In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Browse Al Islam

Archives of 2013 Friday Sermons

Delivered by the Head of the Ahmadiyya Muslim Community

Televised via Satellite by MTA International

Browser by year

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
27-Dec-2013   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Kyrgyz (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Love and Brotherhood
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Persian | Latin American Spanish
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا: قادیان میں رہنے والوں کی بھی ایک اہمیت ہےاور اس جلسہ میں شامل ہونے والے، دنیا کے کونے کونے سے آنے والے احمدیوں کی بھی ایک اہمیت ہے لیکن یہ اہمیت حقیقت میں اجاگر تب ہوگی، تب بامقصد ہو گی جب اس بستی میں رہنے والے اس اہمیت کا حق ادا کرنے والے بنیں گے ، جب اس جلسے میں شامل ہونے کیلئے آنے والے اس جلسہ کے مقاصد کے حصول کیلئے یہ دن اور راتیں جو وہاں انہوں نے گزارنی ہیں اس مقصد کے حاصل کرنے کیلئے صرف کریں گے، جو مقصد آنحضرت ﷺ کے غلام صادق اور زمانے کے امام نے ان جلسوں کا بتایا ہے ، ان لوگوں کا بتایا ہے جنہوں نے آپؑ سے عہد بیعت باندھا ہے، عموما دنیا کے کسی بھی ملک میں جلسہ کا ماحول شامل ہونے والوں پر ایک روحانی اثر ڈالتا ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ نےاس جلسہ کا ایک مقصد یہ بھی بتایا تھا کہ افراد جماعت کا ایک دوسرے سے جلسہ کے دنوں میں تعارف بڑھے اور اخوت اور پیار اور محبت کا تعلق قائم ہو ،پس آج تعارف اور اخوت کے معیاروں میں ایسی وسعت پیدا ہو گئی ہے جو بے مثال ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ قادیان کا رہنے والا ایک عام کارکن امریکہ کے رہنے والوں اور روس کے رہنے والوں سے ملتا ہے یا عرب کا رہنے والا یورپ کے رہنے والوں سے ملتا ہے یا سب جب ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو وہ روح نظر آتی ہے جو مومنین کی اخوت کے وصف کو نمایاں کرتی ہے۔ تہجد کی اجتماعی اور انفرادی ادائیگی ایک خاص ماحول پیدا کر رہی ہوتی ہے ، حضرت مسیح موعودؑ کی سجدہ گاہوں اور دعاؤں کی جگہیں بھی بہت سے دلوں کو بے قرار دعاؤں کی توفیق دے رہی ہوتی ہے ،لا محسوس طریقے پر انتشار روحانیت کا ماحول ہوتا ہے ، پس اس تین دن کے کیمپ سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور کوئی احمدی ایسا نہ ہو جو اس مقصد کو حاصل کئےبغیر وہاں سے واپس لوٹے اور قادیان میں رہنے والا کوئی احمدی ایسا نہ ہو جو ان تین دنوں کو اپنی اصلاح کا بہترین ذریعہ نہ بنادے لیکن اس بات کی پابندی کی بھی بھرپور کوشش رہے کہ جو تبدیلی پیدا کرنی ہے یا پیدا کی ہے اس میں مداومت اختیار کریں گے ، اسے اپنی زندگی کا مستقل حصہ بھی بنانا ہے۔ پس جب ہم ان باتوں پر غور کرتے ہیں تو ہمیں عجیب نمونے نظر آتے ہیں، حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حضرت مسیح موعودؑ کے نمونے کے متعلق بات کی ہے ، آپؓ کی زندگی میں صدق و وفا کے نمونے جب ہم دیکھتے ہیں تو ان میں ایک عجیب شان نظر آتی ہے، جب آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مجھے اﷲتعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا ہے کہ میں نبی ہوں تو حضرت ابو بکر صدیقؓ نے بغیر کسی سوال کے کہا کہ میں آپﷺ کو خداتعالیٰ کا نبی مانتا ہوں ۔ جنگ حنین میں اس وقت تک جو اسلام کی تاریخ تھی ، مسلمانوں کا پہلا لشکر تھا جو دشمن کے مقابلے میں تیار ہوا تھا جس کی تعداد دشمن کی تعداد سے زیادہ تھی، لیکن وہ لوگ جو لشکر میں شامل ہوئے تھے ان کی اکثریت مومن کی قربانی کی روح کو سمجھنے والی نہیں تھی، اس روح سے نا آشنا تھی ، جب دشمن کے چار ہزار تیر اندازوں نے حکمت سے اچانک تیروں کی بوچھاڑ کی تو کچھ کمزور ایمان کی وجہ سے اور کچھ لوگ سواریوں کے بدکنے کی وجہ سے ادھر ادھر ہونے لگے اور اسلامی لشکر تتر بتر ہوگیا اور آنحضرت ﷺ صرف اپنے بارہ صحابہؓ کے ساتھ میدان جنگ میں رہ گئے ، لیکن آپﷺ نے اپنے قدم پیچھے نہیں ہٹائے ، آپﷺ نے فرمایا خدا کا نبی میدان جنگ سے پیٹھ نہیں موڑتا ۔ آج زمانے کا امام ، مصلح اور آنحضرت ﷺ کی اتباع میں آنے والا نبی جو ہمیں ہماری عملی حالتوں کی درستگی کی طرف بلا رہا ہے تو ہمیں بھی لبیک کہتے ہوئے اس کے گرد جمع ہونے کی ضرورت ہے اور یہ ہمارا فرض ہے کہ اس کے گرد جمع ہو جائیں ، آج تلواروں کے جہاد کیلئے نہیں بلایا جارہا بلکہ نفس کے جہاد کیلئے بلایا جا رہا ہے، جس میں کامیابی تمام دنیا میں اسلام کا جھنڈا لہرانے کا باعث بنے گی، پس جیسا کہ حضور پہلےبھی فرما چکے ہیں ، محبت و اخوت کے نئے معیار پیدا کرنے کی ضرورت ہے ، زہد و تقویٰ کی سیڑھیوں پر چڑھنے کی ضرورت ہے ،تبلیغ اسلام کیلئے جان مال وقت اور عزت کو قربان کرنے کیلئے عملی اظہار کی ضرورت ہے ۔ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ صرف جلسہ میں شامل ہونے والے ہی مخاطب نہیں ہیں بلکہ دنیا میں بسنے والا ہر احمدی اس کا مخاطب ہےجو باتیں حضور نے بیان فرمائی ہیں، خاص طور پر اپنے آپ کو بھی ذکر الٰہی اور خاص دعاؤں کی طرف متوجہ رکھیں ، خاص طور پر جلسہ قادیان میں شامل ہونے والے اور دوسرے ممالک جہاں جلسے ہورہے ہیں، دنیا میں ہر احمدی بھی یہ دعا کرے کہ اﷲتعالیٰ ان تمام جگہوں پر جہاں احمدی مشکلات میں گرفتار ہیں اور اس لئے گرفتا رہیں کیونکہ انہوں نے مسیحِ محمدی کی بیعت کی ہے ، اس زمانے کے امام کو مانا ہے ، اﷲتعالیٰ ان کی پریشانیاں دور فرمائے، خاص طور پر پاکستان ہے، انڈونیشیا ہے، شام ہے اور بعض دوسرے ممالک ہیں ان جگہوں پر اﷲتعالیٰ احمدیوں کیلئے آسانی کے سامان مہیا پیدا فرمائے، آزادی کے سامان پیدا فرمائے۔

The inhabitants of Qadian and the attendees of Jalsa Salana Qadian both are significant. However their significance is only real and worthwhile when the inhabitants pay the dues of this significance and the Jalsa attendees spend their days and nights in attaining the objectives of the Jalsa as explained by the Promised Messiah(as). Generally speaking the atmosphere of Jalsa Salana anywhere in the world has a spiritual effect on its attendees. One of the objectives of the Jalsa as explained by the Promised Messiah(as) is to enhance mutual connection of Ahmadis and to foster mutual unity, love and affection. Today this connection and unity has grown incomparably extensive as inhabitants of Qadian meet people living in USA or Russia or inhabitants of Arab meet people from Europe or they all meet each other exhibiting the spirit which enhances the quality of unity among true believers. Observance of Tahajjud creates a very special ambience at Qadian Jalsa, this Jalsa also enables people to pray in places where the Promised Messiah(as) once prostrated before God and where he prayed to God. Each Ahmadi should fully avail of this three-day camp and there should be no inhabitant of Qadian who has not made these three days an excellent source of his reformation followed by maximum effort to make the positive changes a permanent feature of his life. When we reflect on this matter we see amazing models. The Promised Messiah(as) mentioned the model of Hazrat Abu Bakr(ra) whose life had an amazing dignity of honesty and sincerity. When having received God’s revelation the Holy Prophet(saw) declared that he was a Prophet of God, Hazrat Abu Bakr(ra) accepted him without questioning. In the Battle of Hunayn the Muslim army outnumbered the enemy but most of them were unaware of the spirit of sacrifice of a true believer. When four thousand archers of the enemy threw arrows the Muslim army dispersed and only twelve Companions remained with the Holy Prophet(saw) in the battle field. Yet, the Holy Prophet(saw) remained steadfast and said that a Prophet of God does not retreat from battlefield. Today the Promised Messiah(as) is calling us to reformation of our practices. It is our duty to gather around him. Today, we are not being called for Jihad of the sword. On the contrary, we are being called for Jihad of the self and we need to conquer temperance and Taqwa and need to show a living example of sacrificing our life, property and honour for Tabligh. It should be remembered that today’s sermon was not only aimed at people attending Jalsa Salana. In fact, attention of every Ahmadi was drawn to engage in remembrance of God during these days, specifically those attending Qadian Jalsa and other Jalsa around the world. Ahmadis all over the world should pray for those Ahmadis who are experiencing persecution, especially in Pakistan, Indonesia, Syria and a few other countries.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
20-Dec-2013   Urdu (mp3)English (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Kyrgyz (mp3)Malayalam (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Self Reformation: Breaking bad habits
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Persian | Latin American Spanish
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Indonesian
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

عملی اصلاح میں روک کا تیسرا سبب ہے فوری یا قریب کے معاملات کو مد نظر رکھنا ، جبکہ عقیدے کے معاملات دور کے معاملات ہیں ، ایسے معاملات ہیں جن کا تعلق زیادہ تر بعد کی زندگی سے ہے جسے عاجل کہتے ہیں ، جیسا کہ حضور نے فرمایا کہ عملی حالت کے معاملات فوری نوعیت کے ہوتے ہیں یا بظاہر انسان سمجھ رہا ہوتا ہے کہ یہ ایسی باتیں ہیں جن کا عقیدے سے کوئی تعلق نہیں ہے، اگر میں وہی غلط کام کرلوں تو اس سے خداتعالیٰ کی وحدانیت کا عقیدہ متاثر نہیں ہوتا مثلا سنار ہے وہ سمجھتا ہے میں سونے میں کھوٹ ملا لوں تو ا س سے میرے ایک خدا کو ماننے کے عقیدے پر کوئی حرف نہیں آتا لیکن میری کمائی زیادہ ہو جائے گی، پس اس نے اپنے قریب کے فائدے کو دیکھ کر ایک ایسا راہ عمل اختیار کرلیا جو اخلاقی گراوٹ ہی نہیں صرف بلکہ چوری بھی ہے اور دھوکہ بھی۔ چوتھا سبب عملی اصلاح کی کمزوری کا سبب یہ ہے کہ عمل کا تعلق عادت سے ہے اور عادت کی وجہ سے کمزوریاں پیدا ہو جاتی ہیں اور خصوصا ایسے وقت میں جب مذہب کے ساتھ حکومت نہ ہو، یعنی حکومت کے قوانین کی وجہ سے بعض عملی اصلاحیں ہو جاتی ہیں لیکن بدقسمتی سے اسلام میں جن باتوں کو اخلاقی گراوٹیں کہا جاتا ہے اور اس کی اصلاح کی طرف اسلام توجہ دلاتا ہے ، اسلامی ممالک میں انصاف کا فقدان ہونے کی وجہ سے ، دو عملی کی وجہ سے باوجود اسلامی حکومت ہونے کے اسلامی ممالک میں بھی عملی حالت قابل فکر ہے اور غیر اسلامی ممالک میں بعض باتیں جن کیلئے اصلاح ضروری ہے ، یہ انہیں بد عملی اور اخلاقی گراوٹ نہیں سمجھتے۔ عملی اصلاح میں روک کا پانچواں ںسبب بیوی بچے بھی ہیں، یہ عملی اصلاح کی راہ میں حائل ہوتے ہیں، بسا اوقات انسان کو بیوی بچوں کی تکالیف عملی طور پر ابتلاء میں ڈال دیتی ہیں، اسلام کی یہ تعلیم ہے کہ کسی کا مال نہیں کھانا ، اب اگر کسی نے کسی کے پاس کوئی رقم بطور امانت رکھوائی ہو لیکن اس کا کوئی گواہ، ثبوت نہ ہو تو جس کے پاس امانت رکھوائی گئی ہو وہ بعض دفعہ اپنے بیوی بچوں کی ضروریات کی وجہ سے اس کی نیت میں کھوٹ آجاتا ہے ، اسے خیال آتا ہے کہ میری بیوی نے کچھ رقم کا مطالبہ مجھ سے کیا تھا اور اس وقت میرے پاس رقم نہیں تھی یا بچے کی بیماری کی وجہ سے علاج کیلئے رقم کی ضرورت ہے۔ چھٹا سبب عملی اصلاح کی روک میں یہ ہے کہ انسان اپنی مستقل نگرانی نہیں رکھتا ، ہر کام کرتے وقت یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ اس کے نتائج نیک ہیں یا نہیں، اس کام کو مجھے کرنے کی اجازت ہے یا نہیں، میں حضرت مسیح موعودؑ کی اس بات پر عمل کر رہا ہوں یانہیں کہ قرآن کریم کے 700 حکموں پر عمل کرو ، کہیں میں ان سے دور تو نہیں جا رہا ، مثلا دیانت سے کام کرنا ایک اہم حکم ہے ۔ ساتواں سبب اعمال میں اصلاح کی روک کا یہ ہے کہ انسانی تعلقات اور رویے جو ہیں وہ حاوی ہو جاتے ہیں اور خشیت اﷲ میں کمی آجاتی ہے، بسا اوقات دوستانہ تعلقات، لالچ، رشتہ داری ، لڑائی ، بغض اور کینے ان اعمال کے اچھے حصوں کو ظاہر نہیں ہونے دیتے ، مثلا امانت کی جو مثال پہلے دی ہی دوبارہ دیتا ہوں کہ امانت کو ا س نقطہ نظر سے نہیں دیکھتا کہ خدا تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہوا ہے۔ آٹھواں سبب عملی اصلاح میں روک کا یہ ہے کہ عمل کی اصلاح اس وقت تک بہت مشکل ہے جب تک خاندان کی اصلاح نہ ہو، مثلا دیانت داری اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتی یا اس کامعیار قائم نہیں رہ سکتا جب تک بیوی بچے بھی پورا تعاون نہیں کرتے ، اگر گھر کا سربراہ کتنا ہی حلال مال کمانے والا ہو لیکن اگر اس کی بیوی کسی ذریعے سے کسی کو نقصان پہنچاتی ہے ، مال غصب کرنے کی کوشش کرتی ہے یا اس کا بیٹا رشوت کا مال گھر میں لاتا ہے تو ا س گھر کی روزی حلال نہیں بن سکتی، خاص طور پر ان گھروں میں جہاں سب گھر والے اکٹھے رہتے ہیں ، جب تک سب گھر والوں کے اعمال میں ایک ہو کر بہتری کی کوشش نہیں ہوگی ، کسی نہ کسی وقت ایک دوسرے کو متاثر کر دیں گے ۔ ہر فرد جماعت کو جائزے کی ضرورت ہے، قربانی کی ضرورت ہے، پختہ عہد کی ضرورت ہے ،ورنہ ہم اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے،جیسا کہ حضور پہلے خطبوں میں فرما چکے ہیں، بیشک ہم نے عقیدے کے میدان میں عظیم الشان فتح حاصل کر لی ہے یہانتک کہ وہی عقائد جن کو جماعت کی طرف سے پیش کیا جاتا تو دشمن کی طرف سے سختی سے انکار کیا جاتا تھا لیکن آج بعض دشمن بھی ان باتوں کے قائل ہو رہے ہیں ، لاشعوری طور پر جماعت احمدیہ کا عقیدہ ان کے منہ بند کر کے ان کو اس بات پر قائل کر رہا ہے۔

The third impediment to reformation of practice is to only keep immediate or short-term matters in view. Matters of faith and creed are long-term and relate to the Hereafter. Man considers that immediate matters have no correlation with faith. For example a jeweller thinks adulterating his gold merchandise will have no bearing on his faith. It will give him quick and larger gain. Keeping immediate matter in view he thus commits something immoral, which is an act of theft and a deception. The fourth impediment to reformation of practice is the correlation between habit and practice. Habit can weaken one’s practices especially if governance is carried out without religious underpinning. Unfortunately the acts that Islam considers as immoral are being practised in the Muslim world in spite of Muslim governments and in the non-Muslim world certain matters which demand reformation are not considered immoral. The fifth cause of impediment to reformation of practice is family: wife and children. Sometimes people are tried because of their family. For example in Islam usurping others’ wealth is forbidden. If money is left as a trust with someone to which there is no witness and no proof, the intention of the person may falter due to the needs of his family. The wife may have demanded something or the son may have asked for money which the father could not provide, or money may be required for treatment of an ailing child. The sixth cause of impediment in reformation of practice is that man does not constantly watch himself. We should weigh out the consequences of everything we do, we should consider whether what we are doing is permissible or not. We should be mindful that the Promised Messiah(as) told us there are 700 commandments in the Holy Qur’an to be abided by. The seventh impediment in reformation of practice is that human relations and customs/conducts gain upper hand and fear and love of God is diminished. Sometimes greed, friendship, relationship, conflict, rancour and malice do not let the good side of deeds be evident. For example, trust was cited as an example earlier and is given again. The eighth impediment in reformation of practice is that it becomes extremely difficult to bring such reformation about unless the whole family is reformed. For example, honesty cannot be complete unless the entire family is honest, especially in cases of extended family living together. Unless there is betterment in the entire family, one of them is bound to influence the others. Each member of the Jama’at needs to self-reflect, make sacrifice and make a firm pledge. It has been stated earlier that we have triumphed as regards faith and creed, for example the concept of Hazrat Isa(as) alive in heaven, creed about Jihad etc. Many great scholars are now giving the same viewpoint as us. No matter what arguments they give in this regard it is influenced by the teaching of Ahmadiyyat.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
13-Dec-2013   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Kyrgyz (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Aspects of Self Reformation
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Persian | Latin American Spanish
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Tamil | Malayalam | Indonesian
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

اگر ہم ایمانداری سے اپنے جائزے لیں تو جیسا کہ حضور پہلے بھی فرما چکے ہیں ، ہماری عملی اصلاح یہ باتیں سن کر جو حضرت مسیح موعودؑ نے بیان فرمائی ہیں کچھ دن کیلئے تو ہوتی ہے اور پھر واپس اپنی اسی ڈگر پر ہم میں سے اکثر چلنا شروع کر دیتے ہیں، جس پر پہلے تھے، پس ہم اس گڈے کی طرح ہیں جس کی مثال میں گزشتہ خطبوں میں بھی دے چکا ہوں ، جس میں جب تک ڈھکنے کا دباؤ پڑا رہے بند رہتا ہے اور ڈھکنا کھلتے ہی سپرنگ اس کا اچھال کر باہر پھینک دیتا ہے ۔ اعمال کی اصلاح کے بارہ میں جو چیزیں روک بنتی ہیں یا اثر انداز ہوتی ہیں ، ان میں سے سب سے پہلی چیز لوگوں کا یہ احساس ہے کہ کوئی گناہ بڑا ہے اور کوئی گناہ چھوٹا ، یعنی لوگوں نے خود ہی یا بعض علماء کی باتوں کے زیر اثر یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ بعض گناہ چھوٹے ہیں اور بعض گناہ بڑے اور یہی بات ہے جو عملی اصلاح میں روک بنتی ہے، اس سے انسان میں دلیری پیدا ہوتی ہے، جرات پیدا ہوتی ہے گناہ کرنے کی، برائیوں اور گناہوں کی اہمیت نہیں رہتی، یہ سمجھ لیتے ہیں کہ چھوٹاگناہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، یا اسکی سزا اتنی نہیں ہے۔ کہیں آپﷺ نے یہ پوچھنے پر کہ بڑی نیکی کیا ہے فرمایا ماں باپ کی خدمت کرنا بہت بڑی نیکی ہے، کسی شخص کو آپ ﷺ بڑی نیکی پوچھنے پر فرماتے ہیں کہ تہجد کی ادائیگی بہت بڑی نیکی ہے ، کسی کے یہ پوچھنے پر کہ بڑی نیکی کیا ہے آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ تماہرے لئے بڑی نیکی یہ ہے کی جہاد میں شامل ہو جاؤ، پس یہ ثابت ہوا کہ بڑی نیکی مختلف حالات اور مختلف لوگوں کیلئے مختلف ہے ۔ غرض کہ ہر نیکی اور گناہ کا معیار ہر شخص کی حالت کے مطابق ہے اور مختلف حالتوں میں مختلف لوگوں کے عمل نیکی اور بدی کی تعریف اس کیلئے بتلا دیتے ہیں ، پس جب تک یہ خیال رہے کہ فلاں نیکی بڑی ہے اور فلاں نیکی چھوٹی ،اس وقت تک انسان نہ بدیوں سے بچ سکتا ہے اور نہ نیکیوں کی توفیق پا سکتا ہے ، ہمیشہ ہمارے سامنے یہ بات رہنی چاہئے کہ بڑی بدیاں وہی ہیں جن کے چھوڑنے پر انسان قادر نہ ہو، بہت مشکل پیش آتی ہو اور وہ انسان کی عادت میں شامل ہو گئی ہوں۔ زکٰوۃ بچانے کا تو ایک وقت میں یہ حال تھا ، اب پتہ نہیں پاکستان میں کیا حال ہے کہ 1974کے بعد جب احمدیوں کو آئین اور قانون کی اغراض کیلئے غیر مسلم قرار دیا گیا تو بعض غیر از جماعت جن کے بینکوں میں اکاؤنٹ تھے ، وہ کیونکہ حکومت سال کے آخر پر زبردستی زکٰوۃ ان اکاؤنٹس سے لیتی ہے ، لیکن احمدیوں کے کیونکہ غیر مسلم قرار دے دیا تھا حکومت کے مطابق یہ واجب نہیں ہے، سو زکٰوۃ سے بچنے کیلئے بعض غیر از جماعت بھی بینک فارموں پر قادیانی یا احمدی لکھ دیا کرتے تھے۔ اگر ہم جائزہ لیں تو مسلمانوں کی جو اکثریت ہے وہ اس معیار کے مطابق بھوکی پیاسی رہتی ہے مگر یہ بھوکا پیاسا رہنا ان کے نزدیک یہ بہت بڑی نیکی ہے اور ان کا بیڑہ پار کرنے کیلئے کافی ہے یا چند مزید نیکیوں کو جو ان کے نزدیک بڑی ہیں اس میں شامل کر لیں گے کہ اسی سے ہماری بخشش کے سامان ہوگئے، ایسے لوگ جو ہیں وہ نہ دنیا میں نیکیاں قائم کرنے والے ہوسکتے ہیں ، نہ ہو وہ صحیح معیار گناہ قائم کرسکتے ہیں ، انہوں نے خود ساختہ بڑی نیکیوں اور چھوٹی نیکیوں اور بڑے گناہوں اور چھوٹے گناہوں کے معیار قائم کر لئےہیں اور نتیجہ میں اپنے تعریف کے مقابل بڑی نیکی کو اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ پس اگر حقیقی عملی اصلاح کرنی ہے ، اپنی نسل کی، اپنی اولاد کی، تاکہ آئندہ عملی اصلاح کا معیار بلند ہو تو ماں باپ کو اپنی حالت کی طرف بھی نظر رکھنی ہوگی اور اپنی دوستیاں بھی ایسے لوگوں سے بنانے کی ضرورت ہوگی جو عملی لحاظ سے ٹھیک ہوں ، بہرحال بچپن میں نقل کی بھی عادت ہوتی ہے اور ماحول کا اثر بھی ذہن میں بیٹھ جانے والا ہوتا ہے ، اگر بچے کو نیک ماحول میں رکھ دیں گے تو نیک کام کرتا چلا جائے گا۔ خالد احمد البراقی صاحب کی شام میں شہادت۔

If we carry out an honest self-analysis, as I have said before, we will realize that when we hear about these matters, we do effect a reformation but it lasts only for a few days and then most of the people again return to the same old ways on which we were progressing before. The situation is like that of the jack in the box that remains in the box so long as the lid covers it but the instant that the lid is lifted it again jumps right out. From among the things that impede our efforts to effect a practical reformation of people’s actions or that have an impact on these efforts, the foremost among them is this feeling among the people that some sins are big and some small. In other words the people have themselves decided this or have done so on the basis of some statements of the religious scholars. In one place when asked what a great and virtuous deed is Prophet Muhammad(saw) said that serving one’s parents is a very great virtue. To another person upon him asking about a big virtuous deed he said that offering tahajjud is a great virtuous deed. Responding to another person about the same question he said that for you the great virtuous deed is to join in jihad. So it becomes clear that for different people and different circumstances the great virtuous deed is different. So suffice it to say that every good or evil deed has to be measured and seen in the context of every person’s own situation and circumstances and in different situations the actions of different people can affect the definition of good and bad deed for that person. So long as this thought remains that such and such an evil deed is big and another is small and that such and such good action is big and another is small, a person cannot safeguard himself from evil nor become blessed with the opportunity to do goodness. To avoid paying the Zakat at one time it was the case - I do not know what is the case nowadays - that after 1974, when Ahmadis were declared non-Muslim for the purposes of the Constitution, some non-Ahmadis, who had money in bank accounts, would write that they were Qadiani Ahmadi on bank papers. All Muslims were forcibly made to pay Zakat at the year end and since Ahmadis had been declared non-Muslims this was not deemed obligatory upon them and this was their way of not having to pay Zakat. If we take a survey we will find that the majority of Muslims simply suffers hunger and thirst according to this level established by the Holy Prophet(saw). But in their estimation remaining hungry and thirsty thus is a very great virtue and is enough to take them safely across to safety. Or they will include the doing of some other of the few deeds that in their way of thinking are the great virtues and they will think that they have thus made enough preparations to receive the pardon from God. So if we want to carry out a real practical reformation of our future generations and our children so that the level of our practical reformation is high, then the parents will have to keep an eye on their own situation and actions also, and will need to have friendships with such people who are alright from their practical actions point of view. So the tendency to copy in childhood and the impact of the environment are also things that leave an impress on a child. If you will place the child in a righteous environment he will keep doing good things. Martyrdom of Khalid Ahmad Albaraqi Sahib of Syria.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
06-Dec-2013   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Kyrgyz (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Introspection and Self-Reformation
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Tamil | Malayalam | Indonesian
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا: اسی طرح جماعت احمدیہ کی صداقت کیلئے بھی ہمارے پاس بہت دلائل ہیں، ایک طرف اسلام کی صداقت ظاہر کر رہے ہیں غیروں پر، دوسری طرف مسلمانوں میں سے جو اعتراض کرتے ہیں جماعت پر، ان کے اعتراض کا رد بھی ہے، مخالفین اگر ضد نہ کریں اور توڑ مروڑ کر اور سیاق و سباق سے ہٹ کر ، حضرت مسیح موعودؑ کے کلام کو اور فرمودہ دلائل کو پیش نہ کریں یا نہ دیکھیں تو احمدیت کی سچائی کو دیکھے بغیر ان کو چارہ نہیں، لیکن ان علماء کے ذاتی مفادات انہیں اس بات پر آمادہ کرتے ہیں کہ وہ جھوٹ کے پلندوں سے عوام الناس کو ورغلاتے رہیں اور جب دلیل کوئی نہیں تو حضرت مسیح موعودؑ کے خلاف دریدہ دہنی کرتے رہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا: لیکن جب ہم اس پہلو کی طرف دیکھتے ہیں کہ جو عملی تبدیلی حضرت مسیح موعودؑ ہم میں پیدا کرنا چاہتے ہیں، اس کی حالت کیا ہے تو پھر فکر پیدا ہوتی ہے، سوال اٹھتا ہے کہ کیا ہم میں سے ہر ایک معاشرے کی ہر برائی کا مقابلہ کر کے اسے شکست دے رہا ہے؟ کیا ہم میں سے ہر ایک کے ہر عمل کو دیکھ کر اس سے تعلق رکھنے والا اور اس کے دائرے اور ماحول میں رہنے والا اس سے متاثر ہو رہا ہے یا پھر ہم ہی معاشرے کے اثر سے متاثر ہو کر اپنی تعلیم اور اپنی روایات کو بھولتے چلے جارہے ہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح کے مشرق بعید کے حالیہ دورے کے دوران حضور کو انڈونیشیا کے کچھ غیر از جماعت سکالرز اور علماء سے بھی ملنے کا موقع ملا جو سنگاپور میں ریسیپشن ہوئی تھی اس میں آئے ہوئے تھے اور جیسا کہ حضور اپنے دورے کے حالات میں بیان کر چکے ہیں کہ اکثر نے اس بات کا اظہار کیا کہ ہمارے علماء کو جماعت احمدیہ کے امام کی باتیں سننی چاہئیں، تو بہرحال ان کے ایک سوال کے جواب میں حضور نے انہیں یہی فرمایا تھا کہ آج روئے زمین پر جماعت احمدیہ ایک واحد جماعت ہے جو ملکی یا علاقائی نہیں بلکہ تمام دنیا میں ایک جماعت کے نام سے جانی جاتی ہے۔ زمانے کی ایجادات اور سہولتوں سے فائدہ اٹھانا منع نہیں ہے، لیکن ایک احمدی کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ اس نے زمانے کی سہولتوں سے فائدہ اٹھا کر تکمیل اشاعت ہدایت میں حضرت مسیح موعودؑ کا مددگار بننا ہے، نہ کہ بے حیائی، بے دینی اور بے اعتقادی کے زیر اثر آکر اپنے آپ کو دشمن کے حوالے کرنا، پس ہر احمدی کیلئے یہ سوچنے اور غور کرنے کا مقام ہے ، ہمارے بڑوں کو بھی اپنے نمونے قائم کرنا ہونگے تاکہ اگلی نسلیں دنیا کے اس فساد اور حملوں سے محفوظ رہیں اور نوجوانوں کو بھی بھرپور کوشش اور اﷲتعالیٰ سے مدد مانگتے ہوئے اپنے آپ کو دشمن کے حملوں سے بچانا ہوگا۔ ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہم حقائق سے کبھی نظریں نہیں پھیر سکتے ، کیونکہ ترقی کرنے والی قومیں، دنیا کی اصلاح کرنے والی قومیں ، دنیا میں انقلاب لانے والی قومیں اپنی کمزوریوں پر بھی نظر رکھتی ہے، اگر آنکھیں بند کر کے ہم کہ دیں کہ سب اچھا ہے تو یہ بات ہمارے کاموں میں روک پیدا کرنے والی ہوگی،ہمیں بہرحال حقائق پر نظر رکھنی چاہئے اور نظر رکھنی ہوگی ، ہم اس بات پر خوش نہیں ہوسکتے کہ 50 فیصد کی اصلاح ہوگئی ہے ، اگر ہم نے دنیا میں انقلاب لانا ہے تو سو فیصد کے ٹارگٹ رکھنے ہونگے، حضور نے فرمایا اگر عملی اصلاح میں ہم سو فیصد کامیاب ہو جائیں تو ہماری لڑائیاں اور جھگڑے اور مقدمے بازیاں اور ایک دوسرے کو مالی نقصان پہنچانے کی کوششیں ، مال کی حوس، ٹی وی اور دوسرے ذرائع پر بیہودہ پروگراموں کو دیکھنا ، ایک دوسرے کے احترام میں کمی ، یہ سب برائیاں ختم ہوجائیں۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: پس یاد رکھو صرف لفاظی اور لسانی کام نہیں آسکتی جب تک کہ عمل نہ ہو محض باتیں عنداﷲ کچھ بھی وقعت نہیں رکھتیں، پھر آپؑ نے فرمایا کہ اپنے ایمانوں کو وزن کرو، عمل ایمان کا زیور ہے، اگر انسان کی عملی حالت درست نہیں ہے تو ایمان بھی نہیں ہے ، مومن ایک خوبصورت انسان ہو تا ہے، جس طرح ایک خوبصورت انسان کو معمولی اور ہلکا سا زیور پہنا دیا جائے تو وہ اسے زیادہ خوبصورت بنا دیتا ہے، اسی طرح ایک ایماندار کو اس کا عمل نہایت خوبصورت بنا دیتا ہے، اگر وہ بد عمل ہے تو پھر کچھ بھی نہیں۔

We also have many arguments to prove the veracity of Ahmadiyyat and have refutations of their objections. If our detractors are not dogmatic and do not take the words of the Promised Messiah(as) out of context and misrepresent them, there is no choice but to agree to the veracity of Ahmadiyyat. However, their vested interests force them to attribute untruths to the Promised Messiah(as) and even resort to his verbal and written abuse. However, when we see the state of affairs as far as the lifestyle changes the Promised Messiah(as) wished to bring about, we have cause for concern. Is each one of us defeating every societal ill by contending with it? Is everyone around us impressed by our morals or are we succumbing to the influence of society and forgetting Islamic teaching and traditions? During his recent tour of the Far East when Huzoor had the chance to meet religious scholars from Indonesia in Singapore, which Huzoor has mentioned before, many people told Huzoor that their ulema (religious leaders) should listen to what the Imam of the Ahmadiyya Jama’at says. In response of a question put to Huzoor there, Huzoor had said that today Jama’at Ahmadiyya is the only jama’at on the face of the earth whose scope is not national or regional. Taking advantage of modern inventions is not prohibited. Ahmadis should utilise these inventions to spread the message of the Promised Messiah(as) and not come under the influence of indecency and faithlessness and assign themselves to the detractors. This is cause for concern for all Ahmadis. The elders should be good role models and the younger ones should make full efforts and seek help from God to be protected from the attacks of the enemy. It should be remembered that we cannot avoid the facts. Progressive communities keep an eye on their weaknesses and we should keep an eye on the facts. We cannot feel happy that 50% or such and such per cent of us are reformed. If we are to bring about a revolutionary change in the world we need to keep 100% reformation as our target. If we reform our lifestyles 100%, all the conflicts, litigations, efforts to harm others financially, greed for property, watching foul material on television and other media, efforts to demean each other, all ills will be removed. The Promised Messiah(as) said: ‘Remember mere verbosity and phraseology cannot avail unless it is followed by practise. Mere words carry no weight.’ He also said: ‘Make your faith weighty. Practise is the ornament of faith. If man’s lifestyle is not right then there is also no faith. A true believer is a beautiful person. Just as a beautiful person’s beauty is enhanced by wearing simple and light jewellery, similarly good practises of a person of faith make him or her most beautiful.There is nothing if the person’s practises are evil.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
29-Nov-2013   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Kyrgyz (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)

Title: Seeking the pleasure of Allah
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Tamil | Malayalam | Indonesian
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: افسوس کی بات ہے، اکثر لوگ جو دنیا میں آتے ہیں ، بالغ ہونے کے بعد بجائے اس کے کہ اپنے فرض کو سمجھیں اور اپنی زندگی کی غرض و غایت کو مدنظر رکھیں، وہ خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر دنیا کی طرف ہو جاتے ہیں اور دنیا کا مال اور اس کی عزتوں کے ایسے دلدادہ ہوتے ہیں کہ خداتعالیٰ کا حصہ بہت ہی تھوڑا ہوتا ہے اور بہت لوگوں کے دل میں تو ہوتا ہی نہیں، وہ دنیا میں ہی منہمک اور فنا ہو جاتے ہیں، انہیں خبر ہی نہیں ہوتی کہ خدا بھی کوئی ہے۔ اسی طرح کئی واقعات مقدمات میں حضرت مسیح موعودؑ کو پیش آتے رہے جس کی وجہ سے وکلاء کے دلوں میں جن کا ان مقدمات سے واسطہ رہا کرتا تھا ، آپؑ کی بہت عزت تھی، چنانچہ ایک مقدمہ میں آپؑ نے شیخ علی احمد صاحب کو وکیل نہیں کیا تو انہوں نے لکھا کہ مجھے افسوس ہے کہ اس مقدمے میں آپؑ نے مجھے وکیل نہیں کیا، اسلئے افسوس نہیں کہ میں کچھ لینا چاہتا تھا، فیس لوں گا، بلکہ اس لئے کہ خدمت کا موقع نہیں مل سکا، سچائی او ر راست بازی ایسی چیز ہے جس سے دشمن بھی اثر قبول کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ محبت کی وجہ سے انبیاء کا وجود مومنوں کوبیشک بہت پیارا ہوتا ہے ، مگر حقیقت کے لحاظ سے انبیاء کی عظمت کی وجہ وہی نور ہے جسے دنیا تک پہنچانے کیلئے خداتعالیٰ انہیں مبعوث کرتا ہے، انہیں خداتعالیٰ کا پیغام ہی جو وہ لاتے ہیں بڑا بناتا ہے ، پس جب نبی کے پیروکار اس وجود کی حفاظت کیلئے اپنی جانیں قربان کر دیتے ہیں تو اس پیغام کی حفاظت کیلئے کیا کچھ کرنے کیلئے تیار نہ ہونگے! ایک اور صحابیؓ کا واقعہ بیان کرتے ہیں ، یہ بھی احد کا موقع ہے، احد کی جنگ میں بعض صحابہؓ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہونے کے بعد پھر اکٹھے ہوئے تو رسول کریم ﷺ نے فرمایا صحابہؓ کو کہ دیکھو کون کون شہید ہوا ہے اور کون کون زخمی ہوا ہے، اس پر بعض صحابہؓ میدان کاجائزہ لینے کیلئے گئے ، ایک صحابیؓ نے دیکھا کہ ایک انصاری صحابیؓ میدان میں زخمی پڑے ہوئے ہیں ، ان کے پاس پہنچے تو پتہ چلا ان کے بازو اور ٹانگیں کٹی ہوئی ہیں اور انکی زندگی کی آخری گھڑی ہے ۔ حضرت مصلح موعود ؓ نے فرمایا: مثال کے طور پر میں آنحضرت ﷺ کی وفات کا واقعہ پیش کرتا ہوں ، آپﷺ کی وفات کی خبر صحابہؓ میں مشہور ہوئی تو ان میں شدت محبت کی وجہ سے گویا غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا حتیٰ کہ بعض صحابہؓ نے یہ خیال کیا کہ یہ خبر ہی غلط ہے کیونکہ ابھی آپﷺ کی وفات کا وقت نہیں آیا، کیونکہ ابھی بعض منافق مسلمانوں میں موجود ہیں۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں: حضرت مسیح موعودؑ نے پنڈت لیکھرام کو سلام کا جواب نہیں دیا کیونکہ اس نے آنحضرت ﷺ کی شان میں زبان درازی کی تھی، لیکن دوسری طرف یہ بھی رحم ہے کہ جب حضرت مسیح موعودؑ کے اپنے بارے میں بات ہوئی تو آپؑ نے اس بات کی اجازت نہ دی جس سے مولوی محمد حسین صاحب کو ذلت کا سامنا کرنا پڑے۔ اچھی طرح یاد رکھو کہ اس نعمت کے دوبارہ آنے میں تیرہ سو سال کا عرصہ لگا ہے جو حضرت مسیح موعودؑ کی صورت میں ہمیں ملی ہے ، اگر ہم نے اس کی قدر نہ کی اور پھر تیرہ سو سال پر یہ جا پڑی تو اس وقت تک آنے والی تمام نسلوں کی لعنتیں ہم پر پڑتی رہیں گی، اس لئے کوشش کرو کہ اپنی تمام نیکیاں اپنی اولادوں کو دو ، پھر وہ آگے دیں اور وہ آگے اپنی اولادوں کو دیں اور یہ امانت اتنے لمبے عرصے تک محفوظ چلی جائے کہ ہزاروں سالوں تک ہمیں اس کا ثواب ملتا چلا جائے۔

The Promised Messiah(as) said: ‘Regrettably, rather than understand their obligation and keep the purpose and objective of their life in view, after attaining adulthood most people in this world abandon God and turn to the world. They are so enamoured by the wealth and reputation of the world that they keep a very small measure for Allah the Exalted. They are only engrossed in the world and succumb to it and have no clue that there is also a God.’ There were many other incidents during court cases in which the lawyers concerned grew to have great respect for the Promised Messiah(as). In one court case the Promised Messiah(as) did not hire Sheikh Hamid Ali Sahib as his lawyer. He wrote that he was sorry that he had not been hired, not because he had any monetary designs but because he had lost an opportunity to serve. Even an enemy cannot escape acknowledging truthfulness and honesty. Without doubt believers hold Prophets of God very dear out of love. However, in reality the greatness of Prophets of God is that spiritual light for which Allah the Exalted commissions them and which they have to spread in the world. Their greatness stems from the message of God that they bring. Therefore, when followers of a Prophet of God sacrifice their lives for his protection, what would they not be ready to do to safeguard his message! In a similar incident of another Companion, also at the time of the battle of Uhad, some Companions gathered after being forced to retreat, the Holy Prophet(saw) asked them to see who had been martyred and who had been wounded. Some Companions went to search the battle ground. A Companion saw an injured Ansari on the ground. Upon getting closer to him he saw that his legs and arms had been cut off and he was breathing his last breaths. In this regard the incident of the passing away of the Holy Prophet(saw) is presented. When the news of his passing spread, due to their intense love for him, it was as if a monumental grief had befallen the Companions. So much so that some Companions thought that the news was incorrect because the time of his passing had not yet come because there were still some hypocrites among the Muslims. Hazrat Musleh Maud(ra) also relates the incident of Lekh Ram when the Promised Messiah(as) did not respond to his Salaam. This was because of Lekh Ram’s extremely abusive language against the Holy Prophet(saw). However, on the other hand is the Promised Messiah’s compassion that for a matter that was about his own person, he did not allow something which would have disgraced Maulwi Muhammad Hussain. Remember very well that this blessing took thirteen hundred years to return and if we do not value it and it ends up in another thirteen hundred years, we will be cursed by all the generation till that time. Therefore try and pass on all your virtues to your children and they pass them further on and on and thus this trust remains safeguarded for such a long period that we are rewarded for thousands of years for this.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
22-Nov-2013   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Kyrgyz (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Faith, Salat and Steadfastness
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Persian | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Tamil | Malayalam
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت مسیح موعودؑ نے اپنی کتب میں، تحریرات میں، ارشادات میں، ہمیں اپنی بعثت کے مقصد کے بارہ میں بتایا ہے ، پس ہم جو حضر ت مسیح موعودؑ کی بیعت میں آنے کا دعویٰ کرتے ہیں، ہمیں چاہئے کہ ان مقاصد کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھیں تاکہ آپ کی جماعت میں شامل ہونے والوں کا حق ادا کرسکیں، ان مقاصدمیں سے چند مقاصد حضرت خلیفۃ المسیح نے آج کے خطبہ میں پیش فرمائے۔ حضرت مسیح موعودؑ نے ہمیں کیا دکھایا اور ہم سے کیا امید کی آپ نے؟ وہ نمونے قائم کئے اور ان نمونوں پر چلنے کی تلقین کی جو آپ کے آقا و متاع حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے عبادتوں کے بھی قائم کئے اور حسن خلق کے بھی قائم کئے اور جن کو قائم کرنے کیلئے صحابہ رضوان اﷲعلیہم نے بھی مجاہدہ کیا اور اﷲتعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے والے کہلائے اور نتیجہ میں اﷲتعالیٰ کے فضلوں کے ایسے وارث ہوئے کہ ایک دنیا کو اپنے پیچھے چلا لیا۔ حضرت مسیح موعودؑ اپنی آمد کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اس وقت اﷲتعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ وہ انسان کو کل ملتوں پر غالب کرے، اس نے مجھے اسی مطلب کیلئے بھیجا ہے اور اسی طرح بھیجا ہے جس طرح پہلے مامور آتے رہے پھر اپنے مشن کے غرض کی وضاحت کرتے ہوئے آپؑ بیان فرماتے ہیں ’ اس نے مجھے بھیجا ہے کہ میں اسلام کو براہین اور روشن دلائل کے ساتھ تمام ملتوں اور مذہبوں پر غالب کر کے دکھلاؤں‘۔ جب ہم اپنے وسائل کو دیکھتے ہیں ، اپنی حالتوں کو دیکھتے ہیں تو سوچتے ہیں ، کیا یہ سب کچھ ہوسکتا ہے؟ ہم کریں بھی تو کیا کریں گے؟ ایک طرف ہمارے وسائل محدود اور دوسری طرف دنیا کی 80 فیصد آبادی کو مذہب سے دلچسپی نہیں ہے، دنیا کے پیچھے بھاگنے کی دوڑ لگی ہوئی ہے، ان ترقی یافتہ ممالک میں دولت ہے، ہر قسم کی ترقی ہے ، دوسرے مادی اسباب ہیں، جنہوں نے یہاں رہنے والوں کو خدا سے دور کر دیا ہے، یہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس وقت نہیں کہ خداتعالیٰ کی تلاش میں وقت ضائع کریں، ابھی کل کی ڈاک میں ایک خط تھا جاپان سے ایک احمدی کا بڑے درد کااظہار تھا۔ صبر کے ساتھ صلوۃ کی بھی ضرورت ہے ، صلوۃ کے ایک معنی نماز کے ہیں، یعنی یہاں یہ نصیحت ہے کہ مومنوں کو نماز کے ذریعے اﷲتعالیٰ کی مدد حاصل کرنی چاہئے اور نماز کا حق ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے، صبر کے اعلیٰ نتائج اس وقت ظاہر ہونگے جب نمازوں کی طرف بھی توجہ پیدا ہوگی، پھر اس کے یہ معنی بھی ہیں کہ اﷲتعالیٰ کی رحمت حاصل کرو، استغفار کرو، صلوۃ میں یہ سب معنی آجاتے ہیں، پھر یہ ظاہری نماز نہیں ہے، بلکہ دعاؤں کی طرف ان کا حق ادا کرتے ہوئے رجوع کرو، ، خداتعالیٰ کی مخلوق پر رحم کرو، ان کے بھی حق ادا کرو تاکہ اﷲتعالیٰ کی مدد حاصل ہو، آنحضرت ﷺ پر درود بھیجو تاکہ اﷲتعالیٰ کی مدد حاصل ہو۔ اس دورے کے دوران بھی نیوزی لینڈ میں ایک جرنلسٹ نے حضرت خلیفۃ المسیح سے سوال کیا کہ تم تھوڑے سے ہو، مسجد کی کیا ضرورت ہے تمہیں یہاں؟ پہلے ایک ہال موجود ہے تو حضرت خلیفۃ المسیح نے اسے یہی فرمایا تھا کہ آج تھوڑے ہیں لیکن اس تعلیم کے ذریعے جو آج قرآن کریم کے ذریعے ہمیں ملی ایک دن انشاء اﷲتعالیٰ کثرت میں بھی ہوجائیں گے اور ایک کیا کئی مسجدوں کی ضرورت ہمیں یہاں پڑے گی ،پس اس کیلئے دنیا میں ہر جگہ کوشش اور اپنی حالتوں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر بشیر الدین اسامہ صاحب کی امریکہ میں وفات۔

The Promised Messiah(as) has always articulated the purpose of his advent in his books, writings and pronouncements. Those of us who claim to have taken Bai’at of the Promised Messiah(as) need to always keep this purpose, in fact these purposes, in our view so that we can be among those who fulfil the dues of being members of his Jama’at. Today Hazrat Khalifatul Masih presented a few of the aforementioned purposes. What was it that the Promised Messiah(as) showed us and what were his expectations? He set those models of worship of God and nobility in practise which was established by his master, the Holy Prophet(saw) and then he advised us to follow those models. These were the models for which the Companions of the Holy Prophet(saw) also endeavoured and attained God’s pleasure and were such great recipients of God’s grace that a world followed them! The Promised Messiah(as) said about the purpose of his coming: ‘Allah the Exalted has willed at this time to make Islam triumph over all nations. He has sent me for this reason and has sent me in the way earlier commissioned ones came.’ Regarding his mission he said: ‘He has sent me so that I demonstrate Islam’s supremacy over other all nations and religions through illuminating arguments and proofs.’ However, when we cast eyes on our resources and our condition it makes us think, is this possible? What are we to do! 80% of the world population is not interested in religion. People living in the developed world have wealth and material means which have turned them away from God. They say they do not have time to look for God. Only yesterday Hazrat Khalifatul Masih received a letter from an Ahmadi in Japan in which the writer had expressed his pain. Along with sabr, Salat (Prayer) is also needed. One meaning of Salat is of course Prayer. A true believer seeks help from God through Salat and great results of sabr are garnered when Salat is observed with due attention. Salat also means seeking God’s mercy, to do Istaghfar (seeking God’s forgiveness). To be drawn to praying and show compassion to mankind so that God’s help is attained, to invoke salutations and blessings (Durud) on the Holy Prophet(saw) to seek God’s help. During Huzoor’s recent trip a journalist in New Zealand asked him about the need to build a mosque there. He said the Jama’at was so small and already had a property! Huzoor answered him that we may be few now but in future we will InshaAllah be many by virtue of the teaching of the Holy Qur’an and let alone one mosque, we will need many mosques. For this effort is needed everywhere in the world as well as mindfulness of one’s condition. Death of Dr Bashir ud Din Usama Sahib in USA.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
15-Nov-2013   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Kyrgyz (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Successful Far East Tour and Blessings of God
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Tamil | Malayalam
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

اﷲتعالیٰ کے فضلوں کو گننا اور اس کی انتہا جاننا ممکن نہیں، کیونکہ جب ہم سمجھتے ہیں کہ ہم فضلوں کی حدوں کو چھونے والے ہیں تو اﷲتعالیٰ فورا ہی ایسے سامان پیدا کر دیتا ہے اور ہماری اس غلط فہمی کو دور کر دیتا ہے، کیونکہ جن باتوں کو تم بے شمار فضل سمجھتے ہو، یہ تو ابھی ابتدا ہے، اب میں تمہیں ایک قدم اور آگے بڑھاتا ہوں، پس اﷲتعالیٰ کے فضلوں کا شمار اور اس کی انتہا جاننا انسانی بس سے باہر ہے، خاص طور پر جب اﷲتعالیٰ کے وعدوں کا سلسلہ ہر موڑ پر کھڑا ہمیں اور خوشخبری سنا رہاہے، جو اﷲتعالیٰ نے حضرت مسیح موعودؑ سے کئے ہیں اور جن کی پیشگوئی آنحضرت ﷺ نے فرمائی تھی۔ ہمارے دورے کی پہلی منزل سنگاپور تھی، سنگاپور ائیر پورٹ پر سنگاپور کے احمدیوں کے علاوہ انڈونیشیا اور ملائیشیا کے بعض عہدیداران، مرد و خواتین بھی آئے ہوئے تھے اور ان سب کی ایک جذباتی کیفیت تھی جس کا کچھ اندازہ آپکو خطبہ کے دوران یا ایم ٹی اے پہ بعض جھلکیاں دیکھ کے ہوگیا ہوگا، بہرحال سنگاپور کا یہ دورہ تقریبا دس دن کا تھا اور اس میں انڈونیشیا ، ملائیشیا ، برونائی، فلپائن، تھائی لینڈ ، کمبوڈیا، ویت نام ، پاپوا نیو گینی ، میانمار سے آنے والے احمدیوں اور وفود سے ملاقات ہوئی۔ اس کے بعد آسٹریلیا کا دورہ شروع ہوا، وہاں سڈنی میں چند دن رہ کر میلبورن حضور تشریف لے گئے، میلبورن وہاں سڈنی سے قریبا 800/900 میل دور ہے، وہاں بھی ایک رسیپشن تھی ، تقریبا ۲۲۰ کے قریب وہاں ہر شعبہ زندگی کے مہمان شامل ہوئے، جس میں ممبر پارلیمنٹ بھی تھے، فوج کے اعلیٰ افسران، آرمی چیف کے نمائندہ میجر جنرل کے عہدہ کے نمائندے بھی شامل ہوئے تھے، مختلف ممالک کے کونسلر تھے، فیڈرل پولیس کے افسران تھے، مقامی کونسلر اور پروفیسر تھے۔ میلبورن میں ایک احمدیہ سنٹر بھی لیا گیا ہے، پہلے کسی خطبہ میں اس کا ذکر نہیں کیا گیا ، یہ نیا سنٹر جو خریدا گیا ہے ، یہ ساڑھے سات ایکڑ رقبے ہر محیط ہے اور یہاں تعمیر شدہ اس کی ایک عمارت تھی، ایک مین ہال ہے جس میں تقریبا 3000 افراد نماز پڑھ سکتے ہیں اور یہ اتفاق سے قبلہ رخ بھی ہے، مشن ہاؤس، گیسٹ ہاؤس، دو رہائشی یونٹ، لائبریری، ریڈنگ روم، کچن، سٹور اور اس کے علاوہ ایک اور چھوٹا ہال ہے، تین پارکنگ ہیں اس کی جس میں ۲۰۰ سے زائد گاڑیاں کھڑی کی جاسکتی ہیں۔ اس کے بعد آسٹریلیا میں برسبین میں مسجد کا افتتاح ہوا ہے جو آپ نے سن بھی لیا ہوگا خطبہ میں،اس کے بعد ایک ریسیپشن تھی جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی کے لوگ آئے، ممبر آف پالیمنٹ تھے، پولیس افسر، ڈاکٹر ، پروفیسر، ٹیچر، انجینیئر، چرچ کے لوگ، پادری، ہمسائے، سب شامل ہوئے، ہمسائے میں ایک شخص جن کا تعلق یہودی مذہب سے تھا انہوں نے مسجد کی شدید مخالفت کی تھی، لیکن اب اﷲتعالیٰ کے فضل سے مسجد بننے کے بعد اور جماعت احمدیہ کا رویہ دیکھنے کے بعد ان کا رویہ بدلا ہوا تھا۔ آسٹریلیا کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح نیوزی لینڈ تشریف لے گئےاور وہاں پہلی مسجد بیت المقیت کا افتتاح کیا، اس افتتاح سے پہلے ماؤری قبیلہ جو ہے وہاں کا بہت پرانا قبیلہ ہے اس کے بادشاہ کی طرف سے استقبالیہ تھا اور وہاں بادشاہ نے جس طرح وہاں سربراہان ممالک کو استقبالیہ دیا جاتا ہے، ا س طرح استقبالیہ دیا اور وہاں جماعت احمدیہ کا لوائے احمدیت بھی انہوں نے خود ہی لہرایا، بادشاہ عموما ایسے فنکشن میں نہیں شامل ہوتا چاہے کوئی بھی ہولیکن وہاں بادشاہ خود بیٹھے تھے، ان کے روایتی تقریب کے بعد ایک بہت بڑے ہال میں چلے گئے، وہاں ان سے باتیں ہوتی رہیں، پھر اس کے بعد قرآن کریم کا ماؤری زبان میں ترجمہ ان کو پیش کیا گیا، بادشاہ نے اسکے بعد پھر مسجد کے افتتاح کی تقریب میں بھی شمولیت اختیار کی۔ نیوزی لینڈ کے بعد جاپان کا دورہ تھا، جاپان میں بھی ایک ریسیپشن تھی نگویا شہر میں، اس میں بھی 117 مہمان شامل ہوئے، جس میں کمیونسٹ پارٹی کے لیڈر، کانگریس مین، میئر تھے نگویا کے، صوبائی پارلیمنٹ کے ممبر تھے، شنتوازم اور بدھ ازم کے نمائندے تھے، مختلف یونیورسٹیوں کے 14 پروفیسر تھے، وکلاء تھے، مختلف تنظیموں سے تعلق رکھنے والے مہمان تھے، کمیونسٹ پارٹی کے لیڈر جو ممبر سٹی پارلیمنٹ ہیں ، متاثرین کیمپ کے انچارج بھی ہیں، ایک ہزار کلومیٹر کا سفر طے کر کے آئے تھے ریسیپشن میں، کہنے لگے کہ 2011 میں زلزلہ اور سونامی کے بعد انسانیت کیلئے جماعت احمدیہ کی خدمات ہمارے لئے ناقابل فراموش ہیں۔ بشیر احمد کیانی صاحب شہید کی شہادت، میاں عبدالسمیع عمر صاحب کی وفات، مزمل الیاس صاحب کی وفات۔

It is impossible to calculate Divine grace or to know its highpoint. When we consider that we are about to touch the height of Divine grace, God immediately removes our misunderstanding. What we had thought to be the height of Divine grace was only the beginning and thus God takes us onwards. This is so in particular when at every step Divine promises made to the Promised Messiah(as) which were foretold by the Holy Prophet(saw) give yet another glad-tiding. The first stop of the tour was Singapore. In addition to the Singapore Jama’at members, office-holder men and women from the Jama’ats of Indonesia and Malaysia also came to the airport to greet Huzoor. Theirs was an amazing emotional welcome which has perhaps been gauged from some highlights shown on MTA. The Singapore tour lasted ten days where Huzoor met Ahmadis from Indonesia, Malaysia, Brunei, Philippines, Thailand, Cambodia, Vietnam, Papua New Guinea and Myanmar. Next was the tour of Australia. Here, after a brief stay at Sydney Huzoor went to Melbourne which is at a distance of about 800/900 miles. A reception was held in Melbourne in which 220 people from all walks of life came including members of parliament, high-ranking military personnel including a major general representing the chief of army staff, officers of the federal police, local councillors and academics. An Ahmadiyya Centre has been acquired in Melbourne which was not mentioned in any sermon. The centre is on a seven and a half acre site and came with the building. The building comprises a hall which has a capacity for 3000 worshippers and by coincidence it is almost Qibla-facing. There is also a mission house, a guest house, two residential units, a library, reading room, kitchen, store and a smaller hall. The centre has three parking areas with a capacity for more than 200 cars. Next was a trip to Brisbane where the mosque Baitul Muqeet was inaugurated which everyone saw in the Friday sermon. A reception was also held here which was attended by people from all walks of life including MPs, police officers, doctors, academics, teachers, engineers, people from the church, priests and neighbours. One neighbour who is Jewish was extremely opposed to us but seeing the stance of the Jama’at, with the grace of God he has changed his outlook. After Australia Hazrat Khalifatul Masih visited New Zealand and inaugurated their first ever mosque. Prior to this the Maori tribe gave a reception in Huzoor’s honour of the stature that is given to heads of state where Lawa e Ahmadiyyat was also raised. Usually the King does not attend these events but he was present this time. Following their traditional rituals Huzoor held talks with him and presented him with Maori translation of the Holy Qur’an. Later, the King came to the inauguration of the mosque. The next country on the tour was Japan. A reception was held in Nagoya, which was attended by 117 guests including leader of the Communist party, congressmen, the mayor, members of the provisional parliament, representatives of Shintoism and Buddhism, academics, lawyers etc. Leader of the Communist Party who is also a member of city parliament and also in-charge of camp for the displaced travelled 1000 kilometres to attend the reception. He said that the services given by Jama’at Ahmadiyya following the earthquake and tsunami in 2011 were unforgettable for them. Martydom of Shaheed Bashir Ahmad Kiyani Sahib, Death of Mian Abdul Sami Umer Sahib and Muzzamil Ilyas Sahib.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
08-Nov-2013   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Kyrgyz (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Be a man of God
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Tamil | Malayalam
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا: اﷲتعالیٰ کے فضل سے تقریبا سات سال کے بعد مجھے جماعت احمدیہ جاپان سے یہاں آکر براہ راست مخاطب ہونے کی توفیق مل رہی ہے، اﷲتعالیٰ کے فضل سے دنیا کی دوسری جماعتوں کی طرح جماعت احمدیہ جاپان بھی ترقی کی طرف بڑھنے والی اور اس طرف قدم مارنے والی جماعتوں میں سے ہے ، اخلاص و وفا اور مالی قربانی میں بڑھنے والی جماعتوں میں سے ہے، لیکن افراد جماعت کو ہمیشہ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ کبھی ان کے دل میں یہ خیال نہ آئے کہ ہم ترقی کی طرف بڑھ رہے ہیں ، ہماری تعداد میں بھی کچھ اضافہ ہوا ہے، ہماری مالی قربانیاں بھی بڑھی ہیں، ہم نے نئی جگہ خرید لی ہے جو یہاں ضروریات کیلئے کئی سال کیلئے کافی ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا کہ جس طرح کی رپورٹ جو مجھے دی گئی ہے ، جس میں اس بات کا اظہار کیا گیا ہے کہ ہمارے ایک جاپانی غیر مسلم دوست نے وکیل نے ، آپکی جو نئی جگہ خریدی گئی ہے ، جس کا نام مسجد بیت الاحد رکھا گیا ہے جو تکمیل کے مراحل میں ہے ، اس کےجو مختلف مواقع پر جو بھی روکیں پیدا ہوتی رہیں ان میں انہوں نے بے لوث مدد کی ، وہ اس وجہ سے کہ جماعت کے حقوق العباد کی ادائیگی کیلئے کی گئی مختلف کوششوں جو زلزلوں اور سونامی کے دوران کی گئیں ، ان کاموں کی ان کی نظر میں بہت اہمیت تھی اور انہوں نے کہا کہ جماعت کے جاپان پر بہت احسانات ہیں جس کی وجہ سے میں یہ کام بلا معاوضہ کروں گا۔ کوئی نئی چیز ان کو اگر ہم دے سکتے ہیں تو خداتعالیٰ سے تعلق جوڑنے کا طریق سکھا سکتے ہیں، ہم یہی ان کو بتا سکتے ہیں کہ اب زندہ مذہب صرف اسلام ہے، ہم یہ ان کو بتا سکتے ہیں کہ خداتعالیٰ کی عبادت کا حق کس طرح ادا ہوتا ہے، ہم یہ انکو بتا سکتے ہیں کہ خداتعالیٰ کس طرح دعاؤں کو سن سکتا ہے، ہم یہ انکو بتا سکتے ہیں کہ خداتعالیٰ اپنے بندوں سے کس طرح کلام کرتا ہے؟ لیکن یہ سب کچھ کرنے کیلئے ہمیں اپنے جائزے لینے ہونگے ، خداتعالیٰ سے اپنے تعلق کو مضبوط کرنا ہوگا، اپنی نمازوں کی حفاظت کرنی ہوگی، اپنی عبادتوں کےحق ادا کرنے ہونگے، آپس میں محبت اور پیار سے رہنا ہوگا، اپنے اخلاق کے وہ اعلیٰ معیار حاصل کرنے ہونگے جو جاپانی قوم کے اخلاق سے بہتر ہوں۔ یہ درد ہے جو ہمیں محسوس کرنے کی ضرورت ہے، یہ الفاظ حضرت مسیح موعودؑ نے ان لوگوں کیلئے کہے جو آپؑ کی صحبت سے فیضیاب ہو رہے تھے، اگر ان کا معیار حضرت مسیح موعودؑ کی خواہش کے مطابق نہیں تھا اور کمیاں تھیں تو ہمارے زمانے میں تو یہ کمیاں کئی گنا بڑہ چکی ہیں اور ان کو دور کرنے کیلئے ہمیں کوشش بھی کئی گنا بڑھ کے کرنے کی ضرورت ہے، تبھی ہم آپؑ کےدرد کو ہلکا کرنے والے بن سکیں گے، حضرت مسیح موعودؑ کو اپنوں کیلئے فکر ہے کہ وہ مقام حاصل کیوں نہیں کرتےجو ایک مومن کیلئے ضروری ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا: جیسا کے میں نے کہا تھا کہ اب نئی مسجد آپ کی بن جائی گی اس سے تبلیغ کے مزید راستے کھلیں گے ، ان راستوں پر ہر احمدی کو نگران بن کر کھڑا ہونا پڑے گا، تاکہ جو ان راستوں پر چلنے کیلئے آئے، جو ان راستوں کی تلاش کرے، وہاں ہر پرانا احمدی جو احمدیت کے بارہ میں علم رکھتا ہے، راہنمائی کیلئے موجود ہو اور یہ کام نہیں ہو سکتا اگر ہر ایک کا خداتعالیٰ سے تعلق قائم نہ ہو، اس احد خدا کی عبادت کا حق نہ ہوجس کے نام پر یہ مسجد بنائی جارہی ہے، پس ہر احمدی کو یاد رکھنا چاہئے کہ یہ صرف عہدیداران کی ذمہ داری نہیں ہے۔ تحریک جدید کےحوالے سےاﷲتعالیٰ کے ان فضلوں کا اظہار جو ہو رہا ہے وہ بھی ہمیں کرنا چاہئے، اس کا ایک اور اظہار کا خیال حضرت خلیفۃ المسیح کو آیا کہ اﷲتعالیٰ کی نعمتوں کی تحدیث بھی ضروری ہے، اتفاق سے تحریک جدید کا نیا سال حضور کے اس دورے کے دوران شروع ہو رہا ہے، اس دورے کے دوران بھی اﷲتعالیٰ کے فضلوں کے بے شمار نظارے دیکھے ہیں جو یقینا ہماری کوششوں کا نتیجہ نہیں تھے ، تحریک جدید کے نئے سال کا اعلان بھی حضور نےجاپان سے کرنے کا سوچا، ان کوائف کے مطابق جو رپورٹس آئی ہیں، بہت سی رپورٹس نہیں بھی آتیں، ان کے مطابق تحریک جدید میں اس سال جماعت کو 7869100 پاؤنڈکی قربانی پیش کرنے کی توفیق ملی، جو گزشتہ سال سے تقریبا 650000 پاؤنڈ کا اضافہ ہے۔

Huzoor said with the grace of God he is enabled to directly address the Japanese Jama’at after approximately seven years. With the grace of God like some other Jama’ats in the world, the Japanese Jama’at is also a progressive Jama’at. It is advancing in sincerity and loyalty and in financial giving. However, its members should always remember never to assume that they are advancing, growing in numbers, are enhancing in financial giving and have now purchased this new place which will be sufficient for their needs for many years to come. Hazrat Khalifatul Masih said he has received reports that our non-Muslim Japanese lawyer friend has given selfless support and help in the various stages of completion as well as through the impediments in acquiring Baitul Ahad mosque. He did so because of the Jama’at’s observance of paying the dues of mankind in rendering help during earthquakes and the [Japanese] tsunami. He felt the help had significance and he said it was a favour of the Jama’at on Japan so he offered his services free of charge. If we can offer them anything new it is connecting them to God and can tell them that now only Islam is the living religion, we can tell them how to honour the dues of worship of God, how God listens to prayers and how He talks to people. For this we need to self-reflect and strengthen our connection with God, and pay the dues of His worship. We will have to live with mutual love and instil higher civility than that of the Japanese. This is the pain which needs to be appreciated. Indeed, these words were said by the Promised Messiah(as) to those who kept his company. If their standard did not quite come up to the mark, these deficiencies have grown manifold in our time and how much more do we have to make effort in this regard! When the Promised Messiah(as) spoke about his distressed condition in terms of outsiders it meant why did they not believe but here his concern for his own is why did they not attain the station which was essential for a real believer. As mentioned earlier, when the mosque is functional new avenues of Tabligh will open up. Each Ahmadi will have to rise and oversee these avenues so that if anyone comes by, an old-term Ahmadi is there to guide. This task cannot be undertaken unless everyone has a connection with God, that Ahad (One) God in Whose names this mosque is being made! Each Ahmadi should be mindful that this responsibility does not only lie with the office-holders. God’s grace is also evident in Tehrik e Jadid and Huzoor wished to mention it by way of relating God’s bounties. By chance this year its new year falls during Huzoor’s overseas tour. Certain experiences during this tour were certainly not borne of our efforts. When the last Tehrik e Jadid year closed Huzoor decided to announce the new years from Japan. According to the reports received thus far, some reports come late, last year the Tehrik e Jadid contributions stood at £7, 869,100.00 which is an increase of £ 650,000 from the year before.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
01-Nov-2013   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Kyrgyz (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Building Mosques and Steadfastness in Worship of Allah
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Tamil | Malayalam
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

آج خداتعالیٰ نے جماعت احمدیہ نیوزی لینڈ کو باقاعدہ اپنی مسجد بنانے کی توفیق عطا فرمائی ہے، اﷲتعالیٰ جماعت کیلئے یہ مسجد ہر لحاظ سے بابر کت فرمائے، نیوزی لینڈ کی جماعت چھوٹی سی جماعت ہے ،کل 400ا فراد چھوٹے بڑے ملا کر ہیں، لیکن مسجد اﷲتعالیٰ کے فضل سے بڑی اچھی اور خوبصورت بنائی ہے اور جماعت کی موجودہ تعداد سے زیادہ گنجائش اس میں ہے، اﷲکرے کہ یہ جلد اپنی گنجائش سے بھی باہر نکلنا شروع ہو جائے، بعض افراد جماعت نے بغیر اس بات کی پرواہ کئے کہ دن ہے یا رات ، بڑی لگن اور جذبہ سے یہاں خدمت کی ہے ۔ آنحضور ﷺ نے فرمایا کہ جس نے اس دنیا میں اﷲتعالیٰ کا گھر بنایا ، اﷲتعالیٰ جنت میں اس کے لئے گھر بنائے گا، پس کون ہے جو اﷲتعالیٰ کی جنت کا حصول نہ چاہتا ہو، اپنے لئے جنت میں گھر نہ چاہتا ہو، یقینا کوئی احمدی بھی کبھی بھی یہ سوچ نہیں سکتا کہ وہ اﷲتعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والا نہ بنے، وہ جنت میں اﷲتعالیٰ کی طرف سے انعام کے طور پر دئیے گئے گھر کی خواہش نہ رکھتا ہو، جماعت احمدیہ کی یہ خوبصورتی دنیا میں ہر جگہ پائی جاتی ہے کہ وہ مالی قربانی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے ہیں۔ ہماری عبادتیں صرف اس وقت نہ ہوں جب ہمیں اﷲتعالیٰ کی مدد کی ضرورت ہے، جب ہم کسی مشکل میں گرفتار ہیں، جب ہماری دنیاوی ضرورتیں پوری نہیں ہو رہیں بلکہ ہماری عبادتیں آسائش اور کشائش میں بھی ہوں، یہ نہ ہو کہ دنیاوی معاملات اور دنیاوی بکھیڑے اور دنیاوی کاروبار ہمیں خداتعالیٰ کی عبادت سے دور کر دیں، یہ مسجد صرف ایک عمارت نہ رہے، اس مسجد کی وسعت اور خوبصورتی صرف یہی نہ یاد دلائے کہ ہم نے اتنا وقت مسجد کی تعمیر کیلئے صرف کردیا، اتنے وقار عمل ہم نے کئے، اتنے پیسے ہم نے بچائے۔ مسجد کا حق کیا ہے؟ سب سے پہلا حق تو یہی ہی کہ تمہاری تجارتیں، تمہارے کاروبار، تمہاری مصروفیات تمہیں اﷲتعالیٰ کے ذکر سے دور کرنے والی نہ ہوں، بلکہ نمازوں اور ذکر کی طرف یہ تجارتیں بھی تمہیں توجہ دلانے والی ہوں، جب حی الی الصلوۃ کی آواز آئے کہ اے لوگو نماز کی طرف آؤ تو کاروبار بھول جاؤ ، سب تجارتیں بھول جاؤ اور مسجد کی طرف دوڑو ، اب یہ بھی اس زمانے میں کوئی کہ سکتا ہے کہ ہمارے تو فاصلے بہت ہیں ، آذان بھی اندر ہوتی ہے، آواز تو نہیں آتی۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا : میں اکثر کہتا رہتا ہوں اور جماعت کی تاریخ بھی ہمیں یہی بتاتی ہے کہ مالی قربانیوں کے لحاظ سے تو جماعت اﷲتعالیٰ کے فضل سے بہت بڑھی ہوئی ہے ، بڑھ رہی ہے اور اس طرف توجہ بھی رہتی ہے لیکن نمازوں کے قیام کی طرف بہت ضرورت ہے ، عبادتوں کے معیار حاصل کرنے کی ابھی بہت ضرورت ہے ، پس ا س طرف بھی توجہ دینی چاہئے ، قیام نماز اسو وقت حقیقی رنگ میں ہوتا جب باجماعت نمازیں اد ا کی جائیں اور مسجد کی تعمیر کی یہی غرض ہےکہ یہاں باجماعت نماز ادا ہو، اﷲتعالیٰ فرماتا ہے کہ حقیقی مومن کو اس دنیا سے زیادہ آخرت کی فکر ہوتی ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: اﷲسے ڈر اور سب کچھ کر، اسلام کہاں ایسی تعلیم دیتا ہے کہ تم کاروبار چھوڑ کر لنگڑے لولوں کی طرح نکمے بیٹھ رہو اور بجائے اس کے کہ اوروں کی خدمت کرو، خود دوسروں پہ بوجھ بنو، یہ نہیں اسلام کہتا کہ کام نہ کرو، سارا دن بیٹھے رہو، ذکر الٰہی بھی ہو لیکن اپنے کام بہرحال کرنے ہیں ، فرمایا نہیں بلکہ سست ہونا گناہ ہے، بھلا ایسا آدمی خدا اور اس کے دین کی کیا خدمت کر سکے گا ، بیوی بچے جو اﷲتعالیٰ نے اس کے ذمہ لگائے ہیں ان کو کہاں سے کھلائے گا ؟ پس یاد رکھر کہ خدا تعالیٰ کا ہر گز یہ منشاء نہیں کہ تم دنیا کو بالکل ترک کر دو۔ یہ اتنی خوبصورت مسجد جو آپ نے بنائی ہے، دنیا میں جو احمدی بیٹھے ہیں ، ایم ٹی اے کے ذریعے سے آج سارے دیکھ بھی رہے ہیں ، احمدیوں کی بھی کچھ خواہش ہوتی، کچھ دلچسپی ہوتی ہے کہ اس کی تفصیل بیان کی جائے تو مختصرا مسجد کے کوائف بھی بتادوں ، یہ تو حضور بتا ہی چکے ہیں اس پہ خرچ کتنا ہوا، 3.1 ملین ڈالر اور مسجد بیت المقیت ہی اس کا نام ہے جو پہلے ہال کا نام تھا اور یہ جگہ بھی اس لحاظ سے اچھی ہے، ریلوے سٹیشن اور شہر کی دو بڑی ہائی وے سے چند منٹ کی دوری پر واقع ہے اور اس کا کل رقبہ تقریبا پونے 2 ایکڑ ہے جو ۱۹۹۹ میں خریدی گئی تھی اور ہال بنائے گئے جو بطور نماز سنٹر استعمال ہوتے تھے، 2006 میں جب حضور نے دورہ کیا اور مسجد کیلئے کہا ، 2012 جولائی میں اس کی باقاعدہ تعمیر شروع ہوئی اور اگست 2013 میں تعمیر مکمل ہوئی۔

Today God has enabled the New Zealand Jama’at to build their mosque. May God bless this mosque for the Jama’at in every way! New Zealand Jama’at is small with just four hundred members, yet they have made a very good mosque with a capacity greater than their numbers. May God make them outgrow its capacity! Members of the Jama’at have worked day and night with great enthusiasm to get the mosque ready. The Holy Prophet(saw) said that one who makes a house of God in this world God will make a house for him in Paradise. Can there be anyone who does not wish for a house in Paradise? No Ahmadi can even think of not attaining God’s pleasure and not wish for the blessing to have a house built in Paradise. It is the beauty of the Jama’at that everywhere in the world, it makes unreserved financial sacrifice. We should not worship God only when we need His help, when we are in trouble, when our worldly needs are not being met. In fact we should also pay heed to worship of God in good times. Worldly trade and commerce should not make us distant from worship of God. This mosque should not be reduced to a mere building. Its length and breadth and beauty should not just remind us of our Waqar e Aml performed for it and how much contribution we made for it. What are the rights of mosque? Firstly that one’s trade and commerce should not make one distant from remembrance of God, in fact the facade of a mosque should draw one to Salat and remembrance of God. When the call of ‘Come to Salat’ during Adhan is made, one should forget one’s trade and commerce and go to mosque. It can be said that these days mosques are at huge distances and the sound of Adhan is also not heard as it is called internally. Hazrat Khalifatul Masih said that he often mentions that the stance of the Jama’at in financial sacrifice is very high. However, there is a great need to pay attention to Salat. Mosque should be populated for true observance of Salat is when it is offered in congregation in a mosque and a mosque is built for this very purpose. God states that a true believer is more concerned about the Hereafter than this world. The Promised Messiah(as) further said: ‘Fear Allah and then do everything. When does Islam give the teaching that one should abandon trade and sit around like an incapacitated person and rather than serve others, become a burden on them. Not at all! In fact it is a sin to be indolent. How can such a person serve God and His faith and provide for his family who has been entrusted to him by God? The beautiful mosque has been seen by Ahmadis all over the world through MTA. They would also be interested in some facts and figures about it. The mosque is called Baitul Muqeet and the location is conveniently close to railway station and motorway. The site of under two acres was purchased in 1999 and halls were built here which were used as Salat centre. During his 2006 trip Hazrat Khalifatul Masih advised extending the building. Construction started in July 2012 and was completed in August 2013.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
25-Oct-2013   Urdu (mp3)English (mp3)Bengali (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Kyrgyz (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Building of Mosques and Our Responsibilities
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Tamil | Malayalam
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

اﷲتعالیٰ نے اپنے فضل سے برسبین کے احمدیوں کو توفیق دی یا آسٹریلیا کے احمدیوں کو بھی توفیق دی کہ یہاں مسجد کی تعمیر کریں اس شہر میں، پس اﷲتعالیٰ کے اس احسان کا جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے، 15 سال پہلے آپ نے یہ جگہ خریدی تھی تقریبا، اس پہ مشن ہاؤس اور ایک ہال بھی بنایا جس میں آپ نمازیں بھی پڑھتے تھے، پھر جب 2006 میں حضور پہلے دفعہ یہاں تشریف لائے تھے تو ان عمارتوں کے ہونے کے باوجود وہ ررونق حضور کو نہیں لگتی تھی جو اب باقاعدہ مسجد بننے سے نظر آتی ہے۔ حضور نے فرمایا: میں اﷲتعالیٰ کے حکموں میں سےچند حکم آپ کے سامنے رکھوں گا تاکہ ہم اور ہماری نسلیں یہ حق ادا کرنے والی بنتی چلی جائیں، یہ جو آیات حضور نے شروع میں تلاوت کی ہیں، یہ سورۃ الاعراف کی آیات ہیں30 اور 32 اور مسجد سے متعلق ہیں، ان میں اﷲتعالیٰ نے ایک مومن سے بعض توقعات رکھیں ہیں ، بلکہ مومنوں کو نصیحت کی ہے کہ مسجد سے منسلک ہونے والے اور حقیقی عبادت گزار ان عبادتوں کا خیال رکھیں گے تو اﷲتعالیٰ کے پیار کی نظر ان پر پڑے گی، پہلی بات یہ کہ اﷲتعالیٰ نے انصاف کا حکم دیا ہے اور انصاف ایک ایسی چیز ہے جو معاشرے کی بنیادی اکائی ہے، جو گھر ہے اس سے شروع ہو کر بین الاقوامی معاملات تک قائم ہونا انتہائی ضروری ہے ۔ مخلوق کے جو حق ہیں مثلا خاوند کو حکم ہے کہ بیوی کے حق ادا کرو ، ان کی ضروریات کا خیال رکھو، ان سے نرمی سے پیش آؤ، ان کے رحمی رشتوں کا خیال رکھو، بیوی کے ماں باپ بہن بھائی اور دوسرے رشتوں کا احترام کرو، بیویوں کے مال پر اور ان کی کمائی پر نظر نہ رکھو، بچوں کے حق ادا کرو، ان کی تعلیم و تربیت کی طرف توجہ دو، اپنے نمونے دکھاؤ کہ وہ دین کی اہمیت کو سمجھیں اور دین سے جڑے رہیں۔ خداتعالیٰ فرماتا ہے کہ مسجد میں اس کی زینت کےساتھ جاؤ جس کا حسن تقویٰ سے نکھرتا ہے اور تقویٰ جیسا کہ حضرت خلیفۃ المسیح نے حضرت مسیح موعودؑ کے حوالے سے بتایا کہ اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب اﷲتعالیٰ کے حقوق اور بندوں کے حقوق ادا کئے جارہے ہوں ، جب اپنی عبادتوں کے معیار اونچے کرنے کی کوشش ہو، جب اپنی نمازوں کی بھی حفاظت ہو، جب مسجد کے تقدس کا بھی خیال ہو، بہت سے لوگ جو دعا کیلئے کہتے ہیں ، یہاں بھی بعض ملاقاتوں کے دوران ملتے ہیں تو کہتے ہیں تو بعض دفعہ ان کے چہروں سے پتہ لگ رہا ہوتا ہے کہ ایک رسمی بات ہے یا کم از کم اخود ان کی دعاؤں کی طرف توجہ نہیں ہے۔ اس مسجد کے بننے سے یہاں رہنے والے احمدیوں کی ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں اور وہ یہ ہیں کہ اس مسجد کو آباد بھی کرنا ہے اب انہوں نے، اس زینت کو لے کر آنا ہے اس مسجد میں جو خدا تعالیٰ کی نظر میں زینت ہے اور ایک دوسرے کے حقوق بھی ادا کرنے ہیں یہ بھی ذمہ داری ہے آپکی اور علاقے میں حقیقی اسلام کا پیغام بھی پہنچانا ہے یہ بھی ذمہ داری ہی آپکی، اگر یہ حق اداکرتے رہیں گے تو یقینا آپکی مسجد کی تعمیر کیلئے کی گئی مالی قربانیاں اور وقت کی قربانیاں امید ہے اﷲتعالیٰ کے ہاں یقینا مقبول ہونگی۔ یہ اﷲتعالیٰ کا احسان ہے کہ جماعت کی اکثریت ان ذمہ داریوں کو سمجھنے والی ہے اور جیسا کہ میں نے مالی قربانی کے ضمن میں بتایا تھا بڑھ چڑھ کر قربانی کرنے والی ہے اور مالی قربانی کی روح کو سمجھنے والی ہے ، صرف اپنی ذات پر ہی خرچ نہیں کرتے لیکن جیسا کہ حضرت خلیفۃ المسیح کئی دفعہ اس فکر کا اظہار کر چکے ہیں کہ مسجدوں کی آبادی کی طرف بھی اسی جذبہ سے مستقل توجہ دینے کی ضرورت ہے ، یہ مسجد جو آپ نے بنائی ہے جیسا کہ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا بڑی خوبصورت ہے ، مسجد کا مسقف حصہ بھی اﷲتعالیٰ کے فضل سے کافی بڑا ہے۔ آج بھی کوئی نہ کوئی مقدمہ پاکستان میں اسی طرح بنتا رہتا ہے اور بڑے مضحکہ خیز مقدمے بنتے ہیں، چند روز قبل ڈاک میں حضرت خلیفۃ المسیح نے دیکھا کہ ایک ایف آئی آر درج کروائی گئی گاؤں میں دو آدمیوں کی طرف سے کہ میں نے دیکھا ایک مینارہ تھا اور ایک گنبد نظر آیا ، میں وہاں گیا قریب تو پتہ لگا یہ مسجد تو قادیانیوں کی ہے ، میرے جذبات مجروح ہو گئے ، پھر میں چار دن اس تلاش میں رہا کہ کون شخص ہے یہ مسجد بنانے والا پھر پتہ لگا آٹھ آدمی یہاں رہتے ہیں جو نماز پڑھتے ہیں۔

With His grace God has enabled the Ahmadis of Brisbane and the Ahmadis of Australia to build a mosque in Brisbane, Australia. We could not thank God enough for this favour. The site was purchased about fifteen years ago and a mission house and a Prayer hall was built. When Hazrat Khalifatul Masih visited Brisbane for the first time in 2006 he felt that in spite of these buildings the site did not have the vigour/liveliness that can now be felt with the building of the mosque. Today’s sermon was based on a few commandments of God to encourage us and our next generations to continue to pay these dues. The verses recited at the start are verses 30 and 32 of Surah Al Ar’af and they are regarding mosques. They cite what is expected of believers as well as they advise them that those who are associated with mosques will attain God’s grace if they become true worshippers of God. First and foremost, justice is enjoined; establishment of justice which starts from the first building block of society, that is, a family, to international level. Paying the dues of mankind can be fulfilling the commandments made to husbands to give the rights of their wives, to look after their needs, to be gentle with them and to be considerate of their familial ties (rehmi rishtay), to respect parents, siblings and other relatives of wives, not to set eyes upon the wealth and earning of wives and to be mindful of the education and training of children. To be role models for one’s children so that they remain connected to faith. God enjoins to go to mosque with the adornment which would enhance the beauty of Taqwa and as the extract of the Promised Messiah(as) explained Taqwa is manifested when rights of God and mankind are paid, when efforts are made to elevate standards of worship of God, when one’s Salat is safeguarded and one is mindful of the sanctity of mosque. Hazrat Khalifatul Masih said many people request prayers but some faces clearly show that they only mean it in a customary way or at least they are not drawn to prayer and Salat themselves. With the building of the mosque in Brisbane the responsibilities have increased because the mosque also needs to be populated with that adornment which is adornment in the sight of God. This is a responsibility of the local Jama’at as is pays each other’s dues and takes the message of Islam Ahmadiyyat to people of the region. If all this comes to pass then God will certainly accept the sacrifices made in building this mosque. It is God’s favour that majority of Ahmadis understand these responsibilities and as mentioned earlier, having understood the spirit of financial giving, make great contributions; they do not simply spend on themselves. However, Hazrat Khalifatul Masih said he has many times expressed his concern for populating mosques. Similar fervour should be shown in populating mosques. The new mosque in Brisbane is very beautiful and with the grace of God its covered area is quite large. In Pakistan every day some mischief or the other is created against Ahmadis. A couple of days ago Hazrat Khalifatul Masih received something in the post that which that two men have registered a FIR (‘first incident report’ of a crime) in a village because they saw a minaret and a dome and then found out that the minaret and dome belonged to a ‘Qadiani’ mosque, so their sentiments were hurt. They looked for four days as to who had the mosque built and then found out that eight people worshipped there.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
18-Oct-2013   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)French (mp3)German (mp3)Kyrgyz (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Prime Attributes of True Servants of Allah
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Tamil | Malayalam
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت مسیح موعودؑ نے عبادی یعنی میرے بندے کی یوں وضاحت فرمائی ہے کہ وہ لوگ جو اﷲتعالیٰ اور رسول پر ایمان لاتے ہیں، وہی عبادی میں شامل ہیں اور عبادی میں شامل ہونے کی وجہ سے خداتعالیٰ کے قریب ہیں اور وہ جو ایمان نہیں لاتے خداتعالیٰ سے دور ہیں، پس سچا عبادی بننے کیلئے اﷲتعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے ہر حکم کو مانیں، اپنے ایمانوں کو مضبوط کریں اور جب یہ کیفیت ہوگی تو ہر قسم کی بھلائیوں کو حاصل کرنے والے بن جائیں گے، دعائیں قبول ہونگی، پس جب اﷲتعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے وہی بات کہا بھی کریں اور کیا بھی کریں جو اﷲتعالیٰ کو اچھی لگتی ہے تو پھر لازما اپنے ایمان کو بڑھانا ہوگا، اﷲتعالیٰ کے حکموں کی تلاش کرنی ہوگی۔ ہم احمدیوں پر تو اس زمانے میں یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے کیونکہ ہم نے زمانے کے امام کو مانا ہے ، یہ عہد کیا ہے کہ ہم اپنے قول اور فعل میں مطابقت رکھیں گے اور اس کیلئے ہر کوشش کریں گے جو اﷲتعالیٰ کے نزدیک احسن ہے، ہمارے قول و فعل میں یک رنگی ہوگی، اﷲتعالیٰ کے بتائے ہوئے احسن باتوں کیلئے ہم قرآن کریم کی طرف رجوع کریں گے، جہاں ہمیں سینکڑوں حکم دیئے گئے ہیں ، احسن اور غیر احسن کا فرق واضح کیا گیا ہے، یہ بتایا گیا ہے یہ کرو گے تو خداتعالیٰ کی قرب کے راہوں کے پانے والے بن جاؤ گے، یہ کرو گے تو خداتعالیٰ کی ناراضگی کے مورد بنو گے۔ جن مجالس میں سچائی کی باتیں نہ ہوں، گھٹیا اور لغو باتیں ہوں، ان سے فورا اٹھ جاؤ، جہاں خداتعالیٰ کی تعلیم کے خلاف باتیں ہوں، ان مجالس میں نہ جاؤ، اب گھٹیا اور لغو باتیں بعض دفعہ لاشعوری طور پر گھروں کی مجلسوں میں یا اپنی مجلسوں میں بھی ہورہی ہوتی ہیں، نظام کے خلاف باتیں ہوتی ہیں، کئی دفعہ حضرت خلیفۃ المسیح فرما چکے ہیں کہ عہدیداروں کے خلاف اگر باتیں ہیں تو حضور تک پہنچائیں اگر اصلاح نہیں ہو رہی۔ شیطان کا حملہ دو طرح کا ہے، ایک تو وہ خداتعالیٰ سے تعلق کو توڑنے اور تڑوانے کیلئے حملے کرتا ہے اور دوسری طرف انسان کا جو انسان سے تعلق ہے اسے تڑوانے کی کوشش کرتا ہے، جبکہ احسن قول اﷲتعالیٰ سے محبت کی طرف بھی لے جاتا ہےاور خداتعالیٰ کی خاطر انسان سے دوسرے انسان کی محبت بھی پیدا کرتا ہے، ہمارا نعرہ جو ہم لگاتے ہیں محبت سب کیلئے نفرت کسی نے نہیں ، ہمارے غیر بھی اس نعرے سے متاثر ہوتے ہیں اور اگر ہماری مجالس میں آئیں تو اس کا ذکر کئے بغیر نہیں رہ سکتے، لیکن ہم آپس میں اس کا اظہار نہ کر رہے ہوں تو یہ نعرہ بے فائدہ ہے۔ غرض کہ اﷲتعالیٰ کے بے انتہا حکم ہیں جو اﷲتعالیٰ کا قرب دلاتے ہیں لیکن یہ دنیا ایسی ہے جہاں ہر قدم پر شیطان سے سامنا ہے ، ہمارے قول و فعل میں تضاد پیدا کر کے ہمیں ان باتوں سے دور لے جانا چاہتا ہے جنہیں کرنے کا ہمیں اﷲتعالیٰ نے حقیقی مومن اور عبد رحمان بننے کےلئے حکم دیا ہے، پس ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ شیطان تو اپنا کام کرتا رہے گا ، اس نے آدم کی پیدائش سے ہی اﷲتعالیٰ سے یہ مہلت مانگی تھی کہ مجھے مہلت دے کہ جس کے متعلق تو کہتا ہے کہ میں اس کو سجدہ کروں ، اسے سیدھے راستے سے بھٹکاؤں، عبد رحمان کم ہونگے اور شیطان کے بندے زیادہ ہونگے، اﷲتعالیٰ نے یہی فرمایا کہ جو بھی تیری پیروی کرے گا اسے میں جہنم میں ڈالوں گا،اس زمانے میں جیسا کہ حضور نے مثالیں بھی دی ہیں بہت سے باتیں ایسی ہیں جو خداتعالیٰ کی ناراضگی کی طرف لے جاتی ہیں۔ آسٹریلیا کی آبادی تقریبا ۲۳ ملین کے قریب ہے لیکن رقبہ کے حساب سے بہت وسیع ہے ، بلکہ براعظم ہے، بہرحال آبای اتنی زیادہ نہیں ہے اور چند شہروں تک محدود ہے، بے شک بعض شہروں کا فاصلہ بھی بہت زیادہ ہے، لیکن جیسا کہ حضور نے جلسہ پر بھی فرمایا تھا کہ لجنہ خدام اور انصار اور جماعتی نظام کو تبلیغ کے کام کی طرف بھرپور توجہ دینی چاہئے، ہماراکام پیغام پہنچانا ہے، نتائج پیدا کرنا اﷲتعالیٰ کا کام ہے۔ صاحبزادی امتہ المتین صاحبہ کی وفات۔

The Promised Messiah(as) has explained the word Ebaadi (My servants) as: ‘Those people who believe in Allah the Exalted and the Holy Prophet(saw).’ These are the people who are Ebaadi and are thus close to God and those who do not believe are distant from God. God states that in order to become His true servant His commandment should be obeyed. This would bring good and prayers would be accepted. When God states that His servants should say what pleases God, it definitely demands enhancement of faith and requires one to bring one’s word and deed in congruity. A great responsibility lies on Ahmadis in this age for we have accepted the Imam of the age and have pledged that we will make our word and deed consistent and will try and do what is ehsan in the sight of God, we will have consistency in our word and deed and we will refer to the Holy Qur’an for ehsan things as it distinguishes between what is ehsan and what is not and tells us what will gain God’s nearness and what will incur His displeasure. It is enjoined to promptly leave gatherings where there is no honesty and where crude and vain talk takes place. Sometimes, in family gatherings or our own gatherings unconsciously things are said which are vain and crude, things are said against the Nizam (administrative system). Hazrat Khalifatul Masih said that he has mentioned it many times that things said against the office holders should be reported to him, if [the required] reformation is not taking place on lower level. Satanic attacks are of two kinds; one is designed to break ties with God and the other to break ties of man with man. On the contrary ehsan speech leads one to love God and also leads one to love mankind for the sake of God. Our motto ‘Love for all, hatred for none’ which impresses outsiders and they always mention in when attending our events, will be of no use if there is no mutual accord among us. In short there are numerous commandments of God which take us closer to Him but we face Satan at every step in the world. He creates inconsistency between word and deed and takes us away from God’s commandments. It should be remembered that Satan is going to carry on doing his work. He had asked for respite at the birth of Adam(as) to incite mankind. He had said that there will be fewer servants of the Gracious God and more satanic people. These days, as cited earlier, many things lead to displeasure of God. Australia’s population is approximately 23 million although its land mass is huge, it is in fact a continent. However, in terms of population it is not so large and the population is limited to a few cities which are also situated at great distances from each other. However, as mentioned at the Jalsa, full attention of Australian Lajna, Khuddam, Ansar and the Jama’at should be focussed on Tabligh. Our task is only to take the message. Results are in the hands of God. Death of Sahibzadi Amatul Mateen Sahiba.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
11-Oct-2013   Urdu (mp3)English (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Kyrgyz (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Strive to Fulfill the Conditions of Baiat
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Tamil | Malayalam
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا: پس ہم جو حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت میں آنے کا دعویٰ کرتے ہیں، ہمیں اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ ہم کس حد تک حضرت مسیح موعودؑ کی بعثت کو پورا کر رہے ہیں ،آپؑ نے اعلان فرمایا کہ میں اپنے ایمانوں کو قوی کرنے آیا ہوں، ان میں مضبوطی پیدا کرنے آیا ہوں، ہمیں اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ کیا ہمارے ایمان مضبوطی کی طرف بڑھ رہے ہیں، فرمایا کہ ایمان مضبوط ہوتا ہے خدا تعالیٰ کے وجود کے ثابت ہونے سے، اﷲتعالیٰ پر کامل یقین سے،آپؑ نے فرمایا وہ یقین جو خداتعالیٰ پر ہونا چاہئے وہ ثانوی حیثیت اختیار کر گیا ہےاور دنیا والے اور دنیا کی چیزیں زیادہ حیثیت اختیار کر گئی ہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ نے ہمارے سامنے دس شرائط بیعت رکھی ہیں کہ اگر تم میری جماعت میں شامل ہونے والے کہلانا چاہتے ہو حقیقی طور پر تو مجھ سے پختہ تعلق رکھنا ہوگا اور یہ اس وقت ہوگا جب ان شرائط بیعت پر پورا اترو گے، ان کی جگالی کرتے رہو تاکہ تمہارے ایمان بھی قوی ہوں اور تمہاری اخلاقی حالتیں بھی ترقی کی طرف قدم بڑھانے والی ہوں، حضرت مسیح موعودؑ نے بڑی شدت اور درد سے نصیحت فرمائی ہے کہ تم جو میری طرف منسوب ہوتے ہو، میری بیعت میں آنے کا اعلان کرتے ہو، اگر احمدی کہلانے کے بعد تم میں کوئی نمایاں تبدیلی پیدا نہیں ہوتی تو تم میں اور غیر میں کوئی فرق نہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ اطاعت کے معیار حاصل کرو ، اطاعت یہ نہیں کہ خلیفہ وقت کے یا نظام جماعت کے فیصلے اپنی مرضی کے ہوئے وہ دلی خوشی سے قبول کر لئے اور جو اپنی مرضی کے نہ ہوئے اس میں کئی قسم کی تاویلیں پیش کرنی شروع کر دیں، اس میں اعتراض کرنے شروع کر دئیے ، آپ ؑ نے فرمایا یہ بیعت کا دعویٰ اگر ہے تو پھر اطاعت بھی کامل ہونی چاہئے، پس یہ بیعت کا دعویٰ ، اعتقاد کا دعویٰ، مریدی کا دعویٰ یا مسلمان ہونے کا دعویٰ تبھی حقیقی دعویٰ ہے جب یہ اعلان ہو کہ آج بیعت کرنے کے بعد میرا سب کچھ نہیں رہا بلکہ سب کچھ خداتعالیٰ کا ہےاور اس کے دین کیلئے ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: بیعت کرنے سے مطلب بیعت کی حقیقت سے آگاہ ہونا ہے، ایک شخص نے روبرو ہاتھ میں ہاتھ دیکر بیعت کی، اصل غرض غایت کو نہ سمجھا یا پرواہ نہ کی تو اس کی بیعت بے فائدہ ہے اور اسکی خدا کے سامنے کچھ حقیقت نہیں ، اور دوسرا شخص ہزاروں کوس بیٹھا بیعت کی غرض غایت کو سمجھ کر صدق دل سے بیعت کرتا ہے اور پھر اس اقرار پر کاربند ہو کر اپنی عملی اصلاح کرتا ہے، وہ اس روبرو بیعت کرنے والے پر بیعت کی حقیقت پر نہ چلنے والےسے ہزار درجے بہتر ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا: پس ہماری بچیوں کیلئے بھی اس میں ایک سبق ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھیں، اﷲتعالیٰ کی رضا کو مقدم رکھیں تو اﷲتعالیٰ فضل فرماتا ہے، یہ ضروری نہیں ہے کہ یہاں کی ہر چیز کو اپنایا جائے، جو اچھائیاں ہیں انکی وہ لیں اور جو برائیاں ہیں ان سے بچنے کی کوشش کریں، سوئمنگ کرنا بچیوں کیلئے منع نہیں ہے، ضرور کریں لیکن لڑکیاں لڑکیوں میں سوئمنگ کریں اور یہ اچھی بات ہے تیراکی تو آنی چاہئے لڑکیوں کو، یہ تو آجکل زور پڑگیا لڑکیوں کو تیراکی سکھانے کا ، ہماری دادی مجھے بتایا کرتی تھی اس وقت سوئمنگ پول تو نہیں ہوا کرتے تھے تو نہروں پہ جاکے سوئمنگ کی جاتی تھی اور بڑی اچھی تیراک تھیں وہ۔ سپین سے ایک نئی احمدی خاتون عائشہ صاحبہ لکھتی ہیں کہ میں اپنے احمدی خاوند کے ساتھ سسرال کے ساتھ رہتی ہوں جو سب غیر احمدی ہیں، وہ آپس میں مجلس میں بیٹھے ہوئے جب چغلی کرتے ہیں تو مجھے بڑا دکھ ہوتا ہے اور میں ان میں بیٹھنا پسند نہیں کرتی، اسی طرح جب سے میں نے بیعت کی ہے، مردوں سے ہاتھ ملانا چھوڑ دیا ہے اور غیر مردوں کی مجلس میں بیٹھنا بھی ترک کر دیا ہے، یہ بات انہیں بری لگتی ہے اور مجھ سے ناروا سلوک کرتے ہیں اور حدیث کا مطالبہ کرتے ہیں جہاں مردوں سے ہاتھ ملانے کی مناہی ہو، ہم دونوں ان حالات میں صبر سے گزارہ کر رہے ہیں،دعا کریں کہ اﷲتعالیٰ ہمیں اپنا الگ مکان عطا فرمائے جہاں آزادی سے امام الزماں کی تعلیمات پر عمل کر سکیں۔

Hazrat Khalifatul Masih said that those of us who claim to be in the Bai’at of the Promised Messiah need to self-analyse as to how much are we fulfilling the objective of his advent. He said that he had come to strengthen faith, therefore we need to analyse if our faith is inclined towards being strengthened. He said faith is strengthened by perfect belief in God, but there is too much reliance on worldly resources. Today reliance on God has become secondary while the importance of worldly people and worldly matters has become foremost. The Promised Messiah(as) stipulated ten conditions of Bai’at. He said that anyone wishing to be part of his Community should keep a strong bond with him and fulfil the ten conditions. Many a time the Promised Messiah(as) advised us stressing the point with great pathos that if those who associate themselves with him do not instil distinct change for the better after becoming Ahmadis, then there is no difference between them and the others. The Promised Messiah(as) said that high standard of obedience should be attained. Obedience does not mean that while one accepts the decisions of the Khalifa of the time and the administration of the Jama’at which suit one but objects to other decisions that do not suit. If one claims to have taken Bai’at then one should demonstrate perfect obedience. The claim of following the person whose Bai’at is taken and of being a Muslim is only real when one also professes that everything one has belongs to God and is for His religion. The Promised Messiah(as) also said: ‘Taking Bai’at signifies being aware of the reality of Bai’at. Someone takes Bai’at in person by placing hand over hand but does not understand its real objective or does not care. His Bai’at is useless and it has no significance in God’s sight. Another person sitting thousands of miles away takes Bai’at with sincerity of heart and after accepting the reality and objectives of Bai’at, he implements what he has declared, and reforms his practices. This person is a thousand times better than the one who took Bai’at directly but did not implement it.’ Hazrat Khalifatul Masih said: ‘Therein is a lesson for our young women/girls that God’s blessings come your way if faith is given precedence over worldly matters. It is not essential to adopt everything of here [the West]. Adopt their good points but avoid their bad points. Girls are not forbidden from swimming, they should definitely swim but not in a mixed situation; girls should only swim with girls. Swimming is good and everyone should know how to swim. Nowadays swimming is all the rage for girls, but my grandmother used to tell me that she was a very good swimmer. A new Ahmadi lady Ayesha Sahiba from Spain wrote to Hazrat Khalifatul Masih that she and her Ahmadi husband lived with their non-Ahmadi in-laws. When they sit together they backbite which pains her a lot. After taking Bai’at she has stopped handshake with men, the in-laws do not like this. She wrote that the husband and wife were living in this situation with patience and asked for prayers that may God grant them a separate home where they could freely practice the teachings of the Imam of the age.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
04-Oct-2013   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Kyrgyz (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Jalsa Salana Australia 2013
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Tamil
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

آج یہ جلسے دنیا کے بڑے خطے میں منعقد ہوتے ہیں، جس میں بڑے ممالک بھی شامل ہیں اور چھوٹے ممالک بھی شامل ہیں ، امیر ملک بھی شامل ہیں اور غریب ملک بھی شامل ہیں، دنیا کا کوئی براعظم ایسا نہیں جس میں یہ جلسہ منعقد نہ ہوتا ہو، یقینا یہ جلسے دنیا کے کونے کونے میں اور ملک ملک میں منعقد ہونے تھے کیونکہ جیسا کہ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا ہے کہ اس جلسے کو معمولی انسانی جلسوں کی طرح خیال نہ کریں ، یہ وہ امر ہے جس کی خالص تائید حق اور اعلائے کلمہ اسلام پر بنیاد ہے، اس سلسلہ کی بنیادی اینٹ خداتعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے رکھی ہے۔ پس اس زمانے میں جب غیر بھی جماعت احمدیہ کی طرف سے پیش کردہ اسلام کی خوبصورتی کا اظہار کرتے ہیں، جو حقیقی اسلام ہے اور قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق ہے، تو کیا ایک احمدی کو بڑھ کر اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہیں ہونا چاہئے؟ ایک احمدی کی ذمہ داری تو ان باتوں سے کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ نفس امارہ نفس کی ایسی حالت کو کہتے ہیں جو بار بار بدی کی طرف لے جاتا ہے، اﷲتعالیٰ کے احکامات کی پیروی کرنے کی بجائے شیطان نے جو دنیا میں بے حیائی پھیلائی ہوئی ہے، اس کی طرف توجہ دلاتا ہے، برائیوں کو خوبصورت کر کے دکھاتا ہے۔ غرورو تکبر غضب سے پیدا ہوتا ہے ، تکبر و نخوت کی وجہ سے غصہ پیدا ہوتا ہے، فرمایا کیونکہ غضب اس وقت ہوگا جب انسان اپنے نفس کو دوسرے پر ترجیح دیتا ہے ، اپنے آپ کو کچھ سمجھنے لگ جاتا ہے انسان، میں نہیں چاہتا کہ میری جماعت والے آپس میں ایک دوسرے کو چھوٹا یا بڑا سمجھیں یا ایک دوسرے پرغرور کریں، یا نظر استخفاف سے دیکھیں ، یعنی ایک دوسرے کو اپنےآپ سے کم سمجھیں ، خدا جانتا ہے کہ بڑا کون ہے اور چھوٹا کون ہے۔ انسان کامل ہمارے نبی ﷺ کو بہت تکالیف دی گئیں اور گالیاں بدزبانی اور شوخی کی گئی مگر اس خلق مجسم ذات نے اس کے مقابلے میں کیا کیا، ان کیلئے دعا کی، اور چونکہ خداتعالیٰ نے وعدہ کرلیا تھا کہ جاہلوں سے اعراض کرے گا تو تیری عزت اور جان کو ہم صحیح اور سلامت رکھیں گےاور یہ بازاری آدمی اس پر حملہ نہ کرسکیں گے، چنانچہ ایسا ہی ہوا، آپﷺ کے مخالف آپﷺ کی عزت پر حرف نہ لاسکے اور خود ہی ذلیل و خوار ہو کر آپﷺ کے قدموں پر گرے یا سامنے تباہ ہوئے۔ جلسہ کے اس ماحول میں ، ان دنوں میں اپنے جائزے لیں، ہر احمدی کو اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ ہم کس حد تک ان نصائح اور توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کر رہے ہیں جو حضرت مسیح موعودؑ نے فرمائی ہیں اور کوشش بھی ہر احمدی کو کرنی چاہئے کہ ہم ان باتوں پر عمل کر کے ہم حضرت مسیح موعودؑ کی اپنی جماعت کیلئے کی گئی دعاؤں کے بھی وارث بنیں ۔ صاحبزادی امتہ الرشید بیگم صاحبہ کی وفات۔

Today these Jalsas [Conventions, Gatherings] take place in a large part of the globe. They take place in small and large countries, and in rich and poor countries. There is no continent of the world where this Jalsa is not held. Most certainly these Jalsas were destined to take place in every corner of the Earth and in every country as the Promised Messiah(as) had told us to not think of this Jalsa as being just another ordinary gathering of people but rather he had said that this was a phenomenon that is based purely on the Divine Help, for propagation of Islam. So, in this day and age, when even the non-Ahmadis declare and affirm the beauties of the Islam presented by the Ahmadiyya Muslim Jama’at, which is the true Islam, which is in accord with the teachings presented by the Holy Quran, should an Ahmadi not become even more cognizant and aware of his or her responsibilities? The responsibilities of an Ahmadi increase manifold because of these things. Nafs-e-ammaara is the state of being in which one is repeatedly taken to evil, the state of being in which instead of obeying and following the dictates and teachings of God Almighty, one’s attention is drawn again and again to the immodesty and shamelessness that Satan has spread in the world. The state in which evil is made to look good and appealing. Vanity, conceit, egotism and self admiration are born out of uncontrollable anger and rage. Arrogance and conceit are produced by anger and rage. This anger and rage come into being when one prefers one’s self over another. One begins to think oneself something. I do not desire that the members of my Jama’at should consider one another smaller or bigger in importance or begin to develop arrogant attitudes between themselves or begin to look down upon each other - meaning begin to think some from among themselves as being lower than others. The Most Perfect Man, our Prophet Muhammad(saw) also was made to suffer some very severe difficulties and torments and he had to hear abuse and taunts and suffer injury but what did this Personification of Highest Morals do in response? He prayed for his persecutors and because Allah, the Exalted, had promised that if he would avoid and ignore the ignorant ones, Allah would insure his honor and safety and security and these street vagabonds would not be able to assail him. During these days of the Jalsa and in this environment of the Jalsa keep analyzing yourselves. Every Ahmadi needs to take stock of himself or herself and make an assessment as to how far we are trying to fulfill these expectations and standards which the Promised Messiah(as) has laid forth. And every ahmadi needs to make an effort that by acting on these directions we become the inheritors of the prayers that the promised Messiah(as) has made for the members of his Jama’’at. Death of Sahibzadi Amatul Rashid Begum Sahiba.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
27-Sep-2013   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)French (mp3)German (mp3)Kyrgyz (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)Uzbek (mp3)

Title: Ahmadiyyat in Singapore, Indonesia and Malayasia
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Tamil | Malayalam | Indonesian
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا: یہ اﷲتعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے ایک دفعہ پھر مجھے اس علاقے کے احمدیوں سے ملنے کی توفیق عطا فرمائی، ملائیشیا اور انڈونیشیا کے حالات جماعتی لحاظ سے ایسے ہیں کہ وہاں حضور کا تشریف لےجانا مشکل ہے ، اس لئے سنگاپور ہی ایسی جگہ ہے جہاں ان جماعتوں کے افراد سے ملاقات کے سامان اﷲتعالیٰ مہیا فرما دیتا ہے ، اﷲتعالیٰ جلد ایسے حالات پیدا فرمائے کہ ان ملکوں میں بھی آسانیاں پیدا ہوں اور جماعت کیلئے بھی آسانیاں ہوں اور وہاں جانا خلیفہ وقت کیلئے سہولت سے ہو۔ حضور نے فرمایا: تقریبا سات سال پہلے میں یہاں پہلی دفعہ آیا تھا ، تو اس وقت بھی کچھ عرصہ قبل انڈونیشیا میں احمدیوں پر ظلم کا ایک سلسلہ شروع ہوا تھا ، مساجد پر حملے ہوئے، توڑ پھوڑ ہوئی، جماعتی املاک کو نقصان پہنچایا گیا، احمدیوں پر حملے ہوئے، جانی اور مالی نقصان ہوا، بہرحال اس کے بعد دشمنی کا یہ سلسلہ تیز سے تیز تر ہوتا چلا گیا، جانی و مالی نقصان ہوتا رہا ااور آپ سب جانتے ہیں کہ کس طرح ظالمانہ اور وحشیانہ طور پر پولیس کی نگرانی میں احمدیوں کو شہید کیا گیا ،ایسا ظلم تھا کہ انصاف پسند لوکل پریس نے بھی اس ظلم کی مذمت کی۔ بہرحال پاکستان میں تو ظلموں کی انتہا ہے، کلمہ پڑھنے والوں پر ظلم کیا جارہا ہے اور کلمہ کے نام پر کیا جا رہا ہے، اور انہی پاکستانی ملاؤں کا اثر انڈونیشیا کےملاؤں پر بھی ہے جو یہ ظلم کرتے رہے ہیں یا کرنے کی طرف لوگوں کو ابھار رہے ہیں، جب بھی موقع ملتا ہے مخالفین نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن یہ بھی اﷲتعالیٰ کا احسان ہے کہ جتنا مخالفت میں دشمن بڑھ رہا ہے احمدیوں میں استقامت بھی اس سے بڑھ کے بڑھ رہی ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا: میں نے ملائیشیا کا بھی ذکر کیا تھا، وہاں پہ بھی مخالفت ہے، وقتا فوقتا وہاں بھی وبال اٹھتا رہتا ہےلیکن انڈونیشیا والے حالات وہاں نہیں ہیں، مسلمان تنظیموں نے جگہ جگہ سنا ہے بورڈ لگائے ہوئے ہیں، جن پر لکھا ہوا ہے قادیانی مسلمان نہیں ہیں یا اس قسم کے الفاظ ہیں، جو یقینا ایک احمدی گزرتے ہوئے دیکھتا ہے تو اس کے جذبات مجروح ہوتے ہیں، جگہ جگہ یہ تحریریں لکھی ہوئی ایک احمدی کی دل آزاری کرتی ہیں۔ آج دنیا کو احمدی ہی بتا سکتے ہیں کہ حقیقی اسلامی تعلیم کیا ہے اور اﷲتعالیٰ کی ذات اور اس کا مقام کیا ہے، قرآن کریم کی تعلیم کی حقیقت کیا ہے، غیر احمدی مسلمانوں نے تو جیسا کہ حضور نے فرمایا غیروں کیلئے استہزاء کا سامان بنا دیا ہے، بہرحال ملائیشیا کے احمدیوں کا کام ہے کہ حکمت سے اسلام کی تعلیم اپنے ہم وطنوں کو بتاتے رہیں، ان کو بتائیں کہ تم کیوں ان نام نہاد علماء کے پیچھے چل کر اسلام کی خوبصورت تعلیم کو بدنا م کر رہے ہو، اﷲتعالیٰ ان کی جہالت کے پردوں کو دور فرمائے۔ پس ہم میں سے ہر ایک کو اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ کس حد تک ہم میں پاک تبدیلیاں ہیں، کس حد تک ہم اپنے بچوں کو جماعت سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، کس حد تک ہم قرآن کریم کی تعلیم پر عمل کر رہے ہیں، ایسا عمل کہ غیر بھی ہمیں دیکھ کر برملا کہیں کہ یہ ہم سے بہتر مسلمان ہیں، کیا ہمارے نمونے ایسے ہیں کہ اسلام کے مخالف ہمیں دیکھ کر اسلام کی طرف مائل ہوں؟ اگر ہم یہ معیار حاصل کر ہے ہیں تو انشاء اﷲتعالیٰ جہاں یہ باتیں ہمیں اﷲتعالیٰ کے قرب کا باعث بنائیں گی وہاں ہمیں تعداد میں بڑھانے کا باعث بھی بنیں گی اور جماعت کے خلاف جو مخالفتیں ہیں وہ ایک دن ہوا میں اڑ جائیں گی۔

Hazrat Khalifatul Masih said: It is with the grace of Allah the Exalted that once again He has enabled me to meet Ahmadis of this region. The situation in Malaysia and Indonesia as regards the Jama’at is such that it is difficult for me to go there. Singapore is one such place where Allah the Exalted facilitates meeting members of these Jama’ats. May Allah the Exalted make the situation such that things ease in these countries and the Khalifa of the time is enabled to go there. I came here for the first time about seven years ago. Persecution of Ahmadis in Indonesia had started a short while prior to [my visit]. Mosques were attacked, there was general rampaging, Jama’at property was damaged and Ahmadis were attacked and they endured loss of life and property. Wave of enmity grew fiercer and fiercer after that and loss of life and property continued. All of you know how cruelly and brutally Ahmadis were martyred in the supervision of police. The barbarity was of such level that fair-minded local media also condemned it. In any case, the persecution in Pakistan is of extreme nature. People who utter the Kalima are being persecuted in the name of the Kalima and it is the influence of the Pakistani Mullahs on the Indonesian Mullahs who have been committing cruelty and who incite people. Whenever they get a chance, our opponents try and harm us. Yet, it is a grace of Allah the Exalted that the worse the enemy gets in opposition, steadfastness of Ahmadis increases to a an even greater extent. I mentioned Malaysia earlier; there is opposition there as well. Time and again there is a furore there but the situation is not like Indonesia. It is understood that Muslim organisations have put up signboards all over the place which say that ‘Qadianis’ are not Muslims or words to that effect. Certainly when passing by Ahmadis see these [boards] and their sentiments are hurt and seeing these words all over the place upsets them. Today only Ahmadis can tell the world about the teaching of true Islam and the Being and station of Allah the Exalted and the teaching of the Holy Qur’an. Non-Ahmadis have reduced Islam to a source of derision for the others. It is for the Ahmadis of Malaysia to wisely tell their countrymen about the teaching of Islam and ask them why are they bringing the beautiful teaching of Islam in disrepute by following the so-called Ulema (religious scholars). May Allah the Exalted remove their veils of ignorance. We all need to self-reflect as to what extent have we inculcated pure changes and up to what extent are we trying to connect our children to the Jama’at and up what extent are we trying to practice the teaching of the Holy Qur’an; our practice [of the Holy Qur’an] should be such that seeing us even the others call out that we are better Muslims than them! Are our models such that opponents of Islam will be inclined to Islam after seeing us? If we are attaining such standards then InshaAllah while they will gain us nearness to Allah the Exalted, they will also increase us in numbers and opposition of the Jama’at will one day be blown away in the wind.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
20-Sep-2013   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)Uzbek (mp3)

Title: Essence of Spiritual Excellence
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Tamil | Malayalam | Indonesian
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت خلیفۃ المسیح نے آنحضرت ﷺ کی ایک طویل نصیحت جو آپﷺ نے حضرت معاذ ؓ کو کی تھی کا ذکر فرمایا، آپﷺ فرماتے ہیں: ’اے معاذ میں تجھے ایک بات بتاتا ہوں اگر تو نے اسے یاد رکھا تو یہ تجھےنفع پہنچائے گی، اور اگر تم اسے بھول گئے تو اﷲتعالیٰ کا فضل تم حاصل نہیں کر سکو گے اور تمہارے پاس نجات حاصل کرنے کیلئےاطمینان کیلئے کوئی دلیل باقی نہیں رہے گی‘، آپﷺ نے فرمایا ’اے معاذ اﷲتعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کرنے سے پہلے سات دربان فرشتوں کو پیدا کیا اور ان فرشتوں میں سے ایک ایک کو ہر آسمان پر بطور دربان کےمقرر کر دیا ہے۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ کچھ اور فرشتے ایک اور بندے کے اعمال لے کر آسمان کی طرف چڑھے ، وہ فرشتے آپس میں باتیں کر رہےتھے کے یہ اعمال بڑے پاکیزہ ہیں اور یہ بندہ انہیں بڑی کثرت سے بجالارہا ہے اور چونکہ ان اعمال میں غیبت کا کوئی شائبہ نہیں تھا اس لئے پہلے آسمان کے دربان اور فرشتے نے انہیں آگے گزرنے دی لیکن جب وہ دوسرے آسمان پر پہنچے تو اس کے دربان فرشتے نے انہیں پکارا ، ٹھئر جاؤ، واپس لوٹو اور ان اعمال کو ان کے بجالانے والے کے منہ پر مارو۔ آپﷺ نے فرمایا کہ ایک چوتھا گروہ ایک اور بندے کے اعمال لے کر آسمان کی طرف بلند ہوا، وہ اعمال ان فرشتوں کو روشن ستارے کی طرح معلوم ہوتے تھے، ان میں نمازیں بھی تھیں، تسبیح بھی تھی، حج بھی تھا ، عمرہ بھی تھا، وہ فرشتے یہ اعمال لے کر آسمان کے بعد آسمان اور دروازے کے بعد دروازے سے گزرتے چوتھے آسمان پر پہنچے تو اس کے دربان فرشتے نے انہیں کہا ٹھئر جاو، تم یہ اعمال ان کے بجالانے والے کے پاس واپس لے جاؤ اور اس کے منہ پر دے مارو۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا فرشتوں کا ایک چھٹا گروہ ایک اور بندے کے اعمالوں کو لے کر آسمانوں کی طرف بلند ہوا اور پہلے پانچ دروازوں میں سے گزرتا ہوا چھٹے آسمان پر پہنچ گیا ، یہ اعمال ایسے تھے جن میں روزہ بھی تھا، نماز بھی تھی، زکوۃ بھی تھی، حج اور عمرہ بھی تھا اور فرشتوں نے سمجھا کے یہ سارے اعمال خداتعالیٰ کے حضور بڑے قبول ہونے والے ہیں لیکن وہ جب چھٹے آسمان پر پہنچے تو وہاں کے دربان فرشتے نے کہا ٹھئر جاؤ، آگے مت جاؤ، یہ شخص خداتعالیٰ کے بندوں میں سے کسی پر رحم نہیں کیا کرتا تھا اور خداتعالیٰ نے مجھے یہاں اس لئے کھڑا کیا ہے کہ جن اعمال میں بے رحمی کی آمیزش ہو ،میں انہیں اس دروازے سے نہ گزرنے دوں۔ حضرت معاذؓ نے رسول کریم ﷺ کی اس نصیحت کو سنا تو آپؓ کا دل کانپ اٹھا ، آپؓ نے عرض کی، یا رسول اﷲﷺ اگر اعمال کا یہ حال ہے تو کیسے نجات حاصل ہوگی ہمیں؟ اور میں اپنے رب کے قہر اور غضب سے کیسے نجات پاؤں گا ؟ آپﷺ نے فرمایا کے تم میری سنت پر عمل کرو اور اس پر یقین رکھو کہ خداتعالیٰ کا یک بندہ خواہ کتنے ہی اچھے عمل کر رہا ہو اس میں ضرور بعض خامیاں رہ جاتی ہیں، اس لئے تم اپنے اعمال پر ناز نہ کرو بلکہ یہ یقین رکھو کہ ہمارا خدا ور ہمارا مولا ایسا ہے کہ وہ ان خامیوں کے باوجود بھی اپنے بندوں کو معاف کر دیا کرتاہے۔ پس یہ وہ اسوہ ہے جو آنحضرت ﷺ نے ہمارے سامنے پیش فرمایا ہے، حقوق العباد کا سوال ہے تو دنیاوی غرضوں سے پاک ہو بلا تخصیص ہر ایک کے آپ کام آرہے ہیں ، ہر ایک کی مالی مدد فرمار ہے ہیں، جو سوالی بھی آیا ہے، سوال کرنے والے کا سوال پورا فرمارہے ہیں، ہر ایک آپﷺ کے رحم سے حصہ لے رہا ہے، ہر ایک آپﷺ کے پیاراور شفقت سے فیض پارہا ہے، پس اس طرح خداتعالیٰ کا خوف رکھتے ہوئے اس کی عبادت کرو جس طرح میں کرتا ہوں، اس کےعبد شکور بنو جس طرح میں شکرگزاری کرتا ہوں تو تم اﷲتعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنے والے ہوگے۔ اعجاز احمد کیانی صاحب کی کراچی میں شہادت، عبدالمنعم صاحب درویش کی وفات، شیخ رحمت اﷲ صاحب کی وفات۔

Hazrat Khalifatul Masih narrated a lengthy Hadith in which the Holy Prophet(saw) counselled Hazrat Mu’adh(ra). He said: ‘O Mu’adh I shall tell you something which will benefit you if you remember it and if you forget it, you will not attain God’s grace and you will have no reasoning as assurance for salvation. Allah the Exalted created seven attendant angels before He created seven heavens and the Earth and placed one angel as attendant of each heaven. The Holy Prophet(saw) said some angels rose to heaven with the actions of another man and they said to each other how pure those actions were and how the person did them abundantly. As those actions did not have even an iota of back-biting, the attendant angel of the first heaven let them through. When they reached the second heaven, the attendant angel there called out to them: ‘Stop here, you are not allowed to go further, return and throw back these actions in the face of the person whose they are. The Holy Prophet(saw) said fourth group of angels rose to heaven with the actions of another man. Those actions seemed like bright stars to the angels. They included Salat, Tasbih (glorification of God), Hajj and Umrah. The angels traversed one heaven after another, one door after another door with those actions and reached the door of the fourth heaven. The attendant angel there said: ‘Stop. Take these actions back to the person whose they are and throw them in his face. The Holy Prophet(saw) said a sixth group of angels rose to heaven with the actions of a man and having passed the first five doors, reached the sixth heaven. These actions included fasting, Salat, Zakat, Hajj and Umrah. The angels thought all these actions would gain acceptance with God. However, the attendant angel at the sixth heaven said: ‘Stop, do not go any further. This person did not have compassion for any servant of God and God has appointed me here so that I do not let the actions which have any element of mercilessness in them go through this door. Hearing this counsel and advice of the Holy Prophet(saw) Hazrat Mu’adh’s heart trembled and he asked: ‘O Prophet of God, if this is how actions are, how salvation can be attained? How can I have salvation from the wrath of my God?’ The Holy Prophet(saw) replied: ‘Follow my Sunnah and have belief that no matter how good the deeds of a servant of God, he has some flaws, therefore do not be gratified by your actions. Such was the blessed model of the Holy Prophet(saw). He used to help everyone without any discrimination. Everyone availed of his compassion, love and affection. He taught us to worship God as he did and be servants of God Who is Most Appreciating and Who is Gracious in line with the model he demonstrated. He taught to pay the dues of mankind as selflessly as he did for that would draw God’s grace and said if one merely relied on one’s own piety and worship, then one would not be a recipient of Divine grace. Martyrdom of Ajaz Ahmad Kiyani Sahib in Karachi and Death of Abdul Momin Sahib Dervish, and of Sheikh Rehmatullah Sahib.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
13-Sep-2013   Urdu (mp3)English (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)Uzbek (mp3)

Title: The Syrian Crisis
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Tamil | Indonesian
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

پس احمدیوں کو جو آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق کے ماننے والے ہیں، جو اپنے آقا و متاع حضرت محمدمصطفیٰ ﷺ کی پیروی میں دنیا کو خداتعالیٰ سے جوڑنے اور امن اور بھائی چارہ قائم کرنے کیلئے آئےتھے، ہم احمدیوں کو دنیا کو تباہی سے بچانے کیلئے بہت زیادہ دعاؤں کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے، ہمارے پاس دعا کے علاوہ کوئی ذریعہ نہیں جس سے ہم دنیا کو تباہی سے بچانے کی کوشش کر سکیں، ہم ظاہری کوشش کے لحاظ سے دنیا کو اور بڑی طاقتوں کو ان خوفناک نتائج سے ہوشیار کر سکتے ہیں، جو ہم کر بھی رہے ہیں، دنیا کے سیاستدان اور حکومتوں کو جہاں تک ہو سکتا ہے حضرت خلیفۃ المسیح بھی ہوشیار کرتے رہتے ہیں اور اس پیغام کو افراد جماعت نے بھی پھیلانے میں حضور کی خاص مدد فرمائی ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ بلا جو غیروں کے ہاتھوں آئی تھی اس سے تو نقصان ہوا لیکن ایک بلا اب بھی آئی ہوئی ہے جو اپنوں کے ہاتھوں آئی ہے اور گزشتہ تقریبا دو ڈھائی سال سے یہ شام اور دمشق میں تباہی پھیلا رہی ہیے، پورے شام کو اس نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، محتاط اندزے کے مطابق لاکھ سے اوپر لوگ مارے جا چکے ہیں، اور ملین لوگ ایسے ہیں جو بے گھر ہوئے ہیں، کوئی بھی محفوظ نہیں، حکومت کے جو فوجی ہیں وہ شہریوں کو مار رہے ہیں اور شہری حکومتی کارندوں کو مار رہے ہیں ۔ عوام کے حق کے حوالے سے مصر میں حکومت کو الٹا دیا ، کہا یہ گیا کہ عوام کے حقوق ادا نہیں ہو رہے اور حکومت اپنے آپ کو بچانے کیلئے بے دردی سے عوام کو قتل کر رہی ہے، یقینا یہ سچ ہے کہ حکومت کا یہ رویہ غلط تھا لیکن مصر میں حکومت گرانے کے بعد جو حکومت آئی وہ شدت پسندوں اور مذہبی جنونیوں کی حکومت تھی ، پھر بڑی طاقتوں کو فکر پیدا ہوئی کہ اب کیا ہوگا ، امریکہ میں ایک بڑے اخبار کے صحافی نے مجھ سے سوال کیا کہ اب مصر میں اس کے بعد امن کے کیا امکانات ہیں۔ مسلمان ممالک کی حکومتوں کو اب بھی غیرت دکھانی چاہئے اور اپنے ذاتی مفادات سے بڑھ کر امت مسلمہ کے مفادات کو دیکھنا چاہئے، لیکن یہ اس وقت ہوگا جب دلوں میں تقویٰ پیدا ہوگا ، حکومت کرنے والوں کے دل میں بھی اور عوام کے دل میں بھی، یہ اس وقت ہوگا جب آنحضرت ﷺ کی محبت کے دعوے کے ساتھ آپﷺ کے اسوہ حسنہ پر عمل کرنے کی کوشش بھی ہوگی، یہ اس وقت ہوگا جب حاکم بھی اور رعایا بھی آپﷺ کے درد کو محسوس کرتے ہوئے آپﷺ کی تعلیم پر عمل کرنے کی کوشش کرے گی۔ آنحضور ﷺ نے عوام کو بھی اپنی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی، آنحضور ﷺ نے فرمایا تم میرے بعد دیکھو گے کہ تمہاری حق تلفی کر کے دوسروں کو ترجیح دی جارہی ہےنیز ایسی باتیں دیکھو گے جن کو تم برا سمجھو گے، اس پر صحابہؓ نے عرض کیا، یا رسول اﷲﷺ ایسے وقت میں آپﷺ کا کیا حکم ہے، آپﷺ نے فرمایا اس وقت کے حاکموں کو ان کا حق ادا کرو اور تم اپنا حق اﷲ سے مانگو۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا: پس اگر خداتعالیٰ کے مواخذہ سے بچنا ہے تو اپنے فرائض ادا کرتے رہو، باقی حکام کا معاملہ اﷲکے ساتھ ہے اور دعاؤں میں لگے رہو، اگر حکم جو ہے حکام کا اگر واضح شرعی حکام سے پابندی ہے تب نہیں ماننا، جیسا پاکستان میں کہا جاتا ہے کلمہ نہیں پڑھنا، نماز نہیں پڑھنی، سلام نہیں کہنا، ہم مسلمان ہیں اور یہ لوگ شریعت کی خلاف ورزی ہم سے کروانا چاہتے ہیں وہ نہیں کرنی، اسکے علاوہ جو ملکی قانون ہیں اس کی پابندی کرنی ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا کہ خدا کرے کہ ان تک کسی طرح ہمارا یہ پیغام پہنچ جائے، اسی طرح مغربی ممالک اور بڑی طاقتوں تک بھی یہ پیغام پہنچ جائے، جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے، حضرت خلیفۃ المسیح پہلے بھی مختلف ذرائع سے یہ پیغام پہنچا چکے ہیں، بعید نہیں کہ شام کے خلاف کاروائی شام سے نکل کر پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے، پس ہر ملک میں رہنے والے احمدی کا اپنے ملک سے وفا کا تقاضا یہ ہے اور خاص طور پر ہر وہ احمدی جو ان مغربی ممالک میں رہ رہا ہے کہ ان سیاستدانوں کو آنے والی تباہی سے ہوشیار کریں۔

Ahmadis accept the true and ardent devotee of the Holy Prophet(saw), and in following their master, who came to connect man with God and to establish brotherhood, they need to pray a lot for the world to be protected from destruction. We have no other means. We can try and alert the world to the horrific consequences, as indeed we are. Hazrat Khalifatul Masih said as much as possible he has been alerting world leaders and politicians in this regard and members of the Community have also joined him in disseminating the message. It is most regrettable that although that calamity was brought about by others, the current calamity that started in Syria two and a half years ago was brought about by Muslims themselves and it is ever-increasing. According to cautious estimate up to 100,000 souls have perished and millions are dispossessed. The entire area has been destroyed by bombs and nowhere is safe. Government was overturned in Egypt for the rights of the masses. It was said that the government was not paying the rights of the public and was also persecuting them. It is correct that the stance of the previous Egyptian regime was wrong; however, after it was overturned the extremists came to power! The big world powers were concerned. A major USA newspaper reporter asked Hazrat Khalifatul Masih [during his recent visit there] about future peace in Egypt. Muslim countries should demonstrate sense of honour even now. However, this will only be when there is Taqwa in hearts of the rulers as well as the masses, when along with claim of love for the Holy Prophet(saw) there will also be efforts to put his blessed model in practice, when rulers and their subjects will feel the pain of the Holy Prophet(saw) and try and follow his teachings. The Holy Prophet(saw) equally enjoined the masses as regards their responsibilities. He said that after him people would see that their rights were usurped and preferences were given to others, in addition people would see things which they would consider bad. He was asked what the instruction for such a time was. He replied that the rights of the rulers should be paid at such times and one’s own rights should be sought from God. Hazrat Khalifatul Masih said if one is to be saved from Divine accountability then one should pay one’s dues and obligations and leave the matter of the ruler with God and stay engaged in prayers. And only disobey a ruler if he clearly contravenes Shariah. Indeed, this instruction is not about the kind of edicts of Kufr that are given out in Pakistan against Ahmadis, who are told not to recite the Kalima, not to offer Salat, not to say salaam. Hazrat Khalifatul Masih said may God make it so that this message of ours reaches Muslim leaders and also reaches Western countries and other big powers. As mentioned earlier, Hazrat Khalifatul Masih has been giving this message through various sources that it is not implausible that action against Syria will engulf the entire world. Borne of the requisite of loyalty to one’s country every Ahmadi living in the every country of the world should alert the politicians of his country to these dangers.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
06-Sep-2013   Urdu (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)Uzbek (mp3)

Title: Review of Jalsa Salana UK 2013
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Tamil | Malayalam
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

یہ احمدی دنیا بھی عجیب دنیا ہے جس کا اخلاص و وفا بالکل نرالی قسم کا ہے اور اس اخلاص و وفا کا غیروں پر بھی اثر ہوتا ہے ،حضور بعض تاثرات بعض مہمانوں کے بیان فرمائیں گے، بعض معززین تو یہاں سٹیج پہ آکر اپنے تاثرات بیان کرتے رہے، اس طرح دنیا پر اﷲتعالیٰ نے جماعت احمدیہ کا رعب قائم کیا ہوا ہے، دنیاوی لحاظ سے بظاہر کمزور سی جماعت ہے لیکن خلافت کی لڑی میں پروئے ہونے کی وجہ سے ، ایک اکائی میں ہونے کی وجہ سے بڑے بڑے لیڈر آتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ ہمیں یہاں آنے پر فخر ہے۔ بورکینا فاسو سے ایک خاتون شامل ہوئیں جو ہائیر آتھارٹی کمیشن فار پرنٹ اینڈ الیکٹرانک میڈیا بورکینا فاسو کی صدر ہیں ، دو دفعہ ملک کی وفاقی وزیر بھی رہ چکی ہیں، یو این او میں اپنے ملک کی نمائندگی بھی کر چکی ہیں، یہ کہتی ہیں کہ اس جلسہ میں شمولیت میرے لئے اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے ، میں یو این او میں بھی اپنے ملک کی نمائندگی کر چکی ہیں جہاں میں نے کئی ملکوں کے نمائندے دیکھے ہیں مگر اس جلسہ میں بھی 80 سے زائد ملکوں کے نمائندے شامل تھے اور سب ایک لڑی میں پروئے ہو ئے موتیوں کی مالا نظر آتے تھے، مجھے کوئی شخص کالا گورا انگلش یا فرنچ نطر نہ آیا بلکہ ہر احمدی مسلمان بغیر رنگ و نسل کے امتیاز اپنے خلیفہ کا عاشق نظر آیا اور جس بات سے میں سب سے زیادہ متاثر ہوئی وہ یہ کہ ہر شخص ایک ارادہ کے ساتھ محض خداتعالیٰ کے لئے اس جلسہ میں شامل ہوا ۔ بیلجیئم سے ایک دوست جلسہ میں شامل ہوئے ، موصوف بیلجیئم میں نائیجر کمیونیٹی کے ممبر ہیں ، اس کمیونٹی کا اپنا سنٹر ہے ،انہوں نے اپنا نمائندہ بھیجا ،کیونکہ انکی کمیونٹی کے لوگ احمدیت قبول کر رہے ہیں اور احمدیت کی طرف آ رہے ہیں، وہ یہاں یہ دیکھنے آئے تھے کہ کس طرح کی جماعت ہے اور کیا وجہ ہے کہ لوگ ہمیں چھوڑ کر ان کے ساتھ شامل ہو رہے ہیں،چنانچہ یہ صاحب یہ ذہن لیکر آئے تھے کہ جماعت کی غلطیاں اور خامیاں تلاش کرنی ہے، موصوف نے جلسہ کی کاروائی سنی، روزانہ رات کو مختلف موضوعات پر گفتگو ہوتی جس سے کافی تسلی ہوتی، حضور سے بھی انکی مختصر ملاقات ہوئی، کہتے ہیں مجھے جلسہ میں کوئی بھی غیر اسلامی بات نظر نہیں آئی اور آپکے خطابات کا مجھ پر بڑا اثر ہوا، میں جلسہ میں شامل ہو کر بہت خوش ہوں اور میں تمام کارکنان سے بہت متاثر ہوں۔ پاناما سے ایک نومبائع جلسہ میں شامل ہوئے ، کہتے ہیں جلسہ سے بہت کچھ سیکھا، اس جلسہ سے میرے ایمان میں اضافہ ہوا، جو بھائی چارہ میں نے یہاں دیکھا ہے وہ اسلام میں کہیں نہیں دیکھا، میں یہاں آکر بہت مطمئن ہوا ہوں اور دل کو تسلی ہوئی ہے ، میں اس بات پر فخر محسوس کرتا ہوں کہ اﷲتعالیٰ نے مجھے احمدیت قبول کرنے کی سعادت عطا فرمائی، جلسہ میں مختلف ممالک کے لوگوں سے ایمان افروز واقعات سن کر میرے ایمان میں اضافہ ہوا اور میں اس بات کاوعدہ کرتاہوں کہ اپنے ملک پاناما میں دعوت الی اﷲ کرکے لوگوں کو احمدی بنانے کی کوشش کروں گا،جلسہ میں بہت بڑی تعداد شامل تھی لیکن لگتا تھا کہ سب کا ایک ہی دل دھڑک رہا ہے، جسم تو 30000 ہیں لیکن دل ایک ہے۔ پس یہ جلسہ اپنوں اور غیروں سب پر روحانی ماحول کا اثر ڈالتا ہے، ایک سعید فطرت کیلئے اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ اسلام کی خوبیوں کا معترف ہو کر اسے قبول کر لے لیکن ہمارے مخالفین کو ، ان لوگوں کو جن کو دوسروں سے پہلے یہ حکم تھا کہ امام مہدیؑ کو جاکر میرا سلام کہنا، برف کے پہاڑوں پر سے گزرنا پڑے تو گزر کر جانا اور میرا سلام کہنا، ان لوگوں کو اس بات کی سمجھ نہیں آئی، اﷲتعالیٰ انہیں بھی عقل دے، پھر غیر مہمانوں پر بچوں ، بوڑھوں ، جوانوں اور عورتوں کی مہمان نوازی کا گہرا اثر ہوا ہے، پس یہ خدمت کا جذبہ جو جماعت احمدیہ کے افراد میں ہے ، یہ بھی ایک خاموش تبلیغ ہے۔ حضرت خلیفۃالمسیح نے کارکنان او ر کارکنات کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس سال گزشتہ سالوں کی نسبت زیادہ بہتر رنگ میں اور خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ڈیوٹیاں اور فرائض سرانجام دیئے، خدام پارکنگ کرواتے تھے، خوش اخلاقی سے حال پوچھتے تھے ، تکلیف کی معذرت کرتے تھے، گرمی کی وجہ سے پانی وغیرہ کا پوچھتے تھے، مہمان کہتے ہیں کہ یہ اخلاق دیکھ کر سفر کی آدھی تھکان اور کوفت دور ہو جاتی تھی، اﷲتعالیٰ ان اعلیٰ اخلاق کو ہمیشہ قائم رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ پاکستان کے احمدیوں کیلئے بھی دعا کریں، کل 7 ستمبر ہے اور ہمارے مخالفین جو ہیں یہ دن بڑے جوش و خروش سے مناتے ہیں ، ان دنوں میں اپنے آپ کو اکٹھا کر کے انہوں نے ایک حدیث تو پوری کر دی لیکن یہ انکا ایک فعل ہے اور جماعت احمدیہ مسلمہ ان فرقوں سے علیحدہ ہوگئی، خود انہوں نے علیحدہ کردی، تو یہ دن بڑے جوش و خروش سے منایا جاتاہے، جلسے ہوتے ہیں، گالیاں دی جاتی ہیں جماعت کو، حضرت مسیح موعودؑ کے خلاف انتہائی بیہودہ دیدہ درہنی کا مظاہرہ کیا جاتا ہےاور یہ سب کچھ ختم نبوت کے نام پر ہوتا ہے اور اس دفعہ ان کا یہ ارادہ ہے کہ پورا ہفتہ عشرہ اپنے مذموم مقاصد کو حاصل کرنے کیلئے منائیں گے،جو لوگ خداتعالیٰ کے حبیب، محسن انسانیت اور رحمت العالمین کو پنے غلط مقاصد کے حصول کیلئے بدنام کر رہے ہیں، خداتعالیٰ جلد ان کی پکڑ کے بھی سامان پیدا فرمائے۔۔ آدم بن یوسف صاحب کی وفات، ڈاکٹر سید طاہر احمد صاحب اور ملک اعجاز احمد صاحب کی کراچی میں شہادت۔

The Ahmadi world, its sincerity and loyalty is amazing and this is something the outsiders also feel. Some guests gave their impressions of Jalsa on stage which were heard by everyone that how God has established our kudos. Although we are a community weak in worldly terms, but because we are stringed in the cord of Khilafat and are thus united, influential leaders say that they are proud to attend our Jalsa. A lady from Burkina Faso, who is the president of the higher authority commission for print and electronic media in her country and had held other high offices in the past said that this was her first Jalsa Salana. She said that she has represented her country at the UN in the past but here at Jalsa 80 countries were represented and she felt they all appeared as one with no discrimination of colour or race. Rather each Ahmadi, irrespective of his background, appeared to be a lover of their Khalifa and each person appeared committed to God. Another guest from Belgium who is a member of Niger community came to see why so many people from Niger are coming into the fold of Ahmadiyyat. He had come with a critical outlook. He saw the Jalsa proceedings and also spoke with Ahmadis in the evening and also briefly spoke to Huzoor. He later said he saw nothing un-Islamic in the entire Jalsa and was very impressed by the sincerity and love of all Jalsa workers. A new Ahmadi from Panama came to Jalsa and said he had learnt a lot from it. He said the sense of brotherhood he saw at Jalsa cannot be seen anywhere else in the Muslim world. Speaking to people from various countries during Jalsa enhanced his faith. He said he promised that he would do Tabligh once back in Panama. He felt that although there were 30,000 odd bodies at Jalsa, their hearts beat as one. The spiritual ambience of Jalsa Salana affects Ahmadis and outsiders and there is no option for the pure-natured to accept Islam after seeing its beauty. It is unfortunate that our opponents have never quite understood the Hadith which relates to take greetings (salaam) to the Messiah and Mahdi even if one has to crawl over glaciers to do so. Most often the hospitality of children, elderly and the young has a very good effect on guests. This fervour to serve the guests is silent Tabligh. Hazrat Khalifatul Masih thanked all the men and women Jalsa workers and said that this year they served in an excellent and courteous manner. Car parking department worked in a very good way, most courteously and cheerfully. They offered drinking water due to hot weather. Guests commented that such courtesy made them forget all the tiredness of the journey they had made. May God always make them serve with such civility! Prayers should be made for Pakistani Ahmadis. Tomorrow is 7 September and our opponents commemorate the day by taking out rallies etc. where abusive language is used for the Jama’at and the Promised Messiah(as). This year they plan to extend their events over a week, under the banner of Khatm e Nabauwat [Finality of Prohethood]. May God swiftly chastise those who are using God’s beloved, ‘mercy for all the worlds’ for their wrongful objectives. Death of Adam Bin Yusuf Sahib and Martyrdom of Dr Syed Tahir Ahmad Sahib and Malik Ajaz Ahmad Sahib in Karachi, Pakistan.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
30-Aug-2013   Urdu (mp3)Albanian (mp3)Indonesian (mp3)

Title: Jalsa Salana UK 2013
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Tamil | Malayalam
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا :آج مختصرا میں مہمانوں کو شاملین جلسہ کو توجہ دلانا چاہتا ہوں تاکہ جلسہ کے ماحول کے تقدس کا انہیں بھی خیال رہے، انہیں بھی پتہ ہو کہ یہاں شامل ہو کر انکی ذمہ داریاں کیا ہیں اور اسی طرح انتظامیہ سے تعاون کی طرف بھی ان کی توجہ رہے۔ مہمانوں کی بھی جو ذمہ داریاں ہیں انہیں بھی ادا کرنا ہے، سب سے بڑی ذمہ داری تو اﷲتعالیٰ کی شکر گزاری ہے جو اس بات پر کرنی ہے کہ اس نے ہمارے لئے، جلسہ میں شامل ہونے والوں کیلئے اس جگہ اور اس حالات میں جہاں عام حالات میں کوئی سہولت بھی نہیں ہوتی، سہولت مہیا فرمائی، اس کا انتظام فرمایا اور پھر اﷲتعالیٰ کے شکر کے بعد ان تمام کارکنان کے شکر گزار ہوں اور ان کیلئے دعائیں کریں جو دن رات کام کر کے آ پکی سہولت مہیا کرنے کیلئے محنت کرتے رہے اور اپنی انتھک محنت اور کوشش سے آپ لوگوں کیلئے یہاں آ رام پہنچانے کے سامان کئے۔ جلسہ کے اس ماحول میں جو نیکیاں پھیلانے کا ماحول ہے، اپنی حالتوں کو بدلنے کا ماحول ہے، اس میں اگر اپنے دلوں کو بغض اور کینہ سے بھر کر رکھنا ہے تو یہاں آ نے کا مقصد فوت ہو جاتا ہے، یہاں آ نے کا مقصد تو نیکیاں کرنا ہے، یہاں آنے والے کو اس مقصد کو اپنے سامنے رکھنا چاہئے جس کی حضرت مسیح موعودؑ نے ہم سے خواہش کی ہے، ہمیشہ حضرت مسیح موعودؑ کی دعاؤں کا وارث بننے کے مقصد کو اپنے سامنے رکھیں، ربانی باتوں کا سننا صرف اور صرف اپنا مقصد رکھیں۔ جس طرح حوصلہ سے کارکنان آپ کی راہنمائی کر رہے ہیں، اسی طرح حوصلہ سے آنے والے مہمانوں کو بھی تعاون کرنا چاہئے، ایک شخص کی بے حوصلگی ہی ہو اگر تو اس کی وجہ سے بھی لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں، ایک کار والا بھی اگر مسئلہ پیدا کردے تو پیچھے لمبی لائن لگ جاتی ہے، اس لئے ہر ایک کو احساس ہونا چاہئے کہ کسی کے لئے مشکل کا باعث نہ بنیں ۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا : گزشتہ خطبہ میں میں نے ذکر کیا تھا کہ اب اﷲتعالیٰ کے فضل سے حضرت مسیح موعودؑ کا لنگر جلسہ کے انتظام کیلئے یہاں مستقل حدیقۃ المہدی میں بھی قائم ہو گیا ہے، روٹی پلانٹ بھی لگادیا گیا ہے، ابھی تک تو روٹی اﷲتعالیٰ کے فضل سے اچھی پک رہی ہے، بعض دفعہ عارضی طور پر کچھ کوالٹی میں اونچ نیچ ہو بھی جاتی ہے، اس لئے اگر ایسی کوئی صورتحال ہو تو پہلی تو یہ بات ہے کہ برداشت کرنا چاہئے اور اگر نہ کھاسکیں تو بدلا کر کھاسکتے ہیں اور انتظامیہ کو اس پر اعتراض نہیں کرنا چاہئے۔ ایک اہم بات مہمانوں کیلئے کم و بیش ہر سال کہی جاتی ہے لیکن اب ایسے مسائل حالات کی وجہ سے سامنے آنے لگ گئے ہیں، اس لئے میں خاص طور پر یہ کہناچاہتا ہوں کہ برطانوی حکومت جلسہ کیلئے جو ویزے دیتی ہے، عموما چھ مہینے کیلئے یہ ویزہ لگتا ہے اور اس پر ملٹپل انٹری لگادی جاتی ہے اور جلسہ کا ویزہ اس شرط کے ساتھ دیا جاتا ہے کہ اس ویزہ کو سیاسی پناہ کیلئے استعمال نہیں کرنا، یا جماعتی طور پر جب ہم اپنے نمائندوں کیلئے ویزہ لیتے ہیں تو ہمارے سے یہی فہم و ادراک ہوتا ہے کہ یہ لوگ دوسری مرتبہ ویزہ کو استعمال نہیں کریں گے ، سیاسی پناہ کیلئے استعمال نہیں کریں گے۔ بےشک پاکستان کے حالات ایسے ہیں کہ احمدی انتہائی مشکل کی زندگی وہاں گزار رہے ہیں، ملازمتوں میں تنگ کیا جاتا ہے، مالکان باوجود اس کےکہ احمدی ملازم کے کام پر انہیں تسلی بھی ہو، دوسرے ملازموں اور ملا کے خوف سے انہیں ملازمتوں سے فارغ کر دیا جاتا ہے، یا مستقل ٹارچر پھر انہیں دیا جاتا ہے، ذہنی اذیت انہیں دی جاتی ہے،جو ساتھ کام کرنے والے ساتھی دیتے رہتے ہیں، حضرت مسیح موعودؑ کی ذات کے متعلق نازیبا الفاظ استعمال کرتے رہتے ہیں۔

Today, briefly, I will draw the attention of the guests, the participants of this Jalsa [Annual Convention] to their responsibilities so that they may also have due regard for the sanctity of the environment that this Jalsa is meant to take place in, so that they may also know what are the obligations of the people who take part in the Jalsa. And similarly draw their attention to the need for them to cooperate with the organizers. The responsibilities that pertain to the guests have to be fulfilled. The greatest of these is to render thanks to God Almighty that He made all these facilities and arrangements in a place where no such facilities normally exist. And then after this thanks and gratitude and prayers are due for all those workers who toiled day and night to make these arrangements and facilities for you. And with their tireless efforts they put in place all these arrangements to make things easy for you and make your stay here comfortable. The atmosphere of this Jalsa is one of spreading virtue and one of reforming ourselves - in this holy environment if we are going to keep our hearts filled with malice and rancour then the purpose of coming here is lost and loses its meaning totally. The purpose of coming here is so one can do virtuous things. Those who come here must keep in front of them the purpose that the Promised Messiah(as) has desired for us to have for coming to such a Jalsa. Always keep in view the objective of being the beneficiaries of the prayers of the Promised Messiah(as). So just as the workers are trying to serve you in a calm and cool manner and with confidence, so too the guests should extend their full co-operation with the same calmness, coolness and confidence. Even if we are faced with one person losing his cool huge, long queues result as a consequence. Even if one car owner creates a fuss a long line forms behind him so everyone should realize that they should not become the source of difficulties for anyone. In my previous Khutba I had mentioned that now, by the Grace of Allah, a permanent Langar of the Promised Messiah(as) has been set up here n Hadeeqatul Mahdi for the purpose of serving the Jalsa needs. A roti [bread] plant has already been set up and till now, by the Grace of Allah, the Exalted, good roti is being made. It is true that sometime the quality of the roti is a little less than what it ought to be ideally. So the first thing in this regard that needs to be said is that we should bear this with patience. Another common thing that is said to all guests every year almost, but now certain specific things have started to happen and come to the fore, so I want to say this especially this year, that the visas that the British Government grants for the Jalsa are usually given for six months and they have double or multiple entry stamped on them. And the Jalsa visa is given with this in mind or with this condition, that this visa shall not be used for asylum purposes. There is no doubt that the circumstances of Pakistan are such that Ahmadis are living their lives under great difficulties. They are mistreated at their places of work. The owners, despite being satisfied with the work of an Ahmadi employee, fire them sometimes simply due to the fear of other workers or of the local mullahs. And if they are not fired they are tortured on an ongoing basis and they are made to suffer a variety of abuses by their co-workers.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
23-Aug-2013   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bosnian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)Uzbek (mp3)

Title: Jalsa Salana UK 2013 and Hospitality
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Tamil | Malayalam
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

پاکستان میں جلسے ہوتے تھے تو وہاں بھی لنگر خانوں کا ایک مستقل انتطام تھا ، کئی لنگر تھے، اسی طرح رہائش گاہیں بھی کافی حد تک مستقل ہو گئیں تھیں، اس سے پہلے بھی جب سکول اور کالج جماعت کے تھے تو رہائش گاہ ہوتی تھی لیکن جب حکومت نے لے لئے تو پھر دوسری رہائش گاہیں بن گئیں ، گو بہت زیادہ تعداد ہونے کی وجہ سے عارضی رہائش گاہیں بھی خیمے لگا کر بنائی جاتی تھیں، اس کے علاوہ ربوہ کے مکین مہمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو اپنے گھروں میں سمو لیتے تھے، ان کا کھانا لنگر خانوں سے آتا تھا جس جگہ پہ ہوتے تھے وہ۔ بچے جوان بوڑھے مرد عورتیں، سب جلسے کے دنوں میں خدمت کے جذبہ سے سرشار ہوتے ہیں،اور اپنے ذمہ جو انکے فرائض ہیں انکی بجا آوری میں بڑے کوشاں ہوتے ہیں اور ہونا چاہئے، کیونکہ جلسہ کے مہمان تو حضرت مسیح موعودؑ کے مہمان ہیں، گویا یہ مہمان نوازی اعلیٰ خلق بھی ہے اور دین بھی ہے ، حضور نے فرمایا یہاں یہ بھی بتادوں کہ حضرت مسیح موعودؑ کی مہمان نوازی کا معیار کیا تھا تاکہ ہمارے معیار مزید بہتر اور اونچے ہوں۔ بہت سے مہمان ایسے بھی ہیں جو بہت تکلیف اٹھا کے آتے ہیں ، بعض بڑے اچھے حالات میں اپنے گھروں میں رہنے والے یہاں آتے ہیں، یہاں تو دنیاوی آسائشوں کے لحاظ سے ان دنوں میں تقریبا تنگی میں گزارہ کرتے ہیں لیکن پھر بھی آتے ہیں ، بعض غریب مہمان ہیں وہ دور دراز ملکوں سے بوجھ اٹھا کر صرف جلسے کی برکات حاصل کرنے کیلئے آتے ہیں ، حضرت مسیح موعودؑ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے آتے ہیں، خلیفہ وقت سے ملنے اور اس کی باتیں سننے کے شوق میں آتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ کے فضل سے اکثریت ایسے مہمانوں کی ہوتی ہے جو صرف اور صرف جلسہ کی غرض سے آتے ہیں اور اب تو سفر کے اخراجات بھی بہت بڑھ گئے ہیں لیکن خرچ کرتے ہیں اور پرواہ نہیں کرتے پس یہ احترام جو ہے مہمانوں کا کرنا ہم پر فرض ہے، یہ بہت ہی قابل احترام مہمان ہیں ، ان کی نیت اﷲاور اس کے رسول کی رضا ہے ۔ حضور نے فرمایا : مجھے امید ہے یہ معیار اس سال انشاءاﷲ بہتر ہوگا ، لیکن یاد رکھیں کہ صرف شخصیات بدلنے سے، چہرے بدلنے سے بہتری نہیں آیا کرتی، بلکہ اﷲتعالیٰ سے دعا کرنی چاہئے کہ اﷲتعالیٰ کا فضل ہمارے شامل حال رہے اور ہم وہ کام کریں، اس طرح احسن رنگ میں کام کرنے والے ہوں جس طرح خداتعالیٰ ہم سے چاہتا ہے اور اﷲتعالیٰ سے پھر اس کی توفیق مانگیں ، اور یہ بھی دعاکریں کہ کوئی ایسا موقع پیدا نہ ہو جس میں غلط فہمی پیدا ہو۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا : خاص طور پر ڈیوٹی دینے والے کارکنوں کو میں کہوں گا کہ وہ ایک دوسرے سے تعلقات میں بھی، بات چیت میں بھی ، تھکاوٹ کی وجہ سے بعض دفعہ آدمی چڑ بھی جاتا ہے ، تب بھی خندہ پیشانی سے پیش آئیں اور افسران جو ہیں اپنے ماتحتوں سے خندہ پیشانی سے پیش آئیں۔ پس اگر غور کریں توعجیب نظام ہے یہ جلسہ کا بھی کہ ایک نیکی کے بعد دوسری نیکی کے دروازے ہر ایک کیلئے کھلتے چلے جارہے ہیں ، پس جیسا کے حضور نے شروع میں فرمایا تھا کہ خدمت کے جذبہ کی روح کو ہر خدمت کرنے والے کو سمجھنے کی ضرورت ہے، گو وہ پہلے سے کرتے بھی ہیں ، اس میں مزید بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ ظہور احمد صاحب کیانی کی اورنگی ٹاؤن کراچی میں شہادت۔

When Jalsas used to take place in Pakistan, there was a permanent system in place for ‘langar khanas’ - places to cook and distribute the food. Similarly, there were many permanent places where people could be accommodated. Before this time, when the Jama’at owned the schools and colleges those used to serve this purpose of accommodating the guests but when the Government took over these institutions these other accommodations were built. Children, young and old men, they come running - all of them are infused with the spirit of service during the Jalsa days. Whatever duties are assigned to them they can be seen dedicatedly working towards discharging those responsibilities. And this is as it should be because the guests of the Jalsas are in fact the guests of the Promised Messiah(as). There are many guests who arrive here after involving themselves in great pain and difficulties. Some are such as live in a very high level of sophistication in their own households. They come here and spend their time in some quite severe circumstances. But still they come. Some of the guests come from poor situations. They put themselves under heavy burdens to come here purely for the sake of gaining the blessings of Jalsa. They come in response to the command of the Promised Messiah(as) and responding to his calling them. They come to meet the Khalifa of the Time and to listen to his discourses. By the Grace of Allah, the Exalted, there is a large majority of guests who come just for the sake of attending the Jalsa and for no other reason. And now the costs involved in attending the Jalsa have increased enormously. But they undertake the expenses and they do not care. So it is incumbent upon us that we respect these guests. These are guests who merit the most highest of respect. Their intention is to win the pleasure of Allah and His Messenger. I am hopeful that the standard of service will be much better this year. But remember that improvements do not come about just by changing the faces or officeholders. Rather, we need to pray to God that His Grace should descend upon us and be a part of all our actions and deeds and we are enabled to do such deeds and are blessed to work in such a manner as God desires from us. And we should seek from God such an ability. And pray also that no such occasion should develop or occur that should give rise to any misunderstandings. I would especially counsel those on duty that they should deal with each other, while talking, or doing something together with a smiling happy countenance - when one is tired, sometimes this becomes difficult and even at such times this advice must be acted upon. And those officers who are on duty and incharge of people working under them, they too should deal with those under their authority in a smiling, happy, manner. So if we ponder, we will see how wonderful is this system, this nizam of the Jalsa that after each act of goodness, another door is opened for yet another righteous deed for everyone. So, as I said in the beginning, everyone devoted to serving, needs to understand the spirit of service and keep this in the forefront of his mind. They may be doing this already but there is need to improve in this. Martydom of Zahoor Ahmad Sahib Kayani in Orangi Town Karachi.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
16-Aug-2013   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)Uzbek (mp3)

Title: Essence of Ahmadiyyat
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Tamil | Malayalam | Indonesian
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا : جو امور میں آپ کے سامنے پیش کرنے والا ہوں یہ ایسے امور ہیں جن کو عام طور پر کھول کر بیان نہیں کیا جاتا ، یا مربیان اور عہدیداران افراد جماعت کے سامنے اس طرح احسن رنگ میں ذکر نہیں کرتے جس طرح ان کو کرنا چاہئے، جس کی وجہ سے بعض ذہنوں میں سوال اٹھتے ہیں، لیکن وہ سوال کرتے نہیں ، خاص طور پر نوجوانوں میں ، اس لئے کہ جماعتی ماحول یا ان کا عزیز رشتہ دار یا والدین ان سوالوں کو برا سمجھیں گے، یا وہ کسی مشکل میں پڑ جائیں گے۔ عام طور پر یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ پیدائشی احمدی ہےتو اسے علم ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کی بعثت کی غرض کیا ہے اور آپکو ماننا کیوں ضروری ہے ، نئے آنے والوں کو تو اس کا اچھی طرح علم ہوتا ہے، پڑھ کر تحقیق کر کے آ تے ہیں، لیکن جو لوگ زیادہ چست نہیں ہیں ، اجتماعات پر نہیں آتے، جلسوں پر بھی بعض نہیں آ تے، اور ہر ملک میں ایسے لوگ موجود ہیں، چاہے تھوڑی تعداد ہے لیکن ایک تعداد ہے ۔ حضور نے فرمایا کینیڈا کے ایک مخالف اسلام کی میں نے مثال دی تھی، جس نے ڈینش اخباروں کے کارٹون بھی شائع کئے تھےاپنے اخبار میں ، اس نے وہاں جب دورے میں میری بات سنی ہے اور اسلام کی خوبصورت تعلیم کے بارہ میں معلوم ہوا تو اپنے اخبار میں یہ لکھنے پر مجبور ہو گیا کہ امام جماعت احمدیہ کی بات سن کر مجھے حقیقت کا علم ہوا ہے اور اپنی غلطی کا اعتراف کیا۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا : یہاں مجدد کے بارہ میں بعض لوگ غلطی کھا جاتے ہیں کہ اگر آتے رہیں گے تو کون ہونگے، خلفاء ہی مجدد ہونگے ، حضور نے فرمایا میں اس بارہ میں بڑا تفصیلی خطبہ دے چکا ہوں ، حضرت مسیح موعودؑ بڑی وضاحت سے بیان فرما چکے ہیں ، جماعت کے لٹریچر میں بھی موجود ہے یہ سب کچھ۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا : یہ بات تو عقیدہ کی ہے جو میں نے کر دی ہے، دوسری بات تربیت کی ہے ، وہ ہے افراد جماعت کا خلافت کے ساتھ تعلق اور خلافت کے ساتھ تعلق میں اﷲتعالیٰ کے فضل سے اﷲتعالیٰ نے ہمیں ایم ٹی اے کا بھی ذریعہ دیا ہوا ہے، اسی طرح ویب سائٹ ہے الاسلام ، پس ان سے بھی جوڑنے کی ضرورت ہے ہر احمدی نوجوان کو۔ پس ہر چندہ دینے والے کو یہ سوچ رکھنی چاہئے کہ وہ چندہ دے کر خداتعالیٰ کے فضلوں کے وارث بننے کی کوشش کررہے ہیں، الہٰی جماعتوں کیلئے مالی قربانی انتہائی اہم چیز ہے اسی لئے حضور نے تمام جماعتوں کو یہ ارشاد فرمایا ہے کہ نومبائعین اور بچوں کو وقف جدید اور تحریک جدید میں زیادہ سے زیادہ شامل کرنے کی کوشش کریں چاہے ایک پیسہ دے کے کوئی شامل ہوتا ہو،تاکہ انہیں عادت پڑے اور اﷲتعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنے والے ہوں۔ امیر جماعت کا خاص طور پر یہ کام ہے کہ خطبات میں اگر کوئی ہدایت دی گئی ہے اور اگر کوئی تربیت کا پہلو ہے تو فورا اسے نوٹ کریں اور صدران جماعت کو سرکلر کریں اور پھر باقاعدگی سے اس کی نگرانی ہو کہ کس حد تک اس پر عمل ہو رہا ہے ، ہوسکتا ہے کہ بعض اور جماعتیں بھی اس پر عمل کرتی ہوں لیکن رپورٹ کا جہاں تک تعلق ہے ابھی تک امریکہ کی جماعت کے امیر ہیں جو باقاعدگی سے نوٹ بھی کرتے ہیں اور سرکلر بھی کرتے ہیں اور آگے پہنچاتے ہیں۔

The issues I will be laying in front of everyone are such as are often not discussed very openly and in full detail. The missionaries, murabbis and officeholders also do not discuss these things in a manner that they need to be presented and as a consequence questions arise in the minds of some - but they do not ask these questions. This is especially the case with the young. They feel that the people or their elders or parents or the officeholders will consider their asking these questions to be something bad or they will become involved in some difficulty as a result. It is normally assumed that a born Ahmadi knows these things and knows what is the purpose for which the Promised Messiah(as) was sent in to the world and why it is essential that he be accepted. Those who join the Jama’at of course know these things because they enter having read and studied these matters. But those who, as I said, are not as active and do not participate in the ijtema’s and do not also come to the Jalsas. I have previously given the example of a great Canadian opponent of Islam who had also printed the Danish cartoons of the Holy Prophet in his magazine, newspaper. This time when he heard my presentation and learnt about the beautiful teachings of Islam, he felt obliged to write in his newspaper that after hearing the Imam of the Ahmadiyya Muslim Jama’at he had now realized the truth. And then he went on to accept and acknowledge his error. Here I want to clear up again one matter on which people sometimes make a mistake in connection with the reference to Mujadideen - the Reformers - and they ask that if they will keep coming, then who will they be etc.? The Khulafaa will be the ones who will be the Mujadideen - the Reformers. I have already delivered a detailed Khutba on this matter and notes can be taken from that Khutba and the Promised Messiah(as) has dealt with this subject very clearly and there is much literature in the Jama’at on the topic. So this is the matter that has to do with our beliefs. Now I want to turn to the second item that has to do with our training. This has to do with the connection of the members of the Jama’at with Khilafat. And in connection with this mention has to be made of Muslims Television Ahmadiyya which Allah has given us as a means to further this objective. Similarly we also have the Alislam.org website. So everyone who gives chanda must keep in mind that by doing so they are trying to gain the favor of Allah and win His pleasure. Financial sacrifice is an extremely important thing for divinely established Jama’ats. This is why I have said to all Jama’ats that they must try their utmost to have all new Ahmadis and children participate in the financial sacrifices towards Waqf-e-Jadid and Tehrik-e-Jadid - even if they do so by donating a single penny, so that they acquire the habit and become those who begin to receive the Grace and Bounty of Allah. It is very much the duty of the Ameer of the country that if some directive or guidance is given in a Khutba or if there is some training and education issue highlighted he should immediately note it down and circulate it to the Presidents of the Jama’ats immediately and then the item should be carefully followed up on and it should be assessed regularly to see to what extent there is action being taken on the matter. In so far as reporting is concerned, it is the practice of Ameer Jama’at USA alone so far that this is done and reported on and the others should also act on these lines.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
09-Aug-2013   Urdu (mp3)English (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Justice, Equity and God-Consciousness
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Tamil | Malayalam
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

آج اسلام پر اعتراض ہوتے ہیں کہ نعوذباﷲ اس کی تعلیم میں سختی ہے، دہشت گردی اور فتنہ و فساد کے علاوہ کچھ نہیں ہے، ابھی چند دن پہلے ایک امریکن لکھنے والے نے لکھا کہ اسلام میں جمعہ کا دن نعوذباﷲ فساد کا دن ہے اور کافی کچھ اسلام کے خلاف لکھا، جماعت نے اس اخبار یا جہاں پہ یہ لکھا گیا تھا اس سے رابطہ کیا اور اسلام کی خوبصورتی کے بارہ میں ہمارے ایک نوجوان نے بڑا اچھا مضمون لکھا ہے ، حضرت خلیفۃ المسیح نے اس بارہ میں مزید مضمون لکھنے کی ہدایت دی ہے۔ گواہیوں کی ضرورت پیش آتی ہے جب دو فریقین میں مسئلہ پیدا ہو، ایسی صورت میں یا خود فریقین سے اپنے اپنے بیان دینے کیلئےکہا جاتا ہے یا بعض گواہوں کو پیش کیا جاتا ہے تاکہ مسئلہ کی حقیقت واضح ہواور فیصلہ کرنے اور عدل و انصاف قائم کرنے میں آ سانی پیدا ہو، اگر گواہیاں ہی جھوٹی ہوں، اپنے بیانوں کو توڑ مروڑ کر ناجائز حق لینے کیلئے پیش کیا جارہا ہو تو فیصلہ کرنے والے کا فیصلہ بھی ہوسکتا ہے کہ صحیح نہ ہو ، صرف یہی نہیں کہ صحیح نہ ہو بلکہ بہت زیادہ غلط بھی ہو سکتا ہے اور ایسی صورت میں گناہ گواہیاں دینے والوں کے سر ہے ، فیصلہ کرنے والےکے سر نہیں ہے، بعض گواہ اپنے ذاتی فائدہ کیلئے نہیں تو اپنے عزیزوں کو فائدہ پہنچانے کیلئے غلط گواہی دے جاتے ہیں۔ قضاء میں بھی جب خلع اور طلاق کے معاملات آ تے ہیں توبعض دفعہ حضور خود بھی مشاہدہ فرماتے ہیں کہ انصاف پر مبنی اور حقائق پر مبنی نہ بیان دیئے جاتے ہیں اور نہ ہی گواہان اپنی گواہیاں دیتے ہیں، اسی طرح لین دین کے معاملات ہیں اس میں بھی بعض لوگ عارضی فائدے کیلئے تقویٰ سے دور ہٹ کر آگ کا گولہ لے رہے ہوتے ہیں، یہ آ گ کا گولہ لینے والی جو حدیث ہے اس میں بھی دو بھائیوں کی جائیداد کا ذکر ہے جو آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پیش ہوئےاور آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ کہ اگر کوئی چرب زبان ہے تو مجھ سے فیصلہ کر والے گا اور یہی آ گ کا گولہ ہے جو میں تمہیں دوں گا ،اس پر دونوں بھائیوں نے کہا کہ ہم اپنا حق چھوڑتے ہیں۔ انجیل میں اگرچہ لکھا ہے دشمن قوموں سے پیار کرو لیکن یہ نہیں لکھا کہ دشمن قوموں کی دشمنی تمہیں انصاف اور سچائی سے مانے نہ ہو ، میں سچ سچ کہتا ہوں کہ دشمن سے مدارات سے پیش آنا آسان ہے مگر دشمن کے حقوق کی حفاظت کرنا اور مقدمات میں عدل اور انصاف کو ہاتھ سے نہ دینا یہ بہت مشکل اور فقط جوانمردوں کا کام ہے، اکثریت اپنے فریق دشمنوں سے محبت تو کرتے ہیں اور میٹھی میٹھی باتوں سے پیش آتے ہیں مگر ان کے حقوق دبا لیتے ہیں۔ حضرت خلیفۃالمسیح نے مختصرا عہد بیعت میں کئے جانے والے عہدوں کے بارہ میں فرمایا : پہلی بات یہ کہ زندگی کے آخری لمحہ تک شرک نہیں کرنا اور شرک کی مختلف قسمیں ہیں جن کا بیان ہو چکا ہے پہلے بڑی تفصیل سے ، پھر یہ کہ جھوٹ ، زنا بد نظری ، فسق و فجور ، خیانت، بغاوت، فساد سے بچنا اور کبھی ان کو اپنے اوپر غالب نہیں آنے دینا ، پھر یہ کہ نمازوں کی پابندی، درود اور استغفار پر زور اور باقاعدگی ہو، اپنے پر اﷲتعالیٰ کے احسانوں کو یاد رکھنا اور اس بات پر اس کی حمد کرنا۔ ہمیں اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ کس حد تک ہم اس عہد کو پورا کر رہے ہیں، رمضان میں بہت ساری نیکیاں کرنے کی توفیق ملتی ہے، یہ بھی جائزہ لینا چاہئے تھا اور لینا چاہئے کہ کس حد تک ہم اﷲتعالیٰ سے عہد وفا کو نبھا رہے ہیں، خداتعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارے سے تمہارے عہدوں کے بارہ میں پوچھا جائے گا، گزشتہ خطبہ میں یتامیٰ کی پرورش کے بارہ میں حکم گزر چکا ہے ، اﷲتعالیٰ نے ان کو سنبھالنے کی ذمہ داری کو بھی ایک عہد قرار دیا ہے جس کی جواب طلبی ہوگی، اسی طرح حکام ہیں اگر وہ اپنی حکومت اور کاروبار کو صحیح طرح نہیں سنبھال رہے تو وہ بھی جواب دہ ہیں ، اگر عوام کا حق ادا نہیں کر رہے تو وہ بھی پوچھے جائیں گے، بدقسمتی سے مسلمان ممالک میں جتنے بھی لیڈر ہیں انکا یہی حال ہے کہ نہ وہ اپنے فرائض عدل وانصاف سے بجا لارہے ہیں اور نہ ہی عوام کے حقوق ادا کر رہے ہیں اور بے خوف بیٹھے ہیں کہ شاید پوچھے نہیں جائیں گے۔

Objections are raised about Islam today that God forbid, it is a harsh, extremist faith. Recently someone wrote in the USA that Friday is a day of disorder in Islam and raised many other objections against Islam. Our Jama’at contacted the publication which published the piece and one of our young men wrote a good piece in response explaining the beautiful teaching of Islam, objectives of Islamic teaching and objectives of Friday in Islam. Hazrat Khalifatul Masih has further instructed them on how to compose articles in this regard. Bearing witness/testifying is required when there is a problem between two parties so that the reality of the matter is clarified and dispensing of justice is made easy. However, if the very testimony is false, it is possible that the decision of the decision-maker is not right, in fact even the wrong decision can be given. In this regard the sin is on the person who gives false testimony. Some people do give wrong testimony to benefit their near and dear ones. When marital problems, Khula or divorce, come before the Qadha Board, sometimes the statements given are not based on truth and reality. Similarly, for temporary advantage, some people abandon Taqwa in business dealings and thus obtain piece of fire. The Hadith which cites ‘piece of fire’ is about inheritance problems between two brothers. When the Holy Prophet(saw) informed them that they were as if obtaining a piece of fire, they were overwhelmed and said they relinquished their rights. The Promised Messiah(as) said that although the Gospels teach to love one’s enemy they do not teach staying firm on justice in the face of injustice and persecution by peoples. He said it is easy to be kind and generous to the enemy but it is most difficult to protect the rights of the enemy and to stay firm on justice in disagreements, contests etc. and only the gallant can practice this. Most people can show love to their enemy and do sweet-talking with them but go on to usurp their rights. The promises we make in our covenant of Bai’at are, firstly that we shall abstain from Shirk (association of any partner with God) right up to the day of our death. That we shall keep away from falsehood, fornication, adultery, trespasses of the eye, debauchery, dissipation, cruelty, dishonesty, mischief and rebellion; and will not be carried away by passions. That we shall regularly offer the five daily Prayers and invoke Durud and routinely ask for God’s forgiveness and will remember His bounties. We need to self-reflect and see how much we fulfil these pledges. We should be clear that we will be held accountable about our covenants. People will be answerable on every level. Last Friday sermon elucidated rights of orphans as a pledge and one will be held accountable over it. Similarly, rulers will be answerable for not governing correctly as will the masses/public for not paying their dues. Unfortunately the condition of Muslim leaders is like this and they appear unafraid as if they will not be held accountable.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
02-Aug-2013   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bosnian (mp3)French (mp3)German (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Approach Not Foul Deeds
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Tamil | Malayalam
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

اگر زنا کے حوالے سے بات کریں تو یہ ایک ایسا گنا ہ ہےجس کی قرآن کریم میں دوسری جگہ پر معین سزا بھی ہے، بہرحال یہ ایک ایسا گناہ اور بے حیائی ہے جس میں ملوث انسان اگر شادی شدہ ہے تو اپنے بیوی بچوں کے حقوق بھول جاتا ہے ، اگر عورت ہے تو اپنے خاوند اور بچوں کے حق اور ذمہ داریاں نہیں ادا کر رہی ہوتی، ان کو بھول جاتی ہے، اگر غیر شادی شدہ ہے تو معاشرے میں غلاظت اور بے حیائی پھیلانے کا مرتکب ہے ، غلط وعدے کر کے بعض لوگ ناجائز تعلقات قائم کرتے ہیں اور جب گھریلو اور خاندانی دباؤ یا معاشرے کے دباؤ یا خود جھوٹے وعدے کی وجہ سے وہ تعلقات پیچ میں ٹوٹ جاتے ہیں تو مردوں کو تو زیادہ فرق نہیں پڑتا، لیکن عورت کی زندگی برباد ہو جاتی ہے۔ اس زمانے میں مختلف قسم کے بے حیائی کے طریقے نکل آئے ہیں، اس زمانے میں انٹرنیٹ ہے، اس پر بیہودہ فلمیں آجاتی ہیں، ویب سائٹس ہیں، ٹی وی پر بیہودہ فلمیں، بیہودہ اور لغو قسم کے رسالے ہیں، اب ان بیہودہ رسالوں کے بارے میں جو پورنوگرافی وغیرہ کہلاتے ہیں، یہاں بھی آواز اٹھنا شروع ہو گئی ہے کہ ایسے رسالوں کو سٹالوں اور دکانوں پر کھلے عام نہ رکھا جائےکیونکہ بچوں کے اخلاق پر بھی برا اثر پڑ رہا ہے، ان کو تو آج یہ خیال آیا ہے لیکن قرآن کریم نے ۱۴۰۰ سال پہلے یہ حکم دیا ، یہ سب بے حیائیاں ہیں ان کے قریب بھی نہ پھٹکو، یہ تمہیں بے حیا بنا دیں گی، تمہیں خدا سے دور کر دیں گی، دین سے دور کر دیں گی بلکہ قانون توڑنے والا بھی بنا دیں گی۔ آجکل کے زمانے میں ایک ایسی بے حیائی کو ہوا دی جارہی ہے جو فطرت کے نہ صرف خلاف ہے بلکہ جس کی وجہ سے خداتعالیٰ نے ایک قوم کو تباہ کر دیا تھا، حکومتیں اب ایک ہی جنس کی شادی کے قانون بنا رہی ہیں، یعنی فحشاء کو ہوا دینے اور حکومتی سطح پر پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہےاور قانون بنائے جارہے ہیں، یہانتک کے حکومتوں کے سربراہ وزیراعظم یہ کہتے ہیں کہ ہم چاہیں گے کہ تمام دنیا میں ہم جنسوں کی شادی کے قانون بنیں ۔ قتل کا ایک مطلب تعلقات کو ختم کرنایا مقاطعہ کرنا یا بائیکاٹ کرنا ہے تو یہ اختیار بھی ذمہ دار ادارے کو ہے، ہماری جماعت میں بھی اگر سزا کا نظام رائج ہے تو اصلاح کیلئے ہےنہ کہ ظلم اور زیادتی کیلئےیا کسی بھی قسم کی جو ایسی سزا دی جاتی ہے وہ اصلاح کیلئے دی جاتی ہے، کیونکہ یہ ناحق ظلم اور زیادتی جو ہے وہ بھی قتل کے مترادف ہے، اگر دو فریقین میں مسئلہ پیدا ہو جائے، لڑائی ہو جائے، مقدمہ بازی ہو جائے تو ظاہر ہے فیصلہ کرنے والا ادارہ اپنی عقل اور شواہد کے مطابق ایک فریق کو قصوروار قرار دے گا۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: اگر کوئی تم میں ایسا مالدار ہو جو صحیح العقل نہ ہو مثلا یتیم یا نابالغ ہو اور اندیشہ ہو کہ وہ اپنی حماقت سے اپنے مال کو ضائع کر دے گا تو تم اس کا تمام مال بطور متکفل اپنے قبضہ میں لے لو اور وہ تمام مال جس پر سلسلہ تجارت و معیشت کا چلتا ہے ان بےوقوفوں کے حوالے نہ کرو اور اس مال سے بقدر ضرورت ان کے کھانے اور پہننے کیلئے دے دیا کرو۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اگر خرید و فروخت کرنے والے سچ بولیں اور مال میں کوئی عیب یا نقص ہے اسے بیان کردیں تو اﷲتعالیٰ ان کے سودے میں برکت دے گا اور اگر وہ دونوں جھوٹ سے کام لیں گے اور کسی عیب کو چھپائیں گے یا ہیراپھیری سے کام لیں گے تو اس سودے میں سے برکت نکل جائے گی، پس اگر برکت حاصل کرنی ہے تو پھر امانت اور دیانت کے تقاضے پورے کرنے ہونگے، اوریہ تقاضے پورے کرتے ہوئے کاروبار کرنا ایک سچے مسلمان کا شیوہ ہونا چاہئے۔ اﷲتعالیٰ آنحضرت ﷺ کی طرف منسوب ہونے والوں کو اپنی امانت اور دیانت کے معیار اﷲتعالیٰ کے حکموں اور آنحضرت ﷺ کے ارشادات کے مطابق بنانے کی توفیق عطا فرمائے، ہم میں سے ہر ایک کو اپنے بھی جائزے لینے چاہئیں، احمدی بھی بہت سے کاروباروں میں ملوث ہیں، کیا ہم بھی اﷲتعالیٰ کے احکامات کے مطابق اپنی زندگیاں گزار رہے ہیں؟

With reference to fornication, elsewhere in the Qur’an there is a specific punishment. If a married person is embroiled in it, he forgets the rights of his family and overlooks them and a woman embroiled in it also does not fulfil the rights of her husband and children. If the person is unmarried then he is guilty of spreading foulness and indecency in society. People forge relationships by making false promises and if due to family pressure, or pressure of society or indeed due to their own false promises, the relationship breaks down, men do not suffer so much but life of woman is destroyed. In this age many different means of foulness can be found. There is the internet with indecent web-sites, lewd films on TV and offensive, pornographic magazines. Voices have started being raised here now that such offensive publications should not be displayed openly in shops and stalls as it has an adverse effect on children’s morality. They have realised this today while the Qur’an gave the teaching 1400 years ago to stay away from indecency, it makes one immoral, distant one from God and from religion and even makes one break the law. In this day and age another foul matter is being promoted which is not only against nature but a nation was once destroyed because of it. Governments are in the process of legalising same-sex marriages, that is, plans are being made on governmental level to spread something foul and immoral. Some prime ministers are saying such laws should be followed across the globe. Killing also connotes the process of boycott. Only responsible organisations have a right to ex-communicate, boycott someone. Disciplinary procedures exist in our Jama’at also and these are for reformation purposes and not as a mark of cruelty. All restrictions are for the sake of reforming individuals, otherwise undue cruelty is also tantamount to killing. When judgment is passed by organisations in conflicts between two parties, obviously one party is deemed guilty. The Promised Messiah(as) wrote: ‘That is, should there be among you a person of property who is an orphan or minor and it is apprehended that he would waste his property through his lack of sense, you should take charge of his property as a custodian and should not hand it over to him, inasmuch as the whole system of commerce and social security depends upon proper care of property. A Hadith relates that if the buyer and the seller speak the truth and disclose any defect in the merchandise God would bless the trade. If, they both indulge in falsehood and hide any defects or are deceitful, the trade will have no blessing. Another Hadith relates that when a trader measures to sell he should measure generously. May God enable those who associate themselves to the Holy Prophet(saw) to uphold the standards of honesty and trustworthiness in accordance with God’s commandment and the Prophet’s pronouncements. We should also self-reflect, there are many Ahmadis traders/business people. Are our practices in accordance with God’s commandments?

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
26-Jul-2013   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)French (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Follow the Commandments of The Holy Quran
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Tamil | Malayalam
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا : گزشتہ خطبہ میں اس بات کا ذکر ہوا تھا کہ رمضان کے مہینے میں قرآن کریم نازل ہونا شروع ہوا ، اس لحاظ سے قرآن کریم کا اور رمضان کے مہینے کا ایک خاص تعلق ہے، لیکن اس تعلق کا فائدہ تبھی ہے جب ہم رمضان کے مہینے میں قرآن کریم کی تلاوت کے ساتھ اس کے احکامات پر غور کریں اور ان کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنانے کی کوشش کریں ، ورنہ جس مقصد کیلئے قرآن کریم نازل ہوا وہ مقصد پورا نہیں ہوتا۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: قرآن شریف ایک ایسی ہدایت ہے کہ اس پر عمل کرنے والا اعلیٰ درجہ کے کمالات حاصل کر لیتا ہے اور خداتعالیٰ سے اس کا ایک سچا تعلق پیدا ہونے لگتا ہے، یہاں تک کہ اس کے اعمال صالحہ جو قرآنی ہدایتوں کے موافق کئے جاتے ہیں وہ ایک شجر طیبہ کی مثال جو قرآن کریم میں دی گئی ہےبڑھتے ہیں اور پھل بھول لاتے ہیں ، ایک خاص قسم کی حلاوت اور ذائقہ ان میں پیدا ہوتا ہے۔ یہ آیات جو شروع میں تلاوت کی گئی ہیں، ان میں بھی خداتعالیٰ نے چند احکامات کی طرف توجہ دلائی ہے، ان احکامات میں سے چند احکامات جو ان آیات میں بیان ہوئے ہیں جو خداتعالیٰ کا قرب دلانے والے ہیں، تقویٰ پر چلانے والے ہیں ، حقوق اﷲاورحقوق العباد کی طرف راہنمائی کرنے والے ہیں، حضور نے فرمایا ترجمہ سے واضح ہوگیا ہوگا کہ کیا احکامات ہیں، یادہانی کیلئے حضور ایک دفعہ پھر بتا دیں گے، فرمایا یہ بات یاد رکھو کہ خداتعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھیراؤ، پھر فرمایا والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا انتہائی اہم چیز ہے، اسکو کبھی نہ بھولواور بد سلوکی تم پر حرام ہے، تیسری بات یہ کہ رزق کی تنگی کے خوف سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: شرک تین قسم کا ہے، اول یہ کہ عام طور پر بت پرستی، درخت پرستی وغیرہ کی جاوے، یہ سب سے عام اور موٹی قسم کا شرک ہے، دوسری قسم شرک کی یہ ہے کہ اسباب پر حد سے زیادہ بھروسہ کیا جاوے کہ فلاں کام نہ ہوتا تو میں ہلاک ہوجاتا، یہ بھی شرک ہے، تیسری قسم شرک کی یہ ہے کہ خداتعالیٰ کے وجود کے سامنے اپنے وجود کو بھی کوئی شے سمجھا جاوے۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: اے لوگو تم اس خدائے واحد و لاشریک کی پرستش کرو جس نے تم کو اور تمہارے باپ دادوں کو پیدا کیا، چاہئے کہ تم اس قادر و توانا سے ڈرو جس نے زمین کو تمہارے لئے بچھونا اور آسمان کو تمہارے لئے چھت بنایا، اور آسمان سے طرح طرح کے رزق تمہارے لئے پھلوں میں سے پیدا کئے، سو تم دیدہ و دانستہ انہی چیزوں کو خدا کا شریک نہ ٹھراؤ جو تمہارے فائدے کیلئے پیدا کی گئی ہیں۔ اپنے بچوں کی تربیت کی طرف خاص توجہ دیں، ان کو وقت دیں، ان کی پڑھائی کی طرف توجہ دیں، ان کو جماعت کے ساتھ جوڑنے کی طرف توجہ دیں، اپنے گھروں میں ایسے ماحول پیدا کریں کہ بچوں کی نیک تربیت ہو رہی ہو، بچے معاشرے کا ایک اچھا حصہ بن کر ملک و قوم کی ترقی میں حصہ لینے والے بن سکیں ، ان کی بہترین پرورش اور تعلیم کی ذمہ داری بہرحال والدین پر ہے، پس والدین کو اپنی ترجیحات کی بجائے بچوں کی تعلیم و تربیت کی طرف خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے، باپ یہ نہیں کہ سکتے کہ بچوں کی تربیت کا کام صرف عورتوں کا ہے۔ حضور نے فرمایا : میں یہاں ایک قابل فکر بات کہنا چاہوں گا کہ ہمارے ہاں بھی طلاقوں کا رجحان بہت زیادہ بڑھ رہا ہے، اس لئے بچے بھی برباد ہو رہے ہیں، بعض دفعہ شروع میں ہو جاتی ہیں اور بعض دفعہ کئی سال بعد جب بچے بھی پیدا ہو جاتے ہیں، طلاقیں ہو جاتی ہیں، تو ماں اور باپ دونوں کے اپنی اناؤں اور ترجیحات کے بجائے بچوں کی خاطر قربانی کرنی چاہئے، اﷲتعالیٰ ہم سب کو قرآنی احکامات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

Hazrat Khalifatul Masih(aba) said: As explained in last Friday sermon, the month of Ramadan and the Holy Qur’an have a particular affinity because the revelation of the Qur’an began in this month. However, this connection can only avail if our recitation of the Qur’an during Ramadan is done in conjunction with reflecting over its directives and then these directives are made part of our lives. Otherwise we would not be fulfilling the objective of it being revealed in Ramadan. The Promised Messiah(as) said: ‘The Holy Qur’an is a guidance through which its follower attains excellence and he develops a connection with God Almighty. His good deeds, which are in accordance to the directives of the Holy Qur’an, grow liked a blessed tree, as mentioned in the Holy Qur’an. They bear fruit which develop a distinctive sweetness and flavour.’ In the verses recited at the start of the sermon God has drawn attention to a few directives. These directives guide us towards Taqwa and towards paying the dues of God and the dues of mankind. Although the translation of the verses would have made these directive very clear, but Huzoor mentioned them once again as a remainder: Do not associate anyone or anything with God, Show kindness to parents, their mistreatment is forbidden, Do not kill your children for fear of poverty. The Promised Messiah(as) said: ‘Shirk is three-fold. The first kind is general idol-worship and worship of trees. This is a broad, common Shirk. The second kind of Shirk is when too much reliance is placed on ways and means, that is, saying ‘if such and such did not happen, I would have died’, this is Shirk. The third kind of Shirk is whereby one considers oneself to something compared to God. Promised Messiah(as) said: O people, worship the God, Who is One and without any partner, Who created you and your forefathers. You should fear the Powerful God Who made the earth a place to rest for you and the sky a cover. Who sent down water from the sky to create varied forms of sustenance for you from fruits. Do not knowingly associate those very things equal to Him which have been created for you. Children should be given time and attention. Their education, affiliation with the Jama’at , good, pious upbringing should be given importance. Home environment should be made conducive to pious upbringing so that children can grow up to be useful members of society. It is certainly the responsibility of parents to bring them up in an excellent manner and to educate them well. Rather than follow their own preferences, parents should give time and attention to their children. It is a cause for concern here that divorce rate is also increasing among us and it is ruining children when divorce takes place in a family with children. Parents should sacrifice their egos and preferences for the sake of their children. May God enable all of us to practice the commandments of the Holy Qur’an during Ramadan.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
19-Jul-2013 Urdu (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Tamil (mp3)Uzbek (mp3)

Title: The Holy Quran and Ramadhan
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Tamil | Indonesian
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

ہر سال جب رمضان آتا ہے تو ہمیں اس طرف بھی توجہ دلاتا ہے کہ اس عظیم کتاب میں انسانوں کیلئے ہدایت اور راہنمائی کی تعلیم ہے، اس بات کی یاددہانی کرواتا ہے کہ اس میں حق اور باطل میں روشن نشانوں کے ساتھ فرق طاہر کیا گیا ہے ، اس بات کی یاددہانی کرواتا ہے کہ روزوں کی فرضیت کی کتنی اہمیت ہے اور کس طرح رکھنے ہیں، اس بات کی یاددہانی بھی کرواتا ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم مکمل اور جامع ہے لیکن ان سب باتوں کی یادہانی کا فائدہ تبھی ہے جب ہم اس یادہانی کی روح کو سمجھنے والے ہوں۔ رمضان اور قرآن کریم کی نسبت جو آپس میں ہےاس کی یادہانی اس وقت تک ہم پر واضح ہوگی جب ہم قرآن کریم کے حکموں کو کوشش کر کے خاص طور پر اس مہینے میں تلاش کرنے کی کوشش کریں گے ، پس رمضان ہمیں یہ یادہانی کرواتا ہے کہ قرآنی احکامات کی تلاش کرو ، رمضان ہمیں اس بات کی یادہانی کرواتا ہے اور اس طرف توجہ دلاتا ہے کہ قرآنی احکامات کی تلاش کرنے کے بعد انہیں اپنی زندگیوں پر لاگو کر کے اسے اپنی زندگیوں کا حصہ بناؤ، رمضان ہمیں قرآن کریم کی روشنی میں یہ یادہانی کرواتا ہے کہ اﷲتعالیٰ کا حق اداکرنے کی پہلے سے بڑھ کر سعی اور کوشش کرو اور اﷲتعالیٰ کا حق ادا ہوتا ہے اس کی عبادت کا حق ادا کرنے سے۔ بعض لوگ اپنوں کے حقوق بھول جاتے ہیں ، بلکہ قریبیوں کے، خونی رشتوں کے حقوق بھول جاتے ہیں، حضور نے فرمایا کہ بعض دفعہ مجھے بچیوں کے خط آ جاتے ہیں کہ ماں باپ لڑکے اور لڑکیوں سے جو سلوک ہے اس میں فرق کرتے ہیں، اگر جائیداد اپنی زندگی میں تقسیم کرنے لگیں تو بعض دفعہ بعض خاندانوں میں لڑکیوں کو محروم کر دیا جاتا ہے اور لڑکوں کو دے دیتے ہیں۔ رمضان کے مہینے کی یادہانی کے مضمون کو جاری کرتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح فرماتے ہیں : جب ہم رمضان کو پاتے ہیں تو رمضان ہمیں یہ یادہانی کروانے کیلئے آتا ہے کہ قرآن کریم کی روشنی میں ہر مسلمان اپنے اندر قربانی کی روح پیدا کرے ، خداتعالیٰ اور خداتعالیٰ کی جماعت کی خاطر، خلافت احمدیہ کے قائم رکھنے کی خاطر ، جان مال وقت اور عزت کو قربان کرنے کا جو عہد کیا ہے اس کو نبھانے کیلئے اپنے جائزے لے کر اس کو نبھانے کی کوشش کریں، یہ جائزے لیں کہ کس حد تک اپنے عہدوں کو نبھا رہے ہیں۔ خداتعالیٰ ہمیں جس قسم کا انسان اور مومن بنانا چاہتا ہے اس کیلئے اس نے قرآن کریم میں سینکڑوں کی تعداد میں احکامات د یئے ہیں اور پھر اس زمانے میں حضرت مسیح موعودؑ کے ذریعہ اپنی اصلاح کی طرف توجہ دلائی ہے، قرآن کریم کی خوبصورت تعلیم کو اپنے اوپر لاگو کرنے پر آپ کے ذریعہ سے زور دلوایا ہے ، حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا : میں نے ان چند باتوں کی طرف توجہ دلائی ہے کہ رمضان اور قرآن ہمیں کن باتوں کی طرف یادہانی کرواتا ہے لیکن جیسا کہ حضور نے فرمایا قرآن کریم میں سینکڑوں احکامات ہیں، جن کو تلاش کر کے ہمیں ان کے مطابق اپنی زندگیاں گزارنے کی ضرورت ہے اور یہ اﷲتعالیٰ کے فضل سے ہی ممکن ہوسکتا ہے اور اس کے فضل کے حصول کیلئے اس نے ہمیں دعاؤں کی طرف توجہ دلائی ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: یاد رکھو قرآن شریف حقیقی برکات کا سرچشمہ اور نجات کا سچا ذریعہ ہے ، یہ ان لوگوں کی اپنی غلطی ہے جو قرآن شریف پر عمل نہیں کرتے، عمل نہ کرنے والوں میں سے ایک گروہ وہ ہے جس کو اس پر اعتقاد ہی نہیں اور وہ اس کو خداتعالیٰ کا کلام ہی نہیں سمجھتے، یہ لوگ تو بہت دور پڑے ہوئے ہیں، لیکن وہ لوگ جو ایمان لاتے ہیں کہ وہ خداتعالیٰ کا کلام ہے اور وہ نجات کا شفا بخش نسخہ ہے ، اگر وہ اس پر عمل نہ کریں تو کس قدر تعجب اور افسوس کی بات ہے ، ان میں سے بہت سے تو ایسے ہیں جنہوں نے ساری عمر اس کو پڑھا ہی نہیں۔

Each year the month of Ramadan reminds us that the Holy Qur’an is a teaching of guidance and it discriminates between truth and falsehood with illuminating signs. It reminds us about the great importance of the excellence of fasting and how fasting should be observed. Ramadan also reminds us that the teaching of the Holy Qur’an is complete and comprehensive. Indeed, this reminding is only beneficial when we understand its spirit and essence. The reminding of the affinity between Ramadan and the Holy Qur’an will be clear to us when we will try and make special effort in this month to look for the commandments of the Qur’an. Ramadan reminds us, draws our attention to look for the commandments within the Qur’an and then put them in practice and make them a part of life. Some people overlook the rights of their own; in fact some overlook the rights of blood-relations. Hazrat Khalifatul Masih sometimes receives letters from young women who say that parents differentiate between sons and daughters. At times, if property settlement is done by the parents during their lifetime, some families deprive the daughters and bequeath everything to sons. Resuming the subject of what Ramadan reminds us, Hazrat Khalifatul Masih said when we experience Ramadan it reminds us that in light of the teaching of the Holy Qur’an every Muslim should inculcate spirit of sacrifice. We should self-asses regarding the promise that we make for the sake of God and His Community and for the sake of Khilafat e Ahmadiyya to sacrifice our life, property and time. God has given hundreds of directives relating to how He wishes to see true believers and in this age attention has been drawn to reformation through the Promised Messiah(as). Hazrat Khalifatul Masih said he had only briefly pointed out the matters which Ramadan and the Holy Qur’an remind us, but the Qur’an has hundreds of commandments which need to be looked up and practised. This cannot be attained without God’s grace and God states that His grace should be sought through prayer. The Promised Messiah(as) said: ‘Remember that the Holy Qur’an is the springhead of real blessings and is the true source of salvation. Those who do not follow it are themselves to be blamed. One group of those who do not follow it are those who do not believe in it and do not consider it the Word of God Almighty. These people are very remote. However, it is most astonishing and regrettable if those who believe that it is the Word of God Almighty and a healing formula of salvation do not follow it. Many among them have never read it in their entire lives.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
12-Jul-2013   Urdu (mp3)Arabic (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Ramadhan -- Virtues of Fasting
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Tamil | Malayalam
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضور نے فرمایا: یہاں(یوکےمیں) اﷲتعالیٰ کےفضل سے کل سے رمضان شروع ہے، اﷲتعالیٰ کا شکر ہے کہ وہ ایک اور رمضان کے مہینے سے گزرنے کا ہمیں موقع عطا فرما رہا ہے، یہ جو آیت تلاوت کی گئی ہے اس میں اﷲتعالیٰ نے روزوں کی اہمیت اور فرضیت کی طرف توجہ دلائی ہے، اور ساتھ ہی یہ بھی فرمادیا کہ تم سے پہلے جو انبیاء کی جماعتیں گزری ہیں، ان پر بھی روزے فرض تھے، اس لئے کہ روزہ ایمان میں ترقی کیلئے بھی ضروری ہے، روزہ روحانیت میں ترقی کیلئے ضروری ہے، آج ہم مختلف مذاہب میں دیکھتے ہیں کہ روزہ اس اصل حالت میں ہے جیسا کہ انبیاء کے وقت میں تھا یا زمانے کے ساتھ روزے کی حالت اور کیفیت بدل گئی ہے، لیکن بہرحال کسی نہ کسی رنگ میں روزہ کاتصور ہر جگہ قائم ہے۔ قرآن کریم کی حفاظت کا اﷲتعالیٰ کا وعدہ تھا اس لئے اصلی حالت میں ہے اور مومنین کو حکم ہے کہ صرف انبیاء کے روزوں کا ذکر نہیں کیا گیا ، صرف بزرگوں کے روزوں کی باتیں نہیں ہیں، بلکہ مومنین کو فرمایا کہ اگر تم مومن ہو تو روزہ تم پر فرض ہے ، ایک مہینے کیلئے فرض ہے، ہر قسم کے کھانے پینے سے صبح شام تک پر ہیز ضروری ہے اور اس سے مومنین نے تقویٰ حاصل کرنا ہے ، تم نے تقویٰ میں ترقی کرنی ہے ، تم نے روزے سے خداتعالیٰ کی رضا کا حصول کرنا ہے ، بیشک بائیبل میں بھی حواریوں کو خدا کی رضا کیلئے روزے رکھنے کا حکم ہے نہ کہ دکھاوے کیلئے۔ جب ہم الحمدﷲ کہتے ہیں تو یہ صرف منہ سے ہی نہ ہو بلکہ آپ نے اس طرف ہماری توجہ دلائی کہ جب الحمدﷲ کہو تو ہمیشہ یہ بات مدنظر رکھو کہ حمد صرف رب جلیل سے مخصوص ہے ، یہ ذہن میں ہو کہ ہر قسم کی حمد خدا تعالیٰ کی ذات کیلئے ہے اور اس کی طرف ہی حمد لوٹتی ہے، ہم اس خدا کی حمد کرتے ہیں جو گمراہوں کو ہدایت دینے والا ہے، پس اگر ہم سارا سال خدا کی طرف اس طرح نہیں جھکے جو اس کا حق ہے تو اس مہینے میں ہمیں یہ ہدایت دے تاکہ اس ہدایت کے ذریعے ہم آئندہ گمراہی سے بھی بچیں اور حمد کے فیض سے فیضیاب ہوتے ہوئے اﷲتعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے والے بھی ہوں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ جیسا کہ میں نے ایک دوست کا واقعہ بیا ن کیا ہے، پہلوں نے دین پر عمل چھوڑ دیا، خدا تعالیٰ کی بتائی ہوئی پابندیوں کا جو خداتعالیٰ کی رضا کےحصول کیلئے تھیں، چھوڑ کر ظاہری دنیاوی اخلاق کو اہمیت دی، روزے جس حالت میں ان پر فرض کئے گئے تھے، تو روزہ جو ایک عبادت ہے اور جس کا مقصد تقویٰ میں ترقی اور خداتعالیٰ کی رضا کا حصول ہے، یہ ختم ہو گیا ، اگر ہم باریکی کی نظر سے دیکھیں تو یہ بھی ایک قسم کا شرک ہے کہ بظاہر دنیاوی اخلاق کے نام پر میزبان کی خاطر خداتعالیٰ کے حکم کو توڑ دیا جائے۔ بعض نام نہاد بزرگ فرض روزوں کے علاوہ نفلی روزے بھی رکھتے ہیں تو اس کا بھی اظہار کر دیتے ہیں حالانکہ نفل عموما چھپی ہوئی عبادت ہے ، ایسے لوگوں کا حضرت مسیح موعودؑ نے بھی ذکر فرمایا ہے کہ مہمان آجائے تو کھانا منگوا کر کہیں گے مجھے کچھ عضر ہے یا کھانے کے وقت کسی کے ہاں پہنچ جائیں گے، جب میزبان خاطر مدارت کرنے لگے تو کہیں گے مجھے کچھ مجبوری ہے ، یعنی چھپے ہوئے الفاظ میں اپنے روزے کا بتانا مقصود ہوتا ہے ۔ پس اس ایک مہینہ میں ہر ایک کو اپنے جائزے لیتے ہوئے روزے اور رمضان کی روح کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے ، تقویٰ کے راستوں کی تلاش کی ضرورت ہے، حلال اور جائز چیزوں کے چھوڑنے کا جو تجربہ حاصل ہوگا اسے اپنے اندر عمومی اخلاقی تبدیلی پیدا کرنے کا ذریعہ بنانے کا کوشش کرنے کی ضرورت ہے ، حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف جو توجہ پیدا ہوگی، اپنے غریب بھائیوں کی مدد کی طرف جو توجہ پیدا ہوگی، اسے مستقل زندگی کا حصہ بنانے کی طرف توجہ اور کوشش کی ضرورت ہے ۔ عرفانہ شکور صاحبہ ،عزیزہ ملیحہ انجم اور مولوی عبدالکریم شرما صاحب کی وفات۔

With the grace of God, Ramadan started here (the UK) from yesterday. Thank God that He has granted us the experience of yet another Ramadan. In the above verse God draws attention of true believers to the significance and obligation of fasting and has reminded them that communities of earlier Prophets were also prescribed fasting because fasting is essential for progress of faith as well as for spiritual progress. Although fasting in other religions has changed with time, yet the concept remains in some shape or form. However, God Himself promised to safeguard the Holy Qur’an and believers are enjoined that if they believe then fasting for a month is obligatory on them during which they have to abstain from all food and drink in order to attain Taqwa (righteousness), to enhance in Taqwa and try and attain pleasure of God. Certainly, the Bible commands the disciples to fast to seek God’s pleasure and not for pretentious reasons. When we say Alhamdolillah (All praise belongs to Allah), it should not be mere verbal profession. When we recite is, we should be conscious that Hamd (praise of Allah) is for the Great God alone and it reverts to Him alone. We praise that God Who guides those who are lost. If we did not turn to Him during the rest of the year as is His due, then may He guide us in this month so that we are saved from going astray and through the beneficence of Hamd, gain Taqwa. We should be mindful, as the episode about our Christian friend illustrates, people of other religions gave up their practices and gave preference to apparent courtesy and gave up the essence of fasting, as it was prescribed to them. Fasting is a form of worship and its objective is to attain Taqwa and pleasure of God which was lost. If reflected over, it is also a kind of Shirk (associating partners with God) to dismiss God’s commandment for the sake of one’s host. Some so-called holy people also keep optional fasts in addition of the obligatory fasts but mention them, although optional worship is usually kept private. The Promised Messiah(as) has also mentioned such people. If such people have guests, they would offer them food but would excuse themselves from eating or they would visit people at meal times and when the host served food, they would say they could not eat or drink due to some reason. It is needed that everyone self-examines and self-reflects in this month. It is needed to look for the spirit of the month of Ramadan. It is needed to look for ways of Taqwa. It is needed to utilise the experience of giving up permissible things during Ramadan to bring about a general moral change in oneself. It is needed to make constant the practice of paying the dues of mankind and helping underprivileged brothers. Death of Irfana Shakoor Sahiba, Maleeha Anjum and Maulwi Abdul Karim Sharma Sahib.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
05-Jul-2013 Urdu (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Blessings of Allah - Germany visit
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Tamil | Malayalam
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

اﷲتعالیٰ کے فضلوں اور احسانوں کا شکر ادا کرنا ممکن نہیں، ہر سفر جو حضور کرتے ہیں اپنے رنگ میں اﷲتعالیٰ کے فضل و احسان کو لئے ہوئے ہوتا ہے ، گزشتہ دنوں جلسہ سالانہ جرمنی ہوا اور وہاں شمولیت کی حضور نے ، وہاں بھی علاوہ جلسہ کے بھی اﷲتعالیٰ کے فضل و احساں کے ایسے نطارے دیکھے کہ اس بات پر یقین مزید پختہ ہوتا ہے کہ اﷲتعالیٰ حضرت مسیح موعودؑ سے کئے گئے وعدے ہر روز نئی شان سے پورے فرماتا ہے ، امیر صاحب جرمنی حضور کے کہنے لگے کہ میرے اور میرے ساتھیوں کی سوچ سے یہ بالا ہے جو کچھ میں دیکھ رہا ہوں جرمنی میں۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا کہ جیسا کہ میرا طریق کار ہے کہ اﷲتعالیٰ کے فضلوں کا ذکر کروں گا اور سفر کے حالات بیان کروں گا ، دوسرے جلسے کے کارکنان کا شکریہ بھی ادا کیا جاتا ہے ، اس سلسلے میں جلسے کے انتظامی معاملات اور شکریہ بھی ادا کروں گا ، یہ سفر بہت مختصر تھا دس دن کا ، وہاں اس عرصے میں دو مساجد کے سنگ بنیاد رکھوائیں اور دو مساجد کا افتتاح ہوا اور اﷲتعالیٰ کے فضل سے مساجد کا فنکشن نہایت کامیاب ہوتا رہا ، مسجد کے حوالے سے اسلام کی تبلیغ کا موقع ملا، جو تحفظات ہیں کچھ وہا ں کے لوگوں کے وہ دور ہوئے، ایک مسجد سبحان ہے مورفیلڈن میں اس کا سنگ بنیاد رکھا ، مسجد بیت العطا ہے فلورس ہائم میں اس کا افتتاح ہوا۔ جرمنی میں جماعت کو سرکاری طور پر وہ سٹیٹس مل گیا ہے کہ اب وہاں جماعت اپنے سکول بھی کھول سکتی ہے بلکہ ایک حد تک چرچ کی طرز کا ٹیکس وصول کر سکتی ہے ، اس پر میں نے انہیں کہا تھا کہ جماعت چندے دیتی ہے اور خوشی سے دیتی ہے اور یہ مسجد بھی قربانی کر کے جماعت نے بنائی ہےاس لئے ہمیں کسی ٹیکس کی ضرورت نہیں نہ گورنمنٹ سے کسی مدد کی ضرورت ہے اس بنیاد پر ، نہ لوگوں کو زبردستی کرنے کی ضرورت ہے، ہمارے احمدی تو اﷲتعالیٰ کے فضل سے خود قربانیاں دے کر اﷲتعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کیلئے جماعت کیلئے خرچ کرتے ہیں، مساجد کیلئے خرچ کرتے ہیں۔ جلسہ سالانہ جرمنی میں اس سال اﷲتعالیٰ کے فضل سے جلسے میں فرانس اور بیلجیئم سے آنے والے نومبائعین اور زیر تبلیغ دوستوں کے علاوہ مالٹا ، عسٹونیا، آئس لینڈ، لیتھونیا، ہنگری، لیٹویا، روس، تاجکستان، کرگزستان، کوسووو، البانیہ، بلغاریہ اور میسیڈونیا سے وفود بھی آئے تھے، اور غیر مسلم دوست بھی شامل تھے جو ہمدردی رکھتے ہیں جماعت سے وہ بھی شامل تھے، زیر تبلیغ بھی شامل تھے، احمدی بھی شامل تھے، بلغاریہ کا ایک بہت بڑا وفد تھا جو اسی افراد پر مشتمل تھا ، میسیڈونیا سے 53 افراد کا وفد آیا تھا، ہر ایک کا یہی تاثر تھا کہ جلسے کے روحانی ماحول سے ہم بے حد متاثر ہوئے ہیں۔ پوپ سے رابطہ کرنے کے بارہ میں حضرت خلیفۃ المسیح نے ایک پرانے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ نے جب یورپ کا دورہ کیا تھا تو اٹلی بھی گئے تھے ، وہاں پوپ سے رابطہ کی کوشش کی گئی تو پوپ نے جواب دیا کہ ابھی میرا جو محل ہے وہ زیر تعمیر ہے ، مرمتیں ہو رہی ہیں اس لئے مشکل ہے ملاقات، اخباری نمائندے وہاں آئے ہوئے تھے پریس والے، انہوں نے حضرت خلیفہ المسیح الثانی ؓسے پوچھا کہ کیا آپ پوپ سے ملیں گے؟ انہوں نے کہا ہاں میں نے ملنے کی خواہش کی تھی اور یہ اس کا جواب ہے، اخباری نمائندوں نے اسی طرح خبر لگادی کہ پوپ نے امام جماعت احمدیہ کو یہ جواب دیا کہ میرا محل ابھی زیر تعمیر ہے اس لئے ملاقات مشکل ہے اور نیچے لکھ دیا کہ امید ہے احمدی خلیفہ سے ملنے سے بچنے کیلئے ان کا محل کبھی تعمیر ہی نہیں ہوگا۔ حضور نے فرمایا : آج کینیڈا ، بیلجیئم ، آئرلینڈ کے بھی جلسہ سالانہ ہو رہے ہیں، اﷲتعالیٰ ان کو بھی جلسہ کی صحیح روح کے ساتھ جلسے میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائے اور خیر و خوبی سے ان کے جلسے بھی اختتام کو پہنچیں، اسی طرح خدام الاحمدیہ یو کے کا اجتماع بھی ہو رہا ہے ، اﷲتعالیٰ یہاں بھی نوجوانوں کو صحیح رنگ میں اجتماع کا جو مقصد ہے اس کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، اس بات کو ہمیشہ ہر خادم کو اور جماعت کے ہر ممبر کو یاد رکھنا چاہئے کہ اجتماعوں اور جلسوں کا مقصد خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنا ، اپنی روحانی حالت کو بہتر کرنا، اخلاقی حالت کو بہتر کرنا ہے، اس طرف خاص طور پر توجہ دیں۔

It is not possible to thank God for His blessings and favours. Every trip that Hazrat Khalifatul Masih makes encompasses God’ blessings and favours in different ways. Recently he graced the Jalsa Salana in Germany and there, at the Jalsa as well as in other instances he experienced such Divine grace and blessings which further strengthened the belief that indeed God daily fulfils the promises made to the Promised Messiah(as) with renewed glory. Ameer Sahib Germany said that whatever he beheld surpassed his expectations and those of his associates. As it is his practice, Hazrat Khalifatul Masih gave a discourse on the Divine blessings after his tour. It is also customary for him to thank Jalsa workers and he wished to do that today. This was a brief, ten-day trip during which two mosques were inaugurated and foundations were laid for two mosques. With the grace of God the receptions held on these occasions were very successful and helped in allaying the reservations people had about mosques. Foundation stone was laid for Masjid Subhan in Morfelden and Masjid Baitul Ata was inaugurated in Florsheim. The Jama’at has now acquired status in Germany by virtue of which it can have its own schools and get some help from the Government. However, Hazrat Khalifatul Masih made it clear that the Jama’at is self-funding, its members most keenly make sacrifices and build mosques and we do not need to ask for any help from the Government. With the grace of God this year German Jalsa Salana was attended by new converts and friends under Tabligh and well-wishers from France and Belgium as well as from Malta, Estonia, Iceland, Lithuania, Hungry, Latvia, Russia, Tajikistan, Kyrgyzstan, Kosovo, Albania, Bulgaria and Macedonia. The delegation from Bulgaria was eighty strong whereas fifty three people came from Macedonia. Everyone, including the outsiders, was moved by the spiritual ambience of Jalsa Salana. Hazrat Khalifatul Masih gave an historical insight into the matter of contacting the Pope. When Hazrat Khalifatul Masih II(ra) went to Italy during a European tour he tried to contact the Pope. The response came that the Vatican Palace was being renovated therefore a meeting was difficult. When Hazrat Khalifatul Masih II(ra) was asked by the press if he was going to meet the Pope, he related the situation to them. The news was duly reported with a note at the end that it was hoped in order to avoid meeting the Ahmadi Khalifa, the renovation of the Papal palace will never be completed. Huzoor said that Jalsa Salana of Canada, Belgium and Ireland are starting today. May God enable them to participate with the true spirit of Jalsa and may these Jalsas conclude safely. Similarly today the UK Khuddam Ijtima starts. May God enable the youngsters to fulfil the objective of Ijtima in the real sense. Every Khadim and very member of the Jama’at should remember that the objective of Ijtima and Jalsa is to attain the pleasure of God and to improve one’s spiritual and moral condition.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
28-Jun-2013 Urdu (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Arabic (mp3)French (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Objectives of Jalsa Salana (Annual Convention)
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Tamil | Malayalam
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
21-Jun-2013   Urdu (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Essence of speaking the truth
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Tamil | Malayalam
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

قول صدید کا یہ بھی معیار ہے کہ جو الفاظ منہ پر آئیں وہ معقولیت بھی رکھتے ہوں، بعض دفعہ بعض باتیں سچی بھی ہوتی ہیں لیکن ضروری نہیں کہ کہی بھی جائیں، وہ معقولیت کا درجہ نہیں رکھتیں، فتنہ اور فساد کا موجب بن جاتی ہیں، کسی کا راز دوسروں کو بتانے سے رشتوں میں دراڑیں پڑتی ہیں، تعلقات میں خرابیاں پیدا ہوتی ہیں، لیکن یہ بھی ہے کہ ایک بات ایک موقع پر ایک جگہ پرمعقول نہیں لیکن دوسرے موقع اور جگہ پر کرنی ضروری ہو جاتی ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: انسان کو دقائق تقویٰ کی رعایت رکھنی چاہئے، سلامتی اسی میں ہے، اگر چھوٹی چھوٹی باتوں کی پرواہ نہ کرے تو پھر ایک دن وہی چھوٹی چھوٹی باتیں کبائر کا مرتکب بنا دیتی ہیں اور طبیعت میں کسل اور لاپرواہی پیدا ہو کر پھر ہلاک ہو جائے گا ایسا انسان، فرمایا تم اپنے زیر نظر تقویٰ کے اعلیٰ مدارج کو حاصل کرنا رکھو اور اس کیلئے دقائق تقویٰ کی رعایت ضروری ہے۔ پس اﷲ تعالیٰ کے کسی بھی حکم کو معمولی نہیں سمجھنا چاہئے اور یہ قول صدید کا حکم تو ایسا ہے کہ اس پہ معاشرے کے امن کی بنیاد ہے، معاشرے کی اصلاح کی بنیاد اس پر ہے، تبھی تو آنحضرت ﷺ نے نکاح جو مرد اور عورت کے بندھن کا اسلامی اعلان ہے اور آئندہ نسل کے جاری ہونے کا ایک سلسلہ ہے، اس میں ان آیات کو شامل فرمایا ہے، لیکن اس کا دائرہ صرف گھر تک محدود نہیں ہے۔ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ بہت بڑی کامیابی ہےکہ انسان خداتعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے والا بن جائے، پس اس فوز عظیم کیلئے خدا اور اس کے رسول ﷺ کی کامل اطاعت ضروری ہے، اپنی زندگی کو اﷲاور اس کے رسول کے حکموں کے مطابق ڈھالنا ضروری ہے، اس پر عمل کرنے کیلئے خدا تعالیٰ سے طاقت مانگنا ضروری ہے اور یہ طاقت استغفار سے ملتی ہے، جب یہ طاقت ملے گی تو پھر نیک اعمال بھی سرزد ہونگے اور اﷲ تعالیٰ اپنے فضل سے نیک اعمال کی طرف راہنمائی بھی فرماتا رہے گا اور ان حقیقی مومنوں میں شمار ہوگا ایسے انسان کا جو سچائی پر قائم رہنے والے اور سچائی کو پھیلانے والے ، ان لوگوں میں شمار ہوگا جو اﷲ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے والے مومنین ہیں۔ دین میں بھی دنیا میں بھی مشکلات آتی ہیں، ہر جگہ اگر سچائی پر قائم ہونگے، تقویٰ پر قائم ہونگے، اپنے اعمال پر نظر ہوگی تو یہ مشکلات بھی اﷲتعالیٰ کے فضل سے دور ہوتی چلی جائیں گی، سچ کا اظہار بعض دفعہ عملاً یہ بھی ہوتا ہےکہ مشکلات میں ڈال دیتا ہے لیکن اگر اپنا ظاہر و باطن ایک ہو تو پھر ڈرنے کی ضرورت نہیں یہ مشکلات بھی غائب ہوجاتی ہیں اور یہ صرف دشمنوں کی طرف سے نہیں ہوتا بلکہ بعض دفعہ اپنوں سے بھی سچ کا اظہار مشکلات میں ڈال دیتا ہے کیونکہ اپنوں میں بھی کئی قسم کے لوگ ہوتے ہیں، تقویٰ کی کمی ہوتی ہے۔ اب چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی اگر جواب طلبیاں شروع ہو جائیں، لوگوں کو خوفزدہ کیا جانے لگے، تو یہ بھی فساد کے زمرہ میں آتا ہے،پس یہ انسان کو ہر وقت اپنے مدنظر رکھنا چاہئے، اپنا جائزہ لینا چاہئےکہ اعمال صالحہ بجا لانے ہیں اور اپنے اعمال کی اصلاح اس وقت ہوتی ہے جب خداتعالیٰ چاہتا ہےاور خداتعالیٰ نے متقیوں کی یہ نشانی رکھی ہے، ہر عمل چاہے وہ نیک عمل ہی کیوں نہ ہو عمل صالح نہیں بن جاتا جب تک اﷲتعالیٰ کی نظر میں عمل صالح نہ ہو، اور خداتعالیٰ کی نظر میں عمل صالح بنانے کیلئے خداتعالیٰ کے فضل کو جذب کرنے کی ضرورت ہے، استغفار کرنے کی ضرورت ہے۔ اﷲتعالیٰ ہمیں تقویٰ کی راہوں ہر چلتے ہوئے سچائی پر قائم رہنےوالا بنائے، اﷲتعالیٰ اور اس کے حکموں کی کامل اطاعت کرنے والے ہم ہوں، اﷲتعالیٰ ہمارے گناہوں کی پردہ پوشی فرمائے، ہمیشہ ہم سے وہ اعمال سرزد ہوں جو خداتعالیٰ کے ہاں مقبول ہوں، اﷲتعالیٰ کے فضلوں کو ہم جذب کرنے والے ہوں، اﷲتعالیٰ نے جس مقصد کیلئے اس زمانے میں حضرت مسیح موعودؑ کو بھیجا ہے ، ہم حقیقت میں اس مقصد کو حاصل کرنے والے بھی ہوں اور مددگار بھی ہوں اور اﷲتعالیٰ کے پیار کی نظر ہمیشہ ہم پر رہے۔ جواد کریم صاحب کی گرین ٹاؤن لاہور میں شہادت اور انکی والدہ محترمہ رضیہ کریم دہلوی صاحبہ کی وفات۔

A benchmark of qawl e sadeed is that whatever one says is pertinent and appropriate. It is not essential to say everything that is true. If it is not pertinent and appropriate it can cause discord and strife. By divulging secrets of others relationships break down. However, at times something may not be appropriate in one situation but becomes necessary in another situation. The Promised Messiah(as) said: ‘Man should be inclined to the finer ways of Taqwa; therein is safety/well-being. If one does not take care about small matters then one day these small matters make one commit grave sins. Laxity and carelessness would set in and cause one’s destruction. You should keep attainment of high stations of Taqwa in your view and for this, inclination towards finer ways of Taqwa is essential. No Divine commandment should be considered small, let alone the commandment for qawl e sadeed which is the basis of societal peace as well as basis of reformation. That is why the Holy Prophet(saw) included it in the Nikah sermon. The significance of Nikah is that it is a time of the coming together of man and woman in Islamic matrimony and is also the means for the continuation of future generations. God states that it is a ‘mighty success’ for man to attain God’s pleasure. Indeed, perfect obedience of God and His Messenger(saw) are essential for this mighty success and to practice this, it is necessary to seek God’s help for strength. This strength can be derived through Istaghfar. One is drawn to do good deeds and God guides one and includes one among true believers, that is, those who are truthful, who spread the truth and who abide by Taqwa. Man faces difficulties in worldly as well as religious matters. With the grace of God with Taqwa and honesty, these difficulties can be removed. Sometimes speaking the truth can put one in difficulty but if one is honest one comes out of it. Sometimes saying what is true among one’s own also puts one in difficulty because there are people of all kinds of dispositions among one’s own. This stems from lack of Taqwa. When people are made accountable for trivial matters and are harassed, it comes under the category of discord/disorder. One should always self-reflect that one has to practice good deeds. One’s deeds are reformed when God wills. It is the sign of one who abides by Taqwa that they consider deeds as good when they are deemed so by God and for this one needs God’s grace by turning to Him and through Istaghfar. May we abide by Taqwa and remain firm on truthfulness, may we be perfectly obedient to God and His Messenger(saw), may He cover our sins and may our practices be those which gain acceptance with God. May we attract His grace and attain that objective in real terms for which God sent the Promised Messiah(as) and may we also be helpers of this objective and have God loving grace on us. Martyrdom of Jawad Karim sahib in Green Town Lahore and death of his mother Razia Karim Dehlvi sahiba.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
14-Jun-2013   Urdu (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Submit to Allah and seek His protection
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Tamil | Malayalam
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

ان دنیاوی حکومتوں نے تو دنیا کے لحاظ سے جو چاہنا ہے کرنا ہےاور ماضی میں گزشتہ تقریبا جب سے قانون پاس ہوا ہے احمدیوں کے خلاف اسمبلی میں 38 سال ہونے لگے ہیں، یہ کر رہی ہیں بلکہ اس سے پہلے بھی حضرت مسیح موعودؑ کے زمانے سے بھی مخالفت چل رہی ہے، اس وقت سے بھی حکومت اگر حکومت کے لیول پر نہیں تو حکومتی کارندے کچھ نہ کچھ مخالفین کے ساتھ شامل ہو کر جماعت احمدیہ کے خلاف یا بعض احمدیوں کے خلاف منصوبے بناتے رہے ہیں، بہرحال چاہے ایک نظریہ رکھنے والی حکومت ہو یا دوسرا اپنے زعم میں تو انہوں نے احمدیوں کو دائرہ اسلام سے خارج کیا ہوا ہے اور یہی ایک وجہ ہے مخالفت کی، یہی ایک وجہ ہے ملا کو کھلی چھوٹ دئیے جانے کی اور ظلموں کی انتہا بھی جو بھی حکومت آئے ، وہ ایک طرح سے ہو رہی ہے ہر حکومت میں بلکہ بڑھ رہی ہے۔ پس ہمیں زبردستی غیر مسلم بنا کر کچھ بھی ظلم یہ آئینی مسلمان ہم پر کریں یا حکومتیں یا وزراء یا ان کے کارندے ہم پر کریں ، یہ اﷲ تعالیٰ کی نگاہ میں گناہگار بن رہے ہیں اور ہمیں خداتعالیٰ کے قریب لا رہے ہیں، ان کی یہ حرکتیں یقینا ہمیں خدا تعالیٰ کے قریب لانے والی ہونی چاہئیں، ہر احمدی کو اس بات کا احساس ہونا چاہئے، اور خداتعالیٰ کا یہ قرب اور اس قرب میں مزید بڑھنا، یہی الہٰی جماعتوں کا شیوہ ہوتا ہے اور ہونا چاہئے، آئینی مسلمان کی تشریح کرتے ہوئے حضور نے فرمایا کہ جن کو اس بات کا پتہ نہیں ان کے علم کیلئے بتادوں کہ پاکستان کا آئین یہ کہتا ہے احمدی آئینی اور قانونی اغراض کیلئے مسلمان نہیں ہیں۔ اگر کوئی حکومت یا وزیر یا انکے چیلے احمدیوں پر ظلم کریں گے تو دنیا میں اپنی حکومت کو اور ملک کو بدنام کریں گے، حکومت کے بدنام ہونے سے ہمیں فرق نہیں پڑتا جو بھی حکومت آتی ہے ، گو ایک پاکستانی ہونے کی حیثیت سے شرمندگی بہرحال ہوتی ہے، لیکن ملک کی بدنامی سے ہر احمدی کا دل خون ہوتا ہے کیونکہ اس ملک کی خاطر ہم نے بڑی قربانیاں دی ہوئیں ہیں، یہاں مذہب کے نام پر خون کر کے یہ لوگ نہ صرف ملک کو بدنام کر رہے ہیں بلکہ یہ سب کچھ جو ہورہا ہے اسلام کے نام پر ہورہا ہے اور اسلام جو صلح ،امن، بھائی چارے اور محبت کا مذہب ہے اسے بھی بدنام کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ابھی دو دن پہلے یہاں یوکے جماعت کے سو سال پورے ہونے پر یہاں پارلیمنٹ ہاؤس میں ایک فنکشن تھا ، جس میں 42 پالیمنٹیرین شامل ہوئے، جن میں سے ڈپٹی پرائم منسٹر صاحب بھی آئے ہوئے تھے، 6 وزراء بھی آئے ہوئے تھے، اور 20 دوسرے ڈپلومیٹ اور پڑھا لکھا طبقہ تھا، حضرت خلیفۃ المسیح نے ان کے سامنے اسلام کی خوبصورت تعلیم اور آنحضرت ﷺ کے اسوہ کی روشنی میں بتایا کہ کیا حقیقی اسلام ہے۔ پس ہمیں کسی دنیاوی حکومت کی طرف دیکھنے کی بجائے خداتعالیٰ کی طرف دیکھنے کی ضرورت ہے، اسکے منہ کی طرف دیکھتے ہوئے اس کے حکموں پر چلنے کی ضروررت ہے، باقی رہا یہ کہ مذہب کے ٹھیکیداروں کا یہ اعلان کہ جو ہمارے کہنے کے مطابق ہیں کرتا اور ہمارے پیچھے نہیں چلتا، وہ اﷲتعالیٰ کی طرف سے دھتکارا ہوا ہے اور جہنمی ہے، اس لئے اپنے لوگوں کو یہ کھلی چھٹی دیتے ہیں کہ جو چاہے ان لوگوں سے کرو، تم جو چاہے احمدیوں سے کرو تمہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے اور یہی کچھ عملا ہو بھی رہا ہے کہ حکومت جو قانون کی بالادستی کا دعویٰ کرتی ہے، احمدیوں پر ظلموں پر نہ صرف یہ کہ کچھ نہیں کرتی بلکہ وہ الٹا ظالم کا ساتھ دیتی ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: خداتعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی راہ یہ ہے کہ اس کیلئے صدق دکھلایا جائے، حضرت ابراہیمؑ نے جو قرب حاصل کیا اس کی وجہ یہی تھی ، خداتعالیٰ کے ساتھ وفاداری اور صدق اور اخلاص دکھانا ایک موت چاہتا ہے، جب تک انسان اس دنیا کی لذتوں اور شوکتوں پر پانی پھیر دینے کو تیار نہ ہوجاوے اور ہر ذلت اور سختی اور تنگی خداتعالیٰ کیلئے گوارا کرنے کیلئے تیار نہ ہو، یہ صفت پیدا نہیں ہوسکتی، فرمایا جب تک خالص خداتعالیٰ کیلئے ہی نہیں ہوجاتا اور اس کی راہ میں ہر مصیبت برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہو جاتا ، صدق اور اخلاص کا رنگ پیدا ہونا مشکل ہے۔ ایک احمدی کو 11 جون کو کراچی میں شہید کر دیا گیا ہے، آپ کا نام چوہدری حامد سمیع صاحب ہے ، انکے خاندان میں احمدیت کا نفوس انکے دادا کے ذریعے سے ہوا تھا ، انکے دادا مکرم چوہدری عبدالرحیم صاحب کا تعلق گورداسپور انڈیا سے تھا، بیعت کے بعد آپ کو اپنے والدین کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ، انکے دادا کے والد انکی ہتھیلیوں پر چارپائی کے پائے رکھ کے باندھ دیا کرتے تھے اور خود چارپائی پہ سو جایا کرتے تھے، حامد صاحب کی پیدائش لاہور میں ہوئی، آپ کی عمر48 سال تھی اور پیشہ کے اعتبار سے چارٹرڈ اکاؤنٹٹ تھے۔

These worldly governments will persecute; this has been the situation since the legislation has been promulgated in Pakistan. Opposition has been carrying on since the time of the Promised Messiah(as). Although it was not on a governmental level at the time, still government workers used to hatch plans against us. In any case, whether it is a government of one ideology or another ideology, in their presumption they have excluded Ahmadis from the fold of Islam and whichever government comes, it carries out persecution against Ahmadis, in fact the persecution is increasing. If these ‘constitutional’ Muslims or their governments or ministers or workers commit oppression, they are sinful in the sight to God and by virtue of this we get closer to God for certainly these matters bring Ahmadis closer to God. Explaining the term ‘constitutional’ Muslims to those who may not know, Hazrat Khalifatul Masih said according to the constitution of Pakistan Ahmadis are not Muslims in constitutional and religious terms. If any government, its ministers or workers commit cruelty, they will bring their own government in disgrace. It is irrelevant to us if the government is disgraced although as Pakistanis, it hurts us because Ahmadis have given great sacrifices for Pakistan. By murdering people in the name of religion, not only do these people disgrace Pakistan, they also bring Islam in disrepute which is a religion of peace and conciliation. A couple of days ago an event was held at the UK Parliament House to mark the 100 years of UK Jama’at. The event was attended by 42 MPs, including the deputy Prime Minister and 6 ministers, diplomats and other notables. Hazrat Khalifatul Masih gave a presentation on true Islam in light of the beautiful teaching of Islam and the blessed model of the Holy Prophet(saw). Rather than look to these worldly governments, we should turn to God and follow His commandments. As for the proclamation of the caretakers of religion that whoever does not follow them is accursed and hell-bound therefore they have given free rein to their people to do whatever they wish to Ahmadis – which is what is going on – governments which talk of supremacy of law in actual fact side with the persecutors. The Promised Messiah(as) has written that Hazrat Ibrahim(as) gained nearness to God owing to his honesty, loyalty and sincerity. To be loyal and sincere to God requires a kind of death. This quality cannot be inculcated unless one completely foregoes all worldly pleasures and pomp and is ready to endure every disgrace for the sake of God. It is difficult to instil honesty and sincerity without being prepared to undergo all manner of trouble in God’s cause. The Ahmadi martyred in Karachi on 11 June was Chaudhry Hamid Sami sahib shaheed. Ahmadiyyat came in his family through his grandfather who also endured severe opposition after accepting Ahmadiyyat. His father used to place the feet of bedstead on the palms of his hand and sleep on the bedstead. Hamid sahib was born in Lahore. He was 48 year old and was a charted accountant by profession.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
07-Jun-2013   Urdu (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Humility: A pre-requisite for patience and prayers
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Tamil
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

پس ایک مومن جب یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں خدا تعالیٰ کے کلام پر ایمان لانے والا ، اس کو پڑھنے والا اور اس پر عمل کرنے والا ہوں تو پھر لازماً قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق ، اس کی عبادتیں بھی اور اس کے دوسرے اعمال بھی، وہ اس وقت تک نہیں بجا لا سکتا جب تک اس میں عاجزی اور انکساری نہ ہویا اس کی عاجزی اور انکساری ہی اسے ان عبادتوں اور اعمال کے اعلیٰ معیاروں کی طرف لے جانے والی نہ ہو، انبیاء اس مقصد کا پرچار کرنے، اس مقصد کو پھیلانے ، اس بات کو لوگوں میں راسخ کرنے اور اپنی حالتوں سے اس کا اظہار کرنے کیلئے اﷲتعالیٰ کی طرف سے دنیا میں آتے رہے جس کی اعلیٰ ترین مثال ہمیں آنحضرت ﷺ کے اسوہ میں نظر آتی ہے۔ پس یہ ہے اس شارہ کامل کا نمونہ جس کا اسوہ اپنانے کی امت کو بھی تلقین کی گئی ، قرآن کریم جب ہمیں احکامات پر عمل کرنے کیلئے کہتا ہے تو اس کا کامل نمونہ آنحضرت ﷺ کی ذات میں ہمارے سامنے کھڑا ہوتا ہے ، آپکی عبادتیں ہیں تو اس کے وہ اعلیٰ ترین معیار ہیں کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اعلان کر دے کہ میرا اپنا کچھ نہیں، میری عبادتیں بھی صرف اور صرف خدا تعالیٰ کیلئے ہی ہیں، میں اپنی ذات کیلئے کچھ حاصل نہیں کرتا اور نہ کرنا چاہتا ہوں بلکہ صرف اور صرف خدا تعالیٰ کی رضا میرے پیش نظر ہے۔ پس آنحضرت ﷺ کے ماننے والوں کو بھی اﷲتعالیٰ فرماتا ہے کہ تم بھی عاجز انسان بنو تاکہ اﷲ تعالیٰ کا قرب حاصل کرو، یہ آیات جو حضور نے تلاوت فرمائی ہیں، ان میں عاجزی اختیار کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے طریقے بتائے گئے ہیں، فرمایا خدا تعالیٰ کا قرب حاصل نہیں ہوسکتا اگر اپنے آپ کو لا شے مہ سمجھتے ہوئے عاجزی کے انتہائی معیاروں کو حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرو گے، اﷲ تعالیٰ کے بتائے ہوئے راستوں پر نہیں چلا جا سکتا اور اس کے احکامات پر عمل نہیں ہوسکتا ، اگر عاجزی سے اس کے فضل کے حاصل کرنے کی کوشش نہ کرو، فرمایا عاجز ہو کر اس کی مدد اس کے فضل کے حصول کیلئے مانگو ، اﷲ تعالیٰ مختلف قوموں کے ذکر میں بھی جو مثالیں فرماتا ہے، بعض دفعہ براہ راست حکم دیتا ہے بعض دفعہ قوموں کا ذکر کرتا ہے ، پرانے لوگوں کے حالات بیان کرتا ہے۔ اﷲتعالیٰ انہیں صبر کرنے والوں اور دعائیں کرنے والوں کی پرواہ کرتا ہے جو عاجزی میں بھی بڑھے ہوئے ہیں اور اﷲتعالیٰ سے ایسا تعلق پیدا کئے ہوئے ہیں کبھی نہ ٹوٹنے والا ہے، اس زمانے میں تو خاص طور پر حضرت مسیح موعودؑ کو اﷲتعالیٰ نے فرمایا ہےکہ تیری عاجزانہ راہیں اسے پسند آئیں، یہ عاجزانہ راہیں ہی تھیں جنہوں نے ترقی کی نئی راہیں کھول دیں، پس ہم جو آپؑ کے ماننے والے ہیں، ہم نے اگر اﷲتعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنا ہے، ہم نے اگر خداتعالیٰ کی مدد سے حصہ لینا ہے، ہم نے اگر اپنے صبر کے پھل کھانے ہیں، ہم نے اگر اپنی دعاؤں کی مقبولیت کے نظارے دیکھنے ہیں تو پھر عاجزی دکھاتے ہوئے اور مستقل مزاجی سے خداتعالیٰ کے حضور جھکے رہنا ضروری ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: ہماری جماعت کو اس پر توجہ کرنی چاہئےکہ ذرہ سا گناہ کیسا ہی صغیرہ ہو جب گردن پر سوار ہو گیا تو رفتہ رفتہ انسان کو کبیرہ گناہوں کی طرف لے جاتا ہے، طرح طرح کے عیوب مخفی رنگ میں انسان کے اندر ہی اندر ایسےرچ جاتے ہیں کہ ان سے نجات مشکل ہو جاتی ہے، انسان جو ایک عاجز مخلوق ہے اپنے تئیں شامت اعمال سے بڑا سمجھنے لگ جاتا ہے ، کبر اور رعونت اس میں آجاتی ہے، اﷲ کی راہ میں جب تک انسان اپنے آپ کو سب سے چھوٹا نہ سمجھے چھٹکارا نہیں پاسکتا۔ اﷲتعالیٰ کرے کہ جماعت بحیثیت جماعت بھی اور ہر فرد جماعت عاجزی اور انکساری کے اس مقام پر پہنچے جہاں ان کا صبر بھی حقیقی ہو، ان کی عبادتیں بھی حقیقی عبادتیں بن جائیں، جو خداتعالیٰ کے ہاں مقبول ہیں، ان صبر اور دعاؤں کے پھل اگلے جہاں میں نہیں بلکہ اس دنیا میں بھی ایسے لگیں کہ دنیا کو نطر آجائے کہ یہ جماعت ہے جو حضرت مسیح موعود ؑ نے پیدا کی ہے، جو اﷲتعالیٰ کے حضور عاجزی سے حاضر ہونے والی ، اﷲتعالیٰ کی عبادت کا حق ادا کرنے والی اور ہر حکم پر اﷲ تعالیٰ کے نہایت عاجزی سے عمل کرنے والی ہے۔

When a believer claims to believe in God and to read the Word of God and says that he follow it in his practices, he cannot truly accomplish these unless he is humble and meek or unless owing to his humility and humbleness his worship of God and other deeds attain high standards. Prophets of God have come in this world to propagate this objective and they led by their own blessed examples. This is the blessed model which the Muslim Ummah are advised to follow. When the Holy Qur’an enjoins us to follow God’s commandments, the perfect example of this is illustrated in the person of the Holy Prophet(saw). With reference to his lofty standard of worship, God has stated that he should declare that his worship is only for the sake of God and he did not wish to seek anything for himself through his worship of God. The verses recited at the start illustrate adopting humility and ways to gain nearness to God. It is stated that God’s nearness will be attained if high levels of humility is adopted. Besides, one cannot abide by the commandments of God if one does not seek God’s grace with humility. Thus, one should seek God’s help for His grace with humility and humbleness. God’s teachings in the Holy Qur’an are given for the believers via direct commandments and also via stories of earlier people. Indeed, God cares for that person who has great humility and has a resilient, enduring connection with God. In the current age God specifically addressed the Promised Messiah(as) and said that He liked his humble ways. It was these humble ways that opened up great many avenues of progress. If one wishes to partake of these, if one wishes to taste the fruit of patience, have one’s prayers accepted, then it is essential to turn to God with humility and resolve. The Promised Messiah(as) said: ‘Our Jama’at should pay attention to the matter that when one is embroiled in a lesser sin, no matter how small, it gradually takes one to greater sins. All manner of defects get embedded in such a covert manner in a person that it becomes difficult to rid of them. Man, who is a humble being, beings to feel pompous and becomes conceited and haughty. One cannot rid of such matters unless one considers oneself most lowly in the way of Allah. May we, as a Jama’at and each Ahmadi individually, reach that stage of humility and humbleness, where our patience is real and our worship of God is also real and gain His acceptance. May our patience and prayers bear fruit in the Hereafter as well as this world in a way that the world may witness that we are the Jama’at established by the Promised Messiah(as); a Jama’at that submits to God with humility, pays the dues of worship of God and abides by His every directive with humility.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
31-May-2013   Urdu (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Proclaim the bounties of Allah - USA and Canadian Tour 2013
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Tamil
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

ایک مسلمان اور حقیقی مسلمان اور اس زمانے میں آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق کے غلام یقینا ہم احمدی ہیں ، یہ اﷲ تعالیٰ کی اس نعمت کو بھی حاصل کرنے والے بنیں ، پس ﷲ تعالیٰ کے اس فضل اور اس انعام کو بیان کرنا اور اس کا اظہار ایک احمدی پر فرض ہے، جس کا ایک طریق تو اﷲتعالیٰ کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے اپنی زندگی گزارنا ہے اور دوسرے دنیا میں یہ ڈھنڈدورا پیٹنا ہے اور دنیا کو بتانا ہے اور تبلیغ کرنا ہے کہ یہ نعمت ، یہ نور جو ہمیں ملا ہے ، آؤ اور اس سے حصہ لے کر اﷲتعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنو۔ حضرت خلیفۃ المسیح گزشتہ دنوں امریکہ اور کینیڈا کے دورہ پر تشریف لے گئے تھے ، وہاں مختلف پروگرام غیروں کے ساتھ بھی ہوتے رہے ، اﷲ تعالیٰ نے اسلام کا صحیح پیغام پہنچانے کی توفیق بھی عطا فرمائی اور اتنے وسیع پیمانے پر اﷲ تعالیٰ کے فضل سے یہ پیغام پہنچا کہ اس کا تصور بھی وہاں مقامی جماعت کے انتطام کرنے والوں کو خود بھی نہیں تھا، پس یہ اﷲ تعالی کے فضلوں میں سے فضل ہے نہ کہ کسی کی کوشش، جس کا اظہار پھر اﷲ تعالیٰ کا شکرگزار بناتا ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح کے اس دورے سے امریکہ اور کینیڈا کے ویسٹ کوسٹ میں جماعت کا تعارف ہوا کیونکہ حضور یہاں پہلے نہیں تشریف لے گئے تھے، حضور امریکہ میں لاس اینجلس تشریف لے گئے ، حضور نے فرمایا اس علاقے اور اس شہر کا مختصر ذکر میں وہاں ایک خطبہ میں کر چکا ہوں کہ کیسا علاقہ ہے، ہسپانوی لوگوں کا علاقہ ہےاور کیا کچھ وہاں کام کرنے ہیں جماعت نے ، غیروں کے ساتھ جو رابطہ ہوا اور اسلام کی حقیقی تصویر وہاں کے لوگوں تک جو پہنچی ، اس کا مختصر ذکر حضور آج اس خطبہ میں کریں گے ، وہاں ایک ہوٹل میں جماعت نے ریسیپشن بھی رکھی ہوئی تھی،جس میں مختلف طبقات کے لوگ خاصی تعداد میں شامل تھے، انتظامیہ کا خیال تھا کہ دنیا دار لوگ ہیں، شاید لوگ زیادہ تعداد میں نہ آئیں لیکن آخری دن تک ا ٓنے والوں کی اطلاع آتی رہی ۔ یہی ملک ہے جس میں اسلام اور آنحضرت ﷺ کے متعلق غلط رنگ میں بہت کچھ کہا جاتا ہے اور یہی ملک ہے جس میں اسلام اور آنحضرت ﷺ کی حقیقت بیان کی گئی تو سوائے تعریف اور اس تعلیم کے ہر ایک کے ضروری ہونے کے اظہار کے اور کوئی اظہار نہیں کرسکے یہ لوگ، اﷲتعالیٰ سب مسلمانوں کو بھی عقل دے کہ اسلام کی خوبصورت تعلیم کی خوبصورتی کو اپنے عمل سے دنیا میں قائم کریں۔ حضرت خلیفۃ المسیح کا انٹرویو وال سٹریٹ جنرل اخبار نے بھی کیا جو عالمی سطح پر پڑھا جانے والاا اخبار ہے اور اس کے پڑھنے والے بڑے اونچے طبقے کے لوگ ہیں، نمائندے نے پوچھا کہ آپ کیلیفورنیا کیوں آئے ہیں ؟ حضور نے فرمایا کہ ساری دنیا ہماری ہے اور ہم نے ہر جگہ جانا ہے اور انشاء اﷲتعالیٰ اسلام کا پیغام پہنچانا ہے ، باقی یہاں ہماری جماعت بھی ہے، ان کو بھی حضور ملنے آئے ہیں ، پھر ان لوگوں کے دماغوں میں شاید یہ ہوتا ہے کہ ہم بھی سیاسی لیڈروں کی طرح یا جس طرح عام طور پہ لوگ امریکہ بھیک مانگنے جاتے ہیں یا مدد کیلئے آتے ہیں، حضور بھی شاید اسی لئے آئے ہیں۔ اسکے بعد مسجد بیت الرحمٰن وینکوور کا افتتاح ہوا تھا ، وہاں بھی غیروں کو بلایا ہوا تھا مسجد کے افتتاح میں ، اس کو بھی میڈیا نے کافی کوریج دی ہے، مجموعی طور پر امریکہ میں 12 ملین لوگوں تک پیغام پہنچا جو بالکل بھی ممکن نہیں تھا ویسےاور کینیڈا میں مسجد کے حوالے سے اور جو حضور کے مختلف انٹرویو ہوئے ہیں اس سے تقریبا 8.5 ملین لوگوں تک پیغام پہنچا ہے ، سی بی سی ان کا ایک چینل ہے جس طرح یہاں بی بی سی ہے ، اسی طرح کا نیشنل چینل ہے ، اس نے خبر دی، اس کااندازہ ہے کہ دس لاکھ لوگوں تک پیغام پہنچا۔ حضرت مصلح موعودؓ کا بھی ایک ارشاد ایک شوریٰ کے موقع پر تھا، آپ فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک مغرب سے سورج نکلنے میں امریکہ کا بھی بہت تعلق ہے ، پس ہمیں خاص طور پر امریکہ میں تبلیغی پروگرام بنانے چاہئیں لیکن ساتھ ہی یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ تبلیغ کرتے ہوئے نہ اپنی تربیت کو اور نہ نئے آنے والے کی تربیت کو بھولنا چاہئے، یہ دونوں چیزیں ضروری ہیں، اور یہ صرف اس وقت ہوسکتا ہے کہ اﷲتعالیٰ کی نعمت کا اپنے اعمال کے ذریعے سے بھی ہم اظہار کریں۔

"We Ahmadis are the servants of the true and ardent devotee of the Holy Prophet(saw), the Promised Messiah(as) and we have attained these bounties. It is obligatory on each Ahmadi to relate bounties and blessings of God. One way to do this is to abide by the commandments of God while another way is to announce it to the world, via Tabligh, that come and share this spiritual light that we have been given and become recipients of God’s blessings. Hazrat Khalifatul Masih has recently been on a tour of USA and Canada where different programmes were held with outside guests. God enabled to relay the real message of Islam and this message spread on such an extensive level that it proved beyond the expectations of the local Jama’at. This is a blessing among the blessings of God, and is not due to anyone’s efforts. The Jama’at was introduced in the West coast of USA by virtue of this tour where Hazrat Khalifatul Masih had not been before. He went to Los Angeles. The city, the area and its Hispanic population and the tasks the Jama’at there has to undertake were mentioned in a previous Friday sermon. Today Huzoor recounted the introduction of the Jama’at to outside guests. A reception was organised at a hotel in LA by the Jama’at. Management thought that being worldly-minded, perhaps many people would not turn up and till the last day responses were coming in. This indeed is the same country in which many erroneous things were said about Islam and the Holy Prophet(saw) and now that the teaching of Islam was taken there, they could not but concur with what was said. May God also give sense to the Muslims that they may establish the beautiful teaching of Islam through their practice. Hazrat Khalifatul Masih was also interviewed by Wall Street Journal, a high-brow newspaper with an international circulation. The correspondent asked why Huzoor was visiting California? He responded by saying that the entire Earth is ours and we have to take our message everywhere. Besides, he was there to meet members of his Jama’at. Perhaps this question stemmed from a preconception based on politicians visiting USA to make worldly gains. Next stop on the tour was Vancouver, Canada where Baitur Rahman mosque was inaugurated. Outside guests were invited and the event received good coverage by the media. On the whole, in Canada our message reached 8.5 million people through the mosque inauguration and through various interviews of Hazrat Khalifatul Masih. CBC a national channel like the BBC here reported the mosque inauguration watched by an estimated 1 million viewers. Hazrat Musleh Maud(ra) once said that there was a USA connection to ‘the sun rising from the West’. We should make specific Tabligh programmes in USA but should also be mindful not to overlook our own Tarbiyyat and the Tarbiyyat of the newcomers. This should be done by being thankful and exhibiting this through our practices.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
24-May-2013   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bosnian (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Khilafat-e-Ahmadiyya
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا : مئی کے مہینے میں جماعت احمدیہ کیلئے ایک خاص دن ہے یعنی ۲۷ مئی کا دن جو یوم خلافت کے طور پر جماعت میں منایا جاتا ہے ،اسی حوالے سے گو ابھی تین دن باقی ہیں میں نے اپنا مضمون رکھا ہے،جہاں ۲۶ مئی ۱۹۰۸ کا دن جماعت احمدیہ کیلئے ایک دل ہلا دینے والا دن تھا، بہت سوں کے ایمانوں کو لرزا دینے والا دن تھا ، بعض طبیعتوں کو بے چین کردینے والا دن تھا، دشمن کیلئے افراد جماعت کے دلوں اور جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا دن تھا۔ پس جماعت احمدیہ کیلئے ۲۷ مئی کا دن کوئی عام دن نہیں ہے ، اس دن کی بڑی اہمیت ہے اور اس دن کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے جب ہم آنحضرت ﷺ کی پیشگوئیوں کو بھی دیکھتے ہیں، امت مسلمہ کی اکثریت بڑی حسرت سے جماعت کی طرف دیکھتی ہے بلکہ حسرت سے زیادہ حسد سے کہنا چاہئے دیکھتی ہےکہ ان میں خلافت قائم ہے ۔ پس پہلے تو آپ ﷺ نے اپنی نبوت کے بارے میں فرمایا ، پھر خلافت راشدہ کے قیام کا ذکر فرمایا جو نبوت کے طریق پر آگے بڑھتے چلے جانے والی ہوگی اور دنیا نے دیکھا کہ پہلی چار خلافتیں جو خلافت راشدہ کہلاتی ہیں کس طرح دنیا کی چاہ و حشمت سے دور اور خالصۃ لی اﷲ اﷲتعالیٰ کی رضا کو ہر آن سامنے رکھتے ہوئے ہر آن امور خلافت سر انجام دیتی رہی۔ حضرت مسیح موعود ؑ کو آنحضور ﷺ نے ایک حدیث میں نبی اﷲ کہ کر پکارا ، پھر فرمایا میرے اور مسیح کے درمیان کوئی نبی نہیں ، پھر آخرین منہم کی آیت کے مطابق اﷲتعالیٰ نے آخری زمانے میں مبعوث ہونے والے کو آنحضرت ﷺ کا مبعوث ہونا قرار دیا گویا آنے والا مسیح موعودؑ آنحضرت ﷺ میں فنا ہو کر آپﷺ کے ظل کے طور پر مبعوث ہو کر نبوت کا مقام پائے گا۔ بہت سے لوگ ہیں جو جماعت احمدیہ میں شامل ہوتے ہیں لیکن کیونکہ خلافت احمدیہ سے جڑے رہنے کا حق ادا کرنے والے نہیں ہوتے اس لئے اﷲ تعالیٰ کی تقدیر ان کو جماعت سے باہر کر وا دیتی ہے ، دنیا داری کی خاطر وہ جماعت احمدیہ سے یا تو ویسے علیحدہ کردئیے جاتے ہیں یا خود ہی علیحدگی کا اعلان کر دیتے ہیں لیکن کیا کبھی ایسے لوگوں کے چلے جانے سے جماعت احمدیہ کی ترقی میں فرق پڑا۔ پس یہاں ان لوگوں کیلئے بھی تنبیہ ہے جو اپنے دنیاوی معاملات اور جھگڑے باوجود جماعت کے نظام کے ، جہاں یہ کوشش ہوتی ہے کہ شریعت اور قانون کو سامنے رکھ کر سلجھائے جائیں ، نظام جماعت کے سامنے انکار کرتے ہیں اور ملکی عدالت میں لے جاتے ہیں ، خاص طور پر جو عائلی اور گھریلو میاں بیوی کے مسائل ہیں۔ ہم ہر اجتماع پہ یہ عہد تو کرتے ہیں کہ خلیفہ وقت جو بھی معروف فیصلہ فرمائیں گے اس کی پابندی کرنی ضروری سمجھیں گے لیکن بعض چھوٹی چھوتی باتوں کی بھی پابندی نہیں کرتے بلکہ قرآن کریم کے جو احکامات ہیں ان کی بھی پابندی کرنے کی اور تعمیل کرنے کی کوشش نہیں کرتے ، جو کم از کم معیار ہیں ان کو بھی حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ لیکن ان لوگوں سے میں کہتا ہوں کہ اے دشمنان احمدیت ! یاد رکھو کہ ہمارا مولا ، ہمارا ولی وہ خدا ہے جو سب طاقتوں کا مالک ہے ، وہ کبھی تمہیں کامیاب نہیں ہونے دے گا ، اسلام کی ترقی اب حضرت مسیح موعودؑ کے ساتھ وابستہ ہے ، آنحضرت ﷺ کا جھنڈا اب دنیا میں حضرت مسیح موعودؑ کے غلاموں نے لہرانا ہے ، ان لوگوں نے لہرانا ہو جو خلافت علیٰ منہاج نبوت پر یقین رکھتے ہیں ، جو خلافت کے ساتھ منسلک ہیں ، جو جماعت کی لڑی میں پروئے ہوئے ہیں ، جو حبل اﷲکو پکڑے ہوئے ہیں ۔

For the members of the Ahmadiyya Muslim Jama’at there is a special day that comes in the month of May. I mean the 27th of May, which is known as Khilafat Day and is celebrated as such by the Jama’at. With reference to this, despite the fact that three days still remain, I have chosen to talk about this topic today. While the 26th of May 1908 was a heart rending day for the members of the Ahmadiyya Muslim Jama’at, and it shook the faith of many, and caused restlessness in the hearts of some, for the enemies of Ahmadiyyat it was a day they used to inflict pain and try and suffering on the members of the Ahmadiyya Muslim Jama’at. The 27th of May is not an ordinary day for the Ahmadiyya Muslim Jama’at. This is a very important day and this importance increases yet more when we cast a glance at the prophecies of the Holy Prophet Muhammad(saw). The vast majority of the Muslims of the world look to the Ahmadiyya Muslim Jama’at with great regret and resentment, infact we should say they look at us grudgingly and with great envy that we have Khilafat established among us. So clearly in this Hadith, first the Holy Prophet(saw) talks about his own Prophethood and then he talks about the establishment of Khilafat-e-Rashida, the Rightly Guided Khilafat which would move forward on the pattern, or lines of prophethood, and the world saw and witnessed how the first four Khilafat, which are referred to as Khilafat-e-Rashida, had nothing to do with the worldly kingships and their pomp and glory. They operated with just one goal in mind; to please Allah and kept this in view as they discharged the duties of Khilafat. In one of his sayings, the Holy Prophet(saw) has referred to the Promised Messiah(as) as, “nabeeullah,” or Messenger and Prophet of Allah. Then the Holy Prophet(saw) has also said that between me and the Promised Messiah(as) there is no Prophet. Then in accord with verse 4 of Sura Jumu’ah, wa aakhareena minhum, the Holy Prophet(saw) said that the one who was to be raised in the latter days would be like unto his own coming into the world. There are many people who join the Ahmadiyya Muslim Jama’at but because they are those who fail to discharge their obligations to Khilafat-e-Ahmadiyya, so the Decree of Allah causes them to separate from the Jama’at-e-Ahmadiyya. For the sake of their worldly concerns and desires either they are separated from the Jama’at or they themselves announce their separation from the Jama’at. So here, there is a warning for those people also who take their worldly disputes and affairs in front of the courts of the country despite the fact that a system exists in the Jama’at where an attempt is made to resolve these disputes and make whole their affairs based on the Sharia and teachings of the Holy Quran - especially the affairs that relate to the family disputes and disputes involving husband and wife. At every Ijtema, get together, we take the oath that we shall consider it our duty to carry out whatever good things the Khalifa of the time asks us to do and yet we fail to abide and carry out some very small things even - more than that, we fail to make an effort to observe some of the directions contained in the Holy Quran and do not try to meet or attain the minimum standards that are required. But I say to these people that, O enemies of Ahmadiyyat! Remember that our Lord, our Friend, is that God Who is the Possessor of All Powers. He will never allow you to succeed. The progress of Islam is now destined to take place through the Promised Messiah(as). The flag of the Holy Prophet of Islam will now be raised in the world through the servants of the Promised Messiah(as), this flag will be raised now in the world by those who have firm faith in Khilafat on the pattern of prophethood, those who are attached to Khilafat, who have become the beads of the necklace that is the Jama’at-e-Ahmadiyya, who have firmly gotten hold of the rope of Allah.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
17-May-2013   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Building of Mosques -- An Ahmadiyya Priority
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Indonesian
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

آج اﷲ تعالیٰ کے فضل سے کینیڈا کے اس صوبہ میں جو برٹش کولمبیا کہلاتا ہے ، جماعت احمدیہ کو اپنی مسجد بنانے کی توفیق مل رہی ہے ، گویا یہاں آپ میں سے بعض خاندانوں کو آئے چالیس سال سے اوپر اور شاید پچاس سال بھی ہو گئے ہوں لیکن بہرحال ۲۵ سال سے ۳۰ کے عرصہ یہاں رہنے والے تو شاید کافی تعداد میں ہیں لیکن مسجد بنانے کی توفیق آپ کو اب مل رہی ہے ۔ وینکوور برٹش کولمبیا کا سب سے بڑا شہر ہے ، احمدیوں کی تعداد بھی حضور کے خیال میں اسی شہر میں سب سے زیادہ ہے اور آپکی تعداد کے لحاظ سے یہ کوئی بڑی مسجد نہیں ہے اور پھر خداتعالیٰ جو اپنے فضل سے تبلیغ کے راستے کھول رہا ہے ، وہ بھی ہم سے تقاضا کرتے ہیں کہ ہماری جگہیں وسیع ہونی چاہئیں۔ ہم نے مسجدیں آباد کر کے اﷲتعالیٰ کی عبادت کا حق ادا کر کے اور اس کے حکم کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھال کر مساجد کی تنگی کو اپنے اوپر خدا تعالیٰ کی وسعت کا ذریعہ بنانا ہے ، اﷲ تعالیٰ کے فضلوں کو بڑھاتے چلے جانے کا ذریعہ بنانا ہے ۔ یقینا مساجد کی تعمیر کے بعد تبلیغ کے راستے بھی کھلیں گے اور کھلتے ہیں ، حضور نے فرمایا مارچ کے آخر میں میں نے ویلینشیا کی مسجد کا افتتاح کیا تھا ، اب جو رپورٹس آرہی ہیں اس کے مطابق جہاں غیر مسلموں کی اس طرف توجہ پیدا ہورہی ہے ، اسلام کے بارہ میں وہ لوگ جان رہے ہیں ، وہاں غیر از جماعت مسلمان بھی نمازیں پڑھنے کیلئے آتے ہیں اور جماعت کا تعارف حاصل کر رہے ہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا: اگر ایمان کے معیار حاصل کرنے ہیں تو اپنے اخلاق بھی بلند کرو ، اخلاق کی بلندی کا حقوق العباد کی ادائیگی سے صحیح پتہ چلتا ہے ، گویا صرف نمازیں پڑھ لینا اور اپنے زعم میں خدا تعالیٰ کا حق ادا کردینا ہی خدا تعالیٰ کا قرب دلانے والا اور ایمان لانے والا نہیں بناتا ، بلکہ اپنے معاشرے کے حقوق جو ہیں ان کی ادائیگی بھی ایک ایمان کا دعویٰ کرنے والے کیلئے انتہائی ضروری ہیں ، پھر آپ نے فرمایا کہ سستی اور کفل کی حالت سے بھی بچو کہ یہ بھی خدا تعالیٰ سے دور لے جاتی ہے۔ اﷲتعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ مالی قربانی کے لحاظ سے غیر معمولی قربانی کرنے والی ہے ، کم از کم ایک طبقہ ایسا ہے جو غیر معمولی قربانی کرنے والا ہے ، اس مسجد کی تعمیر میں بھی کئے افراد ایسے ہیں جنہوں نے لاکھوں ڈالر تک قربانی دی ہے۔ حضور نے فرمایا : اس مسجد کے بننے سے جیسا کے میں نے کہا تبلیغ کے راستے بھی کھلیں گے لیکن اگر ہمارے عمل ایسے نہیں کہ جو خداتعالیٰ نے بیان فرمائے ہیں تو نہ ہم خیر امت ہیں ، نہ ہمارا ایمان اﷲ تعالیٰ پر ہے ، اور نہ ہی ہماری نمازیں کسی کام کی ہیں ، نہ ہماری مالی قربانیاں خدا تعالیٰ کے ہاں قابل قبول ہیں ، نہ ہمارا یہ دعویٰ سچا ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کا خوف رکھنے والے ہیں۔ اس مسجد کی تعمیر کا اعلان ۱۹۹۷ میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ نے فرمایا تھا اور بیت الرحمٰن نام بھی رکھا تھا ، کل تقریبا 3.75ایکڑ کا رقبہ ہے اسکا ، اور مسقف حصہ 33419مربع فٹ ہے، دہ منزلیں ہیں،گنبد کی اونچائی 47فٹ ہے، مینار کی 76 فٹ اونچائی ہے ، اس وقت مردوں اور عورتوں کا ہال ملا ہوا ہے اور دونوں ہالوں کی گنجائش ۶۸۰۰ مربع فٹ ہے اور 1132افراد نماز پڑھ سکتے ہیں۔

Today, by the Grace of Allah, the Ahmadiyya Muslim Jama'at of British Columbia has been blessed with the ability to build a mosque. Some of the Ahmadi families have been living here for the last 40 and perhaps even 50 years. Many have certainly been here for at least 25 or 30 years but you have been able to build the mosque here only now. Vancouver is the biggest city of British Columbia and this is where the largest number of Ahmadis of BC live and based on the number of Ahmadis living in BC this is not really a very big mosque. And then, when we look at the Grace of Allah, the Exalted, and the manner in which the avenues for conveying the message of Islam-Ahmadiyyat are being opened up, they also demand from us that our places be large and spacious. By populating mosques, by fulfilling the requirements of worshipping God, and in accord with His directives by making our lives fully in line with His teachings we shall make the increasing needs to expand our mosques a way to draw upon ourselves more and more blessings of Allah and make this a way to go on gaining every day more and more Grace of God. It is certainly true that once mosques are built then new avenues open up for conveying the message of Islam-Ahmadiyyat. At the end of March I inaugurated the mosque in Valencia, Spain and now reports are reaching me that non Muslims are making inquiries about Islam and also non Ahmadi Muslims are coming to offer their prayers and gaining knowledge about the Jama'at. The Promised Messiah(as) said that if you wish to attain to the high stages of belief, then you must try to attain to the highest levels of moral qualities also. And the way you can judge your level of high morals is by looking at your discharge of duties you owe to your fellow human beings. So just offering prayers, and in your own mind discharging the duties you owe to God is not sufficient in attaining the nearness of God. By the Grace of Allah the Ahmadiyya Jama'at is extraordinary in its zeal for making financial sacrifices for the sake of Allah. At the least there is a group that makes amazing extraordinary sacrifices. In the construction of this mosque there are members who have sacrificed hundreds of thousands of dollars. By having built this mosque, as I have said, the avenues of conveying our message to others shall open up but if our actions are not as they ought to be, as God has mentioned them, then neither are we the best people, nor is our faith in Allah true. And our prayers serve no purpose and our financial sacrifices will not find acceptance of God and neither will our claim be true that we have the fear of God in our hearts. The announcement of this mosque's construction was made in 1997 by Hadhrat Khalifatul Masih IV(ra) and he also named it at that time as Masjid Baitur Rahman. It is situated on roughly 3.75 acres of land and has a covered area of 33,419 sq ft. It has two floors and a dome that is 47 ft high and a minaret that is 76 ft high. At the moment both the men and women's halls are combined and this combined area is 6,800 sq ft. and in this combined hall a total of 1,132 people can offer prayers.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
10-May-2013   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Swahili (mp3)Turkish (mp3)

Title: Spread the Message of Islam to Hispanics
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Tamil | Malayalam
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا : ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ احمدیت نے دنیا پر غالب آنا ہے انشاء اﷲتعالیٰ ، احمدیت اسلام سے کوئی علیحدہ چیز نہیں ، اصل میں حقیقی اسلام ہی احمدیت ہے یا احمدیت ہی حقیقی اسلام ہے ، ہمارے مخالفین چاہے جتنا مرضی شور مچاتے رہیں کہ احمدی مسلمان نہیں لیکن اﷲ تعالیٰ کی فعلی شہادت ہر آن ہمیں من حیث الجماعت یہ تسلی دلاتی رہتی ہے کہ خدا ہمارے ساتھ ہے اور دنیا کو حقیقی اسلامی تعلیم اگر کہیں مل سکتی ہے تو آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق سے مل سکتی ہے ، اس امام الزماں سے مل سکتی ہے، اس مسیح موعود و مہدی موعود سے مل سکتی ہے جس کو اﷲ تعالیٰ نے اپنے وعدے کے مطابق اسلام کی نشعط ثانیہ کیلئے مقرر فرمایا ہے یا جس کے ذریعے سے اسلام کا احیا ءنو ہونا ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا : پس مجھے تو اس بارہ میں اﷲ تعالیٰ کے فضل سے رتی بھر بھی شک نہیں ہے اور نہ ہی کسی سچے احمدی کو ہوسکتا ہے کہ نعوذ باﷲ جماعت کسی وقت بھی اﷲتعالیٰ کی تائیدات سے محروم رہ جائے گی یا یہ غلبہ نہیں ہوگا، یہاں ہر احمدی پر یہ واضح ہونا چاہئے کہ یہ غلبہ کیا ہے ، کیا حکومتوں پر قبضہ کرنا غلبہ ہے ، یا ہر ملک میں احمدیوں کی اکثریت ہو جانا غلبہ ہے، یہ بھی ایک قسم ہے غلبہ کی لیکن اﷲتعالیٰ کی سنت ہے کہ غلبہ دو طریقوں سے ہوتا ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا : پس دنیا کو توحید پر قائم کرنے اور دین واحد پر جمع کرنے کیلئے جن باتوں کی ضرورت ہے وہ ایک تو تبلیغ ہے، اﷲ تعالیٰ کا پیغام پہنچانا، دوسرے اپنے اخلاق کو اعلیٰ سطح پر لے جانا ، تیسرے دعاؤں کے ذریعے سے خدا تعالیٰ سے مدد چاہنا ، پس آج ہر احمدی کو ، ہر اس شخص کو جو اپنے آپ کو حضرت مسیح موعودؑ کی طرف منسوب کرتا ہے ، اس ذمہ داری کو سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ اس مقصد کے حصول کا ذریعہ بن سکے جس کیلئے حضرت مسیح موعودؑ بھیجے گئے تھے ، بیشک نشانا ت اور براہین خداتعالیٰ نے عطا فرمائےاور آج تک ان نشانات کے ذریعے ہی ہم احمدیت کی ترقی دیکھ رہے ہیں، اگر اپنی کوشش دیکھیں تو ہزارواں لاکھواں حصہ بھی نہیں ان فضلوں کا جو اﷲ تعالیٰ جماعت پر فرما رہاہے۔ جب ایک احمدی اپنے اجلاسوں اور اجتماعوں میں یہ عہد کرتا ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا تو پھر اس کا مکمل پاس کرنا بھی ضروری ہے ، تبھی ہمارے نمونے دیکھتے ہوئے دنیا ہماری طرف متوجہ ہوگی، جب خلفاء دنیا کو یہ چیلنج دیتے رہے یا اب جب حضرت خلیفۃ المسیح دنیا کو یہ کہتے ہیں کہ ہم اﷲ تعالیٰ کی طرف بلانے کے پیغام کو بغیر تھکے دنیا تک پہنچاتے چلے جائیں گے اور ایک دن دنیا کا دل جیت کر انہیں اسلام کی آغوش میں لے آئیں گے ، تو اس حسن ظن کے ساتھ یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ اعمال کی خوبصورتی اور خدا تعالیٰ کی کامل فرمانبرداری کرتے ہوئے افراد جماعت کی روحانی ترقی کے معیار نہ صرف قائم رہیں گے بلکہ بہتر سے بہتر ہوتے چلے جائیں گے اور وہ حضرت مسیح موعودؑ کے مشن کو ایک لگن کے ساتھ آگے چلاتے چلے جائیں گے۔ یہ جذبہ اور جوش تبلیغ کا پرانے احمدیوں اور بڑی عمر کے لوگوں میں نہیں ہےبلکہ حضرت خلیفۃ المسیح نے بعض نوجوانوں میں دیکھا ہے بلکہ یہاں ایک نو احمدی جو غالبا بے پوائنٹ پہ رہتے ہیں مجھے ملنے آئے تو بڑے جوشیلے تھے کہ کس طرح ان لوگوں کو جو مقامی سپینش ریجن کے ہیں ، ان لوگوں میں احمدیت اور حقیقی اسلام کس طرح پہنچایا جائے اور جلد سے جلد پہنچایا جائے، کہنے لگے مجھے بائیبل تو چالیس فیصد یاد ہے اور اب میں قرآن کریم کے دلائل بھی یاد کر رہا ہوں۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا : پس اب لگتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی تقدیر زمینیں بھی ہموار کرتی چلی جارہی ہے، امریکہ میں بھی اور ساتھ کے ہمسائے ملکوں میں بھی اﷲ تعالیٰ نے ہوا چلا دی ہے ، کیلیفورنیا میں تو ہسپانوی لوگوں کی اکثریت ہو چکی ہے، یہی کہا جاتا ہے اب ، جن میں بظاہر یہ لگتا ہے کہ مذہب کی طرف رجحان بھی ہے ، لیکن اب سچے مذہب کی تلاش ہے انہیں، پس اس علاقے کیلئے ایک خاص پروگرام بننا چاہئے اور یہاں رہنے والوں کو اپنی ذمہ داری ادا کرنے کی طرف توجہ دینی چاہئے، لٹریچر جو مہیا ہے فی الحال اسی سے استفادہ کریں اور جلد از جلد یہاں کی زبان کے مطابق بھی لٹریچر کو ڈھالنے کی کوشش کریں ۔

He said it is our claim that InshaAllah Ahmadiyyat will triumph. Ahmadiyyat is not separate from Islam, in fact, it is true Islam and true Islam is Ahmadiyyat. No matter how loud the outcry of our detractors in calling us non-Muslim, each step of the way practical testimony of God is with us in our capacity as a community. This assures us that God is with us and if the true Islamic teaching can be found anywhere today, it is found from the true and ardent devotee of the Holy Prophet(saw); the Imam of the age, the Messiah who was appointed by God, in fulfilment of Divine promise, for the revival of Islam. Hadhrat Khalifatul Masih said that he does not have an iota of doubt, and neither should any true Ahmadi, that our Community will ever be deprived of Divine succour. It should be clear to every Ahmadi what does the term triumph entail. Is it having control of governmental power? Is it to have majority of Ahmadis in every country? These are also kinds of triumphs. The points needed to bring people to the true religion are Tabligh, attainment of moral excellence and seeking God’s help through prayers. Each Ahmadi who is associated with the Promised Messiah(as) needs to understand these responsibilities so that he can be a means to achieve the objective for which the Promised Messiah(as) came. Our own efforts in this regard are a fraction of the grace that comes from God. Ahmadis pledge in their meetings to give precedence to faith over worldly matters. This should be upheld through our practices. When Khulafa challenge the world or when Hadhrat Khalifatul Masih tells the world that we will untiringly take our message to the world and will one day bring the world together, it is based on the positive assumption that the spiritual level of the members of the Community will become better and better and they will take the mission of the Promised Messiah(as) onwards and upwards. This enthusiasm and fervour is not only found in long-term and older Ahmadis. Hadhrat Khalifatul Masih has also seen it in younger people. A new Ahmadi of Hispanic ethnicity who perhaps lives in the Bay Point area met Hadhrat Khalifatul Masih and spoke with great enthusiasm as to how can the message of Islam be taken to people as soon as possible. He said he knew forty per cent of Bible and was now learning the reasoning and arguments of the Holy Qur’an. It appears that God’s decree is levelling the field for us and has started a wave in USA and in South America. It is said that Hispanic people are in majority in California and it seems that they are inclined towards religion and are looking for true faith. A special programme should be formulated for this region and people living here should assume their responsibility. Existing Spanish literature should be utilised for the time being and efforts should be made to prepare material in the ‘American Spanish’.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
03-May-2013 Urdu (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: God Consciousness and Unity of Allah
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

اﷲتعالیٰ نے ایک مومن کیلئے بنیادی شرط تقویٰ رکھی ہے ، اس بارہ میں بے شمار آیات قرآن کریم میں ہیں جن میں تقویٰ اختیار کرو، تقویٰ پہ قائم رہو، یہ تلقین مختلف حوالوں سے اﷲ تعالیٰ نے فرمائی ہے ، مختلف احکامات دیئے ہیں اور ان احکامات پر چلنےوالوں کو تقویٰ پر چلنے والا یا متقی کہا ہے اور عمل نہ کرنے والوں کو ان کے انجام سے خوف دلایا ہے ۔ آج کے اس دور میں ایمان لانے والوں میں سے احمدی وہ خوش قسمت ہیں جن کو باریکی سے خدا تعالیٰ سے تعلق کی طرف توجہ دلائی گئی ہے ، یہ حضرت مسیح موعودؑ کا ہم پر احسان ہے کہ کھول کھول کر ان اعلیٰ مدارج کے راستے دکھاتے ہیں جن سے ایک مومن خداتعالیٰ کا قرب حاصل کرسکتا ہے ، یقینا ہر انسان کا معیار، نیکی کا معیار بھی، فراست کا معیار بھی ، سمجھ کا معیار بھی، علم کا معیار بھی، مختلف ہوتا ہے، ایک جیسا نہیں ہوتا ہر ایک کا، اس لئے ہر ایک کو یہ حکم ہے کہ اپنی استعدادوں اور صلاحیتوں کی انتہا تک اﷲ تعالیٰ سے کئے گئے عہد اور اسکی امانتوں کی ادائیگی تک پہنچاؤ۔ ان ملکوں میں شرابیں ، جوا ، انٹرنیٹ، گندی اور لغو فلمیں ، غلط دوستیاں ہیں جہاں گھروں کو اجاڑ رہی ہوتی ہیں وہاں نوجوانوں کو غلط راستے پر ڈال کر خدا تعالیٰ کی ذات پر ایمان سے بھی ہٹا کر معاشرے کا ناسور بنا رہی ہوتی ہیں، ایک مستقل بیماری بن رہے ہیں وہ لوگ ، پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارے ہر عضو کا اور ہر سوچ کا اﷲ تعالیٰ کی رضا کے مطابق اور بر محل استعمال تمہیں تقویٰ میں بڑھائے گا اور اس کے خلاف عمل تمہیں شیطان کی گود میں پھینک دے گا۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا یہ پہلی آیت جو میں نے تلاوت کی تھی ، یہ نکاح پر پڑھی جانے والے آیتوں میں سے بھی ایک آیت ہے، اﷲ تعالیٰ اس میں جہاں انسان کو خود آئندہ زندگی کی فکر کی طرف توجہ دلا رہا ہے وہاں آئندہ پیدا ہونے والی نسل کی تربیت اور ان کو دنیا کی بجائے نیکیوں میں آگے بڑھنے کی طرف توجہ دلانے کا بھی ارشاد فرما رہا ہے ، کیونکہ نیک اولاد اﷲ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کی کوشش کرنے والی اولاد جہاں اپنی عاقبت سنوارنے والی ہوگی وہاں نیک اولاد کے عمل اور ان کی دعائیں والدین کیلئے دعائیں جو وہ کر رہے ہیں ، والدین کے درجات اگلے جہان میں بھی بلند کرنے کا باعث بن رہے ہونگے، پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اپنی شادی کے موقع پر یہ بات یاد رکھو کہ دنیا اور اس کی تمام آسائشیں، مزے ، لذتیں عارضی چیز ہیں۔ اﷲتعالیٰ کے فضل سے من حیث الجماعت بے شک اﷲ تعالیٰ کے بے شمار فضل ہم جماعت پر دیکھتے ہیں ، جماعت کی ترقی بھی ہم دیکھتے ہیں، اﷲ تعالیٰ کا جماعت کے ساتھ ایک خاص سلوک بھی ہم دیکھتے ہیں کہ کس طرح انتہائی نامساعد حالات میں بھی جماعت کو اﷲ تعالیٰ دشمن کے منہ سے نکال لاتا ہے ، جماعت کی ایک اچھی تعداد یقینا تقویٰ پر چلنے والوں اور اﷲ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والوں کی بھی ہے لیکن ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ حضرت مسیح موعودؑ سے عہد بیعت باندھ کر ہم میں سے ہر ایک وہ معیار تقویٰ حاصل کرے ، وہ خدا تعالیٰ کا قرب ہمیں حاصل ہو جو ایک حقیقی مسلما ن کا ہونا چاہئے اور جو حضرت مسیح موعودؑ ہم سے چاہتے ہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: توحید صرف اس بات کا نام نہیں کہ منہ سے لا الہ الی اﷲ کہیں اور دل میں ہزاروں بت جمع ہوں بلکہ جو شخص کسی اپنے کام اور مکر اور فریب اور تدبیر کو خدا کی سی عظمت دیتا ہے یا کسی انسان پر بھروسہ رکھتا ہے جو خدا تعالیٰ پر رکھنا چاہئے یا اپنے نفس کو وہ عظمت دیتا ہے جو خدا کو دینی چاہئے ، اس سب صورتوں میں وہ خدا کے نزدیک بت پرست ہے۔

God has made Taqwa (righteousness) a basic condition for a believer. Countless verses of the Holy Qur’an give various commandments to adopt it and maintain/uphold it. The Qur’an has called those who follow these commandments as Muttaqi (righteous) and has warned those who do not practice them about their ending. Ahmadis are fortunate that among those who believe in this age, it is they whose attention has been drawn in fine detail to connect to God. It is a favour of the Promised Messiah(as) on us that he has repeatedly shown us the path to those high stations which bring nearness to God. Certainly, each person has different level of piety, insight, perception etc. This is why it is commanded that everyone should try to the best of their individual capacity to fulfil the pledge made to God. Alcohol, gambling, lewd films on the internet, improper friendships in these countries cause families to break up. They also put young people on the wrong path, even lead them astray from belief in existence of God and they end up becoming malignant for society. God has stated that one’s every limb, every faculty and every thought should be used in accordance with what God enjoins and at the proper occasion and this enhances one in Taqwa. The first of the two verses recited at the start is among the verses which are read at Nikah. It draws attention to future life as well as the next generation enhancing in piety because pious children are a source of God’s pleasure. Pious children not only adorn their own ending they also elevate their parents’ station in the Hereafter by praying for them. God states here that it should be remembered at the time of marriage that the attractions, comforts and enjoyment of this world are temporary things. With God’s grace, we experience many blessings of God in our capacity as a Jama’at as well as we progress as a community. We also witness God’s special treatment with the Jama’at that how He takes us out of the enemy’s snare in critical times. A good number of members of Jama’at abide by Taqwa and seek pleasure of God. Yet, we should always try that after taking Bai’at we attain that standard of Taqwa which befits a true Muslim and which the Promised Messiah(as) expected of us. Promised Messiah(as) said: Unity of God (Tawheed) does not signify that one utters the words La ilaha illalla (There is none worthy of worship except Allah) while having thousands of idols in heart. In fact, a person who gives any of his own work, trick, deception or plan God-like importance or relies on a person as only God should be relied on or gives his own self the kind of importance which should be given to God, according to God he is an idolater in all these instances.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
26-Apr-2013 Urdu (wmv) Urdu (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Inculcate Truth and Justice
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

آج اﷲ تعالیٰ کے فضل سے زمانے کے امام اور عاشق رسول ﷺ کی جماعت ہے جو مخالفین اسلام کے ہر الزام کو قرآن کریم کی روشنی میں رد کرتی ہےاور ہر بیہودہ گوئی کا جواب دے کر مخالفین اسلام کو ان کا آئینہ دکھاتی ہے ، ہمارے طرف سے علاوہ قرآن کریم کی مختلف آیات کے جو شدت پسندی کی رد کیلئے پیش کی جاتی ہیں، یہ آیات جو حضور نےتلاوت کی ہیں یہ بھی پیش کی جاتی ہیں کہ اسلام کی انصاف پسند اور انتہائی اعلیٰ معیار کی تعلیم کیا ہے ۔ ہمیں حقیقت پسند ہونے کی بھی ضرورت ہے اور اپنے جائزے لینے کی بھی ضرورت ہے، ہم بیشک قرآنی تعلیم کی رو سے اور ہم آنحضرت ﷺ کے اسوہ کے حوالے سے مخالفین کی تسلی کروانے کی کوشش کرتے ہیں اور شاید کافی حد تک کامیاب بھی ہو جاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اب دنیا میں مختلف اخباروں میں لکھنے والے جب بھی اسلام کے بارہ میں لکھتے ہیں تو بعض دفعہ نام لیکر اور بعض دفعہ بغیر نام کے اشارۃ یہ بات کرتے ہیں کہ اسلام میں ایک اقلیتی جماعت ہے جو اس شدت پسندی کے خلاف ہے جو عام طور پر مسلمانوں میں نظر آتی ہےاور یہ جماعت ہے جو اسلام کو دنیا میں قائم کرنا چاہتی ہے اور یہ دعویٰ بھی کرتی ہے اسلام کی حقیقی تعلیم پر عمل کرنے والے صرف ہم ہیں۔ اگر کوئی احمدیوں کے قول و فعل میں تضاد دیکھتا ہے تو یہ نہیں کہے گا کہ فلاں شخص کہتا کچھ ہے اور کرتا کچھ ہے یا اس میں سچائی کا فقدان ہے یا وہ انصاف کے تقاضے پورے نہیں کرتا بلکہ فوری طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ دیکھو فلاں احمدی ہے، دعوے تو اپنی نیکیوں کے یہ لوگ بڑے کرتے ہیں ، جماعت اپنے آپ کو بڑا اس زمانے میں انصاف کا علمبردار سمجھتی ہے لیکن اس میں شامل لوگ ایسے ایسے ظلموں میں ملوث ہیں ، اکثر لوگ جو احمدیوں کیساتھ مل کاروبار کرتے ہیں، حضرت خلیفۃ المسیح کو لکھتے ہیں کہ فلاں شخص احمدی تھا،ہم نے اعتبار کیا اور اب یہ یہ مسائل پیدا ہورہے ہیں۔ اس کی کچھ بھی پرواہ نہ ہو کہ حق بات بتانے کی وجہ سے، سچی گواہی کی وجہ سے میں خود کتنی مشکلات میں مبتلا ہوسکتا ہوں یا میرے عزیز رشتہ دار ، میرے بچے، اگر میں ان کے خلاف گواہی دوں تو کس مشکل میں گرفتار ہوسکتے ہیں یا میرے اپنے والدین یابچوں یا عزیزوں دوستوں کے خلاف گواہی سے مجھے کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ، ہماری سوچ یہ ہونی چاہئے کی حق بات پر قائم رہنے کیلئے ، انصاف پر قائم رہنے کیلئے ہمیں اپنے ماحول ، اپنے عزیزوں اور بزرگوں کی ناراضگی بھی مول لینی پڑے تو ہم لے لیں گے ، اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہاری امارت یا غربت، تمہارے فائدے یا نقصان ، تمہاری چالاکیوں یا انصاف سے دور جانے سے نہیں ہیں بلکہ اﷲتعالیٰ کے فضلوں پر منحصر ہیں۔ پس آج دنیا میں انصاف قائم کرنے، سچائی کو پھیلانے ، امن اور سلامتی کی ضمانت بننے کا کام مسلسل اور باریک در باریک پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے کرنا ایک مومن کا کام ہے ، ایک حقیقی احمدی کا کام ہے ، اس زمانے میں احمدی مسلمان ہی ہیں جو اس دعوے کا اظہار کرتے ہیں کہ ہم حقیقی مسلمان ہیں ، ہم حقیقی مومن ہیں ، کیونکہ ہم نے زمانے کے امام کو مانا ہے ، کیونکہ ہم نےاسلام کی حقیقی تعلیم سے آگاہی حاصل کی ہے اور ہم احکامات ہر عمل کرنے کا عملی نمونہ بننے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔ پس اﷲ تعالیٰ نے ہمارے ذمہ جو دنیا کو امن اور سلامتی کا پیغام پہنچانے کی ذمہ داری ڈالی ہے اس کیلئے ہر سطح پر ہمیں انصاف کو قائم کرنا ہوگا ، سچائی کو قائم کرنا ہوگا ، انصاف قائم ہوتا ہے اﷲتعالیٰ کے احکام کو گہرائی میں جا کر جاننے اور عمل کرنے سے ، حقوق ﷲ کی ادائیگی میں بھی گہرائی میں جا کر ان کو جاننے اور ان پر عمل کرنے کی ضرورت ہے اور حقوق العباد کی ادائیگی میں بھی اﷲ تعالیٰ کے تمام احکامات کو گہرائی میں جا کر جاننے اور عمل کرنے کی ضرورت ہے ، اﷲ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے ، تاکہ جہاں ہم اپنے گھروں اور اپنے معاشرے کو انصاف پر قائم رکھتے ہوئے جنت نظیر بنائیں وہاں اسلام کی خوبصورت تعلیم کی روشنی میں تبلیغ کا حق بھی ادا کرنے والے ہوں۔

Today it is the Jama’at of the true and ardent devotee of the Holy Prophet(saw) which refutes every allegation of the detractors in light of the Holy Qur’an and responds to all the offensiveness. Among the Quranic verses that we present to refute the allegation of Islam being a religion of extremism are the verses recited at the start. These give an example of the high moral teaching of Islam. However, we need to be realistic and need to self-examine. Certainly, we try to satisfy the queries and are also successful to a large extent. It is seen that now columnists sometimes refer to us with name and sometimes without name and acknowledge that a minority Muslim community is against the extremist tendencies and it wishes to create fairness while claiming that it practices true Islam. If there is contradiction between word and deed of an Ahmadi, people would say that such and such says something else and does another thing or does not fulfil requirements of fairness. In fact it is promptly said that such and such is an Ahmadi and they make many claims and say that they are at the vanguard of fairness and justice, but among them are people who are embroiled in great injustices. Some people who go into business with Ahmadis write to Hadhrat Khalifatul Masih about breach of trust and unfairness of Ahmadis. One should not be concerned about any problems ensuing from giving truthful testimony; these could be problems faced by one’s relatives, children, friends or parents or one could be in trouble with friends and family by giving truthful testimony. Truthful testimony should be upheld even in the face of incurring displeasure of one’s near and dear ones and elders. God states that one’s benefits and advantages are not borne of one’s cunning or wrongful testimony but are by virtue of God’s grace. Today it is the task of true believers, Ahmadi Muslims to continuously work for justice, truth, peace and security keeping in view the subtle and fine points it entails. This is because we have been given awareness of the real teachings of Islam by the Imam of the age and we also try and present a practical example by implementing the commandments. God has given us the responsibility of taking the message of peace and security to the world. For this, we have to abide by fairness and truthfulness. Fairness can be maintained when one reflects over God’s commandments in-depth. It is required that we deeply ponder over discharging rights of God and rights of mankind. May God enable us to do so and may we make our homes and society like paradise and in light of the beautiful teaching of Islam also fulfil the dues of Tabligh.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
19-Apr-2013   Urdu (mp3)English (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: True Attributes of Muslims and their Responsibilities
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

ایک حقیقی مومن کو خدا کا خوف ہمیشہ رہنا چاہئے اور ان باتوں کی تلاش رہنی چاہئے جو خدا تعالیٰ کا فرمانبردار بنائیں، حقیقی مسلمان بنائیں ، اس کیلئے خواہ دنیاوی نقصان اٹھانا پڑے ، ایک حقیقی مسلمان کو اس کی کچھ بھی پرواہ نہیں کرنی چاہئے، ماں باپ، عزیز رشتہ دار، معاشرہ ، سیاسی لیڈر، مذہبی لیڈر، غرض کہ کوئی بھی ہو، اﷲ تعالیٰ کے احکام کے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے سے دور کرنے والا نہیں ہونا چاہئے، ہر شخص نے خدا تعالیٰ کے حضور حاضر ہو کر اپناحساب خود دینا ہے، کوئی سیاسی لیڈر، کوئی عزیز، کوئی مولوی کسی کو بچانے والا نہیں ہوگا۔ اسلام کی خدمت کے نام پر جو بھی تنظیمیں بنی ہوئی ہیں اور اپنی طرف سے جو جہادی کاروائیاں بھی کر رہی ہیں، ان کا نتیجہ سوائے اسلام کی بدنامی کے اور کچھ نہیں، اور خداتعالیٰ تو فرماتا ہے کہ میں اپنے راستے میں جہاد کیلئے نکلنے والوں کو کامیاب کرتا ہوں، کونسی کامیابی ہے جو انہوں نے حاصل کی، مسلمان ہی مسلمان کو قتل کر رہا ہے، اسلحہ ہے تو وہ بڑی طاقتوں سے لیا جا رہا ہے ، مسلمانوں کے پاس نہ تو اپنی فیکٹریاں ہیں اور نہ اسلحہ خانے، شام میں بھی جو کچھ ہورہا ہے وہاں کے حکومت مخالف جو گروپ ہیں، انکا مغربی دنیا سے یہی مطالبہ ہے ، وہ یہی کہ رہے ہیں کہ اگر تم حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے ہو تو ہمیں اسلحہ دو۔ آج کل کے حکمرانوں کو رعایا اور عوام کی فکر نہیں ہے، صرف اپنے تخت اور اپنی حکومت کی فکر ہے، علماء ہیں تو وہ اپنا کام چھوڑ کر ، مسلمانوں کی دینی تربیت کرنے کی بجائے اقتدار کی دوڑ میں پڑے ہوئے ہیں، یا پھر کچھ ایسے ہیں جو اسلام کے نام پر دہشت گرد تنظیموں کو چلا رہے ہیں یا ان کی مدد کر رہے ہیں، دینی مدرسوں میں جہاد کے نام پر بچوں کی عسکری تربیت کی جاتی ہے، اسلحہ کے استعمال کے طریقے سکھائے جاتے ہیں اور یہ سب کچھ استعمال کس کے خلاف ہونا ہے؟ مسلمانوں کے۔ مسلمان مسلمان کے خون کا پیاسا ہوا ہواہے، اسلام جو امن اور محبت کا مذہب ہے جس کا مطلب ہی یہی ہے کہ امن ،محبت اور مشکلات سے نکالنے والا ۔ اسی طرح دوسرے اسلامی ممالک کا حال ہے، بے چینی اور بے انصافی، ظلم و تعدی، حکومت کا حق ادا نہ کرنا یعنی جو اس کے ذمہ رعایا کا حق ہےاور اسی طرح عوام جو ہیں، وہ بھی اپنی ذمہ داریوں کو ادا نہیں کرتے، جب عوام کو موقع ملے تو ان کی طرف سے بھی ظلم کا اظہار ہوتا ہے، یہ سب تقوٰی سے دوری ہے اور اﷲ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے اپنے آپ کو باہر نکالنا ہے ، کہنے کو تو کہتے ہیں کہ اسلام کی تعلیم کامل اور مکمل تعلیم ہےاور یقینا ہے ، لیکن ان کی یہ بات کہ اس وجہ سے ہمیں کسی مجدد کی ضرورت نہیں ہے، کسی مسیح و مہدی کی ضرورت نہیں ہے، کسی نبی کی ضرورت نہیں ہے، غلط ہیں، قطع نظراس کے کہ خداتعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی پیشگوئی ہے کہ اس زمانے کی اصلاح کیلئے خداتعالیٰ کی طرف سے ایسا شخص مبعوث ہوگا۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں : میں سچ مچ کہتا ہوں کہ قرآن کریم کی آئندہ پیشگوئی کے مطابق وہ ذوالقرنین میں ہوں جس نے ہر ایک قوم کی صدی کو پایا اور دھوپ میں جلنے والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے مسلمانوں میں سے مجھے قبول نہیں کیا اور کیچڑ کے چشمے اور تاریکی میں بیٹھنے والے عیسائی ہیں جنہوں نے آفتاب کو نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھا اور وہ قوم جن کیلئے دیوار بنائی گئی میری جماعت ہے، میں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہی ہیں جن کا دین دشمنوں کے دست پرس سے بچے گا۔ چوہدری محفوظ الرحمٰن صاحب کی وفات، قیصرہ بیگم صاحبہ جو کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ کی بہو تھیں کی وفات۔

A true believer should also have fear of God and be on the lookout for what would make him obedient to God. For this even if a true believer has to incur worldly loss, he should not care. Parents, friends, family, religious scholars or other leaders, none should distant one from following God’s commandments. Each one of us will be accountable before God on our own. No family or friends, real or so-called spiritual leaders can take on the burden of another. The organisations formed in the name of Islam which carry out Jihadi activities do nothing but bring Islam in disrepute. God states that he grants triumph to those who carry out Jihad in His cause. However, what success have these extremists achieved? Muslims are killing Muslims. For this purpose they are acquiring arms from others. In Syria different factions are fighting each other and demands are made to the Western world to provide them with arms in order to overthrow the government. The rulers today only have their own interest in mind and only care for their own seat of power. The religious leaders are also embroiled in power struggles and some are either running terrorist organisations or are helping them. Children are given militant training in religious seminaries (Madrassa) and all this is employed against Muslims. Muslim is baying for Muslim’s blood. Islam is a religion of love and peace, the very meaning of which signifies peace and security and removal of pain. There is similar restlessness in other Muslim countries with governments not providing social justice and committing cruelty and the public too does not pay its responsibilities and when given a chance is also cruel. All this is detachment from Taqwa. It is said that the teaching of Islam is complete, which it is, but they wrongfully say that no reformer or Messiah or Prophet is now needed. It was indeed prophesised by God and His Prophet(saw) that the advent of such a person will take place for the reformation of the world. Promised Messiah(as) said I say most truthfully that according to the prophecy of the Holy Qur’an I am that Dhul-Qarnain who experienced the century of every nation. And people burning in the heat are those Muslims who have not accepted me. Christians are [like] those who sit in mud and darkness who do not even look up to see the sun. And those for whom the wall was built is my community. I say truthfully that they alone are the ones whose faith will be saved from the aggression of the enemies. Death of Chuadhry Mahfooz ur Rahman sahib and Qaisera Begum sahiba daughter-in-law of Hadhrat Khalifatul Masih II(ra).

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
12-Apr-2013 Urdu (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Be watchful of your trusts and covenants
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

یہ سال جیساکہ تمام جماعتیں جانتی ہیں ، جماعت میں انتخابات کا سال ہے ، ہر تین سال بعد انتخابات ہوتے ہیں ، امراء ، صدران اور دوسرے مختلف عہدیداران کے انتخابات کئے جاتے ہیں، بعض جماعتوں میں یہ انتخابات شروع بھی ہوچکے ہیں ، بڑی جماعتوں میں مجالس انتخاب منتخب ہوتی ہیں، انکے انتخاب ہو رہے ہیں، یہ مجالس انتخاب پھر اپنے عہدیداران منتخب کرتی ہیں، تو بہرحال جماعت کے انتظامی ڈھانچے کو صحیح رنگ میں چلانے کیلئے جہاں یہ انتخابات ضروری ہیں وہاں اس کام کو احسن رنگ میں آگے بڑھانے کیلئے عہدوں کا حق ادا کرنے کیلئے صحیح افراد کا انتخاب بھی بہت ضروری ہے۔ جماعتی نظام میں ہماری یہ عادت ہے کہ ہر کام سے پہلے دعا کرتے ہیں ، انتخابات سے پہلے بھی دعا کروائی جاتی ہے، اگر خالص ہو کر خدا تعالیٰ سے راہنمائی لیتے ہوئے انتخابات کی کاروائی کی جائے تو اﷲ تعالیٰ پھر اپنے فضلوں اور برکتوں سے نوازتا ہے ، پس ہر ووٹ دینے والا اپنے حق رائے دینے کی اہمیت کو سمجھے اور ہر قسم کے ذااتی رجحانات یا ذاتی پسندوں اور ذاتی تعلقات سے بالا ہو کر جس کام کیلئے کسی کو منتخب کرنا چاہتے ہیں ،اس کے حق میں اپنی رائے دیں، پرانے احمدی تو جانتے ہیں، نئے آنے والوں پر بھی واضح ہونا چاہئے ، نوجوانوں پر بھی واضح ہونا چاہئے کہ انتخابات میں رائے دی جاتی ہے ، حتمی فیصلہ خلیفہ وقت کی طرف سے ہوتا ہے، بعض دفعہ کسی کے حق میں کثرت رائے کے باوجود بعض وجوہات کی بنا پر دوسرے کو بنا دیا جاتا ہے ۔ لوگوں کو بڑی خواہش ہوتی ہے عہدوں کی، کہ اگر یہ پتہ ہو ان کو کہ یہ کتنی بڑی ذمہ داری ہے اور اس کا حق ادا نہ کرنے پر خدا تعالیٰ کی ناراضگی بھی ہو سکتی ہے، گرفت بھی ہوسکتی ہے، تو ہر عہدیدار دوسروں سے بڑھ کر دن اور رات استغفار کرنے والا ہو، ہر عہدیدار کو چاہئے کہ ووٹ حاصل کرنے کے بعد یا عہدے کی منظوری آ جانے کے بعد وہ آ زاد نہیں ہوگیا بلکہ ایسے بندھن میں بندھ گیا ہے جس کو نہ نبھانے کی صورت میں یا اپنی استعدادوں اور صلاحیتوں کے مطابق نہ بجالا نے کی صورت میں اﷲ تعالیٰ کی ناراضگی لینے والا بھی ہوسکتا ہے۔ پس جب تک تقویٰ کے معیار اونچے نہیں ہونگے اس وقت تک اپنی امانتوں اور عہدوں کا حق ادا نہیں ہوسکتا ، یہ امانتیں جیسا کہ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا خدا تعالیٰ کی بھی ہیں اور بندوں کی بھی اور ایک عہدیدار خاص طور پر دونوں طرح کی امانتوں کاا مین متصور ہوتا ہے اور ہے، پس پھر میں توجہ دلاتا ہوں افراد جماعت کو جنہوں نے اپنے عہدیدار منتخب کرنے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ سے دعا مانگتے ہوئے ان کے حق میں رائے دیں جو دونوں طرح کی امانتوں اور عہدوں کا حق ادا کرنے والے ہوں اور یہ اسی وقت ہوسکتا ہے جب ہر طرح جماعت کا تقویٰ کا معیار بھی بلند ہو۔ عہدیدار کی ایک خصوصیت یہ ہونی چاہئے کہ جماعتی اموال کو خاص طور ہر بہت احتیاط سے خرچ کرے ، کسی بھی صورت میں اصراف نہیں ہونا چاہئے، اسی لئے خاص طور پر وہ شعبہ جن پر اخراجات زیادہ ہوتے ہیں اور ان کے بجٹ بھی بڑے ہیں، انہیں صرف اپنے بجٹ ہی نہیں دیکھنے چاہئیں، بلکہ کوشش ہو کہ کم سے کم خرچ میں زیادہ سے زیادہ استفادہ کس طرح کیا جا سکتا ہے ، مثلا ضیافت کا شعبہ ہے، لنگر کا شعبہ ہےیا جلسہ سالانہ کے شعبہ جات ہیں ، ہر دو شعبوں کے نگرانوں کو بہت احتیاط کی ضرورت ہے، کم سے کم خرچ کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور یہی صحیح امانت کا حق ادا کرنے کا طریق ہے۔ ایک عہدیدار کی یہ خصوصیت بھی ہے کہ اس کا اپنے ساتھ کام کرنے والوں کے ساتھ حسن سلوک ہو ، جماعت کے عہدے کوئی دنیاوی عہدے تو نہیں ہیں کہ افسران اور ماتحت کا سلوک ہو ، ہر شخص جو جماعت کی خدمت کرتا ہے چاہے وہ ماتحت ہو ایک جذبہ کے تحت جماعت کے کام کرتا ہے ، پس افسران کو اور عہدیداران کو اپنے ساتھ کام کرنے والوں کے ساتھ بھی حسن سلوک کرنا چاہئے، اگر غلطی ہو تو پیار سے سمجھائیں نا کہ دنیاوی افسروں کی طرح باز پرس ہو، ہاں اگر کوئی اس قدر ڈھٹائی دکھا رہا ہے کہ جماعتی مفاد کو نقصان پہنچ رہا ہے تو پھر مناسب طریق سے تنبیہ کریں، بالا افسران کو اطلاع کریں۔

As most Jama’ats are aware, this is the year of elections all over the Jama’at. Elections of Ameers, sadrs and other office holders are held every three years. In some places the elections have already started. Majlis e Intikhab exists in larger Jama’ats which elects office holders. While it is essential to have elections in order to run the structure of the Jama’at in an orderly manner, it is also very important to elect the right person to uphold the dues of office. It is our Jama’at tradition to pray before every task and elections are also preceded with prayer. Election proceedings which are carried out with complete sincerity are blessed by God. Votes should be cast rising above one’s personal inclination and connections. Long-term Ahmadis are aware of this and the newcomers and the youngsters should also know that [our Jama’at] elections are a process of recommendation; the final decision is made by the Khalifa of the time. In certain circumstances in spite of a person receiving majority vote, the office is given to another. People are desirous of office. If they knew what a huge responsibility it is and failing to honour it can incur God’s displeasure, more than others, each office holder would night and day be engaged in Istaghfar (seeking forgiveness from God). Each office holder should be mindful that after being elected and approved he is not free, in fact he is bound to serve to the best of his capacities and failing to do so can incur God’s displeasure. Unless standard of Taqwa is high dues of trusts and covenants of both God and mankind cannot be paid. Office holders are specifically considered trustees of both. Hadhrat Khalifatul Masih once again drew the attention of the members of the Jama’at to pray and elect those who fulfil their trusts. For this, everyone has to have high standard of Taqwa and everyone needs to self-reflect and enhance their level of Taqwa. Another quality of office holders should be to spend Jama’at funds with extreme care. Under no circumstances should there be wastage. Although departments with large expenses, like Ziafat, Langar, Jalsa Salana also have large budgets but those in-charge of these departments need to be very careful. Estimations should be made and minimum amount of expenses should be incurred. This is the correct way of fulfilling trust. Office holders should treat their co-workers with kindness. The stance should not be like that of worldly superiors and subordinates. If someone makes a mistake it should be gently explained to them and there should be no interrogation like worldly superiors. Indeed, if someone is not complying with matters, it should be dealt with and if needed reported.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
05-Apr-2013   Urdu (mp3)English (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)French (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Building Mosques, Unity and Accord
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا : اس وقت ہماری جماعت کو مساجد کی بڑی ضرورت ہے ، یہ خانہ خدا ہوتا ہے، جس گاؤں یا شہرمیں ہماری جماعت کی مسجد قائم ہوگئی تو سمجھو کہ جماعت کی ترقی کی بنیاد پڑ گئی، اگر کوئی ایسا گاؤں ہو یا شہر جہاں مسلمان کم ہوں یا نہ ہوں اور وہاں اسلام کی ترقی کرنی ہو تو ایک مسجد بنا دینی چاہئے ، پھر خدا خود مسلمانوں کو کھینچ لاوے گا۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا کہ میں نے جو صحابہؓ حضرت مسیح موعودؑ کے واقعات کا سلسلہ شروع کیا تھا جس میں بہت زیادہ تشنگی رہ گئی ہے کیونکہ تمام صحابہؓ کے واقعات ابھی ہمارے سامنے نہیں آئے اور جو آئے وہ بھی بہت کم اور مختصر تھے ، لیکن وہی جو سامنے آئے ایسے معیار کے ہیں جو صحابہؓ کی طرف دعاؤں کیلئے متوجہ کرتے ہیں، اور جو ان صحابہؓ کی نسل میں سے ہیں، یہاں سپین میں بھی رہنے والے بعض شاید ہوں، ان کو خاص طور پر اپنے بزرگوں کیلئے دعاؤں اور ان کے نمونوں پر چلنے کی طرف متوجہ ہونا چاہئے۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا کہ خدا کے حکموں سے نہ میں باہر ہوں اور نہ آ پ باہر ہیں ، نہ کوئی عہدیدار باہر ہے اور نہ کوئی مربی اور مبلغ باہر ہے ، نہ ہی کوئی فرد جماعت چاہے وہ مرد ہے یا عورت ہے وہ باہر ہے ، جب تک اﷲتعالیٰ کی رسی کو ہم مضبوطی سے پکڑے رکھیں گے ، جب تک ہم قرآن کریم کی تعلیم پر عمل کرنے والے بنے رہیں گے ، جب تک ہم اﷲ تعالیٰ کے اس احسان کو یاد رکھیں گے کہ اس نے ہمیں احمدی ہونے اور احمدیت پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائی، ہم اﷲ تعالیٰ کا بھی حق ادا کرنے والے ہونگے اور اﷲ تعالیٰ کے گھر کا بھی حق ادا کرنے والے ہونگے۔ دین جو حقیقی دین ہے وہ تو اب خدا تعالیٰ نے واضح طور پر بتا دیا ہے کہ اسلام ہے ، اسلئے اب نہ تو کوئی اور دین بندہ کو خدا تعالیٰ کے قریب لا سکتا ہے اور نہ ہی اس میں اتنی سکت ہے ، اب صرف دین اسلام ہی ہے جو بندہ کو خداتعالیٰ کے قریب کرنے کی طاقت رکھتا ہے لیکن اسلام کو پھیلانے کی بھی جن لوگوں کی ذمہ داری ہے اور جن کو اﷲ تعالیٰ نے احسان کرتے ہوئے حبل اﷲ کا سرا پکڑا دیا ہے ، وہ احمدی ہیں، پس اگر ہمارے قول و فعل میں تضاد ہوگا، اگر ہم چھوٹی چھوٹی باتوں پر اختلاف کرنے بیٹھ جائیں گے ، ایسے اختلاف جو ہماری اکائی کو نقصان پہنچانے والے ہوں تو یقینا ہم خدا تعالیٰ کے آگے جوابدہ ہونگے، گزشتہ خطبہ میں بتایا گیا تھا کہ ہزاروں سپینش جن کی صدیوں پہلے بنیاد اسلام تھی ، ان میں سے ہزاروں ایسےلوگ ہیں جو اسلام میں دوبارہ داخل ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں لیکن حقیقی اسلام کا انہیں ابھی پتہ نہیں ہے۔ اس مسجد کے افتتاح میں ایک دعوت ہوئی اور اتنی بڑے پیمانے پہ اس دعوت کا پہلی دفعہ جماعت سپین نے اہتمام کیا تھا جس میں ہمسایوں کے علاوہ پڑھے لکھے لوگ اور سرکاری افسران اور سیاست دان بھی آئے اور ہر طبقے کے لوگ تھے اور بڑا اچھا اثر لیکر گئے ہیں، اکثر نے یہ کہا کہ اسلام کی خوبصورت تعلیم آج ہم نے پہلی دفعہ سنی ہے ، بعض نے کہا ہم بڑے جذباتی ہو رہے تھے، بلکہ بعض خدا تعالیٰ کا انکار کرنے والوں نے بھی کہا کہ ہمیں بہت کچھ مذہب کے بارہ میں پتہ چلا ۔ پس یہ حکمت سے بات کرنا آپس میں بھی ضروری ہے اور تبلیغ کیلئے بھی ضروری ہے ، تربیت کیلئے بھی ضروری ہے اور دنیا کو خد اتعالیٰ کی طرف بلانے کیلئے بھی ضروری ہے، تبلیغ کے راستے تو اﷲ تعالیٰ نے اپنے فضل سے کھول دئیے ہیں، اس سے فائدہ اٹھانے اور ایک مہم کی صورت میں تبلیغ کے میدان میں اترنا اب افراد جماعت کا کام ہے ، اخباروں نے تو مسجد کے حوالے سے خبریں لگا دیں کہ اسلام نے جھنڈے گاڑ دئیے ، خلیفہ نے کہا کہ ۱۷ویں صدی میں مسلمانوں کو یہاں سے نکالا گیا تھا ، اب ہم نے واپس یہاں آ ناہے لیکن صرف ان خبروں سے تو ہمارا مقصد حاصل نہیں ہوگا ، اس سے ملتی جلتی خبریں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کے حوالے سے بھی اخباروں میں شائع ہوئی تھیں جب مسجد بشارت پیڈروآباد کا افتتاح ہوا تھا۔

The Promised Messiah(as) said: ‘At the time our Community is in great need of mosques. [A mosque] is a house of God. In which ever town or village our mosque is built, consider that the foundation for the progress of the Community has been laid [there]. If there is a town or a village with very few or no Muslims and progress of Islam is required there, a mosque should be built there. God would Himself attract Muslims to it. Hadhrat Khalifatul Masih said the series of relating incidents of companions of the Promised Messiah(as) that he had started [in his Friday sermons] remains wanting. Incidents of every companion were not related and those that were related were done so briefly. Yet they illustrated such high standards that one is drawn to pray for those people. Here [in Valencia] if there are families of companions of the Promised Messiah(as) they should pray for their elders. Hadhrat Khalifatul Masih said no one is exempt from commandments of God; neither he nor anyone else; be they office-holders of the Jama’at, missionaries of the Jama’at, Ahmadi men and women. As long as we will firmly hold onto the ‘rope of Allah’ and will practice very commandment of the Holy Qur’an and will remember God’s favour that He has made us Ahmadi, we will be paying His dues and as well as the dues of His house. God has clearly stated that Islam is now the true religion. Therefore no other religion can bring man close to God; no other religion has the strength to do so. And those whose responsibility it is to spread Islam and those who have been blessed with the ‘rope of Allah’ are indeed Ahmadis. If we damage our unity and create divisions, most certainly we will be accountable before God. It was mentioned in last Friday sermon that thousands of Spaniards whose ancestors were Muslims are entering into Islam once again. Yet, they are unaware of the true Islam. The reception held for the mosque in Valencia was the first such major event organised by Spanish Jama’at. It was attended by neighbours, well-educated people, government officials and politicians. They all took a favourable view of the reception and many said that they had heard the beautiful teaching of Islam for the first time. Many said they felt emotional. In fact an atheist guest said that he had learned a lot about religion. Utilising Hikmah is important for our mutual matters as well as for Tabligh. God’s grace has opened up Tabligh avenues, now it is up to people to benefit from them. The newspapers have given coverage to the news that the Khalifa has said that Muslims were expelled in the seventeen century and now we going to return. Our objective is not achieved by news coverage alone. Similar news were reported with references to Hadhrat Khalifatul Masih IV(ra) at the time of the inauguration of Basharat Mosque, Pedro Abad.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
29-Mar-2013 Urdu (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Learn the best ways of worship and sacrifice
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا الحمد ﷲ آج ہمیں سپین میں دوسری احمدیہ مسجد بنانے کی توفیق مل رہی ہے، تقریبا سات سال قبل حضور نے مسجد بشارت پیڈروباد میں مزید مساجد بنانے کی اہمیت پر زور دیا تھا اور اس وقت یہ فیصلہ ہوا تھا کہ ویلینشیا میں مسجد کی تعمیر کی جائے، احمدیوں کی تعداد سے زیادہ مسجد بنانےکی اہمیت اس یہاں کی تاریخ کے لحاظ سے تھی، احمدی تو یہاں پہ صرف ۱۳۰ کے قریب ہیں۔ مسجد بشارت ایسی جگہ واقع ہے جہاں قرطبہ کو راستہ جاتا ہے اور عین موٹروےپر واقع ہے اور اگر تعارف کا کوئی ذریعہ نکالا جاتا تو بہت سے لوگوں تک یہ تعارف پہنچتا، بعض اچھا کام کرنے والی جماعتوں نے کم تعداد میں ہونے کے باوجود غیر معمولی طور پر جماعت احمدیہ کے تعارف کا کام کیا ہے اور لیف لٹ کے ذریعے سے اسلام اور جماعت کا تعارف بہت وسیع تعداد میں لوگوں تک پہنچایا ہے، مسجد بشارت کو اکثر غیر لوگ دیکھنے آتے ہیں، بعض وفود بھی آتے ہیں لیکن اگر ایک جذبے اور شوق سے کام ہوتا تو کہیں زیادہ مسجد کی وجہ سے اسلام کا تعارف ہوسکتا تھا اس علاقے میں۔ حضور نے فرمایا ویلینشیا کی تاریخ کی اہمیت کی وجہ سے حضور نے یہاں مسجد بنانے کو ترجیح دی تھی، اسلئے کہ جب سپین میں ظالم بادشاہ اور ملکہ نے مسلمانوں کو زبردستی عیسائی بنانا شروع کیا تھا ، ویلینشیا اس زمانے میں بھی وہ علاقہ تھا جہاں باوجود مسلمانوں کےساتھ بد سلوکی کے عربی بولی جاتی تھی، اسلامی رسم و رواج قائم تھا، عملا مسلمان اپنی عبادات بھی بجا لاتے تھے اور جو بھی اسلامی تعلیم ہے اس کو قائم رکھے ہوئے تھے جب کہ دوسرے علاقوں میں مسلمان گروپ کی صورت میں تو رہتے تھے لیکن کسی بھی قسم کا ایسا اظہار نہیں کرتے تھے جس سے اسلام ان سے کھل کر ظاہر ہوتا ہو۔ حضور نے فرمایا یہ آیات جو میں نے خطبہ کے آغاز میں تلاوت کی ہیں ، یہ حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسماعیل ؑ نے ایک خوبصورت طریق اﷲ تعالیٰ کے گھر کی تعمیر کے بعد اس کا حق ادا کرنے کا ہمیں بتا دیا ہے اور ساتھ ہی حق ادا کرنے کیلئے دعاؤں کا طریق اور اس طرف توجہ بھی دلا دی ہے، پس اس پر غور کرنے کی ہمیں ضرورت ہے تاکہ نسل در نسل اﷲ تعالیٰ کے گھر کا حق ادا کرنے والے ہم میں سے پیدا ہوتے چلے جائیں، اس آیت میں اﷲ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ کی خانہ کعبہ کی دیواریں استوارکرتے ہوئے کی جانے والی دعا کا ذکر کیا ہے۔ پس آج اس ابراہیم کے ذریعے خانہ کعبہ کی تعمیر کے مقاصد بھی پورے ہو رہے ہیں اوراسلام کی خوبصورت تعلیم کی روشنی بھی دنیا پر ظاہر ہو رہی ہے، اور انہی مقاصد کو پورا کرنے کیلئے دنیا میں ہماری ہر تعمیر ہونے والی مسجد گواہ ہے اور ہونی چاہئے اور یہی آج اس مسجد جس کا نام بیت الرحمٰن رکھا گیا ہے ، اس مقصد کے حصول کا ذریعہ بننے کا اظہار کر رہی ہے۔ ہمیں اپنی نسلوں کیلئے بہت تڑپ کر دعا کرنے کی ضرورت ہے ، ہم احمدی اپنے اجلاسوں میں یہ عہد کرتے ہیں کہ ہر قربانی کیلئے تیار رہیں گے تو اس عہد کی روح کو اپنی نسلوں میں پھونکنے کی ضرورت ہے ، تاکہ دین کی اشاعت کیلئے قربانیاں کرنے والے گروہ پیدا ہوتے رہیں، لیکن یہ یاد رکھنا چاہئے کہ بدلتے ہوئے حالات کے مطابق قربانیوں کےطریق بھی بدلتے رہیں گے ، سپین میں اگر پہلے مسلمان جو داخل ہوئے وہ مدد کیلئےآئے، جہاد بھی کیا، اور دادرسی کیلئے آئے تھے، بیشک تلوار کا جہاد کیا انہوں نے ، تو آج کی قربانیاں تبلیغ کے جہاد کے ذریعے سے ہیں، اشاعت لٹریچر کیلئے مالی قربانیاں کر کے ہیں، مساجد کی تعمیر کر کے مالی قربانیاں کر کے ہیں، قربانیوں کی نوعیت حالات کے مطابق بدل جاتی ہے۔ حضور نے فرمایا مسجد کے بارے میں چند کوائف بھی پیش کر دیتا ہوں ، مسجد کا مقصف حصہ ۱۳۵۰ مربع فٹ ہے اور اس پہ خرچ تقریبا ایک اعشاریہ دو ملین یورو کے قریب ہوا ہے جس میں سپین کی جماعت نے تھوڑا سا حصہ دیا ہے بہرحال جو وعدے کئے ہیں وہ پورا کرنا چاہئے ان کو، اگر مالی لحاظ سے کمزوری ہے تو جو وعدے کئے ہیں ان کو پورا کریں اور مسجد کا حق اس طرح بھی ادا کرسکتے ہیں کہ مسجد کی تعمیر کے بعد آپ تبلیغ کے میدان میں اتریں ، ہال کی گنجائش ۲۵۰ افراد ہے لیکن بہرحال ہال بڑے بھی ہیں کافی۔

Hadhrat Khalifatul Masih said all praise belongs to Allah that we have been enabled to build a second mosque in Spain. He added that some seven years ago he had stressed the importance of another mosque in Spain at Basharat Mosque, Pedroadbad. It was decided at the time that the next mosque would be built at Valencia. Although the number of Ahmadis in the area are about 130 but the significance of building the second mosque in Spain here is due to the historical significance of the place. The location of Basharat Mosque is close to motorway along the route that leads to Cordoba. If a strategy was made, our Jama’at could have been introduced from there. Some other Jama’ats, though few in number, have disseminated our message to a vast number of people through leaflets. Many outside people come to see Basharat Mosque. Had work been carried out with fervour and zeal, introductions could have been made. The reason Hadhrat Khalifatul Masih chose Valencia as the location of this mosque is because Spanish history tells us that when the cruel king and queen forcibly converted Muslims to Christianity, Valencia was an area where in spite of the persecution Arabic continued to be spoken. Muslims in Valencia continued with their worship of God and maintained their teaching whereas other Spanish Muslims of the time did not openly assert their faith. The Quranic verses recited at the start of the sermon illustrate a beautiful manner in which Hadhrat Ibrahim(as) and Hadhrat Ishmael(as) have taught us to fulfil the responsibilities after building house of God. We need to reflect on this matter so that in our generations to come people are born who will honour the dues of God. The verses comprise of the prayer Hadhrat Ibrahim(as) made while building walls of the Ka’ba. Today the objectives of the Ka’ba are being fulfilled through this Ibrahim and the light of the beautiful teaching of Islam is being made evident to the world. Our each mosque around the world is witness to fulfil these very objectives and this mosque that has been named Baitur Rahman is also an expression of attaining these objectives. We should pray for our offspring with great angst. We pledge in our meetings that we will be ever ready to make every sacrifice. We need to also instil this spirit in our next generation. However, we should realise that with time the nature of sacrifice changes. When the early Muslims came to Spain and spread all over it, they fought Jihad of the sword. However, the sacrifice of the time is Jihad of Tabligh, it is financial giving for the building of mosque. The nature of sacrifice changes with circumstances. As regards facts and figures of this mosque, it is built on a 1,350 square feet plot at a cost of 1.2 million Euros of which Spanish Jama’at contribution is small. If there are financial constraints, promises should still be honoured, but another way to contribute is to participate in Tabligh ventures. The capacity of the hall is given as 250, but the halls are quite large.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
22-Mar-2013 Urdu (wmv) Urdu (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: The need for The Imam
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا کل ۲۳ مارچ کا دن ہے جو جماعت احمدیہ میں یوم مسیح موعودؑ کے حوالے سے منایا جاتا ہے، اس حوالے سے آج کا خطبہ حضرت مسیح موعودؑ کے اپنے الفاظ میں آپؑ کی صداقت کا ثبوت، اﷲ تعالیٰ کی تائیدات، امام الزماں کی ضرورت، مسلمانوں کو آپ کو قبول کرنے اور آپ کو پہچاننے کی دعوت جو آپ نے دی ہے۔ اپنی صداقت کے متعلق حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: میں دیکھتا ہوں کہ وہ لوگ جو نیچر اور صحیفہ قدرت کے پیرو بننا چاہتے ہوں، انکے لئے خدا تعالیٰ نے یہ نہایت عمدہ موقع دیا ہے کہ وہ میرے دعویٰ کو قبول کریں کیونکہ وہ لوگ ان مشکلات میں گرفتار نہیں ہیں جن میں ہمارے دوسرے مخالف گرفتار ہیں کیونکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ ؑ فوت ہوگئے ہیں اور پھر ساتھ ہی اس کے انہیں یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ مسیح موعودؑ کی نسبت جو پیشگوئی احادیث میں موجود ہے وہ ان متواترات میں سے ہے جن سے انکار کرنا کسی عقلمند کا کام نہیں، پس اس صورت میں یہ بات انہیں ضروری طور پر قبول کرنی پڑتی ہے کہ آنے والا مسیح اسی امت میں سے ہوگا ۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ شیخ ابن العربی اپنے ایک کشف میں یہ لکھتےہیں کہ وہ خاتم الولایت ہے اور توام پیدا ہو گا یعنی مسیح موعودؑ اور ایک لڑکی اس کے ساتھ متولط ہوگی اور وہ چینی ہوگا یعنی اس کے باپ دادا چینی ممالک میں رہے ہونگے سو خدا تعالیٰ کے ارادے نے ان سب باتوں کو پورا کردیا ، میں لکھ چکا ہوں کہ میں توام پیدا ہوا تھا اور میرے ساتھ ایک لڑکی تھی اور ہمارے بزرگ سمرقند میں جو چین سے تعلق رکھتا ہے رہتے تھے۔ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا : اس وقت کے مولوی اگر دیانت اور دین پر قائم ہو کر سوچیں تو انہیں ضرور اقرار کرنا پڑے گا کہ چودہویں صدی کے مجدد کا کام کسر صلیب ہے کیونکہ یہ وہی کام ہے جو مسیح موعودؑ سے مخصوص ہے اس لئے بالضرورت یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ چودہویں صدی کا مجدد مسیح موعودؑ چاہئے۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: اس جگہ طبعا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسیح موعودؑ کو کیونکر اور کن وسائل سے کسر صلیب کرنا چاہئے ، کیا جنگ اور لڑائیوں سے ، جس طرح ہمارے مخالف مولویوں کا عقیدہ ہے یا کسی اور طور سے، اس کا جواب یہ ہو کہ مولوی لوگ ، خدا ان کے حال پہ رحم کرے، اس عقیدہ میں سرا سر غلطی پر ہیں، مسیح موعودؑ کا منصب ہرگز نہیں ہے کہ وہ جنگ اور لڑائیاں کرے، بلکہ اس کا منصب یہ ہے کہ حجج عقلیہ یعنی عقلی دلائل سے اور آیات سماویہ ، آسمانی نشانات سے اور دعا سے اس فتنہ کو فروع کرے۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتےہیں: یاد رہے کہ امام الزماں کے لفظ میں نبی ، رسول، محدث، مجدد، سب داخل ہیں ، جو لوگ ارشاد اور ہدایت خلق اﷲ کیلئے مامور نہیں ہوئے اور نہ وہ کمالات ان کو دئیے گئے، وہ گو ولی ہوں یا ابدال ہوں ، امام الزماں نہیں کہلا سکتے ،اور اب بالاخر یہ سوال باقی رہا کہ اس زمانہ میں امام الزماں کون ہے جس کی پیروی تمام عام مسلمانوں اور زاہدوں اور خواب بینوں اور ملہموں کو کرنی خدا تعالیٰ کی طرف سے فرض قرار دیا گیا ہے ، سو میں اس وقت بے دھڑک کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے فضل اور عنایت سے وہ امام الزماں میں ہوں اور مجھ میں اﷲ تعالیٰ نے وہ تمام علامتیں اور وہ تمام شرطیں جمع کیں ہیں اور اس صدی کے سر پر مجھے مبعوث فرمایا ہے۔۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک شخص درحقیقت سچا ہو اور ضائع کیا جائے ؟ کیا یہ ہو سکتا کہ ایک شخص خد ا کی طرف سے ہو اور برباد کیا جاوے؟ اے لوگو تم خدا سے مت لڑو، یہ وہ کام ہے جو خدا تمہارے لئے اور تمہارے ایمان کیلئے کرنا چاہتا ہے ، اس کے مزاحم مت ہو، اگر تم بجلی کا سامنے کھڑے ہوسکتے ہو مگر خدا کے سامنے تمہیں ہرگز طاقت نہیں، اگر یہ کاروبار انسان کی طرف سے ہوتا تو تمہارے حملوں کی کچھ بھی حاجت نہ تھی، خدا اس کو نیست و نابود کرنے کیلئے خود کافی تھا۔ چوہدری مبارک مصلح الدین صاحب کی وفات۔

Hadhrat Khalifatul Masih said tomorrow it is 23 March, a day commemorated as Promised Messiah Day. In this regard, today’s sermon was based on the truthfulness of the Promised Messiah(as), God’s succour and support for him, the need for an Imam of the age and the Promised Messiah’s(as) call to Muslims to accept him, in his own words. As regards his truthfulness, the Promised Messiah(as) wrote: ‘I see that those who wish to be the followers of nature and the law of nature have been offered a good opportunity by God Almighty of accepting my claim, in as much as they are not confronted by the difficulties in which our other opponents are involved. They know well that Jesus(as) has died and at the same time they have to confess that the prophecy contained in the Ahadith about the appearance of the Promised Messiah is among the long-established verities that cannot be denied by any reasonable person. The Promised Messiah(as) said that Sheikh Ibn e Arabi had written that the Promised Messiah would be born a twin, the other twin being a girl. He also foretold that the Promised Messiah’s descent will be Chinese, i.e. his forefathers would have lived in Chinese region. Divine will fulfilled all of this as the Promised Messiah(as) was born a twin with a girl and his forefathers lived in Samarkand, which is associated with China. The Promised Messiah(as) said that if the Maulwis of the time appraised honestly they would definitely confess that Kasr e Saleeb (metaphorical breaking of the Cross) is the task of the Mujaddid (Reformer) of the fourteenth century. As this is the task which is attributed to the Promised Messiah, the obvious outcome is that the Mujaddid of the fourteenth century should be the Promised Messiah. The Promised Messiah(as) said that here the natural question that arises is that how and through which resources should the Messiah do Kasr e Saleeb. Should it be done, as our opponent Maulwis believe, through fighting and war, or some other way? The creed of the Maulwis is most erroneous. It is certainly against the status of the Promised Messiah to enact war. Rather, his status demands that he removes this evil through intellectual reasoning, heavenly signs and prayer. The Promised Messiah(as) wrote: ‘Let it be remembered that the term 'Imam of the age' comprises all Prophets, Messengers, Muhaddathin and Mujaddadin. But those who are not appointed by God to educate and guide God’s creatures, nor have they been vouchsafed such excellences, regardless of their being saints or seers, cannot be called the Imams of the age. Finally we come to the question: Who is the Imam in the present age, whom all Muslims, all righteous people, and all those who experience true dreams or revelations must follow. I hereby proclaim, without any hesitation, that, by the grace and bounty of God, He has brought together in my person all these signs and conditions and sent me at the turn of this century۔ Is it possible that a person should be true and yet should be destroyed? Is it possible that a person should be from God and should be ruined? O ye people, fight not God. This is an affair which God has designed for your sake and for the sake of your faith, so do not lay obstacles before it. You might stand before the lightening but you have not the strength to confront God. If all this had been man’s doing, none of your attacks would have been needed. God Himself would have destroyed me. Death of Chaudhry Mubarak Musleh Din Ahmad sahib.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
15-Mar-2013 Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Developing a True Relationship of Servitude with Allah
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: دعاؤں میں جو روح بخدا ہو کر توجہ کی جاوے تو پھر ان میں خارق عادت اثر ہوتا ہےلیکن یہ یاد رکھنا چاہئے کہ دعاؤں میں قبولیت خدا تعالیٰ ہی کی طرف سے آ تی ہےاور دعاؤں کیلئے بھی ایک خاص وقت ہوتا ہے جیسے صبح کا ایک خاص وقت ہے ، اس وقت میں خصوصیت ہے وہ دوسرے اوقات میں نہیں اسی طرح پر دعا کیلئے بھی بعض اوقات ہوتے ہیں جبکہ ان میں قبولیت اور اثر پیدا ہو۔ حضرت خلیفۃالمسیح نے فرمایا : یہ چند اقتباسات حضرت مسیح موعودؑ کے پیش کئےاسلئے کہ ہمیں خدا تعالیٰ سے تعلق کا مزید ادراک پیدا ہو، اسلئے کیونکہ ہمیں دعا کرنے کے اسلوب اور طریقوں کا پتہ چلے ، اس لئے کہ ہمیں اپنی اصلاح کی طرف توجہ پیدا ہو ، اچھے اور برے کے فرق کو دیکھ کر ہم اعمال صالحہ کی طرف توجہ دینے والے ہوں، ہمیں دعاؤں کے صحیح طریق کو اپناتے ہوئے دعاؤں کی طرف توجہ پیدا ہو تاکہ ہم ان لوگوں میں شامل ہوں جو دنیا کے حسنہ سے بھی حصہ لینے والے ہیں اور آخرت کی حسنہ سے بھی حصہ لینے والے ہیں ۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا: پس اﷲ تعالیٰ سے اگر تعلق جوڑنا ہے، اپنی نیک خواہشات کی تکمیل کروانی ہے ، دشمن کی ناکامی کے نظارے دیکھنے ہیں تو ہمیں عابد بننے کی طرف توجہ دینی ہوگی، حقیقی عابد بننے کی طرف توجہ کرنے کوشش کرنی ہوگی، اﷲ تعالیٰ ہم میں سے ہر ایک کو صحیح عابد بننے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم میں یہ روح پیدا کرے، تاکہ ہم دشمنوں کے بد انجام کو دیکھنے والے ہوں، آجکل دشمن وہ لوگ جن کے دل حضرت مسیح موعودؑ سے دشمنی ، کینہ اور بغض میں اس قدر بھر چکے ہیں کہ جس کی انتہا کوئی نہیں رہی، خاص طور پر پاکستان میں اور ہندوستان کے کچھ علاقوں میں بھی یا انکے زیر اثر بعض افریقن ممالک کے چھوٹے چھوٹے قصبوں میں ۔ ماضی میں بھی ہم دشمنوں کا ہر انجام دیکھتے آئے اور آجکل بھی دیکھ رہے ہیں، پاکستان میں بھی ایسے کئی واقعات ہو رہے ہیں کہ ان مغلظات بکنےوالوں کو اﷲ تعالیٰ نے ایسے طریقے سے پکڑا ، جو یقینا بہت سوں کیلئے عبرت کا باعث بنا، یا عبرت کا باعث بننےوالا ہے، پاکستان میں بھی دیکھنے والے دیکھ رہے ہیں، حضور نےفرمایا میں ایسے لوگوں کے نام تو نہیں لیتا جہاں ایسے واقعات ہوئے ہیں، جہاں ان دریدہ دہنی کرنےوالوں نے، بیہودگیاں کرنے والوں کو اﷲ تعالیٰ نے پکڑا۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا کہ میں احمدیوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ مخالفین احمدیت کی حرکتوں اور کمینگیوں سے پریشان نہ ہوں، گزشتہ دنوں حضور کو کسی احمدی نے لکھا پاکستان سے کہ ہمارے علاقے میں حضرت مسیح موعودؑ کی مخالفت کا زور اس قدر ہے اور اس حد تک بڑھ گیا ہے دشمن ہر اوچھی حرکت کرنے پر تلا بیٹھا ہے ، حضرت مسیح موعودؑ کی تصویر بگاڑ کر یا تصویر کے ساتھ بڑا توہین آمیز سلوک کر کے ہمارے دلوں کو چھلنی کر رہے ہیں یہ لوگ اور برداشت نہیں ہوتا یہ جہالت دیکھتے ہیں جب، لگتا ہے دل پھٹ جائے گا۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں : دعا اور اس کی قبولیت کے درمیانی اوقات میں بسا اوقات ابتلا پر ابتلا آتے ہیں، ایسے ایسے ابتلا بھی آجاتے ہیں کہ کمر توڑ دیتے ہیں مگر مستقل مزاج ، سعیدالفطرت ان ابتلاؤں اور مشکلات میں بھی اپنے رب کی عنایتوں کی خوشبو سونگھتا ہے اور فراست کی نظر سے دیکھتا ہے کہ اس کے بعد نصرت آتی ہے، ان ابتلاؤں کے آنے میں ایک سر (وجہ)یہ بھی ہوتا ہے کہ دعا کیلئے جوش بڑھتا ہے کیونکہ جس قدر اضطراب اور اضطرار بڑھتا جائے گا ، اسی قدر روح میں گدازش ہوتی جائیگی اور یہ دعا کی قبولیت کے اسباب میں سے ہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا کہ ہمیں کسی طرح بھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کہ مخالفین کے ظلم ہمیں اپنے کام سے ہٹا سکتے ہیں یا ترقی میں روک بن سکتے ہیں، ترقی تو ہمیں خدا تعالیٰ دکھا رہا ہے، اور نہ صرف ہمیں ترقی کے نظارے دکھا رہا ہے بلکہ آئندہ آنے والی زندگی میں اپنے پیاروں کے ساتھ جڑنے والوں اور انکی مخالفت کرنے والوں کی حالت کا نقشہ کھینچ کر ہمارے لئے تسلی اور سکینت کا سامان بھی پیدا فرمادئیے ہیں ہمارے لئے خدا تعالیٰ نے قرآ ن کریم میں ۔

The Promised Messiah(as) said: ‘When prayers are made with complete devotion to God they bring about extraordinary effect. It should be remembered that acceptance of prayers is by God alone and there is an appointed time for prayers. Just as morning is a special time and the distinction of morning is not shared by any other hour. Similarly, there are certain times which generate acceptance and effect in prayer.’ Hadhrat Khalifatul Masih said the citation of these extracts of the Promised Messiah(as) is to inculcate further insight into connecting to God, to acquire ways and means of prayer and to be drawn to reformation and good works. So that we may adopt the correct way to pray and be among those who get a measure of ‘Hasana’ (good) in this world as well as the next world. Hadhrat Khalifatul Masih said that if we wish to connect to God, see fulfilment of our good wishes and witness our enemy defeated then we need to try and become true Abid. May God enable each one of us to do so. Today our enemies are those whose enmity, rancour and malice for the Promised Messiah(as) has exceeded bounds. This situation is mostly in Pakistan but also in parts of India and the influence has also reached areas in Africa. We have seen the ending of our enemies in the past and we are also witnessing it today. In Pakistan, those who were extremely abusive about the Promised Messiah(as) have been seized by God in such a manner that it has been a means of deterrent. Those who can see are observing that in Pakistan, without naming specifics, God has seized those who committed such rudeness. Hadhrat Khalifatul Masih said that he wished to say to Ahmadis not to be troubled by what the enemy is up to. An Ahmadi recently wrote to him that the enmity against the Promised Messiah(as) is so intense that the opponents commit every possible vulgarity in this regard. They deface the Promised Messiah’s(as) photograph or demean it in other ways and it is unbearable. The Ahmadis feel as if their hearts would burst. The Promised Messiah(sa) said: ‘During the interval between a supplication and its acceptance one is often subjected to trial after trial, some of which are back-breaking. A persevering and good natured supplicant smells the perfume of the favours of his Lord in these trials and difficulties and his intelligence informs him that they will be followed by help. One aspect of these trials is that they foster eagerness for prayer. We should not worry that the cruelty of our opponents will deter us from our task or will hinder our progress. Indeed, God is granting us progress and advancement. Not only that, by illustrating what it will be like in the next life as regards His beloveds and their opponents in the Holy Qur’an, God has bestowed tranquillity on us. The verses recited at the start of the sermon draw a clear and distinct illustration of the ending of the oppressors in the next life. This is an illustration of those people who mistreat one sent by God.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
08-Mar-2013 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Bengali (mp3)Bulgarian (mp3)Dutch (mp3)French (mp3)German (mp3)Kyrgyz (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Seeking and supplicating for Allah's benevolence
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: جو شخص مشکل اور مصیبت کے وقت خدا سے دعا کرتا ہے اور اس سے حل مشکلات چاہتا ہے، وہ بشرطیکہ دعا کو کمال تک پہنچادے ، خدا تعالیٰ سے اطمینان اور حقیقی خوشحالی پاتا ہے ، اور اگر بالفرض وہ مطلب اس کو نہ ملے ، تب بھی کسی اور قسم کی تسلی اور سکینت اس کو عنایت ہوتی ہے اور ہرگز ہرگز نامراد نہیں رہتا اور علاوہ کامیابی کے ایمانی قوت اس کی ترقی پکڑتی ہے، اور یقین بڑھتا ہے ۔ پس یہ دعا کی حقیقت ہے اور اس کی مختصر فلاسفی ہے ، یہ دعا کی روح ہے اور حقیقی مومن کی یہ سوچ ہے اور ہونی چاہئے ، پس دعا کی قبولیت کیلئے دعا کو کمال تک پہنچانا ضروری ہے اور اس مقام پر پہنچ کر یا تو دعا قبول ہو جاتی ہے ، اس کی قبولیت کے آ ثار ظاہر ہونا شروع ہوجاتے ہیں یا پھر دل کی ایسی تسلی اور سکینت ہوتی ہے کہ انسان کا غم جو ہے وہ دور ہوجاتا ہے ، ایک خاص قسم کا سکون ملتا ہے کہ اب جو بھی خدا تعالیٰ کے نزدیک میرے لئے بہتر ہوگا وہ ظاہر ہوگا ، یہ سوچ ہے جو کہ حقیقی مومن کی ہوتی ہے ، اﷲ تعالیٰ ہم سب کو یہ مقام حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، یہ توفیق بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے ملتی ہے، اس لئے اس کے حصول کیلئے بھی دعا کرنی چاہئے۔ عربی لفظ حسنہ کا مطلب ہے نیکی ، اچھائی، جس میں کوئی برائی اور برا کام نہ ہو، ایسا کام جس کا ہر پہلو سے اچھا نتیجہ نکلتا ہو اور اﷲ تعالیٰ کی رضا کے مطابق ہو ، احمدیوں کیلئے بعض مسلمان ملکوں میں بحیثیت احمدی بھی ایسے حالات ہیں کہ اس دعا کے پڑھنے کی خاص طور پہ ضرورت ہے، مخالفین احمدیت چاہتے ہیں کہ خداتعالیٰ کی ہر نعمت سے احمدی کو محروم کر دیا جائے حتیٰ کہ اس کو جینے کے حق سے بھی محروم کر دیا جائے، ایسے میں یہ دعا کہ اے اﷲ ہمیں دنیا داروں کے سارے منصوبوں کے مقابلے میں اس طرح سنبھال لے کہ یہ جو تیری ہر طرح کی حسنہ سے ہمیں محروم کرنا چاہتے ہیں، ہم انکے تیرے فضلوں کی وجہ سے حاصل کرنے والے بن جائیں، ہمارے دنیا کے اعمال بھی تیری رضا کے حصول کی وجہ سے آخرت کی حسنہ سے بھی ہمیں نوازنے والے ہوں،اور ہر عمل جو ہم یہاں دنیا میں کرتے ہیں ، وہ تیری رضا کو حاصل کرنے والا ہو۔ ہمارے دوست ایسے ہوں جو خیر خواہ ہوں، محبت کرنے والے ہوں ، دکھوں میں کام آنے والے ہوں، نیکیوں کا جواب نیکیوں سے دینے والے ہوں، پاکستان میں آجکل بیشک ایک طبقہ مولویوں کے پیچھے لگ کر احمدیوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے لیکن ایک بہت بڑا حصہ ایسا بھی ہے جو دوستی کا حق نبھانے والے بھی ہیں، ہم ہر پاکستانی کو برا نہیں کہ سکتے یا مختلف ملکوں میں جہاں مخالفت ہے جماعت کی برا نہیں کہ سکتے ۔ مالی میں ہمارے ریڈیو سٹیشن نئے قائم ہوئے ہیں ان کی وجہ سے تبلیغ بڑے وسیع پیمانے پر ہو رہی ہے ، اس کو سن کر بعض مخالف مولوی جو ہیں، جو عرب ملکوں سے مدد لیتے ہیں تاکہ احمدیت کی تبلیغ کو روکیں، اور ان میں جس حد تک ہوسکتا ہے دنیاوی نقصان بھی پہنچانے کی کوشش کریں ، تو ایسے مولویوں نے ہمارے مبلغین کو دھمکیاں بھی دیں ،دیتے بھی رہتے ہیں، ہمارے خلاف پراپیگینڈہ بھی کرتے ہیں کہ ان کی باتیں نہ سنو ، یہ کافر ہیں اور فلاں ہیں اور فلاں ہیں تو بعض انتہا کو بھی پہنچ جاتے ہیں تو وہاں ایک ایسی صورتحال پیدا ہوگئی جو انتہا تھی ، اس پر وہاں کے بعض اچھے ، سلجھے، اثر و رسوخ رکھنے والے غیر از جماعت لوگوں کو پتہ لگا تو انہوں نے ہمارے مبلغ کو پیغام بھیجا کہ بالکل فکر نہ کرو اور اپنا کام کئے چلے جاؤ، یہی حقیقی اسلام ہے جو تم لوگ پھیلا رہے ہو اور کوئی تمہیں روک نہیں سکتا اس سے۔ حضرت مسیح موعودؑ کی دعا جو الہامی دعا ہے ’ رب کل شی خادمک رب فاعفظنی وانصرنی وارحمنی ‘ کیطرف خاص طور پہ توجہ کرنی چاہئے، اﷲ تعالیٰ ہماری مدد فرمائے اور ہم پر رحم فرمائے ، دنیا و آخرت کے حسنہ سے ہمیں نوازتا رہے ، یہ دعا بھی آجکل بہت زیادہ پڑھنے کی صرورت ہے ، حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا مجھے بھی اس دعا کی طرف خاص طور پر توجہ دلائی گئی ہے ، اس لئے یہ دعا خاص طور پر ہر احمدی کو پڑھنی چاہئے، اﷲ تعالیٰ ہر احمدی کو ہر شر سے محفوظ رکھے، دین و دنیا اور آخرت کی حسنہ سے ہمیں نوازے۔ مبشر احمد عباسی صاحب کی شہادت اور ڈاکٹر سید سلظان محمود صاحب کی وفات۔

Promised Messiah(as) said: He who supplicates God at the time of difficulty and distress and seeks the resolution of his difficulties from Him achieves satisfaction and true prosperity from God Almighty provided he carries his supplication to its limit. Even if he does not achieve the purpose of his supplication, he is bestowed some other kind of satisfaction and contentment by God Almighty and does not experience frustration. In addition, his faith is strengthened and his certainty increases. This is the brief philosophy of prayer and should be the viewpoint of a true believer. It is essential to take one's prayer to its limit. Take it to the point where either it is accepted or one's heart is filled with tranquillity. This tranquillity is borne of the assurance that whatever will come to pass through God's will, will be best for us. One is only enabled to arrive at this viewpoint with God's grace and we should also pray for its attainment. The Arabic word 'Hasana' (good) as used in the verse means piety, benefit, something which is good from every aspect and which has a good result. Currently Ahmadis are going through difficult times in some countries and in those circumstances making this prayer is very important. Our opponents want to deprive Ahmadis from every blessing. In such a situation this prayer seeks every kind of 'Hasana' from God's grace, including our deeds to be such that will attain us 'Hasana' in the Hereafter. May our friends too be those who are well-wishing, loving and helpful in times of trouble and who reciprocate piety with piety. No doubt a section of public in Pakistan follows the Maulwis and in doing so, wishes to harm Ahmadis. However, there are also those who honour friendship; we cannot criticise every Pakistani or wherever else in the world trouble is perpetrated against Ahmadis, we cannot be critical of everyone. In Mali we have established radio station which is a source of extensive Tabligh. The opposing Maulwis who are funded by Arab countries threatened our missionary sahib. Indeed, they also carry out propaganda against us and label us Kafir etc. and at times exceed limits. In such a situation when some good, well-adjusted and influential non- Ahmadis happened to know what was going on they assured our missionary sahib and told him to carry on with his work of spreading the message of true Islam. A prayer of the Promised Messiah(as) which was revealed to him: O Lord everything is subservient to You. O Lord, protect us, help us and have mercy on us.' Is very much needed today. Hadhrat Khalifatul Masih has been especially [Divinely] drawn to say this prayer. This is why each Ahmadi should say this prayer. May God keep every Ahmadi safe from all evil, grant us the 'Hasana' of the world and the Hereafter. Martyrdom of Mubasher Ahmad Abbasi sahib and Death of Dr Syed Sultan Mehmood sahib.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
01-Mar-2013 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)Dutch (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Current Muslim Disarray and True Islamic Teachings
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

ایک صاحب عقل اور حقیقی مومن کی نشانی یہ ہے کہ ان تعلقات کو قائم کرتے ہیں جن کے قائم کرنے کا اﷲ تعالیٰ نے حکم دیا ہے ، حضرت مصلح موعودؓ نے اس حصہ آیت کی وضاحت کرتے ہوئے خلاصہ فرمایا ہے کہ یہی لوگ اﷲ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور محبت میں کمال حاصل کر کے اس کے حکم اور اس کی ہدایت کے ماتحت مخلوق کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور مخلوق سے رشتہ اتحاد و اخوت اور احسان جوڑتے ہیں۔ بہرحال پاکستان میں ابھی امن کی حالت ہے اس لحاظ سے کہ حکومت اور عوام کی لڑائی نہیں ہے، لیکن جن ملکوں میں جنگ کی حالت ہے ، وہاں جہاں دشمن فوجوں نے بھی ظلم و بربریت کی ہے، وہاں خود مسلمان مسلمان کو بھی مار رہے ہیں، مثلا افغانستان کا جائزہ لیں تو وہاں مسلمانوں نے ہی ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی اور خود کش حملے یا عام حملے شروع کئے ہوئے ہیں، افغانستان میں گزشتہ دس سال میں پچاس ہزار سے زیادہ اموات ہوچکی ہیں اس وجہ سے۔ اگر مسلمان ممالک کسی ملک میں ظلم ہوتا دیکھ رہے ہیں تو صحیح اسلامی طریق تو یہ ہے کہ اسلامی ممالک کی تنظیم بات چیت کے ذریعے سے غیروں کو بیچ میں ڈالے بغیر امن اور عوام کے حقوق کی کوشش کرتی اور یہ کرسکتی تھی، اگر شام میں پہلے الوی ظلم کر رہے تھے تو اب الٹ ہو رہا ہے اور اس وجہ سے مسلمان ملکوں کے آپس میں دو بلاک بھی بن رہے ہیں، جو خطہ کیلئے خطرہ بن رہے ہیں، اب اگر عالمی جنگ ہوتی ہے تو اس کی ابتدا مشرقی ممالک سے ہی ہوگی، گزشتہ جنگوں کی طرح یورپ سے نہیں ہوگی، پس مسلمان ملکوں کو اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا چاہئے۔ جن ملکوں میں بظاہر امن نظر آتا ہے ، وہاں بھی مسلمان مسلمان کی گردنیں کاٹ رہاہے ، بنگلہ دیش کو دیکھ لیں ، حکومت اگر کسی کے خلاف قانونی کاروائی کر رہی ہے ، قانونی طور پر ان کے کسی لیڈ ر کو سزا دی جاتی ہے، تو اس کے ہمدرد یا اس سے تعلق رکھنے والے کھڑے ہوجاتے ہیں، اور مار دھاڑ شروع ہو جاتی ہے، جو معصوم ہیں ان کا بھی قتل شروع ہو جاتا ہے، تو یہ کونسا اسلام ہے، کونسی قرآنی تعلیم ہے جس پر یہ مسلمان عمل کر رہے ہیں، یہ بدقسمتی ہے مسلمانوں کی یا نام نہاد مسلمانوں کی کیونکہ اﷲ تعالیٰ نے حقیقی مسلمان کی تشانی ہی یہ بتائی ہے کہ اﷲ تعالیٰ سے تعلق کی وجہ سے اس کا تعلق اﷲ تعالیٰ کی مخلوق سے مضبوط ہوتا ہے ، اور پھر مسلمان کے ایک دوسرے مسلمان سے تعلق میں خاص بھائی چارے کا بھی تعلق قائم ہوجاتا ہے۔ آنحضور ﷺ نے بہت واضح فرمایا تھا حجۃ الوداع کے موقع پر کہ آج کے دن تمہارے خون، مال ، تمہاری آبروئیں تم پر حرام اور قابل احترام ہیں، بالکل اسی طرح تمہارا یہ دن، تمہارے اس شہر میں، تمہارے اس مہینے میں واجب الاحترام ہے، اے لوگو تم لوگ عنقریب اپنے رب سے ملو گے، وہ تم سے پوچھے گاکہ تم نے کیسے عمل کئے ، دیکھو میرے بعد دوبارہ کافر نہ بن جاناکہ ایک دوسرے کی گردنیں اڑانے لگ جاؤ اور آگاہ رہو تم لوگوں میں سے جو یہاں موجود ہے ان لوگوں کو پیغام پہنچادے جو کہ یہاں موجود نہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اﷲ تعالیٰ بنصرۃ العزیز نے دعا کی کہ اﷲ کرے ہم آپس کے تعلقات ، محبت کے جذبات اور ایک دوسرے کیلئے رحم کو بڑھانے والے ہوں، وہ جماعت بن جائیں جو حضرت مسیح موعودؑ اور آنحضرت ﷺ کے ارشادات پر عمل کرنے والی ہو، دنیا کے امن کی بھی جماعت احمدیہ ضمانت بن جائے، مسلمان آنحضرت ﷺ کے غلام صادق کو مان کر آپس کے پیار و محبت کی اہمیت کو سمجھنے والے بن جائیں۔ ناصرہ سلیمہ رضا صاحبہ کی زائن امریکہ میں وفات۔

It is the sign of intelligent and true believers that they ‘join what Allah has commanded to be joined’. That is, they establish those connections which God has commanded to establish. In explanation of this verse Hadhrat Musleh Maud(ra) has said that these are the people who, having attained excellence in their obedience and love of God, are drawn to God’s creation and in accordance with His commandments they forge connections of unity and benevolence with them. Pakistan is in a state of peace in the sense that no fighting between the public and the government is taking place there. In countries where such fighting is taking place and foreign powers have also committed cruelty, Muslims are killing Muslims. For example in Afghanistan Muslims are waging war against Muslims and in the last ten years in excess of 50,000 lives have been lost. The correct Islamic approach would have been for the organisation of Muslim countries to sit together without outside intervention and hold peace talks. Indeed, they could have done this. If the Alawis were persecuting others in Syria earlier, now the situation has been reserved. If there is a future world war it will start from the East and not the West as the earlier world wars. Muslim countries need to understand their responsibilities. In Muslim countries where there is apparent peace, there too Muslim is killing Muslim. If the government passes sentence on any leader, his sympathisers rise in revolt and start a murdering spree. What kind of Islam is this? Cruelty and barbarity is at its height in Muslim countries or Muslims are embroiled in it in the name of Islam. Whereas God has stated that the sign of a true believer is that due to his connection with God, his connection with creation is strong, especially Muslims are like brothers among themselves. In his Farewell Sermon, the Holy Prophet(saw) said: ‘Even as this month is sacred, this land inviolate, and this day holy, so has God made the lives, property and honour of every man sacred. O people! you will surely meet your Lord soon and He will ask you of your works. Do not become disbelievers once again after me lest you start killing each other. What I have said to you, you should communicate to the ends of the earth Hadhrat Khalifatul Masih prayed that may we increase our mutual love and compassion and become that community which the Promised Messiah(as) wished to make, in light of the sayings of the Holy Prophet(saw). And may the Ahmadiyya Community also become the guarantor of world peace. May the Muslims accept the Promised Messiah(as) and understand the significance of mutual love. Death of Nasira Saleema Raza sahiba of Zion, USA.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
22-Feb-2013 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Musleh Maud - The Promised Son: Friday Sermon on God and Prayers
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Indonesian
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

اﷲ تعالیٰ نےآپ کو جو خدا داد علم، ذہانت اور فراست عطا فرمائی تھی اس کے بہت سے پہلو ہیں ، خلافت سے پہلے بھی آپ کی تحریرات اور تقریریں علم و معرفت سے بھری ہوئی ہیں، آپ کی کتب ، تقریریں اور مضامین انوارالعلوم کے نام سے جو کتاب ہے، مختلف جلدوں میں چھپی ہے، اب تک ۲۳ جلدیں اس کی شائع ہو چکی ہیں اور ہر جلد ۶۰۰ سے اوپر صفحات پر مشتمل ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا کہ آج وہ حضرت مصلح موعودؓ کا ایک خطبہ آپکے الفاظ میں بیان کریں گے ، جو خطبہ حضور نے چنا ہے وہ بھی دعا کے طریق اور خدا تعالیٰ پر یہ یقین کہ وہی تمام قدرتوں کا مالک ہے اور جو وہ چاہتا ہے وہی ہوتا ہے ، اس مضمون پر مشتمل ہے ، حضور نے فرمایا کہ یہ مضمون حضور نے اس لئے چنا ہے کہ آجکل بھی اگر ہم خارق عادت نتائج دیکھنا چاہتے ہیں تو اس مضمون کے صحیح ادراک اور اس پر عمل کی ضرورت ہے ۔ حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا: انسان کے اضطرار کی ہزاروں حالتیں ہوتی ہیں ، بھلا ان حالتوں میں کوئی بادشاہ بھی کسی کام نہیں آ سکتا ، فرض کرو ایک جنگل میں گزرنے والا شخص جس پہ بھیڑیا یا شیر اچانک حملہ کر دیتا ہے ، وہ چاہے بادشاہ کے کتنا ہی منہ چڑھا ہو یا بادشاہ کا بیٹا ہی کیوں نہ ہو ، بادشاہ اس کے کیا کام آ سکتا ہے، ایسی حالت میں وہاں خدا تعالیٰ کی ذات ہی ہے جو کام آ تی ہے ، تو جب تک انسان کے اندر یہ یقین پیدا نہ ہو کہ ہر قسم کے اضطرار کی حالت میں اﷲ تعالیٰ ہی کام آ تا ہے اس وقت تک وہ مضطر نہیں کہلا سکتا۔ حضرت مصلح موعودؓ مکہ کے لوگوں میں آنے والی انقلابی تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے ایک واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ حضرت عبداﷲ بن مسعود گلی میں سے گزر رہے تھے اور آنحضور ﷺ مسجد میں وعظ فرمارہے تھے اور وہ اسی وعظ کو سننے کیلئے مسجد کی طرف جارہے تھے ، وہاں کسی وجہ سے آنحضرت ﷺ نے لوگوں کو فرمایا کہ لوگ بیٹھ جائیں تو آپ کیونکہ رستے میں جارہے تھے ، آپؓ نے بات سنی اور آپ بیٹھ گئے اور بچوں کی طرح گھسٹ گھسٹ کر مسجد کی طرف جانا شروع کردیا ۔ عربوں کی جھوٹی غیرت کے ایک اور واقعہ بیان کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ ایک شخص جو ایک لڑکی سے شادی کرنا چاہتا تھا ، اس کے باپ کے پاس گیا اور کہا مجھے لڑکی دکھا دو، اس نے کہا نہیں لڑکی نہیں میں دکھا سکتا، وہ رسول اﷲ ﷺ کے پاس گیا اور کہنے لگا یا رسول اﷲ ﷺ میں ایک لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہوں اور اس کا باپ لڑکی کی شکل مجھے نہیں دکھاتا ، رسول کریم ﷺ نے فرمایا وہ غلطی کرتا ہے ، اسے لڑکی دکھا دینی چاہئے، وہ پھر اس کے پاس پہنچا اور کہنے لگا تم نے انکار کیا تھا اور کہا تھا کہ میں لڑکی نہیں دکھاتا، میں نےاس بارہ میں رسول کریم ﷺ سے پوچھا ہے اور آپ نے فرمایا ہے کہ نکاح کے موقع پر لڑکی کو دیکھ لینا جائز ہے۔ حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا : قلوب کو دنیا کی کوئی حکومت نہیں بدل سکتی، قلوب کو اﷲ تعالیٰ ہی بدلتا ہے ، بزدل بہادر بن جاتے ہیں خدا کے حکم کے ماتحت اور بہادر بزدل بن جاتے ہیں خدا کے حکم کے ماتحت ، کنجوس سخی بن جاتے ہیں خدا کے حکم کے ماتحت اور سخی کنجوس بن جاتے ہیں خدا کے حکم کے ماتحت ، جاہل عالم بن جاتے ہیں خدا کے حکم کے ماتحت اور عالم جاہل بن جاتے ہیں خدا کے حکم کے ماتحت ۔ ایک دفعہ ایک مشہور امریکن پادری قادیان آیا ، اس کے ساتھ ایک اور پادری بھی تھا ، ڈاکٹر خلیفہ رشیدالدین صاحب مرحوم ا س وقت زندہ تھے، انہوں نے اسے قادیان کے تمام مقامات دکھائے، ان دنوں قادیان میں ابھی ٹاؤن کمیٹی نہیں بنی تھی اور گلیوں میں بہت گند پڑا رہتا تھا ، پادری باتوں باتوں میں ہنس کر کہنے لگا کہ ہم نے قادیان بھی دیکھ لیا اور نئے مسیح کے گاؤں کی صفائی بھی دیکھ لی ، ڈاکٹر خلیفہ رشیدالدین صاحب نے فرمایا پادری صاحب ابھی پہلے مسیح کی حکومت ہندوستان پر ہے اور یہ اس کی صفائی کا نمونہ ہے،نئے مسیح کی حکومت قائم نہیں ہوئی۔ شعبہ ضیافت کے عظیم صاحب کی لندن میں وفات۔

Many aspects of the God-given knowledge, intellect and wisdom of Hadhrat Musleh Maud(ra) can be seen in his speeches, addresses and sermons even prior to Khilafat. His discourses were replete with spiritual knowledge. 23 volumes of his speeches have been published entitled ‘Anwarul Uloom’ with each volume more than 600 pages and this series is still being published. Today Hadhrat Khalifatul Masih decided to give a sermon mostly in the words of Hadhrat Musleh Maud(ra) regarding methods of prayer and belief in God as Master of all powers and said that he chose this sermon because if we wish to experience extraordinary results we need to have a proper insight into the subject of this sermon and should put it in practice. Hadhrat Musleh Maud(ra) said There are thousands of ways in which man can be distressed, even a king cannot be of help in this regard. For example if a man is passing through a jungle and a wild animal comes by, how can a powerful king be any use to him there, even if the man is the king’s son? In such a situation only God can be of help. Thus, unless a person has perfect belief that only God can help him in any given situation he cannot be called a Muztir. Hadhrat Musleh Maud(ra) related a long story to illustrate this and then to illustrate the revolutionary change that took place among the Makkans he related the Tradition of a Companion of the Holy Prophet(saw) Hadhrat Abdullah bin Masood. He was on his way to listen to the sermon of the Prophet(saw) and was still in the street when he heard the Holy Prophet’s(saw) voice asking people to sit down. Abdullah bin Masood promptly sat down where he was, on the way to the sermon and then he started to crawl his way to the mosque. Another episode of false sense of pride of Arabs of that time is that a man wanted to marry a girl and asked her father to let him see her. The father refused. The man went to the Holy Prophet(saw) and told him the story. The Prophet(saw) said that the man was wrong to do so and that it was permissible to see the girl for the purpose of Nikah. The man went back to the girl’s father and told him what the Prophet had said. Hadhrat Musleh Maud(ra) said: ‘No worldly government can change hearts. Only Allah the Exalted can change hearts. Cowards become brave under the commandment of God and the brave become cowards under the commandment of God. Miserly become generous under the commandment of God and the generous become miserly under the commandment of God. The ignorant become scholars under the commandment of God and scholars become ignorant under the commandment of God. Once, a renowned American priest visited Qadian along with another priest. Dr Khalifa Rasheed ud din sahib showed them around. Qadian did not have any civic authority at the time and rubbish would collect in streets. The priest made a jibe about the cleanliness of the village of the ‘new Messiah’. Dr Rasheed ud din sahib responded that India was still under the governance of the ‘first Messiah’ [British Indian Raj] and this was an example of its cleanliness and that the governance of the ‘new Messiah’ had not yet been established. Death of Azim Sahib of Ziafat Department in London.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
15-Feb-2013 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)Bengali (mp3)German (mp3)

Title: Visions and dreams of the Companions about Khalifatul Masih II(ra)
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا صحابہ ؓ حضرت مسیح موعودؑ کے واقعات اور روایات کا جو سلسلہ شروع کیا ہوا ہے ، اس کے جو مختلف عنوان بنائے گئے تھے وہ بیان ہوتے رہے، آج کا خطبہ اس سلسلہ کا آخری خطبہ ہوگا ، حضور نے متعلقہ لوگوں کو کہا ہے کہ رجسٹر دوبارہ بھی چیک کرلیں ، اگر روایات رہ گئیں ہوئیں کچھ تو پھر کسی وقت بیان ہو جائیں گی۔ حضور نے فرمایا کہ روایات جوحضور بیان کرنے لگے ہیں، وہ حضرت مصلح موعوہ ؓ کی خلافت کے بارہ میں لوگوں کو اﷲ تعالیٰ نے تسلیاں دلائیں، جو لوگ پہلے غیر مبائعین میں شامل ہوئے تھے، ان کو راہنمائی اﷲ تعالیٰ نے فرمائی اور پھر وہ بیعت میں آگئے، حضرت مصلح موعودؓ نے جو اپنا زمانہ گزارا ہے ، بڑی سختی اور پریشانی کا دور تھا، شروع میں بھی فتنہ اٹھا انتخاب خلافت کے وقت۔ حضرت شیخ اسماعیل صاحبؓ : آپ ؓ نے ۱۸۹۴ میں بیعت کی، آپ فرماتے ہیں کہ میں نے رویا میں حضرت خلیفۃ المسیح الاول ؓ کی زندگی میں دیکھا تھاجو حضرت محمود ؓ کی خلافت کے متعلق تھا، جب حضرت خلیفہ اولہ ؓ کو چوٹ لگی اور آپ کو معاشرہ کی تکلیف ہوئی تو میں نے حضرت محمودؓ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر یہ اقرار کیا تھاکہ میں آپکا پہلا غلام ہوں، تو مجھے آپ نے فرمایا کہ سمجھ میں نہیں آیا ، جناب یعقوب علی صاحب عرفانی نے بتلایا کہ ان کو بذریعہ رویا اور الہام کے ذریعہ یہ بتلایا گیا ہے کہ ہم نے محمود کو خلیفہ بنادیا ہے ۔ حضرت خیر دین صاحبؓ : آپ نے ۱۹۰۶ میں بیعت کی، آپ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے دیکھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ کا داہنا ہاتھ گیارہ کرم لمبا ہو گیا ہے یعنی ۵۵ فٹ لمبا ہو گیا ہے ، اس میں بتایا ہے کہ خداتعالیٰ نے ان کو غیر معمولی طاقت عطا فرمائی ہےجس کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکے گا ، اسی حالت میں دیکھا کہ آپ کا چہرہ مبارک مغرب کی طرف ہے اور ایک چھوٹی سی دیوار پر رونق افروز ہیں اور آنکھوں سے آنسو جاری ہیں ، میں نے عرض کیا کہ حضور روتے کیوں ہیں، حضور نے فرمایا اس واسطے روتا ہوں کہ لوگ مجھے معبود نہ بنا لیں۔ حضرت رحم دین صاحب ؓ ابن جمال دین صاحبؓ : آپ نے ۱۹۰۲ میں بیعت کی، آپ فرماتے ہیں کہ خلافت ثانیہ کے وقت میں نے ایک رویا دیکھا کہ مولوی محمد علی صاحب ایم اےکرسی پر بیٹھے ہیں اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ پاس کھڑے ہیں ، تب میرے دیکھتے مولوی محمد علی صاحب کا چہرہ اور جسم چھوٹا ہونا شروع ہوا اور بالکل چھوٹا ہوگیا جیسے بچہ کا جسم ہوتا ہے اور حضرت میاں صاحب ؓ کا جسم بڑھتے بڑھتے بہت لمبا یعنی آپکے قد سے بھی زیادہ قد وغیرہ ہو گیا اور بڑے رعب اور جلال والا ہوگیا، تب میں بہت متعجب ہوا اور جس وقت صبح ہوئی تو تمام شکوک و شبہات دل سے نکل گئے اور میں نے آپ ؓ کی بیعت کر لی۔ جلسہ سالانہ ۱۹۲۷ کے موقع پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے فرمایا : ایسی باتیں الٰہی سلسلوں کے ساتھ خداتعالیٰ کی حکمت کے ماتحت لگی رہتی ہیں، ان سے گھبرانا نہیں چاہئے ، ہمارا فرض کام کرنا ہے، دشمنوں کی شرارتوں سے گھبرانا ہمارا کام نہیں ، جو چیز خداتعالیٰ کی ہو اسے وہ خود غلبہ عطا کرے گا ، اﷲ تعالیٰ اپنی چیزوں کی آپ حفاظت کرتا ہے، اگر سلسہ احمدیہ کسی بندے کا سلسلہ ہوتا تو اتنا کہاں چل سکتا تھا ، یہ خدا کا ہی سلسلہ ہے، وہی پہلے اس کی حفاظت کرتا رہا ہےاور وہی آئندہ کرے گا انشاء اﷲ۔ سردار محمد بھروانہ صاحب کی وفات۔

Hadhrat Khalifatul Masih said that today he would give the last sermon in the series relating traditions of companions of the Promised Messiah(as). These traditions were collated under different topics and recounted in sermons. The affiliated department has been instructed to go through the records/register once again and if any traditions were missed out, they will be recounted at another time. The traditions recounted today illustrate how Divine assurance was given to people regarding the Khilafat of Hadhrat Musleh Maud(ra) and how some, who had joined the Lahore splinter group, were guided and reverted to taking Bai’at [of Khilafat e Ahmadiyya]. Hadhrat Musleh Maud(ra) went through times of extreme difficulty and severity. Hadhrat Sheikh Ismail sahib(ra): He took Bai’at in 1894. He relates his dream: I saw this dream in the lifetime of Hadhrat Khalifatul Masih I(ra) regarding Khilafat of Hadhrat Mahmood. I saw that Hadhrat Khalifatul Masih I(ra) is injured and has contracted an illness. I put my hand on the hand of Mian Mahmood and declare that I am his first follower. He replies that he does not understand. Just then someone says that I have been informed via revelation and dream; ‘We have made Mahmood the Khalifa. Hadhrat Khair Din sahib(ra): His Bai’at year is 1906. He relates a dream: I saw that Hadhrat Musleh Maud’s(ra) right hand has grown enormously and is about 55 feet long. This signifies that God has bestowed him with extraordinary power which no one will be able to match. l saw that in this condition he sits on a low wall and is weeping. I ask him why does he weep to which he replies ‘lest people start idolising me.’ Hadhrat Rehm Din sahib(ra), son of Jamal Din sahib: He took Bai’at in 1902. He relates:I experienced a vision during the second Khilafat e Ahmadiyya. I saw Maulwi Muhammad Ali and Hadhrat Khalifatul Masih II(ra) together. Meanwhile, Maulwi Muhammad Ali’s body starts to contract, so much so that it is the size of a child’s body whereas the body of Hadhrat Khalifatul Masih II starts to grow so much so that it becomes larger than life size and exuded prestige and majesty. In the morning all my doubts were removed and I took his Bai’at. At the Jalsa Salana of 1927 Hadhrat Khalifatul Masih II(ra) said: ‘It is the way of God that such matters are experienced by Divine communities. They should not cause anxiety. Our obligation is to do to our task, it is not our task to be troubled by the mischief of the enemy. God Himself will grant triumph to whatever is His. Allah the Exalted looks after His matters Himself. If the Ahmadiyya Community was manmade, how could it have lasted this much? This is God’s community. Death of Sardar Muhammad Bharwana sahib.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
08-Feb-2013 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Dutch (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Companions of The Promised Messiah(as), Jalsa Salana Bangladesh and Sierra Leone
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت میاں محمد ظہور الدین صاحب ؓ : آپ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن میں فاقے کی حالت میں لیٹا ہوا تھا کہ میری بیوی مجھے دبانے لگ گئی ، اس حالت میں مجھے نیند آگئی، خواب میں دیکھتا ہوں کہ ایک عورت نیلے کپڑوں والی گھر پر آئی ہے ، ایک ہاتھ پر دودھ کا کٹورا بھرے ہوئے رکھے ہوئے ہے اور آکر ا س نے مجھے دیا اور کہا کہ میاں جی میں یہ دودھ آپ کے واسطے لائی ہوں، آپ اس کو پی لیں، میں اس کو پینے لگا تو عورت نے کہا کہ اس میں شکر ڈالی ہوئی ہے آپ اس کو ملا لیں ، جیسے ہی میں شکر کو ملانے لگا تو میری آنکھ کھل گئی، میں نے خواب اپنی بیوی کو سنائی اور پھر میں بھول گیا، کچھ دیر بعد نیلے کپڑے پہنے ہوئے، ہاتھ پر دودھ کا کٹورا رکھے ہوئے ایک عورت میرے گھر پر آئی۔ حضرت مولوی عبدالرحیم نیر صاحب ؓ : آپ نے ۱۹۰۱ میں بیعت کی، آپ فرماتے ہیں کہ میں جب ہائی سکول میں مدرس تھا تو ایک دن مولوی شیر علی صاحب ؓ سےجو ہیڈ ماسٹر تھے ، کھیلوں کے معاملہ میں جن کا میں انچارج تھا ، کچھ اختلاف ہوگیا، اسی رات میں نے تہجد میں دعا کی تو مجھے ایک باریک کاغذ پر لکھا ہوا دکھایا گیا ’ نو ٹورنامنٹ نو گیمز‘ اس کے بعد میں بیمار ہو کر ٹورنامنٹ میں شامل نہیں ہو سکا، نیز ٹورنامنٹ کے دنوں میں شدید بارش کی وجہ سے ٹورنامنٹ بالکل بند ہوگیا ، ہمارے طلباء کو بہت خوشی ہوئی کہ ایک الہام پورا ہوگیا ہے۔ حضرت امیر خان صاحبؓ: آپ نے ۱۹۰۳ میں بیعت کی ،فرماتے ہیں کہ جنوری ۱۹۱۷ میں میں نے خواب میں ایک شخص کو سرپٹ گھوڑا دوڑاتے چلے آتے دیکھا ، اور میں ایک کنویں کے پاس میدان میں کھڑا تھا، اس شخص نے گھوڑے سے اتر کر مجھے کہاکہ میں بادشاہ ہوں اور احمد علی میرا نام ہے ، میرے لئے دعا کی جائے، تب میں نے دعا کیلئے ہاتھ اٹھایا اور اس نے بھی میرے ساتھ شمولیت اختیار کی، جب ہم دعا سے فارغ ہوئے تو وہ فورا گھوڑے پر سوار ہو کر سرپٹ گھوڑا دوڑا کر واپس چلا گیا ، ابھی تھوڑی دور گیا تھا کہ اس کا بے شمار لشکر گردو غبار اڑاتا ہوا اس سے آ ملا۔ حضرت میاں امام الدین سیکھوانی صاحبؓ : آپ نے ۱۸۹۹ میں بیعت کی، آپ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے کچھ رقم حضور ؑ کو پیش کی، تو حضور اقدس ؑ دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا کیسے ہیں ، میں نے کہا حضور مجھے خواب آئی تھی، میں نے اتنی رقم دی ہے آپ کو، حضورؑ نے منظور فرمائی۔ حضرت شیخ محمد اسماعیل صاحبؓ ابن شیخ مسیتا صاحب جنہوں نے ۱۸۹۴ میں بیعت کی اپنی خواب کا ذکر کرتے ہوئے فرماتےہیں : کوئی باغ ہے جس میں ساری جماعت کے احباب موجود ہیں اور غرباء ایک طرف ہیں اور امراء ایک طرف ہیں، امراء نے اپنا لیڈر حضرت مولانا عبدالکرم سیالکوٹی ؓ کو مقرر کیا اور مجھے میرے غرباء احباب نے اپنا لیڈر مقرر کیا، اور فیصلہ یہ ہوا کہ پہلی تقریر مولانا عبدالکریم سیالکوٹی صاحبؓ کریں گے اور اان کا جواب مجھ ناچیز کے ذمہ قرار پایا ، حضرت مولانا نے اپنی تقریر میں اپنی خلافت کے دلائل پیش کئےاور میں نے اپنی تقریر میں حضرت مولانا حکیم مولوی نورالدین صاحبؓ کی خلافت کے دلائل دئیے اور مولانا کے دلائل کا رد کیا ۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا کہ اس وقت دو ملک ہیں بنگلہ دیش اور سیرا لیون جن کے جلسہ سالانہ منعقد ہورہے ہیں ، بنگلہ دیش میں احمدیت کو پہنچے ہوئے ایک سو سال ہو چکا ہے جیسا کہ برطانیہ کی جماعت کو بھی اس سال ۱۰۰ سال پورے ہوئے ہیں، جماعت برطانیہ بھی اپنے جشن تشکر کا پروگرام بنا رہی ہے، بنگلہ دیش کی جماعت نے بھی یہ پروگرام بنائے ، جلسہ سالانہ بھی اس پروگرام کا بہت بڑاحصہ ہے۔ پرسوں کچھ نام نہاد علماء نے اپنے چیلوں کو اکٹھا کر کے اور کچھ جماعت اسلامی کے لوگ تھے ، وہاں انہوں نے حملہ کر دیا ، پولیس وہاں کھڑی رہی، کچھ نہیں کیا اس نے ، آخر ان حملہ آوروں نے سارا سامان درہم برہم کیا اور پھر اس کو آگ لگا دی، جس سے کرائے کا سامان تھا بہت سارا، کرسیاں اور ٹینٹ اور مارکیاں وغیرہ، بہرحال کروڑوں کا نقصان ہوا ہے، تو یہ ہے اسلام کے نام نہاد علمبرداروں کا رویہ،بہرحال جلسہ تو کینسل نہیں ہوا، وہ تو ہو رہا ہے ، جماعت کی اپنی جو جگہ ہے اس میں ہو رہا ہے، تعداد کم ہوگی ، جگہ کہ تنگی ہوگی۔ کریفا کوندے صاحب، چوہدری بشیر احمد صاحب اور عبدالغفار ڈار صاحب کی وفات۔

Hadhrat Muhammad Zuhur ud Din sahib(ra): One day I was laying in bed in a state of starvation. It was midday and my wife was massaging me. I fell asleep and saw a dream that a woman in blue clothes comes to our house holding a bowl of milk. She gives the milk to me to drink and tells me there is some sugar in the milk and that I should mix it. Just as I started mixing the sugar, I awoke. I narrated the dream to my wife and then forgot about it. A short while later a woman wearing blue clothes came to our house holding a bowl. Hadhrat Maulwi Abdul Raheem Nayyer sahib(ra): He took Bai’at in 1901 and relates When I was a teacher in high school, I had some disagreement about sports with Maulwi Sher Ali sahib who was the head teacher and I was in-charge of sports. I prayed during Tahajjud and was shown the words: ‘No tournament, no games.’ I fell ill and could not participate in the events, in addition due to heavy rainfall the tournament had to be cancelled. The students were happy that the Divine revelation was fulfilled. Hadhrat Ameer Khan sahib(ra): He took Bai’at in 1903 and has related many dreams. He says: In 1917 I saw a dream in which a man is galloping on horseback. He tells me that he is a king and his name is Ahmad Ali and asks me to pray for him. We both raise our hands to pray and then he mounts his horse and gallops away. He has only gone a short distance that he meets his troops which are coming towards him in a haze of dust. Hadhrat Mian Imam Din Saikhwani sahib(ra): He took Bai’at in 1899. He relates: Once the Promised Messiah(as) was strolling that I gave him some money which was perhaps a few Rupee short of 20. He smiled and asked me how I was. I said, ‘Hudhur I had seen a dream in which I gave you this amount.’ The Promised Messiah(as) accepted the money. Hadhrat Sheikh Muhammad Ismael sahib(ra) son of Sheikh Maseeta sahib, who took Bai’at in 1894, relates a dream: I saw that the entire Jama’at is gathered in a garden. The rich are gathered on one side and the poor on the other. The rich have appointed Maulana Abdul Kareem Sialkoti as their leader and the poor have appointed me. It is decided that Maulana will make the first speech and I will respond. Maulana presented arguments in favour of his Khilafat and I presented arguments in favour of Hadhrat Nur ud Din’s Khilafat and refuted Maulana’s stance. Hadhrat Khalifatul Masih said that today the Jalsa Salana in Bangladesh and Sierra Leone will commence. This year marks 100 years of Ahmadiyyat in Bangladesh just as it is also a hundred years since Ahmadiyyat was established in Britain. The British Jama’at is making programmes of thanksgiving in this regard as has Bangladesh Jama’at. The Jalsa in Bangladesh is a large part of that. Day before yesterday so-called religious leaders gathered their henchmen including elements of Jamaat e Islami. Some 2000 to 3000 people attacked the Jalsa venue while the police stood by watching. The extremists destroyed everything and then get fire to it. All the hired equipment was ruined causing loss of tens of millions. This is the stance of the so-called followers of Islam. The Jalsa has not been cancelled; it is going ahead at Jama’at’s own site, though space will be restricted. Death of Karifa Konday sahib, Chaudhry Bashir Ahmad sahib and Abdul Ghaffar Dar sahib.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
01-Feb-2013 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)Dutch (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: The Exalted Status of The Prophet(saw)
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Indonesian
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

گزشتہ سے پچھلے جمعہ حضور نے فرمایا تھا کہ آنحضرت ﷺ کی ولادت باسعادت کے حوالے سے پاکستان میں میلاد النبیﷺ کے جلسے اور جلوس منعقد ہو رہے ہیں ، جن میں سابقہ تجربے کی بنیاد پر یہ قوی امکان تھا کہ سیرت اور عشق رسول ﷺ کا کم ذکر ہوگا اور حضرت مسیح موعودؑ اور جماعت کے خلاف دریدہ دہنی کا زیادہ اظہار ہوگا، خاص طور پر ربوہ میں، چنانچہ جو رپورٹس آئیں، وہی کچھ ہوا۔ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا ، وہ اعلیٰ درجہ کا نور جو انسان کو دیا گیا یعنی انسان کامل کو ، وہ ملائک میں نہیں تھا، نجوم میں نہیں تھا، قمر میں نہیں تھا، آفتاب میں نہیں تھا، وہ زمین کے سمندروں اور دریاؤں میں بھی نہیں تھا، وہ لعل اور یاقوت اور الماس اور موتی میں بھی نہیں تھا، غرض وہ کسی چیز عرضی اور سماوی میں نہیں تھا، صرف انسان میں تھا یعنی انسان کامل میں ، جس کا اکمل اور اتم اور اعلیٰ اور ارفع فرد ہمارے سید مولا ، سید الانبیاء ، سید الاحیاء محمد ﷺ ہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ اس درجہ لقاء میں بعض اوقات انسان سے ایسے امور صادر ہوتے ہیں کہ جو بشریت کی طاقتوں سے بڑھے ہوئے ہوتے ہیں اور الہٰی طاقت کا رنگ اپنے اندر رکھتے ہیں، جیسے ہمارے سید مولا ، سید الانبیاء، خاتم الرسلﷺ نے جنگ بدر میں ایک سنگریزوں کی مٹھی کفار پر چلائی، اور وہ مٹھی کسی دعا کے ذریعے سے نہیں بلکہ خود اپنی روحانی طاقت کے ذریعے سے چلائی، مگر اس مٹھی نے خدائی طاقت دکھلائی، اور مخالف کی فوج پر ایسا خارق عادت اثر اس کاپڑا کہ کوئی ان میں سے ایسا نہ رہا جس کی آنکھ پر اس کا اثر نہ پہنچا ہو اور وہ سب اندھوں کی طرح ہو گئے اور ایسی پریشانی ان میں پیدا ہوگئی کہ مدہوشوں کی طرح بھاگنا شروع کیا۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: میں اسی کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جیسا کہ اس نے ابراہیم سے مکالمہ و مخاطبہ کیا اور پھر اسحاق سے اور اسماعیل سے اور یعقوب سے اور یوسف سے اور موسیٰ سے اور مسیح ابن مریم سے اور سب کے بعد ہمارے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ سے ، ایسا ہم کلام ہوا کہ آپ ﷺ پر سب سے زیادہ روشن اور پاک وحی نازل کی، ایسا ہی اس نے مجھے بھی اپنے مکالمہ و مخاطبہ کا شرف بخشا، مگر یہ شرف مجھے محض آنحضرت ﷺ کی پیروی سے حاصل ہوا۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: الٰہی تیرا ہزار ہزار شکر کہ تو نے ہم کو اپنی پہچان کا آپ راہ بتایا اور اپنی پاک کتابوں کو نازل کر کے فکر اور عقل کی غلطیوں سے بچایا اور درور و سلام حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور ان کی آل و اصحاب پر کہ جس سے اﷲ نے ایک عالم گم گشتہ کو سیدھی راہ پر چلایا ، وہ مربی اور نفع رساں جو بھولی ہوئی خلقت کو پھر راہ راست پر لایا ، وہ محسن اور صاحب احسان کہ جس نے لوگوں کو شرک اور بتوں کی بلا سے چھڑایا ۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا اﷲ تعالیٰ کے حکم کے مطابق آنحضرت ﷺ پر درود بھیجنا ایک مومن مسلمان کیلئے لازمی امر ہے جس کے بغیر وہ محبت کے معیار پورے نہیں ہوتے اور نہ ہوسکتے ہیں جو ایک مومن کو آنحضرت ﷺ سے ہونی چاہئے،نہ ہی کوئی دعا قبولیت کا درجہ حاصل کرتی ہے، یا کرسکتی ہے جس میں درود شامل نہ ہو، اصل مقصد درود کی ہمیں آنحضرت ﷺ سے محبت ہونی چاہئے۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا : اﷲ تعالیٰ ہمیں حقیقی رنگ میں آنحضرت ﷺ کی شان اور مقام کو سمجھنے اور اس پر عمل کر نے کی توفیق عطا فرمائے،حضور نے امت محمدیہ کیلئے دعا کی تحریک کی، بیشک یہ ہمیں جو مرضی کہتے رہیں، سمجھتے رہیں ،اکثریت ان میں سے لا علمی کی وجہ سے اورعلما ء کے خوف کی وجہ سے ہماری جماعت کی مخالفت کرتے ہیں، لیکن کیونکہ یہ اپنے آپ کو ہمارے آ قا و متاع حضرت محمدمصطفیٰﷺ کی طرف منسوب کرتے ہیں ، اس لئے اس وقت ان کی حالت زار کے بارے میں ہمیں دعا کرنی چاہئے، اﷲ تعالیٰ ان کو اس حالت سے نکالے۔ احسان اﷲ صاحب کی وفات، نجمی صاحب آف عربی ڈیسک کی وفات۔

Friday before last it was said in the Friday sermon that as it was the date of birth of the Holy Prophet(saw) there would certainly be rallies carried out in Pakistan and based on previous experiences, it was highly likely that these rallies would have less mention of the blessed life of the Prophet(saw) and love for him and would be more geared towards abuse and derision of the Promised Messiah(as) and the Jama’at and that this would happen in particular in Rabwah. Promised Messiah(as) said That light of high degree that was bestowed on perfect man was not in angels, was not in stars, was not in the moon, was not in the sun, was not in the oceans and the rivers, was not in rubies, emeralds, sapphires, or pearls; in short, it was not in any earthly or heavenly object. It was only in perfect man whose highest and loftiest and most perfect example was our lord and master, the Chief of the Prophets, the Chief of all living ones, Muhammad, the chosen one(saw). Promised Messiah(as) said When a person arrives at this exalted stage of meeting with God, he sometimes performs acts which appear to be beyond human power and have the colour of Divine Power. For instance, during the battle of Badr, the Holy Prophet(saw) threw a handful of gravel at the opposing force not accompanied by any prayer, but with his own spiritual power, which affected the opposing force in such an extraordinary manner that everyone's eyes were struck by the gravel and they were rendered sightless and began to run around in confusion and helplessness. Promised Messiah(as) said: I swear by Him that just as He granted His converse to the Prophet Abraham(as) and then to Isaac(as), Ishmael(as), Jacob(as), Joseph(as), Moses(as) and Jesus Son of Mary, and, after them all, spoke with unmatched clarity and purity to our Prophet Muhammad(saw), so did He honour me with His converse and revelation. But this honour was bestowed upon me solely because of my complete submission to the Holy Prophet Muhammad(saw). Promised Messiah(as) said: Countless thanks be to You, O Allah, for guiding us to the path that leads to You, and for saving us from errors of thought and reason by sending down Your Holy Books. We invoke blessings on the Chief of Prophets, Hadrat Muhammad Mustafa(saw) [the Chosen One], on his progeny and on his Companions. Through him God guided an entire world that had lost its way to the right path. He was the teacher and the benefactor who led misguided people back to the right path. Hadhrat Khalifatul Masih said it is incumbent upon every Muslim to invoke salutations and blessings (Durud) on the Holy Prophet(saw) because without it one cannot fulfil the requisite of love for him. In addition prayer that is without Durud does not gain acceptance. The real motive of invoking Durud should be love of the Prophet(saw). Hadhrat Khalifatul Masih prayed that may we be enabled to truly understand the high station of the Holy Prophet(saw) and follow it. He appealed for prayers for the Muslim Ummah, no matter what they think of us. Majority of them oppose us either due to lack of knowledge or due to fear of the religious leaders. However, as they are associated to our master, the Holy Prophet(saw) we should pray for their doleful state. Death of Ahsan Ullah sahib and Najmi Sahib of Arab Desk.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
25-Jan-2013 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)Bengali (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Tamil (mp3)

Title: The Perfect Prophet(saw), his Messiah(as) and servants
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

گو یہ نشان مختلف صورتوں میں آج بھی ظاہر ہو رہے ہیں لیکن آخرین کی وہ جماعت جس نے براہ راست حضرت مسیح موعودؑ سے فیض پایا ، اﷲ تعالیٰ نے ان کی راہنمائی کی، ان کو نشانات دکھائے، خوابوں کے ذریعے سے ان کو صحیح ہدایت کے رستے پر ڈالا اور انہوں نے حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت میں آنے کیلئے پھر ہر طرح کی قربانی بھی دی، ایسے بھی تھے ا ن میں سے جنہیں اﷲ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ اور آپﷺ کے عاشق صادق کو ایک جان ہونے کی صورت میں دکھایا ، حضور نے فرمایا آج بھی میں ان لوگوں کی چند خوابیں پیش کروں گا جن کی مختلف رنگ میں اﷲ تعالیٰ نے راہنمائی فرمائی اور پھر ایسے بھی ہیں جنہوں نے آنحضرت ﷺ کو خوابوں میں دیکھا ۔ حضرت مرزا محمد افضل صاحبؓ : آپ نے ۱۸۹۵ میں بیعت کی اور ۱۹۰۴ میں حضرت مسیح موعودؑ کی زیارت کی اور وہیں دستی بیعت کی، آپ فرماتے ہیں کہ ۱۸۷۶ کے قریب میرے والد منشی جلال الدین صاحب جو حضرت مسیح موعودؑ کے ۳۱۳ اصحاب ؓ میں شامل تھے، انہوں نے ایک مبشر خواب کی بنا پر جو متواتر تین روز دیکھا ، مجھے اپنے ایک دوست کے حوالے کر کے مہدی موعود کی تلاش میں رخصت لے کر نکلے۔ حضرت رحمت اﷲ صاحبؓ : آپ نے ۱۹۰۱ میں بذریعہ خط بیعت کی، آپ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ جلسہ قریب آگیا، خاکسار نے دعا اور استخارہ کیا، تو غنودگی میں چند مرتبہ زبان پر یہ الفاظ جاری ہوئے ، جس کا ترجمہ ہے " اے جوانو کوشش کرو دین میں قوت پیدا ہو" ، یعنی خدمت دین کی طرف توجہ دو، فرماتے ہیں خاکسار ہر جلسہ حضور ؑ کی موجودگی میں بمع احباب حاضر ہوتا رہا۔ حضرت میاں میراں بخش صاحبؓ : آپ نے ۱۹۰۰ میں بیعت کی، آپ بیان کرتے ہیں کہ بیعت کی تحریک اس طرح پیدا ہوئی تھی کہ ہمارے بھائی غلام رسول صاحب ہم سے پہلے احمدی ہو چکے تھے مگر ان پڑھ تھے، ان سے میری سلسہ کے متعلق بھی باتیں ہوا کرتی تھیں ، میں چونکہ مخالف تھا اس لئے ان کو جھوٹا کہا کرتا تھا، لیکن جب گھر آتا تو یہ سوچتا کہ گو یہ ان پڑھ ہے لیکن ان کی باتیں لا جواب ہیں ، ایک دفعہ میرے بھائی نے مجھے کچھ پڑھنے کیلئے دیا جو میں نے پڑھا جس کا مجھ پر بہت گہرا اثر ہوا، اس پر میں نے خدا تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا شروع کر دی۔ حضرت شیخ عطا محمد صاحبؓ : آپ فرماتے ہیں کہ خواب آیا کہ حضور ؑ بٹالہ کی سڑک پر ٹہلتے ہیں جو تحصیل کے سامنے ہے، حضور ؑ نے مجھے ایک روپیہ دیا اور ملکہ کی تصویر پر کاٹا لگا دیا اور فرمایا کہ اس کو خزانے میں دے آؤ، جب یہ خواب سنائی گئی حضرت مسیح موعودؑ کو تو حضور ؑ نے فرمایا کہ ملکہ مسلمان نہیں ہوگی۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا حضرت مسیح موعودؑ تو اسلام اور آنحضرت ﷺ کا دفاع کر رہے تھے، اور بعض مسلمان کہلانے والے بلکہ ان کے علماء بھی دوسروں کا ساتھ دے رہے تھے، حضرت مسیح موعودؑ اسلام کی سچائی ظاہر کرنا چاہتے ہیں ، آنحضرت ﷺ کا خوبصورت چہرہ دکھانا چاہتے ہیں ، اور یہ لوگ آپ کی مخالفت کر رہے تھے، اب آج یہ لوگ جلوس نکال رہے ہیں ، بڑی خوشیاں منا رہے ہیں میلاد نبی کی، تو حقیقی خوشی جشن منانے میں نہیں ہے، بلکہ آپ ﷺ کے پیغام کو دنیا میں پھیلانے میں ہے، آ پ ﷺ کی خوبصورت تعلیم کو دنیا میں پھیلانے میں ہے، آپ ﷺ پر درور بھیجنے میں ہیں۔ پس یہ مقام تھا آنحضرت ﷺ کا جو حضرت مسیح موعودؑ نے بیان فرمایا ، اور یہی وجہ ہے کہ جب لوگوں نے مختلف خوابیں دیکھیں تو آنحضرت ﷺ کو حضرت مسیح موعود ؑ کے دجود میں دیکھا، یعنی ایک ہی جان ہوگئے دو وجود، پس ہمارا بھی کام ہے کہ آج اور ہمیشہ اپنی زبان کو آنحضرت ﷺ پر درود بھیجنے سے تر رکھیں اور اس میں ترقی کرتے چلے جائیں، اسی طرح آپ ﷺ کے اسوہ پر عمل کرنے والے ہوں اور اس میں ہمیشہ آگے بڑھتے چلے جانے والے ہوں، آج جلسے بھی بہت ہو رہے ہیں، جلوس بھی بہت نکل رہے ہیں، آنحضرت ﷺ کی ولادت منائی جا رہی ہے، لیکن وہاں آپﷺ کی تعلیم کا اظہار نہیں ہو رہا۔

Although we still witness God’s signs today, the companions of the Promised Messiah(as) attained direct beneficence from his company. They received guidance in their dreams. Some of them saw dreams in which the Holy Prophet(saw) and the Promised Messiah(as) appeared as one person. Today’s sermon was based on true dreams of some companions who were guided to accept the Promised Messiah(as) by the Holy Prophet(saw) in their dreams. Hadhrat Mirza Muhammad Afzal sahib(ra): He took Bai’at in 1895 and personally saw the Promised Messiah(as) in 1904. He relates that when he was still quite young his father Hadhrat Munshi Jalal ud Din sahib, who was among the 313 companions of the Promised Messiah(as), saw an auspicious dream for three nights. As a result, he entrusted his young son to a friend and went off in search of the Mahdi. Hadhrat Rahmat Ullah sahib(ra): He took Bai’at via letter in 1901. He relates that once when Jalsa was imminent he engaged in a lot of prayer and also did Istakhara. During supplication he felt drowsy and uttered the words: ‘O’ young people, try that religion is strengthened.’ He relates after this experience he attended every Jalsa in the presence of the Promised Messiah(as). Hadhrat Mian Meeran Bakhsh sahib(ra): He took Bai’at in 1900. He relates that he was inspired to become an Ahmadi when his brother Ghulam Rasool ,who was uneducated, became an Ahmadi. In the early days when discussing faith with his brother he used to call him a liar but once home, he would wonder that although his brother was uneducated his points were convincing. Once his brother gave him some leaflets to read which had a great impact on him. He prayed a lot. Hadhrat Sheikh Atta Muhammad sahib(ra): He relates that he saw a dream in which the Promised Messiah(as) is strolling on the Batala Road and gives Atta sahib 1 Rupee and crosses out the image of the Queen on it and says to him to deposit the Rupee in the treasure. Later, the Promised Messiah(as) interpreted the dream as the Queen not accepting Islam. Hadhrat Khalifatul Masih said that the Promised Messiah(as) was defending Islam and the Holy Prophet(saw) while the Muslims and their clergy was siding the others. Today they are taking out rallies to commemorate the birth of the Holy Prophet(saw) whereas true happiness is in spreading his message and in invoking blessings and salutations on him (Durud). Such was the lofty stature of the Holy Prophet(saw) as described by the Promised Messiah(as). We should profusely engage in Durud and continue to progress in this. We should also try and follow his blessed model and keep improving. Today others are taking part in rallies etc. but are not presenting his blessed teachings.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
18-Jan-2013 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Dutch (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Reviving the Spirit of Waqf-e-Nau
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

پس یہ سب کچھ کرنے کا مقصد کیا ہے وہ یہ فرمایا کہ تاکہ تم دنیا کو ہلاکت سے بچانے والے بن سکو، پس یہ وہ مضمون ہے جس کا حق ادا کرنے کیلئے اﷲ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعودؑ کے ذریعے سے جماعت احمدیہ کا قیام فرمایا ، یہی وہ جماعت ہے جس میں مایٗں بچے کی پیدائش سے پہلے دعا ہمیں اس جذبہ کے ساتھ کرتی ہوئی نظر آتی ہیں جیسا کہ بیان کی گئی آیت میں فرمایا گیا ہے ، یعنی اے اﷲ جو کچھ میرے پیٹ میں ہے وہ میں تیری نذر کرتی ہوں دنیا کے جھمیلوں سے آزاد کرتے ہوئے پس تو اسے قبول فرما۔ جماعت احمدیہ میں وہ باپ بھی ہیں جو اپنے بچوں کی اس نہج پر تربیت کرتے ہیں کہ بچہ جوانی میں قدم رکھ کر ہر قربانی کیلئے تیار ہوتا ہے ، اور خلیفہ وقت کو لکھتا ہے کہ پہلا عہد میرے ماں باپ کا تھا ، دوسرا عہد اب میرا ہے، آپ جہاں چاہیں مجھے قربانی کیلئے بھیج دیں ، آپ مجھے ہمیشہ صبر کرنے والوں اور استقامت دکھانے والوں میں پائیں گے اور اپنے ماں باپ کے عہد سے پیچھے نہ ہٹنے والوں میں پائیں گے۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا کہ میں آج پھر اس بات کی یاددہانی کروارہا ہوں کہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اﷲ نے وقف نو کی سکیم شروع فرمائی تھی تو اس امید پر اور اس دعا کے ساتھ کہ دین کی خدمت کرنے والوں کا گروہ ہر وقت مہیا ہوتا رہے گا، یہ پانی کا بہاؤ کبھی ٹوٹے گا نہیں ، جماعتی لٹریچر کا ترجمہ کرنے والے بھی مہیا ہوتے رہیں گے. جماعت کو ، تبلیغ اور تربیت کا کام چلانے والے بھی بڑی تعداد میں مہیا ہوتے رہیں گے، اور نظام جماعت کو چلانے کے دوسروں شعبوں کو بھی واقفین مہیا ہوتے رہیں گے ۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے ۱۲ ،۱۳ سال کے واقفین نو بچوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ اپنے بارے میں سوچنا شروع کر دیں ، اپنی اہمیت پر غور کریں، صرف اس بات پر خوش نہ ہو جائیں کہ آپ وقف نو ہیں، اہمیت کا تب پتہ چلے گا جب اپنے مقصد کا پتہ چلے گا ، اور ۱۵ سال کے لڑکے اور لڑکیوں کو اپنی اہمیت کا بہت زیادہ احساس ہو جانا چاہئے۔ تیسری یہ کہ خداتعالیٰ کی رضا کے حصول کیلئے ہر قربانی کیلئے صبر اور استقامت دکھانے کا عہد کرنا ہے، جیسے بھی سخت حالات ہوں میں نے اپنے وقف کے عہد کو ہر صورت میں نبھانا ہے، کوئی دنیاوی لالچ میرے عہد وقف میں لغزش پیدا کرنے والا کبھی نہیں ہو سکتا۔ یہاں یا جرمنی میں جامعہ احمدیہ پر بعض لوگ اعتراض کردیتے ہیں کہ پڑھائی اچھی نہیں ہے ، یہ بالکل بودےاعتراض ہے ، ان کا اعتراض یہ ہوتا ہے کہ جو جامعہ سے فارغ ہوتا ہے اسے عربی بولنی نہیں آتی، یا بول چال اتنی اچھی نہیں ہے، جہاں تک زبان کی مہارت کا سوال ہے، جامعہ احمدیہ میں مختلف مضامیں پڑھائے جاتے ہیں، صرف زبان کی طرف توجہ نہیں ہوتی، اگر کسی طالب علم کا زبان کی طرف رحجان ہے تو اسے زبان میں تخصص بھی انشاء اﷲ کروایا جائے گااور پھر جو شکوہ ہے بولنے کا وہ بھی دور ہو جائے گا، لیکن بہر حال جہاں تک پڑھائی کا سوال ہے، بہت وسیع علم ہے جو جامعہ کے طلباء حاصل کر رہے ہیں ۔ واقفین نو کے مطالعہ میں روزانہ کوئی نہ کوئی دینی کتاب ہونی چاہئےچاہے ایک دو صفحے پڑھیں اور حضرت مسیح موعودؑ کی کتاب پڑھیں تو وہ سب سے زیادہ بہتر ہے، ۱۰۰ فیصد واقف نو اور واقفات نو خطبات سننے چاہئیں، یہاں یو کے میں حضور نے ایک دن جائزہ لیا تھا کلاس میں تو صرف دس فیصد تھے جو باقاعدہ سنتے تھے، اس کی طرف توجہ دینی چاہئے، شعبہ کو بھی اور والدین کو بھی اور خود واقفین نو کو بھی، انتظامیہ کو بھی چاہئے کہ جو پروگرام بناتے ہیں واقفین نو کے وہ تعاملی ہونے چاہئیں، اس سے توجہ پیدا ہوتی ہے واقفین میں۔

The reason to follow all of the above is to be among those who save the world from destruction. In order to fulfil this requirement, God established the Ahmadiyya Community through the Promised Messiah(as). This is the only community in which one sees mother-to-be praying passionately as mentioned in the aforementioned verse, freeing the unborn child from the shackles of the world and dedicating it to service of God and praying for acceptance of this. It is the Ahmadiyya Jama’at alone which has fathers who bring up their children in such a manner that when the children reach adolescence they are ready for every sacrifice. These children write to the Khalifa of the time saying, ‘the first pledge was my parents, I now make the pledge myself; send me to sacrifice wherever you choose. You will always find me among those who are patient and who have resolve and those who do not shirk away from the pledge of their parents. Hadhrat Khalifatul Masih said that today he would like to remind that when Hadhrat Khalifatul Masih IV(rh) had initiated Waqfe Nau scheme it was with the hope and with the prayer that groups of people to serve faith will always be available and that the current of flowing water will never be broken. Translators will be available to the Jama’at, Tabligh and Tarbiyyat workers will be available to the Jama’at in good numbers, and other departments of the administration of the Jama’at will also have life-devotees available at all times. Hadhrat Khalifatul Masih told Waqfe Nau children aged 13 and 12 to start thinking about themselves and ponder over their importance and not simply be happy that they are Waqfe Nau. They will appreciate their importance when they will realise their objectives. As for those who are 15 and 16 years old, they should have a very good understanding of their importance and their responsibilities. Thirdly, promise to show patience and resolve in every sacrifice for the sake of gaining God’s pleasure. No matter how hard the time, he or she has to honour the pledge of Waqf regardless. No worldly greed should ever make them stumble in their pledge. Some people have raised objections here and in Germany about the standard of education in Jamia. This is a wholly unwarrantable objection. The complaint is that after graduating from Jamia the students are not fluent in Arabic. Jamia does not only focus on languages and a wide range of subjects are taught there. If some students are inclined to languages, InshaAllah they will be specialised. With the grace of God the education of Jamia is based on extensive studies. Waqfe Nau members should daily read religious books, even if a few pages. 100% Waqfe Nau members should listen to the Friday sermon. Once Hadhrat Khalifatul Masih found that only 10% present in a class listened regularly. The department as well as parents should pay special attention to this. The administration should try and make interactive Waqfe Nau programmes.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
11-Jan-2013 Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)Dutch (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: True Dreams of Companions of The Promised Messiah(as)
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت ڈاکٹر عبدالمجید خان صاحب ؓ : آپ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ کے وصال کے چند سال بعد میں نے خواب میں دیکھا کہ آپؑ اور آنحضور ﷺ اور حضرت عمرؓ کو اپنے مکان میں دیکھا جب یہ بلوچستان میں تھے ، کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ وہ سب خوش و خرم ہیں، دریافت کیا کہ یہ کون ہیں، تو حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ یہ حضرت عمر ؓ ہیں، دوبارہ دریافت کرنے پر فرمایا کہ یہ رسول کریم ﷺ ہیں ، شکل مبارک میں حضرت مسیح موعود ؑ اور آنحضور ﷺ کو ملتے جلتے دیکھا۔ حضرت غلام حسین بھٹی صاحب ؓ : آپ فرماتے ہیں کہ میرے ایک دوست لال دین جو ایک مخلص، نیک اور راست گو آدمی تھے، انہیں رات کو خواب میں آیا کہ لال دین صاحب جناب حضرت محمد مصطفٰیٰ ﷺ کے دربار میں حاضر ہوئے ہیں اور سلام عرض کیا ، حضور نے وعلیکم سلام کہ کر فورا فرمایا کہ میاں لال دین آ گئے ہو، تو میں نے فورا عرض کیا کہ جی ہاں آ گیا ہوں ، حضور ایک کرسی پر رونق افروز تھے، اور آپ کے دائیں طرف ایک کرسی پر ایک اور شخص بیٹھا تھا، آنحضور ﷺ نے فرمایا کہ میا ں لال دین تو نے اس آ دمی کو پہچانا ہے ؟ یہ مہدی ہے۔ حضرت میاں سونے خان صاحب ؓ: آپ فرماتے ہیں کہ میرے گھر میں ایک بھینس تھی، اس نے بچہ دیا ، ہمارے گاؤں میں رواج تھا کہ پہلے روز کی کھیر ایک شاہ کی خانقاہ پر چڑھاتے تھے، میری بیوی نے بھی کھیر پکائی اور والد اور چاچا کو کھانے کی دعوت دی، انہوں نے کہا ہم نہیں کھائیں گے، وہ کافر (احمدی) ہوگیا ہے ، اس روز ایک حکیم کو کھیر کی پیشکش کی جو اس نے کھالی ، اس حکیم نے مجھ سے پوچھا کہ تمہیں حضرت مسیح موعودؑ نے بیعت کرنے کے بعد کیا سکھایا ہے۔ حضرت مولوی فضل الہٰی صاحب ؓ : آپ نے ۱۸۹۲ میں بیعت کی، آپ فرماتے ہیں کہ جب میں امرتسر آیا ہوا تھا تو مجھے احمدیت کا علم ہوا، حضرت مسیح موعودؑ کی صداقت کیلئے ماہ رمضان کے آ خری عشرے میں اعتکاف کے ایام میں بہت دعا اور استخارہ کیا اور دعا میں یہ درخواست تھی کہ مولا کریم مجھے اطلاع فرما کہ جس حالت میں اب ہوں یہ درست ہے یا جو اس وقت حضرت مسیح موعودؑ کا دعویٰ ہے وہ درست ہے، اس پر مجھے دکھلایا گیا کہ میں نماز پڑھ رہا ہوں لیکن رخ قبلہ کی طرف نہیں ہے اور سورج کی روشنی بوجہ کسوف کے بہت کم ہے ۔ حضرت مستری دین محمد صاحب ؓ : آپ فرماتے ہیں کہ شام کو میرے دل میں یہ بات پیدا ہوئی کہ جن لوگوں نے پہلے بیعت کر لی ، انکے نام رجسٹر پر درج ہیں، میرا نام نہیں ہے، رات کو مجھے خواب آئی کہ حضرت مسیح موعودؑ بیٹھے ہیں ، ہاتھ میں قلم ہے، دائیں ران پر رجسٹر ہےاور حضرت مسیح موعودؑ نے دریافت کیا کہ آ پ کا کیا نام اور پیشہ ہے۔ حضرت امیر خان صاحبؓ : آپ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے خواب میں شیخ حامد علی صاحب خادم مہمان خانہ کو جو حضرت مسیح موعودؑ کے پرانے خادم تھے دیکھاکہ آپ عرب کی سوکھی ہوئی کھجوریں مہمانوں میں تقسیم کرنے کیلئے ایک مجمعے میں کھڑے ہیں ، اور جب آپ تقسیم کرنے لگے تو کھجوریں گلگلے کے برابر موٹی، خوش رنگ، تروتازہ، رس بھری ہیں، جن کو آپ تقسیم کر رہے ہیں اور کہ رہے ہیں یہ عرب کی سوکھی ہوئی کھجوریں ہیں جو تروتازہ کر کے آپ لوگوں کو دی جاتی ہیں۔ عبدالمجید صاحب ڈوگر کی سویڈن میں وفات، ملک شفیق احمد صاحب آرکیٹیکٹ کی ورجینیا امریکہ میں وفات۔

Hadhrat Dr Abdul Majeed Khan sahib(ra): He relates that he saw a dream a few years after the passing away of the Promised Messiah(as). In the dream he saw the Holy Prophet(saw), the Promised Messiah(as) and Hadhrat Umer(ra) in his house. They are all very happy and Majeed sahib is introduced to them by the Promised Messiah(as) He relates that he found the Promised Messiah(as) and the Holy Prophet(saw) resemble a lot in their appearance. Hadhrat Ghulam Hussain Bhatti sahib(ra): He relates that once his sincere and pious friend Lal Din sahib saw a dream that he is present in the court of the Holy Prophet(saw) and offers salaam. The Prophet(saw), who is seated on a chair, reciprocates the greeting and promptly calls Lal Din sahib closer. On his right side sits another person on a chair and the Prophet(saw) says: ‘Lal Din have you recognised this person? He is the Mahdi. Hadhrat Mian Sonay Khan sahib(ra): He relates that their family buffalo had a calf and it was customary to make rice pudding with the buffalo’s milk of the day after the birth and offer it at some shrine. Sonay Khan sahib’s wife made the pudding and gave some to his father and uncle but they declined saying Sonay Khan had become a Kafir [Ahmadi]. A visitor came by and he was also offered the pudding. He prayed and ate it and then asked Sonay sahib what had the Promised Messiah(as) taught him. Hadhrat Maulwi Fazal Ilahi sahib(ra): He took Bai’at in 1892. He came to know about Ahmadiyyat when he came to Amritsar. He prayed profusely in the last days of Ramadan to be informed of the truthfulness of the Promised Messiah(as) and he also performed Istakhara for this. He was shown that he is offering Salat but he is not facing the right direction of Qibla and due to an eclipse of the sun daylight is very dim. Hadhrat Mistri Din Muhammad sahib(ra): He relates that one evening the thought came to his mind that those who took early/initial Bai’ats have their names documented in a register and that he had missed out. That night he had a dream in which he saw the Promised Messiah(as) sitting down with a pen in his hand and a register in his lap and he asks Mistri sahib what is his name and what is his profession. Ameer Khan sahib relates that he once saw a dream in which Sheikh Hamid Ali Khan sahib who looked after the catering of the guests of the Promised Messiah(as) is about to serve dried Arabian dates to the guests. However, as he serves the dates, they become large and luscious and Hamid Ali sahib says, ‘these dried dates from Arabia are being served to you after being turned succulent Death of Abdul Majeed Dogar sahib in Sweden and Malik Shafiq Ahmad sahib architect in Virginia USA.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
04-Jan-2013 Urdu (wmv)Bengali (wmv) Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bulgarian (mp3)Dutch (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Blessed Financial Sacrifice and Waqf-e-Jadid New Year
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

مخالفین احمدیت دعوے تو بہت کرتے ہیں، لیکن یہ اظہار ان کی تقریروں میں جو وہ اپنے لوگوں میں کرتے ہیں ، یہ سننے میں اکثر آیا ہے کہ قادیانی یا مرزائی جو وہ ہمیں کہتے ہیں کہ دیکھو اپنے مقاصد کیلئے کتنی قربانی کرتے ہیں اور تمہیں ایک مسجد کیلئے یا فلاں کام کیلئے کوئی توجہ نہیں پیدا ہو رہی، اور یہ اظہار ان تنظیموں کا ، غیر احمدی مولویوں کا، ہمیں صرف پاکستان ہندوستان میں نظر نہیں آتا بلکہ افریقہ کے مسلمان ممالک میں بھی سننے میں آتی ہیں یہ باتیں ۔ جب جماعت بڑھتی ہے، جماعت کے اموال میں وسعت پیدا ہوتی ہے ، تو جہاں مخالفین اپنی کوششوں میں تیزی پیدا کرتے ہیں وہاں منافقین کے ذریعے جماعت میں رخنہ ڈالنے کی کوشش بھی کرتے ہیں ، گو ان کی کوششیں بے اثر ہوتی ہیں لیکن ہمیں ہمیشہ محتاط رہنے اور دعا اور استغفار کی طرف توجہ دینی چاہئے، اﷲ تعالیٰ کے جو جماعت پر فضل ہیں، جو ہر آن تائید و نصرت کے نظارے ہیں ، وہ اس وقت تک ہم دیکھتے رہیں گے جب تک ہم اﷲ تعالیٰ سے اپنے تعلق کو مظبوط سے مظبوط تر کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے ، حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا مجھے تو کبھی یہ فکر پیدا نہیں ہوئی کہ فلاں کام کی تکمیل کس طرح ہونی ہے، اﷲ تعالیٰ ہمیشہ خود ہی انتظام کر دیتا ہے جو بھی منصوبہ کیا جاتا ہے ، کس طرح اﷲ تعالیٰ احمدیوں کے دل میں ڈال دیتا ہے اور کس طرح وہ بڑھ چڑھ کر قربانیوں میں حصہ لیتے ہیں ۔ امیر صاحب نائیجر لکھتے ہیں کہ ایک جماعت کی طرف سے پیغام آیا کہ جماعت کے لٰیے چندہ کی اناج کی بوریاں آ کر لے جائیں ، جب واپس آ رہے تھے تو رات کے دس بج رہے تھے، ہم ایک احمدی گاؤں سے گزرے تو دیکھا کہ کچھ خدام راستے میں ہمارے انتظار میں کھڑے ہیں ، ہم نے گاڑی روکی تو انہوں نے بتایا کہ ہم صدر صاحبہ لجنہ کے حکم پر شام سے یہاں کھڑے ہیں ، آپ کے اس راستے سے گزرنے کا انتظار کر رہے ہیں، لجنہ نے اپنا علیحدہ چندہ اکٹھا کیا تھا اور اپنا چندہ علیحدہ دینا چاہتی تھیں۔ برکینا فاسو کے ایک مبلغ لکھتے ہیں کے ایک جماعت کے صدر کاشتکار ہیں وہ کہتے ہیں کہ احمدیت میں داخل ہونے سے پہلے بھی وہ کاشتکاری کرتے تھے، مگر اتنی فصل کبھی نہیں ہوئی جتنی احمدیت میں داخل ہونے کے بعد ہو رہی ہے، اور وہ کہتے ہیں کہ اس کی ایک ہی وجہ ہے اور وہ چندہ ہے ، جب سے ہم احمدیت میں داخل ہوئے ہیں اور چندہ دینا شروع کیا ہے تو ہمارے حالات ہی بدل گئے ہیں ، آغاز میں پہلے ایک یا دو بوری چندہ دیا کرتے تھے اس سال سات بوری چندہ دیا۔ تنزانیہ سے ایک احمدی لکھتے ہیں کہ وہ پہلے بڑا معمولی چندہ دیا کرتے تھے، مبلغ سلسلہ نے ان کو چندہ جات کی اہمیت اور تفاصیل سے بتایا ، اﷲ تعالیٰ نے فضل فرمایا، باقاعدگی سے چندہ دینا شروع کیا اور بڑھاتا بھی گیا چندہ کو ، کہتے ہیں پہلے خاکسار کے پاس کوئی جائیداد نہیں تھی اور اب خداتعالیٰ کے فضل سے خاکسار نظام وصیت میں شامل ہے، اور اﷲ تعالیٰ کے فضل سے ان چند سالوں میں سن فلاور نکالنے کا چھوٹے پیمانے پر کارخانہ بھی بنایا ہے، اپنا گھر بھی تعمیر کیا ہے، پلاٹ بھی خریدے ہیں اور خود بھی اپنے خرچے پر پی ایچ ڈی کر رہا ہوں۔ کیرالہ انڈیا سے تعلق رکھنے والے ایک احمدی اﷲ تعالیٰ کے فضل سے موصی ہیں ، انہوں نے ہر چندہ جات کا ڈبہ الگ الگ رکھا ہوا ہے ، ایک ڈبہ انہوں نے میرے سامنے کھولا اور پھر اپنی بیوی سے کہا اپنے پرس نکالواور پھر بیوی کے پرس سے وعدہ پورا کرنے کے علاوہ ۱۶۵۰۰۰ روپے زیادہ چندہ اد ا کردیا ، اﷲ تعالیٰ کے فضل سے اب تک انہوں نے ۷۸۰۰۰۰ روپے چندہ وقف جدید ادا کردیا ہے۔ حسب روایت حضور نے وقف جدید کے نئے سال کے آغاز کا اعلان کیا، خدا تعالیٰ کے فضل سے سال وقف جدید کے سال ۵۵ میں جماعت نے ۵۰۱۰۰۰۰ پاؤنڈ کی قربانی پیش کی، جو کہ گزشتہ سال کے مقابلہ میں ۳۱۷،۰۰۰ پاؤنڈ زیادہ ہے ، حضور نے وقف جدید کے حوالہ سے مختلف جماعتوں کی پوزیشن کا اعلان کیا ۔ حضور نے ایک دعا کی تحریک کرتے ہوئے فرمایا کہ لیبیا میں آجکل حالات بڑے شدید خراب ہیں احمدیوں کیلئے، حکومت تو وہاں ہے نہیں، ہر علاقے میں لگتا ہے قبائلیوں یا تنظیموں کا زور ہے اور ہمارے احمدیوں کو پکڑا بھی ہوا ہے اور بعض جگہ یہ بھی اطلاع ہے کہ تشدد بھی کیا جارہا ہے ، پولیس نے ان کو پکڑ کے علماء کے کہنے پہ، تنظیموں کے کہنے پہ بند کیا ہوا ہےاور کافی پریشانی میں ہیں وہاں احمدی، اﷲ تعالیٰ ان کی رہائی کے اور ان کی آسانی کےسامان پیدا فرمائے ۔

Often our detractors can be heard saying in their speeches how the Qadianis or Mirzais or whatever they call us, sacrifice for their objectives whilst their own people did not pay attention. Such expressions of the Maulwis or other organisations are not limited to the sub-continent but can also be seen in Africa. When Jama’at grows our detractors also increase and they try to create discord in the Jama’at with the help of hypocrites. With the grace of God we will witness His help and succour as long as we continue to make our connection with Him stronger. Hadhrat Khalifatul Masih said he is never concerned about how such and such project would reach completion. It is amazing how God puts it in the hearts of Ahmadis to sacrifice excelling each other. Ameer sahib of Niger relates that they were coming back after collecting sacks of grain from a village when they passed through an Ahmadi village and saw some Khuddam waiting who stopped them. It was 10 O’ clock at night. The Khuddam told them that they had been waiting all evening because the local sadr Lajna had instructed them. The Lajna had collected chanda by working on their own and had collected their own grain to give as chanda. A missionary sahib from Burkina Faso relates that the sadr of a village is a farming person who says that before he became an Ahmadi his harvest was not as much as it is now. He attributes this to chanda giving and says that such is the blessing of chanda that whereas previously he gave one sacksful this year he gave seven sacks. An Ahmadi from Tanzania writes that he used to pay nominal amount of chanda. After being advised by missionary sahib he started paying correctly. He experienced God’s grace. He now pays regularly and continues to increase it. He says that earlier he had no property, now he has a sunflower oil factory and has also built his home and is funding myself for a PhD. He is also a Moosi now. An Ahmadi from Kerala in India who is a Moosi keeps a separate box for each chanda. In the presence of the chanda inspector he opened one of these boxes and noticing a shortfall asked his wife to pay the balance. In addition he paid an extra 165,000 Rupees. With the grace of God thus far his Waqfe Jadid contribution has been 780,000 Rupees. As traditional, the announcement of the new Waqfe Jadid year was made in the Friday sermon today. With the grace of God in its 55th year the contributions to the scheme stood at £5,010,000.00; an increase of £317,000.00 from the year before. Positions regarding of collection of Waqfe Jadid of different Jama't's were also announced. Hudhur also made an appeal for prayers. The situation for Ahmadis in Libya is very critical these days. There is no proper government in the country. Each region is under the influence of certain organisations or tribal people. The police has captured our Ahmadis on the say so of religious leaders and organisations and in places it is said they are being tortured.