In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Browse Al Islam

Archives of 2012 Friday Sermons

Delivered by the Head of the Ahmadiyya Muslim Community

Televised via Satellite by MTA International

Browser by year

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
28-Dec-2012 Bengali (wmv) Urdu (mp3)Albanian (mp3)Bengali (mp3)Bulgarian (mp3)Dutch (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Visions and True Dreams of Companions of The Promised Messiah(as)
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Indonesian
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت محمد فاضل صاحب ؓ : آپ فرماتے ہیں کہ قادیان کے پہلے سفر کے بعد واپس اپنے علاقے میں آ کر میں نے تبلیغ شروع کر دی، سب سے پہلے میں اپنے استاد صاحب کے پاس بغرض تبلیغ پہنچا ، کہتے ہیں اسی رات جب میں نماز پڑھ کر سویا تو خواب میں حضرت مسیح موعودؑ تشریف لائے ، آپؑ نہایت چستی سے میرے دائیں ہاتھ کو پکڑ کر بڑی تیزی سے مجھے ساتھ لے کر چلتے ہیں ، مدینہ شریف میں جناب نبی اکرم ﷺ کے جہاں بیوت مبارک تھے، جہاں گھر تھے ان کے وہاں حضرت مسیح موعودؑ نے مجھے کھڑا کر دیا اور پھر خواب میں مجھے نظر نہیں آ ئے۔ حضرت نظام الدین صاحب ؓ : آپ نے ۱۸۹۰ یا ۱۸۹۱ میں بیعت کی، آپ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مسیح موعودؑ کو بیعت سے بہت پہلے دیکھ لیا تھا ، ایک دفعہ جب نماز کے بعد آپ مسجد مبارک سے باہر آئے تو دو آدمی بڑے معزز سفید پوش قد والے جوان ملے جو مجھے سوال کرتے ہیں کہ مرزا صاحب کا پتہ مہربانی کر کے بتلائیں کہ کہاں ہیں، ہم بہت دور دراز سے سفر کر کے یہاں پہنچے ہیں ، میں نے کہا آ ؤ میں بتلادوں تو نہوں نے کہا نہیں ، آپ ہمارے پیچھے ہوجائیں ، اوپر ہیں تو ہم پہچانیں گے۔ حضرت خیر دین صاحب ؓ : آپ نے ۱۹۰۶ میں بیعت کی، آ پ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک اور خواب یہ دیکھا کہ حضرت مسیح موعودؑ نے جمعہ عید کی طرح پڑھایا ہے، خطبہ پڑھانے کیلئے ایک کمرہ ہے قرآن شریف پکڑ کر آ پ اس میں تشریف لے گئے ، وہ کمرہ مسجد کے داہنے کونے میں ہے ، آپ ؑ کے پیچھے چار سکھ بھی جن کے کپڑے میلے کچیلے ہیں اور ان کے پاس کوئی ہتھیار بھی معلوم ہوتا تھا مگر ظاہر نظر نہیں آ تا تھا ، اندر داخل ہوگئے ، اس وقت میرے دل میں یہ بات گزری کی یہ لوگ شاید حضرت اقدس ؑ پر حملہ کریں گے ۔ حضرت منشی قاضی محبوب عالم صاحبؓ : آپ نے ۱۸۹۸ میں بیعت کی، آپ فرماتے ہیں کہ حضور ؑ نے فرمایا کہ آ پ مہمان خانے میں جائیں اور ظہر کے وقت میں پھر ملاقات کروں گا ، ظہر کی نماز کے بعد حضور میری طرف مخاطب ہوئے اور فرمایا آ پ کب تک جانا چاہتے ہیں؟ میں نے کہا حضور ایک دو روز ٹھئروں گا، حضور نے فرمایا کہ کم از کم تین دن ٹھہرنا چاہئے، دوسرے روز ظہر کے وقت میں نے بیعت کیلئے عرض کی تو حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا ابھی نہیں کم از کم کچھ عرصہ یہاں ٹھئریں، ہمارے حا لات سے واقف ہوں پھر بیعت کریں مگر مجھے پہلے روز ہی مہمان خانے میں ایک رویا ٔ ہوئی جو یہ تھی، میں نے دیکھا کہ آسمان سے ایک نور نازل ہوا جو میرے ایک کان سے داخل ہوا اور دوسرے کان سے تمام جسم سے ہو کر نکلتا ہے اور آسمان کی طرف جاتا ہے ۔ حضرت مولانا غلام رسول راجیکی صاحبؓ : آپ نے ۱۸۹۷ میں بیعت بذریعہ خط کی تھی اور دو سال بعد زیارت ہوئی تھی، آپ بیان کرتے ہیں مولوی امام الدین صاحب مجھ سے پہلے بھی ایک دفعہ قادیان جا چکے تھے مگر مخالفانہ خیالات لے کر آئے تھے، مگر مجھے جب بار بار خوابیں آئیں اور میں نے دیکھا کہ رسول اﷲ ﷺ قادیان آئے ہیں تو امام الدین صاحب پر بھی اثر ہوا اور ہم دونوں نے ۱۸۹۹ میں جا کر بیعت کی۔ حضرت شیخ عطا محمد صاحبؓ : آپ بیان فرماتے ہیں کہ اپنے لڑکے عبدالحق کی پیدائش کے بعد میں قادیان آ یا اور مسجد مبارک میں خواب کی حالت میں میں نے دیکھا کہ حضور اس مسجد میں ٹہلتے ہیں اور اس مسجد میں صندوق رکھے ہوئے ہیں ، آپ نے میرا نام سرخ سیاہی سے ایک کتاب میں درج کیا ، خواب میں دیکھا کہ سات پٹواری مسجد کے دروازے پر بیٹھے ہیں ، ان سات میں سے صرف مجھ کو حضور نے بلایا ہے ، تعبیر پوچھنے پر حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ سات پٹواری احمدی ہونگے۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا کہ جلسہ سالانہ قادیان انشاء اﷲ تعالیٰ کل سے شروع ہو رہا ہے ، اﷲ تعالیٰ سے دعا کریں کہ اﷲ تعالیٰ ہر لحاظ سے جلسہ کو بابرکت بنائے اور جو بھی شاملین ہیں وہ بھرپور استفادہ کرنے کی کوشش کریں جلسہ سے، تقریبا وہاں ۲۱ یا ۲۲ ممالک کی نمائندگی ہو گئی ہے ، جلسہ کے شاملین جس مقصد کیلئے گئے ہوئے ہیں اس کو پورا کریں، دعاؤں میں وقت گزاریں اور ان مقدس جگہوں پر جہاں حضرت مسیح موعودؑ نے دعائیں کی ہیں ، اگر ان کو موقع ملے تو وہاں دعائیں کریں اور جماعت کی ترقی کیلئے سب سے بڑھ کر دعا کریں۔ بشیر احمد چوہدری صاحب کی وفات، بابر علی صاحب صاحب کی وفات، روبینہ نصرت ظفر صاحبہ کی وفات۔

Hadhrat Muhammad Fazil sahib(ra): He relates that after returning home from his initial trip to Qadian, he started doing Tabligh and his first contact was his teacher. The night of the first day of Tabligh he saw in a dream that the Promised Messiah(as) is holding his right hand and they are walking briskly. He sees himself in Medina where the residences of the Holy Prophet(saw) were and he does not see the Promised Messiah(as) around. Hadhrat Nizam ud Din sahib(ra): He took Bai’at in 1890 or 1891. He relates that he had seen a lot before he took Bai’at. Once as he came out of Masjid Mubarak after Salat he saw two presentable men in the vestibule who asked where Mirza sahib was. As he decided to take them to him, they requested that he walked behind them so that they could recognise him themselves. Hadhrat Khair Din sahib(ra): He took Bai’at in 1906. He relates a dream of his in which he saw that the Promised Messiah(as) leads Friday Prayer like Eid Prayer. He sees that the Promised Messiah(as) enters a room holding the Holy Qur’an and four unkempt Sikh men follow him, probably carrying a weapon which is not visible. Khair Din sahib feels concerned that they may attack. Hadhrat Munshi Qazi Mehboob Alam sahib(ra): He took Bai’at in 1898. He relates that when he first went to Qadian and wished to take Bai’at immediately the Promised Messiah(as) advised him to wait for a few days. He said he should stay for at least three days. He saw a dream on his very first day in Qadian. He saw that light descends from heaven and entering through his ear, permeates his entire body and then exits from his other ear to return to the heavens. Hadhrat Maulana Ghulam Rasool Rajiki sahib(ra): He took Bai’at in 1897 via letter and in person two years later. He relates that Maulwi Imam ud Din sahib went to Qadian before him but returned with opposing thoughts. However, when Maulana Rajiki saw many dreams in which he saw the Holy Prophet(saw) had come to Qadian, Imam ud Din sahib was also affected and they both went to Qadian in 1899. Hadhrat Sheikh Atta Muhammad sahib(ra): He relates that he saw a dream in which the Promised Messiah(as) writes Atta sahib’s name in a book in red ink. He also saw seven land stewards and among them he is the only one the Promised Messiah(as) calls. The Promised Messiah(as) interpreted this as seven land stewards becoming Ahmadi. Hadhrat Khalifatul Masih said that Qadian Jalsa Salana will commence from tomorrow. Twenty two countries will be represented at the Jalsa. Attendees should try and avail of the Jalsa to the fullest. Time should be spent in prayers and if the opportunity arises prayers should be made at the holy locations [in Qadian] where the Promised Messiah (as) used to pray. Death of Bashir Ahmad Choudhry sahib, Babar Ali sahib, Rubina Nusrat Zafar sahiba.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
21-Dec-2012 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Dutch (mp3)French (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Blessed and Successful European Tour
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

پس آج خالص ہو کر اگر کوئی جماعت اسلام کی ترقی کیلئے کوشاں ہے، اسلام کی خوبصورت تعلیم کو دنیا کے ہر کونے اور ہر طبقے میں پھیلانے کی کوشش میں ہر قسم کی منصوبہ بندی کر کے اس کام کو سرانجام دے رہی ہے ، وہ بات دنیا کی کسی بھی جماعت ، گروہ یا تنظیم میں نظر نہیں آئیگی ، پس اسلام کی تجدید نو کے اس کام کو حضرت مسیح موعودؑ نے شروع فرمایا تھا وہ آج بھی تقریبا ۱۲۴ سال گزرنے کے بعد بھی جاری ہے اور نہ صرف جاری ہے بلکہ اﷲ تعالیٰ کے وعدوں اور تائیدات کے نظارے بھی ہم دیکھتے ہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح کا برسلز میں یورپین پارلیمنٹ سے خطاب انتہائی کامیاب رہا ،اس کے بعد ہونے والی پریس کانفرنس کی وجہ سے کافی کوریج ہوئی دنیا میں، اس تقریب کو آرگنائز کروانے کیلئے یوکے کی جماعت نے بھی اچھا کردار ادا کیا ، گو اصلی آرگنائزر ہمارے یورپین پارلیمنٹ کے دوست ہی تھے، بہرحال یہ پروگرام بہت اچھا رہا ، اس تقریب سے اسلام سے متعلق شکوک و شبہات دور ہوئے الحمداﷲ ۔ اسی طرح جرمنی میں بھی دو بڑے پروگرام تھے ، ایک تو ہمبرگ میں تھا جس میں انہوں نے مسجد کو ٹھیک کیا ہے ، عمارت تو تھی پہلے لیکن مینار وغیرہ نہیں تھے، اب مینار وغیرہ بنائے تھے، اس پروگرام میں بھی بڑا اچھا طبقہ شامل ہوا اور بڑا نیک اثر اسلام کی خوبصورت تعلیم کا یہ لوگ لے کر گئے ، اسی طرح وہاں جامعہ احمدیہ جرمنی کی نئی عمارت بھی بنی ہے ، یہاں بھی اچھے پڑھے لکھے لوگ، پریس، سیاست دان وغیرہ آ ئے ہوئے تھے، پھر دو مساجد کا افتتاح بھی ہوا، یہاں بھی میئر اور پڑھے لکھے لوگ آئے ہوئے تھے۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے یورپین پارلیمنٹ کو خطاب میں موجود چند مہمانوں کے تاثر کا ذکر کیا، ایک بشپ جو سوئٹزرلینڈ سے آئے ہوئے تھے ، وہ لکھتے ہیں کہ یہ جو تقریر ہوئی، جو الفاظ تھے، ان کا جادو کا سا اثر تھا ، پھر حضرت خلیفۃ المسیح کے بارے میں فرماتے ہیں کہ لہجہ دھیما تھا لیکن منہ سے نکلنے والے الفاظ اپنے اندر غیر معمولی طاقت اور شوکت رکھتے ہیں ، اس طرح کا جرات مندانہ انسان میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا، بیلجیئم کی پارلیمنٹ کے ایک مسلمان ممبر نے برملا اس بات کا اظہار کیا کہ حضور کا یہ خطاب صرف میرے لئے ہی نہیں تھا بلکہ تمام مسلمانوں کیلئے فخر کی بات ہے کیونکہ خلیفہ نے ہمارے سر بلند کر دیئے ہیں ۔ ہمبرگ میں ہونے والے ایونٹ پہ تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے انٹیگریشن آفیسر نے کہا کہ آپ کے خلیفہ نے اسلام کی تعلیم کو انتہائی خوبصورت اور عمدہ انداز میں پیش کیا ہے ، جس سے بعض غلط فہمیوں کا ازالہ ہو گیا ہے ، مجھے اس پروگرام میں شامل ہو کر بہت خوشی ہوئی ہے اور اسلام کی اصل تعلیم کا پتہ چلا ہے ، ہمبرگ کے ایک کونسل ممبر نے کہا کہ جس طرح حضرت خلیفۃ المسیح الفاظ کی ادائیگی کر رہے تھے ، جو دلوں میں اتر رہے تھے ، خلیفہ نے جس طرح خاص طور پر اسلام کا تصور پیش کیا ہے ، اسلام کی حسین تعلیم پیش کی ہے ، یہ میرے لئے اسلام کی ایک نئی تصویر ہے ، دوسروں نے کہا کہ ہمارے سارے ڈر اور خوف دور ہو گئے ہیں ، خلیفہ نے اپنی تقریر کے اندر ہمارے سارے خوف دور کر دئیے ہیں۔ جامعہ کی عمارت کی افتتاح کے موقع پر علاقے کی ایک باعزت شخصیت نے کہا کہ خلیفہ نے جو تقریر کی وہ کوئی لکھی ہوئی تقریر نہ تھی بلکہ ان کے دلی خیالات تھے ، ایک مذہبی تنظیم کے سربراہ ہونے کے باوجود بہت پریکٹیکل انسان ہیں ، ایک صحافی نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ حضرت خلیفۃ المسیح کے زندگی بخش الفاظ جو بنیادی اخلاقیات تک محدود نہیں تھے ، مجھ پر گہرا اثر چھوڑ گئے کیونکہ انہوں نے ٹھوس طریق پر طلباء کے مقامی آ بادی سے تعلق کا ذکر کیا۔

In this day and age it is only the Ahmadiyya Muslim community that has the honour of taking the true message of Islam to the world. We should be most grateful that we experience this privilege as we endeavour to take the mission of the Promised Messiah(as) forward. The address by Hadhrat Khalifatul Masih to the European Parliament in Brussels was extremely well received. A press conference was also held at this occasion which received wide coverage. The UK Jama’at had played a good role in organising the European Parliament event although the main organisers were some European parliamentarians. Many misconceptions about Islam were removed through the event. During Hadhrat Khalifatul Masih’s trip to Germany an event was held in Hamburg to mark extension of an existing Jama’at building whereby minarets were added to it. Many local dignitaries came to this event. The other event was the inauguration of the new building of Jamia in Germany. This too was well attended. Two mosques were also inaugurated. Hadhrat Khalifatul Masih highlighted the impressions of some of the guests at the European Parliament address. A Bishop who had come from Switzerland said that the words of the address were mesmerising. While they were enunciated softly, the words carried power and majesty. He said he had not seen a courageous man like Hadhrat Khalifatul Masih. A Muslim member of Belgian parliament said that the address was something to be proud of for all the Muslims and added that the Khalifa had caused exaltation to them. As regards impressions about the event in Hamburg which took place the following day, an integration officer said that the Khalifa had explained the teachings of Islam very well and by listening to him he had come to know about the real teachings of Islam. A Council member from the Hamburg area said that the way Hadhrat Khalifatul Masih expressed his words affected hearts in particular. He said the concept of Islam as presented was new for him. Others said that their fears had been allayed after finding out the peaceful teaching of Islam. Comments received at the inauguration of the Jamia building said that the address of Hadhrat Khalifatul Masih was not a speech but was the voice of his heart and that in spite of being religious his outlook was practical. Another comment was that the speech was most dignified and its life-infusing words were not limited on morals and had left a deep impression on the listeners.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
14-Dec-2012 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)Dutch (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: The Martyrs
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

عام طور پر شہید کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ جو خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان ہو جائے ، بیشک ایسا شخص جو خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنی جان قربان کرتا ہے ، شہید کا مقام پاتا ہے ، اﷲ تعالیٰ اس کیلئے جنت کے دروازے کھول دیتا ہے لیکن شہید کے معنی میں بہت وسعت ہے ، اس کے معنے بہت وسعت لئے ہوئے ہے۔ یقینا دشمن پر غلبہ پانے کی دعا جو ہے، یہی اول دعا ہے اور الٰہی جماعتوں سے خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ بھی ہے کہ غلبہ انہی کو حاصل ہونا ہے ، فتوحات انہی کی ہیں اور حضرت مسیح موعودؑ کو بھی اﷲ تعالیٰ نے کامیابیوں اور فتوحات کی اطلاع دی ہے ، غلبہ کی خبر دی ہے اور ہمیں یقین ہے کہ اس کے واضح اور روشن نشانات بھی جماعت احمدیہ دیکھے گی۔ بدر کے موقع پر بھی ہم دیکھتے ہیں کہ آ نحضرت ﷺ نے اﷲ تعالیٰ کو اس کے عہد کا واسطہ دے کر فتح مانگی تھی، ان مسلمانوں کی زندگی مانگی تھی جو آ پ ﷺ کے ساتھ بدر کی جنگ میں شامل تھے، جان قربان کر کے شہادت پانا نہیں مانگا تھا ، عرض کیا تھا کہ اگر یہ مسلمان ہلاک ہو گئے تو پھر تیری عبادت کرنے والا کوئی نہیں رہے گا۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ عام لوگوں نے شہید کے معنے صرف یہی سمجھ رکھے ہیں کہ جو شخص لڑائی میں مارا گیا یا دریا میں ڈوب گیا یا وبا میں مرگیا وغیرہ مگر میں کہتا ہوں کہ اسی پر اکتفا کرنا اور اسی حد پر اس کو محدود رکھنا مومن کی شان سے بعید ہے ، شہید اصل میں وہ شخص ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ سے استقامت اور سکینت کی قوت پاتا ہے ، اور کوئی زلزلہ اور حادثہ اس کو متغیر نہیں کرسکتا ، اس کو ہلا نہیں سکتا ۔ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا : میرے نزدیک شہید کی حقیقت ایک کیفیت سے ہے جس کا تعلق دل سے ہے ، یاد رکھو صدیق نبی سے ایک قرب رکھتا ہے اور وہ اس سے دوسرے درجہ پر ہوتا ہے اور شہید صدیق کا ہمسایہ ہوتا ہے ، نبی میں تو سارے کمالا ت ہوتے ہیں یعنی وہ صدیق بھی ہوتا ہے،شہید بھی ہوتا ہے ، صالح بھی ہوتا ہے لیکن صدیق اور شہید ایک الگ الگ مقام ہیں ۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے مسلمان ممالک میں رہتے ہوئے احمدیوں کی مثال دیتے ہوئے فرمایا کہ احمدیت کی سچائی احمدیوں کو بہت سے ممالک میں مشکلات میں گرفتار کئے ہوئے ہے ، سب سے بڑھ کر پاکستان میں ، اس کے اظہار پر احمدیوں کو سزائیں دی جاتی ہیں لیکن پھر بھی ایمان پر قائم ہیں ، حضور نے فرمایا یہاں یہ بھی بتا دوں کہ احمدی حالات کی وجہ سے پاکستان سے یہاں ہجرت کر کے سیاسی پناہ کیلئے آتے ہیں تو سچائی کے اظہار کی وجہ سے اپنے ملکوں سے انہیں یہ ہجرت کرنی پڑ رہی ہے لیکن اگر یہاں آ کر جھوٹ اور غلط بیانی کو اپنا سیاسی پناہ کا ذریعہ بنا لیں گے تو سارے کئے دھرے پر پانی پھیر دیں گے۔ حضرت اقدس مسیح موعودؑ فرماتے ہیں : شہید کا کمال یہ ہے کہ مصیبتوں اور دکھوں اور ابتلاؤں کے وقت میں ایسی قوت ایمانی اور قوت اخلاقی اور ثابت قدمی دکھلاوے کہ جو بطور خارق عادت ہونے کی وجہ سے بطور نشان کے ہو جاوے ، پھر آپؑ فرماتے ہیں کہ جب تک ایمان قوی ہوتا ہے اسی قدر اعمال میں بھی قوت آ تی ہے ، یہانتک کہ اگر یہ قوت ایمانی پورے طور ر نشونما پا جاوے تو پھر ایسا مومن شہید کے مقام پر ہوتا ہے کیونکہ کوئی عمل اس کیلئے روک نہیں بن رہا ہوتا ، وہ اپنی عزیز جان دینے میں بھی تامل اور دریغ نہ کرے گا ۔ مقصود احمد صاحب کی کوئٹہ میں شہادت۔

Generally, a person is considered Shaheed (martyr) when martyred in the way of Allah. There is no doubt that a person who gives his life in the way of Allah attains the status of Shaheed. Allah, the Most High, opens the doors of paradise for him. But the term Shaheed comprises more than that. Its meanings are vast. No doubt the prayer to gain supremacy over the adversary is the preferred prayer. It also is a promise of Allah to the godly people that they are the ones who are going to be victorious. Victories are theirs. Allah, the Most High, numerous times informed the Promised Messiah of triumphs and victories, and gave him the news of supremacy. We have firm faith that the Ahmadiyya Community will see clear and obvious signs of this promise. We also see at the time of Badr, that the Holy Prophet(saw), referring to His promise, asked for victory and asked for the life of his companions who were with him in the battle of Badr. He did not ask for their attaining the status of Shaheed by sacrificing their lives. He had beseeched that if the Muslims were annihilated then no one would be left to worship Allah. The Promised Messiah(as) says, General public understands the meaning of Shahaeed just to be the one who is killed in a battle, or the one who drowns in a river, or the one who dies in a pestilence, etc. Rather, I say that to restrain the meaning only to these conditions and to limit the meaning to these situations, is beyond the status of a believer. Shaheed actually is the person who attains the power of steadfastness and resolve from God, and no upheaval or shock can shake him or move him from his stand. The Promised Messiah(as) further said, The reality of Shaheed also relates to the heart. Siddiq(Truthful) has affinity with Prophet and is second in status to him. Shaheed is the neighbor of Siddiq(Truthful). Prophet carries all the superior attributes, that is, he is Siddiq and Shaheed and Salih, but Siddiq and Shaheed are two separates states. Hazrat Khalifatul-Masih, may Allah be his support, gave the example of Ahmadis living in Muslim countries who protect the truth of their faith against extreme persecution and difficulties. He said that some seek asylum to safeguard the truth of Ahmadiyyat. If they base their cases on falsehood, they will waste all the truthfulness of their faith. The Promised Messiah(as) said, The greatness of Shaheed is this that difficulties, inconveniences and trials elicit such power of faith, moral power, and steadfastness that they becomes a sign due to their being extraordinary. The power of faith gives power to actions so much so that when this power of faith develops to its fullest, the believer attains the status of Shaheed as no obstacle hinders him. He will not hesitate or pull back even in giving his life. Martyrdom of Maqsood Ahmad Sahib in Quetta Pakistan.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
07-Dec-2012 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)Dutch (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Visions and True Dreams of Companions of The Promised Messiah(as)
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت سردار کرم داد صاحبؓ : آپ فرماتے ہیں کہ آپ نے ۱۹۰۲ میں بیعت کی تھی اور اسی سال حضرت مسیح موعودؑ کی زیارت بھی کی، آپ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مسیح موعودؑ کو بیعت کرنے سے پہلے خواب میں دیکھا، وہ اس طرح کہ ایک سڑک ہے جس پر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور حضرت مسیح موعودؑ مل کر ٹہلتے آ رہے ہیں ۔ حضرت کریم الدین صاحبؓ : آ پ فرماتے ہیں کہ آپ نے ۱۸۹۶ میں بیعت کی ، آپ فرماتے ہیں کہ ۱۸۹۶ کے درمیان میں مجھے خواب میں حضرت مسیح موعودؑ کی زیارت ہوئی جس میں آپ اونٹنی پر سوار تھے، پھر خاکسار کو حضور کی زیارت اکیلے میں جب ایک ایسے کھیت میں سے گزر رہے تھے جو کہ تازہ تازہ تھا اور جس میں مٹی کے بڑے بڑے ڈیلے تھےاور حضور اس میں سے میری طرف کو آ رہے تھے، اور حضور نے بڑے تپاک اور محبت سے بندے سے مصافحہ کیا ۔ حضرت میاں اﷲ دتہ صاحبؓ : آپ نے ۱۹۰۰ میں بیعت کی اور ۱۹۰۵ میں آ پ کو حضرت مسیح موعودؑ کی زیارت نصیب ہوئی، آپ فرماتے ہیں کہ میں محل پور ضلع ہوشیارپور کا رہنے والا ہوں ، جس وقت چاند اور سورج کو گرہن لگا ا س وقت میری عمر دس یا بارہ برس کی تھی،اور اس وقت میں نے اپنے استاد کے ساتھ قرآن کریم اور نوافل بھی پڑھے تھے، ۱۸۹۷ یا ۱۸۹۸ میں ہمارے گاؤں میں حضرت مسیح موعودؑ کا ذکر پہنچ گیا تھا کہ قادیان ضلع گورداسپور میں حضرت مہدی ؑ آ گئے ہیں، یہ ذکر شیخ شہاب الدین صاحب کی معرفت پہنچا تھا۔ حضرت دین محمد صاحبؓ :آپ نے ۱۹۰۲ میں بیعت کی اور ۱۹۰۴ میں حضرت مسیح موعودؑ کو دیکھا تھا، آپ فرماتے ہیں کہ میں ۱۹۰۲ میں پیچش اور بخار سے بیمار ہو گیا ، ان دنوں میں میرے والد صاحب کلکتہ میں محنت مزدوری کیلئے گئے ہوئے تھے، میں خواب میں قادیان آ گیا، پہلے میں نے قادیان کا کبھی خیال بھی نہیں کیا تھا ، کیا دیکھتا ہوں کہ ایک چھوٹا سا کمرہ ہے جس میں نیچے ٹاٹ بچھا ہوا ہے ، آ گے چاروں طرف چار تاکیاں ہیں ، ہر تاکی میں ایک دوات ہے۔ حضرت منشی برکت علی صاحبؓ : آپ نے ۱۹۰۱ میں بیعت کی اور اسی سال آ پ نے زیارت بھی کی، آپ فرماتے ہیں ۱۹۰۱ کہ شروع میں جب مردم شماری شروع ہونے والی تھی، حضور نے ایک اشتہار شائع فرمایا جس میں درج تھا کہ جو لوگ دل میں مجھ پر ایمان رکھتے ہیں گو ظاہربیعت نہ کی ہو ، وہ اپنے آپ کو احمدی لکھوا سکتے ہیں ، اس وقت مجھے اس قدر حسن ظن ہوگیا تھا کہ میں تھوڑا بہت چندہ بھی دینے لگ گیا تھا اور گو میں نے بیعت نہ کی تھی ،میں نے مردم شماری میں اپنے آپ کو احمدی لکھوا دیا تھا۔ حضرت خیر دین صاحبؓ : آپ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ خاکسار نے رویا میں دیکھا کہ حضرت مسیح موعودؑ نے کئی لوگوں کی دعوت فرمائی اور اس دعوت کا کام حضرت ام المومنینؓ کر رہی ہیں اور حضرت اقدس بھی نگرانی کے طور پر دیکھ رہے ہیں ، جب میں پیغام کے طور پر حاضر ہوا تو جناب حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ اس کو چاول کھلاؤچنانچہ مجھے چاول دئیے گئے۔ اس کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا کہ پاکستان کیلئے حضور دعا کی تحریک کرتے ہی رہتے ہیں ، احباب جماعت دعائیں کرتے بھی ہیں ، تاہم آج پھر حضور اسی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں ، احمدیوں کے حالات پاکستان میں تنگ سے تنگ تر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اورجب ارباب حکومت سے کہو، رپورٹ کرواؤ ، افسران کے پاس جاؤ یا ان سے پوچھو تو یہ کہتے ہیں کہ ہماری رپورٹوں کے مطابق تو سب کچھ ٹھیک ہے اور کچھ بھی نہیں ہو رہا۔ گزشتہ دنوں لاہور میں احمدیہ قبرستان میں ماڈل ٹاؤن میں رات کو ۱۴، ۱۵ آدمی زبردستی گھس گئے، وہاں جو چوکیدار تھا ، اس کو اور اس کے گھر والوں کو گن پوائنٹ پر رسیوں سے باندھ دیا اور پھر گھر کے اندر بند کر دیا اور پھر اس کے بعد ۱۲۰ قبروں کی بےحرمتی بھی کی، ان کے کتبے بھی توڑے ، اب تو ان شیطانوں کے شر سے مردے بھی محفوظ نہیں ہیں، احمدی وفات یافتگان بھی محفوظ نہیں ہیں ۔ مقصود احمد صاحب کی کوئٹہ میں شہادت۔

Hadhrat Sardar Karam sahib(ra): He relates that he took Bai’at in 1902 and saw the Promised Messiah(as) in the same year. Prior to Bai’at he saw the Promised Messiah(as) in a dream. He saw that the Holy Prophet(saw) and the Promised Messiah(as) are strolling towards him. Hadhrat Karim ud Din sahib(ra): He relates that he took Bai’at in 1896. Sometime in the middle of the year he saw a dream in which he saw the Promised Messiah(as) mounted on a camel. He saw him on his own in a freshly ploughed and sown field where he shook hand with the Promised Messiah(as) who met him lovingly and warmly. Hadhrat Mian Allah Ditta sahib(ra): He took Bai’at in 1900 but saw the Promised Messiah(as) in 1905. He relates that he is from Hoshiyarpur district and was ten or twelve years old when the solar and lunar eclipses took place. The news of the Promised Messiah(as) reached his village in 1898 through a Sheikh Shuhab ud Din sahib. Hadhrat Din Muhammad sahib(ra): He took Bai’at in 1902 and saw the Promised Messiah(as) in 1904. He relates that he was very ill with dysentery and his father had gone to Calcutta for employment purposes. This is when he saw Qadian in a dream. Prior to this he had not even thought of Qadian. In the dream he saw a small room with four niches in the walls. Each niche has an inkpot in it. Hadhrat Munshi Barkat Ali sahib(ra): He took Bai’at in 1901 and saw the Promised Messiah(as) in the same year. Census was about to take place early in 1901 when the Promised Messiah(as) had it announced through posters that those who accepted him in their hearts but had not taken Bai’at may write themselves as Ahmadi in the Census. Munshi sahib had himself registered as Ahmadi. Hadhrat Khair Din sahib(ra):He relates that he saw a dream in which the Promised Messiah(as) has invited many people for a meal and Hadhrat Ummul Momineen(ra) is preparing the meal. When Khair Din sahib presents himself the Promised Messiah(as) says, ‘give him rice to eat’ and he is given rice to eat. Next Hadhrat Khalifatul Masih said that he regularly asks for prayers for Pakistan and Ahmadis do pray for Pakistan. Today he wished to draw attention to this matter once again. The situation is being made dire still for Pakistani Ahmadis. When the authorities are contacted they say their reports show everything to be normal. A few days ago fourteen to fifteen men forced their way into our graveyard in Model Town, Lahore and tied up our guard and his family at gunpoint and desecrated 120 gravestones. Now even the deceased Ahmadis are not safe from the evil of these mischief-makers. Martyrdom of Maqsood Ahmad Sahb in Quetta.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
30-Nov-2012 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)Dutch (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Companions of The Promised Messiah(as)
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian | Bengali
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت شیخ زین االعابدین صاحب ؓ : آپؓ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ ہماری بھاوج بیمار ہو گئیں ، اور سخت بیمار ہوئیں، ہم نے سوچا کہ اب سوائے قادیان جانے کے اور کوئی ٹھکانہ نہیں ، بہرحال ہم چل پڑے، والدہ بھی ساتھ تھیں اور بھائی بھی ساتھ تھا، راستہ میں ہم نے اس بیمار عورت کو کہا کہ حضرت مسیح موعودؑ کہیں گے کہ مولوی نورالدین سے تمہارا علاج کرواتے ہیں مگر تم کہنا کہ میں تو حضور ہی کا علاج چاہتی ہوں، مولوی صاحب سے ہرگز علاج نہیں کرواؤں گی۔ حضرت میاں محمد شریف کشمیری صاحبؓ : آپ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ قادیان میں میاں جمال الدین صاحب نے جب حضرت مسیح موعودؑ کی چھت پر تشریف رکھتے تھے، حضرت مسیح موعودؑ سے عرض کیا کہ یہ ہمارا بھائی محمد شریف ہے اور ان کی طرف طاعون کی بیماری کا بہت زور ہے ، ان کیلئے دعا کریں ، حضرت مسیح موعودؑ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ طاعون کس طرح ہوتی ہے ، تو میں نے عرض کیا کہ پہلے چوہے مرتے ہیں ۔ حضرت میاں محمد الدین صاحبؓ : آپ فرماتے ہیں کہ آ ریہ ، برہمو، دہریہ کے لیکچر کے بد اثر نے مجھے اور مجھ جیسے اور اکثروں کو ہلاک کر دیا تھا ، یعنی خدا تعالیٰ سے دور لے گئے تھے، اسلام سے دور لے گئے تھے، اور ان اثرات کے ماتحت لا یعنی زندگی بسر کر رہا تھا، پھر آ پ کو براہین احمدیہ پڑھنے کی توفیق ملی، پڑھتے پڑھتے جب میں ہستی باری تعالیٰ کے ثبوت کو پڑھتا ہوں ، تو معا میری دہریت کافور ہو گئی، آپ نے اس ثبوت کا حوالہ بھی دیا تھا لیکن حضرت خلیفۃ المسیح نے اس کا صحیح حوالہ دیا ۔ حضرت فتح محمد صاحبؓ : آپ بیان فرماتے ہیں کہ ایک میرے بھائی نواب دین کو خواب آ یا کہ حضرت مسیح موعودؑ نے میرے سے آٹھ آنے کے پیسے مانگے ہیں ، پھر میں اور نواب دین دونوں پیسے دینے گئے اور خواب سنائی تو حضور نے فرمایا کہ اس خواب کے نتیجے میں تم علم پڑھو گے ، سو جب مولوی سکندر علی ہمارے گاؤں میں آ گئے تو ان سے میں نے اور نواب دین نے اور بہت سے اور لوگوں نے قرآن مجید پڑھا اور کچھ اردو کی کتابیں بھی پڑھیں۔ حضرت فضل دین صاحبؓ : آپ فرماتے ہیں کہ میں پہلے پہل ایک آ زادانہ خیال کا آدمی تھا ، چند سال آ زاد خیالی میں گزر گئے ، بعد میں رفتہ رفتہ چند دوستوں کی صحبت سے بہر آ ور ہو کرمیں بھی نقشبندی خاندان کا مرید ہو گیا کیونکہ میرے وہ دوست بھی نقشبندی خاندان کے مرید تھے اور وہ ہمارا مرشد ہمارے ہی گاؤں میں رہتا تھا ، چونکہ یہ خاندان اپنے آ پ کو شریعت کا پابند کہلاتا تھا اور اپنا سلسلہ حضرت ابو بکر صدیق ؓ سے ملاتا تھا ، اس وجہ سے شروع بیعت میں مجھ کو نماز اور روزہ کی سخت تاکید فرمائی اور نماز تہجد کی بھی تاکید فرمائی، اور حکم دیا کہ نماز تہجد کبھی بھی نہ چھوڑی جائے ، اور ساتھ ہی یہ بھی حکم دیا کہ جو خواب آ وے وہ کسی سے بیان نہ کی جاوے، اس عرصے میں مجھ کو کئی خوابیں آئیں اور وہ میں نے کسی سے بیان نہ کیں۔ چوہدری نصرت محمود صاحب کی پاکستان میں شہادت۔

Hadhrat Sheikh Zain ul Abideen sahib(ra): He relates that once his sister-in-law felt gravely ill and the family thought that the only recourse was to visit Qadian. His mother, brother and the ailing sister-in-law set off on the journey. En-route they instructed the indisposed young woman that the Promised Messiah’s(as) advise would be to go to Hadhrat Maulana Nur-ud-Din(ra) for treatment but she should insist on the Promised Messiah’s(as) treatment. Hadhrat Muhammad Sharif Kashmiri sahib(as): He relates that once he was in Qadian with his friend Mian Jamal-ud-Din as they sat with the Promised Messiah(as) on the roof top of mosque. His friend introduced him to the Promised Messiah(as) and requested prayers saying that there was intense outbreak of plague in his area. The Promised Messiah(as) addressed Sharif sahib and asked how did one catch plague. He replied it was transmitted from dead rats. Hadhrat Mian Muhammad Din sahib(ra): He relates that due to the negative influence of listening to lectures of Hindus and atheists he was spending a life far removed from Islam, until he had the chance to read Barahin e Ahmadiyya [Promised Messiah’s book]. He says as he read the book and reached the pages citing proof of the existence of God, as if his atheism vanished. Hadhrat Fateh Muhammad sahib(ra): He relates that his brother had a dream in which the Promised Messiah(as) asked him for some money. He and his brother went to the Promised Messiah(as) to offer the money who told them that as a result of this dream they would gain knowledge. Consequently, both the brothers studied the Holy Qur’an as well as some Urdu books. Hadhrat Fazl Din sahib(ra): He relates that he was a liberal minded person but due to the influence of some friends he became involved with the Naqshbandi order. He was advised to be regular in his Salat, fasting, as well as Tahajjud. He was also told that he could not relate his dreams to anyone at all. He saw many dreams but kept them to himself. Martyrdom of Chaudhry Nusrat Mahmood sahib in Pakistan.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
23-Nov-2012 Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)Dutch (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Kyrgyz (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Muharram and the great status of Hadrat Imam Hussein
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

یہی مذہبی اختلافات یا کسی بھی قسم کے اختلافات ہیں جو مسلمان حکومتوں میں خلیج پیدا کرتے چلے جا رہے ہیں ، یا بعض ملک ایسے ہیں جہاں ملک کے اندر ہی اقلیتی فرقے کی حکومت ہے تو اکثریتی فرقہ شدید رد عمل دکھا رہا ہے ، جو گولہ بارود کے استعمال پر منتج ہے ، اقلیتی فرقے کو موقع ملتا ہے تو اکثریتی فرقے پر حملہ کر دیتا ہے اور اسی بنیاد پر دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر یا باغیوں کو کچلنے کے نام پر حکومت بھی معصوم جانیں ضائع کر رہی ہے ، بغیر سوچے سمجھے بمباری ہو رہی ہے، فائرنگ ہو رہی ہے ، گھروں کو تباہ و برباد کیا جا رہا ہے ، اپنے ہی ملک کے ہزاروں مردوں اور عورتوں کو موت کے منہ میں اتار دیا جاتا ہے ، شام میں آج کل یہی کچھ ہو رہا ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا کہ محرم کے حوالے سے آپ نے بات شروع کی تھی تو اس وقت حضور مسیح الزماں اور مہدی دوراں کے چند حوالے پڑھ کر سنائیں گے، تاکہ لاکھوں کی تعداد میں وہ احمدی بھی یہ سن لیں ، جو نئے شامل ہونے والے ہیں اور وہ بھی جو نوجوان ہیں ، جن کو علم نہیں ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ نے کس طرح بزرگوں کی عزت کو قائم کیا ، کس طرح صحابہؓ کے مقام کو پہچانا ، کس طرح شیعہ سنی کے فرق کو مٹایا ، اور کس طرح اﷲ تعالیٰ کے حکم کے مطابق تمام مسلمانوں کو جو روئے زمین پر بستے ہیں ، ایک ہاتھ پر جمع کر کے امت واحدہ بنانے کے طریق سکھائے۔ ایک جگہ ملفوظات میں حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ کے وقت میں خلیفہ اول نے جو بڑے ملک التجار تھے، مسلمان ہو کر لانذیر مدد کی اور آپ کو یہ مرتبہ ملا کہ صدیق کہلائےاور پہلے رفیق اور خلیفہ اول ہوئے ۔ حضرت عمرؓ کے بارہ میں حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں : ’حضرت عمر ؓ کا درجہ جانتے ہو کہ صحابہؓ میں کس قدر بڑا ہے ، یہانتک کہ بعض اوقات ان کی رائے کے مطابق قرآن شریف نازل ہو جایا کرتا تھا اور ان کے حق میں یہ حدیث ہے کی شیطان عمر کے سائے سے بھاگتا ہے ، دوسری یہ حدیث ہے کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتا‘۔ حضرت علیؓ کے بارہ میں حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: ’ آپؓ بڑے متقی اور پاک صاف تھے اور ان لوگوں میں سے تھے جو خدائے رحمان کے سب سے پیارے اور اچھے خاندان والے تھے، اور زمانے کے سرداروں میں سے تھے، غالب خدا کے شیر اور مہربان خدا کے نوجوان تھے، بہت سخی اور صاف دل تھے‘۔ احمدیوں کو نصیحت کرتے ہوئے حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ واضح ہو کہ کسی شخص کے کارڈ کے ذریعے سے مجھے اطلاع ملی ہے کہ بعض نادان آدمی جو اپنے تئیں میری جماعت کی طرف منسوب کرتے ہیں ، حضرت امام حسین ؓ کی نسبت یہ کلمات منہ پر لاتے ہیں کہ نعوذ باﷲ حضرت حسین ؓ بوجہ اس کے کہ اس نے خلیفہ وقت یعنی یزید سے بیعت نہیں کی ، باغی تھا اور یزید حق پر تھا ، لعنت اﷲ علی الکاذبین، فرمایا مجھے امید نہیں کہ میری جماعت کے کسی راست باز کے منہ سے ایسے خبیث الفاظ نکلے ہوں،آپ ؑ نے فرمایا ، ہم یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ یزید ایک ناپاک طبع ، دنیا کا کیڑا اور ظالم تھا، اور جن معنوں کی روح سے کسی کو مومن کہا جاتا ہے ، وہ معنے اس میں موجود نہ تھے، دنیا کی محبت نے اس کو اندھا کر دیا تھا، مگر حسینؓ طاہر و مطہر تھا اور بلاشبہ ان برگزیدوں میں سے ہے جن کو خدا تعالیٰ اپنے ہاتھ سے صاف کرتا اور اپنی محبت سے معمور کر دیتا ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا کہ احمدیوں کو بھی میں یہ کہنا چاہوں گا کہ دوسرے مسلمان فرقے ایک دوسرے سے بدلے لیتے ہیں ، اگر ایک نے حملہ کیا تو دوسرے نے بھی کردیا لیکن حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت میں آ کر باوجود تمام تر ظلموں کے جو یہ تمام فرقے اکٹھے ہو کر ہم پر کر رہے ہیں، ہمارے ذہنوں میں کبھی بھی بدلے کا خیال نہیں آ نا چاہئے ، ہاں اگر کسی بات کی ضرورت ہے تو یہ کہ ہم میں سے ہر ایک ہر ظلم کے بعد نیکی اور تقویٰ میں ترقی کرے اور پہلے سے بڑھ کر خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کر کے دعاؤں میں لگ جائے۔

It is these religious or other disagreements which are also creating gulf between Muslim countries. In countries where a minority sect is in power, extremist reaction is forthcoming from the majority sect. Where the minority sect gets a chance, it attacks the majority sect and on this basis and in the name of fighting terrorism governments too take innocent lives. Thousands of own countrymen are killed, as it is happening in Syria. Hadhrat Khalifatul Masih said he had begun with reference to Muharram and would present some extracts from the writings of the Promised Messiah(as) so that hundreds of thousands of Ahmadis may hear, those who are new and the young may understand how the Promised Messiah(as) upheld the honour of holy persons. How he eradicated the Sunni Shia differences and taught ways to be as one Ummah. Malfoozat record that the Promised Messiah(as) said: ‘By becoming a Muslim at the time of the Holy Prophet(saw) the first Khalifa, who was a great merchant, gave incomparable help. He was granted the status of being called ‘Sadeeq’ and was the leading friend and first Khalifa. The Promised Messiah(as) stated about Hadhrat Umer(ra): ‘Do you realise how high is the stature of Hadhrat Umer(ra) among the Companions? So much so that at times, Qur’an used to be revealed in accordance with his viewpoint. A Hadith states about him that Satan runs from the shadow of Umer. Another Hadith states: ‘If there was to be a Prophet after me, it would have been Umer.’ The Promised Messiah(as) stated about Hadhrat Ali(ra): ‘He was extremely righteous and pure and was from those people who are the most beloved of the Gracious God. He was from a good family and was from among the chiefs of the time. He was the lion of the Supreme God and was the youth of the Kind God. He was very generous and had a clean heart. Admonishing Ahmadis, the Promised Messiah(as) said that it should be very clear that anyone who says that God forbid Hadhrat Hussein(ra) did not take Bai’at of the Khalifa and was rebellious is a great liar. He said that it is our belief that Yazid was an impure person who did not fulfil what a true believer signifies. Love of world had blinded him whereas Hadhrat Hussein(ra) was pure and among those chosen people whom God purifies Himself. Hadhrat Khalifatul Masih said that he wished to say to Ahmadis that while other Muslim sects take revenge from each other, but after coming into the Bai’at of the Promised Messiah(as) and in spite of all the persecution that all these sects are perpetrating against us, we should not even think of revenge. What is needed is that after every persecution we should enhance in righteousness and piety and pray to God more than before and forge a better connection with Him.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
16-Nov-2012 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)Dutch (mp3)French (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Exemplary Servants of Islam Ahmadiyyat
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

لیکن جو لوگ خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کیلئے کوشش ہی اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیتے ہے ، حقوق اﷲ اور حقوق العباد کی ادائیگی کیلئے ہر وقت اپنی استعداد کے مطابق کوشش میں مصروف رہتے ہیں ، اﷲ تعالیٰ کے دین کی سربلندی اور اشاعت ان کا مطمع نظر ہوتی ہے جن کے اعلیٰ اخلاق کے بارہ میں ہر چھوٹا بڑا اچھی رائے رکھتا ہے ، انکے بارے میں ہمیں خدا تعالیٰ اور اسکے رسول ﷺ نے فرمایا ہے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جن پر جنت واجب ہو جاتی ہے، یا پھر ایسے لوگوں کو خدا تعالیٰ نے جنت کی خوشخبری دی ہے ، جو اس کے دین کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے شہادت کا رتبہ پاتے ہیں ۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ مسیح محمدی ﷺ کے ماننے والوں کی جماعت کے افراد ہی ہیں یا ان میں سے ایک گروہ اور ایک طبقہ ہے جو ایک طرف تو اشاعت دین اور اسلام کی خاطر مستقل مزاجی سے اپنی زندگیوں کے ہر لمحہ کو گزارنے کی کوشش کر تے ہیں اور اس کیلئے اپنی زندگیوں کے آ خری لمحے تک لڑتے ہیں اور جان دیتے ہیں یا وہ ہیں جو دین کی خاطر اس جرم کی وجہ سے کہ انہوں نے مسیح محمدی ﷺ کو کیوں قبول کیا ، ظالموں کے ظلم کا نشانہ بن کر خدا تعالیٰ کے حضور شہادت کا رتبہ پا کر حاضر ہوتے ہیں ، حضور نے فرمایا میں آ ج ایسے ہی دو افراد کا ذکر کروں گا ، یعنی ایک خادم سلسلہ اور دوسرا شہید۔ حافظ جبرائیل سعید صاحب: آپ نے بچپن سے لیکر وفات تک مسیح محمدیﷺ کی فوج میں شامل ہو کر آ نحضرت ﷺ کے پیغام کو دنیا تک پہنچایا ، اس پیغام کو جس کی اشاعت کی تکمیل کیلئے اﷲ تعالیٰ نے آ نحضرتﷺسے وعدے کے مطابق ، آپ ﷺ کے غلام صادق اور مسیح موعودؑ کو دنیا میں بھیجا تھا ۔ حافظ جبرائیل سعید صاحب کی گزشتہ دنوں گھانا میں وفات ہوئی ہے انا ﷲ و نا الیہ راجعون ، آ پ گھانا میں مبلغ سلسلہ بھی تھے اور نائب امیر بھی تھے ، ۹ نومبر ۲۰۱۲ کو جمعۃ المبارک کے دن اکرہ میں ایک ماہ کی علالت کے بعد وفات ہوئی ہے ، اس دن حضور نے دعا کیلئے اعلان بھی کیا تھا لیکن اس دن وہ اﷲ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو چکے تھے ، کافی عرصہ سے بیمار تھے، ان کی صحت کے متعلق گھانا کے ڈاکٹرز کی رپورٹ لندن میں بھی اور امریکہ میں بھی ڈاکٹروں کو بھجوائی گئی تھی ، وہاں کے ڈاکٹروں کو بیماری کی تشخیص نہیں ہو رہی تھی، اور ان ڈاکٹروں کے مطابق مزید ٹیسٹ لئے جانے کی کاروائی بھی زیر عمل تھی، اسی طرح علاج کی غرض سے بیرون ملک لندن یا امریکہ بھجوانے پر بھی غور ہو رہا تھا اور کاروائی ہو رہی تھی لیکن خدا تعالیٰ کی تقدیر غالب آ ئی اور ان کی وفات ہو گئی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ نے آپ کو نائب امیر جماعت گھانا برائے تبلیغ مقرر کیا اور تا وفات اسی فریضہ کو آپ بخوبی سرانجام دے رہے تھے ، آپ کی نگرانی میں گھانا میں قائم تربیت سینٹر اور تبلیغ سینٹر میں آئمہ کرام اور نومبائعین کی تربیت کے بہت سے کورسز مقرر ہوئے ، مقامی معلمین یا امام جو جماعت میں شامل ہوتے تھے، ان کو کچھ دین کا علم تو تھا اس کے علاوہ حقیقی تعلیم اسلام کی اور جماعت احمدیہ کی روایات کے سکھانے کے بارہ میں ریفریشر کورس ہوتے تھے، جس کی نگرانی بھی حافظ صاحب کیا کرتے تھے، آپ کی سرکردگی میں بڑی کامیاب تبلیغی مہمات ہوئیں ، جس کے نتیجے میں جماعت کو بے شمار نئے پھل عطا ہوئے ، اور نئی جماعتیں بنیں اور نئے سرکٹ بنائے گئے اور ان جماعتوں میں بے شمار مساجد کی تعمیر کروائی گئی۔ یہ شہید جنہوں نے کوئٹہ میں یہ اعزاز حاصل کیا ہے، ان کا نام مکرم منظور احمد صاحب ہے جن کو ۱۱ نومبر ۲۰۱۲ کو سیٹیلائٹ ٹاؤن کوئٹہ میں شہید کیا گیا ، آپ کے خاندان میں احمدیت کا نفوس آپ کے والد کی پڑدادی کے ذریعہ ہوا جنہوں نے حضرت مسیح موعودؑ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی، اسی طرح آپؓ صحابیہ تھیں ، منظور احمد صاحب شہید کوئٹہ میں پیدا ہوئے ، میٹرک کے بعد اپنا کام شروع کیا اور ہارڈویئر کی دکان بنائی ، تھوڑے عرصے میں اﷲتعالیٰ نے کاروبار میں نمایاں برکت دی ، شہادت کا واقعی ان کا یوں ہے کہ مرحوم ۱۱ نومبر ۲۰۱۲ کی صبح ۸ بجے اپنے گھر واقع سیٹیلائٹ ٹاؤن سے دکان کی طرف جانے کیلئے پیدل گھر سے نکلے تھے کہ دو موٹر سائیکل سوار شخص آ ئے جن میں سے ایک شخص موٹر سائیکل سے اتر کر منظور احمد صاحب کی طرف بڑھا اور گولی چلانے کی کوشش کی ، لیکن قریب ہونے کی وجہ سے منظور احمد صاحب کی اس سے لڑائی ہو گئی ، حملہ آ ور نے آ پ پر گولیاں چلائیں اور آ پ کی موقع پر ہی شہادت ہوگئی انا ﷲ و انا الیہ راجعون۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا پاکستان کیلئے عمومی طور پہ بھی دعائیں کریں ، یہ احمدی شہداء اپنے عہدوں اور وفاؤں کو پورا کرنے کی کوشش کررہے ہیں ، اﷲ تعالیٰ جلد وہ وقت لائے جب احمدیوں کیلئے وہاں سہولتیں پیدا ہوں اور سکھ کے سانس لے سکیں، محرم بھی شروع ہو رہا ہے آ ج سے اور محرم میں تو احمدیوں کیلئے پہلے سے بڑھ کر کربلائیں بنانے کی کوشش کی جاتی ہے بلکہ خود بھی ایک دوسرے کو یہ قتل و غارت کرتے ہیں ۔

However, those who make endeavouring in the cause of God their everything and are ever engaged in paying the dues of God and the dues of mankind to the best of their abilities, whose objective and goal is the heightening and publication of the religion of God and whose standards of high morals are acknowledged by all are the people about whom God and His Messenger(saw) has said that Paradise becomes binding for them. The glad-tiding of Paradise is also given to those who give their lives for faith and attain the status of martyrdom. Today it is only the people of the community of the Muhammadan Messiah who try to spend every minute of their lives for publication of faith, and they do so till their last breath, or they are martyred for the sake of their faith, targeted by the oppressors for the ‘crime’ of accepting the Muhammadan Messiah. Today’s sermon is about two such people; one of them a life-devotee of the community and the other a martyr. Hafiz Jibarel Saeed sahib: He served the community of the Muhammadan Messiah from childhood till his passing away and took the message of the Holy Prophet(saw) to the world. The message for the publication of which, in accordance with God’s promise to the Holy Prophet(saw), the Promised Messiah(as) was sent. Hafiz Jibrael sahib was a missionary and naib Ameer of Ghana. He passed away on 12 November in a hospital in Accra after a month’s illness. Inna lillahe wa inna illaihe rajo’oon. His medical reports had been sent here and also to USA because a proper diagnosis had not been done in Ghana and further tests were being carried out. Plans were also afoot for him to travel to London or the USA for treatment, but God’s decree came to pass. Hadhrat Khalifatul Masih IV(rt) appointed him as naib Ameer of Ghana for Tabligh and he served in this post till his passing away. Under his supervision refresher courses were held in the Tarbiyyat centres and Tabligh centres in Ghana which were attended by Imams as well as new converts. Hafiz sahib’s great success was that his Tabligh efforts bore numerous fruits and many new Jama’ats were established and many mosques were built. Manzur Ahmad sahib was martyred in Satellite Town, Quetta on 11 November. Ahmadiyyat came in his family through his father’s great grandmother who took her Bai’at directly from the Promised Messiah(as). Manzur sahib was born in Quetta and had a hardware shop there. He was walking to his shop in the morning when two persons on a motor bike approached him. A scuffle ensued and he was fired at by one of the assailants and was martyred on the spot. Inna lillahe wa inna illaihe raji’oon. Hadhrat Khalifatul Masih asked that prayers for Pakistan should be made. Ahmadi martyrs are trying to fulfil their pledges and their loyalties. May God soon bring that hour when Ahmadis can live in peace there! Muharram starts from today and during Muharram they try and make Kerbala for Ahmadis more than at other times. In fact, they kill each other as well.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
09-Nov-2012 Bengali (wmv) Urdu (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)Dutch (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: "Vie with one another in good", and Tehrik-e-Jadid New Year
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian | Bengali
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

اس آیت میں خدا تعالیٰ نے ایک ایسا حکم ارشاد فرمایا ہے جو ہر فرد جماعت کی ہر قسم کی ترقی کیلئے بھی ضروری ہے یعنی ہر ایسی ترقی جو خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ذریعہ بناتی ہے اور مسلمانی کا دعویٰ کرنے والے کو حقیقی مسلمان بناتی ہے اور بحیثیت مجموعی جماعت کی ترقی کیلئے بھی ضروری ہے اور وہ حکم یہ ہے کہ ایک حقیقی مومن کا ، ایک حقیقی مسلمان کا ، حقیقی مومنین کی جماعت کا متمع نظر نیکیوں میں آگے بڑھنا ہونا چاہئے۔ جماعت احمدیہ یعنی وہ جماعت جو آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق کے ساتھ جڑنے کی وجہ سے اس خیر کو پھیلانے کیلئے قائم ہوئی ہے جو آنحضرت ﷺ لے کر آ ئے تھے، اور اس خیر میں حقوق اﷲ بھی ہیں اور حقوق العباد بھی ہیں ، عبادات بھی ہیں اور مخلوق اور کل عالم انسانیت کی خدمت بھی ہےکیونکہ آنحضور ﷺ تمام انسانوں کیلئے رحمت بنا کر بھیجے گئے ۔ جماعت احمدیہ کی تاریخ گواہ ہے کہ گزشتہ ۱۲۵ سال سے ان مقاصد کے حصول کیلئے جماعت کے افراد مالی قربانیاں کرتے چلے جا رہے ہیں ، یہ قربانی اور نیکی جماعت احمدیہ کا ایسا طرہ امتیاز ہے جس کو دیکھ کر غیر حیران و پریشان ہوتے ہیں کیونکہ ان کو اس بات کا فہم و ادراک نہیں کہ اس کے پیچھے کیا جذبہ کار فرما ہے ، یقینا یہ روح ایک احمدی میں اس لئے پیدا ہوتی ہے کہ وہ اﷲ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اپنا مطمع نظر فاستبقو الخیرات کو بناتے ہیں ۔ حضور نے فرمایا مرکز کے خرچوں کا مختصر خاکہ میں آپ کے سامنے پیش کر دیتا ہوں ، مثلا افریقہ اور دیگر ممالک میں مساجد اور مشن ہاؤسز کی تعمیر پر خرچ کی گئی ہے ، اسکے علاوہ کلینک، سکول، ریڈیو اور ٹی وی پروگرام پر خرچ کیا گیا ، آئرلینڈ ، ویلینشیا سپین ، کمپالہ یوگینڈا اور آئیوری کوسٹ میں مساجد کی تعمیر مرکز سے جزوی اور مکمل مدد کے بعد کی گئی، مبلغین کے اخراجات بھی مرکز برداشت کرتا ہے، بہت سی مساجد اور مشن ہاؤسز دنیا کے دوسرے ممالک میں جیسا کہ انڈیا ، بنگلہ دیش، فلپائن، نیپال، گوئٹے مالا ، مارشل آئی لینڈ کوبھی اس سکیم کے تحت فنڈ فراہم کئے جاتے ہیں ۔ حضور نے فرمایا میں اب تحریک جدید کے نئے سال کا اعلان کرتا ہوں جو اس بابرکت سکیم کا ۷۹ واں سال ہے ، تحریک جدید کے گزشتہ سال میں ۷۲۰۰۷۰۰ پاؤنڈ کی قربانی جماعت نے پیش کی الحمد اﷲ اور گزشتہ سال سے یہ ۵۸۴۷۰۰ پاؤنڈ زیادہ ہے ، مالی قربانی کے حساب سے پاکستان سر فہرست ہے ۔ جماعت کے ایک ممبر جب سوئٹزرلینڈ آ ئے اور سیاسی پناہ کی درخواست کی تو جلد ہی متعلقہ ادارے نے رد کردی، اسی دوران تحریک جدید کے نئے سال کا اعلان ہو گیا ، ان کے پاس اکاؤنٹ میں کل ۱۰۰۰ فرانک کی رقم تھی، جو انہوں نے وکیل وغیرہ کیلئے رکھی ہوئی تھی، لیکن تحریک جدید کے نئے سال کا اعلان سن کر وہ ساری رقم خدا تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے چندہ میں ادا کر دی، اور خدا تعالیٰ سے دعا کی کہ اصل نعم الوکیل تو وہ ہے ، وہی ہمارے ٹوٹے کام بنا دے گا ، چندہ کی برکت سے اﷲ تعالیٰ نے ان پر فضل کیا اور نہ صرف غیبی طور پر ان کی مدد کی اور ان کی سیاسی پناہ کی درخواست منظور ہوئی اور ان کو ملک کی شہریت بھی حاصل ہو گئی اور ان کو کوئی وکیل وغیرہ بھی نہ کرنا پڑا۔ انڈیا میں ایک اور جگہ ، ایک خاتون جنہوں نے جلسہ میں شمولیت اختیار کی جس میں تحریک جدید کے بارہ میں تقریر کی گئی ، ان خاتون نے شکایت کی کہ مردوں سے تو تحریک جدید کے وعدے لئے گئے ہیں ، ہم مستورات کو محروم رکھا گیا ہے ، مجھے آ ج چندہ تحریک جدید کی اہمیت کا احساس ہوا ہے اور میرا دل کہتا ہے میں نے جو وعدہ لکھوایا ہے وہ کم ہے اس لئے میرا وعدہ ڈبل کردیں۔

In this verse, Allah Almighty has emphasized on a commandment for all believers, which is absolutely essential for the progress of every individual in gaining nearness to God and makes a Muslim a true Muslim. The same commandment is also absolutely necessary for the communal progress of a Jama’at. This commandment relates to the goal that is set out in the verse i.e. Vie with one another in good deeds. The Holy Prophet(saw) was sent as a mercy for all of mankind. The Jamaat that was founded by the most loyal and devoted servants of the Holy Prophet(saw) is associated with this principle which entails the fulfilment of obligations towards The Creator through worship and includes the responsibilities towards our fellow human beings through service to mankind. The annals of the 125-year-long history of Jamaat Ahmadiyya is a witness that members of this community have made colossal financial sacrifices and this has become a distinctive feature of this Jamaat. Those who do not belong to this community are amazed at this aspect and that is only because they cannot fathom the true spirit which is inculcated by God’s commandment of vying with one another in good deeds. Here is how some funds are spent. In Africa, many mosques and clinics along with radio stations are being constructed. Mosques in Ireland, Valencia (Spain), Kampala (Uganda) and Ivory Coast are being constructed with partial or complete fundings provided by Headquarters (Markaz). The expenses of the Mubalagheen (Jamaat missionaries) are also covered by Markaz. Many mosques and mission houses in other parts of the world, such as India, Bangladesh, Philippines, Nepal, Guatemala, Marshall Islands, etc. are also funded by this scheme. I now announce the new year for Tehrik-e-Jadid, which is the 79th year of this blessed scheme. The total funds raised are £7,200,700, which is £584,700 more than the total funds raised as compared to last year. Pakistan is #1 in making financial sacrifices in this scheme. A member of Jamaat, who had arrived in Switzerland, sought to seek refuge, but his case was rejected. At about the same time, the new year of Tehrik-e-Jadid was announced. He had approximately 1000 Francs in his bank account, which he pledged towards this scheme right away, although he had saved that money for the lawyer’s fee. He prayed to God that his troubles be taken away. Soon afterwards, he was granted asylum, without the aid of any lawyer. At another place in India, a lady who participated in a Jalsa where a speech about Tehrik-e-Jadid was presented, she complained that pledges were taken from the men, but not the women. She doubled her pledge in response to the speech as she felt that her initial pledge was not sufficient.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
02-Nov-2012 Bengali (wmv) Urdu (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)Dutch (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Companions of Promised Messiah (as)
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت محمد شاہ صاحبؓ: آپ فرماتے ہیں کہ میں خیال کرتا تھا کہ سید کو دوسرے کی بیعت کی ضرورت نہیں ہوتی،اور اس لئے میں نے باوجود اس کے کہ حضرت مسیح موعودؑ کو حق پر سمجھتا تھا ، بیعت کی ضرورت نہیں سمجھی، کچھ مدت تک میں اسی خیال میں پختہ رہا لیکن جب بھی کسی مجلس میں حضرت مرزا صاحب کا ذکر ہوتا، اگر توصیفی رنگ میں ہوتا تو دلچسپی سے سنتا اور جس مجلس میں مخالفت ہوتی اس مجلس میں بیٹھنا ناگوار گزرتا ۔ حضرت مولوی شیر علی صاحبؓ : آپ بیان کرتے ہیں کہ بیعت ۱۹۰۶ میں کی تھی ، آپ نے چالیس روز تک استخارہ کیا جس میں آ پ کو بتایا گیا کہ مدعی سچا ہے ، دوسرے یہ کہ مختلف مدعی تھے ، پتہ نہ چلا کہ کس کے حق میں ہے تو دوسرے رات پھر کہا گیا کہ دعویٰ کرنے والا سچا ہے۔ حضرت شیخ محمد حیات صاحبؓ: آپ بیان کرتے ہیں کہ ۱۹۰۳ میں حضرت صاحب کے ہاتھ پر بیعت کی تھی، مولوی نور محمد صاحب نے تبلیغ کی تھی، شیخ صاحب کا بیان ہے کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں اپنے گھر کے صحن میں لیٹا ہوا ہوں ، ایک چاند کی سی شکل میرے سامنے سے گزری اور مجھے ساتھ ہی یہ بتایا گیا کہ یہ قادیانی احمد ہیں ۔ حضرت عبدالستار صاحبؓ : آپ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد صاحب سے سوال کیا کہ مسیح ناصری کی وفات کا مسئلہ ہمیں نہیں آ تا ، زندہ کا آ تا ہے ، میرے والد صاحب نے بیعت کے آ ٹھ دس ماہ بعد اپنا ایک خواب یہ سنایا کہ میں نے دریائے راوی کے کنارے پر دیکھا کہ دو خیمے لگے ہوئے ہیں ، ایک مسیح موعودؑ کا ہے اور دوسرا رسول کریم ﷺ کا ہے ۔ حضرت مولا داد صاحبؓ : آپ فرماتے ہیں کہ آپ کے بڑے بھائی تپ سے بیمار تھے ، بخار سے بیمار ہو گئے، ان کا علاج ایک طبیب مولوی جو سلسلہ کا سخت مخالف تھا کررہا تھا اور اس کا بڑا بھائی احمدی تھا ، اس طبیب نے حضرت اقدس کی شان میں نا ملائم الفاظ استعمال کئے ، بھائی صاحب نے انتہائی سنجیدہ لہجے میں کہا کہ میں اس طبیب کا علاج نہیں کراتا ، اس نے حضرت صاحب کی شان میں گستاخی کی ہے ، غرض وہ مولوی راستہ میں ہی طاعون کا شکار ہو گیا ۔ حضرت صوفی نبی بخش صاحبؓ : آپ بیان کرتے ہیں کہ جس وقت حضرت اقدس مسجد میں تشریف لائے اور میری نظر حضور کے چہرہ مبارک پر پڑی تو میں نے حضور کو پہچان لیا اور فورا بجلی کی طرح میرے دل میں ایک لہر پیدا ہوئی کہ یہ وہ مبارک وجود ہے جس کو میں نے ایام طالب علمی میں خواب میں دیکھا تھا۔ حضرت امام دین فائز صاحبؓ : آپ فرماتے ہیں کہ جب میں پہلی دفعہ حضرت مسیح موعودؑ سے ملنے کیلئے آیا تو پوچھا کہ وحی تو خاصہ انبیاء کا ہے ، آپ یہ دعویٰ کیسے کرتے ہیں ، فرمایا وحی تو شہد کی مکھی کو بھی ہوتا ہے اور مجدد الف ثانی نے بھی فرمایا ہے کہ وحی اور الہام مکاشفات الٰہیہ کو بھی ہوتا ہے ، میں نے فرمایا کہ میں بحث کرنے نہیں آ یا ، مجھے تو صوفیا کرام کی طرح سچی خواب یا الہام یا آ نحضرت ﷺ کی زیارت سے آپؑ کی صداقت کا یقین آ ئے گا ۔ فضل الرحمٰن صاحب امیر ضلع راولپنڈی کی وفات ، محسن محمود صاحب ایفرو امریکن احمدی کی وفات۔

Hadhrat Muhammad Shah sahib(ra): He relates that he used to consider that a person of Syed lineage did not need to take anyone’s Bai’at. As a result although he accepted the truthfulness of the Promised Messiah(as) he had not taken Bai’at. Whenever he heard the Promised Messiah(as) mentioned in a commendatory way he would listen with interest but when he heard something hostile about him he would leave the gathering. Hadhrat Maulwi Sher Ali sahib(ra): He relates that he took his Baia’at in 1906. After praying for forty days he was told that the ‘claimant was truthful’. As there was more than one claimant around at the time, he did not realise who the dream referred to. Hadhrat Sheikh Muhammad Hayat sahib(ra): He relates that he took his Bai’at in 1903. A Maulwi Nur Muhammad sahib did Tabligh to him. In a dream Sheikh sahib was shown a fine-looking face and was told that this was ‘Ahmad from Qadian’. Hadhrat Abdul Sattar sahib(ra): He relates that he once mentioned to his father that he did not know about the issue of death of Jesus(as) and was only aware that he was alive. His father related a dream of his in which he saw two tents pitched by riverside. One of the tents is Holy Prophet’s(saw) and the other is the Promised Messiah’s(as). Hadhrat Maula Dad sahib(as): He relates that his brother fell ill with fever and was being treated by a Maulwi who was very hostile to the Jama’at. He used some impolite words for the Promised Messiah(as). His brother said he did not want the man to treat him anymore. Later, the Maulwi suffered from the plague. Hadhrat Sufi Nabi Bakhsh sahib(ra): He relates that when he first set eyes on the Promised Messiah(as), it was an electrifying experience; he recognised him instantly as the holy person who had appeared in his dream during student days. Hadhrat Imam Din Faiz sahib(ra): He relates that when he first went to see the Promised Messiah(as) he told him that only Prophets were recipients of revelation. The Promised Messiah(as) answered him that even the honey-bee received revelation as well as saints and holy people. Imam Din sahib said that he had not come to enter a discussion; he would only believe if he saw a true dream, received a revelation or could see the Holy Prophet (saw). Death of Fazlur Rahman sahib, Ameer of Rawalpindi District and Death of Mohsin Mahmood sahib was an African-American Ahmadi.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
26-Oct-2012 Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)Dutch (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Renaissance of Islam and persecution
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا سورۃ البروج کی یہ آیات جن میں اسلام کی اصل تعلیم کا ہر زمانے میں محفوظ رہنے کا بھی ذکر ہے ، اسلام کی نشعط ثانیہ کیلئے مسیح موعودؑ کے آنے کا بھی ذکر ہے ، حضرت مسیح موعودؑ کے اور آپ کی جماعت کے دشمنوں اور مخالفین کا بھی ذکر ہے ، افراد جماعت کو قربانیوں کیلئے تیار بھی کیا گیا ہے ، یعنی ایسی مخالفت اور تکالیف ہونگی جو لمبا عرصہ دی جاتی رہیں گی، لیکن اﷲ تعالیٰ یہ سب کچھ دیکھ کر خاموش نہیں رہے گا۔ حضرت مسیح موعودؑ کے دعویٰ سے پہلے اسلام کی حالت دیکھ کر لوگ ایک شاہد کی حاجت محسوس کر رہے تھے ، وہ لوگ جن کے دل میں اسلام کا درد تھا بے چین تھے ، پس حضرت مسیح موعودؑ کا آ نا عین وقت کی ضرورت کے مطابق تھا ، اور پھر یہ اس وقت اور اس زمانے میں نہیں بلکہ آج بھی کسی مصلح ، آنحضرت ﷺ کے کسی سچے عاشق کو دنیا تلاش کر رہی ہے یا کرنا چاہتی ہے ، ہر نیک فطرت کی یہ آواز ہے کہ کوئی آ ئے اور مسلمانوں کی موجودہ حالت کی اصلاح کرے ۔ احمدی کا رد عمل یہ ہے کہ آ نحضرت ﷺ کی سیرت کو دنیا پر اجاگر کیا جائے ، اسلام کی خوبصورت تعلیم دنیا کے سامنے پیش کی جائے ، دنیا کو بتایا جائے کہ اب دنیا کا نجات دہندہ یہی نبی ہے ، دنیا کو بتایا جائے کہ اب اسلام کی تعلیم ہی کامل اور مکمل تعلیم ہے ، یہی تعلیم ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف راستہ دکھانے والی ہے ، پس اگر نجات چاہتے ہو تو اس نبی ﷺ اور اس کی تعلیم کے ساتھ جڑ جاؤ۔ پس احمدیت کی مخالفت جو بعض ملکوں میں ہے اور پاکستان میں تو بہت زیادہ ہے، حد سے بڑھتا جا رہی ہے آجکل ، احمدی بچوں پہ سکولوں اور بازاروں میں آ وازیں کسنا اور اذیت ناک سلوک ، ماسٹروں کی طرف سے بھی، ٹیچروں کی طرف سے بھی اور لڑکوں کی طرف سے بھی ، علمی لحاظ سے بھی احمدیوں کو تباہ کرنے کی کوشش ، ہمارے لائق طلباء کو یونیورسٹیوں میں تنگ کیا جارہا ہے، نکالا جا رہا ہے ، یہ سب باتیں اﷲ تعالیٰ نے پہلے ہی بتا دیں تھیں، یہ تو ہونگی، مختلف قسم کی، مختلف طرح کی آ گیں جلائی جائیں گی جن میں ڈالنے کی کوشش کی جائے گی ، گو کہ ظاہری آ گ بھی بھڑکائی گئی احمدیوں کے خلاف، بعض گزشتہ جو فسادات ہوئے ہیں ، ۱۹۷۴ میں بھی اور بعد میں بھی گھروں میں آ گیں لگائی گئیں اور کوشش کی گئی کہ احمدیوں کو گھروں میں زندہ جلا دیا جائے اور باہر پولیس بھی اور دوسرے لوگ بھی تماشہ بھی دیکھتے رہے، لیکن دوسری قسم کی آ گیں بھی اس میں شامل ہے۔ پس گو یقینا آخری فتح ہماری ہے اور اسلام کی فتح اب یقینا حضرت مسیح موعودؑ اور آپؑ کی جماعت سے وابستہ ہیں ، لیکن اس کیلئے ہمیں کوشش کرنی ہوگی ، اس صورت میں خدا تعالیٰ نے ہمیں توجہ دلائی ہے کہ ایمان کی حفاظت کیلئے آ گ میں جلنے کیلئے تیار رہو، ایک مخالفت کا نقشہ کھینچا گیا ہے، پاکستان میں وقتا فوقتا جو مخالفت کی آ گ احمدیوں کے خلاف بھڑکائی جاتی رہی ہے اور بھڑکائی جا رہی ہے لیکن جو گزشتہ دو سال سے حالت ہے اور جتنی اس میں تیزی آ رہی ہے ، اس کی پہلے مثال نہیں ملتی، جتنی جانی قربانی جماعت نے گزشتہ دو سال میں پاکستان میں دی ہے ، پہلے کبھی نہیں دی ، پس یہ قربانیاں رائیگاں جانے کیلئے نہیں ، بلکہ فتوحات دکھانے کیلئے ہیں ، اﷲ تعالیٰ نے ان فتوحات کی تسلی بھی دلائی ہے ۔ پس چاہے یہ لاہور کی شہادتیں ہوں یا منڈی بہاء الدین کی ہوں ، یا گھٹیالیاں کی ہیں یا کراچی کی ، یہ قربانی کی روح ہر جگہ ہر احمدی میں نظر آ تی ہے اور احمدی سمجھتے ہیں اسی میں ہماری فتح ہے ، پس اے دشمنان احمدیت تم جس طرح لاہور میں درجنوں شہادتیں کرنے کے بعد بھی کسی احمدی کو اس کے ایمان سے ہٹا نہیں سکے ، احمدیوں کا ایمان متزلزل نہیں کر سکے ، کراچی کے احمدیوں کے ایمانوں کو بھی متزلزل نہیں کر سکتے ، کبھی ان کے ایمانوں میں کمی نہیں آ سکتی ، انشاء اﷲ آ ج احمدی حقیقت میں اس قربانی کی روح کو سمجھتا ہے اور سمجھتا رہے گا انشاء اﷲ تعالیٰ ، اس کو اس بات کا ادراک ہے کہ اسلام کی نشعط ثانیہ کیلئے ہر قسم کی قربانی دینی پڑی گی ۔ مومن خوش ہوں کہ ان کیلئے جنت ہے ، سایہ دار باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، اس دنیا میں بیشک ہر قسم کی تکلیف پہنچا کر اپنے زعم میں مخالفین ہمارے خلاف آ گیں بھڑکا رہے ہیں لیکن اﷲ تعالیٰ کے ہاں ان مومنوں کیلئے ٹھنڈی چھاؤں اور ٹھنڈے پانی ہیں جب کہ مخالفین کیلئے ہمیشہ کیلئے رہنے والی آ گ مقدر ہے ، پس احمدی اس مخالفت سے بعض جگہ بعض دفعہ پریشان بھی ہو جاتے ہیں ، عموما تو اچھا حوصلہ دکھانے والے ہیں ، پریشان نہ ہوں۔ سعد فاروق صاحب ، بشیر احمد بھٹی صاحب ، ڈاکٹر راجہ عبدالحمید خان صاحب کی کراچی میں شہادت، ریاض احمد صاحب کی گھٹیالیاں پاکستان میں شہادت۔ عبدالرحمٰن الجبالی صاحب کی سعودی عرب میں وفات اور عزت عبدالسمیع صاحب کی مصر میں وفات۔

Hadhrat Khalifatul Masih explained that these verses speak of the teaching of Islam in every era, they speak of the second phase of Islam and the coming of the Promised Messiah, they also speak of enemies of the Promised Messiah and his community. These verses also prepare members of the community to be prepared for opposition and speak of long-lasting opposition. However, God would not remain silent at this opposition. Prior to the Promised Messiah’s(as) books, people felt the need for a testifier and those who had sincere concern for Islam were restless. The advent of the Promised Messiah(as) was exactly on time. It was not that the need for someone was only felt at that time, even today people are looking for a reformer, a true and ardent devotee of the Holy Prophet(saw). Indeed the reaction of an Ahmadi to any effrontery is to highlight the blessed life of the Holy Prophet(saw) to the world and to present the teaching of Islam to the world and tell the world that the way to salvation is now only through the Holy Prophet(saw) and the teaching of Islam alone shows the way to God. The persecution faced by the Jama’at in many countries, especially in Pakistan where among other harassments now our students are being maltreated and some are expelled from universities on the basis of their faith, was foretold by God. It was stated that different types of fires will be kindled against us. Indeed, real fire was also kindled against us in the agitation of 1974 when Ahmadi family homes were lit up by opponents and the police watched by silently. Indeed, the final triumph will be ours but we have to make endeavours for it. Our attention has been drawn that in order to safeguard our faith we should be prepared to burn in fire. Such fires are kindled in Pakistan time and again and in particular in the last two years the situation has worsened on an unparalleled scale. Never before has our Jama’at given sacrifice of live on this scale. However, these sacrifices herald triumphs and God has informed us of the triumphs to come. Be it the martyrdoms of Lahore, or Mandi Bahauddin or Karachi or Ghatyalian, the spirit of sacrifice is evident everywhere. O’ enemies of Ahmadiyyat, you could not move any Ahmadi from their faith after dozens of martyrdoms of Lahore, you will not be able to shake the faith of the Ahmadis of Karachi. InshaAllah, Ahmadis understand this and will continue to understand and are ready to give any kind of sacrifice for the second phase of Islam requires sacrifices. Believers should rejoice, for them will be Paradise, shady gardens with flowing streams. In this world in his assumption the enemy is kindling fire and being cruel, but with God the believer will have cool shade and the opponents will have ceaseless fire. Ahmadis mostly demonstrate resolve in the face of adversity but at times some feel anxious. They should not be anxious. Martyrdom of Saad Farooq sahib, Bashir Ahmad Bhatti sahib, Dr Raja Abdul Hameed Khan sahib in Karachi and martyrdom of Riaz Ahmad Sahib in Ghatyalian Pakistan. Death of Abdul Rahman Al Jabali sahib in Saudi Arabia and Izzat Abdus Sami sahib in Egypt.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
19-Oct-2012 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Companions of The Promised Messiah (as)
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت ولایت شاہ صاحبؓ : آپ فرماتےہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ کی زیارت کے مجھے بہت کم موقع ملے تھے کیونکہ میں ایک ایسی ملازمت میں تھا جس میں رخصت بہت کم ملتی تھی، میں نے خواب کی بنا پر بیعت کی تھی، جو یہ تھی کہ ایک جماعت بہت خوش اخلاق لوگوں کی جن کے آگے آگے ایک بزرگ نہایت خوبصورت شکل اور نہایت خوبصورت لباس میں ملبوس ، تاج ایسا چمکدار جس پر نظر نہ ٹھئر سکے، سر پر پہنے گزر کر میرے کوارٹر کی چھت پر پہنچ گئے اور وہاں بگل کے ذریعے سےاذان کہی جس کی آواز بہت دور تک بہنچی تھی، اس کے بعد ایسا معلوم ہوا کہ وہ نماز پڑھ رہے ہیں۔ حضرت عنایت اﷲ صاحبؓ : آپ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ۱۹۰۱ میں بیعت کی تھی ، اس وقت آپ کی عمر۱۵سال کی تھی، جب میں پہلی دفعہ قادیان آیا تو ایک عطر کی شیشی ہمراہ لایا ، پیدل سفر کیا ، رات بٹالہ رہا، جب شیشی دیکھی تو سوائے ایک قطرہ کے سب ضائع ہوگیا ، مجھے سخت افسوس ہوا۔ حضرت شیخ عطا ء اﷲ صاحب ؓ : آپ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن میں گول کمرہ کے قریب جہاں بابو فخر الدین ملتانی کی دکان تھی، کھڑا تھا، تو حضرت اقدس مسیح موعودؑ خود بنفس نفیس مسجد مبارک کے دروازے پر آئے اور مجھے آ واز دی کہ میاں عطاء اﷲ ، یہ چٹھی لیٹر بکس میں ڈال دیں، جس پر میں بڑا خوش ہوا کہ حضور ؑ کو میرا نام خوب یاد ہے ، مغرب کے وقت حضور انور ایک معمولی گلاس بکری کے کچے دودھ کا روزمرہ نوش فرماتے تھے۔ حضرت ڈاکٹر عمر دین صاحبؓ : آپ بیان کرتے ہیں کہ میں ۱۸ جولائی ۱۸۷۹ میں پیدا ہوا اور بیعت حضرت مسیح موعودؑ ۳۰ جون ۱۹۰۵ کو کی اور وصیت ۲۳جولائی کو کی، آپ فرماتے ہیں جماعت احمدیہ نیروبی میں مختلف شعبہ جات میں خدمت کرنے کی توفیق ملی، میں اس ملک میں ۱۹۰۰ میں ڈاکٹر رحمت علی صاحب ؓ کے زمانہ میں آ یا ، ڈاکٹر رحمت علی صاحبؓ کے اخلاق فاضلہ، شفقت اور ہمدردی کو دیکھ کر کثرت سے لوگ سلسلہ حقہ احمدیہ میں شامل ہوتے دیکھے۔ حضرت ماسٹر عبدالرؤف صاحبؓ : آپ بیان کرتےہیں کہامیں نے ۱۸۹۸ میں بیعت کی اور اسی سال حضرت مسیح موعودؑ کی زیارت بھی کی، کہتے ہیں کہ شروع زمانے میں جب میری عمر بچپن کی تھی اور اس وقت بھیرہ ہائی سکول میں تعلیم پاتا تھا ، اس وقت یہ چرچا ہمارے بھیرہ میں ہوا کہ قادیان میں ایک شخص پیدا ہوا ہے جو امام مہدی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کا نام مرز اغلام احمد ہے ، کہتے ہیں میں تو بچہ تھا اس لئے اتنا علم نہ تھا لیکن میرا بھائی جس کا نام غلام الہٰی ہے ، اس نے کتابیں پڑھ کر حضرت مرزا صاحب کی بیعت کر لی اور اس کا نام ۳۱۳ صحابہ میں درج ہے ۔ حضرت مولوی محمد عبدالعزیز صاحبؓ: آپ نے ۱۹۰۴ میں بیعت کی، آپ فرماتے ہیں کہ قبل اس کے کہ میں اپنی بیعت اور چشم دید حالات حضرت مسیح موعودؑ بیان کروں ، ضروری سمجھتا ہوں کہ اپنے والد صاحب مرحوم مولوی محمد عبداﷲ صاحب ؓ مغفور صحابی حضرت مسیح موعودؑ بیان کروں، آپ نے بھی حضرت مسیح موعودؑ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور آ پ کے بہت سے ایسے چشم دید واقعات تھے جو قلمبند نہیں ہوئے تھےاور آپ وفات پاگئے، اس لئے آپ نے یہ ضروری سمجھا کہ جو کام باپ نہیں کر سکا وہ بیٹا کر دے۔ کراچی پاکستان میں ایک نوجوان کی شہادت، سیدہ امتہ الرحمٰن صاحبہ کی وفات۔

Hadhrat Walayat Shah sahib(ra): He writes that he had very few opportunities to see the Promised Messiah(as) because he could not get much time off from his employment. He took his Bai’at based on a dream he had. In the dream he saw a rally of people led by an extremely well-dressed holy person who had a crown on his head.The rally climbs on his rooftop and the Adhan is said with the help of a bugle. It appears the group of people offer their Salat and then turn to go back. Hadhrat Inayat Ullah sahib(ra): He writes that he took his Bai’at in 1901 when he was about 15 years old. He had come to Qadian for the first time and had brought a bottle of perfume with him. However, during the travel all the perfume spilled and only a drop remained in the bottle. Hadhrat Sheikh Atta Ullah sahib(ra): He writes that once the Promised Messiah(as) came out of his house and called him by his name and asked him to post a letter for him in the letter box. Atta Ullah sahib was delighted that the Promised Messiah(as) remembered his name. Hadhrat Dr Umer Din sahib(ra): He writes that he was born in 1879 and took his Bai’at in 1905 when he also subscribed to the Wasiyyat scheme. He writes that he served in the Nairobi Jama’at in many capacities. He had arrived there in 1900 where many people had come in the fold of Ahmadiyyat seeing the high morals of a Dr Rahmat Ali sahib. Hadhrat Master Abdul Rauf sahib(ra): He writes that he took his Bai’at in 1898 and also saw the Promised Messiah(as) in the same year. When he was at school in Bhaira news spread that someone had claimed to be the Imam Mahdi and his name was Mirza Gulam Ahmad. Since he was young he did not know much but his older brother Ghulam Illahi sahib read up and took Bai’at and his name is in the first 313 companions. Hadhrat Maulwi Muhammad Abdul Aziz sahib(ra): He took his Bai’at in 1904. He writes that before he relates about his Bai’at it was important to recount about his father who had taken his Bai’at at the hand of the Promised Messiah(as) but the account has not be written down. He felt it important that the son should finish what the father could not. Martyrdom of a young man in Karachi Pakistan, Death of Syeda Amtul Rehman sahiba.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
12-Oct-2012 Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Companions of The Promised Messiah (as)
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian | Bengali
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضور نے فرمایا: جب میں صحابہؓ حضرت مسیح موعودؑ کے واقعات اور روایات بیان کرتا ہوں تو جس صحابیؓ کا واقعہ بیان ہوتا ہے ، انکی اولادیں، انکی نسلیں، اس پر خوشی کا اظہار اپنے خطوط میں کرتی ہیں اور دعا کیلئے بھی کہتی ہیں کہ دعا کریں کہ ہم اور ہماری آئندہ نسلیں اس اعزاز کی حفاظت کرنے والے ہوں، جو ہمارے پڑدادا ، پڑنانا وغیرہ کو زمانے کے امام اور آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق کے دست مبارک پر بیعت کرنے سے ملا ۔ حضور نے فرمایا: یہاں یہ بھی بتا دوں کہ صحابہ ؓ کے خاندانوں کے بعض افراد جو جماعت سے دور ہٹ جاتے ہیں وہ بعض افراد جماعت یا عہدیداروں وغیرہ کے رویہ کی وجہ سے دور ہٹتے ہیں اور پھر نوبت یہاں تک آ جاتی ہے کہ یہ کہنے لگ جاتے ہیں کہ ہمارے بزرگ غلط تھے ، پس ایسے لوگوں کو ذرہ سی بات پر زود رنجی دکھانے کی بجائے اپنے لئے بھی خدا تعالیٰ سے ہدایت پر قائم رہنے کی دعا مانگنی چاہئے اور جو لوگ وجہ بن رہے ہیں ان کیلئے بھی دعا کرنی چاہئے ۔ حضرت ماسٹر مولا بخش صاحب ولد عمر بخش صاحب : آپ ؓ فرماتے ہیں کہ میں مدرسہ سنگوہنی ریاست پٹیالہ میں ہیڈ ماسٹر تھا ، برسات کے موسم کے بعد موسمی تعطیلات ہوئیں ، مجھے حضور کی خدمت میں حاضر ہونے کا شوق ہوا ، میرا بچہ عبدالغفار مرحوم دو سال کا تھا ، اس کے بدن پر پھوڑے نکلے ہوئے تھے جو اچھے نہ ہوتے تھے ، میں اس کی پرواہ نہ کر کے وہاں سے چل پڑا۔ حضرت قاضی محمد یوسف صاحبؓ فرماتے ہیں : میں نے ۱۸۹۸ کے قریب ایک رویا دیکھی تھی کہ میں ایک بلند پہاڑ کی چوٹی پر روبہ مشرق کھڑا ہوں، میرے دونوں ہاتھ پوری وسعت کے ساتھ شانوں کے برابر پھیلےہوئے ہیں اور میرے دائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر سورج کا زریں قرہ بلور کی طرح چمکدار موجود ہے اور چاند کا قرہ بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر تین فٹ کی بلندی پر آ پہنچا ہے ، مشرق سے ایک دریا پہاڑ سے بجانب جنوب ہو کر گزرتا ہے ، اور دریا اور پہاڑ کے درمیان وسیع میدان اور سبزہ زار ہے ۔ حضرت اﷲ رکھا صاحبؓ ولد امیر بخش صاحب ؓ، یہ دونوں صحابیؓ تھے، آپؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضر ت مسیح موعودؑ کو خواب میں دیکھا ، تصدیق خواب کیلئے میں مع حضرت احمد دین صاحب مرحوم ساکن نارووال قادیان آ ئے ، گرمی کے دن تھے مہینہ یاد نہیں ، مسجد مبارک میں نماز صبح کے بعد حضرت مسیح موعودؑ تشریف فرما ہوئے ، مولوی احمد دین صاحب ساکن نارووال نے اپنی ایک سہ حرفی جس میں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے دعویٰ مبارک کے متعلق او راس زمانے کے لوگوں کی شرارتوں کے متعلق ذکر تھا، حضرت مسیح موعودؑ کے حضور پڑھی۔ حضرت مولوی محمد عبداﷲ صاحب ؓبیان کرتے ہیں کہ میں نے براہین احمدیہ ۱۸۹۲ یا ۱۸۹۳ میں پڑھی ، میری طبیعت پر بڑا اثر ہوا، پھر میں حضرت مسیح موعودؑ کی تحریرات اور مولوی محمد حسین بٹالوی کی تحریرات بالمقابل دیکھتا رہا ، مولوی محمد حسین کے دلائل سے میں یہی سمجھتا رہا کہ یہ کمزور ہیں ان کا میری طبیعت پر کوئی اثر نہیں پڑتا ، حضرت مسیح موعودؑ کے دلائل مضبوط بھی معلوم ہوتے تھے اور روحانیت بھی ظاہر ہوتی تھی ، دن بدن محبت بڑھتی گئی اور میری طبیعت پر گہرا اثر ہوتا گیا ، تحقیقات جاری رکھیں، خوابوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ گزشتہ دنوں اسی طرح کسی فتنہ پرداز نے فیس بک پر ایک طرف حضرت بابا نانک کی تصویر بنا کر ڈالی اور ساتھ ہی دوسری طرف حضرت مسیح موعودؑ کی تصویر اور پھر نہایت گندی اور غلط سوچ کا اظہار کرتے ہوئے حضرت باباا نانک کے متعلق انتہائی گندے اور غلط الفاظ استعمال کئے ، اور تصویر کے اوپر لکھے، اور ساتھ اس پر کاٹا بھی مارا ہوا تھا، اور حضرت مسیح موعودؑ کے متعلق تعریفی کلمات لکھ کر پھر مقابلہ بھی کیا ، مقصد اور نیت اس فعل سے یقینا بد تھی اور فتنہ اور فساد پیدا کرنا تھا، سکھ حضرات کے جذبات بھڑکانا اس کا مقصود تھا۔ عبدالرزاق بٹ صاحب کی وفات،ڈاکٹر فہمیدہ منیر صاحبہ کی وفات،ناصرہ بنت ضریف صاحبہ کی وفات۔

Huzoor said Whenever I make mention of the incidents from the lives of the Companions of the Promised Messiah(as), their descendants write to me and tell me how happy they are with me. They also ask me to pray that they and their future generations become worthy of this honor and become those who safeguard the requirements imposed on them by virtue of their grandfathers having accepted and performed the bai’at at the blessed hands of the Imam of this Age. Let me also say here that those few descendants of the Companions who became distant from the Jama’at, did so because of the behavior of some other members of the Jama’at or the actions of some officeholders. They then arrive at the stage of saying that their forefathers were in the wrong. My advice to all such people or individuals is that instead of becoming involved in self-pity they should pray for themselves that Allah may keep them steadfastly on the path of guidance and they should pray for those who are causing them to become so afflicted. Master Maula Baksh Sahib, son of Umar Baksh Sahib said that I was the headmaster of Sat Ghoni School in Patiala state. During the Monsoon season when I was on vacation from the school, I went to Qadian to see Huzoor for bai’at. My son Abdul Ghaffar(late) was 2 years old and had serious skin problems but I did not postpone my trip. Hazrat Qazi Mohammad Yusuf Sahib was telling me that, “In 1898 I saw a dream that I am standing on a high mountain facing towards the east. On my right I have the very bright shining light of the sun and on my left hand I have light of full moon but higher by about three hands. A long river is flowing from the east to the mountain and between that is a very beautiful ground of green grass. Hazrat Allah Rakha Sahib son of Ameer Baksh Sahib, both were Companions of Hazrat Masih Maud(as) said, I saw Hazrat Masih Maud(as) in my dream. I went to Narowal to Maulvi Ahmad Din Sahib to find out the truth of my dream. Maulvi Ahmad Din Sahib went to Qadian along with me. We went to Masjid Mubarak for Fajr prayer. After the prayer he wrote a few words about the life history of Holy Prophet Muhammad(saw). Hazrat Maulvi Abdullah Sahib told us that I read Braheen-e-Ahmadiyya in 1892 or 1893 that affected me a lot. After that, I read more writings of Hazrat Promised Messiah(as) and writing of Muhammad Husain Batalvi. I noticed that the points by Hazrat Masih Maud(as) are correct. Day by day my attraction for Huzoor(as) was increasing. I continued my research and a pattern of dreams started. Huzoor said that few a days ago someone posted two pictures on Facebook, one of Hazrat Baba Nanak and one of Hazrat Masih Maud(as). With Hazrat Baba Nanak Sahib’s picture, very bad words were written. Words of praise were written with the picture of Hazrat Masih Maud(as). It was just to create hatred and anger in Sikh community. Death of Abdul Razzaq Butt Sahib, death of Dr. Fehmida Munir sahiba and death of Nasira Bint Zareef Sahiba.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
05-Oct-2012 Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: The Prophet(saw) for mankind
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Indonesian
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ رسول اکرم ﷺ کے اعمال ایسے تھے کہ اﷲ تعالیٰ نے ان کی تعریف یا اوصاف کی تحدید کرنے کیلئے کوئی لفظ خاص نہیں فرمایا ، لفظ تو مل سکتے تھے لیکن خود استعمال نہ کئے ، یعنی آپﷺ کے اعمال صالحہ کی تعریف تحدید سے بیرون تھی، ہر قسم کی حدوں سے بالا تھی، اس قسم کی آیت کسی اورنبی کی شان میں استعمال نہ کی۔ بعض لوگ دنیا میں ڈوب کر ایسے بن جاتے ہیں کہ ان پر دنیا داروں کا اثر زیادہ ہوتا ہے ، دنیا دار اگر کوئی بات کہ دے تو ماننے کو تیار ہو جاتے ہیں یا ان کو اپنے لوگوں کی باتوں کا اثر زیادہ ہوتا ہے بجائے اس کے کہ ایک بات آنحضرت ﷺ کے بارے میں ایک مسلمان سے سنیں ، اگر ان کے اپنے لوگ کہیں تو بعض دفعہ اس پر غور کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اس لئے ان کے اپنے لوگوں کے، مشہور لوگوں کے ، جو سکالرز ہیں ، رائٹرز ہیں ، ان کے تاثرات آنحضرت ﷺ کی سیرت کے بارہ میں ایسے لوگوں تک پہنچانے چاہئیں۔ ایک مصنفہ سٹین لے لی پول لکھتی ہیں کہ حضرت محمد ﷺ اپنے آ بائی شہر مکہ میں جب فاتحانہ داخل ہوئے اور اہل مکہ جو آپ کے جانی دشمن اور خون کے پیاسے تھے، ان سب کو معاف کر دیا، یہ ایسی فتح تھی، پاکیزہ فاتحانہ داخلہ تھا جس کی مثال ساری تاریخ انسانی میں نہیں ملتی۔ لیفٹننٹ جنرل سر جان گلب لکھتے ہیں کہ قاری اس کتاب کے جو بھی رائے قائم کرے ، اس بات کا انکار ممکن نہیں کہ محمد ﷺ کے روحانی تجربات اپنے اندر پرانے اور نئے عہد نامے کے قصوں اور عیسائی بزرگوں کے روحانی تجربات سے حیران کن حد تک مشابہت رکھتے ہیں ، اسی طرح ممکن ہے کہ ہندوؤوں اور دیگر مذاہب کے ماننے والے افراد کے ان گنت رویا اور کشوف سے بھی مشابہت رکھتے ہوں ۔ جان ڈریپر لکھتے ہیں کہ جسٹینین کی وفات کے چار سال بعد ۵۶۹ عیسوی میں مکہ میں ایک ایسا شخص پیدا ہوا جس نے تمام شخصیات میں بنی نوع انسان پر اپنا اثرچھوڑا اور وہ شخص محمد ﷺ ہے ، جسے بعض یورپین لوگ جھوٹا کہتے ہیں لیکن محمد ﷺ کے اندر ایسی خوبیاں تھیں جن کی وجہ سے کئی قوموں کی قسمت کا فیصلہ ہوا ، وہ ایک تبلیغ کرنے والے سپاہی تھے، منبر فصاحت سے پر ہوتا، میدان میں اترتے تو بہادر ہوتے ، ان کا مذہب صرف یہی تھا کہ خدا ایک ہے ، مذہب کا خلاصہ صرف یہی تھا کہ خدا ایک ہے۔ جان ڈیون پورٹ لکھتا ہے کہ کیا یہ بات سمجھ میں آ سکتی ہے کہ جس شخص نے اس حقیر و ذلیل بت پرستی کے بدلے جس میں اس کے ہم وطن یعنی اہل عرب مبتلا تھے ، خدا ئے برحق کی پرستش قائم کر کے بڑی بڑی ہمیشہ رہنے والی اصلاحیں کیں ، وہ جھوٹا نبی تھا؟ کیا ہم اس سرگرم اور پرجوش مصلح کو فریبی ٹہرا سکتے ہیں ؟ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا کہ اﷲ کرے کہ دنیا اس عظیم ترین انسان کے مقام کو سمجھتے ہوئے بجائے لاتعلق رہنے یا مخالفت اور استہزا کرنے کے آپ ﷺ کے دامن میں پناہ لینے کی کوشش کرے تاکہ اﷲ تعالیٰ کے عذاب سے بچ سکے ، دنیا کے نجات دہندہ صرف اور صرف آپ ﷺ ہیں اور ہر حقیقت پسند منصف اور سچے غیر مسلم کا بھی یہی بیان ہوگا، یہ ہے مقام ختم نبوت جس کا ہر احمدی نے دنیا میں پرچار کرنا ہے ۔ خواجہ ظہور احمد صاحب کی پاکستان میں شہادت ، صاحبزادی امتہ السمیع بیگم صاحبہ کی وفات، چوہدری خالد احمد صاحب کی جرمنی میں وفات۔

It is evident from this verse that the pious practices of the Holy Prophet(saw) were such that Allah the Exalted did not specify any word to praise them or quantify his attributes. Words would have been found but they were not used. That is to say, praise of his pious practices was immeasurable. A verse such as this has not been stated in the glory of any other Prophet. There are some who are so embroiled in the world that they are more influenced by worldly people or are more influenced by their own people rather than hear about the Holy Prophet(saw) from a Muslim. Therefore viewpoints of their own people, writers and scholars, regarding the Holy Prophet(saw) should be taken to such people. Stanley Lane-Poole wrote that it was thus that Muhammad(saw) entered again his native city and forgave those who were his blood-thirsty enemies. He writes that through all the annals of conquest there is no triumphant entry comparable to this one. Lieutenant Gen. Sir John Glubb wrote: ‘Whatever opinion the reader may form when he reaches the end of this book, it is difficult to deny that the call of Muhammad(saw) seems to bear a striking resemblance to innumerable other accounts of similar visions, both in the Old and New Testaments, and in the experience of Christian saints, possibly also of Hindus and devotees of other religions. John Draper wrote: ‘Four years after the death of Justinian, A.D. 569, was born at Mecca, in Arabia, the man who, of all men has exercised the greatest influence upon the human race Mohammed, by Europeans surnamed “the Impostor."" He raised his own nation from Fetichism, the adoration of a meteoric stone, and from the basest idol worship. John Devonport wrote: ‘Is it possible to conceive, we may ask, that the man who effected such great and lasting reforms in his own country by substituting the worship of the one only true God for the gross and debasing idolatry in which his countrymen had been plunged for age’[who brought about great, enduring reformations] ‘to have been a mere impostor, or that his whole career was one of sheer hypocrisy? Hadhrat Khalifatul Masih said that may the world understand and acknowledge the station of this greatest person of the world and try and take refuge in his teaching so that it is saved from chastisement. Thus is the station of the Seal of all the Prophets which each Ahmadi has to publicise. Martyrdom of Khawaja Zahoor Ahmad sahib in Pakistan, Death of Sahibzadi Amatul Sami sahiba and Chaudhry Khalid Ahmad sahib in Germany.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
28-Sep-2012 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Kyrgyz (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Promote the true character of The Prophet (saw)
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضور نے فرمایا : گزشتہ جمعہ جب حضور مسجد میں آئے ہیں جمعہ پڑھانے تو کار سے اترتے ہی حضور نے دیکھا کہ ایک بڑی تعداد اخباری نمائندوں کی سامنے کھڑی تھی، بہرحال حضور کے پوچھنے پر امیر صاحب نے بتایا کہ آنحضرت ﷺ کے بارہ میں جو امریکہ میں انتہائی دل آزار فلم بنائی گئی، اس پر مسلمانوں میں جو رد عمل ہو رہا ہے ، یہ لوگ دیکھنے آئے ہیں کہ احمدیوں کا رد عمل کیا ہے ، حضور نے فرمایا ٹھیک ہے، حضور اس موضوع پر خطبہ دیں گے ، وہیں جو بھی احمدی کا رد عمل ہوگا وہ حضور بیان کریں گے۔ ایک پاکستانی انگریزی اخبار نے خطبہ کے حوالے سے ، پریس میٹنگ کے حوالے سے جماعت احمدیہ مسلمہ کو خوب دنیا پہ ظاہر کیا ہے، بعض تبصرے ایسے بھی تھے انٹرنیٹ پہ کہ یہ جو بات کہی گئی ہے یہ تو ہر عقلمند شخص یہی بات کرتا ہے مرزا مسرور احمد نے کونسی ایسی بات کر دی ہے خاص۔ حضور نے فرمایا : اب اس پیغام کو آگے پہنچانا، اس کی کوریج سے فائدہ اٹھانا ، ہر جماعت اور ہر احمدی کا کام ہے ، جہاں تک مرکز کی طرف سے اس جانب کوشش کی ہدایت اور طریقہ کار کا سوال ہے ، حضور نے خطبہ کے حوالے سے اس کی اشاعت کی ہدایت تو کردی ہے ، بہرحال یہ ہدایت اور طریق جو بھی دفتر کی طرف سے پہنچے گا جماعتوں کو اور افراد کو ان کی جماعتوں کی طرف سے ، وہ تو ہوسکتا ہے کچھ وقت لے لے ، چاہے کچھ دن ہی لگیں، تمام احمدی جو حضور کی بات سن رہے ہیں ان کو چاہئے کہ اس موقع سے جو اﷲ تعالیٰ نے مہیا فرمایا ہے اپنے عمل سے اسلام کی خوبصورت تعلیم دنیا کے سامنے پیش کریں۔ اپنے علاقے کی لائبریریوں میں بھی جماعت کی آنحضرت ﷺ کی سیرت سے متعلق کتب جن کا انگریزی ترجمہ ہو چکا ہے، یورپ میں یا انگلستان میں یا انگریزی بولنے والے ملکوں میں ، وہاں رکھوانی چاہئیں یہ کتب، نیز اگر کسی طبقے کو مفت بھی مہیا کرنی پڑیں تو کی جاسکتی ہیں ، خاص طور پر وہ کتب جن کا انگلش ترجمہ ہو چکا ہے یا کسی اور زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے ، ان کو کثرت سے پھیلایا جائے۔ دنیا کے سامنے ہم نے آنحضرت ﷺ کی سیرت کےخوبصورت پہلوؤں کو رکھنا ہے ، یہ ہمارا کام ہے اور اس کو بہرحال ہمیں ایک کوشش کر کے سرانجام دینا چاہئے ، آج یہ کام ایک لگن کے ساتھ صرف جماعت احمدیہ ہی کر سکتی ہے۔ حضور نے فرمایا : یہاں یو کے میں اور کامن ویلتھ ملکوں میں ملکہ کی ڈائمنڈ جوبلی گزشتہ دنوں منائی گئی تھی، اس حوالے سے تقریبا سارا سال ہی شور پڑا رہا ہے اور پڑ رہا ہے یا اس کا ذکر چل رہا ہے ، اس طرف توجہ ہے اب بھی، ملکہ وکٹوریہ کی جب ڈائمنڈ جوبلی ہوئی تھی، ا س وقت حضرت مسیح موعودؑ نے تحفہ قیصریہ کے نام سے کتاب لکھ کر ملکہ کو بھجوائی تھی، جس میں جہاں ملکہ کے انصاف پسند حکومت کی تعریف کی تھی، وہاں اسلام کا پیغام بھی پہنچایا تھا ۔ مولانا نصراﷲ خان صاحب کی وفات۔

Hadhrat Khalifatul Masih said that when he came for Friday Prayers last week he saw a large number of reporters had gathered. Upon inquiring Ameer sahib told him that they had come to observe the Ahmadi response in light of the Muslim reaction to the hurtful film in USA. Hadhrat Khalifatul Masih replied that his sermon was going to be on the same subject and he would give a discourse on what the response should be. An English language Pakistani newspaper presented the viewpoint of Ahmadiyya Jama’at very well with reference to the Friday sermon and meeting with the press. Again with reference to this phrase which was highly commended, some online commentators also said that Mirza Masoor Ahmad had not said something unusual, all sensible people said the same thing. Hadhrat Khalifatul Masih said: ‘Now, this message needs to be taken further and this wide coverage should be availed of. This is the task of every local Jama’at and every Ahmadi. As far as instruction regarding the modus operandi from the centre is concerned, I have instructed publication of the Friday sermon. This instruction and method would take a short while to reach Jama’ats. However, all the Ahmadis who are listening to me should avail of this opportunity provided by God. Books on the blessed life of the Prophet which have been translated in English should be given to local libraries in the English speaking world. In addition, if they have to be given free to certain communities, this can be done, especially those books which, as I said have been translated in English or other languages; these should be distributed abundantly. We are going to present the beautiful aspects of the blessed life of the Holy Prophet(saw) to the world. This is our task and should be discharged with determination. Today only the Ahmadiyya community can do this task with love. Hadhrat Khalifatul Masih said that recently here in the UK and in the Commonwealth Queen Elizabeth’s Diamond Jubilee was celebrated all year round. When the Diamond Jubilee of Queen Victoria took place the Promised Messiah(as) wrote a book by the name of ‘Tohfa e Qaisariyyah’ and sent it to the Queen. Promised Messiah(as) said: In summary, welfare of humanity, peace, harmony, righteousness, and fear of God call for adhering to the principle that we do not declare such prophets as false concerning whose truth the opinion of millions of people for centuries has been established, and they have been supported by God since time immemorial. I am confident that a seeker of truth, whether Asian or European, will cherish this principle, and will profoundly regret that he did not believe in it all along. Death of Maulana Nasrullah Khan Nasir Sahib.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
21-Sep-2012 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Dutch (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Kyrgyz (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)Uzbek (mp3)

Title: True Love for The Holy Prophet (saw)
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian | English | Bengali | Albanian
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

آجکل مسلم دنیا میں ، اسلامی ممالک میں بھی اور دنیا کے مختلف ممالک میں رہنے والے مسلمانوں میں بھی اسلام دشمن عناصر کے انتہائی گھٹیا ، گھناؤنے اور ظالمانہ فعل پر شدید غم و غصہ کی لہر دوڑی ہوئی ہے ، اس غم و غصہ کے اظہار میں مسلمان یقینا حق بجانب ہیں ، مسلمان تو چاہے اس بات کا صحیح ادراک رکھتا ہے یا نہیں کہ آنحضرت ﷺ کا حقیقی مقام کیا ہے ، آپ ﷺ کی عزت و ناموس کیلئے مرنے کٹنے پر تیار ہو جاتا ہے ۔ اس عظیم محسن انسانیت کیلئے ایسی اہانت سے بھری ہوئی فلم پر یقینا ایک مسلمان کا دل خون ہونا چاہئے تھا ، اور ہوا، اور سب سے بڑھ کر ایک احمدی مسلمان کو تکلیف پہنچی، کہ ہم آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق اور غلام صادق کے ماننے والوں میں سے ہیں جس نے ہمیں آنحضرت ﷺ کےعظیم مقام کا ادراک عطا فرمایا۔ اس وقت تو آ زادی اظہار کے نام پر ، سیاستدان بھی اور دوسرا طبقہ بھی ، کھل کر بعض جگہ اور اکثر دبے الفاظ میں ان کے حق میں بھی بول رہا اور اور بعض جگہ مسلمانوں کے حق میں بھی بول رہا ہے، لیکن یاد رکھیں کہ اب دنیا ایسا گلوبل ولیج بن چکی ہےکہ یہ باتیں ان ملکوں کے امن و سکون کو بھی برباد کر دیں گی اگر کھل کے برائی کو برائی نہ کہا گیا۔ پس جہاں ایک احمدی مسلمان اس بیہودہ گوئی پر کراہت اور غم و غصہ کا اظہار کرتا ہے ، ان لوگوں کو بھی اور اپنے اپنے ملک کے ارباب حکومت کو بھی اس بیہودہ گوئی سے باز رہنے اور روکنے کی طرف توجہ ایک احمدی دلاتا ہے اور دلانی چاہئے، دنیاوی لحاظ سے ایک احمدی کوشش کرتا ہے کہ اس سازش کے خلاف دنیا کو اصل حقیقت سے آ شنا کرے ، اصل حقیقت بتائے ، آ نحضرت ﷺ کی سیرت کے خوبصورت پہلو دکھائے ، آپﷺ کے خوبصورت اسوہ حسنہ کا اظہار اپنے ہر عمل سے کر کے اسلام کی تعلیم اور آ پﷺ کے اسوہ حسنہ کی عملی تصویر دنیا کو بن کر دکھائے۔ آزادی کے متعلق قانون کوئی آسمانی صحیفہ نہیں ہے ، حضور نے امریکہ میں سیاستدانوں کو وہاں تقریر میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا داروں کے بنائے ہوئے قانون میں سقم ہو سکتا ہے ، غلطیاں ہو سکتی ہیں ، بعض پہلو قانون بناتے ہوئے نظروں سے اوجھل ہو سکتے ہیں ، کیونکہ انسان غیب کا علم نہیں رکھتا لیکن اﷲ تعالیٰ عالم الغیب ہے ، اس کے بنائے ہوئے قانون جو ہیں ان میں کوئی سقم نہیں ہوتا ، پس اپنے قانون کو ایسا مکمل نہ سمجھیں کہ اس میں کوئی ردوبدل نہیں ہو سکتا۔ ہم احمدی مسلمان دنیا کی خدمت کیلئے کوئی بھی دقیقہ نہیں چھوڑتے ، امریکہ میں خون کی ضرورت پڑی ، گزشتہ سال احمدیوں نے ۱۲۰۰۰ بوتلیں جمع کر کے دیں ، اس سال پھر وہ جمع کر رہے ہیں، آج کل یہ کوشش چل رہی تھی، ان کو میں نے کہا کہ ہم احمدی مسلمان تو زندگی دینے کیلئے اپنا خون دے رہے ہیں ، اور تم لوگ اپنی ان حرکتوں سے اور ان حرکت کرنے والوں کی ہاں میں ہاں ملا کر ہمارے دل خون کر رہے ہو، پس یہ عمل ہے ایک احمدی مسلمان کا اور حقیقی مسلمان کا ، اور یہ لوگ جو سمجھتے ہیں کہ ہم انصاف قائم کرنے والے ہیں ، ان کے ایک طبقے کایہ عمل ہے ، مسلمانوں کو تو الزام دیا جاتا ہے کہ وہ غلط کر رہے ہیں ۔ جذبات کے احترام کا سوال پیدا ہوتا ہے ، اس میں بھی آپ ﷺ کا کوئی ثانی نہیں ہے ، باوجود اس علم کےکہ آپ ﷺ سب نبیوں سے افضل ہیں ، یہودی کے جذبات کے احترام کیلئے آپﷺ فرماتے ہیں ، مجھے موسیٰؑ پر فضیلت نہ دو، غرباء کے جذبات کا خیال ہے اور ان کے مقام کی آپﷺ نے اس طرح عزت فرمائی کہ ایک دفعہ آپﷺ کے ایک صحابیؓ جو مالدار تھے، دوسرے لوگوں پر اپنی فضیلت ظاہر کر رہے تھے، رسول کریم ﷺ نے یہ بات سن کر فرمایا کہ کیا تم سمجھتے ہو کہ تمہاری یہ قوت، اور طاقت اور تمہارا یہ مال تمہیں اپنے زور بازو سے ملے ہیں ، ایسا ہر گز نہیں۔ نوید احمد صاحب اور محمد احمد صدیقی صاحب کی پاکستان میں شہادت۔"

These days an intense wave of indignation has swept through the Muslim world; in Muslims countries as well as among Muslims living in different countries of the world in response to an extremely crude and offensive act of anti-Islam elements. Indeed, Muslims are justified in this. Whether or not a Muslim has proper insight of the real station of the Holy Prophet(saw), he is ready to give his life for his respect and honour. The extremely insulting film about this great benefactor of humanity was surely going to make a Muslim’s heart bleed and it did. And more than anyone, it pained Ahmadi Muslims for we are the followers of the true and ardent devotee of the Holy Prophet(saw) who gave us the insight and perception of the great station of the Holy Prophet(saw). Right now in the name of freedom of speech politicians and others, in places openly and in places discreetly, are speaking up for these people; some are also speaking up for the Muslims. But it should be remembered that this world is now like a global village and if wickedness is not openly called wickedness, these matters can also destroy the peace of these countries. While an Ahmadi expresses indignation and disgust at the vulgarity, he or she also tries to draw attention of people to desist from committing these vulgarities. From a worldly perspective an Ahmadi tries to make the world aware of the reality as opposed to this conspiracy and presents the beautiful aspects and blessed model of the Prophet(saw). The law about freedom of speech is not heavenly scripture. Hadhrat Khalifatul Masih said that this is what he had told the politicians in his address in USA. That there can be flaws in man-made laws; some aspects can be missed while legislating because man does not possess the knowledge of the unseen. But God is Knower of the unseen and there is no flaw in His laws. We, Ahmadi Muslims do not leave any stone unturned to serve the world. Last year the need arose in US and Ahmadis donated 12,000 bottles of blood and they are doing the same this year. Hadhrat Khalifatul Masih told them that while Ahmadis are donating blood, by agreeing with these people they are making our hearts bleed. Muslims are alleged to be doing wrong. There is the matter of regard for others’ sentiments in which the Prophet(saw) was incomparable. In spite of knowing that he was the most prominent among all Prophets, in regard of the sentiments of a Jew he said that he should not be given preference over Moses(as). His regard for the sentiments of the underprivileged can be seen in a tradition where one of his wealthy Companions was expressing his superiority over others. Martyrdom of Naveed Ahmad sahib and Muhammad Ahmad Siddiqi sahib in Pakistan.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
14-Sep-2012 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Gratitude - a source of blessings
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضور نے فرمایا ہم نے دیکھا گزشتہ دنوں یہ جلسہ اﷲ تعالیٰ کے فضل سے بخیر و خوبی اپنے اختتام کو پہنچا، الحمد اﷲ ، جلسے کے بعد کے خطبے میں حضور عموما دو مضامین کا ذکر کر تے ہیں، ایک تو شکر گزاری کا مضمون ہے جس میں اﷲ تعالیٰ کی شکر گزاری بھی ہوتی ہے ، اور کارکنوں کیلئے بھی شکریہ کا اظہار کیا جاتا ہے ، دوسرے بعض کمیوں اور کمزوریوں کی طرف نشاندہی کی جاتی ہے ۔ جہاں تک خدا تعالیٰ کی شکرگزاری کا سوال ہے ، اس سال میں تو اﷲ تعالیٰ کے فضل سے اﷲ تعالیٰ نے دنیا میں ہر جگہ جماعت کو ایسے مواقع مہیا فرمائے جن سے احمدیت یعنی حقیقی اسلام کا پیغام دنیا کے کونے کونے میں او ر ایسے طبقے میں جہاں اسلام کا حقیقی پیغام پہنچانا مشکل نظر آ تا ہے ، وہاں بھی احمدیت کا پیغام پہنچانے کی جماعت کو توفیق ملی، اور حضور کے مختلف ممالک کے دوروں کے دوران اﷲ تعالیٰ کے فضل کے نظارے ہم نے دیکھے ، جن کا ذکر حضور دوروں کے دوران اور اس کے بعد کے خطبات میں کر چکے ہیں ، بہرحال یہ اﷲ تعالیٰ کے فضلوں اور انعاموں کا سلسلہ اس سال ایک نئی شان سے یورپ میں بھی اور افریقہ میں بھی ، امریکہ میں بھی اور انگلستان میں بھی ہمیں نظر آ یا اور جماعت احمدیہ برطانیہ کے جلسے میں بھی ہر ایک نے مشاہدہ کیا ۔ آج ہم کہ سکتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ کے فضلوں کی بارش اور نشانات کا سلسلہ جماعت احمدیہ ہی دیکھ رہی ہے ورنہ جماعت احمدیہ کی مخالفت کی جو انسانی کوششیں ہیں اور جو عددی برتری ہمارے مخالفین ہم پر رکھتے ہیں ، جو دولت کے ذخائر ہمارے مخالفین کے پاس ہیں ، جو وسائل ان کے ہیں ، مالی مسائل، مادی مسائل، جس طرح حکومتیں ہمیں ختم کرنے پر کمربستہ ہیں اور کوششیں کر رہی ہیں، جس طرح اﷲ اور رسول کے نام پر بے علم عوام کو ہمارے خلاف بھڑکایا جاتا ہے ، اور خاص طور پہ پاکستان میں ان کی انتہا ہوئی ہوئی ہے ، گویا کہ اس وقت مخالفین احمدیت کوئی بھی دقیقہ نہیں چھوڑ رہے احمدیوں کو ختم کرنے کا ، اگر اﷲ تعالیٰ کا مسلسل فضل اور نشانات کا سلسلہ نہ ہوتا ، تو یہ دنیاوی کوششیں تو کب کی جماعت کو ختم کر چکی ہوتیں۔ پھر جلسہ کی حاضری کا خوف تھا اس سال ، کہ شاید گزشتہ سالوں کی نسبت نصف حاضری ہوگی کیونکہ سکول کھل گئے تھے ، مصروفیت ہوگئی تھی، والدین بھی نہیں آ سکتے تھے، لیکن اﷲ تعالیٰ نے غیر معمولی فضل فرمایا اور ہمیں شرمندہ کیا کہ تم افراد جماعت کے اخلاص اور وفا کو کم سمجھ رہے ہو، پس کس کس طرح اﷲ تعالیٰ کا ہم شکر کریں ، ہر کارکن اور ہر شامل ہونے والا اس بات پر بھی اﷲ تعالیٰ کا شکر گزار ہے کہ جلسہ ہر لحاظ سے کامیاب رہا بلکہ بعض تو مجھے لکھتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ گزشتہ سالوں کی نسبت زیادہ بہتر لگا ہے اور ہر لحاظ سے بہتر لگا ہے ۔ لجنہ کی طرف سے عمومی طور پہ تو بہت اچھی رپورٹ ملی ہے ، لجنہ کی مہمان نوازی کا ایک شعبہ خاص طور پر جو تبشیر کے زیر انتظام تھا اور ایک لحاظ سے مرکزی تھا ، اس کے متعلق حضور کو رپورٹ ملی ہے کہ یہاں غلط قسم کی سختی کی گئی اور بد تمیزی کی گئی ہے ، غیر ملکی مہمانوں سے کی گئی ، عربوں سے خاص طور پر یہ شکایت ملی ہے ۔ ملک محمد اعظم صاحب آف یو کے کی وفات، مریم کوریابا صاحبہ آف گیمبیا کی وفات۔ محمد نواز صاحب کی کراچی میں شہادت۔

We saw that with the grace of God, UK Jalsa successfully concluded on Sunday. The post-Jalsa Friday sermon usually addresses two subjects: firstly gratefulness; to God and also to the volunteer workers and secondly identification of any weaknesses or deficiencies noted during the Jalsa to improve future organisation. In terms of gratefulness to God, this year grace of God enabled the message of Ahmadiyyat that is true Islam to be taken to every corner of the Earth. This was also achieved in places where the task apparently looks difficult. This was experienced during the tours of Hadhrat Khalifatul Masih and he has spoken about these experiences. Grace and blessings of God were observed with new glory this year in Europe, Africa, America and Britain and everyone witnessed and experienced this during the UK Jalsa. Today we can say that it the Ahmadiyya Jama’at that is experiencing showers of Divine blessings. Our opponents, with their hoards of wealth make efforts against us; governments are intent on trying to eliminate us and incite the masses for this purpose. In short no stone is left unturned to finish the Ahmadis. If constant blessings and grace of God was not with us, this worldly effort would have eliminated us a long time ago. It was feared this year that attendance at Jalsa would be half compared to previous years because the schools had reopened. However, God embarrassed this fear of ours in underestimating the members of the Jama’at with His extraordinary grace. We are also grateful that the Jalsa was successful this year in every sense. In fact some are writing to Hadhrat Khalifatul Masih and are also relating to him that Jalsa this year was better than previous years and this improvement was in every aspect. In general very good report has been received about Lajna. However, report has been received about one Lajna department that is to do with hospitality, especially which was under Tabshir, and in a sense was central and cannot be considered belonging to the local Lajna, that wrongful control was exercised there and there was discourtesy towards guests from abroad, especially the Arabs. Death of Master Malik Muhammad Azam of UK, Maryam Koryaba sahiba of Gambia. Martyrdom of Muhammad Nawaz sahib in Karachi.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
07-Sep-2012 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Kyrgyz (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Purpose of Jalsa Salana
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت مسیح موعودؑ نے جلسہ کے قیام کا بنیادی مقصد یہ بیان فرمایا ہے کہ ایسی جماعت تیار ہو جو خدا تعالیٰ کی معرفت میں ترقی کرنے والی ہو ، خدا تعالیٰ کا خوف ان میں پیدا ہو، زہد اور تقویٰ ان میں پیدا ہو ، خدا ترسی کی عادت ان میں پیدا ہو، آپس کا محبت اور پیار ان میں پیدا ہو، نرم دلی اور محبت کا اعلیٰ معیار حاصل کرنے والے وہ ہوں۔ حضرت مسیح موعودؑ ایک مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اگر کوئی بیمار ہو جائے خواہ بیماری چھوٹی ہو یا بڑی، اگر اس کا علاج نہ کیا جائے اور بعض دفعہ علاج بذات خود ایک تکلیف دہ امر ہوتا ہے ، لیکن کرنا پڑتا ہے ، کیونکہ اس کے بغیر تکلیف بڑھتی چلی جاتی ہے ، صحت نہیں ہو سکتی۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں : جو دل ناپاک ہے، خواہ قول کتنا ہی پاک ہو، وہ دل خدا تعالیٰ کی نگاہ میں قیمت نہیں پاتا ، بلکہ خدا تعالیٰ کا غضب مشتعل ہوگا، پس میری جماعت سمجھ لے کہ وہ میرے پاس آ ئے ہیں اس لئے کہ تخمریزی کی جاوے جس سے وہ پھلدا ر درخت ہو جاویں ۔ حضرت مسیح موعودؑ نے جو مسلمانوں کی حالت کا ہلاکو خان اور چنگیز خان کی مثال دے کرنقشہ کھینچا ہے ، آج بھی اگر ہم نظر دوڑائیں تو یہی کچھ نظر آ تا ہے ، مسلمانوں کی طاقت کوئی نہیں رہی، غیروں کے لائحہ عمل پر عمل کر رہے ہی قرآ نی تعلیم کو بھلا بیٹھے ہیں ۔ پس ایک احمدی کو اپنے سچائی کے معیار بھی قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے ، ہر سطح پر اور ہر جگہ پر، مثلا آ ج کل بہت سے احمدی سیاسی پناہ کیلئے یورپی ملکوں میں ا ٓرہے ہیں، اور بعض دفعہ بعض لوگ غلط بیانی بھی کرتے ہیں ، حالانکہ اگر سچی بات بتائی جائے، پاکستان میں احمدیوں کے حالات بتا کر پھر اپیل کی جائے ، تو تب بھی اثر پیدا ہوتا ہے ۔ ان دنوں میں خاص طور پر جو جلسہ کے دن ہیں ، ہمیں درود، استغفار، پر زور دینا چاہئے، تاکہ ہم اپنی اصلاح کی طرف زیادہ سے زیادہ مائل ہوں، اپنی خواہشات اور جذبات کو خدا تعالیٰ کی خواہشات اور احکامات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش اور دعائیں کریں تاکہ ہم حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت کا حق ادا کرنے والے بن سکیں ۔ راؤ عبدالغفار صاحب کی کراچی میں شہادت۔ محترمہ صاحبزادی قدسیہ بیگم صاحبہ کی وفات، محترم چوہدری نذیر احمد صاحب سابق امیر ضلع بہاولپور کی وفات، فراس محمود صاحب آف شام کی وفات۔

The Promised Messiah(as) has said that the fundamental purpose of this Jalsa is that through it such a Jama’at - such a community should be prepared or come into being that should always be increasing its knowledge and cognizance of God Almighty; in whom the fear of God should begin to grow; in whom piety and righteousness should be found developing; who should be always craving for God; who should be found having deep love for each other. The Promised Messiah(as) gives an example and says: If a person becomes ill and if one does not treat the illness, then whether it is a minor illness or a major one, the pain and the disorder continues to increase and sometimes the treatment itself is a painful thing but it has to be done and without it things deteriorate and health cannot be regained. The Promised Messiah(as) said that heart which is not pure no matter how pure the speech is that emanates from that person the heart of such a one has no value in the sight of God. In fact such a one would cause God’s wrath to descend on such a one. So the members of my Jama'at must understand that they have come to me so that a seed may be sown so that they become like a tree that bears fruit. The sketch that the Promised Messiah(as) has drawn for us by giving the example of Genghis and Hulagu Khan - even today if we look around we see the same thing. Muslims have no strength, they are shaping and conducting their lives according to the dictates and understanding and requirements of others, they are following their syallabi, they have forgotten the teachings of the Holy Quran. So an Ahmadi must try to attain to lofty levels of adherence to the truth on every level and plain. For example these days many Ahmadis are coming to European countries seeking asylum and sometimes some of these people even say untrue things whereas if only the truth is spoken and an appeal is lodged with the authorities by informing them of the true situation being faced by the Ahmadis in Pakistan even then this has a real impact. During these days of the Jalsa we should especially exert yourselves in durood and istighfar so we may be moved to reform ourselves and we may become capable of bringing our own wishes and desires in accord with the wishes and commands of God Almighty and pray so that we may become those who fully discharge the responsibility that falls upon all of us who have entered into the system of bai'at with the Promised Messiah(as). Martyrdom of Mr. Rao Abdul Ghaffar Sahib in Karachi. Death of Respected Sahibzadi Qudsia Begum Sahiba, Respected Chaudhry Nazeer Ahmad Sahib former Ameer District Bahawalpur and Firas Mahmood Sahib of Syria.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
31-Aug-2012 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Hospitality of the guests of the Promised Messiah
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

اﷲ تعالیٰ کے فضل سے یوکے جلسہ سالانہ کی آ مد آ مد ہے اور انشاء اﷲ تعالیٰ اگلے جمعہ سے جلسہ سالانہ شروع ہو رہا ہے انشاء اﷲ ۔ اﷲ تعالیٰ کے فضل سے مختلف شعبہ جات کے کارکنان حسب سابق بڑا وقت دے رہے ہیں اور جلسہ سالانہ کی تیاری کیلئے بڑی محنت اور قربانی کر رہے ہیں ، یہاں آ نے والے، جلسے میں شامل ہونے والے ، غیر از جماعت مہمان جو ہیں ، اکثر آتے ہیں ، ہر سال آتے ہیں ، وہ حیران ہوتے ہیں کہ ایک چھوٹا سا شہر ہی عارضی طور پر آباد کر دیا جاتا ہے جس میں تمام سہولتیں موجود ہوتی ہیں اور یہ کام صرف ۱۰، ۱۵ دن میں ہو جاتا ہے۔ یہ خصوصیت بھی اس وقت صرف یو کے کے جلسہ سالانہ کو ہے اور اس جلسہ میں کام کرنے والے کارکنان کیلئے کوئی خصوصیت حاصل ہے کہ خاص طور پر اس موضوع پر مہمانوں کی خدمت کرنے والوں کو حضرت مسیح موعودؑ کے مہمانوں کی خدمت کی اہمیت کے بارے میں کچھ کہا جائے ، یہ اس لئے نہیں کہ یوکے میں کام کرنے والے کارکنان کے جوش و جذبے میں کوئی کمی ہے اور دنیا کے دوسرے ممالک کے کارکنان زیادہ جوش اور جذبے سے کام کرتے ہیں ، نہیں بلکہ اس لئے کے یوکے کے جلسہ کی اہمیت دنیا کے کسی بھی جلسہ سالانہ کی اہمیت سے اس وقت زیادہ ہے ، یعنی گزشتہ ۲۷، ۲۸ سال سے یہ اہمیت زیادہ ہے ، کیونکہ یہ جلسہ اب عالمی جلسہ کی صورت اختیار کر گیا ہے ۔ حضرت مسیح موعودؑ کس طرح مہمان کا خیال رکھا کرتے تھے، اس کا اندازہ ایک واقعے سے بخوبی ہو سکتا ہے کہ ایک مرتبہ آ پ ؑ بیمار تھے، طبیعت بہت ناساز تھی، مہمان آ نے کی خبر ہوئی آ پ ؑ کو تو فوری طور پر باہر تشریف لے ا ٓئے اور فرمایا کہ آ ج میں باہر آ نے کے قابل نہیں تھا لیکن مہمان کا کیونکہ حق ہوتا ہے، وہ تکلیف اٹھا کے آ تا ہے ، اس لئے میں اس حق کو ادا کرنے کیلئے باہر آ گیا ہوں، وہ مہمان جو حضرت مسیح موعودؑ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھےا ٓ پؑ کی صحبت سے فیض پانے کیلئے آ تے تھے اور آ پؑ کے حکم سے ہی آ تے تھے۔ پہلے تو جب تعداد تھوڑی تھی تو حضرت مسیح موعودؑ خود مہمانوں کی مہمان نوازی کا انتظام فرماتے تھے اور انکے ساتھ کھانا بھی کھاتے تھے لیکن پھر تعداد کی زیادتی ایک وجہ بنی اور پھر کچھ پرہیزی کھانے اور طبیعت کی وجہ سے علیحدہ کھانا پڑا اور اب تو اﷲ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کی تعداد بہت وسعت اختیار کر چکی ہے اور حضرت مسیح موعودؑ کی نمائندگی میں خلیفہ وقت کیلئے یہ ممکن نہیں ہے کہ اس طرح ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا جائے یا ہر ایک کا انفرادی طور پر خیال رکھا جائے براہ راست۔ آنے والے مہمانوں کو بہرحال یہ احساس ہوتا ہے کہ یہ لوگ خلیفہ وقت کے قریب رہنے والے ہیں اس لئے ان کے ہر قسم کے معیار اونچے ہونگے اور ہونے چاہیئں ، عبادتوں کے معیار بھی، نیکی کے معیار بھی، اعلیٰ اخلاق کے معیار بھی، پس ہر کارکن یہ خیال رکھے کہ صرف ڈیوٹی ادا کرنا ہی اس کا فرض نہیں ہے بلکہ نمازوں اور عبادت کی طرف توجہ اور باقاعدگی بھی انتہائی اہم ہے ان دنوں میں خاص طور پہ، اسی طرح دوسری نیکیوں کی طرف بھی توجہ ہو، جلسہ کے دنوں میں مزید نکھر کر اس کو سامنے آنا چاہئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انگلستان کی جماعت ہر سال جلسے پر مہمان نوازی کا حق ادا کرنے کی کوشش کرتی ہے ، ہر کارکن اس کا حق ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے ، ایک وقت تھا جب کہا جاتا تھا یوکے کی جماعت کو جلسہ سالانہ کے انتظامات سنبھالنے کی طاقت اور استطاعت نہیں ہے اور مرکز سے حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی ہجرت کے شروع چند سالوں تک اس نظام کو چلانے کیلئے مدد لی جاتی تھی ، وہاں سے بعض عہدیداران اور افسران آتے تھے جو مدد کرتے تھے آپ لوگوں کی ، لیکن اب اﷲ تعالیٰ کے فضل سے افسران بھی اور کارکنان بھی تربیت یافتہ ہیں اور احسن رنگ میں کام سر انجام دینے والے ہیں ۔

With the grace of God UK Jalsa Salana is approaching and will InshaAllah begin next Friday. As before, with the grace of God, workers of various departments are giving a lot of their time to their tasks and are working hard. Each year people from outside the Jama’at come to the Jalsa and are amazed how a small city is set up on temporary basis for Jalsa and that this is accomplished in ten to fifteen days. At present the UK Jalsa has the distinction that it is the only Jama’at that is addressed prior to Jalsa. The UK Jalsa workers have the distinction that they are particularly addressed on the significance of serving Jalsa guests. This is not because the UK volunteers have any dearth of enthusiasm and the workers of other countries have greater enthusiasm. Not at all. Rather, this is because the significance of the UK Jalsa is greater than any other Jalsa in the world. For the past 27 to 28 years the UK Jalsa has taken the form of international Jalsa. An incidence from the life of the Promised Messiah(as) shows how he looked after guests. Once he was quite unwell but when he heard that a guest had arrived, he promptly came outside. He said that he was not well enough to come outside on the day but a guest takes the trouble to come and has a right and the Promised Messiah(as) came out to fulfil that right of his guest. Indeed, the Promised Messiah’s(as) guests used to visit him to seek benefit from him and did so on his instigation. In early days the Promised Messiah(as) used to personally be around to serve his guests. Later, due to the numbers increasing as well as his special dietary requirements he started eating separately. Now, the number of Jama’at has increased further still and in representation of the Promised Messiah(as) it is not possible for the Khalifa of the time to eat with guests and personally take care of everyone. The guests feel that the people working for Jalsa live closer to the Khalifa of the time and expect higher standards from them in every aspect. Indeed, their standards should be higher. These include standards of worship of God, piety and courtesy. Attention to Salat and worship is most important as is attention to other pieties and courtesy. All these attributes should manifest themselves further enhanced during Jalsa days. There is no doubt that the UK Jama’at tries to fulfil the dues of Jalsa hospitality each year. There was a time when it was said that the UK Jama’at did not have the strength or the capacity to organise Jalsas and help was sought from the centre in the early years after the migration of Hadhrat Khalifatul Masih IV. However, now with the grace of God the management and the workers are fully trained and discharge their duties in a fine manner.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
24-Aug-2012 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)French (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Noble Nature of Companions of Promised Messiah (as)
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت نظام الدین صاحبؓ : آپ فرماتے ہیں کہ ہم اہل حدیث اپنے آپ کو متقی اور ہر ایک حرام اور جھوٹ سے پرہیز کرنے والا خیال کرتے تھے، ایک دفعہ ہم انجمن حمایت اسلام کا جلسہ دیکھنے لاہور آ ئے، ہم جلسہ گاہ جا رہے تھے کہ پنڈال کے باہر ایک مولوی صاحب وعظ فرما رہے تھے ، ایک ہاتھ میں قرآن کریم تھا اور دوسرے ہاتھ سے چھوٹے چھوٹے اشتہارات بانٹ رہے تھے منہ سے یہ کہتے جاتے تھے کہ مرزا نعوذ باﷲ کوڑھی ہو گیا ہے ، اس لئے کیونکہ نبیوں کی ہتک کرتا تھا اور خود کو عیسیٰ کہتا تھا۔ حضرت عبدالعزیز صاحب ؓ : آپ فرماتے ہیں کہ ۱۸۹۱ میں ایک احمدی کے ذریعے آپ کو حضرت مسیح موعودؑ کے دعویٰ کا علم ہوا، کیونکہ آپ کے دل میں حضرت مسیح موعودؑ کے خلاف کوئی بغض اور عداوت نہ تھا تو آپ نے ان کے کہنے کو برا نہ منایا ، آپ کے گھر والے بھی بوجہ دین دار ہونے کے مولوی لوگوں سے محبت رکھا کرتے تھے تو آپ کے دل میں خیال آ تا تھا کہ کہ کیوں مولوی لوگ ایسا کہتے ہیں، آپ کو حضرت مسیح موعودؑ کی کتاب ازالہ اوہام دیکھنے کو دی گئی۔ حضرت ڈاکٹر محمد عبداﷲصاحبؓ : آ پ بیان کرتے ہیں کہ میری عمر ۱۷ یا ۱۸ برس کی تھی جب میں نے خواب میں حضرت مسیح موعودؑ کی زیارت کی، حضور نے دریافت فرمایا کہ تم کس کے مرید ہو، میں نے عرض کیا کہ جناب محمد مصطفیٰ ﷺ کا مرید ہوں ۔ حضرت ملک عمر خطاب صاحب ؓ: آپ بیان کرتےہیں کہ خاکسار جب سن بلوغت کو پہنچا تو حضرت مسیح موعودؑ کا دعویٰ مامور من اﷲ سننے میں آیا ، شوق پیدا ہوا کہ جس قدر جلدی ہو سکے، پہنچ کر بیعت کا شرف حاصل کروں ، ۱۹۰۵ میں اپنے دلی ارادے کے تحت قادیان پہنچا ، ایک چھوٹی سی بستی اور کچی دیواروں کا مہمان خانہ اور چند طالب علموں کا درس جس کی تدریس مولانا حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحب ؓ کر رہے تھے، نظر سے گزرے، اس قدر دعویٰ اور موجودہ بستی پر حیرانگی کا ہونا ممکنات میں سے تھا، لیکن باوجود اس کے قلب صداقت پر شاہد تھا۔ حضرت رحمت اﷲ احمدی صاحب ؓ: آپ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ نے چند ماہ لدھیانہ میں قیام فرمایا ، میری عمر اس وقت تقریبا ۱۷ یا ۱۸ برس کی ہوگی اور طالب علمی کا زمانہ تھا ، میں حضور کی خدمت میں گاہے بگاہے حاضر ہوتا ، مجھے وہ نور جو حضور کے چہرہ مبارک پر ٹپک رہا تھا نظر آیا، جس کے سبب سے میرا قلب مجھے مجبور کرتا کہ یہ جھوٹوں کا منہ نہیں ہے مگر گردونواح کے مولوی مجھے شک میں ڈالتے۔ مکرم محمد ہاشم سعید صاحب کی وفات کی افسوسناک خبر دی گئی ، آپ کی سعودی عرب میں وفات ہوئی اور ان کا جنازہ آج پہنچا ہے ، آپ اکثر یوکے اور سعودی عرب کا سفر کرتے رہتے تھے، آپ ۲۰۰۰ میں سعودی عرب منتقل ہوئے تھے اور متواتر کئی سال تک آپ کو وہاں پہ جماعتی خدمات انجام دینے کی توفیق ملی، اس کے علاوہ حضرت خلیفۃ المسیح اہم جماعتی کام ان سے لیتے رہے ہیں اور اﷲ تعالیٰ کے فضل سے بڑے احسن طریق پر سب کام انہوں نے انجام دیئے، بہت سی خوبیوں کے مالک تھے، انتظامی امور میں بڑا درق رکھتے تھے، تکنیکی پیچیدگیوں کے بارہ میں بھی آ پ کو علم تھا۔

Hadhrat Nizam Din sahib(ra): He writes that he belonged to Ahle Hadith community which presumed to be most righteous. He once came to Lahore to attend an annual religious convention. Next to the marquee of the convention a maulwi was distributing leaflets while holding the Qur’an in one hand and announcing that ‘Mirza’ had (God forbid) caught leprosy because he insulted Prophets, called himself Isa etc. Hadhrat Abdul Aziz sahib(ra): He heard about the claim of the Promised Messiah(as) in 1891 through some Ahmadi acquaintances. As he had no preconceived enmity regarding the Promised Messiah(as) he did not mind what the acquaintance told him. However, his family was reverent towards maulwis so he wondered why the maulwis were so against him. Aziz sahib was given the Promised Messiah(as)’s book ‘Izala Auham’ to read. Hadhrat Dr Muhammad Abdullah(ra): He writes that in December 1903 when he was about 18 or 19 years old he saw the Promised Messiah(as) in his dream for the first time. In the dream the Promised Messiah(as) asked him whose follower he was and he replied, the Holy Prophet’s(saw). Hadhrat Malik Umer Khattab(ra): He writes that he heard about the Promised Messiah(as)’s claim in his adolescence and felt a keenness to take Bai’at. In 1905 he went to Qadian with the intention of taking Bai’at. Upon reaching the small hamlet with mud houses, where just a few students were being taught by Hadhrat Khalifatul Masih I(ra) he could not equate the tremendous claim of the Promised Messiah(as) with the small scale of Qadian. Yet his heart was convinced at his truthfulness. Hadhrat Rehmat Ullah Ahmadi sahib(ra): He writes that he went to see the Promised Messiah(as) during one of his visits to Ludhiana. Rehmat sahib was a 17 or 18 year old at the time. When he saw the spiritual light of the Promised Messiah’s(as) face his heart compelled him that this could not be the face of a liar and wondered why the maulwis created doubts. The sad news of the passing away of Hashim Saeed sahib was given next. He passed away in Saudi Arabia and his funeral had arrived today. He regularly travelled between Saudi Arabia and UK. He had gone to Saudi Arabia in 2000 and was enabled to serve on important Jama’at posts in his time there. In addition Hadhrat Khalifatul Masih sought significant Jama’at tasks from him which he performed in excellent manner. He was a man of many qualities. He was an expert in organisational matters and understood the intricacies of technical matters.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
17-Aug-2012 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Obedience to The Prophet (saw)
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian | Bengali
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمیں اﷲ تعالیٰ نے آ نحضرت ﷺ کی امت میں سے بنایا، اور پھر آ پ ﷺ کو ان تمام احکامات کا جو قرآن کریم کی صورت میں آ پﷺ پر اترے ہیں ، ایک عملی نمونہ بنادیا ، ایک ایسا عملی نمونہ جو کامل تھا، جس نے آپ کو عبد کامل بنا دیا ، یہ آ یات جو تلاوت کی گئیں ہیں، ان میں اسی بات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے بلکہ حکم دیا گیا ہے کہ ایک مسلمان کا ایک ایمان لانے کا دعویٰ کرنے والے کا ایمان اس وقت مکمل ہوگا ،خدا تعالیٰ کا قرب اس وقت حاصل ہوگا، جب میرے رسول ﷺ کے اسوہ پر چلے گا ۔ یہ ہماری خوش قسمی ہے کہ ہم مسلمان ہیں لیکن آپ ﷺ کی امت میں سے ہونے اور مسلمان ہونے کے فیض ہم تبھی اٹھا سکتے ہیں جب ہم آپ ﷺ کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کریں ، جب ہم ان احکامات کو اپنے اوپر لاگو کرتے ہوئے اس طرح بجا لانے کی کوشش کریں ، جس طرح آنحضرت ﷺ نے ہمیں کر کے دکھایا ہے ،عبادت کا سوال ہے تو یہ نہ سمجھو کہ ایسے عمل کر کے جو میں نے نہیں کئے ، تم عبادت کا حق ادا کر سکو گے، اس زمانے میں ہم پر حضرت مسیح موعودؑ کا احسان ہے جو آ پ ﷺ کے عاشق صادق ہیں کہ ہمیں آپ ﷺ کے حقیقی اسوہ کو سمجھنےاور اس پر عمل کرنے کی راہنمائی فرمائی ہے ۔ پس یہ خوشخبری ہے ہر اس شخص کیلئے جو کہ کامل اطاعت کرتا ، پیروی کرتا ہے آنحضرت ﷺ کی، کہ اس کامل پیروی سے شدید ترین گناہ بھی دھل جاتے ہیں ، اگر حقیقت میں خدا تعالیٰ کا عبد اور پیارا بننا ہے تو پھر آ نحضرت ﷺ کے اسوہ کی پیروی کو جاری رکھنا بھی ضروری ہے ، آپ ﷺ کا عمل یا نمونہ کسی ایک چیز کے بارہ میں نہیں تھا یا خاص رمضان کیلئے مخصوص تھا ۔ قرآن کریم سے ثابت ہوتا ہے کہ جن احکامات پہ اﷲ جل شانہ انسان کو قائم کرنا چاہتا ہے وہ چھ سو ہیں ، ایسا ہی ان کے مقابل پر جبرائیلؑ کے پر بھی چھ سو ہیں ، اور بیضہ بشریت، جب تک چھ سو حکم کو سر پر رکھ کر جبرائیلؑ کے پروں کے نیچے نہ آوے اس میں فنا فی اﷲ ہونے کا بچہ پیدا نہیں ہوتا، یعنی انسان کو جو خول ہے انڈہ ہے پیدائش کا ، مثال دی گئی ہے ، وہ ان چھ سو احکامات کو اپنے اوپر جب تک طاری نہ کرو ، اس وقت تک فنا فی اﷲ انسان نہیں ہو سکتا، وہ بچہ نہیں پیدا ہوتا جس سے انسان اﷲ تعالیٰ کے قریب ترین ہو جائے ، اور انسانی حقیقت اپنے اندر چھ سو بیضے کی استطاعت رکھتی ہے ۔ ہم پر خدا تعالیٰ کا یہ احسان ہے کہ نہ صرف مسلمان بنایا بلکہ آپ کے غلام صادق کو آپ ﷺ کا سلام پہنچانے کی توفیق بھی ہمیں عطا فرمائی، یہی احسان اتنا بڑا ہے کہ ہم اس کا شکر ادا نہیں کر سکتے، ایک احمدی اس کا بھی شکر ادا نہیں کر سکتا، جو بھی کوشش ہو تب بھی ہم اس کا شکر ادا نہیں کر سکتے، پس ہر احمدی کی یہ کوشش ہونی چاہئے کہ ہم اپنی اپنی بساط اور استطاعت کے مطابق اﷲ تعالیٰ کی عبادت کا حق ادا کرنے کی کوشش کریں ۔ آپ ﷺ کا تحمل بھی انتہا کو پہنچا ہوا تھا، شراب کی حرمت سے پہلے ایک صحابیؓ نے نشے میں آپ ﷺ کو بہت کچھ کہ دیا ، آپ خاموشی سے سنتے رہے کچھ نہیں کہا اسے، جب اﷲ تعالیٰ نے آپ کو بادشاہت بھی عطا کر دی ، حکومت بھی قائم ہو گئی، تو اس وقت بھی اس تحمل کی اعلیٰ مثالیں ہمیں ملتی ہیں۔ آپ ﷺ اپنے بچوں اور ساتھ رہنے والے بچوں کیلئے یہ دعا کیا کرتے تھے: ’اے اﷲ میں ان سے محبت کرتا ہوں، تو بھی ان سے محبت کر‘، بچوں کو کبھی سزا نہیں دی، ہمیشہ پیار اور دعا کے ذریعہ سے تربیت کی، جب بھی کوئی پہلا پھل آ تا تو پھلوں میں برکت کی دعا کرتے اور پہلے وہ پھل مجلس میں موجود سب سے چھوٹے بچے کو عنایت فرماتے۔

We are fortunate to be included in the Ummah of the Holy Prophet(saw) who was an exemplar of all the Quranic commandments, presenting a perfect and blessed model. The aforementioned verses draw attention to this subject and command that a Muslim claiming to have faith will accomplish faith and will gain nearness to God when he or she will follow the blessed model of the Prophet(saw). Fortunately, we are Muslims but we will only derive the beneficence of being a part of the Ummah when we will try to walk in the footsteps of the Holy Prophet(saw). He made us very clear that God’s nearness and love cannot be attained by following steps which he did not practice. In the current age, it is the favour of his true and ardent devotee, the Promised Messiah(as) that he has guided us to understand and indeed practice the true example of the Holy Prophet(saw). This is glad-tiding for that person who obeys the Prophet(saw) and follows him because his perfect following erases the worst of sins. If one truly wishes to become an Abd and beloved of God it is most important to continue to follow the blessed model of the Holy Prophet(saw) rather than follow it at the odd opportunity. The practice of the Holy Prophet(saw) was not limited to any one aspect nor was it specific to Ramadan. The Holy Qur’an shows that the commandments of God to which He desires man to conform are six hundred. In consonance with this the wings of Gabriel are also six hundred. Till the egg of humanness lies under the wings of Gabriel bearing these six hundred commandments, it cannot hatch the baby of being completely lost in Allah. The reality of man has the capacity of six hundred eggs. It is God’s favour on us that not only did He make us Muslims, He also enabled us to take the greetings of the Holy Prophet(saw) to His true and ardent devotee, the Promised Messiah(as). This favour alone is so huge that we could never thank God for it. It should be the effort of every Ahmadi to try and pay the dues of worship of God according to his or her capacity. The Holy Prophet(saw) had remarkable forbearance and tolerance. Before the commandment of prohibition of alcohol, once an inebriated Companion spoke inappropriately to the Prophet(saw) but he did not say anything to him. There are many incidents of his forbearance after he migrated to Medina and had great power at his disposal. The Holy Prophet(saw) used to pray for his own children and other children who lived with him: ‘O Allah, I love them, You love them too.’ He never punished children and always trained them with love and prayer. When the first fruit of the season came he would pray for the fruit to be blessed and then first give the fruit to the youngest child in the assembly.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
10-Aug-2012 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Kyrgyz (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Become true servants of Allah
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

ایک مومن کو یقینا یہ فکر ہونی چاہئے کہ ہم رمضان سے زیادہ سے زیادہ فیض حاصل کرنے والے بن سکیں ، ایک احمدی کو اگر یہ فکر نہ ہو تو حضرت مسیح موعودؑ اور مہدی موعودؑ کو ماننے کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے ، ایک انقلاب ہی ہے جو حضرت مسیح موعودؑ ہمارے اندر پیدا کرنے کیلئے حضرت مسیح موعودؑ تشریف لائے تھے، ایک ایسا انقلاب جو بندے کو خدا سے ملانے والا ہو۔ یہ اﷲ تعالیٰ کا احسان ہے کہ ہمیں وقتا فوقتا مختلف طریقوں سے ان نیکیو ں کی طرف توجہ دلانے کے مواقع فراہم کرتا رہتا ہے جو اس نے بیان فرمائے ہیں اور رمضان المبارک ان مواقع میں سے انتہائی اہم ، عظیم اور بابرکت موقع ہے ، پس یہ یقینا ہماری خوش قسمتی ہے کہ رمضان کے مہینے میں اپنے اندر ایک انقلاب پیدا کرنے کی ہمارے اندر ایک خواہش پیدا ہو اور پھر اس کیلئے ہم کوشش بھی کریں لیکن ہماری کوشش اس وقت ہمیں فائدہ دے سکتی ہے جب اس کے حصول کیلئے بھی ہم وہی طریق اختیار کریں جو خدا تعالیٰ نے ہمیں بتائے ہیں ۔ حضور نے فرمایا پس جہاں عبادی کے لفظ سے یعنی میرے بندے ، اﷲ تعالیٰ کے جس پیار کا اظہار ہو رہا ہے وہاں اس بات کا بھی پتہ چل رہا ہے کہ اﷲ تعالیٰ ہر انسان کے سوال پر جواب نہیں دے رہا کہ میں قریب ہوں ، جو چل کر خدا تعالیٰ کی طرف جانا تو دور کی بات ہے ، ایک بالشت بھی اﷲ تعالیٰ کی طرف بڑھنا نہیں چاہتا ، وہ لوگ عبادی کے زمرے میں نہیں آ تے ، اﷲ تعالیٰ نے ہر انسان کو مخاطب نہیں کیا یا بشر کا لفظ استعمال نہیں کیا ، بلکہ اس عبد کو مخاطب کیا ہے جو عبد بننے کی طرف توجہ رکھتا ہے اور اس کیلئے کوشش کر رہا ہے ۔ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا : انسان کے دل میں خدا تعالیٰ کے حصول کا ایک درد ہونا چاہئے جس کی وجہ سے اس کے نزدیک وہ ایک قابل قدر شے ہو جائے گا ، اگر یہ درد اس کے دل میں نہیں ہے اور صرف دنیا اور اس کے مافیہا کا ہی درد ہے تو آ خر تھوڑی سی مہلت پا کر وہ ہلاک ہو جائے گا ۔ اﷲ تعالیٰ کی صفات کو اپنا کر ایک بندہ خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرتا ہے ، یہی رنگ ہے جو مومن اپنے اوپر بھی چڑھاتا ہے تو اپنی پیدائش کے حقیقی مقصد کو حاصل کر لیتا ہے ، پس اﷲ تعالیٰ کا عبد بننے کیلئے اﷲ تعالیٰ کی صفات کا مظہربننے کی بھی ایک مومن کو کوشش کرنی چاہئے ، وہ اعمال بجا لانے کی کوشش کرنی چاہیئں جو خدا تعالیٰ کو پسند ہیں ، ان باتوں سے رکنا چاہئے جو خدا تعالیٰ کو ناپسند ہیں ، تبھی صحیح رنگ میں اﷲ تعالیٰ کا عبد انسان بن سکتا ہے ، جب اﷲ تعالیٰ نے یہ کہا کہ اﷲ تعالیٰ کا رنگ اختیار کرنے کی کوشش کرو، اس کی صفات کا مظہر بننے کی کوشش کرو تو اس کا مظلب یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے یہ صلاحیت انسان کو عطا فرمائی ہے کہ وہ یہ صفات اپنا سکے ، اپنے دائرے کے اندر ان صفات کا پھر اظہار بھی کر سکے۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا : میں اکثر میٹنگوں میں عہدیداران کو توجہ دلاتا ہوں کہ ہر سطح اور تنظیم کے عہدیدار اپنی عبادتوں کے معیار کو ہی بہتر کر لیں اور مسجدوں کو آباد کرنا شروع کردیں تو مسجدوں کی حاضری موجودہ حاضری سے دو تین گنا پڑھ جائے گی ، اسی طرح باقی احکامات ہیں اﷲ تعالیٰ کے ان کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے تو بہت سے مسائل خود بخود حل ہو جاتے ہیں ، قران کریم کا ایک یہ حکم بھی ہے کہ انصاف کو اس طرح قائم کرو کہ اپنےخلاف یا اپنے قریبی رشتہ داروں کے خلاف بھی گواہی دینی پڑے تو دو۔ اپنے ماحول میں اپنے ملنے والوں سے، اپنے ہمسایوں سے حسن سلوک کریں کیونکہ یہ بھی اسلام کی ایک بہت اہم تعلیم ہے ، ہمسایوں کی جو تعریف حضرت مسیح موعودؑ نے فرمائی ہے اور جس طرح ہمسائیگی کے حق کو آپ نے وسعت دی ہے ، اگر ہم اس کو اس طرح وسعت دیں تو ہماری آ س پاس کی رنجشیں بالکل ختم ہو جائیں ، ایک گھر نہیں ، سو گھر نہیں ، اگلے شہر تک، ملک تک یہ وسعت پھیلتی چلی جاتی ہے ۔

Indeed, a believer should be concerned to derive maximum beneficence from Ramadan. If an Ahmadi is not thus concerned the objective to accept the Promised Messiah(as) is negated. He came to this world to bring a spiritual revolution that was to take man closer to God. It is God’s grace and favour that time and again He provides us with occasions to attain these pieties and Ramadan is a very great and most blessed opportunity among such opportunities. Certainly, fortunate are those in whom desire to bring about spiritual revolution is created during Ramadan and they also make effort for it. However, efforts will only be beneficial when only those ways and means are adopted which God has taught. While the word Ebaadi (My servants) in the verse indicates God’s love for His servants, it also shows that He does not say ‘I am near’ to the call of every person. One who does not want to go even a span towards God does not come in the category of ‘Ebaadi’. In this verse God has not used the word Bashr (man), rather Ebaadi is used signifying the addressee to be one who is inclined towards becoming an Ebd (servant). Promised Messiah(as) said: ‘Man should have an aching in his heart to attain nearness of God. For this reason, he will be worthy in God’s view. If he does not have this aching in his heart and only aches for the world and all that is in it, then ultimately, he will be finished after given a brief respite.’ By adopting Divine attributes a person gains nearness to God. When a believer imbues God’s colour he or she attain his or her purpose of creation. He or she tries to practice that which God likes and tries and resists what God dislikes. The commandment ‘to adopt the religion/colour of God’ signifies that God has put the capacity in humans to adopt His attributes within their own sphere and to also demonstrate them. Hadhrat Khalifatul Masih often draws the attention of office-holders in meetings that if the office-holders on every level, of every auxiliary enhance their standards of worship, the current attendance at mosques can increase two to three times. Similarly there are other commandments that require attention. There is the commandment to be equitable even if one has to give testimony against oneself or against one’s parents or close relations. Be kind and courteous to your acquaintances and neighbours. This is an important teaching of the Qur’an. If we were to understand the definition of neighbour as explained by the Promised Messiah(as) and extend its scope as far as he has defined, our mutual grievances would be removed, its scope would extend to more than one house. Rather, it will extend to a hundred houses, to the next city and beyond to other country.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
03-Aug-2012 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Attributes of a Momin
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian | Bengali
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضور نے فرمایا: آ ج خدا تعالیٰ کی خشیت کے حوالے سے کچھ بیان کیا جائے گا، یہ خشیت کا لفظ ہم عموما استعمال کرتے ہیں، اگر اس کی روح کا پتہ چل جائے تو نیکیاں بجا لانے کا معیار بھی ہمارا بڑھ جائے ، حضور نے فرمایا اس لئے اس لفظ کے لغوی معنی بھی میں آج بیان کرنا چاہوں گا ، خشیت کے عام معنی خوف کے کئے جاتے ہیں ، بیشک یہ معنی بھی ٹھیک ہیں ، اور اﷲ تعالیٰ کا خوف جس میں ہو تو اسے نیکیوں کی طرف توجہ دلاتا ہے پھر یہ خوف، لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کا خوف کسی عام خوف یا ڈر کی طرح نہیں ہے ۔ یہاں یہ بھی سوال ذہن میں آ تا ہے کہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی حقیقی خشیت علماء میں ہی ہوتی ہے تو کیا ہر عالم کہلانے والا یا اپنے زعم میں عالم اﷲ تعالیٰ کی خشیت رکھتا ہے اور یہ بھی شاید کہ جو غیر عالم ہیں وہ اس معیار تک نہیں پہنچ سکتے جو اﷲ تعالیٰ خشیت کا معیار چاہتا ہے ، اگر یہی معیار ہے کہ صرف عالم اس تک پہنچ سکے تو پھر آ ج کل تو ہم ایسے ہزاروں لاکھوں علماء دیکھتے ہیں جن کے قول و فعل میں تضاد ہے جو قرآ ن کریم کو بھی نہیں سمجھتے صحیح طرح ، جنہوں نے اس زمانے کے امام کو نہ صرف مانا نہیں بلکہ مخالفت میں گھٹیا ترین حرکتوں کی بھی انتہا کی ہوئی ہے اور کہلاتے وہ عالم ہیں ۔ حضور نے فرمایا یہاں اس بات کی وضاحت بھی کر دوں کہ بیشک اسلام دین کامل ہے اور یہ دینی علم رکھنے والے دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ ہم نے دین کا علم حاصل کیا ہے ، اسلام کا بعض لوگ پیغام بھی پہنچاتے ہیں ، اسلام کا پھیلنا بھی اﷲ تعالیٰ کی تقدیروں میں سے ایک تقدیر ہے لیکن یہ ایسے علماء کے ہاتھوں سے نہیں ہوگا جن کے دنیاوی مفادات ہیں ۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: یاد رکھو لغزش ہمیشہ نادان کو آ تی ہے ، شیطان کو جو لغزش آ ئی وہ علم کی وجہ سے نہیں بلکہ نادانی سے آ ئی، اگر وہ علم میں کمال رکھتا تو لغزش نہ آتی ، قرآن کریم میں علم کی لغزش نہیں بلکہ ’اﷲ تعالیٰ سے ڈرنے والے اﷲ تعالیٰ کے وہ بندے ہیں جو علماء ہیں ‘ پھر فرمایا اور نیم ملا خطرہ ایمان مشہور ہے ۔ علم اس چیز کو کہتے ہیں جو یقینی اور قطعی ہو اور سچا علم قرآ ن کریم سے ملتا ہے ، یہ نہ یونانیوں کے فلسفے سے ملتا ہے اور نہ حال کے انگلستانی فلسفے سے ، بلکہ سچا ایمانی فلسفہ اس فلسفے سے حاصل ہوتا ہے، مومن کا کمال اور معراج یہی ہے کہ وہ علماء کے درجے پر پہنچے اور وہ حق الیقین کا مقام اسے حاصل ہو جو علم کا انتہائی درجہ ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا : آج کل کے علماء کےبارہ میں تو حدیث میں آتا ہے کہ وہ علماء جو اپنے زعم میں عالم ہیں اور عمل ان کے کچھ نہیں ہیں ، یعنی اس زمانے کے جو علماء ہیں آسمان کے نیچے بسنے والی بد ترین مخلوق میں سے ہونگے کیونکہ ان میں سے ہی فتنے اٹھیں گے اور ان میں ہی لوٹ جائیں گے پس اس حدیث سے بھی واضح ہو گیا کہ ہر عالم خد اتعالیٰ کی خشیت رکھنے والا نہیں ہے۔ پس یہ ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ بے نیاز ہے ،کسی نیکی کو قبول کرتا ہے اور کسی کو نہیں ، یہ اس کی مرضی ہے جس کو چاہے قبول کرے اور جس کو نہیں، اس لئے ہر وقت خوف رہنا چاہئے کہ جب ہم اپنے مولا کے حضور حاضر ہوں تو ہمارے سے بخشش کا سلوک ہو ، کسی نیکی پر فخر کسی کو نہیں ہونا چاہئے ۔ آنحضرت ﷺ اپنی دعاؤں میں یہ دعا بھی شامل فرماتے تھے ، حضرت ام سلمیٰؓ سے روایت ہے کہ آنحضور ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے ’اے دلوں کے پھیرنے والے میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ‘۔ پس یہ وہ عظیم نبی ﷺ ہیں جنہوں نے خشیت اﷲ کا عظیم نمونہ ہر آن اپنی امت کے سامنے پیش فرمایا ہے ، ہر دعا دیکھ لیں آپ ﷺ کا، ہر عمل دیکھ لیں ، اس خشیت سے بھر ا پڑا ہے ، خدا تعالیٰ کے خوف سے لرزاں و ترساں ہے ، باوجود اس کے کہ خدا تعالیٰ کے مقرب ترین آپ ہیں ، جن کے ساتھ جڑنے والوں نے بھی رضی اﷲ عنہ کی خوشخبری سنی۔ پس یہ اسوہ حسنہ ہے اور یہ خشیت اﷲ ہے ۔

Hudhur said: Today, matters will be expounded with reference to Khashiyyat of God. The word Khashiyyat is used commonly, but if its essence was understood, it would enhance level of virtues. The literal meaning of Khashiyyat is generally understood to be fear, which is correct. Fear of God takes one to virtues. However, fear of God is not like the ordinary emotion of fear. The Quranic verse that states that only those have Khashiyyat who have knowledge does not mean that anyone who presumes to possess knowledge has Khashiyyat and anyone who is not a scholar has less Khashiyyat. Indeed, hundreds and thousands of ‘religious scholars’ of today whose words and deeds are contradictory do not understand the Qur’an. Not only have they not accepted the Imam of the age, they stoop low in his opposition. It should be clarified here that no doubt Islam is the perfect religion and those who possess religious knowledge of Islam claim that they have the knowledge. The spread of Islam is by virtue of God’s decree and it will not take place through the scholars who have worldly interests at heart. The Promised Messiah(as) said: ‘Remember, it is always the foolish who slips. When Satan slipped, it was not due to knowledge but due to foolishness. If he had excellence of knowledge, he would not have slipped. The Qur’an does not condemn knowledge, rather it states: ‘Only those of His servants who possess knowledge fear Allah’. Half-learned Mullah is renowned as danger to faith. Knowledge is something that is certain and absolute and true knowledge is found in the Holy Qur’an and not in Greek philosophy or in the current British philosophy. Rather, true knowledge is found in philosophy of faith. The excellence and zenith of a believer is in attaining the status of a scholar and in achieving the state of certainty of knowledge which is the pinnacle of knowledge. Hadhrat Khalifatul Masih said that the Hadith which relates that a time will come when Muslim religious scholars will be the worst of creation under the heavens and all evil will come from them and will return to them proves that everyone who is known as a scholar does not have Khashiyyat of God. God is Independent of all, He accepts what He wishes and does not accept what He wishes, one should always be in fear and awe of Him. Hadhrat Umme Salma(ra) related a prayer of the Holy Prophet(saw): ‘O Changer of hearts, keep my heart firm on Your religion. This was the great Prophet who gave us a great model of Khashiyyat of God. Each prayer of his, each practice of his was replete with Khashiyyat of God although he was the closest to God and even those who were associated with him earned the salutation of ‘raziAllah’ (may Allah be pleased with him/her). Such was his blessed, exemplary model and such was his Khashiyyat of God.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
27-Jul-2012 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Kyrgyz (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Ramadhan, Worship and Righteous deeds
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Bengali
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

رمضان کی برکتیں روزہ کی حقیقت کو جاننے اور اس سے بھرپور فائد ہ اٹھانے سےملتی ہیں، بیشک آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد بر حق ہے کہ رمضان کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اور شیطان کو جکڑ دیا جاتا ہے ، لیکن کیا ہر ایک کیلئے یہ دروازے کھول دئیے جاتے ہیں ، کیا ہر ایک کے شیطان کو جکڑ دیا جاتا ہے ، کیا ہر ایک کیلئے دوزخ کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں ، یقینا ہر ایک کیلئے تو ایسا نہیں ہو سکتا ، بلکہ یہاں مومنین کو مخاطب کیا ۔ پس یقینا روزے رکھنا یا رمضان کے مہینے میں سے گزرنا انسان کو جنت کا وارث نہیں بنا دیتا بلکہ اس کے ساتھ کچھ لوازمات بھی ہیں جن کو پورا کرنا ضروری ہے ، اعمال صالحہ کی طرف توجہ بھی ضروری ہے، جنہیں بجا لانا ایک مومن کا فرض بھی ہے ، ورنہ صبح کھانا کھا کر پھر شام تک کچھ نہ کھانا تو ایسے لوگ تو بہت سارے دنیا میں ہیں جو صبح کھاتے ہیں اور شام کو کھاتے ہیں ، بلکہ بعض نام نہاد فقیر جو ہیں وہ ایسی عادت ڈالتے ہیں ، مجاہدہ کرتےہیں کہ کئی کئی دن کا فاقہ کر لیتے ہیں لیکن عبادت اور نیکی ان میں کوئی نہیں ہوتی۔ مالی قربانی کے ضمن میں آ تا ہے کہ آنحضرت ﷺ رمضان کے علااوہ بھی سارا سال بے انتہا صد قہ و خیرات کرتے تھے لیکن رمضان کے مہینے میں تو لگتا تھا کہ اس طر ح صد قہ و خیرات ہو رہا جس طرح تیز آ ندھی چل رہی ہے، عبادات کے معیار بھی اپنی انتہاؤں سے بھی اوپر نکل جاتے تھے ، پس آ پ نے ہمیں فرمایا کہ یہ نہ سمجھو کہ رمضان آ یا ور بغیر سب کچھ کئے ، سب کچھ مل گیا صرف اس بات پر کہ تم نے روزہ رکھ لیا ہے ۔ پس یقینا رمضان انقلاب لانے کا باعث بنتا ہے ، شیطان بھی اس میں جکڑا جاتا ہے ، جنت بھی قریب کر دی جاتی ہے ، لیکن اس کیلئے جو اپنی حالت میں پاک تبدیلی پیدا کرنے کی کو شش کرے، اپنے ہر قول و فعل کو خدا تعالیٰ کی رضا کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے، خدا تعالیٰ کے قریب ہونے کی کوشش کرے، خدا تعالیٰ کی حکومت کو اپنے پر قائم کرنے کی کوشش کرےتاکہ اﷲ تعالیٰ کی رحمت اور مغفرت اور بخشش، جو عام حالات کی نسبت کئی گنا بڑھ جاتی ہے، اس سے بھرپور فائدہ اٹھائے، اور اپنے نفس کے بتوں اور جھوٹے خداؤں کو جو لامحسوس طریق پر خدا تعالیٰ کے مقابلے پر کھڑے ہو جاتے ہیں ، ان کو ریزہ ریزہ کر کے ہوا میں اڑا دو۔ پس اگر ہم نے رمضان سے بھرپور فائدہ اٹھانا ہے تو ہمیں اپنے حق بات کے قبلوں کو بھی درست کرنا ہوگا،ہمارا قبلہ خدا تعالیٰ کی طرف ہوگا تو ہم اﷲ تعالیٰ کے اس اعلان سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں کہ میں نے تمہارے لئے جنت کے دروازے رمضان کی برکات کی وجہ سے کھول دئیے ہیں ، ہمیں آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد پر غور کر کے اور عمل کر کے ہی جنت کے دروازے ملیں گے کہ اپنے قول و عمل کی سچائی کے معیار اونچے کرو ، ورنہ اگر اس طرف توجہ نہیں تو خدا تعالیٰ کو تمہارے بھوکا پیاسا رہنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ حضور نے فرمایا کہ میں اس وقت سلسلہ کے ایک دیرینہ بزرگ کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جن کی گزشتہ دنوں وفات ہوئی ہے ، یہ بزرگ مکرم چوہدری شبیر احمد صاحب ہیں ،ا ٓپ کی وفات ۲۲ جولائی کو ۹۵ سال کی عمر میں ہوئی ، آ پ کو لمبا عرصہ بطور وکیل المال اول خدمت کرنے کی توفیق ملی ، یہ وہ بزرگ ہیں جنہیں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓکے دور سے جماعتی نظام میں اگر بنیادی اینٹیں نہیں تو کم از کم درمیانی اینٹوں کا ضرور کردار ادا کیا ہے ، اور ان لوگوں نے بے نفس ہو کر جماعت کی خدمت کی توفیق پائی ہے ، آج یہ جو ہم پھل کھا رہے ہیں اس میں ان پرانے لوگوں کی بے نفس خدمات کا بہت بڑاحصہ ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا کہ میں نے بہت مختصر ذکر کیا ہے ان کا ، میں نے بھی ان کے ساتھ کام کیا ہے ۔ حضور نے فرمایا کہ شبیر صاحب بڑی خصوصیات کے حامل تھے اور کام انتھک اور خوش مزاجی سے کیا کرتے تھے، خلافت سے بھی بے انتہا وفا کا تعلق تھا، بہر حال یہ بزرگ جو بہرحال وفا کے ساتھ اپنے کام میں مگن تھے ، خلیفہ وقت کے سلطان نصیر بھی تھےاور پھر اس کے ساتھ ہی خلیفہ وقت کیلئے دعائیں بھی بے انتہا کیا کرتے تھے، اﷲ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے، اور ایسے کام کرنے والے کارکن ہمیشہ جماعت کو مہیا فرماتا چلا جائے ۔ مربی مقبول احمد ظفر صاحب کی وفات، مراج سلطانہ صاحبہ کی وفات، مریم سلطانہ صاحبہ کی وفات۔

Blessings of Ramadan are attained by understanding the reality of fasting and by fully benefitting from it. Doubtlessly, the Holy Prophet(saw) said that in this month the doors of Paradise are opened, the doors of Hell are shut and Satan is restricted in fetters. However, are these doors opened for everyone and is Satan shackled for everyone and indeed are the doors of Hell shut down for everyone? Certainly, this is not for everyone, rather it is the believers who are addressed here. One does not become the recipient of Paradise by merely keeping fast and going through Ramadan. It is essential to fulfil its requisites and its conditions and to focus on good works. Otherwise, there are many in the world who eat in the morning and then do not eat anything till evening. There are the so-called ascetics who adopt the habit of not eating for days at a stretch while paying no attention to worship. The Holy Prophet(saw) used to pay alms and give to charity throughout the year on a matchless scale but during Ramadan his charity used to gain the intensity of fierce wind. He used to also take his level of worship of God to an extreme level. He said that it should not be assumed that one would gain without making any effort during Ramadan and he drew our attention to seeking true beneficence. Certainly, Ramadan can be a source of revolutionary change, but it is for those who bring about pious changes in themselves, who try and adapt their word and deed in accordance to God’s pleasure, who try and establish God’s kingdom so that they can avail of God’s enhanced mercy and forgiveness during Ramadan. They crush to smithereens the untruth of their ‘self’ (nafs) and this is when revolutionary change comes to pass. If we are to take full benefit from the month of Ramadan, we will have to straighten our paths of truth. We can only reach the doors of Paradise by reflecting over and putting in practice the pronouncement of the Holy Prophet(saw) when he said that the standard of one’s word and deed should be raised otherwise, God is not interested in anyone starving. Next Hadhrat Khalifatul Masih gave the news of the passing away of an elder of the Jama’at. Choudhry Shabbir Ahmad sahib passed away on 22 July. He was 95 years old. He served the Jama’at for a very long period as Vakilul Maal. He was one of the elders who played a very significant role in the Jama’at from the time of Hadhrat Khalifatul Masih II(ra). He served the Jama’at most selflessly and today we are enjoying the fruits of his service and that of other elders. Hadhrat Khalifatul Masih said he had only spoken briefly about Shabbir sahib with whom he had worked personally. He said that Shabbir sahib was a man of many qualities, he worked diligently and cheerfully. He had a great connection with Khilafat. He was an excellent helper of the Khalifa of the time and used to pray abundantly for the Khalifa of the time. May God elevate his status and may He provide many like him to the Jama’at. Death of Maqbool Ahmad Zafar sahib Missionary, Maraj Sultana sahiba and Maryam Sultana sahiba.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
20-Jul-2012 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: All true praise belongs to Allah
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Bengali
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

ہم احمدی خوش قسمت ہیں کہ ہم نے اس زمانے کے امام اور مسیح موعود ؑکو مانا ہے ، مہدی موعود ؑکو مانا ہے، اور اس ایمان کی وجہ سے ہمیں الحمد ﷲ یا کسی بھی قرآ نی لفظ کے معنی اور روح کو سمجھنے میں دقت نہیں ہے، بشرطیکہ ہماری اس طرف توجہ ہو، کیونکہ حضرت مسیح موعودؑ نے اﷲ تعالیٰ سے علم پا کر اس کی روح سے ہمیں روشناس کر وایا ہے ۔ واضح ہو کہ حمد اس تعریف کو کہتے ہیں جو کسی مستحق تعریف کے اچھے فعل پر کی جائے ، نیز ایسے انعام کنندہ کی مدح کا نام ہےجس نے اپنے ارادے سے انعام کیا ہواور اپنی مشیت کے مطابق احسان کیا ہو ، اور حقیقت حمد کما حقہ صرف اس ذات کیلئے متحقق ہوتی ہے جو تمام فیوض انوار کا مبداء ہو، اور علیٰ وجہ البصیرت کسی ہر احسان کرےنہ کہ غیر شعوری طور پر یا کسی مجبوری سے۔ اﷲ تعالیٰ کے فضل سے افراد جماعت کی اکثریت تو اس سوچ سے اﷲ تعالیٰ کی حمد کرتی ہے اور کرنی چاہئے کہ ایمان بھی اس حقیقی حمد کے ساتھ ترقی کرتا ہے لیکن من حیث الجماعت بھی ہمیں یہ سوچ رکھنی چاہئے کہ ہر موقع پر اﷲ تعالیٰ جو جماعت کو مختلف مواقع پر آ گے بڑھتا ہوا دکھاتا ہے ، اس کیلئے ہم اﷲ تعالیٰ کی حمد کرنے والے بنیں اور ہمیشہ الحمد ﷲ کی حقیقی روح کو جاننے والے ہوں، اور جب اس طریق پر ہر طرف حمد ہو رہی ہوگی تو یقینا اﷲ تعالیٰ کے فضلوں کی بارش بھی پہلے سے کئی گناہ بڑھ کر برسے گی۔ حضرت خلیفۃ المسیح کو کیپیٹل ہل میں امریکی کانگرس اور سینیٹ کے ممبران سے خطاب کرنے کا موقع ملا، ہمارے مخالفین نے اسے ہمارے خلاف ،جماعت کے خلاف، اچھالنے کی کوشش کی ہے خاص طور پہ پاکستان میں تاکہ احمدیوں کے خلاف مزید بھڑ کایا جائےلیکن بہر حال ان کو کوئی خاص پذیرائی نہیں ملی، یہ تھا موقف ان کا کہ میں احمدیوں کیلئے امریکی حکومت سے کوئی مدد مانگنے گیا ہوں، یا نعوذ با ﷲ پاکستان کے خلاف سازش کرنے گیا ہوں، حضور نے فرمایا جو کچھ میں نے وہاں کہااسے سن کر اگر انصاف کی آ نکھ ہو انکی جو نہیں ہے خود ہی فیصلہ کرلیں گے اور ہر عقلمند فیصلہ کرسکتا ہے۔ حضور نے فرمایا کیپیٹل ہل میں میں خطاب سے ایک دن قبل سی این این کے نمائندے نے میرا انٹرویو لیا تھا اور کہنے لگا کہ یہ آپ کیلئے بہت اہم موقع پیدا ہو رہا ہے ، حضور نے جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ میرے لئے کوئی خاص اہم موقع نہیں ہے، حضور نے فرمایا میرا اصل مقصد امریکہ کے دورے کا اپنے لوگوں سے ملنا اورانہیں ان کی دینی ، اخلاقی ، روحانی حالت کی بہتری کی طرف انہیں توجہ دلانا ہے۔ کینیڈا میں خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری سیکرٹری خارجہ نوجوان ہیں ، انکی اور انکی ٹیم کے اچھے تعلقات ہیں نئے لوگوں سے اور پرانے تعلقات کو بھی انہوں نے قائم کیا ہے ، پس ان کو بھی اﷲ تعالیٰ کا شکر گزار ہو نا چاہئے کہ اس نے انہیں موقع دیاکہ جماعت کے کسی کام آ سکیں اور حق اور انصاف کی باتیں ان تک پہنچاسکیں ، کئی پارٹی لیڈراور سیاستدانوں سے حضور کی ملاقاتیں کروائیں گئیں ، کینیڈا میں دو تقاریب منعقد ہوئیں جن میں سے ایک طاہر ہال کا افتتاح تھا۔ اﷲ تعالیٰ کے فضل و کرم سے کینیڈا جماعت اخلاص و وفا میں بہت بڑھی ہوئی ہے ، حضور نے فرمایا میں نے گزشتہ خطبہ میں ان کے نظام میں کچھ خرابیوں کی وجہ سے کچھ ناراضگی کا اظہار وہاں کیا تھا تو افراد جماعت سے جب ملاقاتیں ہو رہی تھیں تو انہوں نے بڑے رو رو کر وہاں معافی مانگی اور خطوط کے ذریعے سے بھی ، حالانکہ میری ناراضگی کا اظہار اگر کچھ تھوڑا سا تھا تو وہ متعلقہ شعبہ جات کے عہدیداران سے تھا نا کہ افراد جماعت سے۔ حضور نے امریکہ ، کینیڈا اور یو کے میں سیاسی پناہ کی درخواست دینے والے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ انہیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اﷲ تعالیٰ نے ان پر فضل فرما دیا ہے ، اس کے فضلوں کو مزید جذب کرنے کیلئے اپنے آپ کو دنیا میں گم کرنے کی بجائے اﷲ تعالیٰ سے جوڑیں ، اس کے احکامات کو سامنے رکھیں ، اس کی رضا کو سامنے رکھیں ، نوجوان خاص طور پر یاد رکھیں کہ اﷲ تعالیٰ کے فضلوں کا جس قدر شکر گزا ہوتے ہوئے آپ اس کی حمد کریں گے ، اﷲ تعالیٰ کے فضل بڑھتے چلے جائیں گے، پاکستان سے جن تکالیف کی وجہ سے آئےہیں ، انہیں ہمیشہ یاد رکھیں تو خدا تعالیٰ بھی یاد رہے گا ہمیشہ۔ چوہدری نعیم احمد گوندل صاحب کی کراچی میں شہادت۔ صاحبزادہ مرزا حفیظ احمد صاحب ابن حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی وفات۔

Ahmadis are fortunate that they have recognised and accepted the Imam of the age and the Messiah and Mahdi. Due to this belief, if they focus they do not have difficulty in understanding the spirit of Alhamdolillah and other Quranic terms because, after receiving knowledge from God, the Promised Messiah(as) has enlightened us. ‘Hamd is praise which is offered in appreciation of commendable action of one worthy of praise: it also means lauding one who has done a favour of his own volition and according to his own choice. The true reality of hamd is the due only of the Being Who is the source of all grace and light and exercises beneficence deliberately and not in ignorance or under compulsion. With the grace of God majority of the people of the Jama’at engage in Hamd with this thought as indeed they should. Faith is enhanced with true Hamd. As a community, we should be drawn to Hamd at every progress. This increases the blessings. Hadhrat Khalifatul Masih had the occasion to address members of US Senate and Congress at Capitol Hill. Our opponents tried to bring notoriety to this occasion but their efforts were not entertained much. Their stance was that either Hadhrat Khalifatul Masih was going to ask US government for help or God forbid was going to conspire against Pakistan. If they have any sense of fairness, they can hear [the address] for themselves whether Hadhrat Khalifatul Masih had gone to give or take. A day prior to the event at Capitol Hill CNN interviewed Hadhrat Khalifatul Masih and suggested that it was a very significant moment for him. He replied that the significance of the occasion was not that exciting for him. He told him that his USA trip was mainly aimed at meeting people of his Community and to draw attention to enhance their religious, moral and spiritual condition. With the grace of God in Canada our secretary of external affairs is young and he and his team has good connections, both old and new. They should also be grateful to God for enabling them to take the truth to people. Many meetings were held with politicians who came to see Hadhrat Khalifatul Masih. Two events were held in Canada. One was the inauguration of Tahir Hall. With the grace of God the Canadian Jama’at has great level of sincerity and devotion. Hadhrat Khalifatul Masih had expressed some displeasure in his last sermon about some organisational matters. During mulaqats as well as through letters emotional members of the Jama’at apologised profusely to Hadhrat Khalifatul Masih. Hadhrat Khalifatul Masih said if there was any displeasure, it was aimed at the relevant departments and their office-holders and not members of the Jama’at. Addressing the asylum seekers in USA, Canada and in the UK Hadhrat Khalifatul Masih said God has blessed them. In order to draw further blessings they should not lose themselves in the world, rather, they should forge connection with God. In particular the young members should be most grateful to God, the more grateful they will be, the greater blessings they will receive. They saw difficult times in Pakistan, they should not forget those times. Martyrdom of Chaudhry Naeem Ahmad Gondal shaheed in Karachi۔ Death of Sahibzada Mirza Hafeez Ahmad sahib, son of Hadhrat Khalifatul Masih II .

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
13-Jul-2012 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: True gratitude
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Bengali
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

اﷲ تعالیٰ کے فضل سے امریکہ اور کینیڈا کے جلسے ایک ہفتے کے وقفہ سے گزشتہ دو ہفتوں میں منعقد ہوئے اور اختتام کو پہنچے، حضور نے فرمایا مجھے جہاں ان جلسوں میں شمولیت کی وجہ سے متعلقہ جماعت کو براہ راست مخاطب کرنے کی توفیق ملتی ہے ، وہاں احباب جماعت سے ملنے کی وجہ سے بہت سی باتوں کا بھی علم ہو جاتا ہے ، ان کے مسائل کا علم ہو جاتا ہے، جماعت کی اخلاقی اور دینی حالت کے بارے میں پتہ چل جاتا ہے، جس سے جماعت کی راہنمائی کرنے میں آ سانی پیدا ہوتی ہےاور بلکہ راہنمائی مل جاتی ہے۔ حضور نے فرمایا آج بہرحال اس حوالے سے میں جلسے کے بعد میں اﷲ تعالیٰ کی شکرگزاری کا مضمون بیان کروں گا ، اور اس کیلئے مجھے بھی اور آپ سب کو بھی خدا تعالیٰ کا انتہائی شکر گزار ہونا چاہئےکہ اس نے ہمیں توفیق عطافرمائی کہ سالانہ جلسے منعقد کریں ، اس میں شامل ہوں ، پھر خدا تعالیٰ نے اس میں برکت بھی ڈالی، اور ہر طرح خیر و برکت کے ساتھ یہ اپنے اختتام کو پہنچا، الحمد ﷲ ۔ ان ملکوں میں آ کر دنیاوی لحاظ سےبھی خدا تعالیٰ نے بے انتہا فضل آ پ پر فرمایا ہے اور بعض پر یہ فضل بہت زیادہ ہوا ہے ، اکثریت کے حالات بھی ان کے پہلے حالات سے بہتر ہوئے ہیں ، یہ بھی احمدیت کی برکت ہے۔ وہ لوگ یقینا ناشکرے اور خدا تعالیٰ کی نظر میں گرے ہوئے ہیں، جو یہاں آ ئے ، احمدیت کی بنیاد پر یہاں پاؤں ٹکائے ، سیاسی پناہ لی، اور جب حالات بہتر ہوئے ، تو جماعت پر اعتراض شروع کر دئیے، جماعت سے علیحدہ ہو گئے۔ آنحضور ﷺ صرف نعمتوں کے ملنے پر ہی شکرگزاری نہیں فرماتے تھے، بلکہ کسی مشکل سے بچنے پر بھی خدا تعالیٰ کے شکر گزا ر ہوتے تھے، حتیٰ کہ چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی آپﷺ کی سیرت میں شکرگزاری کی انتہا نظر آ تی ہے، پس یہ وہ حقیقی شکر گزاری ہے جس کیلئے ہمیں کوشش کرنی چاہئے۔ صرف مالی قربانی کو ہی اپنی شکر گزاری کی انتہا نہ سمجھیں بلکہ اﷲ تعالیٰ کے حضور جھکنے والا بننے کی بے انتہا کوشش کرنی چاہئے، حقیقی شکرگزاری اور عبد رحمان بننے کیلئے عبادت گزار بھی ہونا ضروری ہے۔ کینیڈا میں اس حد تک مالی کشائش رکھنے والے لوگ کم ہیں لیکن یہاں مجموعی طور پر مالی قربانیوں کا معیار اﷲ تعالیٰ کے فضل سے کافی بلند ہے۔ حضور نے فرمایا لیکن اس کے ساتھ بعض اور عملی کمزوریاں اور عبادتوں میں کمزوریاں کافی ہیں ۔ حضور نے فرمایا : یہا ں شکرگزاری کے اس مضمون کا جس کا مجھ سے تعلق ہے اس کا بھی اظہار کرتا ہوں، سب سے پہلے تو میں خدا تعالیٰ کا شکر کرتا ہوں کہ اس نے حضرت مسیح موعودؑ کو ایسی جماعت عطا فرمائی ہے جس کا خلافت سے انتہائی وفا کا تعلق ہے، اخلاص و وفا کے جس تعلق کو حضرت مسیح موعودؑ سے براہ راست فیض پانے والے لوگوں نے شروع کیا تھا جس پر حضرت مسیح موعود ؑنے فرمایا تھا کہ افراد جماعت کے اخلاص و وفا کو دیکھ کر ہمیں حیرت ہوتی ہے۔ حضور نے فرمایا : سی این این کے نمائندے نے مجھ سے سوال کیا تھا کہ امریکہ میں اسلام کے پھیلنے کے کیا امکانات ہیں ، اسے حضور نے یہی فرمایا تھا کہ حقیقی اسلام جماعت احمدیہ پیش کرتی ہے اور اس کے نہ صرف امریکہ میں بلکہ تمام دنیا میں پھیلنے کے امکانات ہیں کیونکہ یہ شدت پسندی سے نہیں بلکہ دلوں کو فتح کرنے سے پھیلنا ہے، اسلام کی خوبصورت تعلیم بتانے سے پھیلنا ہے ۔ آخر پر حضور نے ایک دفعہ پھر شکرگزاری کے مضمون کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ایک عارضی اظہار ہے اخلاص و محبت کا جو آ پ لوگ کر رہے ہیں جیسا کے گھروں کے چراغاں ہیں ، سڑکوں کی رونقیں ہیں ، ڈیوٹیوں کیلئے اپنے آ پ کو پیش کرنا ہے ، لیکن مستقل اظہار یہ ہے کہ خلیفہ وقت کی ہر بات پر لبیک کہتے ہوئے اس پر عمل کریں ۔

By the grace of Allah Almighty, the USA and Canada Jalsas, which were organized at an interval of one week from each other, were held in the past two weeks. Huzoor(aba) said that in these instances, he not only gets a chance to directly address Jamaat members, he also has the unique opportunity to gain first-hand information about specific issues, and the moral and spiritual standing of Jamaat during his meetings, which then assist him in imparting specific instructions to guide Jamaat members. In any case, Huzoor(aba) said he wished to elaborate upon the topic of gratitude towards Allah Almighty in face of such successes that are granted to Jamaat. Each and every Ahmadi Muslim should be extremely grateful to God Almighty for enabling him/her to participate in the Jalsa Salana, which was such a blessed and auspicious occasion. By migrating to Western countries, Allah Almighty has indeed bestowed upon you worldly blessings as well. Many are better off than they were previously. Those people are surely gaining the displeasure of Allah Almighty who migrated to these countries on the basis of being persecuted due to their faith, sought asylum, and when their conditions ameliorated, they started criticizing Jamaat, to the extent that they distanced themselves completely. The Holy Prophet(saw) was not grateful for worldly blessings alone, he would express his gratitude for shelter against difficulties and trials, to the extent that he was thankful in the most trivial matters as well. We must also emulate his example and incorporate these standards of gratitude in our lives. Financial sacrifice is not sufficient in itself, it must be accompanied by worship and gratitude to Allah Almighty. True gratitude can only come with true worship. In Canada, people are not as affluent financially, but the standards of financial sacrifice are high. Huzoor(aba) said however, there is a dire need to raise the standards of worship and rectify certain moral weaknesses that have come in his observation. Huzoor(aba) then moved on to the topic of expression of gratitude to Allah that concerns him. He(aba) said that firstly, he would like to thank Allah Almighty for the fact that He has granted the Promised Messiah(as) with such a Jamaat that is extremely loyal to the Nizam-e-Khilafat. The Promised Messiah(as) had exclaimed amazement at the devotion and loyalty that was expressed by the members of Jamaat at his time as well. Huzoor(aba) said that a journalist from CNN asked Huzoor(aba) about the possibility of spread of Islam in USA. Huzoor(aba) responded by saying that the true picture of Islam today is only presented by Jamaat Ahmadiyya, and the possibility of its spread does not only exist in the USA but in the entire world, and this not by force, but by impressing the hearts of the masses. In the end, Huzoor(aba) once again touched upon the topic of gratitude, saying that in a way, the lighting of the households, the atmosphere around the mosque area, the spirit of volunteerism are all aspects of gratefulness, but these are temporary. However this gratefulness needs to be permanent and each Ahmadi must remain always ready to say “labaik” to the instructions of Huzoor(aba).

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
06-Jul-2012 Bengali (wmv) Urdu (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Kyrgyz (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Ways to Gardens of Paradise
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

یہ جلسے ایک احمدی کیلئے برکات کا موجب بنتے ہیں ، اور بننے چاہیئں کیونکہ ایک خاص ماحول میں اور صرف دینی اغراض کیلئے جمع ہونا ،اﷲ تعالیٰ کے ذکر کیلئے جمع ہونا ، اس کی رضا کے حصول کیلئے جمع ہونا ، یقینا اﷲ تعالیٰ کے فضلوں کو کھینچتا ہے۔ پس یہ ہے ہمارا پیارا خدا جو نیکیوں کو سینکڑوں گنا، ہزاروں گنا پھل لگاتا ہےاور اپنے بندے کی معمولی کوشش کی بھی اس قدر بڑھا دیتا ہے جو انسانی تصور سے بھی باہر ہے ، پس اس پیارے خدا کی تلاش ہر ایک کو کرنی چاہئے، حضرت مسیح موعودؑ نے جلسوں کا انعقاد کر کے ہمارے لئے برکات کے راستے کھولے ہیں ، جنت کی باغوں کی سیر کیلئے ایک وسیع اور بہترین انتظام فرما دیا ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں جب تک دل فروتنی کا سجدہ نہ کرے صرف ظاہری سجدوں پر امید رکھنا طمع خام ہے، جیسا کہ قربانیوں کا خون اور گوشت خدا تک نہیں پہنچتا ، صرف تقویٰ پہنچتی ہے ایسا ہی جسمانی رکوع اور سجود بھی ہیچ ہے جب تک دل کا رکوع و سجود اور قیام نہ ہو ۔ حضور نے فرمایا باوجود اس کے کہ خدا تعالیٰ کی رحمت وسیع تر ہے اکثریت اس سے فائدہ نہیں اٹھاتی ، اور اﷲ تعالیٰ کی عبادت کر کے اپنی دنیا و آ خرت کے سنوارنے کے سامان نہیں کرتی، اور اس کی بجائے اپنی خواہشات کی پیروی کر کے جہنم کے راستے کی طرف چل رہی ہوتی ہے ، پس اپنے بد انجام کو انسان خدا تعالیٰ سے دوری اختیار کر کے ، اس کی عبادت کا حق ادا نہ کر کے ، اس کے حکموں پر عمل نہ کر کے پہنچتا ہے۔ حضور نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ اسی طرح نوجوانوں کو بھی، نوجوانی میں قدم رکھتے ہیں ، اچھے اور برے کی صحیح طرح تمیز نہیں ہوتی ، گھر والوں نے بھی نہیں بتایا ہوتا ، جماعت کے نظام سے بھی اتنا زیادہ منسلک نہیں ہوتے ، ان کو بھی میں کہوں گا کہ یہ بیہودہ چیزیں دیکھنا، فلمیں دیکھنا، ایک نشہ ہے ، اس لئے اپنی دوستی ایسے لوگوں سے نہ رکھیں جو ان بیہودگیوں میں مبتلا ہیں کیونکہ یہ آ پ پر بھی اثر ڈالیں گی، ایک مرتبہ بھی کسی قسم کی غلاظت میں پڑ گئے تو پھر نکلنا مشکل ہو جائے گا۔ حضور نے فرمایا اﷲ تعالیٰ کے فضل سے احمدیوں کی بڑی تعداد تقویٰ کی راہوں کیلئے کوشش کرتی ہے ، اس میں کوئی شک نہیں، جس کا اظہار افراد جماعت کے رویوں اور قربانیوں سے ہوتا ہے ، لیکن ابھی بہت کچھ اس میدان میں آ گے بڑھنے کی ضرورت ہے ، خدا تعالیٰ ہم میں سے ہر ایک کو توفیق عطا فرمائے کہ ہم اس اہم بات کو سمجھنے والے ہوں ، تقویٰ پر چلتے ہوئے اپنی زندگیوں کو گزارنے والے ہوں ، اور اﷲ تعالیٰ نے ایک متقی سے جو وعدے فرمائے ہیں ان سے حصہ پانے والے ہوں ۔ حضور نے فرمایا یہ ماحول جو جلسے کا ہمیں مل رہا ہے ، اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم میں سے ہر ایک کو اپنی برائیوں پر نظر رکھتے ہوئے ہر قسم کی برائیوں سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے، اور ہر قسم کی نیکیوں کو اختیار کرنے کی طرف بھرپور توجہ دینی چاہئے تاکہ ہم اس انجام کو حاصل کرنے والے ہوں جو ہمیں کامیابی سے اﷲ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے والا بنا دے ۔ حضور نے فرمایا پس یہ ترقی اور فتح جماعت احمدیہ کا مقدر ہے ، ہمیں اس ترقی کا حصہ بننے کیلئے اپنے تقویٰ کے معیار اونچے کرنے کی ضرورت ہے ، ان جلسوں کے دنوں میں اور پھر انشاء اﷲ کچھ دنوں بعد رمضان بھی شروع ہو رہا ہے ، اس سے بھی بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے تقویٰ کے معیار ہر احمدی کو بلند تر کرتے چلے جانے کی ضرورت ہے۔

These Jalsas are a source of receiving many blessings in the life of an Ahmadi Muslim, because it is an auspicious occasion held solely for the masses to congregate for religious purposes, where individuals are enabled to remember Allah, to be in the company of those who remember Allah, and to gain His favours. Our Allah is a Loving Allah who rewards righteous deeds hundred and thousands of folds. Therefore, every individual should strive towards seeking this Love for our Loving God. The inauguration of Jalsas by the Promised Messiah(as) has given us the opportunity to achieve this goal: to roam among the gardens of Paradise. The Promised Messiah(as) states: Unless and until our prostrations are filled with complete devotion, our supplications shall bear no fruit. Just like the meat and blood of sacrifices does not reach God Almighty, only Taqwa reaches God, similarly, physical prostrations are devoid of any reward unless our hearts are filled with Taqwa. Huzoor(aba) elaborated that the Mercy of Allah is All-encompassing, but many people do not benefit from God’s Mercy and drown themselves in worldly activities to the extent that they perish spiritually. The way to a tragic ending is when man does not follow the commandments of God, and does not worship Him the way He must be worshipped. Huzoor(aba) addressed the youth as well, saying that sometimes, they are not familiar with the rules of Jamaat or cannot distinguish between right and wrong. Therefore, they must also refrain from developing friendships with such individuals who are involved in debauchery and immoral acts, which can be addictive once started. Huzoor(aba) said that many members of the Jamaat are indeed set upon these righteous ways, and it is obvious through their attitudes towards other members of the Jamaat. However there is room for much progress. May Allah Almighty enable each and every one of us to understand and implement these pearls of golden advice into our lives and may we become the recipients of the blessings that have been promised by God Almighty to the righteous, which is nothing but the reward of goodness. Huzoor(aba) said that the environment that is created during the Jalsa provides us with a unique opportunity for us to ensure that we take the steps in the direction of safeguarding ourselves from all types of immoralities and evil inclinations and it also gives us the opportunity to partake in righteous acts that lead us to the pleasure of God and His favours. Huzoor(aba) re-emphasized that this progress and victory has already been destined for the Jamaat. We must therefore raise our standards of righteousness so that we can be the witness of these successes. Every Ahmadi Muslim should benefit during the days of Jalsa and the upcoming month of Ramadan, and ameliorate themselves by making every humanly effort possible.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
29-Jun-2012 Bengali (wmv) Urdu (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Achieving God Consciousness the Purpose of Jalsa Salana
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Bengali
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضور ایدہ اﷲ تعالیٰ بنصرۃ العزیز نے فرمایا یہ جلسے جو ہر سال دنیا کے مختلف ممالک میں وہاں کی جماعتیں منعقد کر تی ہیں ,اس جلسے کی تدبع میں ہیں جن کا آ غاز حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا تھا، جس کا مقصد جماعت کو ان حقیقی برکات کا وارث بنانا تھا جو افراد جماعت کی دنیا و عاقبت سنوارنے کا باعث بنے ۔ اﷲ تعالیٰ کے حقوق میں سے سب سے بڑا حق عبادت کا ہے ، اور عبادت میں سب سے اہم چیز نماز ہے جس کے بارہ میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ یہ عبادت کا مغز ہے۔ حضور ایدہ اﷲ تعالیٰ بنصرۃ العزیز نے فرمایا تقویٰ کے معیار اونچے کرنے کیلئے ،خداتعالیٰ کا حق ادا کرنے کیلئے صرف نمازوں پر ہی اکتفا نہ ہو بلکہ اپنی نمازوں کو پھر نوافل سے بھی سجائیں ، تہجد اور دوسرے نوافل کی طرف توجہ دیں ، ان تین دنوں میں بہت لوگوں کی تہجد کی طرف توجہ ہوگی، جب توجہ ہو تو پھر اسے زندگی کا حصہ بنائیں ، کیونکہ فرائض کی کمیاں نوافل سے پوری ہوتی ہیں اور نوافل میں تہجد کی بڑی اہمیت ہے ۔ اﷲ تعالیٰ کے حق کے بعد ایک بہت بڑا حق حقیقی مومن پر اس کے بھائیوں کا حق ہے ، انسانیت کا حق ہے اور قطع نظر اس کے کہ کون کس قوم کا ہے اور کس مذہب کا ہے ، انسانیت کے ناطے ایک دوسرے کا حق ادا کرنے کی اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے بار بار تلقین کی ہے ، ایک مومن کاتو دوسرے مومن پر اور بھی زیادہ حق ہے ، جس کی ادئیگی کی کوشش کرنی چاہئے۔ پس ایک احمدی جب بیعت کرتا ہے تو اپنی ذمہ دایوں پر ہمیشہ نظر رکھنے کی ضرورت ہے ، دنیاوی خواہشات اور دنیاوی ترجیحات اسے عہد بیعت سے دور لے جاتی ہیں اور حقیقت میں ایسے شخص کا عہد بیعت عہد بیعت نہیں رہتا ، پس اس جلسے کے دنوں میں ہر احمدی کو اس پہلو سے اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے ۔ پس جب ہمیں خدا تعالیٰ نے یہ خوشخبری دی ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کے بعد دائمی خلافت کا سلسلہ بھی قائم رہنا ہے تو ہمیں اس سے فیض اٹھانے کیلئے خیر القرون کے زمانے کو بھی قائم کرنے کی کوشش کرتے چلے جانا چاہئے، ایک نسل کے بعد دوسری نسل میں وہ روح پھونکنی چاہئے کہ ہم نے اپنے ہر قول و فعل کو خدا تعالیٰ کی رضا کے مطابق ڈھالنا ہے ، اگر یہ نہیں ہو گا تو پھر ہم اس عمدہ زمانے کی خواہش رکھنے والے نہیں ہونگے جس کا ذکر حضرت مسیح موعودؑ نے کیا ہے ۔ پس اﷲ تعالیٰ یہ وعدہ فرماتا ہے کہ جو بھی اپنی تمام تر توجہ اﷲ تعالیٰ پر رکھے ، اﷲ تعالیٰ کی رضا ہر دوسری چیز پر مقدم رکھ لے، ان کے خوف اور غم کی حالت کو اﷲ تعالیٰ دور فرمائے گا۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ پس ہمیں اپنے آ پ کو بیعت میں شامل کرنے کے بعد اسی پر اکتفا نہیں کر لینا چاہئے کہ ہم احمدی ہو گئے بلکہ اپنے معیار بڑھاتے چلے جانے کی کوشش کرتے رہناچاہئے ۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں : اس سلسلہ میں داخل ہو کر تمہارا وجود الگ ہو اور تم بالکل ایک نئی زندگی بسر کرنے والے انسان بن جاؤ ، جو کچھ تم پہلے تھے وہ نہ رہو، یہ مت سمجھو کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں تبدیلی کرنے سے تم محتاج ہو جاؤ گے ، یا تمہارے بہت سے دشمن پید اہو جائیں گے ، نہیں خدا کا دامن پکڑنے والا ہر گز محتاج نہیں ہوتا ، اس پر کبھی برے دن نہیں آسکتے ، خدا جس کا دوست اور مددگار ہو اگر تمام دنیا اس کی دشمن ہو جاوے تو کچھ پروا نہیں ، مومن اگر مشکلات میں پڑے تو وہ ہرگز تکلیف میں نہیں ہوتا بلکہ وہ سن اس کیلئے بہشت کے دن ہوتے ہیں۔

Hudhur(aba) said that the annual conventions held in different countries around the world were initially inaugurated by the Promised Messiah(as). The purpose of these conventions is that the participants gain the blessings that will lead them to a better life in this world and in the Hereafter. Among the duties and obligations towards Allah Almighty, the first and foremost is His worship, and among the acts of worship, the first and foremost is the performance of Salat. The Holy Prophet(saw) says that salat is the essence of worship. Hudhur(aba) said that the five salat are the fundamental requirement. We should also inculcate a habit of offering nawafil. Many of us will offer tahajjud prayers during the days of Jalsa, however we should make every effort to continue these efforts even after Jalsa is over.The weaknesses in our obligatory acts of worship are strengthened with the performance of nawafil prayers, and Tahajjud constitutes a major part of nawafil prayers. After the primary obligations towards Allah Almighty, a Momin must perform his duties towards his fellow brethren. Without making any mention of a person’s caste, creed, nationality, God Almighty and His Messenger(saw) have repeatedly reminded man of his duties towards fellow human beings. A Momin has even more rights over another Momin, therefore these must be performed. An Ahmadi, who performs bai’at, must understand his responsibilities. Worldly desires and priorities distance him from his pledge and his pledge becomes insignificant. During the days of Jalsa, every Ahmadi should evaluate his condition in this context. Khilafat is another promise that has been given to this community, therefore, we should strive to maintain the standards set forth by the Companions of the Holy Prophet(saw). One generation should instil the desire of submitting one’s will to that of Allah in the next generation. If this does not happen, then we will not be able to witness that community of righteous people as mentioned by the Promised Messiah(as). God promises that whoever gives precedence to the commandments of God above all else, then God removes his fears and anxieties. The Promised Messiah(as) says that we must not become content that we have become Ahmadi, but continue to strive and progress in our moral condition. The Promised Messiah(as) says that pledge of bai’at should instil a new life in an individual such that it transforms him/her completely. He should remain steadfast in face of any opposition. He must not feel that trials are difficult, but in fact he should consider them an opportunity to gain the pleasure of God.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
22-Jun-2012 Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Kyrgyz (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)Uzbek (mp3)

Title: Importance of Salat
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت مسیح موعودؑ کی بعثت کا مقصد تو طبیعتوں میں ایک انقلاب پیدا کر کے ۱۴۰۰ سال کے عرصے میں جن اندھیروں نے دلوں پر قبضہ کر لیا تھا انہیں روشنیوں میں بدلنا تھا اور ہمارے آ باؤ اجدادد نے یہ انقلاب اپنے اندر پیدا کیا ، اندھیروں سے روشنیوں میں آ ئے ، ایک انقلابی تبدیلی اپنے اندر پیدا کی، اپنی اعتقادی اور عملی حالتوں میں ہم آہنگی پیدا کی لیکن اگلی نسلوں کے وہ معیار نہیں ہیں ، پس ہمیں اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے۔ امریکہ میں ایک بہت بڑی تعداد ایفرو امریکن احمدیوں کی بھی ہے ، جن کے بڑوں نے جب احمدیت قبول کی تو بڑی قربانیاں کیں اور اپنی حالتوں میں تبدیلیاں پیدا کیں ، لیکن آ گے جائزہ لینے کی ضرورت ہے، کیا وہ حالتیں قائم ہیں ، یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہمارے عمل اور اعتقاد میں کوئی تضاد تو نہیں ۔ قیام نماز کیا ہے؟ نماز کی باجماعت ادائیگی، باقاعدہ ادائیگی اور وقت پر ادائیگی، اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے ’اور نماز کو قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو ، یعنی خدا تعالیٰ کے حضور اکٹھے ہو کر جھکنے والوں کے ساتھ جھکو، پس نماز قائم کرنے والوں اور مالی قربانیاں کرنے والوں کی یہ خصوصیت بیان فرمائی ہے اور فرمایا ہے کہ یہ خصوصیت ان میں ہونی چاہئے ۔ اﷲ تعالیٰ کے فضل سے امریکہ میں مساجد بنانے کی طرف بہت توجہ پیدا ہوئی ہے لیکن مساجد بنانے کا فائدہ تو تبھی ہے جب ان کے حق بھی ادا ہوں اور مساجد کے حق ان کو آ باد کرنا ہے اور آ بادی کیلئے خدا تعالیٰ نے جو معیار رکھا ہے وہ پانچ وقت مسجد میں ا ٓکر نماز ادا کرنا ہے ۔ حضرت مسیح موعودؑ نے ہمیں اس طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا ہے کہ اگر کوئی شخص جس نے مجھے نہیں مانا غلطیاں کرتا ہے تو بیشک وہ گنہگار ہے لیکن مجھے ماننے والے جو ایک عہد بیعت کرتے ہیں اور پھر اس کی تعمیل نہیں کرتے زیادہ پوچھے جائیں گے ۔ حضور نے فرمایابطور احمدی ہم نے اپنے اندر وہ انقلابی تبدیلیاں پیدا کرنی ہیں جو انقلاب ہماری حالتوں میں لانے والی ہوں، ہمارے بچوں اور ہماری نسلوں کی حالتوں میں انقلاب لانے والی ہوں، اور اس معاشرے میں روحانی انقلاب لانے والی ہوں، پس ہمیشہ یاد رکھیں کہ صرف ہمارا اعتقاد ہمیں نہیں بچائے گا ، نہ ہمارا اعتقاد انقلابی تبدیلیاں لائے گا بلکہ ہمارے عمل ہیں جو انقلاب لائیں گے انشاء اﷲ ۔ پس یہ قیام نماز اور حفاظت نماز کے الہٰی ارشاد کی حفاظت جو حضرت مسیح موعود ؑ نے فرمائی ہے اس کی ہر احمدی سے آپ نے توقع رکھی ہے ،پس ا س کی اہمیت کو ہر احمدی کو اپنے سامنے رکھنا چاہئے تاکہ ہم اپنے عمل سے ثابت کریں اور دنیا کو بتائیں کہ حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت میں ا ٓکر ہم میں وہ پاک تبدیلیاں پیدا ہوئیں ہیں جس نے ہمیں خدا سے ملایا ہے ۔ امر معروف عزیز صاحب آ ف انڈونیشیا اور طاہرہ ونڈرمین صاحبہ آف یو کے کی وفات۔

The purpose of the advent of the Promised Messiah(as) was to infuse a revolution in a person’s life such that the darkness which had accumulated over a period of almost 1400 years would transform into radiant light. Our forefathers brought about that revolution in their own lives and brought about transformations within themselves such that their words concurred with their practical actions. But the subsequent generations to follow are not setting the same standards for themselves. In USA, there is a large population of African American Ahmadis whose forefathers offered great sacrifices when they accepted Ahmadiyyat and transformed their lives significantly, but moving forward, there is a need to evaluate whether similar transformations are taking place. We must analyse whether or not there is a contradiction between our actions and our words. Salat should be offered in congregation, should be offered regularly, and should be offered on time. Allah Almighty says: Establish prayer and give Zakat and prostrate with those who bow before God. This verse emphasizes that offering prayer and making financial sacrifices take the best form when offered in congregation and as a community. By the sheer grace and mercy of Allah Almighty, there is a motivation in USA towards construction of mosques, but the benefit can only be derived when the mosques are utilized in their full right i.e. to populate them with those obedient servants of God who offer prayers in congregation. The Promised Messiah(as) said that a person who has not become an Ahmadi, and commits wrongdoings, then indeed he is a sinner, but the ones who have accepted Ahmadiyyat are even more accountable for their actions after performing the bai’at. Hudhur(aba) said that as Ahmadis, we must strive towards bringing about a spiritual transformation in our lives such that we can safeguard our own, our children’s and our society’s lives. Remember, our faith along will not become the means to attain salvation, nor will our faith suffice for that spiritual revolution within us. Every Ahmadi is expected to offer the most excellent form of salat. The Importance of salat should be understood by every Ahmadi, so that our Jama'at can demonstrate through practical actions and show the world that after coming into the bai’at of the Promised Messiah(as), we have undergone such pure transformations that have led us to God. Death of Missionary Amar Maroof Aziz Sahb in Indonesia and Tahira Wandermann Sahiba of UK.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
15-Jun-2012 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Acceptance of Prayers
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

انسان ایک قطرہ پانی کا پی کر اگر دعویٰ کرے کہ میری پیاس بجھ گئی ہے یا یہ کہ اسے بڑی پیاس تھی تو وہ جھوٹا ہے ، ہاں اگر پیالہ بھر کر پئے تو اس بات کی تصدیق ہو گی ، پوری سوزش اور گدازش کے ساتھ جب دعا کی جاتی ہے حتیٰ کہ روح گداز ہو کر آستانہ الہٰی پر گر جاتی ہے اور اس کا نام دعا ہےاور الہٰی سنت یہی ہے کہ جب ایسی دعا ہوتی ہے تو خداوند تعالیٰ یا تو اسے قبول کرتا ہے یا اسے جواب دیتا ہے ۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: دعا بڑی عجیب چیز ہے مگر افسوس یہ ہے کہ نہ دعا کرنے والے آ داب سے واقف ہیں اور نہ اس زمانے میں دعا کرنے والے ان طریقوں سے واقف ہیں جو قبولیت دعا کے ہوتے ہیں ،فرمایا بلکہ اصل تو یہ ہے کہ دعا کہ حقیقت ہی سے بالکل اجنبیت ہو گئی ہے ، بعض ایسے ہیں جو سرے سے دعا کے منکر ہیں۔ حضرت خلیفہ نور الدین صاحب سکنہ جموں فرماتے ہیں کہ میں ایک دفعہ جموں سے پیدل کشمیر براستہ گجرات گیا ، راستے میں گجرات کےقریب ایک جنگل میں نماز پڑھ کر ایک خاص دعا انتہائی اضطراب سے پڑھی ، کہتے ہیں اﷲ تعالیٰ نے اس کے بعد میری روزی کا سامان کچھ ایسا کر دیا کہ مجھے کبھی تنگی نہیں ہوئی اور باوجود کوئی خاص کاروبار نہ کرنے کے غیب سے ہزاروں روپے میرے پاس آ تے تھے۔ حضرت امیر خان صاحب فرماتے ہیں کہ ۱۹۱۵ کو میرے بچے عبدا ﷲ کو جب کہ میں مع عیال قادیان میں تھا طاعون نکلی اور دو دن کے بخا ر نے اس شدت سے زور پکڑا کہ جب میں دفتر سے شام کو گھر آ یا تو اس کی نہایت خطرناک اور نازک حالت تھی ،اس وقت میرا یہی ایک بچہ تھا، والدہ جو بچے کی تکلیف دیکھ کر جاں بلب ہو رہی تھی ، مجھے دیکھتے ہی رو دی اور بچے کو میرے پاس دے دیا۔ حضرت بابو عبدالرحمٰن صاحب فرماتے ہیں کہ میں اور چوہدری رستم علی صاحب اور چند اور احمدی ایک تانگے میں بیٹھ کر قادیان پہنچ گئے ، یہ سڑک اول دفعہ دیکھی تھی، اتنے دھکے لگتے تھے کہ بس الامان، قادیان پہنچ کر آپ نے حضرت مسیح موعودؑ کے ہاتھ پر بیعت کی اور واپس بٹالہ چلے گئے۔ واپس آکر پھر تعمیر مکان کا شروع کیا ، جب نیچے کی منزل تیار ہو گئی اور اوپر کی منزل تیار ہونے لگی تو میں دفعۃ بیمار ہو گیا اور بخار کی حرارت ۱۰۴ تک پہنچ جاتی۔ حضرت عبدالستار صاحب ولد عبداﷲ صاحب فرماتے ہیں کہ زلزلے سے تین دن قبل مجھے خواب آ ئی کہ حضور اقدسؑ ہمارے گھر ہماری چارپائی پر بیٹھے ہوئے ہیں ، اس پر میں نے عرض کیا کہ میرے گاؤں والے مجھے سخت تکلیف دے رہے ہیں آپ میرے لئے دعا فرمائیں اس پر حضور اقدس ؑ نے پنجابی میں فرمایا کہ میں تے اے ہی کم کردا ہونا۔ اس طرح اﷲ تعالی حضرت مسیح موعودؑ کے صحابہؓ کو دعا کے بعد نشانات کی طرف اشارہ کرتا تھا اور وہ نشانات ظاہر بھی ہوئے اور اس طرح ان کے ایمان میں ترقی کا باعث بھی بنتے تھے پس دعاؤں کی قبولیت او ر روشن نشانوں سے اﷲ تعالیٰ نے ان صحابہؓ کے ایمانوں کو مزید مضبوط اور سیقل کیا ، حضرت مسیح موعودؑ کے ذریعے دعاؤں کی حقیقت اور آ داب کا ادراک صحابہؓ کو حاصل ہوا، یہ دعا کرنی چاہئے اﷲ تعالیٰ ہم میں سے ہر ایک کو حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمیں بھی روشن نشانوں کے ذریعے قبولیت دعا کے نشان دکھائے۔ حضور ایدہ اﷲ تعالیٰ بنصرۃ العزیز نے فرمایا دنیا کے جو حالات ہو رہے ہیں اور جس طرح جنگ عظیم کا خطرہ ہے ، اس بارے میں بھی دعا کرنی چاہئے ، اﷲ تعالیٰ ہر احمدی کو اس سے محفوظ رکھے بلکہ تمام انسانیت کو اس سے محفوظ رکھے اور یہ بلائیں جو آ نے والی ہیں وہ ٹل جائیں ، حضور نے فرمایا انشااﷲ تعالیٰ چند ہفتوں کیلئے حضور پھر سفر پر جارہے ہیں ، دعا کریں اﷲ تعالیٰ ہرلحاظ سے یہ بابرکت فرمائے ، امریکہ اور کینیڈا کے جلسے ہر لحاظ سے بابرکت ہوں۔

"If a person drinks a drop of water and claims that his great thirst has been slaked, he utters a falsehood. His claim would be established if he were to drink a bowl full of water. When prayer is offered in great tribulation so that the soul melts and flows at the threshold of the Divine, that is true prayer and it is God’s way that when such a prayer is offered, He accepts it or responds to it in some other manner. Promised Messiah(as) said Prayer is a wonderful thing. It is a pity that those who pray are not aware of the true manner of prayer, nor are they acquainted with the ways of the acceptance of prayer. The truth is that the very reality of prayer has become strange. There are some who deny the effectiveness of prayer altogether. Hadhrat Khalifa Nooruddin Sahib narrates that once, he was travelling on foot from Jammu to Kashmir via Gujrat. On his way, he had the opportunity to supplicate in earnest about his situation, mainly his finances. After that day, he was never pressed for money and was endowed with means from places where he least expected. Hadhrat Ameer Khan Sahib narrates that in 1915, his son Abdullah was afflicted with plague and within 2 days, the fever had rendered him so weak that when he returned from work, his son’s condition had deteriorated extensively. At that time, he was his only child. The mother could not watch her child suffer, so she asked the father to care for him. Babu Abdur Rehman Sahib was travelling along with Chaudhry Rustum Ali Sahib to Qadian on a horse carriage on an unpaved road. In Qadian, he performed bai’at at the hands of Promised Messiah(as) and returned home to Batala. Upon his return, his home was undergoing construction on the first floor, but before construction could begin on the upper level, he fell ill, so much so that his fever elevated to 104. Abdus Sattar Sahib, son of Abdullah Sahib, had a vision 3 days before the earthquake that resulted as the fulfilment of the Promised Messiah(as)’s prophecy that Huzoor(as) was seated in his house and he requested him to pray as the villagers were ill-treating them. With the narration of these incidents, the aspiration is to revive a person’s faith in the acceptance of prayer. These incidents were surely a source of strengthening of faith for the companions of the Promised Messiah(as). Therefore, we should also follow suit and make earnest efforts in supplicating the way supplications are supposed to be made. Huzoor(aba) also urged Ahmadi Muslims around the world to pray for world peace in face of the looming catastrophic wars the world is facing today. Huzoor(aba) informed viewers around the world that he is leaving for a tour for a few weeks and requested prayers for a successful tour also for jalsa USA and Canada.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
08-Jun-2012 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Successful Tour of Holland and Germany
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian | Bengali
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ نے جماعت کیلئے وعدہ فرمایا ہے جس کی وضاحت آپ نے براہین احمدیہ میں یوں بیان فرمائی ہے کہ جو لوگ تیری متابعت اختیار کریں یعنی حقیقی طور پر اﷲ اور اس کے رسول کو متبعین میں شامل ہو جائیں ان کو ان کے إکالفین پر جو کہ انکاری ہیں قیامت تک غلبہ بخشوں گا یعنی وہ لوگ حجت اور دلیل کی رو سے اپنے مخالفوں پر غالب رہیں گے ، اکتوپر ۱۹۰۲ میں آ پ لکھتے ہیں اور خدا کے وعدے سچے ہیں اور ابھی تو تخمریزی ہو رہی ہے ۔ نیک فطرت لوگ بہرحال حضرت مسیح موعودؑ کی طرف کھنچے چلے آ تے ہیں ، اﷲ تعالیٰ ان کی راہنمائی فرماتا ہے لیکن دنیا دار جن کو مذہب سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ، جن میں سے بعض خدا کے وجود پر بھی یقین نہیں رکھتے وہ بھی یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ یہ ایسی جماعت ہے جن کے قدم ہر آ ن ترقی کی طرف بڑھ رہے ہیں ، اور جو تعلیم تم پیش کرتے ہو ، یہ تعلیم ایک دن دنیا پر غالب آ جائے گی۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا اﷲ تعالیٰ کے فضل سے جب بھی میں دنیا کے مختلف ممالک کے دورے پر گیا ہوں ، حضرت مسیح موعودؑ کے پیغام کے ذریعہ نئی شان غیروں پر ظاہر ہوتے دیکھتا ہوں ، گزشتہ دنوں حضور ہالینڈ اور جرمنی کے جلسہ سالانہ میں شمولیت کیلئے تشریف لے گئے تھے، جہاں افراد جماعت اور غیروں سے ملنے کا موقع ملا، اور ان پروگراموں کا ان غیروں پر بھی نیک اثر قائم ہوا۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے اسلام کی خوبصورت تعلیم کے چند پہلو اور آ نحضرت ﷺ کے اسوہ حسنہ اور قرآ ن کریم کی تعلیم کے حوالے سے پیش کئے ، میئر نے اور ایم پی نے وہاں کے مختصر خطاب کیااور مذہبی رواداری اور برداشت کی باتیں کیں۔ جرمنی کا جلسہ بھی بہت کامیاب رہا، جرمنی میں جہاں جلسہ کی مصروفیات ہوتی ہیں وہاں جماعت ہر دورے پر مسجدوں کے افتتاح یا سنگ بنیاد میں بھی مصروف رکھتی ہے ، اس دورے میں بھی ایک مسجد کا افتتا ح ہوا اور تین کا سنگ بنیاد رکھا گیا ، اب مسجدوں کے افتتاح اور سنگ بنیاد پر ایک اچھی چیز پیدا ہو رہی ہے وہاں جماعت میں وہ یہ ہے کہ ہر فنکشن پہ مقامی لوگ جن میں پڑھا لکھا طبقہ بھی ہوتا ہے اور افسران وغیرہ کو بھی بلاتے ہیں۔ جرمنی میں حضرت خلیفۃ المسیح نے ایک ادارہ جس میں فو جی افسران کی اخلاقی ، سیاسی ، قانونی بنیادوں پر تشکیل اور تربیت کو پروگرام بنائے جاتے ہیں اس میں بھی جا کر لیکچر دینے کا موقع ملا ، اسی طرح سول انتظامیہ بھی ان کے ساتھ شامل ہوتی ہے پروگراموں میں ، ان پروگراموں میں لیکچر کیلئے بیرونی شخصیات کو بلایا جاتا ہے ، حضرت خلیفۃ المسیح نے ملک سے وفاداری کے اسلامی تعلیم پر ایک مختصر تقریر کی جس کے بعد سوال جواب کا سیشن بھی ہوا۔ جرمنی کے جلسہ میں مختلف ملکوں سے آئے ہوئے احمدی اور غیر احمدی احباب شامل ہوتے ہیں ، سب سے بڑا وفد اس سال بلغاریہ سے آ یا تھا ، تمام لوگ جلسہ کی کاروائی، تقاریر، ڈسپلن وغیرہ سے بہت متاثر تھے، ہر سال کافی تعداد میں نئے لوگ مختلف ملکوں سے آ تے ہیں اور عموما جلسہ دیکھ کر متاثر ہو کر جاتے ہیں اور بعض کیلئے یہ جلسہ سینے کھولنے کا با عث بھی بن جاتا ہے ۔ بہرحال اگر چند ایک کو بھی جلسہ کی انتظامی کمزوریوں کی وجہ سے کسی بھی قسم کی تکلیف سے گزرنا پڑا تو یہ قابل توجہ ہے اس کی اصلا ح کی آ ئندہ توجہ ہونی چاہئے ، مہمانوں کی مہمان نوازی کا تو واقعہ ہم سناتے ہیں حضرت مسیح موعودؑ کا کہ کس طرح مہمان آئے، لنگر خانے میں اترے اور وہاں خدمت گاروں نے صحیح طرح ان کا سامان نہیں اتارا اور کہہ دیا خود ہی سامان اتارو اور وہ ناراض ہو کر چلے گئے ۔

The Promised Messiah(as) explained in his book Baraheen e Ahmadiyya that in the verse ‘And will place those who follow thee above those who disbelieve until the Day of Resurrection’ (3:56) is a Divine promise with his Jama’at. He wrote in October 1902 that God’s promises are true and likened his own time to sowing of seed. God’s help and corroboration is with the Jama’at as pious-natured people are drawn to the Promised Messiah(as) and enter the Jama’at. People who do not even believe in the existence of God are compelled to opine that this Community is progressing by the day and its teaching is going to be triumphant. Hadhrat Khalifatul Masih said whenever he goes on a trip abroad, he notices a renewed glory of the Promised Messiah(as) unfolded to the outsiders. In his recent trips to Holland and Germany, he met people of the Community as well as outsiders. As it is observed, the outsiders who come to the Jalsa take a positive influence. Hadhrat Khalifatul Masih presented the beautiful teachings of Islam and the blessed model of the Holy Prophet(saw) in his address at the event. The local mayor and MP also addressed the event and spoke of religious tolerance. The Jalsa in Germany went very well. Each year at Jalsa time in Germany inaugurations of mosques also takes place. This year three mosques were inaugurated and foundation stone was laid for one mosque. The German Jama’at has taken on to invite dignitaries and educated fraternity at the inaugurations and foundation-laying. In Germany, Hadhrat Khalifatul Masih had the opportunity to give a lecture at a military organisation. Civil authorities are also affiliated with this organisation. They invite experts from various fields to deliver lectures and hold seminars. Hadhrat Khalifatul Masih gave a lecture on Islam’s teachings on loyalty to one’s country which was followed by a brief Q & A session. German Jalsa is always attended by Ahmadi and non-Ahmadi delegations from various countries. The largest delegation this year came from Bulgaria. They were quite impressed by the Jalsa proceedings. Each year new people come and are impressed by the Jalsa while it proves to open up the hearts of some. Even if a few were inconvenienced, the matter needs looking into. We cite the incident of the time of the Promised Messiah(as) when some guests arrived by the Langer and the workers in the Langer did not help them unload the carriage or something else transpired. The guests felt rebuffed and left.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
01-Jun-2012 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Fulfill your obligations to mankind
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

اگر ہم ترقی کرنے والی قوم ہیں اور یقینا ہیں تو پھر ہمیں اپنی کمزوریوں پر آنکھیں نہیں بند کر لینی چاہیئں، بلکہ نظر رکھنی چاہئے اور اصلاح کی طرف توجہ دینی چاہئے، اور پھر یہی نہیں کہ دنیاوی نظر سے ہم نے دیکھنا ہے بلکہ ہم تو اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم نے اس زمانے میں حضرت مسیح موعودؑ کو مانا ہے جو آنحضرت ﷺ کے اس روئےزمین پر سب سے بڑے عاشق صادق تھے ۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ جلسہ کے مقاصد بیان فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعودؑ نے جہاں عبادتوں ، تبلیغ ، تقویٰ اور بہت سے دوسرے مقاصد کی طرف توجہ دلائی ہے وہاں خاص طور پر بندوں کے حقوق اور ان میں سے پھر ہمدردی خلق کی طرف بہت کچھ کہا ہے ، دراصل تو حقیقی رنگ میں ہمدردی خلق کا جذبہ انسان کے دل میں پیدا ہو جائے تو حقوق العباد کی ادائیگی تو خود بخود ہوتی چلی چاتی ہے ۔ تقویٰ تب کامل ہوتا ہے جب ماں باپ ،بیوی ،خاوندوں ،بچوں ،عزیز رشتہ داروں ،دوستوں ،ہمسایوں ،بہن بھائیوں اور افراد جماعت کے حقوق بھی ادا ہو رہے ہوں ، یہاں تک کے جہاں دشمنوں کے حقوق بھی ادا ہو رہے ہوں ، اور یہ سب تعلیم قرآ ن کریم میں موجود ہے ، ہم جلسے میں شامل ہونے آ ئے ہیں تاکہ اپنی روحانی ترقی کے سامان کریں ، پس جہاں پر شامل ہونے والا اپنی عبادتوں اور اﷲ تعالیٰ کے حقوق کی ادائیگی کی طرف نظر رکھے وہاں یہ بھی دیکھے کہ جہاں عبادتوں ، نمازوں ، دعاؤں اور ذکر الہٰی کی طرف آپ توجہ کریں گے وہاں آ پس کی محبت اور تعلق اور ہمدردی کی طرف توجہ کر تے ہوئے اپنے جائزے لیں ۔ اﷲ تعالیٰ کی مخلوق میں سب سے بڑھ کر انسان ہے جو اشرف المخلوقات ہے ، پس حقیقی انسان اس وقت بنتا ہے جب حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف توجہ پیدا ہو ،حضرت خلیفۃ المسیح پہلے بھی اس کی طرف توجہ دلا چکے ہیں کہ غیر مسلموں کو جو انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں میں ان کے سامنے اسلام کی یہ خوبی رکھتا ہوں کہ تمہاری دنیاوی نظام بعض حقوق کا تعین کر کے کہتا ہے کہ کہ یہ ہمارے حقوق ہیں اور یہ ہمیں دو ورنہ طاقت کا استعمال ہوگا، جب کہ اسلام ہمیں کہتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کی رضا چاہتے ہو تو ایک دوسرے کے حقوق ادا کرو۔ جو عہدیدار ہیں، جو خلیفہ وقت کی طرف سے مقرر کئے جاتے ہیں ان کا کام ہے کہ انصاف اور ہمدردی سے اپنے کام کو سر انجام دیں ، جو ایسا نہیں کرتے، جان بوجھ کر اپنی ذمہ داری کا حق ادا نہیں کرتے، وہ امانت میں خیانت کرنے والے ہیں اور یقینا خدا تعالیٰ کے حضور پوچھے جائیں گے، پس بڑے خوف کا مقام ہے عہدیداران کے لئے بھی، جماعت کے عہدے دنیاوی مقاصد کیلئے نہیں ہوتے بلکہ اس جذبہ کے تحت ہونے چاہئے کہ ہم نے ایک پوزیشن میں آ کر پہلے سے بڑھ کر افراد جماعت کی خدمت کرنی ہے اور ان سے ہمدردی کرنی ہےاور ان کی بہتری کی راہیں تلاش کرنی ہیں اور انہیں اپنے ساتھ لے کر چلنا ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ غصہ کو کھا لینا اور تلخ بات کو پی جانا نہایت درجہ کی جوانمردی ہے اور یہ آ نحضرت ﷺ کے اس فرمان کی بھی وضاحت ہے جس میں آ پ نے فرمایا کہ پہلوان وہ نہیں جو دوسرے کو پچھاڑ دے بلکہ پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے غصہ کو قابو میں رکھے ، غصہ قابو میں ہو تبھی انصاف کے تقاضے بھی پورے ہوتے ہیں پس یہ معیار ہے جو ہمارے عہدیداران کو اپنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ پس آ ج جب ہم اپنے آپ میں پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کیلئے جمع ہوئے ہیں تو ان نمونوں کی جگالی کرنے کی ضرورت ہے ، ان نصائح کو سننے کی ضرورت ہے جو آنحضرت ﷺ کے پاک نمونے اور آپﷺ کے حوالے سے ہم تک پہنچیں، آنحضرت ﷺ کے اعلیٰ اخلاق کے حصول کیلئے عاجزی کی انتہائی حدوں کو پہنچی ہوئی دعا ، وہ نبی جو ہر وقت اپنی جان کو دشمنوں کی ہمدردی کے جذبے کیلئے بھی ہلکان کر رہا تھا ، اپنے رب کے حضور عاجزی سے یہ دعا کرتا ہے کہ’ اے میرا اﷲ میں برے اخلاق سے، برے اعمال سے اور بری خواہشات سے تیری پناہ چاہتا ہوں ‘۔ سیدہ امتہ اﷲ بیگم صاحبہ کی وفات۔

If we are progressive people, which indeed we are, then we should not shut our eyes to our shortcomings. Our efforts to reform should not be simply from a worldly perspective. We claim to have accepted the Imam of the age who was the greatest and most ardent devotee of the Holy Prophet(saw) on the face of this earth. It should always be remembered that in expounding the objectives of Jalsa, while the Promised Messiah(as) spoke of worship, Tabligh, Taqwa and many other aspects, he specifically mentioned paying the dues of people, in particular compassion for mankind. If genuine sympathy for mankind is generated, the fulfilment of dues of people is accomplished. Taqwa is perfected when the rights of parents, wives, husbands, children, friends and relatives are paid, when the rights of members of the Jama’at are paid, in fact when the rights of the enemy are paid. We come to the Jalsa for spiritual development and while we keep worship and remembrance of God in view here we should also pay attention to mutual love and friendship and sympathy. Among God’s creation the greatest is mankind, most eminent of all creation but man becomes a true human being when he tries to be advantageous to others. Hadhrat Khalifatul Masih has drawn attention before that he always puts it to outsiders that it is an excellence of Islam that while worldly systems demand rights and when these rights are not met, force is used, Islam teaches to pay the dues of each other. Office-holders of the Jama’at also need to work with this spirit, otherwise they would be betraying the trusts given to them and will certainly be accountable before God for it. Office of Jama’at is not like worldly position, rather it requires application of greater sympathy and support for people. The Promised Messiah(as) said that repressing anger was the height of valour and the Holy Prophet(saw) said that a champion is one who controls his temper at time of anger. Indeed, one can only be just and fair if one can control one’s temper. This is a standard that all our office-holders should adopt. Today we have gathered to bring about pure changes in ourselves, thus there is a great need to pay heed to the teachings of the Holy Prophet(saw). Such was the degree of his humility that he used to pray: ‘O my Allah, I seek Your refuge from bad morals, bad practices and bad wishes.’ His was a perfect model yet he prayed in this way. Death of Syedda Amtulla Begum sahiba.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
25-May-2012 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Sincerity and Obedience of Companions of Promised Messiah(as)
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian | Bengali
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت مسیح موعودؑ اپنی کتاب حقیقۃ الوحی میں اپنے لئے خدا تعالیٰ کے نشانات کا ذکر فرماتے ہوئے فرماتے ہیں کہ براہین احمدیہ میں میری نسبت خدا تعالیٰ کی پیشگوئی ہے کہ میں تیری محبت لوگوں کے دلوں میں ڈالوں گا اور میں اپنی آ نکھوں کے سامنے تیری پرورش کروں گا ، یہ اس وقت کا الہام ہے جب ایک شخص بھی میرے ساتھ تعلق نہیں رکھتا تھا پھر ایک مدت بعد یہ الہام پورا ہوا اور ہزار ہا انسان خدا نے ایسے پیدا کئے جن کے دلوں میں اس نے میری محبت بھر دی ۔ حضرت حافظ عبدالعلی صاحبؓ : آپ فر ما تے ہیں کہ زبانی حضرت میر محمد اسماعیل صاحب سے معلوم ہوا کہ آ پ جب لاہور میڈیکل کالج میں پڑھنے تشریف لائے تو حضرت مسیح موعودؑ نے ارشاد فرمایا کہ آپ لاہور میں مکان میں اکیلے نہ رہیں بلکہ اپنے ساتھ کسی کو ضرور رکھیں ، اس ارشاد کے تحت میر صاحب اکیلے کسی شہر میں جہاں تک میں دیکھتا رہا نہ رہے۔ حضرت مالک شادی خان صاحبؓ ؒ : آ پ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ بیعت سے قبل جب میں قادیان گیا تو میرے کانوں میں چھوٹے چھوٹے چھلے پڑے ہوئے تھے، حضرت مسیح موعودؑ نے دیکھ کر فرمایا یہ مسلمان تو نہیں پہنتے ، فرمایا ان کو کانوں سے اتار دو، شادی خان صاحبؓ نے حضرت مسیح موعودؑ کے عمل کی تعمیل کرتے ہوئے اتار دیں جس پر حضور اقدس ؑ نے فرمایا کہ اب مسلمان معلوم ہو تے ہو۔ حضرت شیخ زین العابدین صاحبؓ : آپ بیان کرتے ہیں کہ حافظ صاحب جب قادیان آ ئے تو حقہ بہت پیا کرتے تھے اور چوری چوری میاں نظام الدین کے مکان پر جا کر پیتے تھے ، حضرت اقدس ؑ کو جب اس بات کا پتہ چلا تو فرمایا میاں حامد علی یہ پیسے لو اور بازار سے اپنے لئے حقہ لے آ ؤ اور تمباکو بھی لے آ ؤ اور جب ضرورت ہو تو گھر میں پی لیا کرو اور ان لوگوں کے پاس نہ جایا کرو۔ حضرت غلام رسول راجیکی صاحبؓ : آپ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں دارلامان ہی میں تھا کہ کسی نے مجھے کہا کہ آپ کپور تھلہ چلیں اور وہاں کچھ عرصہ ہمارے پاس بغرض درس و تدریس اور تبلیغ قیام کریں، میں نے عرض کیا کہ میں قادیان دارلامان میں ہی قیام رکھوں گا اور جانا پڑا تو واپس وطن کو جاؤں گا ، اس پر انہوں نے کہا کہ اگر حضرت مسیح موعودؑ حکم کریں تو پھر بھی نہ جائیں گے ؟ حضرت میاں سونے خان صاحبؓ : آپ فرماتے ہیں کہ آپ نے حضرت مسیح موعودؑ سے متعلق ایک خواب دیکھی لیکن کسی وجہ سے آ پ نے بیعت نہیں کی ، خواب میں آپ سے ایک بزرگ نے پوچھا کہ آپ بیعت کیوں نہیں کرتے۔ حضرت نظام الدین صاحبؓ : آپ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ اس زمانے میں دستور تھا کہ پہلے سب مہمان گول کمرے میں جمع ہو جایا کرتے تھے، حضور اقدس ؑ کو اطلاع پہنچائی جاتی کہ حضور تمام خدام حاضر ہیں اور آپ ؑ تشریف لے آ ئیں۔ حضرت میاں شرافت احمد صاحبؓ : آپ اپنے والد میاں جلال الدین صاحب کے حالات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ سے والد صاحب کو بہت عقیدت تھی اور حضور بھی ان پر خاص نظر شفقت فرمایا کرتے تھے، آ پ کو حضرت خلیفۃ المسیح الاول ؓ کی طرف سے حکم تھا کہ قادیان آ ؤ تو یا حضرت مسیح موعودؑ کی صحبت میں بیٹھو یا میری صحبت میں، اور کہیں نہیں جانا، والد صاحب بیان کرتے تھے کہ میں ایسا ہی کیا کرتا تھا۔ طارق احمد صاحب کی لیہ پاکستان میں شہادت۔ امۃ القیوم صاحبہ کی ربوہ پاکستان میں وفات۔

The Promised Messiah(as) wrote in his book ‘Haqiqat-ul-Wahi’ that God had foretold him and it is recorded in ‘Braheen Ahmadiyya’ that God would put his love in the hearts of people. The revelation came at a time when no one knew the Promised Messiah(as), yet God produced thousands who became his sincere and devoted followers. Hadhrat Hafiz Abdul Ali sahib(ra): He relates that he heard from Mir Muhammad Ismael sahib that when he was a medical student in Lahore the Promised Messiah(as) advised him not to stay alone in lodgings. Mir sahib made this a rule and always rented a house and shared it with another person. Hadhrat Malik Shadi Khan sahib(ra): He relates that before his Bai’at he visited Qadian. He had earrings on. The Promised Messiah(as) said Muslims [men] did not wear earrings and asked him to remove them. Shadi Khan sahib did as he was told and the Promised Messiah(as) told him that he now looked like a Muslim. Hadhrat Sheikh Zain ul Abideen sahib(ra): He relates that when Hafiz Hamid Ali came to Qadian he used to smoke hookah a lot. He used to go to a particular household to smoke hookah. When the Promised Messiah(as) came to know, he gave Hamid Ali sahib some money and asked him to get himself a hookah and said he should not go to that house to smoke [as it was bad company]. Hadhrat Ghulam Rasool Rajiki sahib(ra): He relates that once someone asked him to travel to Kapurthala to give series of dars (lesson) and also do some Tabligh work, but Rajiki sahib refused and said he wished to stay in Qadian. The person put it to him what if he asked the Promised Messiah(as) that Rajiki sahib should go with him and an instruction was given. Hadhrat Mian Sonay Khan sahib(ra): He relates that he saw many dreams relating to the Promised Messiah(as) but somehow he did not take Bai’at. In his dreams he was asked by holy men why he would not take Bai’at. Hadhrat Nizam Din sahib (ra): He relates a time when it was routine for all guests to gather in a specific room called ‘Gol Kamra’, a message would then be sent to the Promised Messiah(as) that everyone was present and he would arrive. Hadhrat Mian Sharafat Ahmad sahib(ra): He relates that Hadhrat Maulana Nur ud din(ra) always enjoined that visitors to Qadian should first go to see the Promised Messiah(as) and then come to see him. Mian sahib relates his father always followed this practise. Martyrdom of Tariq Ahmad sahib in Layyah Pakistan. Death of Amatul Quyyum sahiba in Rabwah Pakistan.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
18-May-2012 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Salat and God-Consciousness
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian | Bengali
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

جلسہ سالانہ منعقد کرنے کی غرض جو حضرت مسیح موعودؑ نے بیان فرمائی ہے وہی ہے جو بیعت کی غرض ہے ، بیعت کرنے کے بعد دنیاوی دھندوں میں پڑ کر انسان عموما اپنے اصل مقصد کو بھول جاتا ہے ، اس لئے اﷲ تعالیٰ نے بار بار نصیحت کرنے کو ضروری قرار دیا ہے کہ اس سے ہر اس شخص کو جس کے دل میں ایمان ہے ، فائدہ ہو تا ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ تمام مخلصین داخلین سلسلہ بیعت اس عاجز پر ظاہر ہو کہ بیعت کرنے سے غرض یہ ہے کہ تا دنیا کی محبت ٹھنڈی ہو اور اپنے مولا اور رسول مقبول ﷺ کی محبت دل پر غالب آ جاوے اور ایسی حالت انقطاع پیدا ہو جائے جس سے سفر آ خرت مقروح معلوم نہ ہو ۔ اس دنیا کیلئے تو انسان کوشش کرتا ہے ، بڑے تردد سے ملازمتوں کی تلاش کرتا ہے ، کاروبار کیلئے محنت کرتا ہے ، جائیدادیں بنانے کیلئے محنت اور کوششیں کرتا ہے ، اپنے بچوں کو دنیاوی تعلیم دلانے کیلئے فکر مندی کے ساتھ کوشش کرتا ہے ، ان دنیاوی کاموں کیلئے ، ایک شخص جس کو خدا تعالیٰ پر یقین ہو ، اس کوشش کے ساتھ کچھ حد تک دعا بھی کرتا ہے یا دوسروں سے دعا کرواتا بھی ہے ۔ حقوق اﷲ کی ادائیگی میں سب سے اہم چیز نماز ہے ، اﷲ تعالیٰ نے اپنے اوپر ایمان لانے کے بعد دوسری اہم شرط نماز کا قیام رکھی ہے ، لیکن دوسری طرف نماز پڑھنے والوں کو بڑی سخت تنبیہ بھی کی ہے ، فرماتا ہے ان نمازیوں کیلئے ہلاکت ہے جو نماز کا حق نہیں ادا کرتے، جو بغیر تقویٰ کے نمازیں پڑھنے والے لوگ ہیں۔ دنیا دار دنیا کمانے کیلئے کتنے ہاتھ پیر مارتا ہے ، کتنی محنت کرتا ہے ، کتنی تکلیفیں برداشت کرتا ہے ، اتنے فکر کرتا ہے کہ اپنی صحت برباد کر لیتا ہے ، دنیاوی مال کا ، جائیداد کا نقصان ہو جاوے تو دل کے دورے پڑنے لگ جاتے ہیں بعض لوگوں کو ،بعض لوگ خاطر خواہ نتائج نہ دیکھ کر ڈپریشن میں چلے جاتے ہیں ، صرف اس دنیا کی زند گی کیلئے یہ سب کچھ ہو رہا ہوتا ہے جس میں فعال زندگی صرف۶۰، ۷۰ سال ہی ہوتی ہے ،جس کے بعد بچوں کے یا دوسروں کے رحم و کرم پہ انسان پڑا ہوتا ہے ۔ اس معاشرے میں رہتے ہوئے جہاں ایک بہت بڑی تعداد خدا تعالیٰ کے وجود سے ہی انکاری ہے اور اس کے حاصل کرنے کیلئے ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے ، اس معاشرے میں رہتے ہوئے دین پر قائم رہنا ، دین کی خاطر قربانی کیلئے تیار رہنا ، تقویٰ پر چلنے کی کوشش کرنا بہت بڑا کام ہے اور اس لئے یہ مومن کیلئے بہت اہم قرار دیا گیا ہے، بہت سے لوگ ہم دیکھتے ہیں اس دنیا کی رنگینیوں میں گم ہو جاتے ہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں : انسان کی تمام روحانی خوبصورتی تقویٰ کی تمام باریک راہوں پر قدم مارنا ہے ، سر سے پیر تک جتنے اعضاء اور قواع ہیں ، ان کو جہاں تک طاقت ہو ٹھیک ٹھیک محل ضرورت پر استعمال کرنا ، اور ناجائز مواضع سے روکنا، اور ان کے پوشیدہ عملوں سے منتبہ رہنا۔ اس جلسہ میں آ کر ہر احمدی کو جہاں جائزے لینے کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے وہاں اس عہد کی بھی ضرورت ہے کہ ہم نے آئندہ سے خدا تعالیٰ کا حق ادا کرنے کی بھی بھرپور کوشش کرنی ہے ، اپنے بھائیوں کا حق ادا کرنے کی بھی بھرپور کوشش کرنی ہے اور معاشرے کا حق دا کرنے کی بھی بھرپور کوشش کرنی ہے ، اور اس ملک کا حق ادا کرنے کی بھی بھرپور کوشش کرنی ہے جس نے ہمیں آ زادی سے رہنے کے بھی بھرپور مواقع مہیا فرمائے۔ ناصر احمد صاحب سابق محاسب پراویڈنٹ فنڈ صدر انجمن احمدیہ پاکستان کی وفات۔

The objective of coming to Jalsa, as expounded by the Promised Messiah(as) is the same as the objective of the Bai’at. Man loses sight of the real objective, which is why God has enjoined to repeatedly exhort as exhortation impacts those who have faith. The Promised Messiah(as) said that the objective of Bai’at was to cool off the love of the world and to inculcate the love of God and His Prophet(saw) and to espouse such a condition that the journey to the Hereafter is not unpleasant. Man tries in every way to excel in the world, in terms of employment, trade, acquiring property, worldly education of children etc. Those who believe in God also pray to some extent for achieving these worldly objectives or ask others to pray. Among the dues of God, the most important is Salat. After belief in Him, God has ordained that the second significance is that of Salat. However, there is also a warning for some worshippers: ‘So woe to those who pray,’ (107:5) That is, those worshippers who offer their Salat devoid of Taqwa. A worldly person is much concerned about worldly matters and at times ruins his health in the process. When they do not get their desired results, depression overtakes some people. All this goes on for the worldly life in which one remains active for sixty to seventy years and afterwards is dependent on his children or others. We live in a society where a large number of people deny the existence of God and this world is considered everything. To stay firm on religion and to be ready to make sacrifices for religion is a big task in this society. Many people are lost in the razzle dazzle of this world. The Promised Messiah(as) said that man’s spiritual beauty is in adopting the delicate, fine ways of Taqwa. He said that all the limbs should take one towards piety and all the hidden capabilities should be used for the sake of God. Self-reflection should be done in the three days of Jalsa and promise should be made that from now on full effort will be made to discharge the right of God, the right of brother, the right of society and the right of this country which has given freedom. Death of Nasir Ahmad sahib who was the former auditor and officer Provident Fund, Sadr Anjuman Ahmadiyya, Pakistan.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
11-May-2012 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Companions' ardent love for the Promised Messiah (as)
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Bengali
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں جب انسان سچے طور پر خدا تعالیٰ سے محبت کرتا ہے تو خدا بھی اس سے محبت کرتا ہے، تب زمین پر اس کیلئے ایک قبولیت پھیلائی جاتی ہے اور ہزاروں انسانوں کے دلوں میں ایک سچی محبت اس کی ڈال دی جاتی ہےاور ایک قوت جذب اس کو عنایت ہوتی ہے ، اور ایک نور اس کو دیا جاتا ہے جو ہمیشہ اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ حضرت اﷲ یار صاحبؓ: آ پ روایت کرتے ہیں کہ حضور اقدس ؑ کے ساتھ پرجوش عقیدت اور محبت کی وجہ سے میں قادیان ہجرت کر کے آ گیا اور یہاں آکر لکڑی وغیرہ کا کام شروع کیا ۔ میرے پاس کافی روپیہ تھا جو خرچ ہو گیا اور پاس کچھ بھی نہ رہا پھر میں نے ایک دن حلوہ بنا کے بیچنا شروع کیا ۔ حضرت ملک خان صاحبؓ: آپ بیان کرتے ہیں کہ میں۱۹۰۲ میں حضرت صاحبزادہ عبداللطیف شہید صاحب ؓکے ہمراہ قادیان دارلامان میں آ یا ، اسی دن یا اس سے اگلے دن ہم ظہر کی نماز کے بعد بیعت کیلئے پیش ہوئے ، حضرت شہید مرحوم ؓ نے سب سے پہلے حضرت اقدس مسیح موعودؑ کے ہاتھ میں ہاتھ دیے اور دوسرے نمبر پر خاکسار نے ہاتھ رکھے۔ حضرت شکر الہٰی احمدی صاحبؓ: آپ روایت کرتے ہیں کہ آ پ ابھی بچہ ہی تھے، عمر ۱۲ یا ۱۳ سال کی ہوگی ، دین سے بالکل بے بہرہ تھا ۔ حضرت مسیح موعودؑ سکول کے پاس ایک عدالت میں مقدمہ کیلئے آ یا کرتے تھے ، خاکسار مدرسہ چھوڑ کر آ پ کی رہائش گاہ کے پاس آ یا کرتا تھا اور آ پ ؑکے چہرہ مبارک کو دیکھا کرتا تھا۔ حضرت مدد خان صاحب ؓ : آپ فرماتے ہیں کہ ابھی آپ نئے نئے ہی فوج میں بھرتے ہوئے تھے اور ملازمت شروع کرنے سے پہلے قادیان جانا چاہتے تھےتاکہ حضور کے ہاتھ پر بیعت کر سکیں کیونکہ آپ کی پہلی بیعت خط کے ذریعے سے ہوئی تھی، آپ کو ڈر تھا کہ اگر آپ نے نوکری شروع کردی تو پھر شاید حضرت مسیح موعودؑ سے ملاقات کا موقع نہ مل سکے ۔ حضرت ماسٹر مولا بخش صاحبؓ : آپ فرماتے ہیں میں کہ ایک دفعہ قادیان آ یا ہوا تھا ،تعطیلات کے دو تین دن باقی تھی، جب میں قادیان سے روانہ ہونے لگا تو جانے کو دل نہ چاہا ، وہیں کھیت میں بیٹھ گیا اور چلا چلا کر زارو زار رویااور واپس آ گیا، موسمی تعطیلات ختم کر کے پھر گیا۔ حضرت حاجی موسیٰ صاحب ؓ : آپ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میرے لڑکے عبدالمجید نے جس کی عمر قریبا چار برس کی تھی ، اس بات پر اصرار کیا کہ میں نے حضور اقدسؑ کو جپھی ڈال کر ملنا ہے ، اس نے اس قدر ضد کی کہ صبح ہی میں لڑکے کو لے کے کر ٹرین کے ذریعے قادیان پہنچ گیا۔ حضرت شیخ زین العابدین صاحب ؓ : آپ بیان کرتے ہیں کہ ایک میرے بھائی آٹھویں جماعت میں پڑھتے تھے ، وہ بیمار ہو گئے ، جب کوئی افاقہ نہ ہوا اور ہم ناامید ہو گئے تو اسے قادیان لے آئے۔ حضرت مسیح موعودؑ کو الہام ہو چکا تھا کہ میں اس جگہ ایک پیارے بچے کا جنازہ پڑھوں گا اور حضور اس الہام کو اپنے بچوں میں سے ہی ایک کو سمجھا کرتے تھے۔ حضرت شیخ محمداسماعیل صاحبؓ : آپ روایت کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ جب نماز سے فارغ ہو کر مسجد مبارک میں تشریف رکھتے تو ہماری خوشی کی انتہا نہ رہتی، کیونکہ ہم جانتے تھے کہ اﷲ تعالیٰ کی معرفت کے نکات بیان فر ما کر محبت الہٰی کے جام ہم پیئں گے اور ہمارے دلوں کے زنگ دور ہونگے۔ رشیدہ بیگم صاحبہ اور نظر النساء صاحبہ کی قادیان انڈیا میں وفات۔

The Promised Messiah(as) said that when man loves God in the true sense, God too loves that person. Acceptance is disseminated for that person on the earth and his true love is put in thousands of hearts and he is granted a power of attraction. A light is bestowed to him which always remains with him. Hadhrat Allah Yar sahib(ra): He relates that owing to his deep devotional love for the Promised Messiah(as) he moved to Qadian and started his carpentry work. His savings were depleted and in order to make a living he started selling freshly made ‘halwa’ as a vendor. Hadhrat Malik Khan sahib(ra): He relates that he went to Qadian with Sahibzada Abdul Latif shaheed(ra) and perhaps it was the day after arriving there that he took Bai’at. It took place after Zuhr and first Sahibazada shaheed extended his hand and then Malik sahib. Hadhrat Shukr Elahi Ahmadi(ra): He relates about the time he was twelve or thirteen years old and completely unaware of religion. The Promised Messiah(as) used to come to attend a court case at a nearby place to where his school was. He would skip school and go and look at the blessed face of the Promised Messiah(as). Hadhrat Madad Khan sahib(ra): He relates that he had newly joined the army and it was his great wish to visit Qadian before starting his employment and to take Bai’at by hand as his initial Bai’at had been via letter. He feared that if he left for his employment he may not get a chance to see the Promised Messiah(as). Hadhrat Master Maula Bakhsh sahib(ra): He relates that once he came to visit Qadian in seasonal holidays. On his way out he did not want to go and sat in a field and sobbed and cried. He then returned to Qadian and returned after his seasonal holidays were over. Hadhrat Haji Musa sahib(ra): He relates that once his four year old son insisted that he wanted to hug the Promised Messiah(as). Such was his persistence that the next morning Musa sahib travelled with the little boy via train to Qadian. Hadhrat Sheikh Zainul Abideen sahib(ra): He relates that his brother who was a student of class/grade 8 fell ill. When all hope for his recovery was lost the family took him to Qadian. The Promised Messiah(as) had had a revelation that he was to lead a child’s funeral Prayer and he had thought it was to be one of his own children. Hadhrat Sheikh Muhammad Ismail sahib(ra): He relates that when the Promised Messiah(as) stayed on after finishing Salat in Masjid Mubarak everyone would be elated. They eagerly looked forward to listening to matters of spiritual knowledge which would remove corrosions of their hearts. Death of Rasheeda Begum Sahiba and Nazar un Nisa Sahiba in Qadian, India.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
04-May-2012 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Seekers of Companionship of The Promised Messiah (as)
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت میاں محمد ظہور الدین صاحبؓ: آپ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن میرے دل میں قادیان شریف جانے کا وبال سا اٹھا ، میں نے کسی سے ذکر کیا اور میرے پاس خرچ کا ایک پیسہ بھی نہیں تھا، اس شخص نے مجھے ایک روپیہ دے کر کہا ابھی میرے پاس یہی ہے ، میاں صاحب نے کسی اور سے کہا میں قادیان جا رہا ہوں تو وہ بھی ساتھ چلنے کیلئے تیار ہوگئے۔ دوسرے روز ہم دونوں قادیان روانہ ہوگئے، بٹالہ سے پیدل چل کر قادیان پہنچے، حضرت مسیح موعودؑ سے ملاقات کر کے طبیعت کو تسلی ہوئی۔ الحمداﷲ علیٰ ذالک۔ حضرت غلام غوث صاحبؓ : آ پ بیان کرتے ہیں کہ جب میں ۱۹۰۱ میں قادیان آیا اور دستی بیعت کی کیونکہ تحریری بیعت میں اگست ۱۹۰۰ میں کر چکا تھاتو میں نے حضرت مولوی عبدالکریم صاحب ؓسے پوچھا اپنے سلسلے کا کوئی وظیفہ بتائیں، فرمایا سلسلہ کا وظیفہ یہ ہے کہ بار بار قادیان آ یا کرو۔ حضرت شیخ عبدالکریم صاحبؓ: آپ فرماتے ہیں کہ میں ۱۹۰۳ میں کسی کے ذریعے جو کراچی آ ئے تھے احمدی ہوا تھا ۔ ۱۹۰۴ میں جب میں لاہور گیا اور مسجد میں جمعہ پڑھنے گیا تو وہاں اعلان کیا گیا کہ حضرت اقدس ؑتشریف لانے والے ہیں۔ حضرت صاحب دین صاحب ؓ: آپ بیان کرتے ہیں کہ غالبا ۱۹۰۴ کا واقعہ ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کے متعلق احمدیہ جماعت لاہور کو اطلاع ملی کہ حضور اقدسؑ لاہور پہنچ رہے ہیں ،ہم لوگ حضور اقدسؑ کی پیشوائی کیلئے ریلوے سٹیشن پہنچ گئے اور حضور اقدس کیلئے سواری کا بندوبست کر لیا۔ حضرت چوہدری غلام رسول بسرا صاحبؓ : آپ بیان کرتے ہیں کہ دسمبر ۱۹۰۷ کا واقعہ ہے کہ جمعرات کی شام کو معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعودؑ صبح باہر سیر کو جائیں گے ، اس وقت دستور یہ تھا کہ جب بہت بھیڑ ہو جاتی تھی تو آ پکے گرد بہت لوگوں کا حلقہ باندھ لیتے تھے ۔ چنانچہ میں نے اپنے دوستوں کو کہا کہ اگر خدا نے توفیق دی تو صبح جب حضرت اقدس ؑ سیر کو نکلیں گے تو ہم آ پ کے گرد بازؤوں کا حلقہ بنائیں گے ، اس طرح ہم حضور کا دیدار اچھی طرح کر سکیں گے۔ حضرت ڈاکٹر عبداﷲ صاحبؓ : آپ بیان کرتے ہیں کہ جب میں قادیان بٹالہ سے جارہا تھاتو اسی وقت ایک بوڑھے نابینا احمدی بھی قادیان جارہے تھے ، ڈاکٹر صاحب نے انہیں کہا کہ آ پ ہمارے یکے میں آ جائیں ، انہوں نے کہا کہ نہیں میرے پاس پیسے موجود ہیں ، میں خود اپنے خرچ پر قادیان جاؤں گا۔ حضرت ملک برکت اﷲ صاحبؓ : آپ بیان کرتے ہیں کہ ۱۹۰۵ میں ایک دن ہمیں پوسٹ کارڈ ملا کہ حضور ؑ دہلی تشریف لے جا رہے ہیں اور آپؑ کی ٹرین ایک خاص وقت پر ایک خاص سٹیشن سے گزرے گی ۔ ملک صاحب کی یہ ڈیوٹی لگائی گئی کہ آپ تمام جماعت کو اطلاع کریں، آپ اور آپکے دوست ۳۰ میل کا سفر طے کر کے ریلوے سٹیشن پہنچے۔ حضرت منشی قاضی محبوب عالم صاحبؓ : آپ بیان کرتے ہیں کہ جب میں طالب علم تھا ، آٹھویں جماعت میں ، تو حنفی اور وہابی لوگوں کی یہاں بہت بحث ہوا کرتی تھی، بعض اوقات ان کی گفتگو میں حضرت مرزا غلام احمد ؑ کا ذکر بھی آجاتا تھا کہ آپؑ (نعوذباﷲ)کافر ہیں ، طبعا مجھے خود تحقیق کرنے کی جستجو ہوئی۔ حضرت ملک غلام حسین صاحبؓ : آپ بیان فرماتے ہیں کہ آپ کے پاس قادیان جانے کیلئے پیسے نہیں تھے ، آپ کے پاس صرف دو روپے تھے ، آپ جہلم تک پیدل چل کر پہنچے پھر خیال آ یا کے آ گے بھی پیدل چلنا چاہئے ۔ راستے میں آپ کو کچھ سپاہی نظر آئے جن کے پاس گھوڑے تھے۔ا ٓ پ نے ان سے کہا کہ ایک گھوڑا آ پ کو دے دیں ، وہ کہنے لگے کی کہ تم گجرات ضلع کے رہنے والے ہو ، ہمیں ڈر ہے کہ کہیں گھوڑا لے کے بھاگ نہ جاؤ۔

Hadhrat Mian Zahoor ud din sahib(ra): He relates that once he felt spontaneous urge to visit Qadian. He mentioned this to someone. He did not have any money to meet the travel expense. The person gave him Rupee 1 saying that was all they had. Mian sahib mentioned it to another person and he agreed to travel with him. They both travelled till Batala from where they walked to Qadian and were extremely gratified to meet the Promised Messiah(as). Hadhrat Ghulam Ghos sahib(ra): He relates that he had done his Bai’at through letter but in 1901 he went to Qadian to take Bai’at in person. Once in Qadian, he asked Maulwi Abdul Kareem sahib(ra) for a Wazifa (formulaic prayer or routine). He told him the Wazifa was to visit Qadian frequently. Hadhrat Sheikh Abdul Kareem sahib(ra): He relates that he became an Ahmadi in 1903 through someone who had come to Karachi. In 1904 he visited Lahore and when at the mosque for Friday Prayers he heard that the Promised Messiah(ra) was about to arrive. Hadhrat Sahib Din sahib(ra): He relates that it was probably in 1904 when he heard that the Promised Messiah(as) was coming to Lahore. He went to the railway station with others, having prepared a horse carriage for the Promised Messiah’s(as) transport. Hadhrat Choudhry Ghulam Rasool Basra sahib(ra): He relates that at the time of Jalsa of 1907 he heard that on Thursday the Promised Messiah(as) was going to go for an early morning walk. It was traditional at the time that when there was a crowd, a circle of hands used to be formed around the Promised Messiah(as). Choudhry sahib said to his friends that on the morning of the walk they should join the walk and if God enabled them, form a circle of hands around the Promised Messiah(as) so that they could have a close look at him. Hadhrat Dr Abdullah sahib(ra): He relates that once he was about to travel to Qadian from Batala. An elderly blind person was also about the make the journey. Dr. sahib offered him a ride on his carriage as there was space, but the elderly person declined the offer and said he had the money to travel on his own. Hadhrat Malik Barkat ullah sahib(ra): He relates that he was informed via post in 1905 that the Promised Messiah(as) was travelling to Delhi and would pass a certain train station at a specific time. It was Malik sahib’s duty to inform the Jama’at. He and friends travelled 30 miles to reach the railway station. Hadhrat Munshi Qazi Mahboob Alam sahib(ra): He relates that during his adolescence when he was a student of class/year/grade 8, he used to listen to the discussions between Hanafi and Wahhabi Muslims. He would hear people refer to Hadhrat Mirza Ghulam Ahmad(as) as Kafir in the Wahhabi discussions, so he was inclined to find out for himself. Hadhrat Malik Ghulam Hussein sahib(ra): He relates that he did not have the money to travel to Qadian. He only had Rupees 2 on him. He travelled till Jhelum on foot and then felt he could carry on walking. Along the way he met some soldiers who had horses with them. He asked them to hand one horse to him but the soldiers said he was from the district of Gujrat and they feared he may steal their horses.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
27-Apr-2012 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Ideal Spirit of Building and Populating Mosques
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian | Bengali
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

پہلی آیت میں اس قربانی کا ذکر ہے جو بہت بڑی قربانی تھی ، جو حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیل ؑ نے کی تھی، یعنی ہر پتھر جو خانہ کعبہ کی دیواروں پر چنا جا رہا تھا وہ اس بات کی طرف بھی توجہ دلا رہا تھا کہ اب اس گھر کے مکمل ہونے کے بعد باپ نے بیٹے اور اس سے پیدا ہونے والی نسل کو اس بے آب و گیا جگہ میں ہمیشہ کیلئے آباد کرنا ہے ۔ حضرت مصلح موعودؓ نے ایک جگہ ذکر کیا کہ میں ایک عرب ملک میں گیا ، ایک بہت بڑی اور خوبصورت مسجد میں جب گیا تو دیکھا کہ چار پانچ نمازی ایک کونے میں نماز پڑھ رہے تھے، جب ان سے پوچھا کہ یہ کیا قصہ ہے تو مسجد کا امام جو ان کو نماز پڑھا رہا تھا ، اس نے کہا کہ لوگ نماز کیلئے نہیں آتے اور محراب میں کھڑے ہو کر میں شرم کی وجہ سے نماز نہیں پڑھاتا، کوئی نیا آنے والا دیکھ کر کیا کہے گا کہ اتنی بڑی اور خوبصورت مسجد ہے اور نمازی چار پانچ ہیں ، اس لئے ہم کونے میں نماز پڑھ لیتے ہیں۔ پس ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ جب مسجد بناتے ہیں یا بنائیں تو خدا تعالیٰ کے حضور جھکنے اور اس کی رضا کی حصول کیلئے بنانے والے ہوں ، اور مسجد بنانے کیلئے جو قربانی کی ہے اس پر خداتعالیٰ کا شکر ادا کریں ناکہ کسی قسم کا فخر کیونکہ یہ جو قربانی ہے ہماری جو ہم کرتے ہیں ، یہ اس قربانی کا لاکھواں حصہ بھی نہیں ہے بلکہ اس سے بھی بہت کم ہے جو حضرت اسماعیل ؑ کی قربانی تھی، صرف مال کی قربانی ہم کرتے ہیں اور وہ بھی اپنے وسائل کے مطابق۔ مسجد بیت الامان کی تعمیر پر تقریبا بارہ لاکھ پاؤنڈ خرچ ہوئے ہیں اور جماعت نے اﷲ تعالیٰ کے فضل سے اس رقم کی ۷۵ فیصد ادائیگی کر بھی دی ہے ، بعض نے بڑی بڑی قربانیاں بھی کی ہیں ، حضور نے فرمایا میں دیکھ رہا تھا کہ ۸۴۰۰۰ پاؤنڈ اور ۷۸۰۰۰ پاؤنڈ کی قربانی دی گئی ہے ایک ایک آ دمی نے ،اور ایسے افراد بھی ہیں جنہوں نے ۱۵۰۰۰ اور ۳۰۰۰ کی رقم دی ہے ، تقریبا گیارہ آ دمیوں کے کل وعدے تین لاکھ سے اوپر بنتے ہیں ۔ اﷲ کرے یہ مسجد بھی اور اس میں آنے والے بھی اﷲ تعالیٰ کے پسندیدہ لوگ ہوں جو اﷲ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے ہوں ۔ جنت میں اﷲ تعالیٰ کی مہمان نوازی سے حصہ پانے والے ہوں ۔ پس کیا ہی خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اس نیت سے مسجدیں بناتے ہیں اور اس نیت سے مسجدوں میں آ تے ہیں ۔ اور صرف اس دنیا کی جنت نہیں بلکہ آ خرت میں بھی ان کو جنتیں ملتی ہیں۔ دنیاوی صدمات اﷲ والوں کو دنیاوی نقصانات سے نہیں ہوتے بلکہ وہ ہر صدمہ پر اﷲ تعالیٰ سے لو لگاتے ہیں ، مومن ہمیشہ صدمات پر اﷲ تعالیٰ کی آ غوش میں آ تے ہوئے اطمینان قلب پاتا ہے ، پس اﷲ تعالیٰ کا ذکر، اس کی عبادت، اﷲ تعالیٰ کا خوف رکھتے ہوئے ، کرنے والے جو ہیں وہ اطمینان قلب حاصل کر کے اس دنیا میں بھی جنت حاصل کرتے ہیں اور پھر اس دنیا کی جنت جو ایک بندہ کو عبد رحمان بنے کی وجہ سے ملتی ہے ، اگلے جہان کی جنت کا بھی وارث بنا دیتی ہے۔ اﷲ تعالیٰ کے فضل سے یو کے جماعت سمیت پورے یورپ میں مسجدوں کی تعمیر کی طرف توجہ پیدا ہو رہی ہے، لیکن ان مساجد کی خوبصورتی نمازیوں کے ساتھ ہے، ۲۰۰۳ میں مسجدبیت الفتوح کا افتتاح ہوا ہے ، اس کے بعد ۱۴ نئی مساجد بنانے کی جماعت یو کے کو اﷲ تعالیٰ نے توفیق عطا فرمائی ہے۔ حضرت شیخ نور الدین صاحبؓ : آ پ اپنی بیعت کے بعد کے حالات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ خواب میں آپ کو تمام فوت شدہ شخص کے مراحل سے گزرنا پڑا، آ پ کو غسل دیا گیااور کفن پہنایا گیا پھر آپ کو دفن کردیا گیا، مٹی ڈال دی گئی۔جب لوگ دفن کر کے واپس آگئے تو قبر نے دونوں پہلوؤں سے مجھے اس طرح دبایا کہ میں برداشت نہ کر سکا، اتنے میں دیکھا کہ عین سامنے حضرت مسیح موعودؑ کھڑے تھے اور میری طرف انگلی سے اشارہ کر کے فرمایا کیا آپنے ہمارے ساتھ یہی وعدہ کیا تھا؟۔ اس خواب کا آپ پر بہت اثر ہوا اور آپ نے عبادات کو درست کر لیا ۔ حضرت مائی کاکو صاحبہ ؓ : آپ بیان کرتی ہیں کہ ایک دفعہ ہم چند عورتیں حضرت مسیح موعودؑ سے ملاقات کیلئے آ ئیں اور پوچھا کہ ہمیں مغرب کی نماز روز عشاء کی نماز کے ساتھ پڑھنی پڑھتی ہے کاموں کی مصروفیت کی وجہ سے ، کیا کریں؟۔

The first verse depicts the great sacrifice of Hadhrat Ibrahim(as) and Hadhrat Ishmael(as). Each stone with which that they constructed the House of God bore witness that the father and the son and their generation to follow was going to settle around it. Hadhrat Musleh Maud(ra) once related that on a visit to a Middle Eastern country he went to see a beautiful mosque where he observed that a handful of worshippers were offering Salat in a corner. The Imam of the mosque explained that because people did not come for Salat, he was embarrassed to lead from the Mihrab, so they offered Salat in a corner of the mosque so that no one would know that it was the main congregation. We should be mindful that when we build mosques it should be to seek the pleasure of God. Rather than feel pride we should be grateful to God for any sacrifice that we are enabled to make for this. Any sacrifice we make is not even a fraction of the sacrifice made by Hadhrat Ishmael(as). Our sacrifice is limited to financial sacrifice and that too is mostly within our means. The cost of building of Baitul Amaan was £1.2 million and 75% of the promises/pledges have been paid. Members of the Jama’at have made tremendous sacrifices for this. Individual contributions of up to £84,000 and £78,000 have been made as well as contributions of £15,000 to £30,000. The pledges of around eleven people total more than £300,000. May those who will populate our mosque too be those whom God likes and those who seek His pleasure. Fortunate are those who build mosques with this intention and indeed come to mosques with this intention. Not only do they attain paradise in this world, they are also given Paradise in the Hereafter for they seek them both. People of God do not let worldly grief influence them. Each episode of grief inspires them towards love of God and they come in the lap of God where their hearts are comforted. The garden/paradise of this world is granted for being an Abd e Rahman (servant of the Gracious God) which goes on to also make one a recipient of the Paradise of the Hereafter. In the UK as well as in Europe, the Jama’at is drawn to building of mosques, but the beauty of mosques is only with worshippers. Since 2003 when Baitul Futuh was inaugurated, the UK Jama’at is enabled to construct 14 purpose-built mosques, six of which have been built this year. Hadhrat Shaikh Nur ud din sahib(ra): He recounted a dream in which he saw that his body goes through burial rites and is eventually buried and the Promised Messiah(as) reminds him of his obligations. He recounted that this dream had a great impact on him and he reformed his worship of God. Hadhrat Ma’i Kako sahiba(ra): She recounted that once she went to see the Promised Messiah(as) with a few other ladies and asked that some women said that at times due to work etc. they offered their Maghrib Salat with Isha. What were they to do?

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
20-Apr-2012 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Faith and Resoluteness of the Companions of Promised Messiah (a.s.)
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت میاں عبداﷲ خان صاحبؓ: آپ لکھتے ہیں کہ آپ نے حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت تو کر لی تھی لیکن دیکھا نہیں تھا آپ کو، ایک دفعہ جب تحصیل ظفر وال میں طاعون پڑی ہے ، کسی نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم حضرت عیسیٰ ؑ کو آسمان پر زندہ مانتے ہو؟ میں نے سائنس کے لحاظ سے کہا کہ نہیں، میرے دل میں کوئی تعصب کسی قسم کا نہیں تھا، آپ نے فرمایا حضرت مسیح موعودؑ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی ؑ نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ مسیح آ نے والا میں ہوں اور مسیح بنی اسرائیل فوت ہو گیا ہے۔ حضرت شیخ عبدالرشید صاحبؓ: آپ بیان کرتے ہیں کہ میرے والدین نے (بعد از بیعت) مجھے گھر سے نکالا ہوا تھا ، ایک دن میرے والد صاحب کے دوست نے مجھے کہا کہ تم ایک مولوی سے ملاقات کرو تاکہ ہمیں بھی سمجھ آ جائے کہ آپ کیا کہتے ہیں۔ حضرت شیخ عطا ء اﷲ صاحب ؓ : آپ فرماتے ہیں کہ قادیان سے بیعت کی منظوری بذریعہ خطوط پہنچی اور ساتھ ہی کچھ لٹریچر سلسلہ کا جن میں اخبار الحکم بھی تھا، اس اخبار کی ہم نےاشاعت کی، لوگوں میں چرچا ہوا ، اور اس کے بعد مخالفت کا بازار شدید گرم ہوگیا۔ حضرت میاں عبدالمجید خان صاحبؓ : آپ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ مخالفوں نے ایک بھاری جلسہ کر کے بہت شور مچایا اور بہت ہنگامہ برپا کیا، جس میں نشانہ بغض و عداوت صرف یہ عاجز تھا،انہوں نے میرے خلاف بہت سی تجاویز کیں، بائیکاٹ کا خوف دلایا ، پولیس تک کو میرے خلاف بھڑکایا ، اور مجھے فسادی اور باغی کہ کر جاہل لوگوں کو اس تک بھڑکایا کہ میری جان کے لالے پڑ گئے۔ حضرت برکت علی صاحبؓ : آپ بیان فرماتے ہیں کہ بندہ ۴ اپریل ۱۹۰۵ کے زلزلے میں ایک مکان کے نیچے دب گیا اور بصد مشکل باہر نکالا گیا ، اس واقعہ کے ایک دو ماہ قبل جب حضرت مسیح موعودؑ نے اس زلزلہ عظیم کی پیشگوئی فرمائی تھی ۔ حضرت اﷲ دتہ صاحب ہیڈ ماسٹر ؓ: آپ فرماتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ نے مجھے ہزاروں موتوں اور آ فات سے غیر معمولی طور سے بچایا ۔ حضرت ماسٹر وداوے خاں صاحبؓ : آپ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ جب طاعون بہت زوروں پر تھی، میں ایک دن گھر واپس آیا تو میری اہلیہ صاحبہ دروازے پر کھڑی تھی، میں نے دریافت کیا تو جواب دیا کہ ہمارے گھر کے اندر چوہے مرے پڑے ہیں ، میں نے کہا فکر نہ کرو ہماری جماعت طاعون سے محفوظ رہے گی اور کوئی اندیشہ نہیں ، اس کے بعد میں نے جھاڑو دے کر مکان کو صاف کر دیا۔ حضرت مولوی صوفی عطا محمد ؓ: آپ بیان کرتے ہیں کہ ان کیلئے حضرت مسیح موعودؑ کو ملنا بہت مشکل تھا کیونکہ رخصت تو ملتی نہیں تھی، اتفاق سے اخبار میں یہ پڑھا کہ حضرت اقدس جہلم تشریف لا رہے ہیں۔ اگلے دن اتوار تھا اور صوفی صاحب نے جہلم جانے کا ارادہ کیا۔ حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی ؓ: آپ بیان کرتے ہیں کہ جب میں بالکل نوجوان تھا تو مجھے خواب آ یا کہ ایک ہاتھی ہے میں اس کے نیچے آگیا ہوں اور اس کا پیٹ میرے اوپر ہے، جب صبح ہوئی تو کسی نے ان کو سیرو تفریح کیلئے ہاتھی پر دریا ئےبیاس جانے کیلئے کہا، میں نے کہا میں نہیں جا سکتا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ آ ج رات میں نے ایک سخت منظر خواب میں دیکھا ہے ، لیکن کئی دوستوں کے اصرار کے بعد میں تیار ہو گیا

Mian Abdullah Khan sahib: He writes that although he had taken Bai’at he did not meet the Promised Messiah(as) in person. Once during the year of the plague in India someone asked him if he believed Hadhrat Isa(as) was alive and he replied from a scientific perspective that he did not. He was then told that Hadhrat Mirza Ghulam Ahmad had claimed that he was the Promised Messiah and that the Messiah of the Israelites had passed away Hadhrat Sheikh Abdul Rasheed sahib(ra): He writes that [following his Bai’at] his parents had turned him out of the family home when a friend of his parents suggested to him that they should see a certain Maulwi so that it could be understood what Rasheed sahib had to say. Hadhrat Sheikh Ataullah sahib(ra): He writes that he received acceptance of his Bai’at via post from Qadian, accompanied by some literature including the newspaper Al Hakm. Sheikh sahib says he publicised the paper and it became popular but this was followed by extreme opposition. Hadhrat Mian Abdul Majeed Khan sahib(ra): He writes that once opponents held a large rally in which animosity against him was voiced. Many schemes against him were uttered, he was warned about [social] boycott and uneducated people were incited against him by calling him a traitor and a rebel. Hadhrat Barkat Ali sahib(ra): He writes that during the earthquake of 4.4.1905 he was buried under the rubble of his house and was taken out with great difficulty. A couple of days prior to the earthquake the Promised Messiah(as) had foretold it and had leaflets printed. Hadhrat Allah Ditta sahib Headmaster(ra): He writes that with His extraordinary grace, God saved him from a thousand close-to-death situations. Hadhrat Master Wadaway Khan sahib(ra): He writes about the time of the plague that one day on his return home his wife stood outside and told him that there were dead rats in their house. He told his wife not to worry because the Jama’at was to be safe. He swept clean the inside of the house. Hadhrat Maulwi Sufi Ata Muhammad(ra): He writes that it was very difficult for him to go and see the Promised Messiah(as) because he could not get leave from work. Once he read in the paper that the Promised Messiah(as) was coming to Jhelum. The next day was a Sunday and Sufi sahib decided to go to Jhelum. Hadhrat Ghulam Rasool Rajiki(ra): He writes that when he was a young man he saw in a dream that he is crushed under an elephant. In the morning someone asked him to join a party that was going on elephant-back to see storm in the river Bayas. Rajiki sahib writes the dream had affected him a lot and due to the association of elephants he declined but other friends coaxed him to join.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
13-Apr-2012 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Patience, Steadfastness, Astaghfar and Darood
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ جب تک استقامت نہ ہو بیعت بھی ناتمام ہے، انسان جب خدا کی طرف قدم اٹھاتا ہے تو راستے میں بہت سی بلاؤں اور طوفانوں کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے، جب تک ان میں سے انسان گزر نہ لے منزل مقصود کو پہنچ نہیں سکتا، فرمایا کہ امن کی حالت میں استقامت کا پتہ نہیں لگ سکتا کیونکہ امن اور آرام کےوقت تو ہر کوئی خوش رہتا ہےاور دوست بننے کو تیار ہے۔ حضرت نور محمد صاحبؓ: آپ روایت کرتے ہیں کہ ۱۹۰۶ میں میں مع خاندان بلوچستان چلا گیا ، وہاں پہنچ کر جب میرے استاد مولوی صاحب اور امام مسجد اہلحدیث نے سنا کہ میں قادیان گیا تھا اور بیعت کر کے واپس آیا ہوں تو مجھ کو طلب کیا اور کہا کہ مرزا صاحب کتابوں میں تو اچھا لکھتے ہیں لیکن در پردہ تلقین کچھ اور کرتے ہیں ۔ حضرت جان محمد صاحبؓ: آپ لکھتے ہیں کہ آپ ڈسکہ میں پہلے احمدی تھے جہاں سخت مخالفت تھی، سقہ یعنی پانی ڈالنے والا اور خاکروب یعنی صفائی کرنے والے کو بھی روکا گیا ، جان صاحب نے حضرت مسیح موعودؑ کی خدمت میں خط لکھا کہ لوگ میرا پانی بند کرتے ہیں اور مسجدوں میں نماز پڑھنے سے روکتے ہیں اور اگر مقامی لیڈر احمدی ہو جائیں تو جماعت میں ترقی ہو جائے گی ۔ حضرت خیر دین صاحب ؓ : آپ فرماتے ہیں کہ میرے استاد جن کا نام مولوی اﷲ دتہ صاحب تھا، وہ مولوی محمد حسین بٹالوی کے معتقد تھے، ان کے پاس حضرت مسیح موعودؑ کے متعلق مولوی محمد حسین بٹالوی کی کوئی اچھی تحریر تھی، اس نے انکے دل میں قادیان جانے کی خواہش پیدا کی، جب قادیان پہنچے اور حضرت مسیح موعود ؑ کی زیارت کی توان کو کہا کہ حضور جو حدیثوں میں امام مہدی کا حلیہ بیان ہوا ہے وہ آ پ پر چسپاں ہوتا ہے۔ حضرت میاں نظام الدین صاحبؓ : آپ فرماتے ہیں کہ لاہور میں ایک جلسہ میں انہوں نے اور ان کےدو دوستوں نے ایک مولوی کو دیکھا جو قرآن کریم ہاتھ میں لے کر کھڑا تھا اور کہتا تھاکہ میں قرآن ہاتھ میں کے کر کہتا ہوں کہ مرزا نعوذباﷲ کوڑھا ہو گیا ہے۔ وہ نبیوں کی ہتک کرتا تھا اور ساتھ ساتھ ایک چھوٹا سا اشتہار بھی بانٹ رہا تھاجس کا یہی مضمون تھا، نظام الدین صاحب نے کہا چلو قادیان چل کر مرزا صاحب کا حال دیکھ آئیں ، تینوں دوست قادیان آ ئے تو دیکھا کہ حضرت مسیح موعودؑ بالکل تندرت تھے۔ حضرت غلام آ رائیں صاحب ؓ: میرے والد صاحب نے جب کہ میں بھی ایک مجلس میں ان کے ساتھ بیٹھا تھا ، انہوں نے بیان کیا کہ امام مہدی کا زمانہ آچکا ہے اور نصیحت کی کہ جب بھی وہ ظاہر ہو ں تو فورا ان کو قبول کر لینا کیونکہ انکار کا نتیجہ دنیا میں تباہی اور بربادی ہوتا ہے، اور یہ بھی کہا کہ اگر مجھے وہ وقت ملا تو میں سب سے پہلے ان پر ایمان لاؤں گا۔ حضرت حافظ مبارک احمد صاحبؓ: حضرت روشن علی صاحب بیان کرتے ہیں مولوی خان ملک صاحب اپنی شہرت کے لحاظ سے تمام پنجاب بلکہ ہندوستان میں بھی مشہور تھےاور اکثر علماء ان کے شاگرد تھے لیکن باوجود اس شہرت اور عزت کے نہایت سادہ مزاج تھے، حضرت مسیح موعودؑ کے خلاف کوئی سخت لفظ نہیں سن سکتے تھے۔ حضرت خلیفہ نور الدین صاحبؓ : آپ فرماتے ہیں کہ مولوی محمد حسین بٹالوی احمدیت سے بہت پہلے کے میرے دوست تھے، ایک دفعہ وہ نماز پڑھا رہے تھے کہ میں مسجد میں داخل ہوااور اپنی علیحدہ نماز ادا کی، مولوی صاحب نماز سے فارغ ہو کر مجھے دیکھ کر سمجھے کہ شاید میں نے ان کے پیچھے نماز پڑھی ہے ، بہت خوش ہوئے۔ خلیفہ نورالدین صاحب نے فرمایا غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھنا تو دور کی بات ، مجھے تو یہ بھی گوارا نہیں کہ کوئی غیر احمدی میرے پیچھے نماز پڑھے۔ امتہ الحفیظ خانم صاحبہ اور سید محمد احمد صاحب کی وفات۔

The Promised Messiah(as) said that without resoluteness Bai’at is incomplete. When man takes steps towards God he is met with many tribulations along the way and he cannot attain his objective without resolve. He also said that resoluteness cannot be gauged in good times, because everyone is happy and friendly during good times. Hadhrat Nur Muhammad sahib(ra): He writes that he went to Balochistan with his family in 1906 where the imam of the mosque and his religious teacher had found out that Nur sahib had been to Qadian. So he summoned him and said that Mirza sahib’s books were good but he enjoined his followers something else behind the scenes. Hadhrat Jan Muhammad sahib(ra): He writes that he was the first Ahmadi in Daska where opposition was severe. The water-carrier (person supplying fresh water) and the sweeper (cleaner) withheld their services. Jan sahib wrote to the Promised Messiah(as) informing him of the situation and said that if the local leaders became Ahmadi, the Jama’at would prosper. Hadhrat Khair Din sahib(ra): He writes that his religious teacher Maulwi Allah Ditta was a follower of Maulwi Muhammad Hussein Batalwi and had read something positive written by Maulwi Muhammad Hussein about the Promised Messiah(as). This inspired him to visit Qadian. When he arrived in Qadian and saw the Promised Messiah(as) he told him that his appearance resembled the description of the Imam Mahdi in Ahadith. Hadhrat Mian Nizam ud din sahib(ra): He writes that at a rally in Lahore he and his friends saw a man holding the Holy Qur’an in hand announcing that, God forbid, ‘Mirza’ had caught leprosy. He was also distributing leaflets about the same. Nizam ud din sahib and his friends thought to travel to Qadian and see the condition of Mirza sahib for themselves. The three friends arrived in Qadian and saw the Promised Messiah(as) in good health. Hadhrat Ghulam Ahmad Ara’in sahib (ra): He writes that his father told him many years ago that he felt it was time for the Promised Messiah’s advent and advised him to accept him as soon as he appeared. He had said that if he was still around he would be the first to accept him. Hadhrat Hafiz Mubarak Ahmad sahib(ra): Hadhrat Roshin Ali sahib relates that Mualwi Khan Malik sahib was famous in the Punjab and also in the whole country. Many religious leaders were his student but in spite of his renown he was very modest of nature. He could not bear to listen to any harsh words against the Promised Messiah(as). Hadhrat Khalifa Nur ud din sahib(ra): He writes that he was a friend of Maulwi Muhammad Hussein Batalwi from his pre-Ahmadiyyat days. Once the Maulwi was leading Salat when Khalifa sahib too offered his Salat in the room. After finishing Salat Maulwi sahib was very pleased as he assumed Khalifa Nur ud din sahib had offered his Salat behind him. Khalifa Nur ud din sahib explained to him that let alone offer his Salat behind a non-Ahmadi, he would not even lead Salat for a non-Ahmadi. Death of Amatul Hafeez Khanum sahiba and Syed Muhammad Ahmad sahib.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
06-Apr-2012 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Brutal torture and martyrdom of Master Abdul Qudoos in Rabwah
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضور اقدس نے فرمایا : پاکستان میں خاص طور پر اور ان کے اثر کے تحت بعض دوسرے ممالک میں ملا اور حکومت سمجھتے ہیں کہ احمدیوں کے خلاف قانون بنا کر ، ان کو شہری حقوق سے محروم کر کے ، ان کیلئے حقوق انسانی کے ہر قانون کو پس پشت ڈال کر ، ان کو دہشت گردی کا نشانہ بنا کر ، احمدیوں کو قتل کرنے کی ہر ایک کو کھلی چھٹی دے کر یہ لوگ احمدیت کو ختم کر دیں گے ،لیکن یہ ان کی بھول ہے۔ جماعت احمدیہ کی تاریخ میں حضرت مولوی عبدالرحمان صاحب شہید اور صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کی شہادت سے جان کی قربانیوں کی ابتدا ہوئی ، اور حضرت مسیح موعودؑ نے حضرت صاحبزادہ صاحب کی شہادت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ شہید مرحوم نے مر کر میری جماعت کو ایک نمونہ دیا اور درحقیقت میری جماعت ایک بڑے نمونے کی محتاج تھی ۔ ۱۹۷۴ میں ۳۰ ، ۳۵ احمدی ، جماعت احمدیہ کے خلاف جو فسادات ہوئے تھے ان میں شہید کئے گئے لیکن بعض ایسی حالت میں شہید ہوئے کہ انہیں اذیت دے دے کر شہید کیا گیا ، باپ اور بیٹے کو شہید کیا گیا ، پاب کے سامنے بیٹے کو اذیت دی جاتی تھی، بیٹے کے سامنے باپ کو اذیت دے کر کہا جاتا تھا کہ احمدیت سے تائب ہوتے ہو یا نہیں ، اور یہ سب کچھ صرف لوگ نہیں کر رہے تھے بلکہ وہاں کی پولیس بھی سامنے کھڑی تماشہ دیکھ رہی ہوتی تھی، انڈونیشیا میں سر عام پولیس کی نگرانی میں دہشت کردی کا نشانہ بنا کر پولیس اور ریاستی کارندوں کی نمائندگی میں اذیت دے دے کر احمدیوں کو شہید کیا گیا ، لیکن ایمان کی حفاظت کرنے والوں اور استقامت کے پتلوں نے اپنے جسم کے روئے روئے پر زخم کھالیا ، ایک ایک انچ پر زخم کھا لیا ، لیکن ایمان کو ضائع نہیں ہونے دیا ۔ گزشتہ دنوں ربوہ کے پولیس اہلکاروں نے جن میں تھانہ انچارج اور اس کے اسسٹنٹ شامل تھے ، ہمارے ایک انتہائی مخلص اور فدائی احمدی کو ایک ماہ کے قریب بغیر کسی قسم کے کیس رجسٹر کئے تھانے میں رکھا اور پھر کسی نا معلوم جگہ لے جا کر آٹھ دس دن تک شدید تشدد کا نشانہ بنایا ، جس کے نتیجے میں یہ مخلص فدائی احمدی جن کانام عبدالقدوس تھا صبر و استقامت سے یہ اذیت برداشت کرتے ہوئے اپنے خدا کے حضور حاضر ہوگئے انا ﷲ و انا الیہ راجعون انہوں نے تو یہ شہادت کا رتبہ پالیا ۔ حضور نے فرمایا: شہید مرحوم اگر اذیت کی وجہ سے پولیس کا من پسند بیان دے دیتے تو اس کے نتائج جماعت کیلئے مجموعی طور پہ بھی بہت خطرناک ہوسکتے تھے، جس طرح مرزا غلام قادر شہید کو آلہ کار بنانا چاہا تھا ، وہ تو ایک نام نہاد دہشت گرد تنظیم نے بنایا تھا، لیکن یہاں تو پولیس نے بنانا چاہا ۔ حضور نے فرمایا: ’پس اے قدوس ہم تجھے سلام کرتے ہیں کہ تو نے اپنے آپ کو انتہائی اذیت میں ڈالنا تو گوارا کر لیا لیکن جماعت کی عزت پر حرف نہیں آ نے دیا، تو نے اپنی جان دے کر جماعت کو ایک بہت بڑے فتنے سے بچا لیا ، پس ماسٹر عبدالقدوس ایک عام شہید نہیں ہے ، بلکہ شہداء میں بھی ان کا بڑا مقام ہے ۔ قدوس شہید مرحوم احمدیوں کیلئے جو پاکستان میں رہنے والے ہیں بالعموم اور اہل ربوہ کیلئے بالخصوص یہ پیغام بھی چھوڑ کر گئے ہیں کہ قانون کا احترام اور حکومتی کارندوں کا احترام بیشک ہر احمدی کا فرض ہے ، لیکن کسی بھی انسان سے چاہے وہ کتنا بھی بڑا پولیس اہلکار ہو یا افسر ہو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں، چاہے جو ظلم بھی وہ ہم پر روا رکھیں ، ایک احمدی کو اگر خوف ہونا چاہئے تو صرف ایک ہستی کا اور وہ خدا تعالیٰ کی ذات ہے۔ حضور اقدس نے فرمایا : جماعت انشاء اﷲ تعالیٰ ترقی کرتی چلی جائی گی، جماعت کا دو صد ممالک میں پھیل جانا انہی جانی قربانی کرنے والوں کی قربانی کا نتیجہ ہے، پس احمدیوں کو ہر قربانی کے نتیجے میں اس بات پر اور زیادہ پختہ ہونا چاہئے کہ یہ ہماری ترقی کے دن قریب کر رہی ہے، جتنی بڑی قربانی ہے اتنی جلد اﷲ تعالیٰ کے فضلوں کی امید ہے، پس ہر شہادت، ہر قربانی ، ہمارے ایمانوں میں ترقی کا باعث بننی چاہئے۔

Hudhur Aqdas said under the influence of the Mullah the government in Pakistan and also in some other countries, thinks that by legislating against them, by depriving them of their civic rights and by targeting them with extremism and giving impunity to their killing, they can eradicate Ahmadiyyat. This is their mistake. Martyrdom in our Community started with the martyrdoms of Abdul Rahman shaheed and Sahibzada Abdul Latif shaheed. The Promised Messiah(as) said regarding the passing away of Sahibzada Abdul Latif shaheed: ‘The late shaheed has given my Community a model with his death and fact is, my Community was in need of a great model.’ During the riots of 1974 against Ahmadis thirty to thirty five Ahmadis were martyred, some of them were tortured. Father was tortured in front of son and son was tortured in front of father to detract them from Ahmadiyyat while police stood by watching. In Indonesia Ahmadis were tortured publically and in the presence of the police. But they safeguarded their faith while laying every fibre of their bodies open to torture. A few days ago, the in-charge of the Rabwah police station and his assistant locked up a most sincere Ahmadi for a month without bringing any charge against him. They then took him to another location where they subjected him to extreme torture for eight to ten days. This led to the sincere Ahmadi, whose name was Abdul Qudoos losing his life Inna lillahe wa inna illaihe raji’oon and attaining the status of martyrdom. Hudhur said if having succumbed to torture, Qudoos sahib had given the desired statement of the torturers it could have proved very dangerous for the Community. Just as in the past a so-called organisation tried to make Mirza Ghulam Qadir shaheed a means, the police tried with Qudoos sahib. Hudhur Aqdas said: ‘O Qudoos, we pay tribute to you; for you accepted to endure extreme torture but did not let the honour of the Jama’at be slighted. By giving your life you saved the Jama’at from a great tribulation.’ Hudhur Aqdas said Qudoos shaheed was not an ordinary martyr, he ranks high among martyrs. Qudoos shaheed has left a message for the Pakistani Ahmadis in general and Ahmadis of Rabwah in particular that without doubt we have to respect the law and respect governmental workers but there is no need to be afraid of any person, no matter how high a police officer he may be. One should only fear God. Hudhur Aqdas said the Community will InshaAllah continue to progress. The fact that we are spread in 200 countries is a result of these offerings of lives. The greater the sacrifice, the quicker we can hope for God’s grace. Each martyrdom should be a source of progress.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
30-Mar-2012 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Salat is the key to Personal assessment and improvement
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضور اقدس نے فرمایا پس اﷲ تعالیٰ نے یہ جو جماعت بنائی ،اس میں شامل ہونے والوں کو خاص طور پر پاک کرنا چاہتا ہےتاکہ پاک جماعت کا قیام ہو اور حضرت مسیح موعودؑ ہم میں سے ہر ایک سے یہ چاہتے ہیں کہ یہ عارفانہ خوردبین ہم لگائیں ، اس سے ہم اپنے نفس کو دیکھیں ، اپنے نفس کا محاسبہ کریں ، اپنی اعتقادی غلطیوں کی جہاں اصلاح کریں وہاں ہر قسم کی چھوٹی سے چھوٹی عملی غلطیوں کی بھی اصلاح کریں ، اپنے اعمال کی طرف بھی نظر رکھیں۔ ہر احمدی کو یہ پیش نظر رکھنا چاہئے کہ تقویٰ اور طہارت کی زندگی کے نمونے ہی جو ہیں وہ انقلابی تبدیلی پیدا کر سکتے ہیں اور یہ انقلابی تبدیلی ہمارے اعتقاد کی اصلاح اور اعمال کی اصلاح کے ساتھ وابستہ ہے ، صرف اعتقادی اصلاح فائدہ نہیں دے سکتی جب تک اعمال کی اصلاح ساتھ نہ ہو۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں : جن پانچ چیزوں پر اسلام کی بنا رکھی گئی ہے وہ ہمارا عقیدہ ہے اور جس خدا کے کلام یعنی قرآن کو پنجہ مارنا حکم ہے ، ہم اس کو پنجہ مار رہے ہیں اور اختلاف اور تناقض کے وقت جب حدیث اور قرآن میں پیدا ہو یعنی آپس میں اختلاف ہو ، قرآن کو ہم ترجیح دیتے ہیں اور ہم اس بات پر ایمان لاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور سیدنا حضرت محمد مصظفیٰ ﷺ اس کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں ۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں : اعتقادی لحاظ سے احمدیوں اور دوسرے مسلمانوں میں کوئی فرق نہیں ۔ حضور نے فرمایا یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ کی وفات پر حضرت مسیح موعودؑ کی بعثت کے بعد ایک طبقہ یقین کرنے لگ گیا ہے پھر خونی مہدی کا جو نظریہ تھا وہ بھی بدل گیا ہے ۔ حضرت مسیح موعودؑ کے آ نے سے مسلمانوں میں بھی بعض عقائد میں درستی پیدا ہوئی ہے ۔ حضور نے ایک بزرگ کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کا ایک شاگرد تھا ، اس نے تعلیم مکمل کی جب تو واپس جانے لگا تو بزرگ نے اس شاگرد سے پوچھا کہ کیا جس ملک میں تم جارہے ہووہاں شیطان بھی ہوتا ہے؟ تو شاگرد نے حیران ہو کر کہا شیطان کہاں نہیں ہوتا ، شیطان تو ہر جگہ ہے۔ انہوں نے کہاجو کچھ تم نے مجھ سے سیکھا ہے اس پر عمل کرنے لگو تو شیطان حملہ کرد ے تو کیا کرو گے ؟ اس نے کہا مقابلہ کروں گا ۔ حضور نے فرمایا : عہدیدار خاص طور پر نمازوں کی باجماعت ادائیگی میں اگر سستی نہ دکھائیں ، اگر وہی اپنی حاضری درست کر لیں اور ہر سطح کے اور ہر تنظیم کے عہدیداراگر مسجد میں حاضر ہونا شروع ہو جائیں تو مسجدوں کی رونقیں بڑھ جائیں گی،اور بچوں اور نوجوانوں پر بھی اس کا اثر ہوگا۔ حضور نے فرمایا : ایک بات کی طرف میں خاص طور پر توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ اﷲ تعالیٰ کے فضل سے مالی قربانی میں تو بیشک جماعت کے افراد بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں، لیکن مالی قربانی کا ایک پہلو جو ہے زکوۃٰ اس طرف بھی توجہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ حضور نے فرمایا : پس ہمیں اس بات پر نظر رکھنی چاہئے کہ تمام قسم کی برائیوں سے بچنا ہے ، تمام قسم کی نیکیوں کو اختیار کرنا ہے ، تاکہ عملی طور پر اپنے اندر ایک پاک تبدیلی پیدا کریں ، اپنے چھوٹوں کیلئے نمونہ بنیں، اپنے نوجوانوں کیلئے نمونہ بنیں، اپنے گھروں میں اپنے بیوی بچوں کیلئے نمونہ بنیں ، اپنے ساتھ کام کرنے والوں کیلئے نمونہ بنیں۔ اپنی عملی حالتوں میں ہر چھوٹا بڑا وہ معیار حاصل کرے کہ ہر قسم کی بدی اور برائی کا بیج ہم میں سے ہر ایک سے ختم ہو جائے۔

Hudhur Aqdas said that God wills to especially purify people who have joined the Community of the Promised Messiah(as) and for this we have to ponder over ourselves with the minutest of detail. While we improve and reform our faith we also need to reform our practice. Each Ahmadi should aspire to live a life of Taqwa and purity for a life led on these lines alone will bring about revolutionary change. This revolutionary change cannot come about without reforming one’s faith as well as reforming one’s practices. The Promised Messiah(as) has elucidated that the five pillars of Islam are our faith and we follow the Qur’an as we are enjoined to follow it. Where there is any conflict between Hadith and Qur’an we give preference to what the Qur’an states. He said we believe that there is no God but Allah and Muhammad(saw) is His Messenger and Seal of all the Prophets. The Promised Messiah(as) said that in terms of faith there is no difference between Ahmadis and other Muslims. Hudhur said so much so that after the Promised Messiah(as) some sections of mainstream Muslims also believe in death of Hadhrat Esa(as) and the concept of ‘bloody Mahdi’ has also changed. In this sense there is some faith-based correction in them. Hudhur related an anecdote of an elder whose student was about to leave him after finishing his education. The elder asked the student if there was Satan where he was going. The student answered that Satan was everywhere. The elder said that if he was to put in practice whatever he had learned about religion and Satan attacked him, what would he do? Hudhur Aqdas said the office-holders need to set an example regarding observance of Salat. If the office-holders on every level, in every auxiliary were to improve their observance of Salat and came to the mosque, the ambience of the mosque would be enhanced. This would have a positive effect on children and youngsters. Hudhur said he wished to draw special attention towards payment of Zakat. Although Ahmadis are very generous in giving but one aspect of financial sacrifice is Zakat which should be particularly heeded to. We should be mindful to avoid every ill and adopt every good. We should be role models for the youngsters as well as for our families and colleagues. Every young and old person should adopt this to a degree that would eradicate every kind of badness.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
23-Mar-2012 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Bengali (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: The Promised Messiah and Mahdi
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

آج کے دن آج سے تقریبا ۱۲۳ سال پہلے قرآن کریم کی، اسلام کی نشعت ثانیہ کیلئے ایک عظیم پیشگوئی پوری ہوئی، اسی طرح آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی آپ کی بتائی ہوئی تفصیلات کے ساتھ پوری ہوئی اور مسیح موعودؑ اور مہدی موعودؑ کا ظہور ہوا۔ حضور نے فرمایا : پس ہر سال جب ۲۳ مارچ کا دن آتا ہے تو ہم احمدیوں کو صرف اس بات پر خوش نہیں ہو جانا چاہئے کہ آج ہم نے یوم مسیح موعودؑ منانا ہے یا الحمد اﷲ ہم اس جماعت میں شامل ہو گئے ہیں ، جماعت کے آ غاز کی تاریخ اور حضرت مسیح موعودؑ کے دعویٰ سے ہم نے آ گاہی حاصل کر لی ہے، اتنا کافی نہیں ہے ، یا جلسے منعقد کر لئے ہیں ، یہی سب کچھ نہیں ہے، بلکہ اس سے بڑھ کر ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ہم نے اس بیعت کا کیا حق ادا کیا ہے ۔ اس چیز کی یادہانی کیلئے حضور نے شرائط بیعت اور حضرت مسیح موعودؑ کے الفاظ میں آپ ؑ کیا چاہتے ہیں ان دس شرائط بیعت کی روشنی میں ، ان کی وضاحت پیش کی۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: توحید صرف اس بات کا نام نہیں کہ منہ سے لا الہ اﷲ کہیں اور دل میں ہزاروں بت جمع ہوں ،بلکہ جو شخص کسی اپنے کام اور مکر اور فریب اور تدبیر کو خدا کی سی عظمت دیتا ہے یا کسی انسان پر بھروسہ رکھتا ہے جو خدا تعالیٰ پر رکھنا چاہئے ، یا اپنے نفس کو وہ عظمت دیتا ہے جو خدا کو دینی چاہئے، ان سب صورتوں میں وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک بت پرست ہے ۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں : اے وے تمام لوگو اپنے تئیں میری جماعت میں شمار کرتے ہو ، آسمان پر تم اس وقت میری جماعت شمار کئے جاؤ گے جب سچ مچ تقویٰ کی راہوں پر قدم مارو گے سو اپنی پنجوقتہ نمازوں کو ایسے خوف اور حضور سے ادا کرو کہ گویا تم خدا تعالیٰ کو دیکھتے ہو۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: اسلام کا زندہ ہونا ہم سے ایک فدیہ مانگتا ہے ، وہ کیا ہے، ہمارا اسی راہ میں مرنا، یہی موت ہے جس پر اسلام کی زندگی ہے،مسلمانوں کی زندگی ، اور زندہ خدا کی تجلی موقوف ہے ۔ اور یہی وہ چیز ہے جس کا دوسرے لفظوں میں اسلام نام ہے ، اسی اسلام کا زندہ کرنا خداتعالیٰ اب چاہتا ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: اب میری طرف دوڑو کہ وقت ہے کہ جو شخص اس وقت میری طرف دوڑتا ہے ، میں اس کو اس سے تشبہیہ دیتا ہوں کہ جو عین طوفان کے وقت جہاز پر بیٹھ گیا لیکن جو شخص مجھے نہیں مانتا ، میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ طوفان میں اپنے تئیں ڈال رہا ہے اور کوئی بچنے کا سامان اس کے پاس نہیں۔ حضور نے فرمایا : پس یہ تعلیم اور خواہشات ہیں جس پر چلنے اور پورا کرنےکیلئے حضرت مسیح موعودؑ نے ہم سے توقع کی ہے ، حقیقی بیعت کنندہ کا یہ معیار مقرر کیا ہے ، پس آج کے دن ہمیں اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم ان شرائط پر اپنی زندگیاں گزارنے کی کوشش کررہے ہیں ، اﷲ تعالیٰ ہماری کمزوریوں اور غلطیوں کو معاف فرمائے ، انہیں دور فرمائےاور ہمیں اپنے اند ر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آج ۲۳ مارچ کو پاکستان میں بھی یوم پاکستان منایا جا رہا ہے اور اس حوالے سےبھی پاکستان کے احمدیوں کو مخاطب کرتے ہوئے حضور نے فرمایا کہ دعا کریں کہ جس دور سے آج کل ملک گزر رہا ہے وہ انتہائی خطرناک ہے، اﷲ تعالیٰ اس ملک کو بچائے ، احمدیوں کی خاطر ہی اس کو بچائےکیونکہ احمدیوں نے اس ملک کو بچانے کیلئے بہت دعائیں کی ہیں ۔

It was 123 years ago today that a magnificent prophecy regarding the second phase of Islam was fulfilled. A prophecy of the Holy Prophet(saw) was fulfilled in accordance with the details he had given and the Promised Mahdi and Messiah’s advent took place. Hudhur Aqdas said that each year on 23 March we should not be joyous merely because we are commemorating Promised Messiah Day or that Alhamdolillah, we are a part of this Community, or that we are aware of its early history or that we organise a Jalsa in this regard. Much more than this, we have to reflect whether we have fulfilled the dues of this Bai’at. As a reminder of this, today Hudhur Aqdas gave a discourse based on the words of the Promised Messiah(as) expounding the ten conditions of Bai’at. The Promised Messiah(as) said: ‘Tauhid [Unity of God] does not simply mean that you say la ilaha illAllah with your tongue but then hide hundreds of idols in your heart. Anyone who gives reverence to his own plans, mischief or clever designs as he should revere God, or depends upon another person as one should depend upon God alone, or reveres his own ego as he should revere God alone, in all such conditions he is an idol-worshipper in the sight of Allah. The Promised Messiah(as) said: So all ye people who count yourselves as members of my Jama‘at, in heaven you shall be counted members of my following only when you truly begin to advance on the paths of righteousness. Offer your five daily Obligatory Prayers with such concentration and awe of mind as though you were seeing God in front of you. The Promised Messiah(as) said: Revival of Islam demands a ransom from us. What is it? It is us dying in this very path. This is the death upon which the life of Islam, the life of Muslims, and the manifestation of the Living God depend. This is exactly what is called Islam, and God now wants to revive this very Islam. The Promised Messiah(as) said: Now rush towards me because this is the time that he who runs toward me now is like the one who gets on board the ship right at the time of a storm. But if someone does not accept me, I see that he is throwing himself into a storm and has no means of saving himself. Hudhur Aqdas said this is the teaching of the Promised Messiah(as) which he expects of us. Today we need to self-reflect and self-examine in terms of these conditions of Bai’at. May God forgive our weaknesses and may He remove them and bring about pious change in us. Hudhur Aqdas said that 23 March is also commemorated as Pakistan Day and addressing Pakistan Ahmadis Hudhur asked them to pray for the country in the critical juncture that it is going through. May God save Pakistan, may He save Pakistan for the sake of the Ahmadis.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
16-Mar-2012 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Tabligh by Companions of The Promised Messiah(as)
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Tamil | Malayalam | Indonesian | Bengali
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضور نے فرمایا بہت سے لوگ مجھے ملتے ہیں اور بتاتے بھی ہیں بعض دفعہ ملنے پر کہ فلاں بزرگ کا آپ نے ذکر کیا تھا ان سے میرا یہ یہ تعلق ہے رشتہ داری کا عزیز داری کا، لیکن ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ ان رشتوں کا حق تبھی ادا ہوتا ہے جب ان کے نقش قدم پر بھی چلا جائے پس اس ذمہ داری کے نبھانے کے احساس اور کوشش کے ہمیشہ ہمیں اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔ حضرت میاں جمال الدین صاحبؓ فرماتے ہیں کہ ایک مولوی بنام نواب الدین اپنے خیال میں یہ کہتا تھا کہ میں مرزائیوں کو درست کر رہا ہوں اور گاؤں گاؤں اور قصبہ قصبہ میں پھرتا تھا، میاں جمال الدین صاحب کہتے ہیں کہ چونکہ مجھ سے پہلے اس گاؤں میں کوئی احمدی نہیں تھا، سب مخالف ہی تھے، تو انہوں نے مشورہ کر کے ایک آ دمی کو میرے پاس بھیجا کہ یہاں آ کر مولویوں کا مقابلہ کریں ۔ حضرت منشی قاضی محبوب عالم صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک حکیم لاہور میں سکونت پذیر ہوئے پنشن لے کے، میں ان کے ہاں ملازم تھا، وہ بھی اکثر حضرت مسیح موعودؑ کی مخالفت کیا کرتا تھااور بہت بدزبانی کیا کرتا تھا، چنانچہ ایک دن اس نے دوران گفتگو حضرت مسیح موعودؑ کی شان مبارک میں دیوس کا لفظ استعمال کیا (نعوذ با ﷲ ) ، میں نے رات کو بہت دعائیں کیں اور استغفار کیاکہ ایسے شخص سے میں نے کیوں گفتگو کی۔ حضرت امیر خان صاحبؓ فرماتے ہیں کہ حضرت خلیفہ اول ؓکی وفات پر جب میں نے سنا کہ چوہدری غلام احمد صاحب پیغامی ہو گئے ہیں تو میں وہاں پہنچا اور انہیں پیغامیوں کے حالات سے اطلاع دی ، الحمدﷲ کہ انہوں نے بہت اثر لیا اور پیغامی خیالات سے توبہ کرلی اور یہاں قادیان میں تشریف لائے ۔ حضرت مولوی عبداﷲ صاحب ؓبیان کرتے ہیں کہ میں ایک دفعہ حضرت صاحب کی زیارت کیلئے حاضر ہوا ، ایک صحابیؓ حضرت صاحب سے میرا تعارف کروایااور کہا کہ اس کے بڑے مباحثے ہوئے ہیں اور اﷲ تعالیٰ ہر میدان میں اس کو غلبہ دیتا رہا ہے۔ حضرت صاحب نے فرمایا ہاں حق کو ہمیشہ غلبہ ہی ہوتا ہے۔ حضرت چوہدری محمد علی صاحب ؓ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد صاحب سیالکوٹ جلسہ میں شمولیت کیلئے تشریف لے گئے ، جب واپس تشریف لائے تو انہوں نے آ کر تبلیغ شروع کی، ان کی تبلیغ سے لوگ دھڑا دھڑ بیعت کرنے لگے ۔ حضرت شیخ عبد الرشید صاحبؓ فرماتے ہیں کہ ایک مولوی یہاں آیا کرتے تھے ، بڑے خوش الحان تھے، اس کے وعظ میں بے شمار عورتیں جایا کرتی تھیں، اس نے آ کر حضرت مسیح موعودؑ کی مخالفت شروع کر دی، بد زبانی بھی کرتا تھا۔ حضرت شیخ محمد اسماعیل صاحبؓ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضرت مسیح موعود ؑصر کی نماز سے فارغ ہو کر مسجد مبارک میں ہی تشریف فرما ہوئے تو ایک نئے دوست سے عرض کی کہ حضور ہمارے گاؤں میں ایک مولوی صاحب آ ئے اور رات کو کوٹھے پر کھڑا کر کے غیر احمدیوں نے ان سے وعظ کروایا تو اس نے نے لا نبی بعدی والی حدیث پڑھ کر لوگوں کو خوب جوش دلایا ۔ حضرت حافظ غلام رسول وزیر آ بادی صاحب ؓ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ میاں بشیر احمد صاحب کے مکان میں تشریف فرما ہوئے اور بہت سے دوستوں کو اس میں جمع کر کے فرمایا کہ میں نے ہائی سکول اس لئے قائم کیا تھا کہ لوگ یہاں سے علم حاصل کر کے باہر جا کر تبلیغ کریں گے ، مگر افسوس کے لوگ علم حاصل کرنے کے بعد اپنے کاروبار میں لگ جاتے ہیں اور میری غرض پوری نہیں ہوتی۔ الحاج عمر ابراہیم صاحب سلطان آف انگادیز نائیجر کی وفات۔

Hudhur Aqdas said many write to him or tell him when they meet Hudhur about their relationship with any elder that Hudhur may mention in his addresses. However, Hudhur said the due of these relationships will be honoured only when people walk in the footsteps of these elders. Hadhrat Mian Jamal uddin sahib(ra): He relates that a Maulwi Nawab uddin used to go from town to town in his assumption to ‘sort out/fix Mirzai people’. Mian Jamal uddin sahib came to know that he was visiting one of nearby villages and as he was the only Ahmadi in the area, they sent for him. Hadhrat Munshi Qazi Mehboob Alam sahib(ra): He relates that he was employed by a Hakim who opposed the Promised Messiah(as). One day in his antagonism he used the derogatory word ‘dayus’ for the Promised Messiah(as). Munshi sahib did a lot of Istighfar that night regretting having talked to the man in the first place. Hadhrat Ameer Khan sahib(ra): He relates that when he heard that an acquaintance had joined the Lahore Ahmadiyya group he went to see him and made him aware of the realities regarding the group. His acquaintance was affected by what he heard and returned to Qadian. Hadhrat Maulwi Muhammad Abdullah sahib(ra): He relates that he once went to see the Promised Messiah(as) and was introduced by one of his companions as one who had had many debates but God had always made him triumphant. The Promised Messiah(as) said that yes, truth is always triumphant. Hadhrat Chaudhry Muhammad Ali sahib(ra): He relates that his father went to attend Jalsa at Sialkot and on his return he started doing Tabligh. His Tabligh bore fruits and multitudes started taking Bai’at. Hadhrat Shaikh Abdur Rasheed sahib(ra): He relates that a mualwi he knew recited the Qur’an in a very melodious voice and his sermons were well attended by women. The maulwi started opposing the Promised Messiah(as) using rude language Hadhrat Shaikh Ismael sahib(ra): He relates that one day after Asr Salat people sat in the company of the Promised Messiah(as) in Masjid Mubarak when someone said that a maulwi had visited their village and having gathered people, started enthusing them by quoting the Hadith ‘La Nabi Ba’adi (There is no Prophet after me). Hadhrat Hafiz Ghulam Rasool Wazirabadi sahib(ra): He relates that once the Promised Messiah(as) said that he had made the high school so that people sought education there and then went out in the world for Tabligh. But he regretted that after seeking education at the school people became busy in their businesses and his objective was not realised. Death of Al Haaj Umer Ibrahim, Sultan of Agadez, Niger.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
09-Mar-2012 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Tabligh by Companions of The Promised Messiah(as)
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian | Bengali
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

اور پھر ۱۴۰۰ سال بعد اﷲ تعالیٰ نے اپنے وعدے کے مطابق آنحضرت ﷺ کے غلام صادق حضرت مسیح موعودؑ کو مبعوث فرمایا ، جنہوں نے پھر اس عظیم کام کی تجدید کی اور دنیا کو خدا تعالیٰ کی طرف بلایا ، دنیا کو بتایا کہ اﷲ تعالیٰ کی راہ کس طرح تلاش کریں، کس طرح اس تک پہنچا جا سکتا ہے ، اور اگر اﷲ تعالیٰ کی تلاش ہے ، اس تک پہنچنے کی خواہش ہے، تو اب صرف اور صرف مذہب اسلام ہے جو اﷲ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے۔ حضرت مسیح موعود ؑ لکھتے ہیں: دنیا کے مذاہب پر اگر گہری نظر کی جاوے تو معلوم ہوگا بجز اسلام ہر ایک مذہب اپنے اندر کوئی نہ کوئی غلطی رکھتا ہے اور یہ اس لئے نہیں کہ درحقیقت وہ تمام مذاہب ابتدا سے جھوٹے ہیں بلکہ اس لئے کہ اسلام کے ظہور کے بعد خدا نے ان مذاہب کی تائید چھوڑ دی۔ حضرت امام دین صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ مولوی فتح دین صاحب نے ہمارے نام ایک خط لکھا کہ ایک مولوی مباحثہ کیلئے آیا ہوا ہے، قادیان سے ایک مولوی لے کر بہت جلد پہنچیں ، ہم مولوی عبداﷲ صاحب کو ہمراہ لے کر مباحثہ کیلئے پہنچ گئے ، مباحثہ کے دوران فریق مخالف اس بات پر اڑگیا اور کہنے لگا میں تب مباحثہ کروں گا جب حضرت مسیح موعودؑ کا نام قرآن کریم میں دکھاویں گے اور شرط یہ لگائی کہ نام اس طرح دکھائیں مرزا غلام احمد ولد مرزا غلام مرتضیٰ لکھا ہو قرآن کریم میں۔ حضرت پیر افتخار احمد صاحب اپنے والد ماجد پیر احمد جان صاحب کے متعلق تحریر فرماتے ہیں کہ میرے والد صاحب نے حضرت صاحب کے اس دعویٰ مجددیت کو قبول کر کے اپنے دوستوں، واقفوں اور ناواقفوں میں بڑی سرگرمی کے ساتھ اشاعت شروع کی۔ حضرت ماسٹر نذیر حسین صاحب ؓولد حکیم محمد حسین صاحب مرہم عیسیٰ فرماتے ہیں کہ بچپن سے مجھے تبلیغ کا بہت شوق تھا ۔ ستمبر ۱۹۰۳ تک میرے والد صاحب لاہور میں بھاٹی گیٹ کے علاقہ میں رہتے تھے ، اس زمانے میں میرے والد صاحب کے پاس ایک احمدی ابوسعید عرب بھی آ یا تھا ، اس نے میرے دینی اور تبلیغ کے شوق کو دیکھ کر مجھے کچھ آ سان رنگ کے دلائل وفات مسیح ناصری اور احمد مسیح موعودؑ کے سکھلائے تھے ۔ حضرت شیر محمد صاحب ؓ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے ایک دفعہ خواب میں دیکھا کہ ایک کنواں دودھ کا بھرا ہوا ہے اور میں نے بعض دوستوں کو کنویں سے بالٹیاں بھر بھر کر دودھ پلایالہذا وہ کنواں خشک ہوگیا۔ حضرت ماموں خان صاحب ؓ ولد کالے خان صاحب فرماتے ہیں کہ میں نے ۱۹۰۲ میں ایک خواب دیکھا کہ چاند میری جھولی میں آسمان سے ٹوٹ کر آ پڑا ہے ، میں نے یہ خواب سید محمد شاہ صاحب مرحوم جو کہ مخلص احمدی تھےکو سنایا ، انہوں نے بتایا کہ تم کو عزت ملے گی یا کسی بزرگ کی بیعت کرو گے۔ حضرت منشی قاضی محبوب عالم صاحب ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے میاں موسیٰ صاحب کو تبلیغ شروع کی چنانچہ ان کو قادیان بھیجا ، مگر وہ شامت اعمال سے قادیان سے بغیر بیعت کئے واپس آ گئے۔ حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے بیعت کر لی، حضرت اقدس کی کتاببیں پڑھیں ،ایک جوش پیدا ہوا اور تبلیغ شروع کر دی۔ حضرت میاں محمد عبدا ﷲ صاحب ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے خاندان میں پہلے حاجی فضل دین صاحبؓ نے ۱۸۹۲ میں قادیان جا کر بیعت کی تھی، انہوں نے میرے والد صاب اور دیگر میرے بھائیوں کو ۱۹۰۳ تک تبلیغ کی، میرے والد صاحب نے ایک رات خواب دیکھا کہ قادیان کی طرف سے ایک پورے قد کا چاند بہت خوبصورت روشنی دے رہا ہے۔ مکرم مقصود احمد صاحب کی نوابشاہ میں شہادت۔ محترمہ حاجرہ بیگم صاحبہ زوجہ درویش قادیان کی وفات۔

1400 years later, in accordance to Divine promise the advent of the true and ardent devotee of the Prophet took place who revived the mission and called the world to God and taught how to find the way to reach God. He informed that now the only way to reach God was through the religion of Islam. The Promised Messiah(as) wrote: ‘A study of the religions of the world reveals that every religion, except Islam, contains some mistake or the other. This is not because they were all false in their origin, but because after the advent of Islam, God gave up the support of other religions. Hadhrat Imam Din sahib(ra): He relates that he received a letter from someone asking him to come over with a Maulwi from Qadian because a debate was going to be held in a village. They duly arrived. During the debate the other party became insistent that they would only proceed if ‘Mirza sahib’s’ name could be shown in the Holy Qur’an written as ‘Mirza Ghulam Ahmad, son of Mirza Ghulam Murtaza’. Hadhrat Pir Iftikhar Ahmad sahib(as): He relates that his father believed in Hadhrat Mirza Ghulam Ahmad(as) during the time of his claim as a Mujaddid and propagated his message among his friends and others. Hadhrat Master Nazir Hussain sahib(ra): He relates that he loved to do Tabligh from a young age. His family lived in the Bhaati Gate area of Lahore. An Ahmadi came to meet his father and seeing the young boy’s enthusiasm he taught him proofs and arguments regarding the life and death of Jesus(as). Hadhrat Sher Muhammad sahib(ra): He relates that he once saw in a dream that there is a water well filled with milk and he is giving his friends buckets-full of milk to drink so much so that the water well is dried up. Hadhrat Mamo Khan sahib(ra): He relates that he saw in a dream that the moon had fallen in his lap. Someone interpreted the dream for him and said he would either get a lot of respect or he would take the Bai’at of a holy person. Hadhrat Munshi Qazi Mehboob Alam sahib(ra): He relates that he did Tabligh to a Musa sahib, even took him to Qadian but there was no result. Hadhrat Maulana Ghulam Rasool Rajiki(ra): He relates that after his Bai’at he read up books of the Promised Messiah(as) and started doing Tabligh with great fervour. Hadhrat Mian Muhammad Abdullah sahib(ra): He relates that someone in his family had taken Bai’at in Qadian and then did Tabligh to his father. His father saw in a dream that a beautiful full moon is shining brilliantly from the direction of Qadian. Martydom of Maqsood Ahmad Sahb in Nawabshah. Death of Hajira Begum sahiba, wife of a Dervish of Qadian.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
02-Mar-2012 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Companions of The Promised Messiah(as)
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Indonesian | Bengali
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضور نے فرمایا رجسٹر روایات صحابہؓ سے مختلف عنوانوں کےتحت واقعات اکٹھے ہیں جو وقتا فوقتا حضور پیش کرتے رہیں گے۔ حضرت میاں عبدالعزیز صاحبؓ بیان کرتےہیں کہ میں اور ایوب بیگ مولوی عبداﷲ کے مکان پر گئے اور مولوی عبداﷲ کو ایوب بیگ صاحب نے پوچھاکہ آپ نے ہم کو ہمارے آ قا کو یعنی حضرت مسیح موعودؑ کو کافر کیوں کہا ہے، مولوی صاحب جو ایک عربی کے پروفیسر تھے اور فتویٰ کفر میں انہوں نے بھی اپنی مہر ثبت کی تھی، مرزا ایوب بیگ صاحب کو جواب دیا کہ ان مولویوں نے فتویٰ دیا ہے اس لئے میں نے بھی لکھ دیا تھا، مرزا ایوب بیگ صاحب نے بڑی دلیری سے کہا کیونکہ وہ سب لوگ جہنم میں جائیں گے اس لئے آپ بھی جہنم میں جائیں گے۔ حضرت منشی قاضی بابو عالم صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ تین دن کے وقفے کے بعد جب چوتھے دن میں سکول گیا تو ایک شخص نے مجھے بلایا اور فرمایا تم چار دن کہا ں تھے، میں نے صاف صاف بتا دیا کہ میں قادیان گیا تھا، انہوں نے کہا بیعت کر آ ئے ، میں نے کہا ہاں، انہوں نے فرمایا کہ یہاں مت ذکر کرنا ، میں بھی احمدی ہوں اور میں نے بھی بیعت کی ہوئی ہے لیکن میں یہاں کسی کو نہیں بتاتا تاکہ لوگ تنگ نہ کریں مگر میں نے ان سے عرض کیا کہ میں تو اس کو پوشیدہ نہیں رکھ سکتاچاہے کچھ ہو۔ حضرت مہر غلام حسن صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ میں اور مولوی فیض دین بیٹھے تھے کہ ایک شخص آ یا اور آ کر کہنے لگا مولوی صاحب آ ج طبیعت بہت پریشان ہے ، وجہ پوچھنے پر بیان کرنے لگے کہ حامد شاہ ایک فرشتہ اور با خدا آ دمی ہے ، ہندو مسلمان اس کی تعریف کرتے ہیں، آج اس سے ایک بہت بڑی غلطی ہوگئی۔ حضرت خلیفہ نور الدین صاحب ؓ لکھتے ہیں کہ میں ایک مولوی صاحب کو ایک سال تک سمجھاتا رہا ، انہوں نے ایک بار مجھ سے کہا کہ علماء نے مرزا صاحب پر کفر کے فتوے لگائے ہیں ، میں نے کہا تمہارے باپ پر بھی تو مولویوں نے کفر کا فتویٰ لگایا تھا ، اس کے بعد انہوں نے ایک مولوی صاحب کے متعلق کہا کہ اسے بھی الہام ہوتا ہے ، اس سے لکھ کر پوچھتا ہوں کہ حضرت مرزا صاحب کے دعویٰ کے متعلق خدا تعالیٰ کا کیا حکم ہے۔ حضرت حکیم عبدالصمد صاحبؓ دہلی کے تھے ، انہوں نے ۱۹۰۵ میں بیعت کی تھی، لکھتے ہیں کہ میں ۱۸۹۱ میں ایک مولوی صاحب سے دینی تعلیم حاصل کیا کرتا تھا۔ اس میں یعیسیٰ انی متوفیک و رافعک والی آیت آ گئی، جس کی تفسیر میں لکھا تھا رافع و الیک من الدنیا من غیر موت ، میں حیران ہوا کہ من غیر موت کہاں سے آ گیا ، یہ متن کی تفسیر ہو رہی ہے یا متن کا مقابلہ ہو رہا ہے ۔ حضرت حافظ غلام سول وزیر آبادی صاحب ؓلکھتے ہیں کہ بیعت کے بعد بہت سے لوگ ان کے دشمن ہو گئے تھے اور کسی نے راجہ صاحب سے کہا کہ یونہی لوگ غلام رسول کے پیچھے پڑ گئے ہیں، راجہ صاحب نے فرمایا تو پھر کیا ہے ۔ ایک بزرگ احمدی چوہدری اکرم صاحب آ ف فیصل آباد کی شہادت۔

Hudhur said he has had accounts of the companions of the Promised Messiah(as) compiled in a register under different headings and cites them on various occasions. Hadhrat Mian Abdul Aziz sahib(ra): He writes that he and his friend Mirza Ayub Baig sahib asked a Maulwi who was a professor of Arabic why they and their master, the Promised Messiah(as) was called Kafir (disbeliever). He answered that such and such Maulwis had given Fatwa (religious decree) and he had followed suit. Mirza Ayub sahib asked him if the others were hell-bound, would he follow them. Hadhrat Munshi Qazi Babu Alam sahib(ra): He writes that when he went back to school after a break of four days someone called him over and asked him where he had been. He answered that he had gone to Qadian and when asked affirmed that he had taken Bai’at. The person told him not to mention it to anyone and said he too had taken Bai’at but had not mentioned it to anyone. Munshi sahib answered that he will not hide it. Hadhrat Mehr Ghulam Hassan sahib(ra): He writes that someone came to him and describing his anxiety said Hamad Shah who was an angelic person and was praised by Hindu and Muslim alike had made a grave mistake. Hadhrat Khalifa Nurudin sahib(ra): He writes that he had been advising someone for a year about the truthfulness of the Promised Messiah(as). This person told him that he had heard that such and such person also receives revelation so he would ask him what God informs him about the claim of Mirza sahib. Hadhrat Hakeem Abdul Samad Khan sahib(ra): He hailed from Delhi, he wrote that he took his Bai’at in 1905. He wrote that in 1891 he used to take religious lessons from a Maulwi. One day the Quranic verse: ‘…O Jesus, I will cause thee to die a natural death and will exalt thee to Myself…’ (3:56) came in lesson and its explanation bewildered him. Hadhrat Hafiz Ghulam Rasool Wazirabadi sahib(ra): He wrote that following his Bai’at many people became his enemy and someone mentioned his unpopularity to an aristocratic person Raja sahib, who asked what was the basis of the enmity. Martyrdom of an elder Ahmadi Chaudhary Akram Sahb of Faisalabad.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
24-Feb-2012 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Purpose of Mosques
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Indonesian | Bengali
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضور نے فرمایا الحمدﷲ آج ہمیں اس علاقے میں مسجد تعمیر کر کے اس کا افتتاح کرنے کی توفیق مل رہی ہے، یہ فیلتھم کا علاقہ کہلاتا ہے، ہاؤنسلو بھی قریب ہے اس لئے یہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ مسجد ہے اور امیرصاحب کی باتوں سے لگتا ہے یہ شاید علاقے کی جامع مسجد ہی ہو، ابھی تک کی مساجد میں اس علاقے میں یہ بڑی مسجد ہے، جس میں جمعہ اور نمازوں کیلئے احباب آیا کریں گےاور یہی مسجد کا مقصد ہوتا ہے۔ حضور نے فرمایا یہ مسجد جس میں اس وقت خطبہ دیا جا رہا ہے یہ عمارت خاص طور پر مسجد کیلئے تو نہیں بنائی گئی، یہ عمارت دفاتر کی عمارت تھی جس کو تبدیل کیا گیا ہے مسجد میں، اسی طرح ہیز میں بھی کمیونٹی سنٹر کو مسجد میں تبدیل کیا گیا ہے۔ اﷲ تعالیٰ ان مساجد کو اسلام کی تعلیم کو پھیلانے کا بھی ذریعہ بنائے ، ہمارے ایمانوں میں ترقی کا بھی ذریعہ بنائے ۔ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مساجد ایسی جگہیں ہیں جو خالصۃ اﷲ تعالیٰ کیلئے ہیں، یہاں جو آئے خالص عبد بن کر آئےاور مسجدوں میں کبھی کوئی کفر ، شرک بلکہ دنیاوی باتیں بھی نہ ہوں۔ پس وہ لوگ جو آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہیں اور ہم جو آنحضرت ﷺ کے مقصد کو پورا کرنے کیلئے آنے والے آپ کے غلام صادق کی جماعت میں بھی شامل ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، ہمارا تو اب یہ اور صرف یہی کام ہے اور یہ مقصد ہونا چاہئے کہ جہاں خالص ہو کر ایک خدا کی عبادت کیلئے مسجدوں میں آئیں تاکہ ہماری عبادتوں کے معیار اور خدا تعالیٰ سے ایک زندہ تعلق قائم ہو وہاں اس سچائی کے نور کو دنیا میں پھیلانے کا بھی باعث بنیں ۔ حضور نے فرمایا: حضرت مسیح موعودؑ کے یہ الفاظ کہ اب خدا کا ارادہ ہے کہ ان کی تخمریزی ہو ، یہ نرے الفاظ نہیں ہیں بلکہ طبیعتوں میں یہ انقلاب اس تخمریزی سے پیدا ہوئے، آج سے ۱۲۳ سال پہلے جو تخمریزی ہوئی تھی اس نے لاکھوں عباد اور صالحین پیدا کئے، عباد و صالحین کے پھل آپ کو عطا کئےاور اﷲ تعالیٰ کا یہ سلوک آج بھی جاری ہے۔ حضور نے فرمایا: مسجد کی تعمیر کے ساتھ جہاں تبلیغ کے راستے کھلتے ہیں، وہاں مخالفتیں بھی تیز ہوتی ہیں، مسلمانوں کی طرف سے مخالفت اس لئے ہوتی ہے کہ ان کے علماء کی طرف سے احمدیت کی غلط تصویر پیش کی جاتی ہےاور یہ کہا جاتا ہے کہ نعوذ باﷲ احمدی آنحضرتﷺ کی خاتمیت پر ڈاکہ ڈالنے والے ہیں، جبکہ احمدی ہمیشہ یہ اعلان کرتے ہیں کہ ہم آنحضرت ﷺ کے مقام خاتم النبیین پر سب سے بڑھ کر یقین کرنے والے ہیں اور یہ فہم و ادراک ہمیں آپ کے عاشق صادق نے دیا ہے ، حضرت مسیح موعودؑ نے دیا ہے۔ حضور نے فرمایا: ایک حدیث میں آتا ہے حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضرت محمدﷺ نے فرمایا کہ ملائکہ تم میں سے ہر ایک کیلئے دعا مانگتے رہتے ہیں جب تک کہ وہ اپنی نماز کی جگہ میں ٹھئرا رہتا ہے جس میں اس نے نماز پڑھی، فرشتے کہتے ہیں کہ اے اﷲ اسے بخش دے ، اے اﷲ اس پر رحم کر۔ مسجد کی تعمیر کے متعلق معلومات کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے فرمایاکہ اس کی خرید پر اور تعمیر پر تقریبا ۹ لاکھ پاؤنڈ خرچہ آیا ہےاور اﷲ تعالیٰ کی کے فضل سے ہانسلو کی دو جماعتوں نے ہی زیادہ تر خرچ اٹھا یا ہے۔ حضور نے دعا کی تحریک کرتے ہوئے فرمایا انڈیا میں حیدر آباد دکن میں ہماری مسجد پر غیروں کی نظر ہے اور قبضہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں ، وہاں مسلمان بھی کافی تعداد میں ہیں اس لئے ان کے شور سے حکومت بھی کچھ ان کے زیر اثر آرہی ہے ۔ اﷲ تعالیٰ ان کے شر سے ہمیں بچائے۔

Hudhur said Alhamdolillah today we are enabled to inaugurate a mosque in the area of Feltham. Feltham is near Hounslow and Hudhur gleaned from what the regional Ameer sahib said that the mosque will serve as the central mosque of the entire area. Here people will come for Friday Prayer and Salat which is the purpose of a mosque. Hudhur said the mosque from where the sermon was being delivered is not a purpose built mosque. It has been converted from an office block whereas in Hayes a community centre building has been converted to a mosque. May God make these mosques a source of spreading the teaching of Islam as well as a source of enhancing our faith. God states that a mosque is a place which is purely for the sake of God and whoever comes to a mosque should come as a servant of God. There should be no mention of kufr (disbelief), shirk (associating partners with God) in a mosque, in fact no worldly matters should be discussed in a mosque. Those who claim to believe in the Holy Prophet(saw) and we who claim to have joined the Community of his true and ardent devotee in order to fulfil his objective should come to mosques with sincerity to worship God so that a living connection is formed with Him. Moreover, we should try to become sources of spreading the light of the truth in the world. Hudhur said the Promised Messiah’s(as) words that God has willed to sow the seeds are not mere words. This ‘sowing of seed’ which took place 123 years ago generated revolutionary changes in people and created hundreds of thousands of righteous servants of God and continues to do so today. Hudhur said a new mosque promotes Tabligh but it can also rouse opposition. Opposition from Muslims is borne of their religious leaders presenting a wrong representation of Ahmadiyyat. It is said that God forbid, Ahmadis attack the finality of the Prophethood of the Holy Prophet(saw). Our perception and insight into the finality of Prophethood is greater than anyone else and we have learned it from the Promised Messiah(as). Hudhur related a Hadith in which the Holy Prophet(saw) said that angels continue to pray for a person until he or she stays in the place where he or she has offered Salat. They pray, O Allah forgive him for he offered Salat, O Allah, have mercy on him. Giving facts and figures Hudhur said the total expenditure of the mosque was £900,000 and with the grace of God both the Jama’ats of Hounslow met most of the cost. Hudhur asked for prayers for Jama’at in India where our opponents are trying to take over our mosque in Hyderabad Deccan and the government appears to be influenced by them. May God protect us from their evil.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
17-Feb-2012 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Khalifatul Masih II, A leader to emulate
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian | Bengali
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضور نے فرمایا : زندہ مذہب وہی مذہب ہے جس میں اﷲ تعالیٰ کی قدرت نمائی کے جلوے ہمیشہ نظر آ تے ہیں اور آج زندہ مذہب ہونے کا صرف دعویٰ ہی نہیں بلکہ اس کا عملی ثبوت بھی صرف اور صرف اسلام ہی دیتا ہے، اسلام کاخدا وہ خدا ہے جس سے اب بھی جس کو وہ چاہے کلیم بنا سکتا ہے ، اس سے اب بھی بولتا ہے، دعاؤں کو سنتا ہےاور جواب دیتا ہے اور اپنی قدرت کے جلوے دکھاتا ہے ، اور اس زمانے میں اپنی قدرت کے اظہار کیلئے اپنے وعدے کے مطابق جس کی اس زمانے میں پورا ہونے کی خبر آنحضرت ﷺ نے فرمائی تھی، حضرت مسیح موعودؑ کو بھیجا۔ حضرت مسیح موعودؑ کی راہنمائی فرماتے ہوئے اﷲ تعالیٰ نے آپؑ کو فرمایا کہ ہوشیارپور جاؤ اور وہاں چلہ کشی کرو، اس چلہ کشی کے دوران ایک نشان اﷲ تعالیٰ نے آپ کو دیاجو ایک موعود بیٹے کا تھاجس کو ہر احمدی پیشگوئی مصلح موعودؓ سے جانتا ہے ۔ یہ پیشگوئی ہم نے حضرت مصلح موعود ؓ کی ذات میں پورا ہوتے دیکھی ہیں۔ حضور نے فرمایا : حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ نے ۱۹۴۴ میں مصلح موعود ہونے کا اعلان فرمایا جب خدا تعالیٰ نے آ پ کو بتایا کہ آپ ہی مصلح موعود ہیں۔ اس پیشگوئی کے پورا ہونے کی خوشی میں یوم مصلح موعودؓ کے جلسے بھی منعقد کئے جاتے ہیں، آ ئندہ چند دنوں میں یہ جلسے مختلف جماعتوں میں ہونگے، اس لئے کہ جماعت کے ہر فرد کو پتہ چلے کہ ایک عظیم پیشگوئی تھی جو بڑی شان سے پوری ہوئی۔ حضور نے فرمایا : حضرت خلیفۃ المسیح الثانی حضرت مصلح موعودؓ کی ۵۲ سالہ خلافت کا دور جو ہے وہ اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہے، آپ کی تحریرات، آپ کی تقریریں، اس درد سے بھری ہوئی ہیں جو اسلام اور آنحضرت ﷺ کے مقام کو دنیا میں قائم کرنے کیلئے آپ کے دل میں تھا، آپ کا علم و عرفان اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو علوم ظاہری و باطنی سے پر فرمایا تھا۔ حضور نے فرمایا: حضرت مصلح موعودؓ نے ۱۹ سال کی عمر میں حضرت مسیح موعودؑ کی وفات کے موقع پر یہ عہد کیا کہ اگر ساری جماعت بھی دین سے پھر جائے تو میں اس کیلئے اپنی جان لڑا دوں گا ، اور یہی ایک چیز تھی جس نے ۱۹ سال کی عمر میں حضرت مصلح موعودؓ کے دل میں ایسے آگ بھر دی کہ آپ نے اپنی ساری عمر دین کی خدمت کیلئے لگادی اور باقی تمام مقاصد کو چھوڑ کر یہی ایک مقصد اپنے سامنے رکھ لیا۔حضرت مصلح موعودؓ کا وہی عہد تھا جس نے مضبوطی کے ساتھ حضرت مصلح موعودؓ کو اپنے ارادے پہ قائم رکھاکہ مخالفتوں کے سینکڑوں طوفان آپ کے خلاف اٹھے مگر وہ اس چٹان کے ساتھ ٹکرا کر اپنا ہی سر پھوڑ گئے جس پر خدا تعالیٰ نے آپ کو کھڑا کیا تھا۔ یہ پیشگوئی صرف حضرت مسیح موعودؑ کے بیٹے تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ بعد میں بھی اس مشن کو دنیا کے کونے کونے تک لے جانے کیلئے حضرت مسیح موعودؑ نے قدرت ثانیہ کا قیامت تک تسلسل قائم رہنے کا وعدہ فرمایا ہے جو اس کام کو آگے بڑھاتا چلا جائے گا اور قدرت ثانیہ کو ایسے سلطان نصیر بھی عطا ہونگے جو آنحضرت ﷺ کے غلام صادق کے مشن کو آگے بڑھانے کیلئے قدرت ثانیہ جو خلافت کی صورت میں جاری ہے ، اس کے مددگار بنیں گے۔ شیخ مصور احمد صاحب آج جلنگھم کی۲۵ سال کی عمر میں وفات۔

Hudhur said that only that religion is a living religion which continues to manifest God’s powers. Today, only Islam meets this criterion and only in Islam God communicates with man, responds to prayers and manifests his powers. To manifest His powers in this age, He sent His Messiah in the world in accordance with related prophecies. The Promised Messiah(as) was guided by the Almighty to go to the town of Hoshiarpur in India for a forty-day retreat of prayer and worship which resulted in the Almighty favoring the Promised Messiah(as) with the sign of a promised son known among the Ahmadis as the Prophecy of the Muslih Mau’ud (Promised Reformer). This prophecy was fulfilled in the person of Hadrat Mirza Mahmud Ahmad (1889-1965), the second successor to the Promised Messiah(as). Hudhur said that the Khalifatul-Masih II announced in 1944 that he himself indeed was the one who was promised in this prophecy. Yaum Muslih Mau’ud (The Promised Reformer Day) is celebrated in the Ahmadiyya Muslim Community every year so that members become familiar with the details of the fulfillment of this great prophecy. Hudhur explained that Hadrat Muslih Mau’ud was Caliph for 52 years and his Caliphate is a shining proof of the fulfillment of this prophecy. The speeches and writings of the Muslih Mau’ud reflect his concern for the condition the Muslim populace and his intellectual and spiritual service to the Islamic world and Islam. Hudhur explained how Hadhrat Muslih Mau’ud(ra) at the young age of nineteen determined to carry out of the work of the Promised Messiah(as) and pursued this objective throughout his life selflessly and with full vigor and attention and realized success with the grace of the Almighty against all adverse mischief, machinations and plots. This prophecy signified that the mission of the Promised Messiah(as) will not be limited to his life but rather will extend beyond his time and will extend to the last days through the manifestation of the second power, that is, Khilafat. Death of Shaikh Musawwir Ahmad Sahib of Jillingham at the age of 25.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
10-Feb-2012 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Al Fatihah, the Essence of Quranic Teachings
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian | Bengali
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے سورۃ فاتحہ کو اپنے اور بندے کے درمیان نصف نصف کر کے تقسیم کر دیا ہے ، یعنی آدھی سورت میں صفات الٰہیہ کا ذکر ہے اور آدھی صورت میں بندے کے حق میں دعا ہے ۔ یہ بات بھی ہمیشہ یاد رکھنی چاہئے کہ اس سورت کا اس زمانے میں جو حضرت مسیح موعودؑ کا زمانہ ہے ، اس سے بھی بہت نسبت ہے ، پرانے صحیفوں میں بھی اس حوالے سے اس کا ذکر موجود ہے ، اور خود سورۃ فاتحہ کا مضمون بھی حضرت مسیح موعودؑ کے وقت کے انعامات اور اس کے حصول اور اس زمانے کے شر اور گمراہی سے بچنے کی طرف اشارہ کرتا ہے ، پس اس لحاظ سے آ ج کل کے مسلمانوں کیلئے اس کی بڑی اہمیت ہونی چاہئے ، لیکن بد قسمتی سے مسلمان علماء نے قوم کو اس حد تک اپنے قابو میں کر لیا ہے، اس حد تک ان کی غور کرنے کی صلاحیت کو ختم کر دیا ہے کہ وہ اس بات کی طرف غور کرنے کیلئے توجہ دینے کیلئے تیار ہی نہیں ہیں۔ حضور نے فرمایا : جیسا کہ انبیاء کے مخالفین کا طریق ہے ، کہتے ہیں تمہارے ماننے والے تو ہم میں ذلیل لوگ نظر آ تے ہیں لیکن اﷲ تعالیٰ ایسے وقت میں حالات بدلتا ہے ، وہی فرعون زندگی کی بھیک مانگتا ہے ، وہی مکہ کے سردار اپنی جان کی امان مانگتے ہیں، اور یہ بات ایک مومن کو حقیقی حمد کی طرف متوجہ کرتی ہے، اس کا ادراک دلاتی ہے، اسی طرح اس زمانے میں بھی جو آ جکل سمجھتے ہیں کہ یہ ذلیل ہیں ، جماعت احمدیہ کے حقیر سے لوگ ہیں ، ایک وقت آ ئے گا جب یہ لوگ ختم ہو جائیں گے۔ حضرت مسیح موعودؑ لکھتےہیں: اور اس کے ساتھ ہی الحمد للہ میں ایک یہ اشارہ بھی ہے کہ جو معرفت باری تعالیٰ کے بارے میں اپنے بد اعمال سے ہلاک ہوا یا اس کے سوا کسی اور کو معبود بنا لیاتو سمجھو کہ وہ شخص خدا تعالیٰ کے کمالات کی طرف سے اپنے توجہ پھیر لینے اس کے عجائبات کا نظارہ نہ کرنے اور جو امور اس کے شایان شان ہیں ان سے باطل پرستوں کی طرح غفلت برتنے کے نتیجے میں ہلاک ہو گیا۔ حضور نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعودؑ نے بڑی وضاحت سے ایک جگہ بیان فرمایا ہوا ہے کہ اﷲ تعالیٰ کا حسن کیا ہے اور اﷲ تعالیٰ کا احسان کیا ہے لیکن وہ ایک علیحدہ مضمون ہے لیکن حضور نے فرمایا کہ وہ مختصر بتا دیتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ کا حسن یہ ہے کہ تمام قسم کی خوبیاں اس میں پائی جاتی ہیں جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے کہ وہ تمام صفات کاملہ کا جامع ہے ، تمام صفات اس میں جمع میں ہیں۔ حضور نے فرمایا آج نئی زمین اور نیا آسمان جو حضرت مسیح موعودؑ کی وجہ سے پیدا ہوا، جس سے فائدہ بھی ہم اٹھا رہے ہیں، ہمیں خاص طور پر اس طرف توجہ کرنی چاہئے کہ تمام بدعات سے اپنے آپ کو بچانا ہے اور ایمانوں کو مضبوط کرنا ہے،اﷲ تعالیٰ کی عبودیت کا حق ادا کرنے کی کوشش کرنی ہے، اس کی ربوبیت کی صحیح پہچان کرنی ہےتبھی ہم اس نئی زمین اور اس نئے آ سمان سے فیض یاب ہو سکتے ہیں۔ حضور نے فرمایا جب بندہ اپنے رب کو حقیقی رنگ میں پہچان لیتا ہے ، اس کی عبادت کے اعلیٰ معیار قائم کرنے لگتا ہے تو پھر وہ رب العالمین کا وہ ادراک پاتا ہے جو اسے دوسروں سے ممتاز کر دیتا ہے ۔ فاتحہ بیگم صاحبہ زوجہ مولانا احمدنسیم خان صاحب مرحوم کی وفات، حاکم بی بی صاحبہ زوجہ مولوی غلام رسول صاحب کی وفات

The Holy Prophet(saw) said that God states that He has divided Surah Fatiha half and half between Him and His servants. The first half cites God’s attributes and the second half is comprised of prayers for His servants. It should also be remembered that this Surah has a great significance with reference to the current age as cited in old scriptures, indicating its benefits in the time of the Promised Messiah(as) and its safeguards against being misguided. In this respect, today it should have vast importance for the Muslims, but unfortunately the so-called religious leaders have influenced them to such an extent that they have lost the capacity to ponder and the majority is not prepared to reflect and deliberate. Hudhur explained that as in earlier times when Prophets of God were scorned, in the current age some hold contemptuous views about our Jama’at. For one, God manifests His support for us as we carry on, but a time will come when these people will be finished. The Promised Messiah(as) wrote: ‘The Fatiha also warns that whoso perishes for lack of his cognition of Allah, the Supreme, through his misconduct or by taking some other than Him as his God, in truth perishes because of his disregard of His excellences, his failure to contemplate His wonders and his neglect of all that is His due, as is the way of those who are the devotees of falsehood. Hudhur explained that the Promised Messiah(as) has expounded the perfection of beauty and the perfection of beneficence of God in great detail, but it is a subject in itself. His perfection of beauty is because in Him all excellences are found as well as the aggregate of all perfect attributes. Hudhur explained that in order to pay the dues of being servants of God we need to avail of the elucidations of the Promised Messiah(as) and shun all harmful innovations in religion and thus strengthen our faith. Hudhur said when a person truly recognises God, he or she then attains an insight of Rabbil Aalameen. Death of Fateh Begum sahiba, wife of the late Maulana Ahmad Naseem Khan Sahib, Death of Hakim Bibi sahiba, wife of Maulwi Ghulam Rasool sahib.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
03-Feb-2012 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Allah is with those who are righteous and do good
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian | Bengali
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضور نے فرمایا دنیا میں دو طرح کے انسان ہیں ایک وہ جو تقویٰ پر چلنے والے ہیں اور خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے اعمال صالحہ بجا لانے والے ہیں اور ہر نیکی اور ہر اچھے عمل کو کرنے کی کوشش کرنے والے ہیں تاکہ اﷲ تعالیٰ کی رضا حاصل کریں ، تاکہ اﷲ تعالیٰ کا قرب حاصل ہو، دوسرے وہ لوگ جو گو بعض اچھی باتیں اور کام کر لیتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ ان کے سامنے نہیں ہو تایا وہ ہر کام کرتے وقت اس بات کو نہیں سوچتے کہ خداتعالیٰ ہر وقت ہماری نگرانی فرما رہا ہے ۔ بہرحال یہاں یہ بات واضح ہے کہ اﷲ تعالیٰ اپنے قانون قدرت کو ہر ایک کیلئے ایک رکھتا ہے لیکن حضور نے فرمایا یہاں اتنی بھی وضاحت ہونی چاہئے کہ اﷲ تعالیٰ اپنی قدرت کا جلوہ دکھانے کیلئے ایک ہی قسم کے حالات میں بعض اوقات مومن متقی کی کوشش کو زیادہ پھل لگاتا ہے ۔ ان لوگوں کی سوچ جو تقوی ٰپر چلنے والے ہیں بہت بلند ہوتی ہے ، وہ اس دنیا سے آ گے جا کر بھی سوچتے ہیں ، غیب پر ایمان لاتے ہیں ، آ خرت پر یقین رکھتے ہیں ، خدا تعالیٰ کے وعدوں پر کامل ایمان اور یقین ہو تا ہے ، جب دعا کیلئے ہاتھ اٹھاتے ہیں تو قبولیت کے نشان دیکھتے ہیں ۔ اس زمانے میں خدا تعالیٰ سے یہ سچا تعلق جوڑنے کا طریق اور اسلوب ہمیں حضرت مسیح موعودؑ نے سکھایا ہے ۔ بہت سے احمدی ہیں جو اﷲ تعالیٰ سے اپنے تعلق کا تجربہ رکھتے ہیں ۔ اﷲ تعالیٰ کی رضا کی خاطر اعمال صالحہ بجا لانے والے متقی ہیں اور ایسے اعمال بجا لانے والے وہ ہیں جو تقویٰ پر چلنے والے ہیں ۔ حضرت مسیح موعودؑ نے متقی کی جو تعریف بیان فرمائی ہے اس کے مطابق ہر بڑے اور چھوٹے گناہ سے بچنا ضروری ہے ، اور نہ صرف برائیوں سے بچنا ضروری ہے بلکہ نیکیوں میں اور اعلیٰ اخلاق میں ترقی کرنا بھی ضروری ہے ، اور پھر خدا تعالیٰ سے سچی وفا کا تعلق بھی ضروری ہے ۔ حضور نے فرمایا مثال کے طور پر ہمارے انجینیئر ، رضا کارجاتے ہیں ، نوجوان لڑکے ہیں، ڈاکٹر ہیں، یا دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والے ہیں ، افریقہ میں مثلا بہت سارے پراجیکٹ شروع ہیں ان میں کام کرنے کیلئے جاتے ہیں، مقامی محروم لوگوں کو پینے کا پانی مہیا کرنے کیلئے ہینڈ پمپ لگا رہے ہیں ، بجلی مہیا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ان کیلئے سکول بنا رہے ہیں تاکہ ان کیلئے تعلیم کی سہولتیں آسان ہو جائیں۔ حدیث میں آ تا ہے خادموں کے بارے میں کہ جو خود پہنو اپنے غریب ملازم کو پہناؤ، جو خود کھاؤ اسے بھی کھلاؤ۔اس تعلیم کو اگر دنیا کے وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو کسی بھی ملک کے عوام بھوکے نہیں رہ سکتے ، ان کے حقوق کبھی پامال نہیں ہو سکتے، وہ ننگے نہیں رہیں گے ۔ ہر احمدی کا کام ہے کہ وہ تقویٰ پر چلتے ہوئے اور محسنین میں شمار ہوتے ہوئے اﷲ تعالیٰ کے قرب کے نظارے دیکھنے کی کوشش کرے، اﷲ تعالیٰ کی معیت میں آ نے کی کوشش کرےاور یہی ایک صورت ہے جس سے ہم اپنی اصلاح کرنے والے بھی ہو سکتے ہیں اور معاشرے کو بھی اپنے محدود دائرے میں فساد سے بچا سکتے ہیں ۔ ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ صبغۃ اﷲ بنتے ہوئے اﷲ تعالیٰ کی صفات اپنے دائرے میں اپنی استعدادوں کے مطابق اختیار کرنے کی کوشش کریں ،حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف توجہ دیں ۔ ڈاکٹر محمد عامر صاحب آ ف بلوچستان کی شہادت۔

Hudhur said there are two types of people in this world. Those who walk the paths of Taqwa, and who do good works to attain God’s nearness, who try for every virtue, and do so to have God’s pleasure which would take them closer to God. The other kind of people are those who although do good but when doing good, they are not aware that God is watching them. Although God’s laws of nature are conclusive but a matter should be explained at this juncture which Hudhur said he would. In order to manifest His Power, at times, God grants a righteous person more than the others in similar circumstances. Those who walk on the path of Taqwa think high, they believe in the unseen, they believe in life after death and have perfect faith in God’s promises. When they raise their hands in prayer, they witness signs of Divine acceptance. In the current age it is the Promised Messiah(as) who has taught us these matters. Many Ahmadis experience Divine connection. Those who do good for the sake of God’s pleasure are the righteous and they are the ones who walk the path of Taqwa. The Promised Messiah(as) has described a righteous person as one who essentially avoids every big and small sin, essentially progresses in virtues and high morals and essentially has a truly sincere connection with God. Hudhur gave the example of our young engineers, doctors and other professionals who go to Africa to volunteer their services. They go to work on many on-going projects in Africa, like providing drinking water to the under-privileged locals. They install water hand-pumps, try and provide electricity and are establishing schools for the locals so that they may seek education. Ahadith relate that the Holy Prophet(saw) said that one should provide the same food for one’s servant that one eats and should clothe them in the same way as one dresses. If this adage is seen in perspective of the world, masses would not go hungry and without proper clothing anywhere in the world. Every Ahmadi should try and walk the path of Taqwa to be included in Mohsineen and try and experience God’s nearness. This alone helps in self-reformation and enables us to save the society within our limited sphere from disorder. We should try and adopt Divine attributes on human level in accordance with our capacities and pay attention to fulfil the rights of God. Martyrdom of Dr. Muhammad Amer sahib of Balochistan.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
27-Jan-2012 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Tribute to Ravil Bukharaev
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian | Bengali
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضور نے فرمایا ہر انسان میں اچھائیاں بھی ہوتی ہیں اور کمزوریاں بھی ہوتی ہیں لیکن وفات کے بعد کیونکہ انسان کا تعلق اس دنیا سے کٹ جاتا ہے ، اس لئے اس دنیا میں کسی کی کمزوریوں اور برائیوں کا ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ، ہاں اس کی خوبیوں کو ، اس کی نیکیوں کو ضرور بیان کرنا چاہئے، ان کا ضرور ذکرر ہونا چاہئے، اس سے ایک تو نیکیوں کی تحریک پیدا ہوتی ہےاور دوسرے مرنے والے وفات شدہ کیلئے دعا بھی نکلتی ہے، اس کی مغفرت کے سامان ہوتے ہیں۔ حضور نے فرمایا : آج میں ایک ایسے شخص کا ذکر کروں گا جس کا ہر جاننے والا ان کی خوبیوں کے بیان میں رطب اللسان تھا، چند سال پہلے حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت میں آ یا اور بہتوں کو پیچھے چھوڑ گیا ، یہ ہمارے بھائی مکرم راویل بخاری صاحب تھےجو رشین تھے، جن کی وفات ۲۴ جنوری کو ہوئی، انا ﷲ و انا الیہ راجعون۔ جماعت سے راویل صاحب کا تعارف ۱۹۹۰ کے آ غاز میں کلیم خاور صاحب کے ذریعے سے ہوا تھا ، یہ تاتار قوم پر تحقیق کے سلسلے میں لندن آ ئے تو یہیں ان کا رابطہ ہوا ، پھر حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒسے ملاقاتوں کے نتیجے میں احمدیت میں داخل ہوئے۔ حضور نے فرمایا جیسا کہ آ پ پیدائشی احمدی تو نہیں تھے لیکن ان کو دیکھ کر یہی محسوس ہو تا تھا کہ گویا وہ ہمیشہ سے ہی احمدی تھے ، وہ صحیح معنوں میں احمدیت کے ایک سفیر تھے ، جہاں بھی جاتے جماعت کا ذکر ضرور کرتے، جہاں ان کو خدشہ ہوتا کہ جماعت کے نام سے ری ایکشن ممکن ہے تو وہاں حکمت کے ساتھ اسلام کا پیغام دیتے اور جماعتی تعلیمات بیان کرتےتو لوگ جب پوچھتے کہ یہ کن کے عقائد ہیں تو جماعت کا نام بتا دیتےاور مکمل تعارف کر وادیتے۔ آپ نے بہت سی جماعتی کتب کا رشین زبان میں ترجمہ کیا ہے جو رشیا اور دیگر ریاستوں میں تبلیغ کے کام میں کافی معاون ثابت ہوتی ہیں ، ان کتب کے علاوہ انہوں نے رشین ترجمہ قرآن کیلئے بھی بڑی نمایاں خدمت سر انجام دی ہے ۔دن رات ایک کر کے انہوں نے تقریبا تین مہینے کے دوران نہایت محنت اور لگن کے ساتھ اس کام کو پورا کروایا۔ ہمارے مبلغ بشارت صاحب لکھتے ہیں کہ وہ لمحہ بھی مجھے اچھی طرح یاد ہے جب خطبہ جمعہ پہلی دفعہ رشین زبان میں نشر ہوا تھا ۔ جب خطبہ ختم ہوا تو سب کی آنکھیں خوشی اور مسرت سے پر نم تھیں اور سب نے ایک دوسرے کو گلے مل کر مبارکباد دی، یہ خطبہ بھی مکرم راویل صاحب کی آ واز میں ریکارڈ ہوا تھا۔ صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کے پڑ نواسے صاحبزادہ داؤد احمد صاحب کی شہادت۔ مرزا نصیر احمد صاحب اور رابعہ بیگم صاحبہ کی وفات۔

Hudhur explained that each person has both merits and shortcomings. After death a person is cut off from this world, thus there is no need to mention his or her shortcomings, indeed his or her good qualities should be mentioned. For one this inspires others to do good, secondly one is motivated to pray for the soul of the deceased. Hudhur said today he would speak about one such person about whom everyone has very high opinion. He took the Bai’at of the Promised Messiah(as) a few years ago but left many long-term Ahmadis behind. He was our brother, respected Ravil Bukharaev sahib, who was Russian and passed away on 24 Janaury. Inna lillahe wa inna illahe raji’oon. Ravil sahib was first introduced to Ahmadiyyat in 1990 when he came to London for some work regarding the Tartar nation. He met with Hadhrat Khalifatul Masih IV(ra) and as a result of this came into Ahmadiyyat. Hudhur said as earlier mentioned Ravil sahib was not an Ahmadi by birth but it seemed that he had always been an Ahmadi. He was an ambassador of Ahmadiyyat in the true sense. He took the message of Ahmadiyyat wherever he went and in instances where he felt there could be adverse reaction, he expressed his message with wisdom and made the introduction gradual. He translated many books of the Jama’at which proved extremely beneficial. His finest service was help with the Quranic translation in Russian. He spent night and day engaged in this task and completed it in three months. Our missionary Basharat sahib writes that he remembers when the Friday sermon Russian translation broadcast started. After the first such broadcast everyone present was tearful and hugged each other congratulating each other. This translation was recorded in Ravil sahib’s voice. Martyrdom of Sahibzada Dawood Ahmad sahib who was maternal great grandson of Sahibzada Abdul Latif shaheed. Death of Mirza Naseer Ahmad sahib and Rabia Begum sahiba.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
20-Jan-2012 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Eminent Guidance to the Exquisite Ways of Inculcation of Taqwa
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian | English | Bengali
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

اﷲ تعالیٰ کا ہم پر یہ بڑا احسان ہے کہ اس نے اس فساد زدہ زمانے میں مسیح موعودؑ و مہدی موعودؑ کو بھیجا ہے ، زمانے کے امام کو بھیجا ہے اور ہمیں یہ توفیق دی کہ اس کو مان کر اس سے یہ عہد کیا ہے کہ ہم اﷲ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق اپنے ایمان کو اس معیار پر لائیں گے یا لانے کہ کوشش کریں گے جس کی تشریح حضرت مسیح موعودؑ نے ہمیں بیان فرمائی ہے قرآن کریم اور سنت کی روشنی میں۔ حضرت مسیح موعودؑ کو ماننے کے بعد ہماری ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں کہ ہم یہ معیار حاصل کریں اور ہمارا ہر قول اور فعل نیکیاں بکھیرنے والا اور برائیوں کو روکنے والا ہو ۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں : اﷲ تعالیٰ کے نزدیک وہ لوگ پیارے نہیں ہیں جن کی پوشاکیں عمدہ ہوں اور بڑے دولت مند اور خوش خور ہوں بلکہ خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ پیارے ہیں جو دین کو دنیا پر مقدم کر لیتے ہیں اور خالص خدا کیلئے ہی ہو جاتے ہیں ۔ حضور نے فرمایا : پھر یہ بات دل سے نکلتی ہے کہ جو کچھ اﷲ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے وہ جھوٹ نہیں ہے ، وہ باطل نہیں ہے ، اﷲ تعالیٰ پاک ہے اور اس سے پھر دعا مانگتا ہے بندہ کہ اے اﷲ تعالیٰ ہمیں آ گ کے عذاب سے بچا ، جب یہ دعا دل سے نکلے گی اس وقت سمجھ میں آ ئے گا کہ اﷲ تعالیٰ کی ساری مخلوق بے فائدہ نہیں پیدا کی گئی، ہر چیز کا ایک مقصد ہے اور ہر انسان کا ایک مقام ہے ، اس کی عزت کرنا ضروری ہے ۔ حضور نے فرمایا :اس زمانے میں (آسمانی) روشنی ہمیں حضرت مسیح موعودؑ سے ملی ہے ، قرآ ن کریم کی تفسیر اور اس کو سمجھنے کیلئے حضرت مسیح موعودؑ کی کتب پڑھنا ، آپ ؑ کی تفسیریں پڑھنا ، یہ بہت ضروری ہے ، پھر آ پ سائنس کو دینی علوم کے ساتھ ملا سکتے ہیں اور کہیں کوئی ایسی بات نہیں ہوگی کہ دنیاوی علوم دین پر غالب آ جائیں، ہمیشہ دین ہی غالب رہتا ہے اور ان سائنسی علوم کو، دنیاوی علوم کو، اپنے تابع کر لیتا ہے ۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: ہماری جماعت میں شہ زور اور پہلوانوں کی طاقت رکھنے والے مطلوب نہیں ، بلکہ ایسی قوت رکھنے والے مطلوب ہیں جو تبدیل اخلاق کیلئے کوشش کرنے والے ہیں ۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: دیکھو لوط وغیرہ قوموں کا انجام کیا ہوا، ہر ایک کو لازم ہے کہ دل اگر سخت بھی ہو تو اس کو ملامت کر کے خشوع و خضوع کا سبق دے ، اگر دل سخت بھی ہے تب بھی کوشش کرو اور بار بار کوشش کرو، اپنے آپ کو کوسو، دل کو کوسو، تاکہ اس میں نرمی پیدا ہو، اﷲ تعالیٰ کی توجہ پیدا ہو ، عبادت کی طرف توجہ پیدا ہواور وہ جھکے ۔ ہماری جماعت کیلئے بہت ضروری ہے کیونکہ ان کو تازہ معرفت ملتی ہے ۔ شیخ محمد نعیم صاحب کی وفات، عاصم کمال صاحب کی وفات، عرفان احمد صاحب کی وفات۔

It is God’s favour that He sent the Promised Messiah(as) at a time of disorder as the Imam of the age and indeed, we are fortunate that we were enabled to accept him and have pledged that we will try and bring our faith in accordance with the ways that the Promised Messiah(as) explained in light of the Holy Qur’an and Sunnah. Hudhur said once we accept the Promised Messiah(as), our responsibilities increase in terms of attaining that standard where our each word and deed should spread good and should stop evil. The Promised Messiah(as) said that certainly those are not dear in the sight of God who wear fine clothes and are wealthy. On the contrary, people who are dear in the sight of God are those who give preference to faith over everything else and become God’s with sincerity. Hudhur explained that when one’s heart testifies that God’s creation is not in vain, one prays to God to be saved from the punishment of the Fire and understands that every person has his or her station and it is essential to respect them. Hudhur explained that he has also stressed the importance of research work as it is a great source for Tabligh and spreading good. Referring to the ‘heavenly light’ as cited by the Promised Messiah(as) Hudhur said in the current age this light is indeed been given to us throuh the Promised Messiah(as). The Promised Messiah(as) said: ‘Our community does not need strong men and those possessing the strength of athletes. In fact people who have the strength to try to improve morals are needed. The Promised Messiah(as) said: ‘Look, what was the ending of nations like that of Lot. It is essential that everyone, even if their heart is hardened, rebukes it and trains it to be humble and tender. It is very important for our community because they receive fresh spiritual knowledge. Death of Sheikh Muhammad Naeem Sahib, Asim Kamal Sahib and Irfan Ahmad Sahib

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
13-Jan-2012 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Seek Allah's forgiveness, Repent and Seek His protection
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian | Bengali
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضور نے فرمایا دنیا میں آج کل کسی نہ کسی رنگ میں تقریبا ہر جگہ ہی فساد برپا ہے اور یہ نتیجہ ہے انسان کے اپنی پیدائش کے اصل مقصد کو بھولنے کا یعنی اﷲ تعالیٰ کی عبادت کی طرف توجہ ، اﷲ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش، اﷲ تعالیٰ کا قرب عبادت کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا۔ عبادت اصل میں اس کو کہتے ہیں کہ انسان ہر قسم کی کساوت، کجی کو دور کر کے دل کی زمین کو ایسا صاف بنا دے جیسے زمیندار زمین کو صاف کرتا ہے فصل لگانے سے پہلے ، جیسے سرمہ کو باریک کر کے آنکھوں میں ڈالنے کے قابل بنا لیتے ہیں ۔ اسی طرح جب دل کی زمین میں کوئی کنکر پتھر ناہمواری نہ رہے اور ایسی صاف ہو کہ گویا روح ہی روح ہو ،اس کا نام عبادت ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انسان براہ راست کسی فساد میں یا شر میں ملوث نہیں بھی ہوتا لیکن پھر بھی ماحول کے زیر اثر وہ فساد اور شر اس پر بھی اثر انداز ہو رہے ہوتے ہیں ، وہ ان کا حصہ بن رہا ہوتا ہے ، کسی نہ کسی رنگ میں ان میں ملوث ہو جاتا ہے ، اور اس کی وجہ سے نہ صرف حقوق کی ادائیگی نہیں ہو رہی ہوتی بلکہ لا شعوری طور پر ظلم میں بھی حصہ دار بن جاتا ہے انسان۔ اس کی موٹی مثال تو آجکل احمدیوں کے ساتھ جو بعض ملکوں میں ہو رہا ہے اس کی ہے ۔ جب دین کو دنیا کے ساتھ ملا لیا جائے اور دین میں جب بگاڑ پیدا ہونا شروع ہو جائے تو پھر حقوق اﷲ اور حقوق العباد دونوں کی پامالی ہوتی ہے ، مذاہب کی تاریخ میں اسی طرح سے ہوتا آ یا ہے ہمیشہ کہ ایک وقت میں آ کے دین میں بگاڑ پیدا ہو تا ہے اور اسی لئے اﷲ تعالیٰ نے قوموں میں انبیاء کا سلسلہ جاری رکھا ہے کہ ایک زمانہ گزرنے کے بعد جب دین اپنی اصل سے ہٹ جائے تو پھر قوموں کو صحیح دین کی طرف واپس لانے کیلئے انبیاء براہ راست خدا تعالیٰ سے راہنمائی پا کر اپنا کردار ادا کریں ۔ اور جب خدا تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو بھیجا تو جہاں آ پ ﷺ کے ذریعے سے عبادت کے صحیح طریقے اور اسلوب مسلمانوں کو سکھائے گئے ۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں : استغفار سے انسان ان خیالات اور جذبات کو ڈھانپنے اور دبانے کی کوشش کرتا ہے جو خدا تعالیٰ سے روکتے ہیں ، استغفار کرتے رہو تو ان جذبات اور خیالات کو انسان دبائے گا جو اس بات سے روکتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ کے حکموں کی پیروی کی جائے ، جو نیکیوں سے روکتے ہیں۔ پس استغفار کے یہی معنی ہیں کہ زہریلے مواد جو حملہ کر کے انسان کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں ان پر غالب آ وے ، جب استغفار کرے گا تو ان بدیوں سے انسان بچے گا اور نیکیاں بدیوں پر غالب آ جائیں گی۔ ایک شخص نے حضرت مسیح موعودؑ سے پوچھا کہ میں کیا وظیفہ پڑھا کروں ۔ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا استغفار بہت پڑھا کرو ، انسان کی دو ہی حالتیں ہیں، یا تو وہ گناہ نہ کرے یا خدا تعالیٰ اسے اس گناہ کے بد انجام سے بچا لے۔ ایک دفعہ حضرت مسیح موعودؑ کی مجلس میں ایک شخص نے قرض سے متعلق دعا کی درخواست کی ، حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ استغفار بہت پڑھا کرو ، انسان کے واسطے غموں سے بچنےکے واسطے یہ طریق ہے ، یعنی غموں کو ہلکا اور کم کرنے کیلئے استغفار پڑھنا چاہئے ۔ استغفار کلید ترقیات ہے ۔ یعنی تمہاری ترقیات کی چابی استغفار میں ہے پس یہ یاد رکھنا چاہئے یہ استغفار ترقیات کے دروازے تب کھولے گی جب انسان خالص ہو کر خدا تعالیٰ کی طرف جھکے گا۔ آج ان دنیا داروں کی بد اعمالیاں ہی ہیں مختلف ملکوں میں جنہوں نے ایک فتنہ اور فساد برپا کیا ہوا ہے ، وہی لیڈر جو اپنے زعم میں اپنے آ پ کو عوام کا محبوب سمجھتے تھے ، عوام کی نظر میں بدترین مخلوق ہو چکے ہیں اور جو اپنے خیال میں اپنے مقام کو قائم کئے ہوئے ہیں ، آ ثار ایسے ظاہر ہو رہے ہیں کہ ان کی بھی باری آ نے والی لگتی ہے ، غرض کہ ایک فساد جو دنیا میں پیدا ہوا ہوا ہے اس کے نتیجے میں جو حکومتیں بدلی ہیں اس نے مزید فساد پیدا کر دیا ہے اور آ ئندہ مزید کتنے فساد پیدا ہونے ہیں یہ اﷲ تعالیٰ بہتر جانتا ہے ، اس لئے ہمیں بہت دعا کرنی چاہئے کہ اﷲ تعالیٰ دنیا کو فسادوں سے بچائے ۔

Hudhur said today there is turmoil everywhere in the world in one shape or the other. This is a result of man forgetting his objective of creation, that is, inclination towards worship of God and endeavour to gain Divine nearness. Indeed, Divine nearness cannot be attained without worship of God. True worship is when man removes all hardness and crookedness and makes the terrain of his heart as clear as a farmer clears his field…as collyrium/ kohl is ground extremely finely so that it can be put in eyes. Similarly, state of worship is when the terrain of heart is free of grit, pebbles and unevenness and is so clean as if it embodies pure soul. Most people are not directly involved in evil or disorder but the environment influences them one way or the other and one becomes a part of transgression subconsciously. A broad example of this is in the persecution of Ahmadis around the world, in particular in Pakistan. Corruption in religion destroys discharging of the dues of God and dues of mankind. This is what happens in history of religion. Once corruption appears in religion, God sends His Prophets to reform people who directly alert people towards worship of God. Thus God sent the Holy Prophet(saw) and taught the ways of worship of God through him. The Promised Messiah(as) also said that through Istighfar man tries to suppress and cover those sentiments and thoughts which keep one away from God. Thus Istighfar means that one overcomes those toxic matters which attack and try to destroy man and having avoided impediments of the way which leads to implementation of the commandments of God, one actually practises these commandments. Once a person asked the Promised Messiah(as) for a Wazifah (formulaic prayer). The Promised Messiah(as) replied: ‘Say Istighfar profusely. Man has only two conditions; either he does not commit any sin or Allah the Exalted saves him from the bad ending of sin. Once a person requested for prayers regarding his debt and the Promised Messiah(as) said: ‘Say Istighfar profusely. This is the method for man to avoid grief. Istighfar is the key to progress.’ Hudhur added that only that Istighfar will unlock the doors of progress which is sincere. Today the bad deeds of people of this world have created turmoil. Those leaders who presumed to be the beloved of the masses are the worst in the eyes of the masses and there are signs that the turn of those who are still considered favourites is imminent. The changes in governments resulting from the turmoil around the world have generated further disorder. We should pray a lot that God may save the world from disorder.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
06-Jan-2012 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Glorious Financial Sacrifices and Waqf-e-Jadid New Year 2012
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian | Bengali
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

پس ایک حقیقی مومن جو اﷲ تعالیٰ کی رضا کی تلاش میں رہتا ہے ، نیکیوں کے وہ معیار حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے جو اس کو خدا تعالیٰ کے قریب کرنے والے ہوں، قرآن کریم میں جہاں اﷲ تعالیٰ کا قرب پانے کیلئے مختلف رنگ میں مختلف نیکیوں کا ذکر کیا گیا ہے ، انکی طرف توجہ دلائی گئی ہے ، وہاں اﷲ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کو بھی نیکی قرار دیا گیا ہے ۔ حضرت مسیح موعودؑ صحابہؓ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ کیا صحابہؓ کرام مفت میں اس درجہ تک پہنچ گئے جو ان کو حاصل ہوا، دنیاوی خطابوں کے حاصل کرنے کیلئے کس قدر اخراجات اور تکلیفیں برداشت کرنی پڑتی ہیں تو پھر کہیں جا کر ایک معمولی خطاب جس سے دلی اطمینان اور سکینت حاصل نہیں ہو سکتا ملتا ہے ۔ اس زمانے میں دنیا کی اصلاح کیلئے خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعودؑ کو بھیجا ہے ، آپؑ صحابہ ؓ کی مثال دے کر جب ہمیں کچھ بیان فرماتے ہیں تو اس لئے کہ یہ پاک نمونے ہمارے لئے اسوہ ہیں ، ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرو اور اگر کوشش کرو گے تو حقیقی نیکیاں سر انجام دینے والے اور اﷲ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بن سکو گے۔ حضرت صوفی نبی بخش صاحبؓ: حضرت صوفی صاحب نے حضرت مسیح موعودؑ سے فرمایایہاں میں دیکھتا ہوں کہ سلسلہ کی خدمت کیلئے ہزاروں روپیہ آپ کے مرید قربان کرتے ہیں ، آپ دعا فرمائیں کہ اﷲ تعالیٰ مجھے دگنی تگنی تنخواہ دے تو میں آپ کی خدمت کرسکوں ۔ حضرت چوہدری رستم علی صاحب ؓ انسپکٹر ریلوے تھے اور ۱۵۰ روپے ماہوار تنخواہ پاتے تھے ، وہ ۲۰ روپے ماہوار اپنے گھر کے خرچ کیلئے رکھ کر باقی کل تنخواہ حضرت مسیح موعودؑ کو بھیج دیتے تھے۔ آج جب دنیا مادی عیش و آرام کیلئے مال خرچ کرتی ہے یا خواہش رکھتی ہے ، احمدی ان کو ثانوی حیثیت دیتے ہوئے دین کی خاطر قربانیاں دیتے چلے جاتے ہیں ، دنیا کی آنکھیں کھولنے کیلئے احمدیوں کی یہ قربانیاں ہی حضرت مسیح موعودؑ کی صداقت کے ثبوت کیلئے کافی ہیں ۔ایشیا ، یورپ، افریقہ ، امریکہ، ہر جگہ یہ قربانی کے نظارے نظر آتے ہیں جو قربانیاں دینے والے لوگ ہیں ۔ انڈیا میں ایک خاتون نے اپنی ایک ماہ کی تنخواہ کے برابر وقف جدید کا وعدہ لکھوادیا اور معمولی ٹیچر تھیں وہ اور کوئی خاص آمدنی نہیں تھی کہ گزارہ بہت اچھا ہوتا ہو ، جب انکے والد صاحب کو بتایا گیا کہ آپکی بیٹی نے بڑی قربانی کی ہے اس پر وہ خوشی سے رو پڑے اور اپنی بڑی بیٹی کو بلایا اور بتایا تمہاری بہن نے یہ قربانی دی ہے اور تم اس سے بڑی ہو، تم کیا کہتی ہو، تو اس نے نے اپنے وعدے پر ۱۰۰۰ روپیہ بڑھا کر اپنا وعدہ لکھوادیا۔ حضور نے وقف جدید کے نئے سال کا اعلان کیا ۔ حضور نے فرمایا ہم اس سکیم کے ۵۵ ویں سال میں داخل ہو رہے ہیں اور اﷲ تعالیٰ کے فضل سے کل قربانی اس میں دنیا کی جو رپورٹس موصول ہوئی ہیں اس کے مطابق باوجود اس کے کہ افریقہ کے بہت سے ممالک سے رپورٹیں دیر سے موصول ہوتی ہیں ۴،۶۹۳،۰۰۰ پاؤنڈ سے اوپر ہے ۔ اور گزشتہ سال کی وصولی کے مقابلہ پراﷲ تعالیٰ کے فضل سے ۵۱۰،۰۰۰ پاأنڈ زیادہ ہے ۔ الحمداﷲ ۔ حضور نے وقف جدید کی جماعتی پوزیشنز کا اعلان کیا۔ عبدالمنان ناہید صاحب کی وفات۔

A true Momin (believer) who looks out to please God, searches for the level of virtue which gains nearness of God. The Holy Qur’an cites virtues that gain God’s nearness. Among these, spending one’s wealth and using one’s capabilities is also cited as virtue. The Promised Messiah(as) writes: ‘Did the esteemed Companions arrive at the level that they attained without cost? A lot of expenses and troubles are endured to attain worldly titles and in the end an ordinary title is obtained which cannot give peace of mind and tranquillity. God sent the Promised Messiah(as) in this age for the reformation of the world and he explains matters to us by citing the examples of the Companions(ra) as these pure examples are models for us and walking in their footsteps would gain God’s pleasure. Hadhrat Sufi Nabi Bakhsh sahib(ra): Sufi sahib said to Promised Messiah(as) that he observed that the Promised Messiah’s followers spent thousands in the service of faith. He requested for prayers that may God doubled or trebled his salary so that he too could serve faith. Hadhrat Chaudhry Rustam Ali sahib(ra) was an inspector in the railways. His salary was Rupee 150. He was a very sincere member of the Community. He would keep Rupee 20 for his own use and that of his family and send the rest to the Promised Messiah(as). In this materialistic age, Ahmadis spend in the way of faith. For them worldly matters are secondary. Such sense of sacrifice alone is sufficient to prove the truthfulness of the Promised Messiah(as). These sights can be experienced in Asia, Europe, Africa and America. A lady in India who is a teacher and her salary is somewhat limited pledged one month’s salary for Waqfe Jadid. When her father came to know he was moved to tears and told his elder daughter about her younger sister’s sacrifice and asked her what was she going to do about it. The older sister also pledged greater amount than she had done before. Hudhur announced the Waqfe Jadid new year. Hudhur said we are entering the 55th year of the scheme. With the grace of God the total contributions according to the reports received so far, given that some African countries are late in sending their reports is £ 4,693,000.00. This figure is £510,000 more than last year’s contributions. Alhamdolillah. Hudhur announced Waqf-e-jadeed positions of Jama'at. Death of Abdul Mannan Naheed sahib.