In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Browse Al Islam

Archives of 2014 Friday Sermons

Delivered by the Head of the Ahmadiyya Muslim Community

Televised via Satellite by MTA International

Browser by year

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
18-Apr-2014   Urdu (mp3)English (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: The All Powerful One God
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Full Text: Tamil
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

اس کائنات کے خدا تک پہنچنے کا ذریعہ اب صرف آنحضرت ﷺکی ذات ہے، آپﷺ کے ذریعہ ہی خدا تعالیٰ تک پہنچا جا سکتا ہے، جس کا حسن و احسان میں کوئی ثانی نہیں ، آپؑ نے بتایا کہ خداتعالیٰ کی قدرتوں کو دیکھنے کیلئے اس کی طرف خالص ہو کر جھکنا ضروری ہے، اس کی عبادت بجا لانا ضروری ہے، اگر یہ حالت ہوتی ہے انسان کی تو پھر دوڑ کر خداتعالیٰ انسان کو گلے لگاتا ہےاور اس پر اپنے فضلوں کی بارش برساتا ہے، پس آپؑ نے بڑے دردسے فرمایا کہ ایسے خدا سے تعلق جوڑو تاکہ اپنی دنیا و آخرت سنوارنے والے بن سکو۔ اس کی ذات پر کوئی احاطہ نہیں کر سکتا، ہم آفتاب اور ماہتاب اور ہر ایک مخلوق کا سراپہ دیکھ سکتے ہیں مگر خدا کا سراپہ دیکھنے سے قاصر ہیں، ہر چیز کو ہم دیکھ سکتے ہیں لیکن خدا کو جسمانی صورت میں نہیں دیکھ سکتے، وہ عالم الشھادۃ ہے، یعنی کوئی چیز اس کی نظر سے پردہ میں نہیں، یہ جائز نہیں کہ خدا کہلا کر پھر علم اشیاء سے غافل ہو ، وہ اس عالم کے ذرہ ذرہ پر اپنی نظر رکھتا ہے،وہ جانتا ہے کہ کب اس نظام کو توڑ دے گا اور قیامت برپا کر دے گا اور اس کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ ایسا کب ہو گا، سو وہی خدا ہے جو ان تمام طاقتوں کو جانتا ہے۔ جن لوگوں کو تم خدا بنا بیٹھے ہو وہ تو ایسے ہیں کہ سب مل کر ایک مکھی پیدا کرنا چاہیں تو کوئی پیدا نہ کر سکیں، اگرچہ ایک دوسرے کی مدد بھی کریں، بلکہ مکھی اگر ان کی چیز چھین کر لے جائے تو انہیں طاقت نہیں ہوگی کہ مکھی سے وہ چیز واپس لے سکیں، ان کے پرستار عقل کے کمزور اور وہ طاقت کے کمزور ہیں، کیا خدا ایسے ہوا کرتے ہیں؟ خدا تو وہ ہے کہ سب قوتوںوالوں سے زیادہ قوت والا اور سب پر غالب آنے والا ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: مذہب اسلام کے تمام احکام کی اصل غرض یہی ہے کہ وہ حقیقت جو لفظ اسلام میں مخفی ہے ، اس تک پہنچایا جائے، اسی غرض کے لحاظ سے قرآن شریف میں ایسی تعلیمیں ہیں کہ جو خدا کو پیارا بنانے کیلئے کوششیں کر رہی ہیں، کہیں اس کے حسن و جمال کو دکھاتی ہیں، کہیں اس کے احسانوں کو یاد دلاتی ہیں کیونکہ کسی کی محبت یا تو حسن کے ذریعے سے دل میں بیٹھتی ہے یا احسان کے ذریعے سے۔ وہ مالک ہے تمام جزا سزا کااور مرجع ہے تمام امور کا، تمام اعمال جو ہیں اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں اور نزدیک ہے باوجود دوری کے اور دور ہے باوجود نزدیکی کے، وہ سب سے اوپر ہے مگر نہیں کہ سکتے کہ اس کے نیچے کوئی اور بھی ہے اور سب چیزوں سے زیادہ پوشیدہ ہے مگر نہیں کہ سکتے کہ اس سے کوئی زیادہ ظاہر ہے، وہ زندہ ہے اپنی ذات سے اور ہر ایک چیز اس کے ساتھ زندہ ہے، وہ قائم ہے اپنی ذات سے اور ہر ایک چیز اس کے ساتھ قائم ہے ۔ خدا تعالیٰ کے وجود پر یقین دلانے کیلئے حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: ہمارے خدا میں بے شمار عجائبات ہیں مگر وہی دیکھتے ہیں جو صدق اور وفا سے اس کے ہوگئے ہیں ، وہ غیروں پر جو اس کی قدرتوں پر یقین نہیں رکھتے اور اس کے صادق وفا دار نہیں ہیں ، وہ عجائبات ظاہر نہیں کرتا، کیا بد بخت وہ انسان ہے جس کو اب تک یہ پتہ نہیں کہ اس کا ایک خدا ہے جو ہر ایک چیز پر قادر ہے، ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے ، ہماری اعلیٰ لذات ہمارے خدا میں ہیں کیونکہ ہم نے اس کو دیکھا اور ہر ایک خوبصورتی اس میں پائی۔

Now the only source to reach the God of this universe is the Holy Prophet(saw). In order to appreciate the power of God one must turn to God in complete sincerity and worship Him. If this is done, God runs to embrace His servants and showers them with His blessings. The Promised Messiah(as) asked us with great anguish to connect to God in this manner and thus adorn our life in this world as well as in the Hereafter. No one can comprehend His Being. We can comprehend the sun and the moon in their entirety, but we cannot comprehend God in His entirety. Then he said: عالم الشھادۃ that is He is the Knower of the seen, that is to say, nothing is hidden from Him. It is not to be imagined that He should be unaware of anything. He has every particle of the universe within His sight; but man does not possess such comprehensive vision. He knows when He might break up this system and bring about the Judgement. Those on whom you call beside Allah cannot create even a fly, though they should all combine together for the purpose; and if a fly should snatch away anything from them, they cannot recover it therefrom. Their worshippers lack intelligence and they themselves lack power. Can such as these be gods? God is One Who is more powerful than all those who possess power. The Promised Messiah(as) wrote: ‘The objective of all commandments of the religion of Islam is to elucidate the reality of the beauty that is inherent in the word ‘Islam’. The Holy Qur’an comprises teachings which work towards endearing God. They exhibit His beauties and remind us of His beneficence, inasmuch as love is created either by the observation of beauty or by the remembrance of beneficence. He is the Master of all recompense and everything returns to Him. He is near and yet far, and He is far and yet near. He is above all, but it cannot be said that there is someone below Him. He is more hidden than everything else is but it cannot be said that there is something more manifest than Him. He is Self-Existing in His Being and everything is alive through Him. He is Self-Sustaining and everything is sustained by Him. Writing about complete belief in God, the Promised Messiah(as) said: ‘Our God possesses many wonders, but they are visible only to those who become His out of sincerity and loyalty. He does not disclose His wonders to those who do not believe in His Power and who are not sincere and loyal to Him. How unfortunate is the man who does not know that he has a God Who has power to do all that He wills. Our paradise lies in our God. Our highest delight is in our God for we have seen Him and have found every beauty in Him.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
11-Apr-2014   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Khutbah Ilhamiyya - The Revealed Sermon
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Malayalam
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Tamil | Malayalam
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا کہ آج حضور حضرت مسیح موعودؑ کے ایک ایسے نشان کا ذکر کروں گا جو آج کے دن یعنی اا اپریل ۱۹۰۰ میں ظاہر ہوا تھا ، یہ نشان آپؑ کا عربی زبان میں خطبہ ہےجو خاص تائید الٰہی سے آپؑ کی زبان پر جاری ہوا، یہ ایک ایسا نشان تھا جو الہامی تھا، اس لئے اس کا نام خطبہ الہامیہ رکھا گیا ، اس الہامی خطبے اور اس الہامی کیفیت کو 200 کے قریب لوگوں نے سنا اور دیکھا ، حضور کو بھی کسی نے اس طرف توجہ دلائی کہ آج کے دن کی مناسبت سے جبکہ آج جمعہ بھی ہے، حضرت مسیح موعودؑ کے اس عظیم الشان نشان کو بیان کروں۔ تاریخ احمدیت میں لکھا ہے کہ خطبہ چونکہ ایک زبردست علمی نشان تھا جیسا کہ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا، اس لئے اس کی خاص اہمیت کے پیش نظر حضرت مسیح موعودؑ نے اپنے خدام میں تحریک فرمائی کہ اسے حفظ کیا جائے چنانچہ اس کی تعمیل میں صوفی غلام محمد صاحب ، حضرت میر محمد اسماعیل صاحب ، مفتی محمد صادق صاحب اور مولوی محمد علی صاحب کے علاوہ بعض اور اصحابؓ نے اسے زبانی یاد کیا بلکہ مؤخر الذکر دو اصحاب نے حضرت مسیح موعودؑ کی مجلس میں اسے زبانی سنایا۔ حضرت مولانا شیر علی صاحب ؓ فرماتے ہیں کہ اس عید کا خطبہ الہامیہ حضرت صاحب ؑنے پڑھایا، یوم الحج کی صبح کو حضرت مسیح موعودؑ نے حضرت مولوی صاحب ؓ کو پیغام بھیجا یا خط لکھا کہ جتنے لوگ یہاں موجود ہیں ان کے نام لکھ کر میرے پاس بھیج دیں تا میں ان کیلئے دعا کروں، حضرت مولوی صاحب ؓنے موجود احباب کو تعلیم الاسلام سکول میں جمع کیا اور لوگوں کے ناموں کی فہرست تیار کروائی اور حضرت صاحب ؑ کی خدمت میں بھیجیں، حضرت صاحبؑ نے اپنے دالان کے دروازے بند کر کے دعائیں فرمائیں ، بعض لوگ جو پیچھے آتے تھے بند دروازے سے اپنے رقعے اندر بھجواتے تھے۔ حاجی عبدالکریم صاحب فوجی ملازمت کے سلسلے میں مصر گئے، شاید 1940 سے پہلے کا کچھ وقت ہے وہاں انہوں نے تبلیغ کا کام جاری رکھااور ایک دوست علی حسن صاحب احمدی ہوگئے ، انکو لیکر حاجی صاحب مختلف مصری عرب احباب کی طرف جاتےاور تبلیغ کرتے تھے، ان میں سے ایک دوست محکمہ تار میں کلرک تھے، کئی روز ان سے تبادلہ خیال ہوتا رہا، وہ تمام مسائل میں ان کےساتھ متفق ہوگئے مگر حضرت مسیح موعودؑ کو امتی نبی ماننے پر تیار نہ تھے۔ حضرت مسیح موعودؑ خطبہ الہامیہ میں فرماتے ہیں: اے لوگو! خدا کیلئے تم سب کے سب یا اکیلے اکیلے خدا کا خوف کر کے اس آدمی کی طرح سوچو جو نہ بخل کرتا ہےاور نہ دشمنی، کیا یہ وہ زمانہ نہیں کہ خدا بندوں پر رحم کرے اور کیا یہ وہ زمانہ نہیں کہ بدی کو دفع کیا جائے اور جگروں کی پیاس کا می برسانے سے تدارک کیا جائے ، کیا بدی کا سیلاب اپنی انتہا کو نہیں پہنچا اور جہالت کے دامن نے اپنے کناروں کو نہیں پھیلایا اور ملک فاسد ہو گیا اور شیطان نے جاہلوں کا شکریہ ادا کیا۔ پس یہ وہ عظیم الشان الفاظ ہیں ، دعوت ہے جو اﷲتعالیٰ کے حکم سے آپؑ نے دی ، اﷲتعالیٰ کے الہام سے آپؑ نے دی دنیا کواور یہ نشان ۱۱ اپریل 1900 کو ظہور میں آیا، آج تک یہ نشان اپنی چمک دکھلا رہا ہے اور آج تک کوئی ماہر سے ماہرزبان دان اور بڑے سے بڑا عالم اور ادیب بھی چاہے وہ عرب کا رہنے والا ہے اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور کس طرح یہ مقابلہ ہوسکتا ہے، یہ خداتعالیٰ کا کلام تھا جو آپؑ کی زبان سے ادا ہوا۔ حنیفہ بی بی صاحبہ کی شیخوپورہ میں وفات، سید محمود احمد صاحب کی کراچی میں وفات۔

Hazrat Khalifatul Masih said that he would give a discourse on a sign of the Promised Messiah(as) which appeared on today’s date, 11 April in 1900. This sign was a sermon delivered by the Promised Messiah(as) in Arabic with the special help and support of God. As it was a revelatory sign, it is called The Revealed Sermon. It was listened and witnessed by two hundred people. Someone drew Huzoor’s attention to speak on this magnificent sign as the date fell on a Friday. It is written in Tarikh e Ahmadiyyat that because the Sermon was a tremendous literary sign the Promised Messiah(as) motivated his Khuddam to memorise it. In compliance, Sufi Ghulam Muhammad Sahib, Hazrat Mir Muhammad Ismail Sahib, Mufti Muhammad Sadiq Sahib , Maulawi Muhammad Ali Sahib and some others memorised it. Hazrat Maulawi Sher Ali Sahib said that the Promised Messiah(as) delivered the Revealed Sermon at Eid. He had sent a message to Maulana Nur ud Din in the morning of the day before Eid to send him a list of names of all the people who were present so that he could pray for them. Maulawi Sahib prepared a list and sent it. Huzoor prayed with the doors of his courtyard shut and people who came later would slip their notes [with names] through the closed door. Haji Abdul Karim Sahib went to Egypt for his military service, perhaps some time prior to 1940. He did Tabligh work there and a friend called Ali Hassan Sahib became Ahmadi. Haji Sahib would accompany him and visit Egyptian friends for Tabligh. One of them was a clerk in telegraph department. They exchanged thoughts for many days and he was convinced of all matters but did not accept the Promised Messiah(as) to be a subordinate Prophet. Promised Messiah(as) in his Revealed Sermon said: O People! For the sake of God, fear Him and think collectively or individually like that person who is neither narrow-minded nor has any enmity. Has the time not come for God to have mercy on people? And has the time not come for wickedness to be eliminated and parched souls to be satiated with spiritual rain? And has the deluge of evil not reached its height and ignorance spread boundlessly? The country has become wicked and Satan is grateful to the ignorant. These are the magnificent words of the invitation that the Promised Messiah(as) gave with the command of Allah the Exalted on 11 April 1900. This sign continues to demonstrate its glory to this day and to this day no expert linguistic or great scholar or author even if he is from Arabia can match it. How could this ever be matched, for these were the words of God which were uttered from the tongue of the Promised Messiah(as). Death of Hanifa Bibi Sahiba of Sheikhupura and Syed Mahmood Ahmad Shah Sahib of Karachi.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
04-Apr-2014   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Essence of True Love for Allah
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Malayalam
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Tamil
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا : پس یہی محبت کا راز ہے کہ خداتعالیٰ کی صفات کو اپنانا ، معرفت کے ضمن میں بتایا گیا تھا کہ جب تک تمام صفات کا علم نہ ہو معرفت نہیں ہوسکتی اور معرفت کے بعد جب انسان مزید آگے بڑھتا ہے تو محبت ہے اور محبت اسی وقت کامل ہوتی ہے جب اﷲتعالیٰ کی صفات کو اپنایا بھی جائے، صرف علم صاصل کرنا ہی ضروری نہیں بلکہ اسے اپنایا بھی جائے، اﷲتعالیٰ کے رنگ میں رنگین ہوا جائے اور پھر اﷲتعالیٰ کا نور حاصل ہوتا ہے۔ یہ مقولہ کہ میری اپنی ہی آبپاشی سے ہی میری کھیتی ہوئی، میرے اپنے ہی بازو سے یہ کامیابی مجھے ہوئی یا زید کی مہربانی سے فلاں مطلب پوری ہوا اور بکر کی خبر گیری سے میں تباہی سے بچ گیا، یہ تمام باتیں ہیچ اور باطل معلوم ہونے لگتی ہیں اور ایک ہی ہستی اورایک ہی قدرت اور ایک ہی محسن اور ایک ہی ہاتھ نظر آتا ہے تب انسان ایک صاف نظر سے جس کے ساتھ ذرہ شرک فی الاسباب گرد و غبار نہیں خدا تعالیٰ کے احسانوں کو دیکھتا ہے ۔ خداتعالیٰ نے تو اس دین کا نام اسلام اس غرض سے رکھا ہے کہ تا انسان خدا تعالیٰ کی عبادت نفسانی اغراض سے نہیں بلکہ طبعی جوش سے کرے کیونکہ اسلام تمام اغراض کو چھوڑ دینے کے بعد رضا بالقضاء کا نام ہے ، دنیا میں بجز اسلام جیسا کوئی مذہب نہیں جس کے یہ مقاصد ہوں، بیشک خداتعالیٰ نے اپنی رحمت جتلانے کیلئے مومنوں کو انواع و اقسام کی نعمتوں کے وعدے دئیے ہیں مگر مومنوں کو جو اعلیٰ مقام کے خواہش مند ہیں یہی تعلیم دی ہے کہ وہ محبت ذاتی سے خداتعالیٰ کی عبادت کریں ۔ یہی بھید ہے کہ خداتعالیٰ سے پاک اور کامل تعلق رکھنے والے ہمیشہ استغفار میں مشغول رہتے ہیں کیونکہ یہ محبت کا تقاضا ہے کہ ایک محب صادق کو ہمیشہ یہ فکر لگی رہتی ہے کہ اس کا محبوب اس پر ناراض نہ ہو جائے اور چونکہ اس کے دل میں ایک پیاس لگادی جاتی ہے کہ خدا کامل طور پر اس سے راضی ہو ، اس لئے اگر خدا تعالیٰ یہ بھی کہے کہ میں تجھ سے راضی ہوں تب بھی وہ اس قدر پر صبر نہیں کر سکتا۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: یہ معلوم کر لو کہ تم میں سے عاشق صادق کی سی محبت ہے ، جس طرح وہ اس کے ہجر میں اس کے فراق میں بھوکا مرتا ہے ، پیاس سہتا ہے، نہ کھانے کا ہوش ، نہ پانی کی پرواہ، نہ اپنے تن بدن کی کچھ خبر ، اسی طرح تم بھی خدا کی محبت میں ایسے محو ہو جاؤکہ تمہارا وجود ہی درمیان سے گم ہو جائے پھر اگر ایسے تعلق میں انسان مر بھی جاوے تو بڑا ہی خوش قسمت ہے ، ہمیں تو ذاتی محبت سے کام ہے ، نہ کشوف سے غرض نہ الہام کی پرواہ۔ اگر تم خدا کے ہو جاؤ گے تو یقینا سمجھو کہ خدا تمہارا ہی ہے ، تم سوئے ہوئے ہو گے اور خداتعالیٰ تمہارے لئے جاگے گا ، تم دشمن سے غافل ہوگے اور خداتعالیٰ اسے دیکھے گا اور اس کے منصوبے کو توڑے گا ، تم ابھی تک نہیں جانتے کہ تمہارے خدا میں کیا کیا قدرتیں ہیں ، اگر تم جانتے تو تم پر کوئی ایسا دن نہ آتا کہ تم دنیا کیلئے سخت غمگین ہو جاتے ، ایک شخص جو خزانہ اپنے پاس رکھتا ہے، کیا وہ ایک پیسے کے ضائع ہوجانے سے روتا ہے اور چیخیں مارتا اور ہلاک ہونے لگتا ہے۔

Huzoor explained that adopting Divine attributes is an expression of love of God and as Huzoor had explained in his Friday sermons based on knowledge and understanding of God a few weeks ago, unless one is aware of all attributes of God one cannot have His knowledge and understanding. Love of God is the next step up and when Divine attributes are adopted one receives Divine light. Phrases like, ‘my crop flourished only because I irrigated it’ or ‘I was successful because of my own endeavour’, or ‘my such and such purpose was fulfilled because of Zaid’s kindness’ or ‘I was saved from ruin because of Bakr’s vigilance’ appear trivial and false. One sees only One Being, One Power, One Benefactor and One Hand. It is then that man sees favours of God Almighty with clarity and with no hint of the murkiness of relying on ways and means. God Almighty has named this religion Islam with the objective of man worshipping God Almighty owing to his inherent passion and not selfish motives because Islam is the name of abandoning all motives and willingly submitting to the will of God. There is no other religion in the world save Islam which has these objectives. No doubt, as a sign of His grace God Almighty has promised the believers all kinds of blessings. However, the believers who aspire to higher station have been taught to worship God out of personal love for Him. It is for this reason that those who enjoy a holy and perfect relationship with God always occupy themselves with Istighfar. A true lover is always apprehensive lest his beloved should become annoyed with him, and his heart is filled with the thirst to please Him perfectly, and he is not content even when God Himself informs him that He is pleased with him. The Promised Messiah(as) said: ‘If you find out that you have the capacity to love like a true and ardent devotee, who endures hunger and thirst when separated from the Beloved and has no care for food or drink or his body, you should become absorbed in love of God in such a way that your own being is lost somewhere along the way. Man is very fortunate if he dies in such a state. We are interested in personal love and not revelations and visions. If you become God’s, be assured that God is yours. He will wake for you when you are asleep, you will be unaware of the enemy and He will watch over him, and will destroy his ploys. You do not know yet of the powers of your God. Had you known you would have been extremely saddened every day for this world! A person who has a treasure-trove with him does not scream and cry over losing a penny.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
28-Mar-2014   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Signs of Truth: The Promised Messiah and Mahdi
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Malayalam
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: میری تائید میں اس نے وہ نشان ظاہر فرمائے ہیں کہ آج کی تاریخ سے جو 16 جولائی 1906 ہے، اگر میں ان کو ایک ایک کر کے شمار کروں تو میں خداتعالیٰ کی قسم کھا کر کہ سکتا ہوں کہ وہ تین لاکھ سے بھی زیادہ ہیں اور اگر کوئی میری قسم کا اعتبار نہ کرے تو میں اس کو ثبوت دے سکتا ہوں ،بعض نشانات اس قسم کے ہیں جن میں خدا تعالیٰ نے ہر ایک محل پر اپنے وعدے کے موافق مجھ کو دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھا اور بعض نشان اس قسم کے ہیں جن میں ہر محل میں اپنے وعدے کے موافق میری ضرورتیں اور حاجتیں اس نے پوری کیں۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: سورج اور چاند کو رمضان میں گرہن لگنا ، کیا یہ میری اپنی طاقت میں تھا کہ میں اپنے وقت میں کر لیتا اور جس طرح آنحضرت ﷺ نے اس کو سچے مہدی کا نشان قرار دیا تھا اور خداتعالیٰ نے اس نشان کو میرے دعویٰ کے وقت پورا کر دیا ، اگر میں اس کی طرف سے نہیں تھا تو کیا خداتعالیٰ نے خود دنیا کو گمراہ کیا؟ اس کا سوچ کر جواب دینا چاہئے کہ میرے انکار کا اثر کہاں تک پڑتا ہے، آنحضرت ﷺ کی تکذیب اور پھر خداتعالیٰ کی تکذیب لازم آ تی ہے۔ سید حامد شاہ صاحب سیالکوٹی لکھتے ہیں کہ حافظ سلطان سیالکوٹی حضور کا سخت مخالف تھا، یہ وہی شخص تھا جس نے ارادہ کیا تھا کہ سیالکوٹ میں آپؑ کی سواری گزرنے پر آپؑ پر راکھ ڈالے، آخر وہ سخت طاعون سے اسی 1906 میں ہلاک ہوا اور اس کے گھر کے 9 یا 10 آدمی بھی طاعون سے ہلاک ہوئے۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: جو نشانات دیئے گئے بعض ان میں سے وہ پیشگوئیاں ہیں جوبڑے بڑے غیب کے امور پر مشتمل ہیں کہ بجز خدا کے کسی کے اختیار اور قدرت میں نہیں کہ ان کو بیان کر سکےاور بعض دعائیں ہیں جو قبول ہو کر اطلاع دی گئی اور بعض بددعائیں ہیں جن کے ساتھ شریر دشمن ہلاک کئے گئےاور بعض دعائیں از قسم شفاعت ہیں جن کا مرتبہ دعا سے بڑھ کر ہےاور بعض مباہلات ہیں جن کا انجام یہ ہوا کہ خدا نے دشمنوں کو ہلاک اور ذلیل کیا ۔ مالی سے ہمارے معلم عبداﷲصاحب لکھتے ہیں کہ ایک احمدیت کے سخت مخالف جب بھی احمدیہ ریڈیو فون کرتے تو جماعت کو گالیاں نکالنے لگ جاتے ، اسی طرح انہیں کافی عرصہ گزر گیا، ایک دفعہ انہوں نے روتے ہوئے احمدیہ ریڈیو جس کا نام ربوہ ایف ایم ہے ٹیلی فون کیا اور بتایا کہ انہوں نے ایک رات پہلے حضرت اقدس مسیح موعودؑ کو خواب میں دیکھا تھا اور جو نور اس نے حضرت مسیح موعودؑ کے ساتھ دیکھا وہ پہلے کبھی نہیں دیکھا ، لہذٰا وہ جماعت سے صدق دل سے معافی مانگتے ہیں اور اس بات سے ڈرتے ہیں کہ اگر احمدیوں نے انہیں معاف نہ کیا تو خدا بھی انہیں معاف نہیں کرے گا ، اس پر معلم صاحب نے انہیں احمدیت میں شامل ہونے کی دعوت دی چنانچہ انہوں نے احمدیت قبول کر لی۔ حضور نے امت مسلمہ اور مسلمان ممالک کیلئے دعا کرنے کی درخواست کی، اﷲتعالیٰ ان ملکوں میں امن اور سلامتی قائم فرمائے اور اس بات کو یہ تسلیم کر لیں کہ یہ امن اور سلامتی اگر حقیقت میں قائم کرنی ہے تو اس کا ایک ہی حل ہے ، اﷲتعالیٰ نے جس کو امام مہدی بنا کر بھیجا ہے، جس کو امن قائم کرنے کیلئے بھیجا ہے ، اس کو یہ قبول کرلیں، اس مسیح محمدی کی پیروی کریں جس کی پیشگوئیاں آنحضرت ﷺ نے بھی فرمائی تھیں، اﷲ تعالیٰ ان کو توفیق عطا فرمائے۔

Promised Messiah(as) said God has shown so many signs in my support that if I were to count them one by one up to this day, 16th July, 1906, I can swear by God that they are in excess of three hundred thousand. And if someone does not believe in my oath, I can provide him with proof. Some of these signs are to do with occasions when God Almighty, in keeping with His promise, protected me from being harmed by the enemy. Some of the signs are such that, in keeping with His promise, God always fulfilled my needs and my wishes. Promised Messiah(as) said: Was it within my capacity that the sun and the moon should eclipse in Ramadan and could I have made it happen in my time! As the Holy Prophet(saw) had called it a sign of the true Mahdi and Allah the Exalted fulfilled this sign at the time of my claim. If I was not from Him, did God Almighty Himself lead the world astray? You should think and answer as to how far be the repercussions of denying me! Certainly it includes denial of the Holy Prophet (saw) and denial of God Almighty. Syed Hamid Shah Sialkoti writes that Hafiz Sultan Sialkoti was a severe opponent of Huzoor. This is the person who had planned to throw dust on the carriage/conveyance of Huzoor as it passed through Sialkot. He died of severe plague in 1906 and nine or ten members of his family also died of the plague. Promised Messiah(as) said: Among the miracles given to me were prophecies which constitute tremendous matters of the unseen and it is not in anyone’s power apart from God’s to articulate them. There are some prayers which were accepted and thus fulfilled and there are some maledictions through which mischievous enemies were destroyed. Some prayers are in the mode of intercession and are of a greater status than prayer and there are also some Mabahalas (prayer duels) which resulted in God destroying and disgracing the enemies. Our mu’allim from Mali Abdullah Sahib writes that an opponent of the Jama’at always rang Ahmadiyya radio to hurl abuse. A long time had passed when he rang radio Rabwah FM, our radio station, crying. He said he had seen the Promised Messiah(as) in a dream the night before and he had never experienced the spiritual radiance he saw around the Promised Messiah(as). He feared that if Ahmadis did not forgive him God may not forgive him either. He was invited to accept Ahmadiyyat which he did! Huzoor asked for prayers for Muslim Ummah and Muslim countries. May Allah establish peace and security in all the countries and may they acknowledge that there is only one solution to establish peace and security and that is accepting the Promised Messiah(as) about whom the Holy Prophet(saw) had prophesised. May Allah enable them to do so!

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
21-Mar-2014   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Signs of Truth: The Promised Messiah and Mahdi
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

علم اور معرفت کو خداتعالیٰ نے حقیقت دین اسلامیہ کے حصول کا ذریعہ ٹھئرایا ہے اور اگرچہ حقیقت اسلام کے وسائل اور بھی ہیں جیسے صوم و صلوٰۃ اور دعا اور تمام احکام الٰہی جو 600 سے بھی کچھ زیادہ ہیں لیکن عظمت تو وحدانیت ذات اور معرفت شیون صفات جلالی اور جمالی حضرت باری ذات ، وسیلۃ الوسائل اور سب کا موقوف ہے ، کیونکہ جو شخص غافل دل اور معرفت الٰہی سے بکلی بے نصیب ہے،وہ کب توفیق پاسکتا ہے کہ صوم اور صلوٰۃ بجا لاوے ۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا کہ دو دن کے بعد 23 مارچ یوم مسیح موعودؑ کے حوالے سے منایا جائے گا ، جس میں اس دن کی مناسبت سے مربیان و علماء حضرت مسیح موعودؑ کی سیرت اور آپؑ کے ساتھ الٰہی نصرت اور الٰہی تائیدات اور نشانات و معجزات کا ذکر کریں گے ، اتفاق سے آج کے خطبہ میں بھی اسی بات کا ذکر ہو رہا ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: جیسا کہ ایک اور حدیث میں بیان کیا گیا ہے گرہن دو مرتبہ رمضان میں واقعہ ہو چکا ہے ، اول اس ملک میں دوسرے امریکہ میں اور دونوں مرتبہ انہی تا ریخوں میں ہوا ہے جن کی طرف حدیث اشارہ کرتی ہے اور چونکہ اس گرہن کے وقت میں مہدی موعود کا مدعی بجز میرے کوئی نہیں تھا اور نہ کسی نے میری طرف اس گرہن کو اپنی مہدویت کا نشان دے کر صد ہا اشتہار اور رسالے اردو اور عربی اور فارسی میں دنیا میں شائع کئے ، اسلئے یہ نشان آ سمانی میرے لئے متعین ہوا۔ بعض نادان مولوی لکھتے ہیں کہ غلام دستگیر نے مباہلہ نہیں کیا، صرف ظالم پر بدعا کی تھی مگرمیں کہتا ہوں کہ جبکہ اس نے میرے مرنے کی بدعا کے ساتھ خدا سے فیصلہ چاہا تھا اور مجھے ظالم قرار دیا تھا تو پھر وہ بدعا اس پر کیونکر پڑ گئی اور خدا نے ایسے نازک وقت میں جب لوگ خدائی فیصلےکے منتظر تھے ، غلام دستگیر کو ہی کیوں ہلاک کر دیا اور جبکہ وہ اپنی دعا میں میرا ہلاک ہونا چاہتا تھا تا دنیا پر یہ ثابت کردے جیسا کہ محمد طاہر کی بدعا سے جھوٹا مہدی اور جھوٹا مسیح ہلاک ہو گیا تھا ، میری بدعا سے یہ شخص ہلاک ہو گیا۔ آج 125 سال ہو گئے ہیں اور اﷲتعالیٰ کے فضل سے یہ سلسلہ ترقی کرتا چلا جا رہا ہے، پس کیا یہ لوگ عقل استعمال نہیں کریں گے؟ مخالفین اپنی مخالفتوں سے باز نہیں آئیں گے؟ اﷲتعالیٰ سے دعا ہی ہے کہ اﷲتعالیٰ ان کو عقل دے اور یہ زمانے کے امام اور مسیح موعودؑ کو پہچاننے والے ہوں ورنہ جب اﷲتعالیٰ کی پکڑ آتی ہے تو پھر تمام مخالفین چاہے وہ کتنی طاقت رکھنے والے ہوں خش و خاک کی طرح اڑ جاتے ہیں ، ایک سوکھی ہوئی لکڑی کی طرح بھسم ہو جاتے ہیں، اﷲ کرے ان کو عقل آ ئے اور یہ پہچاننے والے بنیں۔ مکرمہ و محترمہ لطیفہ الیاس صاحبہ کی امریکہ میں وفات۔

God has appointed knowledge and understanding as the principal means of obtaining a true concept of Islam. Though there are other means for obtaining such knowledge, like fasting, Prayer, supplication and carrying out all the Divine commandments, the number of which exceeds six hundred, yet the knowledge of the Greatness of God and of His Unity and of His attributes of Glory and Beauty is basic for everything. After this explanation Huzoor said that in two days InshaAllah the Jama’at will commemorate Masih e Maud Day on 23 March. On this occasion scholars and orators speak on the subject and mention God’s help and support for the Promised Messiah(as). It was a beautiful coincidence that Huzoor spoke today, two days prior, with reference to the same subject. The Promised Messiah(as) further said: ‘Just as another Hadith relates the eclipse took place twice in the month of Ramadan. First in this country and the second time in America and it came to pass both times during the dates the Hadith refers to. Since at the time these eclipses took place, no one in the world except me claimed to be the Mahdi and Messiah and no one declared the eclipse to be a sign of him being the Mahdi like I did publishing hundreds of posters and pamphlets in Urdu, Persian and Arabic around the world, therefore this heavenly sign is designated to me. Some foolish Maulwis write that Ghulam Dastgir did not give challenge of Mubahla and only invoked malediction upon the cruel. But I say that since he asked God’s verdict through my death and called me cruel then why did the malediction befall him? And why did God kill Ghulam Dastgir at a sensitive time when people anticipated Divine verdict, whereas he wished my death in his prayer so that he could prove to the world that just as a false Mahdi and Messiah had died through the malediction of Muhammad Tahir, this person died through my malediction. Today 125 years have elapsed and the Jama’at is moving onwards and upwards. Will these people not have sense? Will our opponents not desist from their opposition? It is our prayer that may God give them sense and they accept the Imam of the age, the Promised Messiah(as). Because when God’s chastisement comes it seizes no matter how powerful one may be, it blows like dust and turns into cinders! May they understand and recognise the truth. Death of Sister Latifa Ilyas Sahiba in USA.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
14-Mar-2014   Urdu (mp3)English (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Essence of Recognizing Allah
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Tamil | Malayalam
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

آج حضرت خلیفۃ المسیح حضرت مسیح موعودؑ کی تحریرات اور ارشادات کے کچھ نمونے پیش فرمائیں گےجس میں معرفت الٰہی کے بارہ میں آپؑ نے راہنمائی فرمائی ہے، صرف اس ضمن میں ہی آپؑ کی تحریرات پیش کی جائیں تو بیسیوں بلکہ سینکڑوں صفحات اس بارہ میں مل جاتے ہیں تاہم جیسا کہ حضور نے فرمایا چند اقتباسات بطور نمونہ پیش فرمائیں گے جو اس بارہ میں ہماری راہنمائی کرتے ہیں کہ معرفت الٰہی کیا ہے، انبیاء اور اولیاء کا تواس میں ایک مقام ہے ہی، ایک عام مسلمان کو بھی اس کا کیا معیار ہونا چاہئے ۔ حضرت مسیح موعودؑ اس بات کی تشریح کرتے ہوئے کہ انسان گناہ کی طرف کیوں زیادہ گرتا ہے فرماتےہیں: گناہ پر دلیری بھی خدا کے خوف کا دلوں میں نہ موجود ہونا ہے لیکن یہ خوف کیونکر پیدا ہو اس کیلئے معرفت الٰہی کی ضرورت ہے ، جس قدر خدا کی معرفت زیادہ ہوگی اسی قدر خوف زیادہ ہوگا، جو زیادہ عرفان رکھتا ہے وہ اتنا ہی خوف رکھتا ہے اور لرزاں اور ترساں رہتا ہے،فرمایا اس امر میں اصل معرفت ہے، معرفت ایک ایسی شے ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے انسان ادنیٰ ادنیٰ کیڑوں سے بھی ڈرتا ہے ، جیسے پسو اور مچھر کی معرفت ہوتی ہے تو انسان اس سے بھی بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ گناہوں سے پچنے کیلئے معرفت کی اہمیت کو ایک جگہ حضرت مسیح موعودؑ نے یوں بیان فرمایا ہے، فرماتے ہیں کہ معرفت بھی ایک شے ہے جو گناہ سے انسان کو روکتی ہے جیسے جو شخص سم الفار، سانپ اور شیر کو ہلاک کرنے والا جانتا ہے تو وہ انکے نزدیک نہیں جانتا ایسے جب تم کو معرفت ہوگی، تم گناہ کے نزدیک نہ پھٹکو گے، اس کیلئے ضروری ہے کہ یقین بڑھاؤ اور وہ دعا کے ذریعے بڑھے گا اور نماز خود دعا ہے ، نماز کو جس قدر سنوار کر ادا کرو گے اسی قدر گناہوں سے رہائی پاتے جاؤ گے، معرفت صرف قول سے حاصل نہیں ہوسکتی۔ نیکیوں کے بجالا نے اور برائیوں سے روکنے کیلئے معرفت الٰہی کے مضمون پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں : تمام سعادت مندیوں کا مدار خدا شناسی پر ہے اور نفسانی جذبات اور شیطانی محرکات سے روکنے والی صرف ایک ہی چیز ہے جو خدا کی معرفت کاملہ کہلاتی ہے، جس سے پتہ لگ جاتا ہے کہ خدا ہے ، وہ بڑا قادر ہے ، وہ ذوالعذاب شدید ہے ، یہی ایک نسخہ ہے جو انسان کی سرکش زندگی پر ایک بھسم کرنے والی بجلی گراتا ہے، پس جب تک انسان اﷲ پر ایمان لانے کی حدسے نکل کر اسکی پہچان اور معرفت حاصل کرنے کی منزل پر قدم نہیں رکھتا ، اس کا گناہوں سے بچنا محال ہے۔ بعض لوگ شکایت کرتے ہیں کہ ہم نے سب نیکیاں کیں ، نماز بھی پڑھی، روزے بھی رکھے، صدقہ خیرات بھی دیا، مجاہدہ بھی کیا مگر ہمیں وصول کچھ نہیں ہوا تو ایسے لوگ شقی ازلی ہوتے ہیں ، وہ خداتعالیٰ کی ربوبیت پر ایمان نہیں رکھتے اور نہ انہوں نے سب اعمال خداتعالیٰ کیلئے کئے ہوتے ہیں، اگر خداتعالیٰ کیلئے کوئی فعل کیا جاوے تو یہ ممکن نہیں کہ وہ ضائع ہو اور خداتعالیٰ اس کا اجر اسی زندگی میں نہ دیوے، اسی وجہ سے اکثر لوگ شکوک و شبہات میں رہتے ہیں اور انکو خداتعالیٰ کی ہستی کا کوئی پتہ نہیں لگتا۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا : پس یہ وہ مقصد ہے جس کیلئے حضرت مسیح موعودؑ مبعوث ہوئے تھے کہ خداتعالیٰ کی ایسی معرفت ہم میں پیدا فرمائیں گویا ہم خداتعالیٰ کو دیکھتے ہیں اور اپنے ہر فعل کو خداتعالیٰ کی محبت اور اس کے خوف کو سامنے رکھتے ہوئے بجا لائیں ، ایسی معرفت الٰہی ہم میں پیدا ہو جائے جو ہمارے تمام گناہوں کو جلادے اور ہم آپؑ کی بعثت کے مقصد کو پورا کرنے والے بنیں ، اﷲتعالیٰ ہمیں ان تمام باتوں پر عمل کرنے کی اور اس روح کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ عبدالسبحان منان دین صاحب کی یوکے میں وفات۔

Today Hazrat Khalifatul Masih presented some extracts from the writings and pronouncements of the Promised Messiah(as) regarding Divine knowledge, or knowledge of God. His writings on this subject cover hundreds of pages but today just a few examples were presented as regards to his guidance on Divine knowledge. Prophets of God and saints have a distinct station in Divine knowledge, but the Promised Messiah(as) explained what should be the standard of an ordinary Muslim in this respect. The Promised Messiah(as) explained why man lowers himself towards sin so much. He said the audacity to commit sin stems from hearts devoid of fear of God. How can fear of God be generated? For this Divine knowledge is required, the greater one’s Divine knowledge the more one will fear God. Divine knowledge is central and it results in fear of God. When man has knowledge of something, he even fears and avoids tiny insects like the flea and mosquito etc. The Promised Messiah(as) said about the significance of knowledge in respect of avoiding sin that knowledge is something that prevents man from sinning. Just as a man who knows that arsenic kills snakes and lions, does not go near it. Similarly, if man has knowledge he does not go near sin. This is why it is important to enhance/develop knowledge and this happens with prayer. Salat is Prayer. The more one adorns one’s Salat the freer one is from sin. Knowledge cannot be attained by verbally professing something. The Promised Messiah(as) said about doing good and shunning evil that all goodness is dependent on recognising God and there is only one thing that stops selfish passions and satanic actions and that is perfect knowledge of God. It tells us that there is a God Who is All-Powerful and is Severe in reckoning. This is the only formula which falls like scorching lightening on man’s refractory life. Until man moves from the stages of ‘belief in Allah’ to ‘knowledge of Allah’ it is not possible for him to avoid sin. Some people complain that they did good, offered Salat, fasted, gave alms and charity and made spiritual endeavour but they did not attain anything. Such people are inherently miserable and they do not believe in the Divine quality of Rububiyyat (quality of nurturing) and their good deeds were not done for God Almighty. If something is done for the sake of God Almighty it is not possible for it to go wasted and for God Almighty to not reward it in this life. This is why many people remain embroiled in suspicions and they are not even sure if God Almighty exists or not. Huzoor said this was the objective for which the advent of the Promised Messiah(as) took place; to instil knowledge of God in us in a manner as if we are seeing God. May we do everything in light of love and fear of God and may we have such Divine knowledge instilled in us which burns away all our sins and we fulfil the objective of the Promised Messiah’s advent. May God enable us to put all this in practice and understand its spirit! Death of Abdul Subhan Mannan Din Sahib in UK.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
07-Mar-2014   Urdu (mp3)English (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Conference of World Religions 2014
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Tamil | Malayalam
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا: تقریبا تین ہفتے پہلے جماعت احمدیہ یوکے نے برطانیہ میں جماعت کے سو سال مکمل ہونے پر ایک تقریب منعقد کی تھی جس میں مختلف مذاہب کے علماء یا نمائندوں کو دعوت دی گئی تھی کہ وہ اپنی اپنی مقدس کتب پر بنیاد رکھتے ہوئے خداتعالیٰ اور مذہب کے تصور کی تعلیم کو پیش کریں اور یہ کہ 21ویں صدی میں خداتعالیٰ کا کردار اور خداتعالیٰ کی کیا ضرورت ہے ،بہرحال ظاہر ہے اس میں اسلام کی نمائندگی تو ہونی تھی اور جماعت نے کرنی تھی جو حضور نے کی ، اس کے علاوہ یہودی، عیسائی، بدھ مت، دروزی، ہندومت وغیرہ کی بھی نمائندگی تھی جنہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور زرتشتی اور سکھوں کی نمائندگی بھی تھی۔ حضور نے فرمایا کہ تفصیلات بیان کرنے سے پہلے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یوکے جماعت کی انتظامیہ جنہوں نے اتنا بڑا فنکشن کیا ، ان کو جس طرح اس فنکشن کی تشہیر کرنی چاہئے تھی، اس طرح نہیں کی، یعنی فنکشن سے پہلے اور اس بات پر خوش ہوگئے کہ فنکشن کر رہے ہیں اور اتنے لوگ آئیں گے حالانکہ یہ موقع تھا کہ جماعت کے وسیع پیمانے پر تعارف اور اسلام کی خوبصورت تعلیم کے پرچار کا زیادہ سے زیادہ لوگوں کو بتایا جاتا، اگر پریس سے صحیح رابطہ ہوتا تو جو کوشش امیر صاحب اور ان کی ٹیم کر رہی ہے ، خبریں لگوا رہے ہیں ،یہ خود بخود لگتی ہیں اور اس سے بہتر طریق پر لگتی ہیں۔ بیرونیس سعیدہ وارثی صاحبہ کہتی ہیں :آج اس ہال میں جلسہ مذاہب عالم کیلئے جمع ہونے والے معزز مہمانوں کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کرنا میرے لئے اعزاز ہے، یہ کانفرنس جماعت احمدیہ کے وسعت حوصلہ ، کشادہ دلی، کشادہ نظری، اعلیٰ ظرفی کی آ ئینہ دار ہے کہ آ پ لوگوں نے عالمی نوعیت کی ایسی تقریب کا انعقاد کیا ہے جس میں صرف اپنی جماعت کے عقائد کو پیش کرنے کی بجائے تمام مذاہب کے نمائند گان کو اپنا اپنا نقطہ نظر پیش کرنے کی دعوت دی ہے۔ ملکہ جو چرچ آف انگلینڈ کی سربراہ ہیں ، ان کے پرائیویٹ سیکرٹری نے لکھا کہ ملکہ عالیہ انگلستان کیلئے جماعت احمدیہ انگلستان کی طرف سے اپنے صد سالہ جشن کے موقع پر گلڈ ہال میں اس عظیم الشان جلسہ مذاہب عالم کے انعقاد کا پیغام باعث مسرت ہے، ملکہ عالیہ کو اس جلسہ کے مقاصد جان کر بہت خوشی ہوئی اور وہ آپکے پیغام بھجوانے کی درخواست پر بہت ممنون ہیں ، ملکہ عالیہ کی آپ سب کیلئے دلی تمنا ہے کہ جلسہ کامیاب ہوجائے۔ حضرت خلیفۃ المسیح نےکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: جب خداتعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو دنیا کی اصلاح کیلئے بھیجا تو آپﷺ نے اس کے حصول کیلئے تبلیغ کو انتہا تک پہنچایا اور صرف تبلیغ ہی نہیں کی بلکہ راتوں کو اس شدت سے اس کے نتائج حاصل کرنے اور لوگوں کے سینوں کو کھولنے کیلئے دعائیں کیں کہ آپﷺ کی سجدہ گاہیں آنسوؤں سے تر ہوجاتی تھیں ، آپﷺ کے دل میں انسانیت کی اصلاح اور اسے تباہی سے بچانے کیلئے جو درد تھا وہ بیان نہیں کیا جاسکتا۔ حضرت خلیفۃ المسیح نےکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اس زمانے میں اﷲتعالیٰ کے بھیجے ہوئے کے ساتھ اﷲتعالیٰ کی تائیدات ہیں ، اگر یہ نہ ہوتیں تو ہندوستان کے ایک دور دراز قصبے میں رہنے والا اﷲتعالیٰ کے پیغام کو تمام دنیا میں نہ پھیلا سکتا اور پھر حضرت مسیح موعودؑ کی وفات کے بعد خلافت کا نظام قائم ہوا جس کے تحت یہ مشن آگے بڑھتا چلا جا رہا ہے اور یہ جہاں خداتعالیٰ کے وجودکا ثبوت ہے اس زمانے میں وہاں جماعت احمدیہ کے ساتھ خداتعالیٰ کی تائیدات کا بھی ثبوت ہے۔ آخر پر حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا : اﷲ کرے کہ دنیا اپنے پیدا کرنے والے کی طرف رجوع کرے ، اسے پہچانے اور خداتعالیٰ کو پہچاننے سے ہی اس تباہی سے بچ سکتے ہیں جو ہمارے سامنے کھڑی ہے جس کی وارننگ حضرت مسیح موعودؑ نے اپنے کلام اور تحریرات میں بہرحال دی ہے ، حضور نے پاکستان کے حالات کے بارہ میں دعا کیلئے فرمایا ، دعا کریں کہ اﷲتعالیٰ شر پسند لوگوں سے اس ملک کو بچائے ، احمدیوں کو بھی محفوظ رکھے اور ان سب لوگوں کو بھی محفوظ رکھے جو امن کے خواہاں ہیں اور اس فتنہ و فساد سے بچنا چاہتے ہیں اور اس کا حصہ نہیں ، اسی طرح شام کے حالات کیلئے بھی دعا کریں ، اﷲتعالیٰ وہاں بھی احمدیوں کو محفوظ رکھیں۔

Hazrat Khalifatul Masih said that about three weeks ago Jama’at Ahmadiyya UK held a conference to commemorate its 100 years in Britain. Scholars and representatives of various religions were invited to present concept of God and religion based on their scriptures. The theme of the conference was God in the 21st Century. Indeed, Islam was going to be represented at the conference and it was done by Hazrat Khalifatul Masih. Other religions represented were Judaism, Hinduism, Buddhism, Druzes and Zoroastrianism. Also present at the event were Sikhs and Baha’i. Before giving the details Huzoor said that the administration of UK Jama’at which organised such a big event did not promote it ahead of time as they should have and were satisfied by simply organising it and anticipating a large number of guests. This was a chance to introduce the Jama’at on a wide scale and disseminate the beautiful teaching of Islam to as many people as possible. If the media had been contacted properly it would have produced better results than what we have as a result of efforts Ameer Sahib and his team is making now. Baroness Warsi said: ‘It is an honour to speak before such an illustrious audience in such prestigious surrounding here at the conference of world religions. It is a testament to the openness and the pragmatism and the humility of the Ahmadiyya community that your flagship global event today is not just about celebrating your own faith but you are celebrating all faiths. A message from Her Majesty the Queen who is the supreme governor of the Church of England and defender of the faith read: ‘The Queen was pleased to receive your kind message sent on behalf of the Ahmadiyya Muslim Association UK on the occasion of the conference of world religions being held today at Guildhall as part of your centenary celebrations. Her Majesty was interested to learn of the aims of the conference and appreciates your thoughtfulness in writing as you did. Huzoor told the conference that when God sent the Holy Prophet(saw) to reform the entire world, he surpassed in disseminating the message and not only that, he spent his nights in intense prayer and supplication made to God. In doing so he wept with such anguish and heartache that the place where he prostrated would become submerged in tears. His agony and anguish to reform mankind cannot be described in words. Huzoor also told the conference that God’s help is with the one He sent in this age, otherwise how could a claimant from a small village in India become renowned throughout the world. And following his passing away without God’s help he could not have left behind such a flourishing community. A community which due to being firmly attached to the institution of Khilafat, was furthering his mission throughout the world. Next Hazrat Khalifatul Masih said that may the world turn to its Maker, it can only be saved from the destruction that it faces by turning to God. Indeed, the Promised Messiah(as) had warned about this in his writings. Huzoor asked for prayers for the situation in Pakistan. May God save the country from the evil and keep Ahmadis safe and also them safe who wish for peace and wish to avoid conflict and strife. Prayers should also be made about the situation in Syria, may God protect Ahmadis there.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
28-Feb-2014   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: A Conference on Some Living Religions
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

ستمبر 1924 میں اس شہر لندن میں ایک مذاہب کانفرنس منعقد ہوئی تھی، اس میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی بنفس نفیس شامل ہوئے تھے،آجکل تو ہمارے تعارف بھی ہیں ،تعلقات بھی ہیں اور احمدیوں پر دنیا میں مختلف ملکوں پر جو ظلم ہو رہا ہے اس کی وجہ سے بہت سی حقوق انسانی کی تنظیمیں جو ہیں ، ان کی نظر بھی ہے، پھر ان تعلقات کی وجہ سے پارلیمنٹ کے ممبران اور پڑھے لکھے طبقے سے ہمارا یہاں بھی اور دنیا میں بھی تعارف ہے لیکن اس زمانے میں ہمیں یہ سب کچھ نہیں ملا تھا۔ یہ کانفرنس ویمبلے کانفرنس کہلاتی ہے، شروع 1924 میں انگلستان کی مشہور ویمبلے نمائش کے سلسلے میں سوشلسٹ لیڈر جو تھے لوفٹس ہیئر نے یہ تجویز کی کہ اس عالمی نمائش کے ساتھ ایک مذہبی کانفرنس بھی منعقد کی جائے ، جس میں برطانوی مملکت کے مختلف مذاہب کے نمائندوں کو بھی دعوت دی جائے تاکہ وہ اس کانفرنس میں شریک ہوں اور اپنے اپنے مذہب کے اصولوں پر روشنی ڈالیں۔ 23 ستمبر 1924 کا دن حضرت مصلح موعودؓ کے سفر یورپ کا سنہری دن تھا، اس دن ویمبلے کانفرنس میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کا جو بے نظیر مضمون تھا وہ پڑھا جانا تھا اور اس کے پڑھے جانے سے اسلام اور احمدیت کی شہرت کو چار چاند لگے، یورپ میں اسلام کا پیغام صحیح رنگ میں پہنچایا گیااور حضرت مسیح موعودؑ کا لندن میں تقریر کرنے کا جو ایک رویا تھا اس کا ذکر حضرت مصلح موعودؓ نے اپنی تقریر میں بھی کیا ہے وہ پوری آب و تاب سے پورا ہوگیا۔ چوہدری ظفراﷲخان صاحب نے ایک گھنٹہ لگایا اس مضمون کو پڑھنے میں ، بڑے پر شوکت لہجے میں مضمون پڑھا گیا ، اس کے باوجود کہ چوہدری صاحب کے گلےمیں خراش تھی لیکن اﷲتعالیٰ نے بڑی خاص تائید فرمائی اور بڑے اعلیٰ رنگ میں انہوں نے مضمون پڑھا ، حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے ایک جگہ یہ بھی فرمایا ہے کہ یہ مضمون جو چوہدری صاحب نے پڑھا یہ اصل میں میری زبان تھی، بہرحال اس مضمون پر حاضرین میں ایک وجد کی کیفیت طاری تھی، ایسا معلوم ہوتا تھا گویا سب حاضرین احمدی ہیں ۔ کانفرنس کے صدر اجلاس نے کہا جو الفضل کی رپورٹ میں درج ہے کہ مرزا بشیر الدین امام جماعت احمدیہ کے مضمون پڑھے جانے پر اپنے صدارتی کلمات میں کہا کہ اس یعنی احمدیہ سلسلہ اور زمانہ حال کے دوسرے سلسلوں کا پیدا ہونا ثابت کرتا ہے کہ اسلام ایک زندہ مذہب ہے جس کی تجدید کیلئے لوگ اعلیٰ مطالعہ جاری رکھتے ہیں ، مرزا بشیرالدین نے جن کے ساتھ بہت سے سبز اماموں والے تبعین تھے فرمایا کہ سلسلہ احمدیہ سلسلہ موسویہ میں سلسلہ عیسویہ کی طرح اسلام میں ایک ضروری اور قدرتی تجدید ہے۔ فری چرچ کے ہیڈ ڈاکٹر والٹر واش جو خود فسیح البیان لیکچرر تھے ، اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا ، میں نہایت خوش قسمت ہوں کہ مجھے یہ لیکچر سننے کا موقع ملا ، پھر ایک قانون کے پروفیسر نے بیان کیا کہ جب میں مضمون سن رہا تھا تو یہ محسوس کر ریا تھا کہ یہ دن گویا ایک نئے دور کا آغاز کرنے والا ہے، پھر کہا اگر آپ لوگ کسی اور طریق سے ہزاروں ہزار روپیہ بھی خرچ کرتے تو اتنی زبردست کامیابی نہیں حاصل کر سکتے تھے، پھر ایک پادری نے کہا تین سال ہوئے مجھے خواب میں دکھایا گیا کہ حضرت مسیح ؑ تیرہ حواریوں کے ساتھ یہاں تشریف لائے ہیں اور اب میں دیکھتا ہوں کہ یہ خواب پورا ہوگیا۔ اخبار مانچسٹر گارڈین نے اپنی 24 ستمبر 1924 کی اشاعت میں لکھا کہ اس کانفرنس میں ایک ہلچل ڈالنے والا واقعہ جو اس وقت ظاہر ہوا وہ آج سہ پہر کو اسلام کے ایک نئے فرقے کا ذکر تھا ، نئے فرقے کا لفظ ہم نے آسانی کیلئے اختیارکیا ہے ورنہ یہ لوگ اس کو درست نہیں سمجھتے، اس فرقے کی بنا ان کے قول کے بموجب آج سے 34سال پہلے اس مسیح نے ڈالی جس کی پیشگوئی بائیبل اور دوسری کتابوں میں ہے ۔ کمال احمد کروغ صاحب آف ڈنمارک کی وفات۔

A conference on world religions was held here in London in 1924 which was graced by Hazrat Khalifatul Masih II(ra). These days our Jama’at is known to others and we have connections; due to the Ahmadiyya persecution many human rights organisations know about us. Due to our connections, we are known to MPs and academics here and other countries. We did not have these connections in those days. The said conference is widely known as Wembley Conference. In early 1924, a socialist leader William Loftus Hare suggested to hold a religious conference in conjunction with the renowned Wembley Exhibition to which religious representatives of the religions of the British Empire should be invited to expound principles of their religions. 23 September 1924 was a golden day in Huzoor’s European tour when Huzoor’s superlative treatise was read out at the Wembley Conference and it was a splendorous representation of Islam Ahmadiyyat and brought the message of Islam in the true sense to Europe. This was also a fabulous fulfilment of the vision of the Promised Messiah(as) about giving an address in London. Chaudhry Zafrullah Khan Sahib read the treatise in a commanding tone although he had a bit of sore throat but Divine succour was with him, he took one hour to read the treatise. Hazrat Khalifatul Masih II(ra) once said, ‘although Chaudhry Zafrullah Sahib read the treatise, it was my tongue [speaking].’ The audience listened to the address in a trance. It appeared as if all the audience were Ahmadi, people sat with rapt attention till the end. Al Fazl reported 'after the treatise of Mirza Bashir ud Din Ahmad the president of the conference said in his remarks that the Ahmadiyya Movement and other such current movements prove that Islam is a living religion and high level scholarship was engaged in for its renaissance. Mirza Bashir ud Din who was accompanied by many green-turbaned followers said that Ahmadiyya Movement is an important and natural revival of Islam just as dispensation of Jesus was for the dispensation of Moses.' Head of the Free Church Dr Walter Wash who was a great orator said that he was most fortunate to listen to the treatise. A professor of law said that as he listened he felt as if it was the beginning of a new era. He also said that had thousands been spent in some other way, it would not have availed such great success. A priest said that three years ago he had seen in a dream that Jesus had come with thirteen disciples and now the dream had been fulfilled. Newspaper Manchester Guardian reported the conference on 24 September 1924 and said: ‘An incident that caused excitement in the conference took place when a new sect of Islam was mentioned.’ They said they were using the term new sect for ease as its adherent did not consider it as a correct term. The paper said: ‘According to people of this sect they were established 34 years ago by the Messiah who is prophesised in the Bible and other books. Death of Kamal Ahmed Krogh Sahib of Denmark.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
21-Feb-2014   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Musleh Maud: The Prophecy and The Man
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Persian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا: گزشتہ کل 20 فروری کا دن گزرا ہے ، یہ دن جماعت میں مصلح موعودؑ کی پیشگوئی کے حوالے سے خاص اہمیت کا حامل ہے، جس میں حضرت مسیح موعودؑ نے اپنے ایک بیٹے کے پیدا ہونے کی خبر دی تھی، جو نیک، صالح اور بہت سی صفات کا حامل ہونا تھا، گزشتہ جمعہ کو بھی حضور نے حضرت مسیح موعودؑ کے نشانات کے حوالے سے ذکر کیا تھا، آج بھی حضرت خلیفۃ المسیح نے یہی مناسب سمجھا کہ 20 فروری کے قریب کا جمعہ ہے اس وجہ سے اس پیشگوئی کاذکر کیا جائے جس کو حضرت مسیح موعودؑ نے ایک عظیم الشان نشان قرار دیا ہے۔ حضور نے فرمایا: پس یہ وہ خصوصیات ہیں جن کا حامل وہ بیٹا ہونا تھا اور ایک دنیا نے دیکھا کہ وہ بیٹا پیدا ہوا اور 52سال تک خلافت پر متمکن رہنے کے بعد اپنی خصوصیات کا لوہا دنیا سے منوا کر اس دنیا سے رخصت ہوا ، اگر ان خصوصیات کی گہرائی میں جا کر دیکھیں اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد المصلح موعودؓ کی زندگی کا جائزہ لیا جائے تو اس کیلئے کئی کتابیں لکھنے کی ضرورت ہے، کسی خطبہ میں یا کسی تقریر میں حضرت مصلح موعودؓ کی زندگی اور آپ کے کارناموں کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا ، جماعت میں اس حوالے سے ہر سال 20فروری کو جلسہ منعقد کئے جاتے ہیں اور مقررین اور علماء اپنے اپنے ذوق اور علم کے مطابق اس مضمون کو بیان کرتے ہیں۔ حضرت مصلح موعودؓ نے کلام کے اوپر 10 کتب اور رسائل لکھے ، روحانیات، اسلامی اخلاق اور اسلامی عقائد پر 31 کتب اور رسائل تحریر فرمائے آپؓ نے ، سیرت و سوانح پر 13کتب اور رسائل لکھے ، تاریخ پر چار کتب اور رسائل لکھے، فقہ پر تین کتب اور رسائل لکھے، سیاسیات قبل از ہند 25 کتب اور رسائل لکھے، سیاسیات بعد از تقسیم ہند اور قیام پاکستان پر 9 کتب اور رسائل، سیاست کشمیر 15 کتب اور رسائل ، تحریک احمدیت کے مخصوص مسائل اور تحریکات پر تقریبا 100 کتب اور رسائل لکھے۔ اختر صاحب پٹنہ یونیورسٹی لکھتے ہیں کہ میں نے یکے بعد دیگرے حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی تفسیر کبیر کی چند جلدیں پروفیسر عبدالمنان بیدل سابق صدر شعبہ فارسی پٹنہ کالج کی خدمت میں پیش کیں اور وہ ان تفسیروں کو پڑھ کر اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے مدرسہ عربیہ شمس الہدیٰ کے شیوخ کو بھی تفسیر کی بعض جلدیں پڑھنے کیلئے دیں اور ایک دن کئی شیوخ کو بلا کر انہوں نے انکے خیالات دریافت کئے ، ایک شیخ نے کہا فارسی تفسیروں میں ایسی تفسیر نہیں ملتی، پروفیرسر عبدالمنان صاحب نے پوچھا عربی تفسیروں کے متعلق کیا خیال ہے۔ مغربی مفکرین کی ایک مثال پیش کرتے ہوئے حضور نے برطانوی مستشرق اے جے آربری کا ذکر فرمایا جو عربی، فارسی، اسلامیات کے سکالر ہیں، کہتے ہیں قرآن شریف کا یہ نیا ترجمہ اور تفسیر ایک بہت بڑا کارنامہ ہے، یہ 5 والیوم کی بات کر رہے ہیں ، موجود جلد گویا اس کارنامے کی پہلی منزل ہے ، کوئی 15 سال کا عرصہ ہوا، جماعت احمدیہ کے محقق علماء نے یہ کام شروع کیا اور کام حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد کی حوصلہ افزاء قیادت میں ہوتا رہا ، کام بہت بلند قسم کا تھا یعنی قرآن کریم کے متن کی ایسی ایڈیشن شائع کی جائے جس کے ساتھ اس کا نہایت صحیح صحیح انگریزی ترجمہ ہو اور ترجمہ کے ساتھ آیت آیت کی تفسیر ہو۔ صاحبزادہ مرزاحنیف احمد صاحب جو حضرت مصلح موعودؓ کے بیتے ہیں کی وفات۔

Yesterday was 20 February, a day which is commemorated as the day of the prophecy of Musleh Maud in the Jama’at. In this prophecy, the Promised Messiah(as) foretold the birth of a son of his who would be pious and righteous and would have many other qualities. Last Friday sermon was about signs given to the Promised Messiah(as) by God Almighty. As today is the closest Friday to 20 February, Hazrat Khalifatul Masih deemed it appropriate to give a discourse on the prophecy of 20 February, which was called a magnificent sign by the Promised Messiah(as). These were the qualities the son was to have. We know that Hazrat Musleh Maud(ra) graced the office of Khilafat for 52 years and departed from this world having proved his mettle to the world. Many books would need to be written if one was to study in-depth these qualities and appraise the life of Hazrat Musleh Maud(ra). It is not possible to encompass his life and achievements in sermons and speeches. Jama’at commemorates 20 February every year and scholars give speeches according to their knowledge and insight on this subject. Hazrat Musleh Maud(ra) wrote 10 books and journals on Kalam and 31 books and journals on spirituality, Islamic morals and Islamic creed. He wrote 13 books and journals on the life of the Holy Prophet(saw), 4 books and journals on history, 3 books and journals on jurisprudence (fiqah), 25 books and journals on the politics of pre-partition India and 9 books and journals on post-partition politics and establishment of Pakistan. Akhtar Sahib of Patna University wrote that he sent the volumes of Tafseer e Kabir to a professor of Persian, Abdul Mannan Sahib, and the professor was so impressed that he distributed some of the volumes to other academics to read. He later asked them for their opinion on it. The academics acknowledged that there was no commentary of this calibre in Persian. When it was put to them what did they think about comparing it to Arabic commentaries, they said that Arabic commentaries were not available in Patna. An example of Western scholars opining about Five Volume Commentary is British academic A J Arberry who was a scholar of Arabic, Persian and Islamic studies. He said that the Five Volume Commentary was a huge achievement and the then current volume was the first stage of the achievement. He said Ahmadi scholars started this great work under the encouraging auspices of Hazrat Mirza Bashir ud din Mahmood Ahmad. The work was of towering nature, i.e. to produce an edition of the Qur’an with accurate and corresponding translation in English as well as commentary on every verse. Death of Sahibzada Mirza Hanif Ahmad, a son of Hazrat Musleh Maud(ra).

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
14-Feb-2014   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Signs of Truth
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Persian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت مسیح موعودؑ اپنی کتاب براہین احمدیہ میں فرماتے ہیں : یہ سب اہتمام اس لئے کیا گیا ہے کہ جو لوگ فی الحقیقت راہ راست کے خواہاں اور جویاں ہیں ان پر باکمال انکشاف ظاہر ہو جائے کہ تمام بر کات اور انوار اسلام میں محضود اور محصور ہیں اور تا جو اس زمانے کے ملحد اور ذریت ہے اس پر خداتعالیٰ کی حجت قاطعہ اتمام کو پہنچے اور تا ان لوگوں کی فطری شیطنت ہر یک منصف پر ظاہر ہوکر جو ظلمت سے دوستی اور نور سے دشمنی رکھ کر حضرت خاتم الانبیاء کے مراتب عالیہ سے انکار کر کے اس عالی جناب کی شان کی نسبت پر خبث کلمات منہ پر لاتے ہیں۔ مخالف لوگ ارادہ کریں گے کہ خدا کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بھجا دیں یعنی بہت سے مکر کام میں لاویں گے مگر خدا اپنے نور کو کمال تک پہنچائے گا اگر چہ کافر لوگ کراہت ہی کریں یہ اس زمانے کی پیشگوئی ہے کہ جبکہ اس سلسلے کے مقابل پر مخالفوں کو کچھ جوش اور اشتعال نہ تھا اور پھر اس پیشگوئی سے دس برس بعد وہ جوش دکھلایا گیا کہ انتہا تک پہنچ گیا یعنی تکفیر نامہ لکھا گیا ، قتل کے فتوے لکھے گئے اور صدہا کتابیں اور رسالے چھاپ دیئے گئے۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: میں خاص طور پر خداتعالیٰ کی اعجاز نمائی کو انشاء پردازی کے وقت بھی اپنی نسبت دیکھتا ہوں کیونکہ جب میں عربی میں یا اردو میں کوئی عبارت لکھتا ہوں تو میں محسوس کرتا ہوں کہ کوئی اندر سے مجھے تعلیم دے رہا ہے اور ہمیشہ میری تحریر گو عربی ہو یا اردو یا فارسی ، دو حصہ پر منقسم ہوتی ہے ، ایک تو یہ کہ بڑی سہولت سے سلسلہ الفاظ اور معانی کا میرے سامنے آتا جاتا ہے اور میں اس کو لکھتا جاتا ہوں اور گو اس تحریر میں مجھے کوئی مشقت اٹھانی نہیں پڑتی مگر دراصل وہ سلسلہ میری دعماغی طاقت سے کچھ زیادہ نہیں ہوتا یعنی الفاظ اور معانی ایسے ہوتی ہیں کہ اگر خداتعالیٰ کی خاص رنگ میں تائیدنہ ہوتی تب بھی اس کے فضل کے ساتھ ممکن تھا کہ اس کی معمولی تائید کی برکت سے جو لازمہ فطرت خاص انسانی ہے کسی قدر مشقت اٹھا کر اور بہت سا وقت لے کر ان مضامین کو میں لکھ سکتا۔ وﷲ اعلم۔ فلسطین سے ایک خاتون لکھتی ہیں کہ مروجہ طرز فکر کے زیر اثر میرا بڑا پکا ایمان تھا کہ عیسٰیؑ آسمان پر موجود ہیں اور آخری زمانے میں آسمان سے نازل ہونگے اور امت کو دیگر اقوام کی غلامی سے تلوار کے زور پر آ زاد کروائیں گے نیز تلوار کے زور سے ہی جبرا لوگوں کو اسلام میں داخل کریں گے لہٰذا مجھے بڑی شدت کے ساتھ اس دن کا انتظار تھا ، پھر جماعت سے میرا تعارف ہوا، میرے دیور کے ذریعے یہ تعارف جو نہ صرف جماعت کے بارہ میں میرے ساتھ اکثر بات چیت کرتے تھے بلکہ مجھے حضرت مسیح موعودؑ کی عربی کتب اور لٹریچر بھی بھیجتے رہتے تھے، ان کتب میں مجھے بے مثل اور انمول موتی ملے۔ عباس صاحب جو اٹلی میں رہتے ہیں لیکن عرب ہیں کہتے ہیں کہ میں باجود مولویوں کی ہرزہ سرائی کے ایم ٹی اے العربیہ کا ہو کر رہ گیا تھا ، ایک دن میں الحوار دیکھ رہا تھا کہ اس میں وقفہ کے دوران حضرت مسیح موعودؑ کا عربی قصیدہ آ گیا ، میں یہ قصیدہ سننے کے ساتھ ساتھ حضرت مسیح موعودؑ کی تصویر کو بھی دیکھتا جاتا تھا ، یہانتک کہ بے اختیاری کے عالم میں بلند آ واز میں میری زبان سے یہ کلمات نکلے کہ خدا کی قسم یہ بات کوئی جھوٹا ہرگز نہیں کہ سکتا، یہ شخص لازمی خدا تعالیٰ کا فرستادہ ہے، ایسا کلام خداتعالیٰ اور اس کے رسول کی بے حرمتی کرنے والا نہیں ہوسکتا ۔ اطامی صاحب یمن سے لکھتے ہیں کہ ایک صحافی اور ایک محقق ہونے کے ناطے حقیقت حال جاننے کا مجھے شوق تھا لہٰذا جماعت کے مخالفین کی کتب بھی پڑھیں ، ان میں ناروا الزام تراشی کے بعد نوبت تکفیر تک پہنچتی نظر آئی ، مزید تحقیق کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ ان میں وہی پرانے غلط الزامات کے سوا کچھ نہیں ، دوسری طرف حضرت مسیح موعودؑ کی عربی دانی وغیرہ جیسے معجزات تھے ، یہ بھی الٰہی معجزہ تھا کہ امام مہدیؑ کو فارسی النسل پیدا کیا ، حضرت مسیح موعودؑ کی کتب پڑھ کر اس نتیجہ پر پہنچا کہ آپؑ نے اسلام کا صحیح تصور دوبارہ پیش کیا ہے جس کو لوگوں نے بھلا دیا تھا یا بگاڑ دیا تھا۔ رضی اﷲ دین صاحب کی شہادت اور ڈاکٹر خالد یوسف صاحب کی وفات۔

The Promised Messiah(as) writes in his magnum opus, Baraheen e Ahmadiyya about keeping a record of his revelations and says that all these arrangements have been put in place so that it may be perfectly disclosed to those who seek the truth that all blessings and lights are inherent in Islam and so that the convincing proofs of Allah reach the godless people of this age, so that in turn their satanic nature is made evident to every fair-minded person. ‘The opponents will plan to extinguish the light of God with the breaths of their mouths, that is, they will utilise cunning. However, God will perfect His light although the disbelievers will resent it.’ This is a prophecy of a time when there was no opposition or enmity against this movement. Ten years after this prophecy such enmity was shown that it became an upsurge; allegation of disbelief was recorded, edicts of murder were recorded and published in hundreds of books and journals. Promised Messiah(as) said ‘When I write something in Urdu or Arabic I feel as if someone is tutoring me from within. My writing, be it in Arabic, Urdu or Persian is divided in two types. One type is when phraseology and its meanings flow for me as I write. I do not have to work hard for this writing and the phraseology is within my mental capacity. The words and their connotation is such that it is possible for me to write them without any special grace of God Almighty and with the blessing of His general support which is in the nature of human ability. A Palestinian lady writes that she firmly believed that Hazrat Isa(as) was alive in the heaven and would revive Islam with the use of force. She was introduced to the Jama’at through her younger brother-in-law and read books of the Promised Messiah(as). She felt as if she had found priceless pearls. The eloquent Arabic writings were like gems of spiritual knowledge and she felt that it is such valuable writings that initiate man’s connection with God. Abbas Sahib who is an Arab and resides in Italy writes that in spite of what the maulwis said, he used to watch MTA. Once he heard Arabic Qaseeda of the Promised Messiah(as) on MTA. As he listened to it, he looked at an image of the Promised Messiah until, spontaneously he said our aloud, by God, a liar cannot express such sentiments. This person is definitely from God. Atami Sahib from Yemen writes that as a journalist and researcher he was intrigued to find the truth. He read a book by detractors of the Jama’at which had resorted to slandering. He realised these were age-old allegations and nothing else. On the other hand he found the eloquent Arabic of the Promised Messiah(as) miraculous. After reading books of the Promised Messiah he reached the conclusion that he had presented the true image of Islam once again. Martyrdom of Raziullah Din Sahib and Death of Dr. Khalid Yusuf Sahib.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
07-Feb-2014   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: The Exemplary Ahmadi Muslim
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

گزشتہ ہفتہ کے راہ ہدیٰ کا پروگرام کا کچھ حصہ دیکھنے کا حضرت خلیفۃ المسیح کو موقع ملا،تو اس وقت ایک غیر ازجماعت کا سوال پیش ہورہا تھا ، حضرت مسیح موعودؑ کے ایک الہام کے حوالے سے سوال وہ کر رہے تھے ، تمہید بھی اس طرح باندھی کہ قرآن کریم خداتعالیٰ کا کلام ہے، بعض احادیث ہیں ، پھر اسی طرح بزرگوں کا کلام ہے، ان سب کو جب ہم دیکھتے ہیں تو ان میں آپس میں ربط نظر آتا ہے لیکن یہ الہام پیش کرنے کے بعد کہتے ہیں اس میں ربط نہیں یا ہمیں سمجھ نہیں آئی، بہر حال ایک اعتراض کا رنگ تھا اور اگر نیت نہیں بھی تھی ان کی اعتراض کی، تو سوال کی ٹون ایسی تھی کہ لگتا تھا اعتراض ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: جماعت کے باہم اتفاق اور محبت پر میں پہلے بہت دفعہ کہ چکا ہوں کہ تم باہم اتفاق رکھو اور اجماع کرو، خداتعالیٰ نے مسلمانوں کو یہی تعلیم دی تھی کہ تم وجود واحد رکھو ورنہ ہوا نکل جائے گی، نماز میں ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کے کھڑے ہونا کا حکم اس لئے ہے کہ باہم اتحاد ہو، برقی طاقت کی طرح ایک کی خیر دوسرے میں سرایت کرے گی، اگر اختلاف ہو، اتحاد نہ ہو تو بے نصیب رہو گے۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: یاد رکھو بغض کا جدا ہونا مہدی کی علامت ہے اور کیا وہ علامت پوری نہ ہوگی، ضرور ہوگی، تم کیوں صبر نہیں کرتے، جیسا طبی مسئلہ ہےکہ جب تک بعض امراض میں قلع قمع نہ کیا جاوے مرض دفع نہیں ہوتا ، میرے وجود سے انشاءاﷲ ایک صالح جماعت پیدا ہوگی ، باہمی عداوت کا سبب کیا ہے؟ بخل ہے ، رعونت ہے، خود پسندی ہے اور جذبات ہیں، ایسے تمام لوگوں کو جماعت سے الگ کردوں گا جو اپنے جذبات پر قابو نہیں پا سکتے اور باہم محبت اور اخوت سے نہیں رہ سکتے۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: یہ بات بھی خوب یاد رکھنی چاہئے کہ ہر بات میں منافع ہوتا ہے ، دنیا میں بھی دیکھ لو ، اعلیٰ درجہ کی نباتا ت سے لیکر کیڑوں اور چوہوں تک میں کوئی چیز ایسی نہیں جو انسان کیلئے منفعد اور فائدہ سے خالی ہو ، یہ تمام اشیاء خواہ وہ عرضی ہیں یا سماوی ، اﷲتعالیٰ کی صفات کے اضلال اور آ ثار ہیں اور جب صفات میں نفع ہی نفع ہے تو بتلاؤ کہ ذات میں کس قدر نفع ہوگا، یعنی خداتعالیٰ کی ذات سے اگر تعلق پیدا کر لو گے تو کس قدر نفع ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: اﷲتعالیٰ کسی کی پرواہ نہیں کرتا مگر صالح بندوں کی، آپس میں اخوت اور محبت کو پیدا کرو اور درندگی اور اختلاف کو چھوڑدو ہر ایک قسم کے ہذل اور تمسخر سے متعلقا کنارہ کش ہوجاؤ کیونکہ تمسخر انسان کے دل کو صداقت سے دور کر کے کہیں کا کہیں پہنچا دیتا ہے ، آپس میں ایک دوسرے سے عزت سے پیش آؤ ، ہر ایک اپنے آ رام پر اپنے بھائی کے آ رام کو ترجیح دیوے، اﷲتعالیٰ سے ایک سچی صلح پیدا کرلو اور اسکی اطاعت میں واپس آ جاؤ۔ ہماری جماعت جس سے مخالف بغض رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ جماعت ہلاک اور تباہ ہو جاوے اس کو یاد رکھنا چاہئے کہ میں اپنے مخالفوں سے باوجود ان کے بغض کے ایک بات میں اتفاق رکھتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ خداتعالیٰ نے چاہا ہے کہ یہ جماعت گناہوں سے پاک ہو اور اپنی چال چلن کا عمدہ نمونہ دکھاوے، وہ قرآن شریف کی سچی تعلیم پر سچی عامل ہو اور آنحضرت ﷺ کی اتباع میں فنا ہوجاوے ، ان میں باہم کسی قسم کا بغض اور کینہ نہ رہے، وہ خداتعالیٰ کے ساتھ پوری اور سچی محبت کرنے والی جماعت ہو۔ پس یہ وہ معیار ہے جو ہم سب نے حاصل کرنے کی کوشش کرنی ہے اور کرنی چاہئے، تقویٰ پر چلنا ، اپنے اعمال کی اصلاح کرنا، اپنے ایمان کے معیار بلند کرنا ، یہ باتیں کوئی معمولی باتیں نہیں ہیں ، ہم نے زمانے کے امام کو مانا ہے تو اس کی توقعات پر پورا اترنے کیلئے ہمیں پوری طرح سے یہ کوشش کرنی چاہئے ، ہر چھوٹی سے چھوٹی نیکی کو ہمیں انجام دینے کی کوشش کرنی چاہئےاور ہر بدی سے ہمیں مکمل طور پر نفرت کا اظہار کرنا چاہئے، محبت پیار اور اخوت کو بڑھانے کی ہمیں ضرورت ہے۔

Last week Hazrat Khalifatul Masih happened to watch part of the programme Rah-e-Huda when a non-Ahmadi questioner was putting his question with reference to a revelation of the Promised Messiah(as). In a way his question was an objection and in his preamble the caller said that the Holy Qur’an, which is the Word of God, Hadith and works of other holy persons all have a concordance and a flow which he failed to see in the Promised Messiah’s(as) words. Even if the intention of the caller was not to object, his tone appeared so. The Promised Messiah(as) said: ‘I have said as regards mutual love and harmony of the Jama’at that you should have accord and unity. This is the teaching God gave to the Muslims that be as one otherwise you will collapse. The commandment to stand close to each other in Salat is to promote unity, so that the good in one permeates like electric power in each other. If you have conflict and no unity, you will remain unfortunate. ‘Remember removal of malice is a sign of the Mahdi. Will this sign not come to pass? Indeed, it will. Why don’t you be patient! Just as in medical matters some ailments do not go away unless they are completely eradicated. InshaAllah a pious community will be created through me. What is the reason for mutual enmity? Miserliness, arrogance, self-centredness and emotions. I will exclude all those from my Jama’at who do not have control over their emotions and cannot live with mutual love and unity. The Promised Messiah(as) said: ‘It should be remembered very well that there is benefit in everything. Look around the world, from high quality of vegetation to rodents and insects, there is nothing that is devoid of benefit to man. All these ordinary things, whether they are earthly or heavenly, are shadows of the attributes of Allah the Exalted. When there is so much benefit in [Divine] attributes, imagine the benefit of the Being of God! The Promised Messiah(as) said: ‘Allah the Exalted does not care for anyone but for the righteous person. Instil mutual love and unity and abandon beastliness and conflict and give up all manner of mockery and derision because mockery makes the heart remote and distant from the truth. Treat each other with respect and everyone should give precedence to the comfort of his brother over his own comfort. Generate true conciliation with Allah the Exalted and return to His obedience. ‘Our detractors have animosity against us and wish for the Jama’at to be destroyed. It should be remembered that in spite of their animosity, I agree with them in one thing. And that is that God Almighty has willed that this Jama’at is free of sin and that it demonstrates a fine model of conduct and truly practices the true teachings of the Holy Qur’an and is fervently devoted in adherence of the Holy Prophet(saw). These are the standards we need to aspire to, indeed, should aspire to; abiding by Taqwa, reforming our practices and enhancing the levels of faith. These are not small matters. We have accepted the Imam of the age and we should make endeavours to come up to the mark of his expectations. We should try and accomplish the smallest of virtue and should recoil from every evil. There is need to enhance mutual love, affection and unity.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
31-Jan-2014   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Introspection, Self-Reformation and Success
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا :گزشتہ خطبہ میں قوت ارادی کے پیدا کرنے کا اور علمی کمزوری کے دور کرنے کا ذکر ہوگیا تھا لیکن تیسری بات اس ضمن میں بیان نہیں ہوئی تھی یعنی عملی کمزوری کو دور کرنے کا طریق یا عملی قوت کو کس طرح بڑھایا جا سکتا ہے؟ اس کے بارہ میں حضور آ ج کچھ ارشاد فرمائیں گے، اس کیلئے جیسا کے پہلے خطبات میں ذکر ہوچکا ہے، بیرونی علاج یا مدد کی ضرورت ہے یا کہ سکتے ہیں کہ دوسرے کے سہارے کی ضرورت ہےاور عملی اصلاح کیلئے یہ سہارا دو قسم کا ہوتا ہے یا دو قسم کے سہاروں کی ضرورت ہے ،ایک نگرانی کی اور دوسرا جبر۔ دوسری بات جو اصلاح کیلئے ضروری ہے،جبر ہے، یہاں کسی کے دل میں یہ خیال پیدا ہوسکتا ہے کہ ایک طرف تو ہم کہتے ہیں کہ دین کے معاملے میں جبر نہیں ہے ، دوسری طرف عملی اصلاح کیلئے جو علاج تجویز کیا جا رہا ہے وہ جبر ہے ، پس واضح ہو کہ یہ جبر دین قبول کرنے یا دین چھوڑنے کے بارہ میں نہیں ہے، ہر ایک آزاد ہے جس دین کو چاہے اختیار کرے اور جس دین کو چاہے چھوڑ دے ، اسلام تو بڑا واضح طور ہر یہ اختیار دیتا ہے، یہاں جبر یہ ہے کہ دین کی طرف منسوب ہو کر پھر اس کے قواعدپر عمل نہ کرنا اور اسے توڑنا، ایک طرف تو اپنے آپ کو نظام جماعت کا حصہ کہنا اور پھر نظام کے قواعد کو توڑنا۔ پس ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ نیک اعمال بجا لانے کی عادت ڈالنے کیلئے مختلف ذرائع اختیار کرنے پڑتے ہیں ، بغیر ان ذرائع کو اختیار کئے اصلاح اعمال میں کامیابی نہیں ہوسکتی، پس ان ذرائع کا استعمال انتہائی ضروری ہے، یعنی ایمان کا پیدا کرنا، علم صحیح کا پیدا کرنا، ان باتوں کا گزشتہ خطبہ میں ذکر ہوگیا تھا، اور نگرانی کرنا اور جبر کرنا جن کا حضور نے ابھی ذکر فرمایا ہے ، قوت عملی پیدا کرنے کے ضمن میں ، یہ چار چیزیں ہیں جن کے بغیر اصلاح مشکل ہے، جب ہم گہرائی میں جائزہ لیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ دنیا میں ایک طبقہ ایسا ہے جو ایمانی قوت اپنے اندر نہیں رکھتا، یعنی وہ معیار نہیں رکھتا جو اصلاح عمل کیلئے ایک انسان میں ہونا ضروری ہے۔ پس بیشک وفات مسیح، ختم نبوت یا دوسرے مسائل جو ہیں جن کا اعتقاد سے تعلق ہے، ان کا علم ہونا تو بہت ضروری ہے اور ان پر دلیل کے ساتھ قائم رہنا بھی ضروری ہےبغیر دلیل کے نہیں لیکن عملی اصلاح کیلئے ہمیں خداتعالیٰ سے تعلق جوڑنا ہوگا اور اس کیلئے وہ ذرائع اپنانے ہونگے جو اس زمانے میں حضرت مسیح موعودؑ نے ہمیں دکھائے ، ہمیں اپنے قول و فعل کے تضاد کو ختم کرنا ہوگا جو ہم دوسروں کو کہیں اس کے بارہ میں اپنے بھی جائزے لیں۔ حضرت مصلح موعودؓ نے ایک مثال دی ہے کہ اگر سورج چڑھا ہوا ہو اور کوئی کہے کہ تمہارے پاس کیا دلیل ہے کہ سورج چڑھا ہوا ہے تو دوسرا اسے سورج کے چڑھنے کی دلیلیں دینا شروع کر دے تو وہ دلیل دینے والا بھی احمق ہی ہوگا ، اس کا سادہ علاج تو یہ تھا کہ سورج کی دلیل پوچھنے والی کی ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھ کر اس کا منہ اونچا کرتا اور کہتا وہ سورج ہے دیکھ لو، پس اس وقت خدا تعالیٰ بھی ہمارے سامنے جلوہ گر ہے، وہ بھی عریاں ہو کر اپنی تمام صفات کے ساتھ دنیا کے سامنے رونماہو گیا ہے اور حضرت مسیح موعودؑ کے ذریعے و ہ اپنے سارے حسن کے ساتھ جلوہ نما ہے۔ اپنے آپ کو حضرت مسیح موعودؑ سے جوڑ کر پھر خلافت سے کامل اطاعت کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، یہی چیز ہے جو جماعت میں مضبوطی اور روحانیت میں ترقی کا باعث بنے گی، خلافت کی پہچان اور اس کا صحیح علم اور ادراک اس طرح جماعت میں پیدا ہو جانا چاہئے کہ خلیفہ وقت کے ہر فیصلے کو بخوشی قبول کرنے والے ہوں اور کسی قسم کی روک دل میں پیدا نہ ہو، کسی بات کو سن کر انقباض نہ ہو۔ آخر پر حضرت خلیفۃ المسیح نے اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی جس نے ہر حقیقی مومن کو بے چین کردیا ہوا ہے آج کل اور وہ ہے مسلمان ممالک کی قابل رحم حالت ، آج مسلم امہ کو آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق کے ماننے والوں کی دعاؤں کی بہت ضرورت ہے، پس یہ ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم اس کیلئے بہت دعا کریں ، سیریا کے حالات بد سے بدتر ہورہے ہیں، حکومت نے بھی ظلموں کی انتہا کی ہوئی ہے اور حکومت مخالف گروپ نے بھی ظلم کی انتہا کی ہوئی ہے۔"

Last Friday sermon dealt with instilling strength of resolve and removing lack of knowledge. The third aspect, that is, the way to remove weakness in implementing matters or how to enhance capacity in implementing matters was not dealt with. This was expounded today. As explained earlier, external remedy or help and outside support is needed for this third aspect. The outside support needed is of two kinds: supervision and compulsion. The second necessary matter for reformation is compulsion. Some may think that while there is no compulsion in matters of faith, here compulsion is being recommended for reformation. It should be clear that there should be no compulsion in accepting or giving up faith. In Islam one has the freedom to accept faith or give it up. But there is compulsion once one associates with faith and then breaks its rules and regulations. It should be remembered that different means have to be used for inculcating doing of good works and utilising these means is extremely important. These means are, instilling faith, instilling correct knowledge and to supervise and use compulsion. Reformation is difficult without these four aspects. If we look deeply we find out that there is a section of people in the world which does not have the level of strength of faith required for reformation. There is no doubt that it is very important to have knowledge of subjects like death of Hazrat Isa(as) and finality of Prophethood and it is also important to stay firm on them with proofs and reasoning. Yet, in practical terms, we have to instil a connection with God and for this we have to adopt those ways and means which the Promised Messiah(as) taught us. We will have to remove any discrepancy in our word and deed, and while taking the message to others, we should also self-reflect. Hazrat Musleh Maud(ra) said that if the sun is out and someone asks for proof of the existence of the sun and another person starts giving him proofs, then the person giving proofs is indeed foolish. The simple way to resolve this is to turn the chin of the questioner towards the sun and say, ‘look there’. God too is resplendent in front of us. He has uncovered Himself before the world and through the Promised Messiah(as) all His beauties are evident. It is greatly needed to attach oneself to the Promised Messiah(as) and then completely obey Khilafat. This is what will become a source of strength and spiritual development of the Jama’at. Recognition of Khilafat and its correct awareness and perception should be so instilled in the Jama’at that it should happily accept every decision of the Khalifa of the time and have no doubt about it. Next Hazrat Khalifatul Masih said he would also like to draw attention to a matter which has caused anxiety for every true believer, that is, the pitiful condition of Muslim countries. These days the Muslim Ummah is in great need of the prayers of the followers of the true and ardent devotee of the Holy Prophet(saw). It is our duty to pray abundantly. The situation in Syria is getting from bad to worse.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
24-Jan-2014   Urdu (mp3)English (mp3)Arabic (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Reformation: A Collective Responsibility & Effort
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

اصلاح کے ذرائع کا جو سب سے پہلا حصہ ہے جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے وہ قوت ارادی کی مضبوطی ہے یا دوسرے لفظوں میں ایمان ہے جس کے پیدا کرنے کیلئے انبیاء دنیا میں آتے ہیں اور تازہ اور زندہ معجزات دکھاتے ہیں وہ انبیاء، حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ہماری جماعت کے پاس تو اﷲتعالیٰ کے تازہ بتازہ نشانات کا اتنا وافر حصہ ہے کہ اتنا سامان کہ اس سامان کے قریب قریب بھی کسی اور کے پاس موجود نہیں، اور اسلام کے باہر کوئی مذہب دنیا میں ایسا نہیں جس کے پاس خداتعالیٰ کا تازہ بتازہ کلام ، اس کے زندہ معجزات یااس کی ہستی کا مشاہدہ کرانے والے نشانات موجود ہوں، جو انسانی قلوب کو ہر قسم کی آلائشوں سےصاف کرتے اور اﷲتعالیٰ کی معرفت سے لبریز کردیتے ہیں ۔ کیا وجہ ہے کہ وفات مسیح پر جس شد و مد سے تقریریں کرتے ہیں یا معترضین کے اعتراضات پر حوالوں کے حوالے نکال کر ان معترضین کے بزرگوں کے اقوال ہیں معترضین کے سامنے پیش کرتے ہیں اور انکا منہ بند کر دیتے ہیں، اتنی کوشش جماعت کے افراد کے سامنے، جماعت کی صحیح تعلیم پیش کرنے کی نہیں ہوئی یا کم از کم جماعت کی طرف سے نہیں ہوتی، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہماری جماعت میں ایسے لوگ تو مل جائیں گے جو وفات مسیح کے دلائل جانتے ہیں، یا مولوی کے اعتراضات کے منہ توڑ جواب دے سکتے ہوں۔ ہمیں اس بات کو جاننے کی ضرورت ہے اور جائزے کی ضرورت ہے کہ ہم دیکھیں کہ ہم میں سے کتنے ہیں کہ اﷲتعالیٰ کی عبادت کریں، رمضان میں ایک مہینہ نہیں یا ایک مرتبہ اعتکاف بیٹھ کر پھر سارا سال یا کئی سال اس کا اظہار کر کے نہیں بلکہ مستقل مزاجی سے اس شوق اور لگن کو اپنے اوپر لاگو کر کے تاکہ اﷲتعالیٰ کا قرب مستقل طور پر حاصل ہو، ہم میں سے کتنے ہیں جن سے اﷲتعالیٰ پیار کا سلوک کرتے ہوئے دعاؤں کی قبولیت کے نشان دکھاتا ہے، حضرت مسیح موعودؑ کو مان کر یہ معیار حاصل کرنے کی کوشش کرنا ہر احمدی کا فرض ہے پس یہی وہ انقلاب ہے جو احیاء نو کا حضرت مسیح موعودؑ پیدا کرنے آئے تھے۔ لوگ دنیاوی باتوں میں نقل کرتے ہیں اور اس کے حصول کیلئے یا تو عزت نفس کو داؤ پر لگا دیتے ہیں یا دیوالیہ ہو کر اپنی جائیداد سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں یعنی دنیاوی باتوں کی نقل میں فائدے کم اور نقصان زیادہ ہیں لیکن دین کے معاملے میں نقل اور ویسا بننے کی کوشش جیسا حضر ت مسیح موعودؑ نے ہمارے سامنے اس زمانے میں نمونہ پیش فرمایا ہے، بلکہ ہم میں سے بہت سوں نے ان صحابہؓ کو بھی دیکھا ہوا ہے جنہوں نے قرب الٰہی کے نمونے قائم کئے، ان کی نقل کی کوشش ہم نہیں کرتے بلکہ نقصان کا تو یہاں سوال ہی نہیں پیدا ہوتا بلکہ فائدہ ہی فائدہ ہے اور فائدہ بھی ایسا ہے جس کو کسی پیمانے سے ناپا نہیں جا سکتا ، پس کیا وجہ ہے ہم اس نقل کی کوشش نہیں کرتے؟ ہمارے مبلغ کرغزستان نے لکھا ہے کہ ایک بزرگ احمدی مکرم عمر صاحب جنہوں نے ۱۰ جون 2002 کو بیعت کی تھی، 58 برس انکی عمر ہے، پیدائشی مسلمان تھےلیکن کمیونسٹ نظریات کے حامی تھے، کہتے ہیں جس دن خاکسار نے بیعت کیلئے خط لکھا وہ دن درحقیقت خاکسار کی زندگی کا یاد گار دن تھااور میں اس دن کو اپنی نئی پیدائش سے تعبیر کرتا ہوں، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس سے پہلے میں ہر قسم کی دینی جماعتوں کے پاس گیا مگر میری زندگی میں کوئی خاص تبدیلی پیدا نہیں ہوسکی جبکہ بیعت کے بعد میری زندگی میں حقیقی روحانی انقلاب برپا ہوگیا تھا۔ دوسری چیز عملی اصلاح کیلئے علمی قوت ہے یا علم کا ہونا ہے، غلطی سے یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ کچھ گناہ بڑے ہوتے ہیں اور کچھ گناہ چھوٹے ہوتے ہیں، اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جن گناہوں کو انسان چھوٹا سمجھ رہا ہوتا ہے وہ گناہ اس کے دل و دماغ میں بیٹھ جاتے ہیں، کہ یہ تو کوئی گناہ ہے ہی نہیں، چھوٹی سی بات ہے، یہ ایسا گناہ ہے جس کے بارے میں زیادہ باز پرس نہیں ہوگی، خود ہی تصور کر لیتا ہے انسان، گزشتہ خطبات میں حضور نے توجہ دلائی تھی کہ سیاسی پناہ لینے والے لوگ ، وہ بھی جہاں آکر غلط بیانی کرتے ہیں تو اپنا کیس منظور کروانے کیلئے جھوٹ کافائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں تو حقیقت میں وہ اپنا کیس خراب کر رہے ہوتے ہیں اور نہ صرف اپنا کیس خراب کر رہے ہوتے ہیں بلکہ جماعت کی ساکھ پر بھی حرف آ رہا ہوتا ہے۔ نواب بی بی صاحبہ کی وفات، عبدالرشید شرما صاحب کی وفات۔

The first source of reformation of practices is strength of resolve or strength of faith. Prophets of God come to inculcate this; they demonstrate fresh and living signs of God. Hazrat Musleh Maud(ra) said that the abundance with which our Jama’at has fresh signs of God before it is matchless. There is no other religion apart from Islam with signs of ever-fresh Word of God, living miracles and signs demonstrating the existence of God which cleanse human hearts from all kind of adulteration and grant it knowledge and closeness of God. Why is it that we can debate the matter of death of Jesus(as) in minute detail and can produce reference upon reference before the detractors and silence them but similar effort has not been made by the religious scholars of the Jama’at to present the correct teaching of the Jama’at before it! As a result, there are people in the Jama’at who can respond to the matter of death of Jesus(as) very well and can respond to objections raised by Maulwis. We need to find out and analyse how many of us are eager as regards worship of God! Not just in Ramadan, or sit Itikaf in Ramadan and simply relate it for the rest of the year. Rather, by making this love of worship a part of our life throughout the year so that we have nearness of God on a permanent basis. How many of us experience acceptance of prayers through God’s love and to whom He speaks? Having accepted the Promised Messiah(as), it is the obligation of every Ahmadi to try and attain this level for he came to bring about this very revival of Islam. In terms of worldly matters people copy and emulate others but we do not emulate and copy in religious matters. We do not emulate the model of the Promised Messiah(as) and his companions in doing which there is no question of incurring any loss, in fact there is immeasurable gain! What is the reason then, that we do not emulate these models? Our missionary from Kyrgyzstan writes that an Umer Sahib who is now 58 years old took his Bai’at in 2002. He was a born Muslim but held communist views. Umer Sahib says that the day he took his Bai’at was a memorable day which he equates to a new birth. He had tried many other religious communities but found no change in himself. Since taking Bai’at he has undergone a spiritual revolutionary change. The second factor for reformation of practices is strength of knowledge or having knowledge. Sometimes it is erroneously thought that some sins are big and others small. As a result it gets embedded in one’s heart and mind that some sins are small and inconsequential. Attention was drawn in a recent sermon that some asylum seekers make false submissions in their cases. Not only do they harm their own case, they are also a cause of disrepute of the Jama’at. Death of Nawab Bibi Sahiba and Sheikh Abdul Rasheed Sherma Sahib.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
17-Jan-2014   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Self-Reformation: Resolve, Faith & Rehabilitation
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Latin American Spanish | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

عملی اصلاح کیلئے جن تین چیزوں کی ضرورت ہے، ان میں سب سے پہلی قوت ارادی ہے، یہ قوت ارادی کیا چیز ہے ؟ ہم میں سے بعض کے نزدیک یہ عجیب بات ہوگی کہ قوت ارادی کے بارہ میں کہا جا رہا ہے کہ یہ کیاچیز ہے، اکثر یہ کہیں گے کہ قوت ارادی کے جو اپنے الفاظ ہیں ان سے ہی یہ ظاہر ہے کہ مضبوط ارادے اور اسے انجام دینےکی قوت ہے، یہاں یہ سوال اٹھانے کی کیا ضرورت ہے کہ یہ قوت ارادی کیا چیز ہے؟ اس بارے میں واضح ہونا چاہئے اور حضرت مصلح موعودؓ نے بڑے احسن رنگ میں اس کا بیان فرمایا ہے کہ قوت ارادی کا مفہوم عمل کے لحاظ سے ہر جگہ بدل جاتا ہے، پس یہ بنیادی بات ہمیں اپنے سامنے رکھنی چاہئے اور جب یہ بات اپنے سامنے رکھیں گے تو پھر ہی اس نہج پر سوچ سکتے ہیں کہ دین کے معاملے میں قوت ارادی ایمان کا نام ہے۔ صحابہؓ شراب پیا کرتے تھے اور جب اس کا نشہ چڑھتا ہے تو کیا حالت انسان کی بنا دیتا ہے، ان (مغربی)ملکوں میں رہنے والے یہاں شرابیوں کے نمونے اکثر دیکھتے رہتے ہیں، ہماری مسجد فضل کی سڑکوں پر بھی ایک شرابی پھرتا ہے اور اس کے پاس سوائے شراب کے ٹین کے اور کچھ نہیں ہوتا، گندے کپڑے لیکن شراب خرید لیتا ہے، حضور کو یہ بھی پتہ چلا ہے کہ وہ پڑھا لکھا ہے اور شاید کسی زمانے میں انجینیئر بھی تھا، بہرحال اب تو کام کچھ نہیں کرتا، ویسے بھی اس کی عمر ایسی ہی ہے، حکومت سے جوکچھ خرچہ ملتا ہو اس کو سب شراب پہ خرچ کر دیتا ہے۔ چند صحابہؓ ایک مکان میں بیٹھے ہوئے تھے، دروازے بند تھے اور یہ سب شراب پی رہے تھے اور ابھی شراب کی ممانعت کا حکم اس وقت نازل نہیں ہوا تھا، اور شراب پینے میں کوئی ہچکچاہٹ بھی نہیں تھی، جتنا جس کا دل چاہتا تھا پیتا تھا، نشے میں بھی آجاتے تھے، شراب کا ایک مٹکا اس مجلس میں بیٹھے لوگوں نے خالی کردیا اور دوسرا شروع کرنے لگے تھے، اتنے میں گلی سے آواز آئی کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ مجھے خداتعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ آج سے مسلمانوں پر شراب حرام کی جاتی ہے۔ امریکہ میں ایک زمانے میں کھلے عام شراب کی ممانعت کی کوشش ہوئی جس کیلئے لوگوں نےدوسرا طریقہ استعمال کیا کہ سپرٹ پینے شروع کر دیئے اور سپرٹ پینے کے نقصانات بھی بہت زیادہ ہیں اور اس کی وجہ سے لوگ مرنے لگے، حضر ت مصلح موعودؓ نے لکھا ہے ایمان نہیں تھا اس لئے یہ دنیاوی قانون کی کوشش کامیاب نہیں ہوسکی، حکومت نے پھر قانون بنایا کہ اگر ڈاکٹر اجازت دیں تو پھر شراب ملے گی، تو اس کا نتیجہ کیا نکلا کہ ہزاروں ڈاکٹروں نے اپنی آمدنیاں بڑھانے کیلئے غلط سرٹیفکیٹ جاری کرنے شروع کر دئیے، ایسے ڈاکٹر جن کی پریکٹس نہیں چلتی تھی، اس کی اسی طرح آمدنی شروع ہوگئی، آخر وقت ایسا آیا کہ قانون کو گھٹنے ٹیکنے پڑے۔ بہرحال واضح ہو کہ قوت عملیہ کی کمی یا نہ ہونے کے بھی بعض اسباب ہیں، مثلا ایک سبب عادت ہے، ایک شخص میں قوت ارادی بھی ہوتی ہے ، علم بھی ہوتا ہے لیکن عادت کی وجہ سے مجبور ہو کروہ عمل میں کمزوری دکھا رہا ہوتا ہے، یا ایک شخص جانتا ہے کہ خداتعالیٰ کا قرب حاصل ہوسکتا ہے لیکن مادی اشیاء کیلئے جذبات محبت یا مادی نقصان کے خوف سے جذبات خوف غالب آتے ہیں اور اﷲتعالیٰ کا قرب حاصل کرنے سے انسان محروم رہ جاتا ہے، ایسے لوگوں کیلئے اندرونی کے بجائے بیرونی علاج کی ضرورت ہے،اس کیلئے صحیح سہارے کی ضرورت ہے۔ بہرحال یہ تینوں قسم کے لوگ دنیا میں موجود ہیں اور دنیا میں یہ بیماریاں بھی موجود ہیں، بعض ایسے لوگ ہیں جن کی عمل کی کمزوری کی وجہ ایمان میں کامل نہ ہونا ہے، بعض لوگ ایسے جن میں عمل کی کمزوری اس وجہ سے ہے کہ ان کا علم کامل نہیں ہے، کچھ لوگ ایسے ہوتے جو ایمان اور علم رکھتے ہیں لیکن دوسرے ذرائع سے ان پر ایسا زنگ لگ جاتا ہے کہ دونوں علاج ان کیلئے کافی نہیں ہوتےاور بیرونی علاج کی ضرورت ہوتی ہے، کسی سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ارسلان سرور صاحب کی راولپنڈی پاکستان میں شہادت۔

As we have established, the first thing needed for reformation of practices is strength of resolve. What is strength of resolve? Many will say strength of resolve is self-explanatory, it is obviously the strength to resolve and conclude something, then why the question! Let it be clear, as Hazrat Musleh Maud(ra) has beautifully explained, that the connotation of strength of resolve alters in accordance with the action it is about. With this basic point in mind, we can appreciate that in religious matters strength of resolve is iman (belief). The Companions used to drink alcohol and we know what alcohol does to people. Those living in these [Western] countries often see drunks out and about. There is a drunk who roams the streets around our Fazl Mosque. He carries nothing but cans of alcoholic drinks and his clothes are filthy. Huzoor came to know that he is an educated man who perhaps once was an engineer. He does not work now, is perhaps of pensionable age. A Tradition relates that once before the commandment regarding prohibition of alcohol was revealed, Companions were drinking in a house. They had emptied one pitcher of alcohol and were about to open the second when a voice came from the street that the Holy Prophet(saw) had said that God had commanded him that consumption of alcohol was prohibited for Muslims from that day onwards. There was a time when effort was made to prohibit public consumption of alcohol in USA. It turned people to consume spirits which is harmful and people started dying. Hazrat Musleh Maud(ra) wrote that because there was lack of faith the worldly law did not work. The government then passed a law which made alcohol available on doctor’s permission justifying its use. As a result thousands of doctors started writing bogus certificates to boost their income until the law had to capitulate. Let it be clear that there are some reasons for weakness in capacity to implement matters. For example, habit. A person may have strength of resolve and also knowledge but owing to his habit, he shows weakness in his practice. A person knows that God’s nearness and love can be attained, but his love for material things or fear of material loss is overpowering and he is thus deprived of God’s love and nearness. For such people external rather than internal remedy is required and it alone can bring betterment to their capacity to implement matters. In any case there are three types of people in this world and there are [spiritual] ailments. There are people whose practices are weak because their faith is not complete. There are people whose practices are weak because their knowledge is not complete and then there are people who have faith and knowledge but their hearts are so corroded that both these aspects are not sufficient and they need support. Martyrdom of Arsalan Sarwar in Rawalpindi, Pakistan.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
10-Jan-2014   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)Dutch (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Knowledge and Will Power for Practical Reformation
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Latin American Spanish | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

پس اگر ہم نے حضرت مسیح موعودؑ کے مشن میں کار آمد ہونا ہے، آپؑ کے مقصدکو پورا کرنے والا بنانا ہے، تو یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ ہم میں سے ہر ایک اپنی عملی اصلاح کی روکوں کو دور کرنے کی بھرپور کوشش کرے، کیونکہ یہ عملی اصلاح ہی دوسروں کی توجہ ہماری طرف پھیرے گی اور نتیجۃ ہم حضرت مسیح موعودؑ کے مشن میں معد و معاون بن سکیں گے، پس ہمیں سوچنا چاہئے کہ اس کے حصول کیلئے ہم نے کیا کرنا ہےکیونکہ ہمارے غالب آنے کا بہت بڑا ہتھیار عملی اصلاح بھی ہے۔ حضر ت مصلح موعودؓ نے مثال دی ہے کہ مغربی معاشرے میں ناچ کا رواج ہے، یہ حضرت مصلح موعودؓ کے زمانہ میں اتنا عام نہیں تھا یا کم از کم اس کیلئے خاص جگہوں پر جانا پڑتا تھا، آجکل تو ٹی وی اور انٹرنیٹ نے ہر جگہ یہ پہنچا دیا ہے،اور گھروں میں ہی تفریح کے نام پر بعض گھروں میں ناچ کے اڈے بن گئے ہیں اور بعض گھریلو فنکشن پر بھی یہ ناچ وغیرہ ہوتے ہیں، خاص طور پر شادیوں کے موقع پر تفریح اور خوشی کے نام پر بیہودہ ناچ کئے جاتے ہیں، ایک احمدی گھر کو اس سے بالکل پاک ہونا چاہئے، اس پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ جب ہم جائزہ لیتے ہیں اس پہلو سے کہ ہماری قوت ارادی کیسی ہے؟ تو ہمیں نظر آتا ہے جہاں تک ارادے کا تعلق ہے اس میں بہت کم نقص ہے ، کیونکہ ارادے کے طور پر جماعت کے تمام یا اکثر افراد ہی تقریبا یہ چاہتے ہیں کہ ان میں تقویٰ اور طہارت پیدا ہو، وہ اسلامی احکامات کی اشاعت کرسکیں، وہ اﷲتعالیٰ کی محبت اور قرب حاصل کر سکیں ، حضرت مصلح موعودؓ نے اس کی وضاحت یوں فرمائی ہے کہ یہ باتیں ثابت کرتی ہیں کہ ہماری قوت ارادی تو مضبوط ہے اور طاقت ور ہے پھر بھی نتائج صحیح نہیں نکلتے،تو پھر یقینا دو باتوں میں سے ایک بات ہے ، یا تو یہ کہ عمل کیلئے حقیقی قوت ارادی جو چاہئے، اتنی ہمارے اندر نہیں ہے، لیکن عقیدے کی اصلاح کیلئے جتنی قوت ارادی کی ضرورت تھی وہ ہم میں موجود تھی۔ حضرت مصلح موعودؓ نے ایک بات یہ بھی بیان فرمائی کہ اﷲتعالیٰ نے ہر انسان میں ایک قوت موازنہ رکھی ہے، جس سے وہ موازنہ کر سکتا ہے دو چیزوں کے درمیان، جو یہ فیصلہ کرتی ہے کہ فلاں کام کرنے کیلئے اتنی طاقت درکار ہےاور ساری طاقت انسان کے ہاتھ میں نہیں ہوتی بلکہ دماغ میں میں محفوظ ہوتی ہے، اسلئے پہلی دفعہ جب ایک کام نہ ہو جیسے وزن اٹھانے کی مثال دی گئی ہے، وزن نہ اٹھا یا جا سکے تو پھر انسان دماغ کو مزید طاقت بھیجنے کیلئے کہتا ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا : یہاں جو سیاسی پناہ لینے والے آتے ہیں، یہ پتہ نہیں کیوں ، اکثریت کے ذہنوں میں یہ بات راسخ ہوگئی ہے کہ لمبی کہانی بنائے بغیر اور جھوٹی کہانی بنائے بغیر ہمارے کیس پاس نہیں ہونگے، حالانکہ کئی مرتبہ حضور فرماچکے ہیں کہ اگر مختصر اور صحیح بات کی جائے تو کیس جلدی پاس ہو جاتے ہیں، کئی مثالیں ہیں ایسی میرے سامنے ، کئی لوگوں نے مجھے بتایا ہےکہ انہوں نے مختصر اور سچی بات کی ہے اور چند دنوں میں کیس پاس ہو گیا۔ ان سب باتوں کا خلاصہ یہ بنے گا کہ عملی اصلاح کیلئے ہمیں تین چیزوں کی ضرورت ہے، پہلے قوت ارادی کی طاقت کہ وہ بڑے بڑے کام کرنے کی اہل ہو، علم کی زیادتی کہ ہماری قوت ارادی اپنی ذمہ داری کو محسوس کرتی رہے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط اور صحیح کی تائید کرنی ہے اور اس پر عمل کرنے کیلئے پورا زور لگانا ہے، غفلت میں رہ کر انسان مواقع نہ گنوا دے، تیسرے قوت عملیہ کی طاقت کہ ہمارے اعضاء ہمارے ارادے کے تابع چلیں، بد ارادوں کے نہیں، نیک ارادوں کے اور اس کا حکم ماننے سے انکار نہ کریں، یہ باتیں گناہوں سے نکالنے اور اعمال کی اصلاح کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ ماسٹر مشرق علی صاحب کی قادیان ، انڈیا میں وفات۔

Wishing to be useful to the mission of the Promised Messiah(as) can only be made possible when each one of us tries our utmost to remove the impediments to the reformation of our practices. Reformation of our practises alone will draw others to us and we will be able to help in the completion of the mission of the Promised Messiah(as). The strength to reform others can only come about after our own reformation. Hazrat Musleh Maud(ra) said that dancing is part of Western culture. Perhaps it was not as common in the time of Hazrat Musleh Maud as it is today through the agency of television and the internet. Some homes have been turned into dance houses. In some families dancing takes place in the name of entertainment during family functions, especially during weddings. Ahmadi families should be completely free of these practices and attention should be given to this matter. There is little wrong with our strength of resolve. Majority of the Jama’at wants to have Taqwa (righteousness) and purity, to disseminate the message of Islam and to attain the love and nearness of God. Hazrat Musleh Maud(ra) said that although our strength of resolve was strong it did not bring results. Perhaps there is not enough resolve to implement what is desired. Hazrat Musleh Maud(ra) said that God has given every individual the capacity to asses/compare which determines how much strength is required to do such and such tasks because there is muscular strength and then there is mental strength, just as it was illustrated in the example of a person lifting an object, whereby capacity to assess/compare was utilised. It is bewildering why many people who seek [political] asylum think that unless they concoct a story their case will not be successful. This is in spite of Hazrat Khalifatul Masih repeatedly mentioning that if the matter is explained briefly and correctly asylum cases are successful quickly. There are many examples of this when people have said that they made brief and correct statements and their cases were successful promptly. In summary, reformation of practice requires three things: strength of resolve which is capable of big things, abundance of knowledge so that our strength of resolve realises its responsibility as regards what is wrong and what is right and supports what is right and endeavours to follow it and not lose out due to ignorance. Thirdly, we need strength to implement matters so that our limbs follow our good intentions and do not reject what the good intentions order them to do. Death of Master Mashriq Ali Sahib in Qadian, India.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
03-Jan-2014   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)Dutch (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Progress of Ahmadiyyat in 2013, Financial Sacrifice and Waqf-e-Jadid
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Latin American Spanish
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا : سب سے پہلے میں آج آپ کو اور دنیا میں پھیلے تمام احمدیوں کو نئے سال کی مبارکباد دیتا ہوں، حضور کو بھی جماعتوں کی طرف سے بھی، اداروں کی طرف سے بھی، افراد کی طرف سے بھی مبارکباد کے پیغام آرہے ہیں، ان سب کو مبارک ہو اور تمام جماعت کو مبارک ہواور اس دعا کے ساتھ یہ مبارکباد ہے کہ اﷲتعالیٰ محض اور محض اپنے فضل سے پہلے سے بڑھ کر اس سال کو اپنی رحمتوں ، فضلوں اور برکتوں کا سال بنا دے۔ ہمارا صرف نئے سال کی رات کو اجتماعی نفل پڑھ لینا کافی نہیں ہے، اگر ہمیں ان نوافل کی ادائیگی کے ساتھ یہ احساس پیدا نہیں ہوتا کہ اب ہم نے حتی الوسع یہ کوشش کرنی ہے کہ نوافل کی ادائیگی کرتے رہیں، اپنی عبادت کے معیار کو بھی خدا تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے کیلئے بہتر بنانا ہے اور اپنی عملی زندگی میں ہر کام اﷲتعالیٰ کی رضا کے حصول کیلئے کرنے کی کوشش کرنی ہے۔ اﷲتعالیٰ کرے کہ ہمارے تمام عہدیدار یا خدمت سر انجام دینے والے بھی اپنے آپ میں یہ عاجزی انکساری اخلاص محنت اور دعا کی عادت پیدا کرنے والے ہوں اور پہلے سے بڑھ کر پیدا کرنے والے ہوں اور جب یہ ہو گا تبھی وہ یقینا خلیفہ وقت کے بھی سلطان نصیر بننے والے ہوں گے اور افراد جماعت بھی وفا کے ساتھ سلسلے کے کاموں کو ہر دوسرے کام پر مقدم کرنے والے ہوں، تاکہ ہم اﷲتعالیٰ کے فضلوں کے نظارے ہمیشہ دیکھتے چلے جانے والے ہوں۔ 2013 کے سال میں اﷲتعالیٰ کے فضل سے 136 باقاعدہ مساجد اور انڈیا میں چھوٹے چھوٹے گاؤں میں فوری طور پر عارضی مسجد یا شیڈ بنائے گئے ہیں لکڑی اور ٹین سے ان کی تعداد 22 ہے اور 258 نئی مساجد ملیں، یہ مساجد ا س طرح ملیں کہ جو تبلیغ کا کام جماعت کر رہی ہے اس کے ذریعے سے جو ائمہ شامل ہوئے جماعت میں ان کے ساتھ ان کی مساجد بھی آئیں اور لوگ بھی شامل ہوئے ۔ اسی طرح جرمنی کے دوروں کے دوران حضور نے مساجد کے سنگ بنیاد رکھے اور جلسہ میں شامل ہوئے ، تو وہاں اخباروں ، ریڈیو سٹیشن اور ٹی وی چینل نے جو کوریج دی ہے ، وہ صرف جرمنی تک ہی نہیں بلکہ آسٹریا اور سوئٹزرلینڈ کے مشترکہ ٹی وی چینل بھی تھے اور اس طرح مجموعی طور پر جو سفر جرمنی کے ہوئے چار ملین افراد تک پیغام پہنچا۔ دعاؤں کے ساتھ نئے سال کو بھر دیں، درود استغفار پر اس قدر توجہ دیں کہ اﷲتعالیٰ ہمیشہ ہم پر رحمت کی نظر ڈالتے ہوئے ، اپنے فضلوں کو ہم پر وسیع تر کرتا چلا جائے، دشمن کے مکروں کو ان پر الٹا دے، ہر مخالف کو اور ہر مخالفت کو ہوا میں اڑا دے، اﷲتعالیٰ کے فضل پہلے سے بڑھ کر ہم پر نازل ہوں، حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں دعا میں خدا تعالیٰ نے بڑی قوتیں رکھی ہیں،خدا تعالیٰ نے مجھے بار بار بذریعہ الہامات یہی فرمایا ہے کہ جو کچھ ہوگا دعا کے ذریعہ سےہی ہوگا۔ آج جنوری کا پہلا جمعہ ہے اور روایت کے مطابق وقف جدید کے نئے سال کا بھی اعلان اس جمعہ کو ہوتا ہے، اور گزشتہ سال جو اﷲتعالیٰ کے فضل ہوئے ہیں ان کا ذکر بھی ہوتا ہے، جو وقف جدید کے ذریعے اﷲتعالیٰ نے کئے اور کر رہا ہے، کچھ کا حضور نے ذکر کیا، افریقہ میں وقف جدید کے چندے کا بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے اور یہ بھی اﷲتعالیٰ کا فضل ہے کہ یہ ایک ذریعہ اس چندے کی رقم بن رہی تبلیغی میدان میں آگے بڑھنے کی، مساجد بنانے کی اور دوسرے چیزیں کرنے کی۔ یوسف لطیف صاحب کی بوسٹن امریکہ میں وفات۔

First, I wish to say to all of you and to all Ahmadis spread throughout the world, that may Allah bless the new year. I have been receiving such congratulatory, prayerful, mubarakbaad [blessings] messages from individual Ahmadis, from Jama’ats and from Ahmadiyya Jama’at institutions. May Allah bless this new year for them all and for all Jama’ats. It is not enough for us to get together and offer voluntary prayers in congregation on New Year’s night if we also do not develop the feeling that now we have to try, as far as possible, to continue to offer these voluntary prayers every night; and have to improve the standard of our worship to acquire the Grace of God; and have to try in our daily practical life to do everything with the sole motive of winning the pleasure of God. May Allah enable all our officeholders and those devoted to serving the Jama’at develop and adopt humility, lowliness and sincerity and become hard working and prayerful and daily more so than before. And when this happens then truly they will become the “sultanan naseera” - a helping power - for the Khalifa of the time also. And the members of the Jama’at also would then turn, with full loyalty, to attend to the work of the Jama’at giving such work preference over all other worldly tasks. In 2013, by the Grace of Allah, the Exalted, 136 mosques were built; and in India, in some small places, small temporary mosques or sheds have been constructed using wood and tin and these numbered 22. We were also blessed with 258 new mosques. We were given these 258 mosques in this way that the work of tabligh/outreach that the Jama’at is doing resulted in Imams joining us and they brought these mosques also with them and the people also joined. Similarly, during the trips to Germany, I placed the foundation stones of two mosques and joined in their Jalsa and during these trips their newspapers and radio and tv stations provided us coverage that went well beyond the borders of Germany and reached Austria and Switzerland also since the tv channels who covered the events were jointly serving these countries also. And in this way, overall, during these journeys of Germany, the message reached some 4 million people. So fill the coming year with prayers. Pay so much attention to the recitation of durood and istighfar that Allah, the Exalted, casting always a glance of Mercy upon us, may continue to make more and more expansive the Grace that He has been bestowing upon us and turn the machinations of our enemies upon them themselves. May He wipe out and make extinct, every opponent and every opposition. May His Grace continue to descend upon us in greater measure every day. Today is the first Jumu’ah [Friday] of January and in keeping with tradition, the announcement of the new Waqf-e-Jadid year also happens on this Friday and the Grace of God that descended during the previous year by way of Waqf-e-Jadid and that continues to descend is also mentioned. Some of it I have already mentioned. Much of the Waqf-e-Jadid chanda [contributions] is used in Africa and this is another Grace of God that this chanda is enabling mosques to be made and tabligh to be carried out and for doing many other things. Death of Yusuf Lateef Sahib of Boston, USA.