰ نے اس کا کوئی علاج بھیجا ہے؟

Hudhur highlighted passages in the book of the Promised Messiah(as) entitled ‘Al Huda’ for the MTA 3 programme maker, Sharif Odeh sahib as a reference point. The condition that the Promised Messiah(as) depicted in the book is not just the current state of the few countries where uprisings have taken place, such was also the state of affairs at the time of his writing. In response to his pronouncement, storm of opposition arose but the good thing that came out of this was that the detractors of Ahmadis avowed to serve faith and started Tabligh. Hudhur said the accounts that he receives of those who are taking Bai’ats illustrate how restless pious-souls had been to find the truth and how God guided them. When the true teachings of Islam are unfolded through the Promised Messiah(as), each such person who has compassion for faith, gives importance to this message and is ready to make any sacrifice for its sake. Illustrating the condition of Muslim rulers, the Promised Messiah(as) said that rulers of the time who are considered as elders of the faith are in fact inclined wholeheartedly towards the embellishments of this world. Many a calamity is befalling the world of Islam and the world of Islam is like an ailing person breathing his last. Citing the condition of the religious scholars, the Promised Messiah(as) said the majority of them are like a disease for Islam. They counsel, but do not practice what they preach. Giving a solution to these conditions, the Promised Messiah(as) wrote in the same book that people should leave of all the other sects and should search if God has sent some remedy?

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
08-Apr-2011 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Bengali (mp3)

Title: Companions of the Promised Messiah (on whom be peace)
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت مسیح موعودؑ کے صحابہؓ کی روایات۔ حضرت حافظ محمد ابراہیم صاحبؓ :آپ نے ۱۹۰۰ میں بیعت کی ، آپکو احمدیت کا تعارف آپکے قریبی دوست اور استاد کے ذریعہ ہوا جنہوں نے آپ کو کچھ کتابیں پڑھنے کیلئے دیں۔ حضرت ماسٹر خلیل الرحمٰن صاحب ؓ: آپ نے ۱۸۹۶ میں ۱۴ سال کی عمر میں بیعت کی، ۱۸۹۸ میں آپ جلسہ کیلئے قادیان جلدی چلے گئے اور حضرت مسیح موعودؑ کی صحبت میں رہے۔ حضرت حافظ غلام رسول وزیر آبادیؓ: آپکے صاحبزادے عبیداﷲ کو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ کے الفاظ میں ہندوستان کے پہلے شہید کا خطاب دیا گیا۔ حضرت خان منشی برکت علی صاحب: آپ انڈین میڈیکل سروس کے ڈائریکٹر جنرل تھے، آپ نے ۱۹۰۱ میں بیعت کی اور اسی سال حضرت مسیح موعودؑ کی صحبت سے فیضیاب ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ حضرت محمد اسماعیل صاحبؓ: آپ پیدائشی احمدی تھے اور ۱۹۰۴ میں آپ کو حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ حضرت محمد اکبر صاحبؓ: آپ جہلم میں رہائش پذیر تھےجہاں ایک خالی مسجد کو احمدیوں نے آباد کیا، ایک غیر احمدی مولوی نے لوگوں کو احمدیوں کے خلاف اکسایاکہ احمدیوں کو اس مسجد سے نکال دینا چاہئے، بعد ازاں شہر کا وہ حصہ سیلاب کی وجہ سے تباہ ہو گیااور احمدیوں نے نئی مسجد تعمیر کی۔ حضرت ناظم الدین صاحب ؓ: آپ فرماتے ہیں کہ ۱۹۰۴ میں حضرت مسیح موعودؑ سیالکوٹ تشریف لائےجہاں آپؑ رہتے تھے اور نصیحت کی کہ لوگ تمہیں فساد پہ ابھارنے کیلئے مجھے برا کہیں گے لیکن تم نے کبھی ان گالیوں سے فساد نہیں کرنا اور جواب میں کسی کو برا نہیں کہنا۔ حضرت عبداﷲ صاحب احمدی صاحب ؓ: آپ نے ۱۹۰۲ میں ۱۳ سال کی عمر میں بیعت کی۔آپ کی بیعت ایک خواب کے ذریعہ عمل میں آئی۔ حضرت محمد یحیی صاحب ؓ: آپ کو ۱۹۰۴ میں حضرت مسیح موعودؑ کی ملاقات کا شرف حاصل ہوا، آپ کے والد صاحب نے لدھیانہ میں بیعت کی اور اس سے قبل وہ دیوبند کے دستار بند مولوی تھے۔

Narratives of the companions of the Promised Messiah(as). Hadhrat Hafiz Muhammad Ibrahim sahib(ra): He took his Ba'iat in 1900. He was introduced to Ahmadiyyat via his close friend and teacher who had given him books to read. Hadhrat Master Khalilur Rahman sahib(ra): He took his Bai’at in 1896 as a fourteen year old, In 1898, he went to Qadian early for the Jalsa and remained in the company of the Promised Messiah(as). Hadhrat Hafiz Ghulam Rasul Wazirabadi(ra): His son ‘Ubaidullah’ in the words of Hadhrat Khalifatul Masih II(ra) was given the title of the first shaheed (martyr) of India. Hadhrat Khan Munshi Barkat Ali sahib(ra): He was a Director General of Indian Medical Service. He took his Bai’at in 1901 and also had an audience with the Promised Messiah(as) in the same year. Hadhrat Muhammad Ismaeel sahib(ra): He was a born Ahmadi who had his first audience with the Promised Messiah(as) in 1904. Hadhrat Muhammad Akbar sahib(ra): He lived in Jhelum where a vacant mosque was populated by Ahmadis. A non-ahmadi maulvi came to the neighbourhood and started inciting people that Ahmadis should be expelled from the mosque. Later on, due to floods that part of city was destroyed and Ahmadis built a new mosque. Hadhrat Nazam ud din sahib(ra): He related that in 1904 the Promised Messiah(as) visited Sialkot, where he lived, and advised: ‘In order to incite you, people are abusive about me. But you should never be provoked by this abuse and should not be abusive in return. Munshi Abdullah sahib Ahmadi sahib(ra): He took his Bai’at in 1902 when he was 13 years old. His Bai’at came about after a dream he had. Hadhrat Muhammad Yahya sahib(ra): He had his first audience with the Promised Messiah(as) in 1904. His father had taken his Bai’at in Ludhiana, and in the past had been a certified maulwi of the Deoband sect.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
01-Apr-2011 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Bengali (mp3)Kyrgyz (mp3)Russian (mp3)

Title: Obedience to the State
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian | Bengali
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

خداتعالیٰ کے فضل و کرم سے احمدی جانتے ہیں کہ دعا ہی اصل ہتھیار ہے اور وہ پر تشدد مظاہروں میں شرکت نہیں کرتے۔ ایک دفعہ آنحضور ﷺ سے پوچھا گیاکہ اگر غیر منصف حکمران ہم پر حکومت کرنے لگیں تو ہمارا کیا رد عمل ہونا چاہئے، آپ نے جواب دینے سے انکار کر دیا، پھر پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے پھر انکار کردیا، تیسری دفعہ پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ ایسی صورت میں بھی حکمران کی اطاعت کرنی چاہئے۔ حضور نے فرمایا کہ ہماری جماعت میں صرف ایک ایسی مثال ہے جس میں حکومت کی نافرمانی کی گئی اور وہ پاکستان میں ہے جہاںہمیں کہا گیا ہے کہ اپنے آپ کو مسلمان نہ کہیں ، قرآن کریم کی تلاوت نہ کریں، کلمہ طیبہ نہ پڑھیں ، اور اسلامی طریقہ سلام نہ کریں۔ حضور نے فرمایا کہ ہمارے پاس خدا کے نبیوں اور ان کی حکمرانوں کی اطاعت کے نمونے موجود ہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ قرآن کریم فرماتا ہےکہ اﷲ اور اسکے رسول کی اطاعت کرو اور اسکی بھی جو تمہارے حکمران ہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ امن کی حالت کو خراب کرنا قتل کرنے سے بھی بد تر ہے، آپ نے فرمایا کہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں مظاہروں میں شریک ہونا ہماری تعلیمات کے خلاف ہے اور یہ بغاوت کے مترادف ہے۔ قرآن کریم نہ صرف عوام کو بلکہ حکمرانوں کو بھی متکبر اور نا انصاف نہ ہونے کی تلقین کرتا ہے۔ امتہ الودود صاحبہ زوجہ سید عبدالحئی صاحب کی وفات۔ محمد سعید اشرف صاحب کی وفات۔ نعیمہ بیگم صاحبہ بنت ڈاکٹر حشمت اﷲ خان صاحب کی وفات۔ نعیم احمد وسیم صاحب کی وفات۔

With God’s grace, Ahmadis have understood that prayer alone is the real ‘weapon’ and they do not participate in violent protests. Once the Holy Prophet(saw) was asked how people should react if unjust rulers are imposed on them, He declined to answer, he was asked again, and again he declined, When he was asked the third time, he replied that even in such a situation the ruler should be obeyed. Huzur said in our Community there is one instance of ‘disobedience’ to the state, This is in Pakistan where we are told not to call ourselves Muslims, not to read the Qur’an, not to say the Kalima, not to offer the Islamic salutation of Salaam etc. Huzur said we have the example of Prophets of God and their obedience to the state. The Promised Messiah(as) said: ‘The Holy Qur’an states ‘obey Allah, and obey His Messenger and those who are in authority over you.’ The Promised Messiah(as) said that destruction of peace is worse than killing. He said that to participate in strikes etc. in colleges and universities is against our teaching and it is like participating in rebellion. The Holy Qur’an does not only direct the masses, it also enjoins the rulers, telling them not to be arrogant about their power and not be unjust. Death of Amtul Wadood sahiba, wife of Syed Abdul Hai Shah sahib. Death of Muhammad Saeed Ashraf sahib. Death of Naeema Begum Sahiba daughter of Dr. Hashmatullah Khan sahib. Death of Naeem Ahmad Waseem sahib.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
25-Mar-2011 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Bengali (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)

Title: Compelling Beauty of the Holy Qur'an
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

ایک بد فطرت امریکی پادری جس نے گزشتہ سال ستمبر میں قرآن کریم کے متعلق بیہودہ زبان استعمال کی اور اس کو جلانے کے متعلق بات کی، دو روز قبل اس حرکت کا مرتکب ہوا۔ صحیح رد عمل ایسے واقعات کا یہ ہے کہ انسان اپنے اعمال اور اپنے الفاظ سے قرآن کریم کی ایسی تصویر پیش کرے جسے دیکھ کر دنیا خود ایسی حرکت کرنے والے کی مذمت کرے۔ ہمیں اس بات کی فکر نہیں ہے کی اس کی گستاخی سے خدا نخواستہ قرآن کریم کو کوئی نقصان پہنچے گا ، خدا تعالیٰ نے خود اسکی حفاظت کا ذمہ لیا ہے۔ قرآن کریم کی عزت کسی کے سر کی قیمت لگائے جانے سے یا غیر قانونی مظاہرے سے نہیں قائم کی جاسکتی، ایک حقیقی مومن قرآن کریم کی خوبصورت تعلیم پر عمل کر کے اس کی بڑائی کو ثابت کرتا ہے۔ قرآن کریم کے بلندمقام کی تشریح کرتے ہوئے حضرت مسیح موعودؑ کی مقدس تحریرات میں سے اقتباس۔ خدا تعالیٰ کی وحدانیت کی تین حالتیں۔ حضو ر نے جرمنی کی جماعت کی مثال دیتے ہوئے فرمایاکہ گرجا گھر سمیت مختلف مقامات پر قرآن کریم سے متعلق نمائش کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ ہمارے مخالفین جہاد اور قتال کی بہت باتیں کرتے ہیں لیکن یہ نہیں بتاتے کہ کن شرائط کے ساتھ اسلام میں لڑائی کی اجازت ہے۔ حافظ صالح محمد اﷲ دین صاحب کی وفات اور آپ کی زندگی سے متعلق کچھ معلومات۔ کرنل محمد سعید صاحب کی وفات۔

An ill-natured American priest, who was verbally abusive about the Holy Qur’an in September 2010 and had talked of burning it, committed this foul act two days ago. The correct reaction to such matters should be to present such a picture of the Qur’an through one’s word and deed that the world itself condemns the perpetrator. We are not concerned that their disrespectful stance will, God forbid, harm the Qur’an, God has taken the responsibility of safeguarding it Himself. The honour of the Qur’an cannot be maintained by putting price on heads and wrongful demonstrations. A true believer proves the superiority of the Qur’an by practicing its beautiful teaching. Extracts from writings of Promised Messiah(as) explaining the high station of Holy Qur'an. Three stages of Unity of God. Huzur cited the German Jama’at as an example of holding exhibitions in various venues, including church halls, on the Holy Qur’an that had had positive results. Huzur said our detractors talk a lot about Jihad and ‘Qitaal’ but do not mention what are the conditions under which fighting is allowed in Islam. Death of Hafiz Saleh Muhammad Alladin sahib and some details about his life. Death of Col.(r) Muhammad Saeed sahib.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
18-Mar-2011 Urdu (wmv)English (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)Bengali (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)

Title: Natural Disasters and Divine Punishment
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

جب قدرتی آفات دنیا میں آتے ہیں تو خدا سے ڈر نے والے لوگ ڈر جاتے ہیں کہ کہیں ایسے آفات ان کو مستقبل میں مشکلات میں نہ ڈال دے۔ آنحضورﷺ کا اسوہ حسنہ بقیہ وقت میں ہمارے لئے پیروی کرنے کیلئے موجود ہے اور آنحضور ﷺ کی مقدس حیات میں سے حضرت عائشہؓ کا بیان کردہ واقعہ۔ آنحضورﷺ نے فرمایا کہ سورۃ ہود نے انہیں بوڑھا کر دیا ہے ، حضور نے تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ سورۃ ہود میں قوموں کی تباہی کا ذکر ہے ، خدا تعالیٰ کے کلام کو آنحضور ﷺ سے بہتر کوئی نہیں سمجھ سکتا۔ سچے مومن صرف اپنے اوپر آنے والے ابتلاء کے دنوں میں خدا سے نہیں ڈرتے بلکہ جب دوسروں کو بھی تکلیف پہنچتی ہے تو ان میں خدا کا خوف پیدا ہو جاتا ہے۔ غانا کا ایک واقعہ مربی مبشر صاحب کی دعاؤں سے غانا میں زلزلہ آیا جس کی وجہ سے بہت سے لوگ احمدیت میں شامل ہوئے کیونکہ وہاں پہ زلزلہ کو امام مہدی کی آمد کا نشان سمجھا جاتا تھا۔ حضرت مسیح موعودؑ کی مقدس تحریرات میں سے اقتباس(الوصیت، ص ۳۔۵)۔ جاپان میں زلزلے کے بعد سونامی۔ نیوزی لینڈ ، جاپان، آسٹریلیا، امریکہ اور پاکستان میں قدرتی آفات۔ حضرت مسیح موعودؑ کی مقدس تحریرات میں سے اقتباس (حقیقۃ الوحی، ص ۱۴۸۔۱۵۰)۔ رانا ظفراﷲ صاحب کی سانگھڑ پاکستان میں شہادت۔

Whenever any natural disaster occurs in the world, those who fear God are frightened lest any such future disaster puts them in difficulty. The blessed model of the Holy Prophet(saw) is there for us to follow for the rest of time and incident from the life of Holy Prophet(saw) narrated by Hazrat Aishah(ra). Holy Prophet(saw) said Surah Hud had aged him, Huzur explained that Surah Hud relates destruction of nations, No one understood God’s Words more than the Holy Prophet(saw). True believers do not just fear God at the time of their own trouble, rather when affliction falls on others, it instils fear of God in them. Incident in Ghana where earthquake occurred due to prayers of missionary mubasher sahib resulting in people coming in fold of Islam Ahmadiyyat as earthquake was considered sign of arrival of imam mehdi. Extracts from the noble writings of Promised Messiah(as) (The Will, pp. 3-5) Earthquake followed by Tsunami in Japan. People of Japan have Shintoo and Buddhist beliefs. Natural disasters in NewZealand, Japan, Australia, USA and Pakistan. Extracts from noble writings of Promised Messiah(as) (Haqiqat ul Wahi - Essence of Islam, Vol. V, pp. 148 – 150) Martyrdom of Rana Zafarullah Sahib in Sanghar, Pakistan.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
11-Mar-2011 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Bengali (mp3)Russian (mp3)

Title: Tribute to Syed Dawood Muzaffer Shah sahib
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت مسیح موعودؑ نے آنحضور ﷺ کے صحابہؓ کے قلوب کی چمکتے ہوئے صاف برتنوں سے تشبیہ دی جو قلئی کے طریقہ سے گزر چکے ہوں۔ حضور نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعودؑ اس لئے مبعوث ہوئے تاکہ بندہ میں ذاتی سطح پہ پاک تبدیلی لا سکیں اور روحانی برکتیں حاصل کر سکیں۔ سید داؤد مظفر شاہ صاحب کی وفات۔ آپ حضرت حافظ سید محموداﷲ شاہ صاحب کے بیٹے اور حضرت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب کے پوتے تھے۔ حضور نے فرمایا کہ یہ سیدداؤد مظفر شاہ صاحب ہی تھے جو حضرت مصلح موعودؓ کے داماد بنے۔ آپ نےبڑے پیمانے پر حقوق اﷲ اور حقوق العباد کی ادائیگی اپنے آباؤاجداد سے ورثہ میں پائی۔ سید داؤد مظفر شاہ صاحب اور آپ کی اہلیہ سیدہ امتہ الحکیم صاحبہ آسمان میں بنائے جانے والا جوڑا تھے۔ سید داؤد شاہ صاحب کے نانا مولوی سرور شاہ صاحب بھی حضرت مسیح موعودؑ کے صحابی تھے۔ ڈاکٹر نوری صاحب اور ڈاکٹر عبدالخالق صاحب سید داؤد شاہ صاحب کا علاج کرنے کیلئے آیا کرتے تھے۔ سید داؤد شاہ صاحب کی زندگی سے متعلق چند واقعات اور معلومات۔

Promised Messiah(as) likened the hearts of the Companions of the Holy Prophet(saw) to sparkling, cleansed utensils that have been through the process of qala'i. Huzur said the Promised Messiah(as) came so that man could bring about pure changes on a personal level and attain spiritual blessings. Death of Syed Dawood Muzaffer Shah Sahib. He was son of Hazrat Hafiz Syed Mahmood Ullah Sahib and grandson of Dr. Syed Abdul Sattar Shah Sahib. Huzur said it was Syed Dawood Muzaffer Sahib who became a son-in-law of Hazrat Musleh Maud(ra). He had inherited his ancestors’ qualities of paying dues of God and dues of mankind on a great scale. Syed Dawood Muzaffer Shah Sahib and his wife Syeda Amatul Hakeem Sahiba were a match made in heaven. The maternal grandfather of Syed Dawood Shah Sahib, Maulwi Sarwer Shah Sahib was also a companion of the Promised Messiah(as). Dr. Noori Sahib and Dr. Abdul Khaliq Sahib used to come and treat Syed Dawood Shah Sahib. Some details and some incidents regarding the life of Syed Dawood Shah Sahib.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
04-Mar-2011 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Bengali (mp3)Russian (mp3)

Title: Ultimate triumph of divine communities
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعودؑ کو نبوت کے درجہ پہ فائزکیا تاکہ وہ آنحضورﷺکےکام کو آگے لے کے جا سکیں۔ جب للٰہی جماعتیں ترقی کرتی ہیں تو ان کے مخالفین ان کی ترقی کو روکنے کیلئے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں یا تو طاقت کے ذریعے یا اپنے مدد گاروں کے ذریعہ جنہں وہ طاقتور سمجھتے ہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ آسمانی معاملات کے اظہار کرنے میں گھبرانا نہیں چاہئےاور یہ ان لوگوں کا طریق نہیں جو حق پر ہوں کہ وہ خوفزدہ ہوں۔ وہ لوگ جو سمجھتے ہیں کہ انکی کثرت یا انکے دنیاوی آقاؤں کی مدد انہیں کامیاب کر دے گی غلطی پر ہیں، آخری فتح ہمیشہ للٰہی جماعتوں کی ہوتی ہے۔ حالیہ انڈونیشیا کے بیہمانہ واقعہ نے ملا اور اسکے چیلوں کو اس بات پر اکسایا کہ وہ ایک ریلی کا انعقاد کریں جس میں احمدیہ جماعت پر بطور مسلمان مکمل پابندی کا مطالبہ کریں۔ لاہور میں شہادتوں کے بعد ہم نے افریقہ میں ایمان اور خلوص کے نظارے دیکھے جس کے نتیجے میں بیعتیں ہوئیں اور اب انڈونیشیا کے واقعے کے بعد بھی نیک فطرت لوگوں کیلئے نئی راہیں کھلی ہیں۔ جب حضرت مسیح موعود ؑ کی جماعت کی بات ہوتی ہے تو معاملہ خدا کے نیک بندوں اور دنیاوی لوگوں کا ہوتا ہے اور وہاں دنیاوی اصول نہیں چلتے۔ آج خدا تعالیٰ کو وعدہ کے مطابق احمدیت ایشیا، جزائر، یورپ، امریکہ اور افریقہ میں بھی پھیل رہی ہے۔ مراکش کے امام صاحب کی وفات جنہوں نے۲۰۰۲ میں بیعت کی۔

God granted Promised Messiah(as) status of prophethood so that he could take the task of the Holy Prophet(saw) further. When divine communities progress, their detractors try their utmost to stop their progress by means of force or through the help of supporters whom they deem powerful. Promised Messiah(as) said that one should not be afraid to assert heavenly matters and that it is not the practice of those who follow truth to be fearful. Those who think that their throngs and the help of their worldly masters will give them success are in error, the ultimate triumph most certainly belongs to divine communities. The recent barbaric happening in Indonesia gave the mullah and his coterie audacity to plan a huge rally calling for a complete ban on the Ahmadiyya Community as Muslims. After the Lahore martyrdoms we witnessed sincerity of faith emerge in Africa resulting in Bai’ats, similarly God has opened ways for pious-natured people after the Indonesian incident. When it comes to the Community of the Promised Messiah(as) the contention becomes between Godly people and worldly people and here worldly principles do not work. Today, in accordance with God’s promise Ahmadiyyat is blossoming in Asia, the islands, Europe, America and Africa. Death of Imam Sahib of Morocco who took his Bai't in 2002.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
25-Feb-2011 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)Bengali (mp3)Kyrgyz (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)

Title: Prayers for Muslim Ummah and the case for Divine Khilafat
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | English
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

مسلمان لیڈروں میں تقوٰی کی کمی۔ عرب ممالک، پاکستان، شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال جہاں حکمران حقوق اﷲ اور حقوق العباد کے ساتھ استہزاء کر رہے ہیں۔ اگر مسلمان حکمرانوں میں تقوٰی ہوتا تو وہ اپنی رعایا کے حقوق کا خیال رکھتے اور مسلمان ممالک کی تنظیم برائے نام نہ ہوتی۔ مسلمان ممالک میں ملائیشیا کو ٹیکنالوجی میں اعلیٰ مقام پہ سمجھا جاتا ہےلیکن ترقی یافتہ ممالک اسے بھی ترقی پذیر ممالک میں شمار کرتے ہیں۔ آجکل مصر اور لیبیا میں جو ہو رہا ہے یا پچھلے کچھ عرصہ سے انتہا پسندوں کے ہاتھوں پاکستان اور افغانستان میں ہو رہا ہے اسلامی بھائی چارہ کی تعلیم کی نفی کرتا ہے۔ حضور نے فرمایا کہ اس کا حل قرآن مجید اور آنحضرت ﷺ نے یہ بتایا ہے کہ مسیح اور مہدی پر ایمان لائیں اور انہیں آنحضور ﷺ کا سلام پہنچائیں۔ مسلمانوں میں اتحاد پیدا کرنے اور انصاف کو قائم کرنے کیلئے نظام خلافت ہی صحیح راہنمائی کر سکتا ہے۔ آنحضورﷺ کی حدیث جس میں آپﷺ نے بادشاہت کے قائم ہونے اور بعد ازاں خلافت علیٰ منہاج نبوت کے قیام کا ذکر فرمایا۔ خیر الامہ بننے کیلئے دنیا کا خوف دل سے نکالنا ہوگا، خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنا ہوگا تاکہ دنیا اور آخرت میں کامیابی حاصل کر سکیں۔ وہ جو خدا کے رحم کے ساتھ آیا آنحضور ﷺ کی پیشگوئی کے مطابق ایمان کو ثر یا ستارے سے واپس لایااور جس کے بعد پیشگوئی کے مطابق خلافت قائم ہوئی۔ ایک بنگالی پروفیسر حضور سے ملنے آیا اور چند سوالات پوچھے۔

The lack of Taqwa (righteousness) in muslim leaders. Situation of Arab countries, Pakistan, North Africa and Middle East where leaders are making a mockery of Haququl ebaad and Haququllah. If Muslim leaders had Taqwa they would have looked after the rights of their people and the organisation of Muslims countries would not have been an organisation in mere name. Among Muslim countries Malaysia is considered technologically advanced but the developed world even refers to it as a developing country. All that has been taking place recently in Egypt and Libya etc. or that which has been going on in Afghanistan and Pakistan for years through the hands of the extremist is a negation of that spirit of brotherhood which Islam commands. Huzur said the Qur'an gives its solution as did the Holy Prophet(saw) and that is the way to accept the Messiah and the Mehdi and take the Prophet’s(saw) greeting to him. In order to unify Muslims and to maintain justice it is the system of Khilafat alone that can rightly guide. Hadith where Holy Prophet(saw) explained how kingship will follow and later on khilafat on the percepts of prophethood will be established. In order to become Khaira Ummah (the best people) remove the fear of the world from heart, make a connection with God and accomplish your life in this world and the Hereafter. One who came with the mercy of God brought back faith from the Pleiades as foretold by the Holy Prophet(saw) and after him Khilafat was established, also, as foretold by him. A bengali professor came to visit Huzur and asked some questions.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
18-Feb-2011 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Bengali (mp3)Russian (mp3)

Title: The Prophecy of Musleh Maud (the Promised Reformer)
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

مصلح موعود کی پیشگوئی۔ عطاء المجیب راشد صاحب نے حضور کو لکھا کہ اس سال مصلح موعود کی پیشگوئی کے ۱۲۵ سال مکمل ہو رہے ہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ نے دعویٰ کیا کہ خدا تعالیٰ انہیں ایک بیٹا عطا کرے گا جو مصلح موعود ہوگا اور بہت خوبیوں کا مالک ہوگا۔ یہ پیشگوئی حضرت مسیح موعود ؑ نے فرمائی لیکن اس کی بنیاد آنحضور ﷺ کی پیشگوئی پر ہے۔ احمدیت اور اسلام الگ نہیں۔ آج اگر کوئی زندہ مذہب ہے تو اسلام ہے اور آج اگر کوئی زندہ نبی ہے تو وہ آنحضورﷺ ہیں جن کے ذریعہ خدا تک پہنچا جاسکتا ہے۔ پادری سوفٹ اور لیکھرام نے حضرت مسیح موعود ؑ کے چیلنج کو قبول کیا لیکن بعد میں آنے والے واقعات نے یہ ثابت کیا کہ یہ محض ایک بہانہ ہے۔ احمدیت یعنی حقیقی اسلام صفحہ ۳۶۔۳۸ سے اقتباس۔ پیشگوئی میں بیان کی گئی ۵۲ خوبیاں کا مشاہدہ حضرت مصلح موعودؓ کے ۵۲ سالہ دور خلافت میں کیا جا سکتا ہے۔ ۱۹۴۴ میں حضرت مصلح موعود ؓنے اعلان کیا کہ حضرت مسیح موعودؑ کی پیشگوئی کے مطابق آپ ہی مصلح موعود ہیں۔ چند غیر از جماعت علماء کی حضرت مصلح موعود ؓکے بارہ میں رائےجن میں مولوی سمیع اﷲ خان فاروقی ،ارجند سنگھ ،خواجہ حسن نظامی دہلوی، عبدالمجید صادق اور مولانا عبدالمجید شامل ہیں۔ قانتہ آرچرڈ صاحبہ زوجہ مولانا بشیر احمد آرچرڈ صاحب کی وفات۔

Prophecy of Musleh Maud (Promised Reformer). Ata ul Mujeeb Rashed sahib wrote to Hudhur that this year completes 125 years of the prophecy of Musleh Maud. Promised Messiah(as) had prophesied that God will grant him a son who would be the Promised Reformer and will have many qualities. This prophecy came through the Promised Messiah(as) but it is based on what the Holy Prophet(saw) said. Ahmadiyyat is not separate from Islam. Today if there is any living religion it is Islam and if there is any living Prophet it is the Holy Prophet(saw) through whom one finds God. Recited Surah Juma v. 4. Hadith Relating to Hadhrat Salman the Persian. Priest Swift and Lekh Ram accepted the challenge of Promised Messiah(as) but later incidents showed their challenge was mere pretence. Extract from Ahmadiyyat Renaissance of Islam pp. 36 – 38. The 52 qualities prophecised can be witnessed in 52 years of khilafat of Hadhrat Musleh Maud(ra). It was in 1944 when Hadhrat Khalifatul Masih II made the announcement to the world that he indeed was the manifestation of the prophecy of Musleh Maud. Hudhur cited tributes given to Hadhrat Musleh Maud(ra) by people outside our community which included Maulwi Samiullah Khan Farooqi, Arjand Singh, Khawaja Hassan Nizam Dehlwi, Abdul Majeed Sadiq and Maulana Abdul Majid. Death of Qanita Orchard sahiba wife of late Maulana Bashir Ahmad Orchard sahib.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
11-Feb-2011 Urdu (mp4)Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)Bengali (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)

Title: History of Islam Ahmadiyyat in Indonesia and recent martyrdoms
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Bengali
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

تین انڈونیشیا کے احمدی وحشیانہ اور بیہیمانہ حملہ میں شہید ہو گئے جس سے ہر احمدی کو دکھ پہنچا۔ ایک احمدی چاہے وہ انڈونیشیا سے تعلق رکھتا ہو یا پاکستان سے یا کسی اور ملک سے اپنی جان اور مال کی قربانی کرتا ہے۔ احمدیوں نے کندھے سے کندھا ملا کر انڈو نیشین قوم کی تعمیر میں حصہ لیا۔ ۱۹۲۵ میں حضرت مولوی رحمت علی صاحب سماٹرا پہنچے۔ تبقس چندرا مبارک صاحب شہید۔ احمد ورسونو صاحب شہید۔ رونی پیسارانی صاحب شہید۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے جنت کی خوشخبری دی اور یہ احمدیت کے چمکتے ستارے ہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کے دور دراز کے لوگ حضرت صاحبزادہ عبد اللطیف شہید کے نقش قدم پر چلیں گے۔ انڈونیشین احمدیوں کو مخاطب کر کے حضور نے فرمایا کے تمام احمدیوں کی دعائیں آپکے ساتھ ہیں۔ مردان میں پنجاب رجمنٹ پر خود کُش حملہ اور ایک احمدی نوجوان شہید۔

Three Indonesian Ahmadis martyred in a brutal and barbaric attack which has saddened every Ahmadi. An Ahmadi regardless of belonging to Indonesia Pakistan or any other country gives the sacrifice of life and property. Ahmadis had worked shoulder to shoulder in the building of the Indonesian nation. It was in 1925 that Hadhrat Maulwi Rahmat Ali sahib arrived at Sumatra. History of Jama'at Indonesia and how Ahmadiyyat spread there. Hudhur mentioned some past Indonesian Ahmadi martyrs. Tubaqus Chandra Mubarak sahib shaheed. Ahmad Warsono sahib shaheed. Roni Pesarani sahib shaheed. These are the people who have been given the glad-tiding of Paradise by God and they are shining stars of Ahmadiyyat. Promised Messiah(as) had mentioned people of far-away places who would follow the path of Sahibzada Abdul Lateef shaheed. Addressing Indonesian Ahmadis Hudhur said the prayers of all Ahmadis are with them. Ahmadi young man lost his life in the suicide attack in Mardan Pakistan on the Punjab Regiment.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
04-Feb-2011 Urdu (mp4)Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)Bengali (mp3)

Title: 'Khaira Ummah' (Best People)
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

ان لوگوں پہ جو ایمان لائے بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اور آنے والی نسلوں کے ایمان کی حفاظت کریں اور اس میں مضبوطی لائیں۔ احمدیوں کو اپنا محاسبہ کرنا چاہئے کہ انہوں نے خیر الامہ ہونے کے عہد کو کہاں تک نبھایا۔ شادی کے واقعہ کا ذکر۔ آج تمام احمدی یہ دعوٰی کرتے ہیں کہ وہ اس مسیح پر ایمان لائے جو ایمان کو ثریا ستارے سے واپس لایااور حضرت محمدﷺ کے دین کو اسکی اصل حالت میں قائم کیا۔ میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔ سید ولی اﷲ شاہ صاحب۔ ہمیں اس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ حضرت مسیح موعودؑ پر ایمان لانے کی وجہ سے ہمارے معیار باقی مسلمانوں سے بہتر ہونے چاہئیں۔ منافقوں کی نشانیاں۔ یہودی کالم نگار۔ گزشتہ جمعہ میں بیان کئے گئے ایک حوالہ کی تصحیح۔ رشید احمدی بٹ صاحب آف لاہور کی وفات۔

Huge responsibility for those who believe to safeguard and strengthen their own belief as well as that of their next generation. Ahmadis need to self-reflect as to how much they are fulfilling the obligation of being the best people. Mentioning of wedding incident. Today all Ahmadis claim to accept the Messiah who brought faith back from the Pleiades and promised to once again establish Muhammad’s(saw) religion to its original form. I shall carry thy message to the ends of the earth. Syed WaliUllah Shah sahib. We should be mindful that having accepted the Promised Messiah(as) our standards should be far greater than the other Muslims. Signs of Hypocrites. Jew columnist. Correction of a reference of Abu Lahab from last Friday Sermon. Death of Rasheed Ahmadi Butt Sahb of Lahore.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
28-Jan-2011 Urdu (mp4)Urdu (wmv)English (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Bengali (mp3)Russian (mp3)

Title: God's love for the Holy Prophet(saw)
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

خدا تعالیٰ کی آنحضرت ﷺ سے محبت۔ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت کرنے سے ہم نے آنحضورﷺ کے صحیح مقام کو پہچانا۔ شق القمر کا واقعہ جو آنحضورﷺ کی زندگی میں پیش آیا ایک معجزہ تھا۔ آنحضورﷺ کی پیشگوئی کے مطابق آپکے مہدی کے زمانہ میں بھی گرہن کا واقعہ پیش آیا۔ مخالفین یہ الزام لگاتے ہیں کہ اسلام تلوار کے زور پہ پھیلا۔ سورۃ المائدہ آئت ۶۸ کی تلاوت، قرآن کریم کی مختلف آیات کی تلاوت۔ ابو لہب آنحضور ﷺ سے گستاخی سے پیش آتا تھا اور اسکا بہت برا انجام ہوا جب وحشی جانوروں نے اسکے جسم کے ٹکڑے کر دئے۔

God’s love for the Holy Prophet(saw). It is our good fortune that by coming in the bai’at of the Promised Messiah(as) we have recognised the rightful status of the Holy Prophet(saw). Incident of split moon that took place during the life of the Holy Prophet(saw) was a miracle. In accordance with the prophecy of the Holy Prophet(saw) eclipses took place during the time of his Mahdi as well which are recorded events. The outsiders say Islam was spread by force. Recitation of Surah Al Maidah v. 68. Recitation of different verses of Holy Quran. Abu Lahab’s stance towards the Prophet(saw) was most reprehensible and he met a terrible ending.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
21-Jan-2011 Urdu (mp4)Urdu (wmv)English (wmv)Bengali (wmv)Russian (mp4) Urdu (mp3)English (mp3)Bengali (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Tamil (mp3)

Title: Honour of the Holy Prophet(saw) and blasphemy law
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

میڈیاکا اسلام اور مسلمانوں کی انتہائی بھیانک تصویر پیش کرنا۔ اس دور میں حضرت مسیح موعودؑ کا آنحضورﷺ کےمقام کو سمجھنا اور ہمیں سمجھانا۔ درود پڑھنے کی اہمیت۔ اگر ہمارے مخالفین کو ہماری حرکتوں کی وجہ سے آنحضورﷺ کی شان میں گستاخی کرنے کا موقع ملتا ہے تو ہم بھی خدا تعالیٰ کے سامنے جوابدہ ہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ کی تحریرات میں سے اقتباس۔ حضرت مسیح موعودؑ کے جذبات ناموس رسالتﷺ کے متعلق ایسے تھے کہ آپ فرماتے ہیں کہ ہم زہریلے سانپوں سے تو دوستی کر سکتے ہیں لیکن ان لوگوں سے دوستی نہیں کرسکتے جو ہمارے آقا و مولیٰ پہ جھوٹے الزامات لگاتے ہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ کی زندگی میں سے چند واقعات۔

Representation of Islam in most horrific manner by today's Media and Press. In the current age the Promised Messiah(as) understood status of the Holy Prophet(saw) more than any other and explained it to us. The importance of invoking durud. If our detractors get a chance to say negative things about the Holy Prophet(saw) due to our weaknesses then we are answerable to God for this. Extracts from the noble writings of Promised Messiah(as). The Promised Messiah’s(as)sentiments regarding upholding the honour of the Holy Prophet(saw) were such that he wrote that he would rather befriend poisonous snakes than those who make impure accusations against his master. Some incidents from life of Promised Messiah(as).

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
14-Jan-2011 Urdu (wmv)Urdu (mp4)English (wmv)Bengali (wmv)Russian (mp4) Urdu (mp3)English (mp3)Bengali (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Tamil (mp3)

Title: Holy Prophet's(saw) attribute of forgiveness
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Bengali
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

آنحضرت ﷺ کی صفت عفو و درگزر- سورۃ المائدہ آیت ۴ کی تلاوت- شدید مخالفت کے باوجود آنحضرت ﷺ اور آپکے صحابہؓ کو جب فتح ملی تو آپ نے کمال عفو اور درگزر کا نمونہ پیش کیا- عبداﷲ ابن ابی بن سلول- حضرت عمرؓ- منافقین کا حضرت عائشہ ؓ پہ الزام- آنحضرتﷺ کے عفو درگزر کے چند واقعات- فتح مکہ کے بعد عکرمہ کو قتل کرنے کا حکم ہوا لیکن بعد میں اسے معاف کر دیا گیا- ایک شخص جو آنحضرت ﷺ کو قتل کرنے کی نیت سے آیاتھا جب آنحضور ﷺ نے اس کے سینہ پہ ہاتھ رکھا تو اس کا دل بدل گیا- حضرت نوح ؑ۔

Holy Prophet(saw)'s Attributes: Forgiveness. Recitation of Surah Al Maidah v.4. In spite of continuous persecution of Holy Prophet(saw)and his Companions when he attained power he demonstrated a peerless model of forgiveness. Abdullah ibn Abi bin Salool. Hadhrat Umer(ra). Allegation on Hadhrat Aishah(ra)by hypocrites- Incidents relating to forgiveness attribute of Holy Prophet(saw). After victory of Makkah an order was given to kill Ikrama but he was forgiven later on. A man who came with the intention of killing Holy Prophet(saw) changed when Holy Prophet(saw) placed his hand on his chest. Hadhrat Nuh(peace be on him).

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
07-Jan-2011 Urdu (mp4)Urdu (wmv)Bengali (wmv)Russian (mp4) Urdu (mp3)English (mp3)Bengali (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)

Title: Blessings of Financial Sacrifice and Waqf Jadid New Year
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Bengali
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

سورۃ البقرہ آیت ۲۶۶ کی تلاوت- دعا سورۃ البقرہ آیت ۴ - جب کوئی بندہ کسی قربانی کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بنتا ہے تو اس کا ایمان مضبوط ہوتا ہے- اﷲ تعالیٰ قربانی کیلئے کی جانی والی نیت کو قبول کرتا ہے- خلیفہ تحریک کرتا ہے لیکن خدا تعالیٰ ہے جو ضرورتوں کو پورا کرتا ہے قربانی کی روح جو حضرت مسیح موعودؑ نے پیدا کی وہ بڑھتی چلی جا رہی ہے انڈیا سے کچھ ایمان افروز واقعات- افریقی ممالک برکینا فاسو لاگوس نائیجر اور ٹاگوس سے ایمان افروز واقعات- وقف جدید کے ۵۳ سالوں کا اختتام اور اس سال وصولی ۱۸۳۔۴ میلین برطانوی پاؤنڈ رہی- وقف جدید میں مختلف جماعتوں کی پوزیشنز- ہدایت اﷲ ہبز صاحب کی وفات- وجیہ احمد نعمان مردان پاکستان میں ایک قاتلانہ حملہ میں زخمی ہوئے۔

Recitation of Surah Al-Baqarah v:266. Prayer Surah Al-Baqarah v:4. When one receives the blessings of Allah as a result of his sacrifices his faith strengthens. Allah accepts the zeal and the intention behind the sacrifice. Caliphs make appeals but it is Allah who has promised to fulfill needs. Spirit of sacrifices created by the Promised Messiah (peace be on him) continues to see growth. Faith inspiring incidents from India. Faith inspiring incidents from African countries of Burkina Faso Niger Lagos and Togo. 53rd year of Waqf Jadid has just concluded and the contributions for the 53rd year are 4.183 million British pounds. Positions of different Jama'ats in Waqf-e-Jadid, Death of Hadayatullah Hubsch sahb. Wajih Ahmad Numan injured in Mardan Pakistan.