In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Browse Al Islam

Archives of 2014 Friday Sermons

Delivered by the Head of the Ahmadiyya Muslim Community

Televised via Satellite by MTA International

Browser by year

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
17-Oct-2014   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Giving precedence to faith over worldly matters
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Persian | Malayalam
Summary by Wakil Ala: English
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
10-Oct-2014   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Worship, Anger-Management and Forgiveness
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam
Summary by Wakil Ala: English
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

نمازوں کے بارہ میں جب اﷲتعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ تم پر فرض ہیں ان کو ادا کرو تو ساتھ ہی بہت سی سہولتیں بھی دے دی ہیں، مثلا جو کسی وجہ سے کھڑا ہو کر نماز نہیں پڑھ سکتا اسے کہ دیا کہ بیٹھ کر پڑھ لو اور جو بیٹھ کر نہیں پڑھ سکتا بیماری کی وجہ سے یا کمزوری کی وجہ سے تو اسے کہ دیا کہ لیٹ کر پڑھ لو، پھر لیٹنے میں بھی کوئی شرط نہیں ہے کہ کسی خاص اندا ز سے لیٹنا ہے، سفر یا کوئی اور وقتی مجبوری ہے تو کہ دیا کہ قصر کر لو یا جمع کر لو، پس کوئی شخص اپنی کسی مجبوری کی وجہ سے یہ کہ ہی نہیں سکتا کہ نماز پڑھنا اس کیلئے ممکن نہیں۔ حضور نے فرمایا : میں اب دوسری بات کی طرف آتا ہوں یعنی اچھے اخلاق، اعلیٰ اخلا ق رکھنے والوں کا ایک بہت بڑا وصف سچائی کا اظہار ہے اور سچائی پر قائم رہنا ہے، ایک مومن کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ ہمیشہ سچائی پر قائم رہے گااور جھوٹ کے قریب بھی نہ پھٹکے اور یہ اسی صورت میں ممکن ہےکہ اگر جھوٹ سے انتہائی نفرت ہو،بعض لوگ کہ دیتے ہیں کہ میرا ارادہ تو نہیں تھا لیکن غلطی سے میرے منہ سے جھوٹ نکل گیا ، سیاسی پناہ لینے کیلئے لوگ کی دیتے ہیں کہ میرے منہ سے فلاں بات غلطی سے نکل گئی، بہرحال اﷲتعالیٰ بخشنے والا ہے، ایسے لوگوں کو معاف کردیتا ہےجن کو غلطی کا احساس ہو، لیکن اس صورت میں انہیں اپنے اس عمل پر اظہار ندامت کرنا بھی ضروری ہے۔ حضور نے فرمایا کہ وہ اکثر جماعت کو توجہ دلاتے رہتے ہیں کہ اپنی اخلاقی معیار بلند کرنے چاہئیں اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر اپنی اناؤں کے جالوں میں نہیں پھنسنا چاہئے ، جماعت کے ہر فرد کو کوشش کرنی چاہئے کہ وہ اخلاق اور انسانیت کا معیار بنیں، بے شک بعض اوقات ہم جذبات کا اظہار بھی کردیتے ہیں، غصہ آجاتا ہے ، یہ انسانی طبیعت ہے ، لیکن ایک مومن کو اﷲتعالیٰ نے کچھ حکم بھی دئیے ہوئے ہیں، ہمیں چاہئے کہ اپنی جذبات کو قابو میں رکھیں اور اﷲتعالیٰ کی منشاء کے ماتحت انہیں خرچ کریں ، حضور نے میاں بیوی کے معاملات کی مثال دی ہے تو دیکھیں کہ خطبہ نکاح میں اﷲتعالیٰ نے کس طرح تقویٰ کو سامنے رکھتے ہوئے مختلف احکام دیئے ہیں جن پر میاں بیوی دونوں کو عمل کرنا ضروری ہے۔ حضور نے فرمایا کہ میں پہلے بھی اس بارہ میں کہ چکا ہوں کہ میری کسی سے ذاتی دشمنی نہیں ہے ، بعض لوگ حضور کو گالیوں سے بھرے خطوط بھی لکھ دیتے ہیں ، ان کیلئے بھی کبھی میرے دل میں غصہ نہیں آیا ، ایسے لوگ کبھی اپنے نام نہیں لکھتے یا فرضی نام لکھتے ہیں، اگر وہ نام لکھ بھی دیں تو میں انہیں یقین دلاتا ہوں کہ اس بارہ میں ان پرکوئی کاروائی نہیں ہوگی بے شک گالیاں دیں، ہاں رحم ضرور آتا ہے ان پر اور مزید استغفار کا موقع حضور کو مل جاتا ہے، حضور کیلئے تو یہ فائدہ مند ہوتا ہے۔ پس احمدی معاشرے میں بھی غلط حرکات اور بداخلاقی کو برا سمجھنے اور روکنے کا احساس پیدا ہونا چاہئے اور جب سب کو یہ احساس پیدا ہوتو چند ایک بھی پھر اخلاق سے نہیں گرتے، پھر ہر ایک اپنا معیار اونچا کرنے کی کوشش کرتا ہے ، کسی ظالم کا ہمیں ساتھ نہیں دینا چاہئے ، ہمیں وہ طریق اختیار کرنا چاہئے جس کا ہمیں اﷲتعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے حکم دیا ہے، جس پر اس زمانے میں حضرت مسیح موعودؑ نے خاص طور پر زور دیا ہے ، ہمیں عفو، نرمی، درگزر اور محبت سے کام لینا چاہئے۔ آسیہ بیگم صاحبہ زوجہ چوہدری محمد عبدالرحمٰن صاحب مرحوم کی وفات۔

God has made Salat obligatory but has also given much expediency regarding it. For example, if someone cannot offer Salat standing up, they may do so sitting down. If they cannot offer Salat sitting down due to frailty or illness, they may do so lying down. And there is no stipulation as to how should one lay down. When one is travelling or there are any temporary constraints, Salat can be shortened or combined. In short no matter what no one can say that it is not possible to offer Salat under any circumstances. The other aspect is that of high morals. A main quality of those with high morals is honesty which is also an attribute of true believers. It is only possible to be this way when one abhors falsehood. People tell lies at various times in life and then say that they did not intend to say what was not true it was simply a slip of the tongue. Those who apply for asylum do this. God is Forgiving and pardons those who feel remorse at their mistake. Of course it is important that regret is shown in such matters. Huzoor said he often draws attention to raise our moral standards and not get entangled in egotism over trivial matters. Each member of the Jama’at should try and become a model of humanity. It is human nature to feel anger at times but God has commanded true believers to keep their emotions in check. As regards marital issues, in the Quranic verses recited during the Nikah sermon commandments have been given with righteousness in view and these commandments are essential for both husband and wife. Huzoor said: ‘I have spoken on this subject before that I do not have personal enmity with anyone. Some people write letters to me filled with abuse but I have never even felt any anger towards them. Their letters do not ever generate feelings of anger in me. Such people usually write anonymously or write under pseudonyms. Even if they wrote their names I assure them that no action will be taken against them in this regard even if they wrote abusive letters. Indeed, one feels sorry for them and I get extra opportunity to engage in Istighfar and this proves beneficial for me. Ahmadi society should also have a realisation to stop a wrong practice and immorality and to give advice about it and to eradicate it and to have a feeling of dislike for it. If everyone has this realisation then even the odd person does not indulge in immoral practices and everyone tries to raise their standard. We have to adopt that way which God and His Messenger commanded and which the Promised Messiah(as) has emphasised in this age. We should practice pardon, gentleness and love. Death of Asiya Begum Sahiba, wife of the late Chaudhry Muhammad Abdul Rahman Sahib.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
03-Oct-2014   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: The Ireland Visit
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam
Summary by Wakil Ala: English
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

آج حضور نے اپنے حالیہ دورہ آئرلینڈ کا ذکر کیا، حضور کے خطبہ جمعہ اور مسجد کے افتتاح کے موقع پر استقبالیہ میں حضور کے خطاب کا مہمانوں پر بہت مثبت اثر ہوا، احمدی احباب نے یہ پروگرام ایم ٹی اے پر دیکھے ہونگے، اس میں حضور نے اس اسلامی تعلیم کے حوالے سے کچھ باتیں کی تھیں اور عموما حضور غیروں کے سامنے اسی حوالے سے بات کیا کرتے ہیں ، جس کا غیروں پر غیر معمولی اثر ہوتا ہے، گال وے آئر لینڈ میں جو ہمارے مہمان آئے ہوئے تھے، ان پر بھی اثر ہوا۔ پانچ ممبران پارلیمنٹ جو ڈبلن میں حضور سے ملے تھے ، جمعہ کی رات کو مسجد کے افتتاح کے موقع پر ہونے والے استقبالیہ میں بھی آئے تھے، دوسرے مہمانوں میں پانچ سینیٹر، سٹی کونسل کے ممبران ، چیف سپرٹنڈنٹ گال وے پولیس ، بشپ گال وے کے نمائندے تھے، خود بھی بشپ ہیں یہ ، کونسلر، ڈاکٹر، استاد، انجینئر، وکیل وغیرہ تھے، بہرحال ایک اچھے ماحول میں یہ استقبالیہ بھی ہوا۔ حضور نے فرمایا : پاکستان میں یا دوسرے ممالک میں ہماری مسجدوں کو نقصان پہنچایا جارہا ہےاور یہ سب کچھ اسلام کے نام پر ہورہا ہے اور عیسائی دنیا اس بات پر فخر کر رہی ہے کہ آپ نے ہمارے شہر میں مسجد بنانے کا انتخاب کیا ہےاور اس بات کا اظہار کر ہے ہیں کہ ہر ایک کو عبادت کا حق ہے، انڈونیشیا میں ، پاکستان میں بعض جگہوں پر پولیس کی نگرانی میں تشدد کیا جاتاہے، عیسائی دنیا میں پولیس کے افسران کہ رہے ہیں کہ ہم ہر طرح کا تحفظ دینے کی بھرپور کوشش کریں گے ، یہ جو اسلام کے اخلاق ہیں بنیادی، ان کو ان لوگوں نے اپنا لیا اور ہمارے مسلمانوں کی اکثریت بھولتی جارہی ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: تعجب ہے کہ اﷲتعالیٰ حق کے چمکانے اور ہمارے اس سلسلے کی تائید میں اس قدر کثرت کے ساتھ زور دے رہا ہے پھر بھی ان لوگوں کی آنکھیں نہیں کھلتیں، فرمایا یہ بھی عادت اﷲ ہے کہ مکذبین کی تکذیب خداتعالیٰ کے نشانوں کو کھینچتی ہے، فرمایا کہ ایک دفعہ ایک مخالف نے مجھے خط لکھا کہ آپ کی مخالفت میں لوگوں نے کچھ کمی نہیں کی، مگر ایک بات کا جواب ہمیں نہیں آتا کہ باوجود اس مخالفت کے آپ ہر بات میں کامیاب ہی ہوتے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر روبینہ کریم صاحبہ زوجہ ڈاکٹر عبدالمعنم صاحب آف آئرلینڈ کی وفات، ڈاکٹر مبشر احمد کھوسہ صاحب شہید کی میر پور خاص میں شہادت، الحاجہ ناعمہ لطیف صاحبہ زوجہ الحاج جلال الدین لطیف صاحب کی وفات۔

Today Huzoor gave some details of how during Huzoor’s recent Irish tour Islamic teachings as explained by him during his Friday sermon and his address at a reception had positive effect on our guests in Galway. Huzoor said Ahmadis must have seen the broadcast of both the events on MTA. Furthermore Huzoor expounded Islamic teachings during interviews, talks with politicians and various well-versed people which were very well received. Five of the parliamentarians Huzoor met in Dublin also came to the Friday night reception in Galway which took place after the inauguration of the mosque. Other guests at the reception included five senators, members of the City Council, Chief Superintendent of Galway police, representative of the Bishop of Galway, who is also a Bishop in his own right, councillors, doctors, teachers, engineers, lawyers and others. The reception took place in a cordial atmosphere. Huzoor said in Pakistan and other countries our mosques are vandalised and desecrated and all this is done in the name of Islam and here in the Christian world people are honoured that we have chosen their city to build our mosque. In places like Indonesia and Pakistan extremist actions are taken against us in the presence of and with the backing of police but police of a Christian country is giving as assurance of safety! While these people have adopted the morals that Islam teaches, Muslims have abandoned them! The Promised Messiah(as) said: ‘It is amazing that eyes of these people are not opened even though Allah the Exalted is making the truth shine through abundantly and forcefully in support of our mission. It is also a way of Allah that the allegations of those who accuse others of falsehood attract His Signs.’ Promised Messiah also said: ‘Once an opponent wrote me a letter saying that people have not left any stone unturned in opposing you. But we do not understand one thing, which is that in spite of this opposition you succeed in everything!’ Death of Dr Rubina Karim Sahiba, wife of Dr Abdul Monim Sahib of Ireland and Martyrdom of Dr Mubasher Ahmad Khosa Shaheed in Mir Pur Khas, Death of Al Hajja Sister Naima Latif wife of Al Haaj Jalal ud Din Latif.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
26-Sep-2014   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: First Ireland Mosque: Abode of Peace and Worship for All
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

الحمدﷲ آج ہمیں آئرلینڈ میں جماعت احمدیہ مسلمہ کی پہلی مسجد میں جمعہ پڑھنے کی اﷲتعالیٰ توفیق عطا فرمارہا ہے، اﷲتعالیٰ اس مسجد کی تعمیر، اس کا قیام ہر لحاظ سے بابرکت فرمائے، گو یہ چھوٹی سی مسجد ہے لیکن اس بات کا اعلان ہے کہ مسیح محمدی کے ماننے والے یہاں سے خدائے واحد کی وحدانیت کا پانچ وقت اعلان کریں گے اور اس میں حاضر ہو کر خدائے واحد کی پانچ وقت عبادت بجا لائیں گے، اس مسجد سے اس آواز کو بلند کریں گے کہ مساجد تو اﷲتعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق کی ادائیگی کی جگہ ہے نہ کسی فتنہ و فساد کی آماجگاہ، یہ مساجد تو اس خدا کی عبادت کیلئے بنائی جاتی ہیں، جو رب العالمین ہے، جس نے تمام زمانوں کے انسانوں کیلئے اپنی ربوبیت کا اظہار کیا ہے۔ حضور نے فرمایا کہ حضور کو گزشتہ دنوں آئرلینڈ کے پالیمینٹیرین سے ملنے کا اتفاق ہوا، ان میں سے ایک کہنے لگے کہ جماعت احمدیہ جس طرح انسانیت کی قدریں قائم کرنے کیلئے اور امن کے قیام کیلئے کوششیں کرتی ہے، وہ دوسرے مسلمانوں میں نظر نہیں آتی اوریہ معلومات جماعت کے بارہ میں ، میں نے بڑی گہرائی میں جاکر لی ہیں، اور یہ سب معلومات لے کر اس بات کا خواہش مند ہوں کہ اب جماعت احمدیہ ڈبلن میں بھی جلد مسجد بنائے، تاکہ یہ محبت اور اعلیٰ قدروں کا پیغام اس شہر میں بھی پھیلے جو میرا شہر ہے۔ پس اس بات پر ہمیں خوش نہیں ہوجانا چاہئے کہ ہم نے یہاں مسجد بنالی اور آج یہاں ایم ٹی اے کے ذریعہ سے دنیا نے آپکی مسجد دیکھ لی، آپ بھی دنیا کوکہنے کے قابل ہوگئے کہ ہمارے پاس بھی مسجد ہے، ایک فنکشن شام کو بھی ہوجائے گا انشاءاﷲاور اس میں پڑھے لکھے طبقے کو آپکی مسجد دیکھنے کا موقع ملے گا یا یہ لوگ مسجد کی خوبصورتی کی تعریف کر دیں گے، یا مختلف وقتوں میں اس شہر سے یا دوسرے شہروں سے لوگ اس مسجد کو دیکھنے آئیں اور آپ خوش ہو جائیں اور آپ سمجھ لیں کہ ہم نے اپنا مقصد حاصل کرلیا۔ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ پس ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ جہاں احمدی احمدی کی حیثیت سے جانا جاتا ہے ، وہاں اس کی ذمہ داریاں بہت بڑھ جاتی ہیں، وہ احمدی نہیں رہتا بلکہ مسیح موعودکا نمائندہ بن جاتا ہے، اسی لئے حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا ہےکہ ہماری طرف منسوب ہو کر ہمیں بدنام نہ کرو، پس ایک احمدی کے کسی برے عمل کا اثر اس کی ذات تک نہیں رہتا بلکہ وہ حضرت مسیح موعودؑ کی ذات تک پہنچ جاتا ہے، یہ بہت اہم بات ہے جسے ہر احمدی کو اپنے بیش نظر رکھنا چاہئے اور جب یہ سب کچھ پیش نظر ہو گا تو ہر احمدی احمدیت کا سفیر بن جائے گا، ہر تعارف اس کو دنیا کی نظروں میں اتنا بڑھائے گا کہ وہ آپ کی طرف لپک کر آئے گا۔ لڑکیوں اور عورتوں سے مخاطب ہوتے ہوئے حضور نے فرمایا کہ اگر یہاں کے لوگ حضرت مریم ؑکی عزت کرتے ہیں اور صرف عزت ہی کرتے ہیں اور ان صفات کو اپنانے کی کوشش نہیں کرتےجو ان میں تھیں اور یہ ان کی کمزوری ہے، ایک حقیقی مسلمان مرد اور عورت کو حضرت مریم ؑکی طرح حضرت مریم ؑکا حقیقی فرمانبردار ہوتے ہوئے اﷲتعالیٰ کے حکموں پر چلنے کی کوشش کرنی چاہئےاور ان حکموں میں سے حیاء اور پردہ بھی ایک حکم ہے، جس کا قرآن شریف میں اﷲتعالیٰ نے ذکر کیا ہے پس اﷲتعالیٰ کی عبادت کے ساتھ اپنے حیا دار لباس کا بھی خیال رکھنا چاہئے۔ اس کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح نے مسجد کے چند کوائف پیش کئے، اس مسجد کا سنگ بنیاد حضور نے ستمبر 2010 میں رکھا تھا،زمین کا کل رقبہ 2400 مربع میٹر ہے، اس جگہ کو 2009 میں 515،000 یورو میں خریدا گیا تھا، اس کی تعمیر پر تقریبا 110،000 یورو لاگت آئی ہے، مین ہال اور دوسری جگہوں کو ملا کر تقریبا ۲۰۰ کے قریب نمازی نماز پڑھ سکتے ہیں، اس مسجد سے ملحقہ دو دفاتر بھی ہیں، 17 گاڑیوں کی پارکنگ کی گنجائش ہے۔

With the grace of God Muslim Jama’at Ahmadiyyat was enabled to inaugurate its first mosque in Ireland today. May God bless the building and establishment of this mosque in every way! Although the mosque is small in size, yet it announces that here followers of the Muhammadan Messiah will worship five times a day. This mosque will announce that a mosque is a place where dues of God and mankind are fulfilled and it is not a place for evil and disorder and it is built to worship Lord of all the worlds.The Lord who bestowed His Rububiyyat (Divine quality of sustaining and nurturing) on all the people of earlier times, Who bestows is today and shall continue to bestow it in future for always and ever. Huzoor said that he had the opportunity to meet some Irish Parliamentarians day before yesterday. One of them said to Huzoor that the efforts of the Ahmadiyya Jama’at for establishing human values and peace cannot be seen among other Muslims. He said that he had found this information by looking in great detail and he wished that the Jama’at also builds a mosque in Dublin so the love and the high values also spread in Dublin which is his city! We should not suffice on being delighted at having built a mosque and the fact that the world has seen it on MTA. A reception will be held this evening when academics and other guests will have the chance to see the mosque and they will praise the beauty of the mosque and at other times more people from this city and other cities may come to visit the mosque. You may be delighted that so many people have visited the mosque and thus you have attained your objective. This is not so. Addressing girls and women Huzoor said that if the people of Ireland only respected Hazrat Maryam but did not try to adopt her qualities, then this was weakness on their part. True Muslim men and women should try to become as truly obedient as Hazrat Maryam was and abide by commandments of God. One of these commandments is that of modesty and purdah as mentioned in the Holy Qur’an. Along with worship of God we should also be mindful of our modest clothing. Next Huzoor gave some facts and figures of Maryam Mosque. Its foundation stone was laid by Huzoor in September 2010. It is situated in a plot a little less than three quarters of an acre which was purchased in 2009 at a cost of €515,000 and a further €110,000 was spent on the building work. The mosque and the main hall combined have the capacity to hold 200 worshippers and parking facility is also available.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
19-Sep-2014   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Faith and Good Deeds
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

پس ایمان ایک جڑ کی طرح ہے، بیشک مسلمان ایک طرف دعویٰ کرتا ہے کہ میرا ایمان مضبوط ہے، اس کا اظہار ہم اکثر مسلمانوں میں دیکھتے ہیں، دین کی غیرت بھی رکھتے ہیں بہت سے لوگ، اسلام کے نام پر مرنے مارنے کیلئے تیار ہوجاتے ہیں، آج کل دو مختلف تنظیمیں بنی ہوئی ہیں، اپنے ایمان کی مضبوطی کے کیا کیا دعوے نہیں کرتے یہ لوگ لیکن کیا اس خوبصورت اور خوش نما درخت یا باغ کی طرح ہیں جو دنیا کو فائدہ دے رہا ہو۔ پس نرے ایمان کے دعوے اور اظہار اور اس کی جڑ کی مضبوطی کا اعلان کسی کام کا نہیں، جب تک اعمال صالحہ کی سرسبز شاخیں اور پھل خوبصورتی نہ دکھا رہی ہوں اور فیض نہ پہنچا رہی ہوں اور جب یہ خوبصورتی اور فیض رسانی ہو تو دنیا بھی متوجہ ہوتی ہے، اور اس کے گرد جمع بھی ہوتی ہے اور اس کی حفاظت کیلئے کوشش بھی کرتی ہے، اسی لئے اﷲتعالیٰ نے ہر مسلمان کو صرف ایمان میں مضبوطی کا نہیں کہا، بلکہ ایمان کو اعمال صالحہ کے ساتھ مشروط کیا ہے۔ بے شمار واقعات اب ایسے سامنے آتے ہیں کہ حقیقی اسلام کی خوبصورتی دیکھ کر لوگ حیرت زدہ رہ جاتے ہیں، افریقہ میں ایک جگہ ایک مسجد کا افتتاح ہو رہا تھا، وہاں کے ایک چیف عیسائی تھے ، ان کو بھی دعوت دی، وہ بھی شامل ہوئے اور کہنے لگے میں تم لوگوں کی محبت میں نہیں آیا یہاں ، میں تو یہ دیکھنے آیا تھا کہ اس زمانے میں یہ کون سے مسلمان ہیں جنہوں نے اپنی مسجد کے افتتاح پر ایک غیر مسلم اور عیسائی کو بھی بلایا ہے، یہاں آکر یہ دیکھ کر مجھے اور بھی حیرت ہوئی کہ یہاں تو مختلف مذاہب کے لوگ جمع ہیں۔ ہماری جماعت میں وہی داخل ہوتا ہے جو ہماری تعلیم کو اپنا دستور عمل قرار دیتا ہےاور اپنی ہمت اور کوشش کے موافق اس پر عمل کرتا ہے، لیکن جو محض نام رکھ کر تعلیم کے موافق عمل نہیں کرتا وہ یاد رکھے کہ خداتعالیٰ نے اس جماعت کو خاص جماعت بنانے کا ارادہ کیا ہےاور کوئی آدمی جو دراصل جماعت میں نہیں ہے، محض نام لکھانے سے جماعت میں نہیں رہ سکتا، اس پر کوئی نہ کوئی وقت ایسا آجائے گا کہ وہ الگ ہوجائے گا، اس لئے جہاں تک ہوسکے، اپنے اعمال کو اس تعلیم کے ماتحت کروجو دی جاتی ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: سمجھ لو ، جب تک تم میں عمل صالح نہ ہو صرف ماننا فائدہ نہیں کرتا، ایک طبیب نسخہ لکھ کر دیتا ہے تو اس سے مطلب ہوتا ہے جو کچھ اس میں لکھا ہے وہ لے کر اس سے پیوے، اگر وہ ان دواؤں کو استعمال نہ کرے اور نسخہ لے کر چھوڑے تو اس سے کیا فائدہ ہوگا، فرمایا کہ اس وقت تم نے توبہ کی ہے تو آئندہ خداتعالیٰ دیکھنا چاہتا ہے کہ اس توبہ سے تم نے اپنے آپ کو کتنا صاف کیا ہے؟ راشد احمد خان صاحب کی وفات۔

So, without a doubt, faith is like the root of a tree. And without a doubt a Muslim makes the claim that my faith is strong. We see this being expressed frequently by Muslims and they have a jealousy for the honor of the faith also. Many among them become ready to fight and kill or be killed for the sake of their faith. These days there are two different groups that have come into being and formed all sorts of organizations and all kinds of claims are made by them regarding the strength and firmness of their faith. So empty declarations and expressions of faith and of the strength of its roots serve no purpose until and unless the green and lush branches of good and virtuous conduct and the fruit of such branches is not visible with all its beauty and splendour and are not proving of benefit to the people. And when this beauty and beneficence is evident the world also is drawn to it and pays attention and gathers around it and puts forth its efforts to safeguard it. There are innumerable examples of this that come to pass that by seeing the beauty of true Islam people are left amazed and astounded. In Africa, in one place, a mosque was being inaugurated, a local Chief, who was a Christian, also had been invited, and so he participated. He said plainly that I have not because of my love for you, I only came to see that what type of Muslims are these, in this day and age, who have invited a non-Muslim and a Christian also to the inauguration of their mosque. Only such a one enters into our Jama’at who makes our teaching a guide for his actions and acts upon it to the best of his abilities and capacities. But he who is satisfied with just the name but fails to act upon the teaching he should remember that God Almighty has decided to make this Jama’at into a very special Jama’at and any person who in reality is not in the Jama’at cannot remain in the Jama’at by simply acquiring the name. A time shall come upon him sooner or later that he shall be separated from it. Understand that until you carry out good and virtuous deeds just believing does not bestow any benefits. A doctor writes a prescription and gives it to the patient and what is desired is that the patient should get what is written on it and consume it but if he does not make use of the medicines prescribed what benefit will he derive from the mere written prescription that he has with him? Death of Rashid Ahmad Khan Sahib.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
12-Sep-2014   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Ahmadiyyat: Faith Inspiring Events
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Persian | Malayalam
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

بعض پڑھے لکھے لوگوں اور بعض نوجوانوں میں بھی بعض اوقات خیال آ جاتا ہے کہ شاید کوئی واقعہ بڑھا چڑھا کر بیان ہو رہا ہو، لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ جو بھی بیان ہوتے ہیں واقعات ، یہ قصے کہانیاں نہیں، بلکہ حقائق ہیں، اﷲتعالیٰ کی طرف سے چلائی گئی ہوا کے چند نمونے ہیں جو میں آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں، ایسے بے شمار واقعات ہوتے ہیں جن میں سے چند ایک میں لکھتا ہوں، گزشتہ سال حضور نے فرمایا تھا کہ دوران سال بھی ایسے واقعات حضور بیان کرتے رہیں گے۔ ہالینڈ سے ایک 22 سال کے نوجوان لکھتے ہیں ، مجھے دین سے لگاؤ تھا لیکن کسی خاص مذہب کی طرف توجہ نہ تھی، مجھے روز بروز اس کا احساس ہوتا گیا کہ دنیا میں برائی پھیل گئی ہے، اس بات نے مجھے مجبور گیا اور میں زندگی کے مقصد کی تحقیق میں لگ گیا، میں نے بہت مطالعہ کیا اور دوستوں سے اس کے بارہ میں گفتگو کی، تحقیق کے دوران میرا دل اسلام کی طرف مائل ہونا شروع ہوگیا، اس حوالے سےمیں دو احمدی دوستوں کے ساتھ بھی گفتگو کرتا رہا، ان کے ساتھ جماعت کے سینٹر بھی گیا اور جماعتی ماحول بھی دیکھا، اس سے مجھ پر واضح ہوگیا کہ حقیقی اسلام احمدیت ہی ہے۔ مشن ہاؤس کے ڈرائیور کہتے ہیں کہ میری شادی ہوئے دو سال سے زائد کا عرصہ بیت چکا تھا اور کوئی اولاد نہ تھی، جب میں نے احمدیت کا نام نیا نیا سنا اور امام مہدی کے ظہور کی خبر میرے کانوں تک پہنچی ہی تھی، تو میں نے دعا کی کہ اگر واقعی مسیح و مہدی کا ظہور ہو چکا ہے اور مرزا غلام احمد صاحب ہی وہی امام مہدی ہیں تو مجھے اولاد کی نعمت سے بھی مالا مال فرمااور مسیح محمدی کے غلاموں میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرما، چنانچہ اﷲتعالیٰ نے میری دعا قبول فرمائی اور اسی ماہ میری اہلیہ امید سے ہوگئیں اور اب میری ایک بیٹی بھی ہے اور اب میری فیملی نے بیعت بھی کرلی۔ آسٹریلیا سے ہمارے مشنری لکھتے ہیں کہ ایک سکھ دوست زیر تبلیغ تھے، جلسہ سالانہ آسٹریلیا میں بھی شامل ہوئے، کافی تحقیق کے بعد ایک خواب کی بناء پر وہ احمدی ہوئے، انہوں نے مجھے فون کیا اور آواز بہت بھرائی ہوئی تھی، بات کرنا مشکل تھا اور رو پڑتے تھے، انہوں نے بتایا کہ تین دن پہلے خواب دیکھا کہ میں ایک ایسی جگہ ہوں جہاں بہت اندھیرا ہے، اس اندھیرے کی وجہ سے شدید گھبراہٹ ہے، ایسا لگتا ہے کہ سانس نہیں آئے گی، اتنے میں اچانک اندھیرے میں روشنی پیدا ہوئی اور اندھیرا روشنی میں بد ل گیا، ایک بزرگ میرے سامنے آکے کھڑے ہوگئے اور کہا کہ ان اندھیروں سے نکلنا ہے تو میرا ہاتھ پکڑ لو، میں نے جونہی ان کا ہاتھ پکڑا تو میری آنکھ کھل گئی۔ مصر سے ایک صاحب لکھتے ہیں کہ میں مصری نوجوان ہوں، تقریبا ایک سال قبل ایم ٹی اے کے ذریعہ جماعت سے تعارف ہوااور فرقہ ناجیہ کا یقین ہوگیا، میری بیعت قول کریں، کہتے ہیں ایک رات میں نے خدا سے رو رو کر استقامت کیلئے نشان مانگا، تو ایک رات انہوں نے اپنے آپ کو مجلس میں دیکھا اور وہاں حضور انور کو دیکھا اور حضور نے ایک چاندی کی انگوٹھی مجھے پہنائی جس پر قرانی آیت درج تھی ۔ امتہ الحمید صاحبہ زوجہ جمیل احمد صاحب کی جرمنی میں وفات۔

Some educated people as well as young people may wonder if the accounts of new-comers to Ahmadiyyat are somewhat overstated. It should be remembered that what Huzoor presents are not mere stories but are factual accounts and are instances of a Divine wave. There are indeed countless such accounts from which Huzoor but chooses a few. Huzoor said he had said last year that he would relate some of these accounts [apart from at Jalsa Salana] during the course of the year as well. A 22 year old young man from Holland says that he was always interested in spirituality but was not drawn to religion. He realised that evil was spreading rapidly in the world and this led him to study the objective of life. During his research his heart became inclined to Islam. He also had the chance to hold discussions with two Ahmadi friends of his. He visited the Jama’at, liked its atmosphere and it became evident to him that Ahmadiyyat indeed was true Islam. A driver of one of our mission houses writes that he had been married for two years but did not have any children. He had heard about Ahmadiyyat and also about the advent of the Promised Messiah(as). He prayed to God that if Imam Mahdi had truly come then he be blessed with a child and may he also become a follower of the Promised Messiah. His prayer was accepted. His wife fell pregnant the same month. He now has a daughter and has taken Bai’at. Our missionary from Australia writes that a Sikh who was under Tabligh accepted Ahmadiyyat Islam through a dream. Missionary Sahib received a telephone call from him sounding very emotional and hardly able to speak. He then related his dream of three days ago. He saw that he is a very dark place and is feeling suffocated and very anxious. Suddenly there is light and a holy person standing in front of him says if you wish to get out of the darkness hold my hand. He held the holy person’s hand and at this point he woke up! A person writes from Egypt that he is a young Egyptian who was introduced to the Jama’at a year ago through MTA and was convinced that this indeed was the truthful sect of Islam and requested that his Bai’at was accepted. One night he prayed in a heart-rending manner for steadfastness and for a sign. He saw a dream in which he is in an assembly where he sees Huzoor Anwer and Huzoor puts a silver ring which has a Quranic inscription on it on his finger. Death of Amatul Hameed Sahiba wife of Jameel Ahmad Sahb in Germany.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
05-Sep-2014   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Spiritual Benefits Jalsa Salana UK 2014
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

اﷲتعالیٰ کے فضل و کرم سے جلسے کا ماحول ایسا ماحول ہوتا ہے کہ ہر سعید فطرت پر یہ نیک اثر ڈالتا ہے، بعض لوگ غیر از جماعت اور غیر مسلم صرف اس لئے جلسہ میں شامل ہوتے ہیں کہ دیکھیں کہ جلسہ میں شامل ہونے والے احمدی ان غیر از جماعت دوستوں کو جلسہ کی برکات کے بارہ میں بتاتے ہیں ، وہ کس حد تک صحیح ہیں، انکی کیا حقیقت ہے اور جب یہ غیر دوست جلسہ میں شامل ہوتے ہیں تو اکثر یہی کہتے ہیں کہ جو کچھ ہمیں جلسہ کے بارہ میں بتایا گیا اس سے بہت زیادہ ہم نے مشاہدہ کیا، اور بعض پر اس کا اتنا اثر ہوتا ہے کہ بیعت کر لیتے ہیں، اس دفعہ بھی دو مہمانوں نے جو روس سے تھے جلسے کا ماحول دیکھ کر بیعت کی۔ بینن کے وزیر داخلہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا، میرے پاس الفاظ نہیں جن سے میں جلسہ کے انتظامات کی تعریف کر سکوں، بہت عمدہ اور منظم جلسہ تھا، میں نے جماعت کے لوگوں میں دوسروں کی رضاکارانہ خدمت کرنے کا غیر معمولی جذبہ دیکھا ہے،یہ جذبہ ہر احمدی کی روح کی غذا بن چکا ہے، یہی وجہ ہے کہ آج جماعت احمدیہ ترقی کی راہ پر گامزن ہے،میں نے بچوں ، بڑوں اور حتیٰ کہ بوڑھوں کو دیکھا کہ انہیں کھانے پینے کی فکر نہیں تھی، اگر فکر تھی تو اس چیز کی کہ ہمارا جلسہ کامیاب ہو، اپنے مقاصد کے حصول میں اتنے محنت کرنے والے لوگ میں نے کبھی نہیں دیکھے، میں نے دنیا دیکھی ہے، امریکہ جیسی سپر پاور کے انتظامات بھی دیکھے ہیں، مگر بڑی بڑی طاقتوں کو بھی اس طرح کے منظم انتظامات کرتے نہیں دیکھا۔ بیلیز ، جہاں اس سال جماعت قائم ہوئی ہے، وہاں کی ایک جرنلسٹ آئی ہوئی تھیں، یہ بیلیز کے معروف ٹی وی کی اینکر بھی ہیں، وہ کہتی ہیں کہ جماعت احمدیہ کے جلسہ میں شمولیت میری توقعات سے زیادہ خوشگوار رہیں، جماعت کے ماٹو محبت سب کیلئے نفرت کسی سے نہیں نے مجھ پر بہت اچھا اثر چھوڑا ہے، گزشتہ چند دنوں میں مجھے ہر طرف سے محبت ہی محبت دیکھنے کو ملی، اس جماعت نے مجھے بہت کچھ دیا ہے ، اس پر میں شکر گزار ہوں اور ہمیشہ یاد رکھوں گی۔ میکسیکو کے ایک نومبائع امام جو اپنے 70 مقتدیوں کے ساتھ جماعت احمدیہ میں شامل ہوئے، کہتے ہیں کہ میرے دل نے محسوس کیا کہ جلسہ کے دنوں میں بے شمار افضال و برکات نازل ہو رہے ہیں اور خلافت کے سایہ میں دنیا کی کی مختلف قومیں باہمی اخوت سے سرشار ہیں، خلیفہ وقت کی تقاریر سے جہاں میرے علم میں اضافہ ہوا وہاں مجھے قلبی سکون بھی نصیب ہوا، جلسہ میں شامل ہر فرد بزبان حال گواہی دے رہا تھا کہ اسلام محبت و سلامتی کا مذہب جس کی ہر قوم و فرد کو ضرورت ہے۔ فلپائن کے ایک دوست کہتے ہیں کہ الحمدﷲ جلسے میں شامل ہو کر مجھے جس چیز کی تلاش تھی وہ مل گئی، انشاءاﷲ اب میں اپنی آئندہ زندگی بطور احمدی ہی گزاروں گا، جلسہ کے دوران کام کرنے والوں نے جس جذبہ، پیار، محبت کے ساتھ کام کیا وہ قابل تحسین ہے، کہتے ہیں میں نے ان کو صبح سے لیکر رات تک کام کرتے دیکھا، ان پیار اور محبت نے میرا دل موہ لیا۔ ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ یہ باتیں ہمارے قدم آگے بڑھانے کیلئے مزید جوش پیدا کرنے والی ہونی چاہئیں نہ کہ اس بات پر خوش ہو کر ہم بیٹھ جائیں کہ بہت کچھ حاصل کرلیا، ترقی کرنے والی قومیں خوب سے خوب کی تلاش میں رہتی ہیں، ہمیں پتہ ہے اور اس طرف نظر رکھنی چاہئے کہ بعض ہماری کمزوریاں بھی ہیں، بڑے پیمانے پر انتظامات میں کمزوریاں ہوتی بھی ہیں اور رہ جاتی ہیں، یہ کوئی ایسی بات نہیں لیکن بہر حال ان کو دور کرنے کی کوشش ہونی چاہئے، ان سب کمزوریوں کو نوٹ کر کے انتظامیہ کو چاہئے کہ اگلے سال ان کا مداوا کریں۔

With the grace of Allah, the atmosphere of Jalsa Salana affects each pious-natured soul. Some non-Muslims and non-Ahmadis only come to the Jalsa to find out how real are the blessings and beneficences of Jalsa as expressed to them by their Ahmadi friends. After experiencing Jalsa majority of them acknowledge that they find their experience to be greater than envisaged and some are so impressed and affected that they end up taking Bai’at. This year two Russian guests took Bai’at after observing the Jalsa atmosphere. The Interior Minister of Benin said that he did not have the words to express praise for Jalsa organisation. He saw extraordinary fervour to serve among children and adults including the elderly who had no concern for themselves and only wanted to make Jalsa successful. He said he has seen the world and has experienced arrangements made by a super powers like the USA but has never seen excellent arrangements like he saw at Jalsa. A lady journalist from Belize, where Jama’at was established this year, came to Jalsa. She is also a TV anchor. She said that Jalsa experience proved to be more pleasant than she had expected. She had reflected on our motto of ‘Love for all hatred for none’ and felt that indeed, she experienced love all around Jalsa. She said she would always remember what the Jama’at gave to her and she thanked all those who gave duty at Jalsa. An Imam from Mexico who had come into Ahmadiyyat with seventy of his followers said that he felt numerous blessings of God coming down during Jalsa. Huzoor’s speeches not only increased his knowledge but also gave him inner peace. Every attendee of Jalsa as if bore witness that Islam is a religion of peace. A friend from the Philippines who took Bai’at last year came to Jalsa. He said he had found what he was looking for by attending Jalsa. God willing he now aims to spend the rest of his life as an Ahmadi Muslim. He felt the loving enthusiasm of the volunteer workers at Jalsa was commendable. He saw them work from morning till night and this wondrous experience won his heart over. We should remember that positive feedback should inspire us to move onwards and upwards rather than make us rest on our laurels. Progressive communities are ever looking to improve themselves. We are aware and we should always be mindful that there can also be weaknesses. Weak points can occur in an organisation of this large scale, it is not that critical. However, they should be noted down and the management should remedy them for the next time.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
29-Aug-2014   Urdu (mp3)Albanian (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Objectives of Jalsa Salana
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

جلسہ سالانہ کے ماحول میں اپنی فطری نیکی کو پہلے سے بہتر کرنے کی کوشش کریں،دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا جو ہم نے عہد کیا ہوا ہے، اس عہد کو پورا کر نے کے اعلیٰ سے اعلیٰ راستوں کی نشاندہی کر کےعلم پا کر پھر ان پر چلنے کی کوشش کریں، حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف پہلے سے بڑھ کر توجہ پیدا کریں، اپنی زبانوں کوذکر الٰہی سے تر رکھنے کی کوشش کریں، اگر پہلے سے اس پر عمل ہو رہا ہے تو پہلے سے بڑھ کر اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں، عبادتوں پر توجہ دیں اور ان کو اس معیار پر لانے کی کوشش کریں جو معیار خدا تعالیٰ اور اس کا رسول ہم سے چاہتا ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے اعلیٰ اخلاق کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ ہمیں اعلیٰ اخلاق حاصل کرنے کیلئے ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے، اپنی اناؤں کو ترک کر کے اعلیٰ اخلاق کی طرف توجہ کرنی چاہئے، اگر کوئی جلسہ کی برکات سے فیض یاب ہونا چاہتا ہے تو اسے اپنی ذاتی اختلافات کو پیچھے چھوڑ نا ہوگا، ہم ان بکھرے ہوئے مسلمانوں کی طرح نہیں ہیں جن کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ کس کے پیچھے چلیں اور کس کے پیچھے نہ چلیں، جن کی غلط راہنمائی کر کے ان کے نام نہاد لیڈروں نے ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنے پر ان کو لگا دیا ہے۔ جلسہ سالانہ وہ جگہ ہے جہاں دوسروں کے آرام کو مدنظر رکھا جانا چاہئے، جب بے شمار لوگ ایک جگہ اکٹھے ہوتے ہیں تو بعض ضرورتیں ہوتی ہیں، تو ایسے وقت میں ایک حقیقی احمدی کا یہ کام ہے کہ اپنی ضرورت کو دوسروں کیلئے قربان کرےاور محبت و ایثار کا نمونہ دکھائے،پھر اﷲتعالیٰ کو عاجزی بہت پسند ہے، ایک مومن کو عاجزی کی تلقین کی گئی ہے، بہت سے مسائل معاشرے میں اس لئے پیدا ہوتے ہیں کہ تکبر ان مسائل کو حل کرنے سے روک رہا ہوتا ہے، اسی طرح حسن ظنی ہے، سچائی ہے اور ہر حالت میں سچائی کا اظہار ضروری ہے، اپنے پیاروں کے خلاف بھی بات جاتی ہو تو کرو لیکن سچائی کو ہاتھ سے جانے نہ دو،معاف کرنا، صبر کرنا ، یہ نیکیاں ہیں جو ہمیں اپنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ حضور نے کارکنان کو یادہانی کروائی کہ وہ اپنے رویہ سے خاموش تبلیغ کر رہے ہوتے ہیں، بلکہ شامل ہونے والاہر شخص خاموش تبلیغ کر رہا ہوتا ہے، پس شاملہونے والے ہر مرد بچے بوڑھے کا فرض ہے کہ وہ اپنے نمونے ایسے بنائے جو توجہ کھینچنے والے ہوں اور یہ نمونے عارضی نہ ہوں، بلکہ اپنی حالتوں میں مستقل تبدیلی پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئےجو ہمیں حقیقی مسلمان بنائے، پس ہم میں سے ہر ایک کو اپنی اہمیت اور ذمہ داری کا احساس پیدا کرنے کی ضرورت ہےتاکہ ہم جلسہ سے حقیقی فیض اٹھا سکیں، حضور ایدہ اﷲتعالیٰ نے ’سلام ‘کرنے کی اہمیت کی طرف توجہ دلائی۔ کارکنان کو اپنی ڈیوٹی پوری ذمہ داری کیساتھ انجام دینی چاہئےاور جلسہ شاملین کو کارکنان کی ہدایات کو بغیر برا منائے ماننا چاہئے قطع نظر اسکے کہ ہدایت دینے والا بچہ ہے یا بڑا، رش کے اوقات میں اندر آتے وقت اور باہر نکلتے وقت انتہائی صبر اور تنظیم کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے ، اسی طرح رش کے دوران سیکیورٹی کا بھی خیال رکھنے کی ضرورت ہے، کارکنان اور تمام شامل ہونے والے ہر احمدی کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنے ماحول پر نظر رکھے اور کوئی بھی ایسی قابل توجہ بات دیکھیں تو فورا انتظامیہ کو بتائیں۔

The Jalsa Salana provides an environment of being in the company of righteous men and women, and therefore one is inspired to improve in his/her personal standard of righteousnessness. We as Ahmadis have made a pledge to give precedence to faith above all worldly matters, and the Jalsa provides the perfect occasion for identifying ways in which to implement this pledge in the best possible ways. The Jalsa also gives us an opportunity to intensify our fervour in the remembrance of Allah, and also to polish up on our obligations towards our fellow human beings. Huzur(aba) directed the attention towards some of the highest moral values we must all make every effort to attain. It is absolutely essential to shun all ego and progress in attaining righteousness (Taqwa). If one wishes to attain the blessings of attending Jalsa Salana, he must look past any differences or conflicts he may have with fellow Ahmadis. Huzur (aba) said that we are not like other mis-guided Muslims who have ignorant leaders who inspire their followers to slit the throat of innocent people. The Jalsa Salana is an occasion where the comfort of others must be taken into account and because of such a large crowd gathering in a small vicinity, many instances arise, when one must display an attitude of affection and self-sacrifice towards others, even at the cost of his/her own comfort. Similarly, one must shun all pride and adapt an attitude of humility. Truth, expression of truth and justice must prevail in all our actions, even if it means giving witness against a loved one. Forgiveness and patience are virtues that every Ahmadi must practice. Huzur(aba) reminded the workers that through their model behaviour and service, they are doing silent Tabligh. But in actuality, every guest (man, woman, child) attending the Jalsa Salana is doing silent Tabligh as well. This exemplary behaviour during Jalsa Salana should not be a temporary display of model behaviour but each individual must endeavour to bring about a permanent change towards goodness. Huzur(aba) stressed on the importance of saying “Salam” to one another. Workers on duty must discharge their duties with full responsibility and participants are urged to listen to the workers, even if they are younger than them in age. Especially during times of peak congestion, display patience and show exemplary discipline. Everyone, including workers and participants, is in charge of security, so keep an eye on your surroundings and report any untowardly behaviour to the authorities.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
22-Aug-2014   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Jalsa Salana UK 2014 and Hospitality
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

اﷲتعالیٰ کے فضل سے انشاءاﷲتعالیٰ جماعت احمدیہ برطانیہ کا جلسہ سالانہ اگلے جمعہ سے شروع ہو رہا ہے،جلسہ گاہ یا وہ علاقہ جہاں سارے جلسے کے انتظامات ہوتے ہیں، حدیقۃ المہدی ، وہاں اب تک کافی حد تک تیاری کے کام مکمل ہو چکے ہیں، مہمانوں کی بھی آمد شروع ہوچکی ہے، اﷲتعالیٰ ان سب مہمانوں کو جو جلسہ کی برکات کے حصول کیلئے سفر کر رہے ہیں ، سفر میں ہیں یا ٓچکے ہیں یا آئندہ آ نے والے ہیں، اﷲتعالیٰ ان کی سب میں حفاظت فرمائے ،اﷲتعالیٰ ان کے سفروں کو بھی آسان کرے ،اﷲتعالیٰ سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور خیریت سے لائے، دنیا کے حالات جس تیزی سے بگڑ رہے ہیں، سفروں کی اور مسافروں کی بھی فکر رہتی ہے۔ جلسہ پر آنے والے مہمان خالص دینی غرض سے آرہے ہیں اور جلسہ میں شامل ہونے والوں کی یہی غرض ہونی چاہئےاور اگر یہ غرض ہو تو مہمان کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے، ہم دیکھتے ہیں کہ جلسہ میں شامل ہونے کی طرف حضرت مسیح موعودؑ نے خاص توجہ دلائی ہے اور اس جلسہ کو خالص دینی اغراض کا حامل ٹھئرایا ہے، اﷲتعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کاحامل ٹھئرایا ہے تو اس سے کس قدر اس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے، آنے والے کسی ذاتی مفاد کیلئے نہیں آتے، کسی دنیاوی رونق میں حصہ لینے کیلئے نہیں آتے، اگر کوئی اس غرض کیلئے آتاہے تو اپنے ثواب کو ضائع کرتاہے۔ یہ بات بھی یاد رکھیں کہ جلسہ پر آنے والے اکثر ایسے ہیں جو دور دور کا سفر کر کے آتے ہیں اور مسافروں کی خدمت کا حق ادا کرنا بھی اﷲتعالیٰ نے مومنوں پر فرض قرار دیا ہے اور ان کا شیوہ قرار دیا ہے، جلسہ یوکے میں شامل ہونے والے مہمانوں کا چھٹا حصہ دوسرے ملکوں سے جلسہ کی برکات سمیٹنے کیلئے آتے ہیں، مشرق بعید سے ، پاکستان سے ، ہندوستان سے، امریکہ سے ، افریقہ سے، جنوبی امریکہ سے اور تقریبا نصف ایسے ہیں جو یوکےکے دوسرے شہروں سے آتے ہیں، تو یہ بھی مہمان ہیں اور مسافر ہیں، بلکہ بعض بوڑھوں اور کمزوروں اور بیماروں کیلئے لندن سے حدیقۃ المہدی جانا بھی ایک تکلیف دہ سفر ہوتا ہے۔ اس زمانے میں ہمیں حضرت مسیح موعودؑ میں اپنے آقا کی اتباع میں وہ نمونے نظر آتے ہیں، جب آپ نے مہمانوں کی مہمان نوازی کیلئے اپنا آرام بھی قربان کیااور سردی میں بغیر کسی بستر اور رضائی کے رات بسر کی، کھانے کے انتظامات کیلئے حضرت اماں جانؓ کا زیور بھی رقم کے بندوبست کیلئے استعمال کیااور یہی قربانی کا جذبہ آپؑ کے صحابہؓ نے بھی ہمیں دکھایاکہ دوسروں کے آرام کو اپنے آرام پر ترجیح دیتے تھے، صاحبزادہ پیر سراج الحق صاحب بیان کرتے ہیں کہ میرے لئے ایک چارپائی جو حضرت مسیح موعودؑ نے دے رکھی تھی،جب مہمان آتے تو میری چارپائی پر بعض صاحب لیٹ جاتے اور مصلا زمین پر بچھا کر لیٹ جاتا۔ اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ کبھی بھی کسی مہمان کوجذباتی ٹھیس نہیں پہنچانی، اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرنا ہے ہر کارکن کو، اگر کوئی تکلیف کا اظہار کرے بھی تو بجائے اس کے کہ اس کو روکھا سوکھا جواب دیا جائے ، اس کی تکلیف دور کرنے کی کوشش کی جائے، حضور نے فرمایا ، آخر پر میں یہی کہنا چاہتا ہوں کہ اﷲتعالیٰ کے فضل سے مختلف شعبہ جات میں اب کارکنان کی کافی تربیت ہوچکی ہے، اور اپنے کاموں کو خوب سمجھتے ہیں، لیکن بعض دفعہ ضرورت سے زیادہ اعتماد نظام میں کمزوریاں پیدا کردیتا ہے، اعتماد تو رکھیں لیکن اس وجہ سے باریکی میں جا کر اس کے تمام جزیات کی طرف توجہ دینے میں سستی نہ کریں۔

With the grace of God UK Jalsa Salana begins next Friday. Quite a lot of preparation has taken place at the Jalsa Gah or the site where Jalsa will be held, Hadiqatul Mahdi, and guests have also started arriving. May God protect all those travelling to Jalsa to seek its blessings and make their journey easy and bring them safely! With the worsening global situation one is concerned for travellers. Jalsa guests come purely for religious reasons as indeed attendance of Jalsa should be only for religious purposes. Due to this the significance of these guests is that much greater especially because the Promised Messiah(as) has drawn our attention to the fact that Jalsa Salana is purely for religious purposes. People do not come to Jalsa for personal interests or for worldly delights and if anyone does so, they negate their spiritual reward. It should be remembered that there are many among the Jalsa guests who come from far off places and serving travellers is the way and obligation of true believers. A sixth of the guests at UK Jalsa Salana come from other countries, including the Far East, Pakistan, India, America, Africa, South America etc. and half of them come from other cities of the UK. They too are guests and travellers. In fact for some infirm elderly people even travel from London to Hadiqatul Mahdi is an arduous journey. We see examples in the life of the Promised Messiah(as) where in compliance with his master he also sacrificed his comfort for hospitality of others and spent winter nights without any warm bedding, used Hazrat Amaan Jaan’s(ra) jewellery to obtain cash for food for guests. This spirit of sacrifice can also be seen among his companions. Sahibzada Pir Sirajul Haq Sahib relates that the Promised Messiah(as) had given him a bedstead for personal use. When visitors came they would sleep on his bedstead and he would lie on the floor on his Prayer mat. It should be borne in mind that sentiments of any guest should never be hurt and courtesy should be shown at every instance. If someone has a complaint they should not be dealt with indifferently, rather their problem should be alleviated. In conclusion Huzoor said that with the grace of God workers of every Jalsa department are now well-trained and understand their work very well and have the discernment to do the task. However, at times over confidence weakens the system. While confidence should be maintained, it should not cause to overlook and neglect minor details of the task in hand.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
15-Aug-2014   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Seek Allah through Obedience to The Prophet(saw)
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Persian | Malayalam
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

انبیاء کا وجود دنیا میں نمونہ ہوتا ہے، یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ان کے وجود یا ان کے نمونے سے کسی کو ٹھوکر لگے، یہاں اس آیت میں اﷲاور رسول کو اکٹھا کر کے خدا تعالیٰ نے بتا دیا کہ جو اﷲکہتا ہے وہی اس کا رسول کہتے اور کرتے ہیں، پس اگر روحانی زندگی چاہتے ہو تو آنکھیں بند کر کے رسول کے پیچھے چل پڑو، اس کی اتباع کرو، اس کے حکموں پر عمل کرو اور آنحضرتﷺ کےمتعلق تو یہ بھی فرمایا کہ اگر تم خدا کی محبت چاہتے ہو تو آنحضرت ﷺ کی پیروی ضروری ہے۔ آنحضورﷺ نے یہ بھی واضح فرما دیا ان علماء کے بارہ میں کہ آسمان کے نیچے بدترین مخلوق یہ لوگ ہیں، فتنوں اور فسادوں کی یہ لوگ آماجگاہ بن جائیں گے اور اس وقت اﷲتعالیٰ کی طرف سے مسیح موعودؑ کا نزول ہوگا جو زندگی بخش ہوگا، پس ہم دیکھتے ہیں کہ آپ نے یہ دعویٰ کیا کہ ہم زندگی بخشتے ہیں اور آپ کے ماننے والوں نے یہ دعویٰ کیا کہ ہم نے زندگی پائی۔ حضور نے فرمایا: گزشتہ دنوں بی بی سی کے نمائندے نے حضور سے انٹرویو لیاجو کافی لمبا تھا ،اس کے کچھ حصے کو انہوں نے اپنی ایک ڈاکومنٹری میں بھی سنایا ہے جو ایک دفعہ دکھایا جا چکا ہے بی بی سی ایشیا اور ہفتہ سے یا شاید ہفتہ کو بی بی سی ورلڈ پہ دکھایا جاناہے ، اس پہ انہوں نے حضور کی یہ بات بھی شامل کی ہے کہ جماعت جو خوبصورت تعلیم دیتی ہے وہ اسلام کی حقیقی تعلیم ہے اور اسی وجہ سے لاکھوں کی تعداد میں لوگ جماعت میں شامل ہوتے ہیں۔ مسلمانوں پر خداتعالیٰ کا یہ بڑا احسان ہے کہ اس نے اس زمانے میں بھی اپنا رسول بھیج کر اپنی تعلیم کو تازہ کر کے ہمارے سامنے پیش فرمایا تاکہ ہم روحانی زندگی کو حاصل کرتے چلے جائیں، اﷲتعالیٰ کے مامور اﷲتعالیٰ سے وعدہ لے کر آتے ہیں کہ جو قوم ان کے ساتھ شامل ہوگی ، حقیقی پیروی کرے گی، وہ اسے کامیابی تک پہنچائیں گے، انہیں روحانی زندگی عطا ہوگی اور باقی لوگ ناکام اور ذلیل ہونگے، حضرت مسیح موعودؑ کے ساتھ بھی خداتعالیٰ کا یہی وعدہ ہے کہ آپؑ غالب آئیں گے ،آپؑ کے ماننے والے ترقی کرتے چلے جائیں گےانشاءاﷲتعالیٰ، خلافت کا نظام آپ کے بعد آپ کے کام کو جاری رکھنے کیلئے چلتا چلا جائے گا، کوئی اور نظام اگر اس کے مقابل پر اٹھے گا تو وہ ناکام و نامراد ہوگا۔ یہ تو دنیا کا بھی طریق ہے اور اسی اصل پر دنیا چلتی ہے کہ کسی بھی مقصد کے حصول کیلئے محنت بھی کرنی پڑتی ہے اور قربانی بھی دینی پڑتی ہے اور بڑے مقصد کے حصول کیلئے بڑی قربانی دینی پڑتی ہے، پس دائمی روحانی زندگی کے حصول کیلئے قربانیاں تو ساتھ ساتھ چلتی ہیں لیکن اﷲتعالیٰ بعض دفعہ ہر قربانی کیلئے تیار رہنے والوں کو بغیر قربانی کے ہی اس قدر نواز دیتا ہے کہ انسان دنگ رہ جاتا ہے، اگر انسان جو بعض دفعہ اﷲتعالیٰ کی صفات کا اپنی استطاعت کے مطابق اپنا معمولی نمونہ دکھانے کی کوشش کرتا ہے اور اپنا معمولی نمونہ دکھا کر دوسروں کو نواز سکتاہے دوسرے انسانوں کو تو خدا تعالیٰ جو بڑا دیالو ہے جو نیتوں کے بھی بے شمار پھل لگاتا ہے اس کے نوازنے کی تو انتہا ہی نہیں۔ حضور نے فرمایا: آج ہی میں ڈاک میں دیکھ رہا تھا، ایک جگہ ہمارے لڑکے لیف لیٹ تقسیم کرنے گئے، غالبا جرمنی کی بات ہے یا کسی اور یورپین ملکوں میں سے کسی کی، تو دو آدمی کہنے لگے کہ ہم ابھی اسی بات پر بحث کر رہے تھے کہ اگر عیسیٰ نے آسمان سے اترنا تھا تو اب تک کیوں نہیں اترا اور اگر نہیں آنا تو کون آئے گا اور اسی بحث کے دوران تم آگئے کہ مسیح موعودؑ آ چکے ہیں اور تمہارا یہ پروگرام بھی ہے ،ہمیں بل گیا ہے دعوت نامہ ہم ضرور آئیں گے۔

Prophets of God are role models and in the aforementioned verse by mentioning God in conjunction with Prophets it has been made clear that they say and do whatever God states. Prophets of God should be followed blindly to attain spiritual life and of course it is stated about the Holy Prophet(saw) that it is essential to follow him in order to attain love of God, and true spiritual life can only be attained through love of God! The Holy Prophet(saw) made it very clear that the religious leaders of Islam will one day be the worst of creation, as indeed are the acts of Muslims today. And it was said that this will be the time when the Promised Messiah will descend. We observe that the Promised Messiah(as) claimed that he had brought life-giving water and those who accepted him attained the spiritual life that the water gave. Huzoor said recently he was interviewed by a BBC correspondent. The interview was quite long and they broadcasted parts of it in a documentary on BBC Asia yesterday. It will either be broadcast on Saturday or begin to be broadcast on BBC World Service Radio. They have included Huzoor’s remark that the beautiful teaching of Islam as presented by the Jama’at is the true teaching of Islam and this is why hundreds of thousands of people are joining the Jama’at. It is a great favour of God on Muslims that He sent His Prophet in this age and revived its teaching so that we may continue to receive spiritual life. Those appointed by God come with the promise that they will take those who will follow them to success and they will be given spiritual life. This indeed was also the promise made to the Promised Messiah(as); that he will triumph and his followers will continue to progress. The system of Khilafat will continue to do his task after him and anyone who will rise against it will be unsuccessful and will fail. It is also the way of the world that in order to attain any objective one has to work hard and sacrifice. Indeed, for higher objectives greater sacrifice is needed. Sacrifice for eternal spiritual life is continuous, however, at times God confers in amazing ways on those who are ever ready for sacrifices without any sacrifice. If man shows even a small measure of Divine attributes on human level, he can confer on others, whereas God gives without measure and even rewards good intention. Huzoor said in this post today he read about our boys distributing leaflets, either in Germany or some other European country. The leaflets were about the advent of the Messiah. At one place the boys met some men who told them that they had been discussing about the advent of the Messiah and wondered if he was come down from the heavens why had he not done so and if another Messiah was to come where and how he would arrive! It was during their discussion that Ahmadi boys gave them the leaflets and also an invitation to an exhibition.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
08-Aug-2014   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Power of Prayers for Special Help
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت مسیح موعودؑ نے بار بار اپنی جماعت کے افراد کو یہی تلقین فرمائی ہے کہ دعاؤں کی طرف بہت توجہ دیں کیونکہ جماعتی ترقی، جماعت کا غلبہ اور دشمنوں کے مکروں اور انکی کاروائیوں سے نجات دعاؤں سے ہی ملنی ہے، آپؑ نے بڑا واضح فرمایا کہ ہمارا غالب آنےکا ہتھیار دعا ہی ہے ، پس جب ہم نے ہر ترقی دعاؤں کے طفیل دیکھنی ہے اور ہر دشمن کو دعاؤں سے زیر کرنا ہےتو پھر دعا کی اس اہمیت کو سامنے رکھتے ہوئے کس قدر توجہ ہمیں دعاؤں کی طرف دینی چاہئےاور کس قدر توجہ ہم اس مقصد کے حصول کیلئے دعاؤں کی طرف دے رہے ہیں۔ یہ ڈھٹائی کسی بھی واقعہ کے بعد کم نہیں ہوتی ، یہ نہیں ہوتا کہ انسانیت سوز مظالم دیکھ کرکسی قسم کی شرم کا احساس ان میں پیدا ہو جائےبلکہ وہی حال رہتا ہے، وہی لوگ جو گوجرانوالہ میں ہمارے احمدی گھروں کے ہمسائے تھے اور عام حالات میں بول چال اٹھنا بیٹھنا بھی تھا، ان میں سے بعض ایسے بھی تھے جو خالی گھروں کو دیکھ کر جب یہ واقعہ ہوا تو لوٹ کھسوٹ میں شامل ہو گئے ، جب گراوٹ اس حد تک پہنچ جائے تو سوائے اناﷲ کے اور کچھ نہیں کہا جا سکتا ، ان ابتلاؤں کے دور میں ہمیں پہلے سے بڑھ کر اﷲتعالیٰ کی طرف جھکنے کی ضرورت ہے، اپنی دعاؤں میں کمی نہ آنے دیں، باقی مسلمان تو ایک دوسرے کے مقابل پر ظلم کا جواب ظلم سے دے کر اپنا حساب پورا کرلیتے ہیں، لیکن ہم نے تو ہر ظلم کو آہ و بقا میں ڈوب کر ختم کرنا ہے۔ آج احمدیوں سے زیادہ کون ہےجن پر ہر طرف سے ظلم بعض مسلمان ممالک میں روا رکھا جا رہا ہے؟ ان ملکوں کے تمام شرفاء جیسا کی حضرت خلیفۃ المسیح الثالث فرمایا کرتے تھے کہ گونگی شرافت ہوچکی ہے، ایسے میں معجزانہ دعاؤں کے فیض حاصل کرنے کیلئے ہمیں خاص دعاؤں کی ضرورت ہے ، یہ آیت جو حضور نے آج تلاوت فرمائی ہے اس میں اﷲتعالیٰ نے یہی فرمایا ہے کہ دیکھو مصیبت زدہ لوگوں کی دعاؤں کو کون قبول کرتا ہے ، جب وہ مضطر ہوں، مضطر اس کو کہتے ہیں جو اپنے چاروں طرف مشکلات اور ابتلاؤں کو دیکھتا ہے ، اسے اپنی کامیابی کا کوئی مادی یا دنیاوی راستہ نہیں نظر آتا اور صرف خداتعالیٰ کی طرف جانے کا راستہ نظر آتا ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ کثرت سے اور بار بار دعا شرط ہے، پس یہ خیال کر لینا کہ ہم نے رمضان میں دعائیں کرلیں اور کافی ہوگیاتو ہم پر واضح ہونا چاہئے کہ یہ کافی نہیں ، ابھی ہمیں مسلسل دعاؤں کی ضرورت ہے اور انسان کو ہمیشہ دعاؤں کی ضرورت رہتی ہے، جب اﷲتعالیٰ ہمیں کھلی فتح عطا فرمادے گا تو پھر بھی تقویٰ پر چلتے ہوئے اس کے فضلوں کو سمیٹتے ہوئے مسلسل دعاؤں کی ضرورت ہوگی، غرض کہ اﷲتعالیٰ سے تعلق میں کمی نہیں ہونی چاہئے اور نہ ایک مومن یہ برداشت کر سکتا ہے، تکلیفوں میں بھی اور آسانیوں میں بھی ہمیں یاد خدا کی ضرورت ہے۔ اﷲتعالیٰ کرے کہ ہم حضرت مسیح موعودؑ کے منشاء کے مطابق اپنی زندگیوں میں پاک تبدیلیاں پیدا کرتے ہوئے اپنے سب کام خداتعالیٰ کی رضا کے مطابق سر انجام دینے والے ہوں، اس کیلئے ہمیشہ کوشش کرتے رہیں، اس کے حضور متضرعانہ دعاؤں کی طرف توجہ دینے والے ہوں، اپنی دعاؤں کو جماعتی ترقی اور ابتلاؤں کے دور ہونے کیلئے وہی شدت پیدا کرنے والے ہوں جو اپنی ذاتی تکالیف میں ہم کرتے ہیں، ایک ہو کر ہم مخالفین کے شر سے دعائیں کرنے والے ہوں، جب تک ہم خالص ہو کر اﷲتعالیٰ کے آگے ان اجتماعی تکالیف کے دور کرنے کیلئے نہیں جھکیں گے ، ہم جلد اپنے مقصد کو حاصل نہیں کرسکیں گے۔

The Promised Messiah(as) repeatedly advised his Jama’at to greatly focus on prayer because the progress of the Jama’at and release from the evil of the enemy is through prayer! He clearly explained that our only weapon to triumph over the enemy is prayer. How much significance should we then pay to prayer and how much should we focus on it; indeed, how much significance and focus do we lay on it. This can be gauged by everyone by reflecting over their own condition. This persecution and cruelty does not cease after any particular incident, rather, it continues. When the neighbours of Ahmadis in Gujaranwala who used to socialise with them saw their homes vacated, they joined the mob. When morals plunge so low nothing except ‘Inna Lillah’ can be said! In light of these circumstances, we need to turn to God much more than before. We should not let our prayers lessen. While other Muslims respond to persecution aggressively to get even, our way is to turn to God in our grief and thus settle it. Who is more persecuted than Ahmadis in a few Muslim countries? The decency of the large majority of the people of this country (Pakistan) has, as Hazrat Khalifatul Masih III(rh) used to say, become mute decency. The Quranic verse (as cited above) states who else but God listens to the prayer of those in trouble, when they are مضطر muztir! Muztir (the distressed) signifies that person who sees himself engulfed in trials from all directions and does not see any physical or worldly way out for himself and only sees the way of God as his solution. The Promised Messiah(as) said that for acceptance of prayers it is conditional that they are made in abundance and repeatedly. It should be clear that it is wrong to assume the prayers of Ramadan were sufficient. We need to pray continuously. Even when we will be granted clear triumph, in order to garner God’s blessings, we will still be in need of prayers. In short, a true believer’s connection with God is never lessened. Pathos needs to be generated during troubles and remembrance of God is needed during good times. May God make it so that that we try and bring about pure changes in ourselves as the Promised Messiah(as) wished and do everything for the sake of God and pray like a muztir to Him! May we make prayers for progress of Jama’at and for removal of trials of the Jama’at with the same intensity as we make personal prayers! May we pray as one to be protected from the evil of the opponents! As mentioned earlier, unless we turn to God with sincerity for the removal of these communal trials we will not attain our objective quickly.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
01-Aug-2014   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: The Contemptible Gujranwala Attacks
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Indonesian
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا: یہ آیات جو حضور نے تلاوت فرمائی ہیں یہ بعینیہ اس واقعہ کا نقشہ کھینچ رہی ہیں جو گوجرانوالہ میں احمدیوں کے ساتھ ہوا، یہ احمدیت اور حضرت مسیح موعودؑ کی صداقت کی ایسی دلیل ہے کہ اگر انصاف پسند مسلمان سورۃ البروج پر غور کریں تو احمدیوں پر ہونے والے ظلم اور خاص طور پر ایسے ظلموں کے بارہ میں اپنے علماء، اپنے لیڈروں ، اپنے سیاستدانوں، اپنی حکومتوں کے رویوں اور عمل جو احمدیت کے مخالفت میں یہ لوگ دکھاتے ہیں یا کرتے ہیں ، ان کی حقیقت کھل جائے اور وہ حضرت مسیح موعودؑ کی صداقت پر یقین کر لیں اور اس ظلم کا حصہ نہ بنیں جو ظالم لوگ یا ان کے چیلے احمدیوں پر کرتے ہیں۔ بے شک افراد جماعت کو قربانیاں دینی پڑیں گی لیکن جماعت کا جو درخت ہے جو خدا نے لگایا ہے ، یہ اﷲتعالیٰ کے فضل سے بڑھتا، پھولتا اور پھلتا رہے گااور یہ آگیں بھڑکانے والے خود اپنے آپ کو اسی آگ میں جلتا دیکھیں گے یا کسی اور ذریعےسے اﷲتعالیٰ ان کو ہلاک کرنے کے سامان پیدا فرمائے گا ، یہ ایک پیشگوئی ہے جو جماعت احمدیہ کے حق میں پوری ہورہی ہے اور پوری ہوتی بھی رہے گی، یہ لوگ ہلاک ہوتے رہیں گے اور یہ بار بار اپنے ظلموں کا اعادہ بھی کرتے رہیں گے، لیکن احمدیت کا پوادا جو خداتعالیٰ کے ہاتھ کا لگایا گیا ہے یہ بڑھتا ہی چلا جائے گا انشاء اﷲتعالیٰ۔ گوجرانوالہ کے رہنے والوں نے 1974 کے فسادات میں بھی بہت قربانیاں دیں تھیں اور اس کی ایک مثال قائم کی تھی اور آج بھی انہوں نے قربانیوں کی ایک نئی مثال قائم کر دی، جس میں سات ماہ کی بچی ، ایک آٹھ سال کی بچی اور ایک عورت نے اپنی جانوں کے نذرانے دے کر قربانی کی ایک مثال قائم کی بلکہ ایک وجود جو ابھی دنیا میں نہیں آیا تھا، جس نے ڈیڑھ دو ماہ بعد ابھی اس دنیا کو دیکھنا تھا، وہ بھی ان ظالموں کی وجہ سے اس دنیا میں آنے سے محروم ہوا اور قربانی دے کر گیا، بہرحال ان ظالموں اور آگیں لگانے والوں کے بارہ میں خداتعالیٰ نے ہمیں بتا دیا ہے کہ ان کا انجام کیا ہوگا اور ساتھ ہی ایمان لانے والوں کو ان قربانیوں کی تسلی کر وا کے فرمایا۔ یہ بھی شاید احمدیت کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ تمام قربانی کرنے والیں بچیاں اور عورت ہیں، کوئی مرد ان میں شامل نہیں، پس ان معصوموں کی قربانیاں انشاءاﷲتعالیٰ یہ کبھی رائیگاں نہیں جائیں گیں، حضور نے فرمایا یہاں یہ بھی واضح کردوں کہ یہ موتیں سانس رکنے سے ہوئی ہیں، کسی کو جلنے زخم نہیں آئے باوجود اسکے کہ ظالم جو لوگ تھے وہ بار بار آگ کے سامان تھے وہ کررہے تھے ، وہ سامان جس کو یہ لوٹ نہیں سکتے تھے یا لوٹنا نہیں چاہتے تھے جیسے گھر کا فرنیچر وغیرہ اس کو بار بار آگ میں ڈالتے تھے تاکہ آگ کبھی نہ بجھے، ان شہداء میں جو خاتون شہید ہوئی ہیں ان کا نام بشریٰ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم منیر احمد صاحب مرحوم تھا، بچیاں جو ہیں وہ عزیزہ حرا تبسم بنت مکرم محمد بوٹا صاحب اور کائنات تبسم بنت محمد بوٹا صاحب۔ مورخہ 27 جولائی 2014 کو کچی پمپ والی عرفات کالونی گوجرانوالہ میں مخالفین احمدیت شدت پسندوں نے احمدی احباب کے گھروں پر حملہ کردیا اور گھروں کو آگ لگادی جس کے نتیجہ میں بشریٰ بیگم صاحبہ عمر 55 سال اور دو کم سن بچیاں عزیزہ حرا تبسم عمر 6 سال اور عزیزہ کائنات تبسم عمر آٹھ ماہ جو محمد بوٹا صاحب کی بچیاں تھیں شہید ہوئیں اناﷲوانا الیہ راجعون ، وقوعہ کے روز شہید مرحومہ کے بیٹے مکرم محمداحمد صاحب قریبی کلینک میں دوائی لینے گئے تو وہاں انہوں نے دیکھا کہ ان کے چچا ذاد وقاص احمد کو بعض لوگوں نے روکا ہوا ہے۔ امیر صاحب گوجرانوالہ مزید لکھتے ہیں کہ 27 جولائی 2014 کو تقریبا 400 یا 500 افراد پر مشتمل ایک مجمع نے کچی پمپ والی عرفات کالونی میں جماعت احمدیہ کے افراد کے کے گھروں پر حملہ کردیا ، شرپسندوں نے فیس بک پر کسی قابل اعتراض تصویر کو ایک احمدی خادم مکرم عاقب سلیم صاحب ولد محمد سلیم صاحب کی طرف منسوب کیا اور اسی کو بنیاد بناتے ہوئے لوگوں کو اکٹھا کرتے ہوئے فساد پھیلایاجبکہ کوئی ایسا واقع نہیں ہے، مشتعل افراد نے ان کے علاوہ جہاں شہید ہوئے ہیں مزید چھ گھروں کو آگ لگائی اور سامان لوٹا ، متاثرہ افراد کے نزدیک دکانیں بھی تھیں جن پر حملہ کیا اور قیمتی سامان سب لوٹ لیا۔

Hazrat Khalifatul Masih said that these verses illustrate exactly the incident perpetrated against Ahmadis in Gujaranwala. It is such a testimony of the truthfulness of Ahmadiyyat and the Promised Messiah(as) that if fair-minded Muslims reflect over Surah Al Buruj the reality of the persecution of Ahmadi would open up to them. They would realise the extent of the actions of their leaders, politicians and the government in this regard and they would believe in the truthfulness of the Promised Messiah(as) and not be part of this persecution. With the grace of God, the tree of the Jama’at will grow and flourish and for this the members of the Jama’at will have to give sacrifices. As for those who kindle fire, they will themselves burn in the same fire or God will destroy them by other means. ‘Cursed be the people of the trenches – ‘ is a prophecy which has been fulfilled in favour of the Jama’at and will continue to do so. But the opponents will not desist, they will continue with their oppression and persecution but the tree of Ahmadiyyat will also continue to grow. Ahmadis of Gujaranwala were exemplary during the riots of 1974 and today, yet again they have established a new example of sacrifice. A seven month old girl, an eight year old girl and a woman gave the sacrifice of life and established a new example of sacrifice. In fact a life that had not yet come into this world and was to see this world after two months or so was deprived of coming into the world and gave its sacrifice as well. God has informed us about the oppressors and kindlers of fire as to what their ending will be and He has also assured those who believe. It is perhaps the first time in the history of Ahmadiyyat that the sacrifice has been all-female. The sacrifice of these innocents will InshaAllah never be fruitless. Huzoor also made it clear that they lost their lives due to smoke inhalation and no one was injured by the fire although the perpetrators continually burnt what they did not wish to loot, including household furniture and other means of fuel! Those who were martyred included Bushra Begum Sahib wife of late Munir Ahmad Sahib and Hira Tabassum and Kainat Tabassum, daughters of Muhammad Buta Sahib. On 27 July 2014 extremist opponents of Ahmadiyyat attacked and set fire to Ahmadi homes in Kachi-Pump, Arafat Colony, Gujaranwala which resulted in the martyrdoms of 55 year old Bushra Begum Sahiba, 6 year old Hira Tabassum and 8 month old Kainat Tabassum. Inni lilla he wa inna illaihi raji’oon. On the day of the attack one of the sons of the deceased lady Muhammad Ahmad Sahib went to a nearby clinic to get medicine after Iftari. He saw his cousin Waqas Ahmad being held by some people. Amir Sahib Gujaranwala further writes that on the evening of 27 July 2014 a 400 to 500 strong crowd attacked Ahmadi homes. The extremists associated some offensive photograph on Facebook to an Ahmadi youth Aqib Saleem Sahib, which is completely groundless. They started the attack on this basis and apart from the home of the martyrs set fire to six other homes and looted them. They also looted the shop of the victims and took away goods.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
25-Jul-2014   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Laylatul Qadr and Last Friday of Ramadhan
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Indonesian
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

لیلۃ القدر کے بارہ میں مخلتلف راویوں نے مختلف تاریخیں بتائیں ہیں، کسی نے 21 رمضان بتائی، کسی نے 23سے 29کی تاریخیں بتائیں، بعض اسی بات پر پکے ہیں کہ 27 یا 29 کو رمضان ہے، لیکن بہرحال اس بارہ میں عموما یہی روایت ہے کہ لیلۃ القدر کو رمضان کے آخری عشرہ میں تلاش کرو، بہرحال لیلۃالقدر ایک ایسی رات ہے جس کی ایک حقیقت ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ آنحضرت ﷺ کو اس خاص رات کی معین تاریخ کا بھی علم دیا گیا ،جس میں ایک حقیقی مومن کو قبولیت دعا کا خاص نظارہ دکھا یا جاتا ہےاور دعائیں بالعموم سنی جاتی ہیں، لیکن روایت سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ دو مسلمانوں کی غلطی کی وجہ سے یہ معین تاریخ آپﷺ کو بھول گئی۔ ایک اہم نقطہ آنحضرت ﷺ نے بیان فرمایا ہے کہ وہ گھڑی جس کی مناسبت سے اسے لیلۃ القدر کہا گیا ہے وہ قومی اتحاد و اتفاق سے تعلق رکھتی ہے، پس یہ بڑا اہم نقطہ ہے، ہم حدیث سنتے ہیں تو کہ دیتے ہیں اگر وہ دو مسلمان نہ لڑتے تو یہ تاریخ ہمیں پتہ چل جاتی، لیکن اس اہم بات کی طرف بہت اہم توجہ ہوتی ہے کہ وہ گھڑی جس کی مناسبت سے اسے لیلۃ القدر کہا جاتا ہے وہ قومی اتحاد و اتفاق سے تعلق رکھتی ہے اور جس قوم سے اتحاد و اتفاق اٹھ جائے اس سے لیلۃ القدر بھی اٹھا لی جاتی ہے۔ لیلۃ القدر کے معنی ہیں کہ وہ رات کے جس میں انسان کی قسمت کا اندازہ کیا جاتا ہے اور یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ آئندہ سال میں اس سے کیا معاملہ ہوگا، وہ کہاں تک بڑھے گا اور ترقی کرے گا، کیا کیا فوائد حاصل ہونگے اور کیا نقصان اٹھانے پڑیں گے، انسانی ترقی کے تمام فیصلے لیل یعنی ظلمت میں ہی ہوتے ہیں، اس ترقی کی مثا ل جسمانی ترقی سے جوڑتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓنے اس طرح بیان فرمائی ہے یہ مثال کہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی جسمانی ترقی بھی متواتر ظلمتوں میں ہوتی ہے۔ لیلۃ القدر اس قربانی کی ساعت کا نام ہے جو خدا تعالیٰ کے ہاں مقبول ہواور جو خداتعالیٰ کے ہاں مقبول ہو جائے اس سے بڑھ کر اور کوئی نفع کا سودا نہیں ہے، پس مقبول قربانیوں کی کوشش کرنی چاہئے، اسلامی جنگوں میں مثلا جنگ بدر میں کفار بھی مارے گئے اور مسلمان بھی لیکن کفار کا مارے جانا لیلۃ القدر نہیں تھا، ان کی قربانیاں لیلۃ القدر نہیں تھا لیکن مسلمانوں کا شہید ہو نا لیلۃ القدر تھا، کیونکہ خداتعالیٰ نے ان قربانیوں کو مقبول قرار دیا، یہ اصول یاد رکھنا چاہئے کہ جس تکلیف کی خداتعالیٰ کوئی قیمت مقرر نہیں کرتا وہ لیلۃ القدر نہیں ہے، وہ سزا ہے، عذاب ہے۔ ہمیشہ یاد رکھیں آخری جمعہ اس لئے نہیں آیاکہ ہم اس کو پڑھ کر رمضان کو الوداع کر دیں یا رخصت کردیں بلکہ اس لئے آیا ہے کہ اگر ہم چاہیں تو اس سے فائدہ اٹھا کر ہمیشہ کیلئے اسے دل میں قائم کر دیں ، جمعہ کو رسول کریمﷺ نے مسلمانوں کیلئے عیدوں میں سے ایک عید قرار دیا ہے اور اس دن میں احادیث کے مطابق ایک ایسی گھڑی بھی آتی ہے جس میں دعائیں خصوصیت کے ساتھ قبول ہوتی ہیں ، ان سے ہمیں فائدہ اٹھانا چاہئے، آج کے دن ہم اس لئے مسجد میں نہیں آئے نہ آنا چاہئے، یہ ایک احمدی کی سوچ نہیں ہے کہ اﷲتعالیٰ تو نے جو مصیبت ہم پر رمضان کی صورت میں ڈالی تھی، شکر ہے وہ ٹل رہی ہے۔ نعیم اﷲخان صاحب آف کرغزستان کی وفات۔

Different narrators of Traditions give different date for the Night of Destiny, some say it is the 21st night other says it is the 23rd night of Ramadan while others are sure it is the 27th night. Generally speaking Traditions say that it should be looked for in the last ten days of Ramadan. The Holy Prophet(saw) was given the knowledge of the specific date of the Night during which a true believer experiences special acceptance of prayers. However, Traditions tell us that due to the mistake of two Muslims the Holy Prophet(saw) forgot the specific date. Hazrat Musleh Maud(ra) raised a very important point as regards the Night of Destiny. He said the hour which is called the Night of Destiny is correlated to national harmony and unity. When we listen to the Hadith we say that had the two Muslims not had the altercation we would have known the specific date. However, very little attention is given to the very important matter that the hour which is called the Night of Destiny is correlated to national harmony and unity and is taken away from the nation which loses its harmony and unity. The Night of Destiny means that night when man’s fate is determined and it is decided how he will be dealt with in the coming year. How much will he progress and advance and what benefits will he attain and what losses he will endure. Decisions of human development are always made in night/darkness. Hazrat Musleh Maud(ra) likened such spiritual development to physical development and said that the Holy Qur’an tells us that human physical development takes place in continuous times of darkness. The Night of Destiny is the name of that moment which gains acceptance and nothing can be more advantageous than what gains acceptance with God. We should strive for sacrifices that will be accepted. Muslims as well as the disbelievers died in the Battle of Badr. However, the death of the disbelievers was not the Night of Destiny whereas martyrdom of the Muslims was the Night of Destiny because God declared them as accepted. Trouble, trial, adversity that God does not put a value on is not the Night of Destiny; it is chastisement. The last Friday of Ramadan does not come for Ramadan to depart. Rather it comes so that, if we want and avail of it, we may preserve it in our heart for always. The Holy Prophet(saw) called Friday an Eid and Ahadith show that during Friday a time comes when prayers particularly gain acceptance. We should avail of this blessing. Ahmadis do not go to mosques on the last Friday of Ramadan to say to Allah that they are happy to rid of Ramadan. Death of NaeemUllah Khan Sahib of Kyrgyzstan.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
18-Jul-2014   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: The Merciful and Forgiving God
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

گزشتہ دنوں ڈنمارک کے ایک مذہبی اخبار نے ایک مضمون لکھا اور قرآن کریم کے بارہ میں لکھا کہ اس میں بار بار سزا اور عذاب کا ذکر ہے اور محبت کا لفظ تو استعمال ہی نہیں ہوا، صرف ایک دو جگہ استعمال ہوا ہے اور یہ کہنا کہ خدا پر ایمان ایک انسان کواپنی مرضی اور آزادی اور خداتعالیٰ کی محبت کی وجہ سے ہے یہ کسی طرح سے درست نہیں ہو سکتا مسلمانوں کیلئے تو کم از کم، بعض آیات بغیر سیاق و سباق کے لکھ کر یا غلط طور پر بیان کر کے اپنے طور سے استنباط کر کے اسلام کے خدا کو سزا دینے میں جلد باز اور سخت پکڑ والا ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ حضرت سلمان ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ نے ہمیں شعبان کے آخری روز مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے لوگو تم پر ایک عظیم اور بابرکت مہینہ سایہ فگن ہونے والا ہے ، اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے، اﷲتعالیٰ نے اس کے روزے فرض کئے ہیں اور اس کی راتوں کو قیام کرنے کو نفل ٹھئرایا ہے، وہ ایک ایسا مہینہ ہے جس کا ابتدائی عشرہ رحمت ہے اور درمیانی عشرہ مغفرت کا موجب ہے اور آخری عشرہ جہنم سے نجات دلانے والا ہے۔ اپنی برائیوں کو دور کرنے کیلئے، آئندہ گناہوں سے پچنے کیلئے، جہنم سے مستقل نجات پانے کیلئے ایک کوشش کی ضرورت ہے، ہر کام کیلئے ایک کوشش کرنی پڑتی ہے، یہ تو نہیں ہو سکتا کہ کوئی کام بغیر کوشش کے ہو جائے، یہ تو ایک عام آصول ہے اور ایک حقیقی مومن سے اس بات کی توقع کی جاتی ہے کہ وہ اﷲتعالیٰ کی طرف سے دی گئی خوشخبریوں، اﷲ تعالیٰ کے پیغاموں ، آنحضرت ﷺ کی طرف سے دئیے گئے امید افتا ءپیغاموں کو سرسری نظر سے نہ دیکھے ،بلکہ جب سنے تو ان کا حصہ بننے کی تڑپ دل میں پیدا ہواور یہ تڑپ تبھی فائدہ مند ہوگی جب اس کےحصول کیلئے عملی قدم بھی اٹھائے۔ حضرت مسیح موعودؑ نے گناہوں سے بچنے کی مثال ایسے دی جیسے کسی عورت سے ناجائز تعلقات ہوتے ہیں ، دوستیاں قائم ہوجاتی ہیں تو ایسی عورت کا اچھا تصور قائم کرنے کی بجائے دعماغ میں بد صورت تصور قائم کرو ، بجائے اس کی خوبیاں دیکھنے کے اس کا بدصورت ترین تصور ہے دعماغ میں ، وہ قائم کرو، اس کے جو برے خسائل ہیں، جو برائیاں ہیں، ان کو سامنے لاؤ، اور ایسی شکل دعماغ میں قائم کرو جو سخت قسم کی مقروح ہو تو تبھی اس برائی سے تم دور ہو سکو گے۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: اپنے اعمال کو صاف کرو اور خدا تعالیٰ کا ہمیشہ ذکر کرو اور غفلت نہ کرو ، جس طرح بھاگنے والا شکار ذرا سست ہو جائے تو شکاری کے قابو میں آجاتا ہے، اسی طرح خداتعالیٰ کے ذکر سے ذرا غفلت کرنے والا شیطان کے شکار میں آجاتا ہے، توبہ کو ہمیشہ زندہ رکھو اور کبھی مردہ نہ ہونے دو کیونکہ جس عضو سے کام لیا جاتا ہے وہی کام دیتا ہےاور جس کو بیکار چھوڑ دیا جا وے تو پھر وہ ہمیشہ کیلئے ناکارہ ہو جاتا ہے۔ امتیاز احمد صاحب آ ف نوشہرہ کی شہادت، نصیر احمد انجم صاحب کی وفات، صاحبزادہ مرزا انور احمد صاحب ابن حضرت مصلح موعودؓ کی وفات۔

In the past few days a lady in Denmark wrote a piece in a religious newspaper and said about the Holy Quran that in it there is repeated mention of punishment and wrath of God and there is no mention of love except in one or two places. And that it can never be said truly at least - by Muslims - that a man believes in God voluntarily and freely and because of his love for God. Quoting some verses without understanding them or mentioning them out of context she has tried to put forth her inference that the God of Islam is quick in punishment and hard. Hadhrat Salman(ra) narrates that the Holy Prophet(saw) addressed us on the last day of the month of Shabaan and said: O people, a grand and blessed month is about to commence. In it is a night which is better than a thousand months. Allah has made the keeping of the fasts of this month obligatory upon you, and made its nights for offering the voluntary prayers. This is the months whose first ten days are mercy, its middle ten days are the cause of winning forgiveness and its last ten days are for obtaining safety from the fire of Hell. To try to remove one’s own bad habits, to safeguard oneself from committing sins in the future, to achieve permanent salvation from the fire of Hell, an effort is needed. For every thing an effort has to be made. It cannot be that we achieve something without any effort. This is a general rule. And it is expected from a true believer that he should not look casually at the messages from God and from the Prophet of God. Rather, when they hear, there should develop in their hearts an urge to make these messages a part of their lives. The example that the Promised Messiah(as) gave is that of an illicit relationship with a woman, and friendships are established. So instead of having a good impression of such a woman in one’s mind, replace it with a bad impression. Instead of looking for her beauties, establish in your mind as bad a picture of hers as possible. Bring to the fore her bad characteristics and establish such an image of her face in your mind that should be extremely ugly and hateful. Only in this way would you be able to distance yourself from this evil. The Promised Messiah(as) says: Cleanse your actions and be ever involved in the remembrance of Allah and do not become heedless. Just as wild animals who run to save themselves when they become even a little bit lazy get trapped by the hunter similarly one who becomes forgetful of the remembrance of Allah, he becomes prey to Satan. Forever keep repentance alive and never let it die because that part of the body that is used constantly is the one that is always of use and the one that is left unexercised is the one that becomes useless forever. Martyrdom of Respected Imtiaz Ahmad Sahb of Nowshehra, Pakistan. Death of Naseer Ahmad Anjum Sahib. Death of Respeted Sahibzada Mirza Anwar Ahmad Sahib son of Hadhrat Musleh Maud(ra).

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
11-Jul-2014   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Ramadhan and The Holy Quran: The source of guidance and salvation
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Indonesian
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا : قرآن کریم کی اہمیت، اس کے مقام، اس پر عمل کرنے کی ضرورت، کس طرح عمل کرنا ہے، کن لوگوں کیلئے یہ زندگی پیدا کرنے کا ذریعہ بنتا ہے ، انسانی زندگی پر اس کے کیا اثرات ہیں غرض کہ بے شمار باتیں ہیں جن کی تفصیل ہمیں اﷲتعالیٰ نے قرآن شریف میں بتائی ہے، اس لئے کہ نہ صرف ہم اس عظیم شرعی کتاب پر عمل کر کے اپنی روحانی، دینی ،اخلاقی ترقی کے سامان کریں بلکہ دنیاوی ترقی کے بھی سامان کریں۔ قرآن کے مقابل پر جب ہم بات کرتے ہیں دوسروں سے تب بھی جب قرآن کی دلیل سے بات کریں گے تو قرآن کے مقابل پر کوئی کتاب اور کوئی دین کھڑا ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ اس میں ایسی تعلیمات ہیں، ایسے تاریخی شواہد ہیں ، دوسرے دینوں کے مقابل پر ایسے دلائل ہیں جو روز روشن کی طرح اپنی برتری ثابت کردیتے ہیں ، اس کتاب کے شروع سے آکر تک خداتعالیٰ کی طرف سے ہونے اور اب تک اپنی اصلی حالت میں محفوظ ہونے کا قرآن کریم اعلان کرتا ہے اور ہمیشہ محفوظ رہنے کا قرآن کریم اعلان کرتاہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث بیان فرماتے تھے کہ ایک ایک دفعہ پاکستان کے ایک وزیر چین کے دورہ پر گئے ماؤ زے تنگ کے زمانے میں ، انہوں نے پوچھا ماؤ صاحب سے کہ آپ نے اپنی قوم میں انقلاب پیدا کیا ہے اس کی وجہ کیا ہے ، انہوں نے کہا مجھ سے کیا پوچھتے ہو ،جاؤ اپنے نبی کا اسوہ پڑھو اور قرآن کریم پڑھو تمہیں سب کچھ مل جائے گا ، تو غیروں کو بھی جو عقل مند ہیں چاہے وہ مانے یا نہ مانیں ، قرآن کریم میں ایک نور نظر آتا ہے ۔ قرآن شریف تدبر و فکر و غور سے پڑھنا چاہئے، حدیث شریف میں آیا ہے کہ بہت سے ایسے قرآن کریم کے قاری ہوتے ہیں جن پر قرآن کریم لعنت بھیجتا ہے،جو شخص قرآن کریم پڑھتا اور اس پر عمل نہیں کرتا اس پر قرآن کریم لعنت بھیجتا ہے، تلاوت کرتے وقت جب قرآن کریم کی آیت رحمت پر نظر ہو تو وہاں خدا تعالیٰ سے رحمت طلب کی جاوے اور جہاں کسی قوم کےعذاب کا ذکر ہو وہاں خدا تعالیٰ کے عذاب سے خدا تعالیٰ کے آگے پناہ کی درخواست کی جاوے اور تبر و غور سے پڑھنا چاہئے اور اس پر عمل کیا جاوے۔ یاد رکھو قرآن کریم حقیقی برکات کا سرچشمہ اور نجات کا سچا ذریعہ ہے ، یہ ان لوگوں کی اپنی غلطی ہے جو قرآن شریف پر عمل نہیں کرتے ، عمل نہ کرنے والوں میں سے ایک گروہ تو وہ ہے جن کو اس پر اعتقاد ہی نہیں اور اس کو خدا تعالیٰ کا کلام ہی نہیں سمجھتے ، یہ لوگ تو بہت دور پڑے ہوئے ہیں لیکن وہ لوگ جو ایمان لاتے ہیں کہ وہ اﷲتعالیٰ کا کلام ہے اور نجات کا شفاء بخش نسخہ ہے ، اگر وہ اس پر عمل نہ کریں تو کس قدر تعجب اور افسوس کی بات ہے۔ کلیم وسیم صاحب کی وفات، الحاج عاصم ذکی بشیر الدین صاحب کی امریکہ میں وفات۔

Huzoor said: Allah the Exalted has explained to us in the Holy Qur’an the significance and status of the Holy Qur’an, the need to put it in practice, how to put it in practice, for whom is the Qur’an a life-giving source, what effects it has on human life and many other countless matters. This is so that not only we may put this great law-bearing Book in practice to facilitate our spiritual, religious and moral development, but also our worldly progress. When we discuss the Holy Qur’an with others and use its reasoning, no other book or religion can stand up to the Holy Qur’an. This is because it contains such teachings and such historic facts and such reasoning compared to other faiths that they prove its superiority as clear as day. The Holy Qur’an declares that it is from God Almighty from the start till the end and is safeguarded in its original form; indeed the Holy Qur’an announces that it will be safeguarded forever. Hazrat Khalifatul Masih III(rh) used to say that a Pakistani minister went on a tour of China in the days of Mao Tse-tung. He asked Mao why he brought about a revolution in his nation. Mao replied why do you ask me, go and observe the model of your Prophet and read your Qur’an and practice it and you will find everything! Thus even others who have understanding, whether they accept it or not, see a light in the Holy Qur’an. The Holy Qur’an should be read carefully and should be reflected on. Hadith relates that there are many reciters of the Holy Qur’an who are cursed by the Holy Qur’an. A person who reads the Qur’an but does not practice it is cursed by the Holy Qur’an. When reciting the Holy Qur’an one comes to a verse about blessing, blessing should sought from God Almighty and when chastisement of a people is mentioned, refuge should be sought from God Almighty from God Almighty’s chastisement. Remember, the Holy Qur’an is the fountainhead of true blessings and is a true source of salvation. Those who do not practice the Holy Qur’an are themselves to be blamed. Among those who not practice it, one group is of those who not believe in it and they do not consider it to be Word of God Almighty. These people are very distant and remote. However, how astonishing and regrettable it is when those who believe that it is the Word of God and is a healing formula for salvation also do not practice it. Death of Kaleem Wassem Sahib and Al Haaj Asim Zaki Bashir ud Din Sahib of USA.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
04-Jul-2014   Urdu (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: The Essence of the blessed month of Ramadhan
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

خداتعالیٰ فرماتا ہے کہ جواس سوچ کے ساتھ روزے رکھے کہ تقویٰ اختیار کرنا ہے ، اپنی عبادتوں کے حق کے ساتھ حقوق العباد کی طرف بھی توجہ دے تو اﷲتعالیٰ نے فرمایا کہ یہ روزہ پھر میری خاطر ہےاور میں ہی اس کی جزا ہوں، یعنی ایسے روزہ دار پھر اﷲتعالیٰ کا قرب حاصل کرنے والے ہوجاتے ہیں، ان کی نیکیاں عارضی، وقتی اور صرف رمضان کے مہینے کیلئے نہیں ہوتیں بلکہ حقیقی تقویٰ کا ادراک ان کو پھر ہوجاتا ہے، یہ نیکیاں پھر رمضان کے بعد بھی جاری رہتی ہیں، ایسے لوگ پھر ایک رمضان کو اگلے رمضان سے ملانے والے ہوتے ہیں، پس ہمیں اس سوچ کے ساتھ اور اس کوشش سے رمضان سے گزرنے کی کوشش کرنی چاہئے، تاکہ ہمارا تقویٰ عارضی نہ ہو، ہمارے روزے صرف بھوکے پیاسے رہنے کیلئے نہ ہوں۔ ہمارا خدا بڑا پیار کرنے والا خدا ہے، قربان جائیں ہم اس پے، وہ یہ کہتا ہے کہ میں رمضان میں اپنے بندے کے بہت قریب آگیا ہوں، اس لئے فیض اٹھا لو جتنا اٹھا سکتے ہو اور تقویٰ کے حصول کیلئے میرے بتائے ہوئے طریق پر چلنےکی کوشش کرو تاکہ تم اپنی دنیا و عاقبت سنوارنے والے بن سکو، یہ کیمپ جو ایک مہینہ کا قائم ہوا ہے اس سے بھرپور فائدہ اٹھا لو کہ اس میں خالصۃ خداتعالیٰ کیلئے کی گئی نیکیاں تمہیں عام دنوں میں کی گئیں نیکیوں کی نسبت کئی گنا ثواب کا مستحق بنانے والی ہونگی، پس اٹھو اور میرے حکموں کے مطابق اپنی عبادتوں کو بھی سنوارو اور اس عہد کے ساتھ سنوارو کہ یہ سنوار اب ہم نے ہمیشہ قائم رکھنے کی کوشش کرنی ہے۔ آج پاکستان میں یا بعض دوسرے ممالک میں احمدیوں پر سختیاں وارد کی جاتی ہیں اور کہا جاتا ہے ہمارے پیچھے چلو تو ہم تمہاری تمام مشکلات اور سختیاں دور کر دیں گے ، ہم تمہیں گلے سے لگا لیں گے ہماری باتیں مان لو لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہئے یہ سب لوگ دھوکہ دینے والے ہیں جس کو بظاہر آجکل یہ اپنی کامیابیاں سمجھ رہے ہیں انکی ناکامیاں بننے والی ہیں، جن دنیاوی سہاروں پر بھروسہ کر کے یہ لوگ ظلم کابازار گرم کر رہے ہیں ، یہی سہارے دیمک زدہ لکڑیوں میں ٹوٹ کر خاک میں ملنے والے ہیں، پس صبر سے کام لو اور اﷲتعالیٰ کے آگے جھکے رہو،اسی سے مدد مانگو تو یقینا تم زمین کے وارث بنائے جانے والے ہو۔ حضور نے فریا گزشتہ جمعہ یہاں ٹی وی چینل والے آئے ہوئے تھے ، ان کو حضور نے انٹرویو دیا اور یہی ارشاد فرمایا کہ جس خلافت کو تم سمجھ رہے ہو جاری ہونی ہے، یہ کوئی خلافت نہیں ہے ، وہ جاری ہوگئی ہے اور ظلم سے نہیں بلکہ اﷲتعالیٰ کی تائید سے جاری ہو گئی ہے ، کاش کہ مسلم امہ کو بھی یہ سمجھ آجائے اور ان کے آپس کے جھگڑے اور فساد اور حکومت کیلئے کھینچا ناتیاں ختم ہو جائیں ، ان کیلئے بھی ہمیں رمضان میں دعا کرنی چاہئے کیونکہ ان کی وجہ سے اسلام اور آنحضرتﷺ کو بدنام کرنے کا موقع مل رہا ہے۔ انسان بعض دفعہ اﷲتعالیٰ کے احکامات کو اس لئے اہمیت نہیں دیتا کہ دنیا کے فوائد اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیتے ہیں ، دولت، اولاد، تجارتیں، دنیا کی دوسری ترجیحات اس کو زیادہ پر کشش لگتی ہیں اور وہ ان کے حصول کیلئے بعض ایسی حرکتیں کر دیتا ہے جن کا تقویٰ کیا عام اخلاق سے بھی دور کا واسطہ نہیں ہوتا، اﷲتعالیٰ فرماتا ہے تم دنیاوی فوائد کیلئے دین کو بھول رہے ہو، تم سمجھتے ہو کہ جھوٹ بول کر ، دوسرے کے مال میں خیانت کر کے تم دنیاوی فوائد حاصل کو لو گے، کسی کا حق ظلم سے مار کر تم اپنی دولت میں اضافہ کر لو گے تو سنو کہ ہر قسم کا رزق اﷲتعالیٰ کی طرف سے آتا ہے، وہ سب دولتوں کا سرچشمہ ہے، اگر تم عارضی طور پر دولت حاصل کر بھی لو تو یہ دولت تمہارے لئے خیر نہیں شر بن جائے گی۔

God states that when a person fasts with this mind set and also pays the dues of mankind his fast becomes for God and God is the reward for the fast. Virtues of such people are not temporary; they do not abide by them only during Ramadan. They have real insight of righteousness and they link one Ramadan with the next Ramadan. This is what we should aim for; not adopting righteousness temporarily and not fasting on a superficial level merely to remain hungry and thirsty. However, our God is Loving, may we be sacrificed on Him. He states that during Ramadan He comes very close to man so that man may seek as much beneficence as he can. This spiritual camp lasts one month and should be fully availed of. During this month acts of virtue for the sake of God reap manifold reward as compared to ordinary days. Therefore, rise and adorn your worship in accordance with God’s commandment with the promise that this adornment will be permanent. Today Ahmadis are persecuted in Pakistan and other countries and they are told that if they listen to the persecutors all their troubles will be removed and they will be embraced by them. However, we have to be mindful that all this is deception. What they today deem to be their success will become their failure. The very worldly supports that they rely on to perpetrate extreme persecution will be blown to dust like rotten timber. God enjoins patience and to seek His help alone and promises that those who comply will be made successors in the earth. Huzoor said that last Friday he was interviewed by a TV channel and he told them that the rightful Khilafat is already established. Khilafat cannot be established through oppression, it is established through Divine help and succour. If only the Muslim Ummah also understood this, their mutual fighting and power struggle would stop. We need to also pray for the Muslim Ummah during Ramadan; because of them the anti-Islamic factions are getting opportunities to bring Islam and the Holy Prophet(saw) in disrepute. Sometimes people do not give importance to some commandments due to worldly gains. Wealth, children, business and other worldly pursuits appear attractive to them and they end up doing something that let alone righteousness, is even beyond the pale of morality. All provisions come from God; He is the fountainhead of all wealth. If one accumulates wealth by telling lies, by usurping others or through deceit, such wealth is not a source of good, it eventually becomes a source of evil.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
27-Jun-2014   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Maulvi Abdul Wahab Adam - An Exemplary Ahmadi
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا: جیسا کہ آپ جانتے ہیں، گزشتہ دنوں وہاب آدم صاحب کی وفات ہوئی ہے ، اناﷲواناالیہ راجعون ، گذشتہ تقریبا ایک سال وہ یہاں یوکے میں رہے تھے اور فروری میں واپس گئے تھے ، اس خادم سلسلہ کا خدمت کا عرصہ نصف صدی سے زائد پر پھیلا ہوا ہے، انکی خدمات اور انکی شخصیت اور انکے کردار اور انکی وفاؤں کے قصوں کو مختصر وقت میں بیان نہیں کیا جاسکتا، بہرحال حضور کچھ باتیں بیان کریں گے جس سے ان کی سیرت کے چند پہلو نمایاں ہوتے ہیں، ان کے خاندان میں احمدیت ان کے والد اور والدہ کے ذریعے سے آئی تھی اور آپ پیدائشی احمدی تھے، ان کے والد صاحب کی شدید خواہش تھی کہ وہاب صاحب احمدی مبلغ بنیں۔ وہاب صاحب اور صالح صاحب چھوٹی عمر میں جامعہ میں تربیت کیلئے پاکستان بھجوائے گئے تاکہ مقامی مبلغین کی تعداد کو بڑھایا جا سکے، دونوں بڑی محنت اور لگن سے اپنی تعلیم مکمل کرنے کی کوشش کرتے رہے ، 1957 میں صالح صاحب ربوہ میں گرمی کے باعث بیمار ہوگئے ، انکو واپس گھانا بھجوایا گیا لیکن یہ بیماری جان لیوا ثابت ہوئی اور 1958 میں 19 سال کی عمر میں آپکی وفات ہوئی، وہاب صاحب اکیلے جامعہ میں پڑھتے رہے، آٹھ سال تک یہیں رہے شاہد کی ڈگری حاصل کی اور مرکزی مبلغ بن کے پھر گھانا گئے۔ وہاب صاحب کے حصہ میں بہت سی سعادتیں آئی ان میں سے کچھ یہ ہیں: سب سے پہلے افریقن مرکزی مشنری ، سب سے پہلے گھانین امیر اور مشنری انچارج ، سب سے پہلے افریقن احمدی جنہیں حضرت خلیفۃالمسیح کی نمائندگی میں بطور امیر مقامی ربوہ بننے کی سعادت حاصل ہوئی، سب سے پہلے افریقن مرکزی مشنری جنہیں یورپ میں خدمت کرنے کی توفیق ملی، سب سے پہلے افریقن جنہیں مجلس افتاء کا اعزازی ممبر بننے کی توفیق ملی۔ وہاب صاحب کے بیٹے اپنے والد کے متعلق بیان کرتے ہیں کہ والد صاحب خلافت کے حقیقی وفا شعار تھے ، ہر امر میں خلیفہ وقت سے ضروری راہنمائی حاصل کرتے تھے، بسا اوقات چھوٹی چھوٹی باتیں بھی خلیفہ وقت کی خدمت میں بغرض راہنمائی لکھتے، مثال کے طور پر اپنی وفات سے ایک ہفتہ پہلے جب بیماری کی وجہ سے کافی کمزور ہوگئے تو ڈاکٹر صاحب نے ہسپتال جانے کیلئے کہا تو اس پر انہوں نے کہا کہ پہلے خلیفہ وقت کی خدمت میں لکھ کر اجازت لے لو، 1990 میں آپکے صاحبزادے ملک سے باہر گئے تو انہوں نے شکایت کی کہ گھر سے رابطہ کرنے میں بہت وقت لگتا ہے اس پر وہاب صاحب نے اسے بتایا کہ میں جب ربوہ میں تعلیم حاصل کر رہا تھا تو میری ماں تک میرے خطوط پہنچنے میں چھ مہینے کا وقت لگتا تھا۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایاکہ وہ بھی گھانا رہے ہیں اور وہاب صاحب کے گھر بھی قیام کیا ہے ، چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھنا، پاکستانی کھانوں کا خیال رکھنا اور صرف میرا ہی نہیں، ہر پاکستانی جو وہاں جاتا تھا اس کا خیال رکھتے تھے اور ایک خوبی جو نوافل اور تہجد کی حضور نے دیکھی ہے ، ایک دفعہ لمبے سفر کے بعد ٹمالے میں یہ آئے اور بڑے تھکا دینے والے سفر کے بعد رات گیارہ بجے پہنچے ، کھانا کھایا اور رات 12 بجے فارغ ہوئے، رات کو حضور کی آنکھ کھلی تو دیکھا کہ انتہائی خشوع و خضوع سے نمازیں پڑھ رہے تھےرات کے ڈیڑھ بجے۔ وہاب صاحب کی وفات بھی بڑے سرکاری اعزاز کے ساتھ ہوئی، صدر مملکت نے سٹیٹ ہاؤس میں ان کا جنازہ منگوایا، وہیں پڑھایا اور پروٹوکول دیا، جنازہ لیکر جانے کیلئے پولیس اور ملٹری کی گاڑیوں نے مکمل اعزاز دیا، سٹیٹ ہاؤس میں صدر نے، نائب صدر نے، وزراء نے ان کے بارہ میں خیالات کا اظہار کیا، مذہبی راہنماؤں نے بھی ان کے حق میں بہت کچھ کہا، فرید احمد نوید صاحب پرنسپل جامعہ احمدیہ گھانا نے زندگی اور موت کا جو فلسفہ ہے اسلام کا وہ بیان کیا ، مقبرہ موصیان گھانا میں پورے اعزاز کے ساتھ ان کی تدفین ہوئی، گھانا ٹیلی ویژن نے پوری کوریج دی۔

Huzoor said it was known that Wahab Adam Sahib passed away recently. He had been in the UK for the past one year and had only returned home in late February. His duration of service to Jama’at was over fifty years. Huzoor said his personality and loyalty cannot be stated in few words but Huzoor presented a few aspects of his personality. Ahmadiyyat came in Wahab Sahib’s family through his parents and he was a born Ahmadi. It was his father’s deep wish for his son to become an Ahmadi missionary. Wahab Sahib was sent to Pakistan as an adolescent to be trained at Jamia, Rabwah along with Saleh Sahib to increase the number of indigenous local teachers in Ghana. They both worked very hard. Saleh Sahib fell ill in 1957 and was sent back home where sadly he passed away in 1958 at the age of 19 years. Meanwhile Wahab Sahib continued with his studies and returned home as a missionary. Wahab Sahib had received many honours, among them were the following: He was the first African central missionary from Ghana. He was the first Amir and missionary-in-charge of Ghana. He was the first African Ahmadi to have the honour of becoming Amir Maqami Rabwah in representation of Khalifa of the time. He was the first African central missionary who was enabled to serve in Europe. Wahab Sahib’s son says that his father was most sincere and loyal to Khilafat and wrote to the Khalifa of the time about every small matter. A week before passing the doctor advised that he should be hospitalised. Wahab Sahib said he would first seek permission from Huzoor. In 1990 one of his sons went abroad and complained that communication with back home took very long. Wahab Sahib told him about the times he was in Rabwah and it took six months for his letters to reach his mother. Huzoor said he had also lived in Ghana and had also stayed at Wahab Sahib’s house. He looked after small matters like Pakistani diet of guests, not just for Huzoor but all Pakistani guests. One quality of his that Huzoor observed was observance of Nawafil and Tahajjud. Once he travelled long distance and arrived at Tamale late in the evening. Had dinner around 11.30 p.m. and retired at midnight. Huzoor says he was awakened at around 1.30 a.m. Wahab Sahib was granted great honour in death by the government of Ghana. His funeral took place in the State House. Where the President, Deputy President and other Ministers expressed their views and Wahab Sahib was afforded full protocol. Religious leaders also paid tribute to him. Our Jamia principal spoke on the Islamic philosophy of life and death and Wahab Sahib was buried in the Moosian graveyard in Ghana with full honour. Ghanaian TV gave coverage to the occasion.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
20-Jun-2014   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Blessed visit to Germany 2014
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت خلیفۃ المسیح نے آج کا خطبہ اپنے حالیہ دورہ جرمنی اور جلسہ سالانہ جرمنی کے بارہ میں دیا،حضور نے فرمایا جلسہ پر ایک رونق تو افرادجماعت کی ہوتی ہے، احمدی مرد ، عورتیں، بچے ایک خاص جذبہ کے تحت جلسہ میں شامل ہوتے ہیں یا کوشش کرتے ہیں شامل ہونے کی، لیکن اب ہمارے جلسہ کی ایک رونق غیر از جماعت اور غیر مسلم افراد سے بھی ہوتی ہے جو یہ دیکھنے اور سننے آتے ہیں کہ یہ جلسہ جس کی احمدیوں نے اتنی دھوم مچائی ہوئی ہے ، یہ ہوتا کیسے ہے اور احمدیوں کے اس جلسہ کے دوران کیسے عمل ہوتے ہیں اور یہ کیا کہتے ہیں اور اگر اچھی باتیں کہتے ہیں تو کیا ان کے عمل ان کی باتوں سےمطابقت رکھتے ہیں یا نہیں۔ حضور نے فرمایا: جرمن قوم سے ایک علیحدہ خطاب بھی جرمنی میں ہوتا ہےاس میں تقریبا 200 جرمن اور دوسری قوموں کے لوگ تھے، ٹوٹل تقریبا 450 کے قریب لوگ تھے ، ایک واگنر صاحب جو سیاستدان ہیں کہتے ہیں میں تین سال سے حضرت خلیفۃ المسیح کے خطاب سن رہا ہوں لیکن آج کے خطاب نے مجھے بہت متاثر کیا ہے کیونکہ بہت واضح خطاب تھا ، امن کیلئے بہت اچھی کوشش ہے اور مجھے سارے سوالوں کے جواب مل گئے، یہ بڑی حیران کر نے والی بات ہے کہ اتنا بڑا مجمع کتنے امن اور سکون سے رہ رہا ہے۔ مسجد مہدی کے افتتاح کے موقع پر مہمانوں کے تاثرات کا ذکر کرتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح فرماتے ہیں : ایک صحافی نے کہا کہ حضور نے جو امن کا پیغام دیا ہے اس کا اظہار بھی ہو رہا تھااور سارے ہال پر اس کا گہرا اثر تھا، ایک خاتون کہتی ہیں کہ حضور نے اپنے خطاب میں جب ڈاکٹر مہدی علی شہید کی شہادت کا ذکر کیا تو میں برداشت نہ کرسکی اور رونے لگی ، پھر حضرت خلیفۃ المسیح نے جب یہ کہا کہ اس شہادت کے باوجود ہماری خدمت کے جذبہ میں کوئی کمی نہیں آئی اور یہ خدمت جاری رکھیں گے تو اپنے جذبات پر قابو رکھنا میرے لئے بہت مشکل ہوگیا۔ ایک اور مہمان بیان کرتے ہیں کہ چند سال قبل جب انہیں جماعت کے بارہ میں کوئی معلومات نہیں تھیں ، انہوں نے خواب میں دیکھا کہ وہ ایک دوست کے ہمراہ ہیں اور انہیں آذان کی آواز سنائی دیتی ہے، چنانثہ وہ اور انکے دوست پہاڑ کی چوٹی پر چلنے لگتے ہیں، غالبا پہاڑ کی چوٹی پر نماز پڑھائی جانی ہے ، جب وہ چوٹی پر پہنچتے ہیں تو انہیں مختلف داڑھیوں والے لوگ نظر آتے ہیں جو ایک دوسرے کو دھکا دے رہے ہیں، اس پر وہ اپنے دوست سے کہتے ہیں یہاں سے نکلو ورنہ یہ لوگ ہمیں بھی مار دیں گے ، چنانچہ وہ وہاں سے روانہ ہوتے ہیں اور تھوڑی ہی دور انہیں ایک سر سبز و شاداب وادی نظر آتی ہے ، اس وادی میں سفید کپڑوں میں ملبوس نہایت نظم و ضبط سے لوگ نماز پڑھ رہے ہیں، و ہ اپنے دوست سے پوچھتے ہیں کہ یہ کون لوگ ہیں تو وہ بتاتا ہے کہ یہ احمدی لوگ ہیں۔ اس کے بعد حضور نے فرمایاکہ اب وہ بعض باتیں ارشاد فرمائیں گے جو ہمیں اپنے جائزے لینے کی طرف توجہ دلانےکیلئے ہیں ، جہاں ہمیں اس بات پر اﷲتعالیٰ کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ وہ کس کس طرح اپنی تائیدات اور نصرت کے نظارے دکھاتا ہے ، وہاں ہمیں اس بات کی بھی فکر ہونی چاہئے کہ کہیں ہم میں سے کسی ایک کی بھی کوئی حرکت ہمارے شامت اعمال اسے ان فضلوں کا حصہ بننے سے محروم نہ کر دے، دوسروں کو تو عموما خوبیاں نظر آتی ہیں لیکن ہمیں اپنی کمزوریوں اور خامیوں کی طرف بھی نظر رکھنی چاہئے اور کوشش کرنی چاہئے کس طرح ہم اپنی حالتوں اور کاموں کو بہتر کر سکتے ہیں، خاص طور پر عہدیداران اور ان میں سے بھی خاص طور پر نیشنل عاملہ کے عہدیداران۔

Huzoor based today’s sermon on his recent tour of Germany and the Jalsa Salana there. Huzoor said one source of delight of Jalsa is the members of the Jama’at, Ahmadi men women and children who come to Jalsa with great fervour. Nowadays non-Ahmadi guests are also a source of delight of our Jalsas. They come to see and listen for themselves whether the word and practice of Ahmadis are compatible or do they too gather like worldly people at Jalsa simply to meet and have fun. Huzoor said in Germany a separate address is organised for German guests. This year about 200 Germans came to it. People from other countries also attended and the total number was approximately 450. A politician guest commented that he has been listening to the addresses of Huzoor for three years and was most impressed with this year’s address. It was a very good effort to promote peace. He said it was amazing that such a large gathering was so peaceful. Relating comments of guests at the inauguration of Masjid Mahdi Huzoor said a journalist said that the message of peace given by Huzoor at the occasion had moved the entire hall. A lady guest said that she could not help being moved when Huzoor mentioned the martyrdom of Dr Mehdi Ali and when Huzoor added that in spite of his martyrdom there will be no change in our service to humanity, the lady said she could not control her emotions any more. Another guest said he had no knowledge of Ahmadiyya Jama’at. He had a dream in which he hears the Adhan being called and he climbs a mountain with a friend. At the summit of the mountain people are pushing each other and are having scuffles. He says to his friend to leave the place those people may kill them. As they move away they come to a green and verdant valley where people clad in white clothes are offering Salat in a very disciplined way. He asks his friend who are those people. The friend replies, they are Ahmadi. Next Huzoor said he also wished to mention aspects which draw us towards self-reflection. God’s extraordinary grace and succour should make us aware that none of us may be deprived of Divine grace owing to our mistakes. We should ever be aware of our failings and mistakes and should look to remove them, in particular the office-holders among us and even more particularly those office-holders who serve on national level.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
13-Jun-2014   Urdu (mp3)English (mp3)Arabic (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)

Title: Jalsa Salana Germany 2014
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

مغربی ممالک میں رہنے والے خوش قسمت ہیں کہ آپ لوگوں کو اﷲتعالیٰ نے جلسہ منعقد کرنے کے مواقع عطا فرمائے ہیں، پاکستان میں جلسہ پر پابندی ہے تو وہاں کے احمدی بےچین ہو جاتے ہیں کہ کاش یہ پابندیاں ختم ہوں تو ہم بھی جلسہ منعقد کریں اور ان مقاصد کو حاصل کرنے کی کوشش کریں جو جلسہ کے حضرت مسیح موعودؑ نے بیان فرمائے ہیں، ہم بھی ان دعاؤں کے حاصل کرنے والے بنیں جو حضرت مسیح موعودؑ نے جلسہ میں شامل ہونے والوں کیلئے کی ہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں : میں بار بار کہتا ہوں کہ آنکھوں کو پاک کرو اور ان کو روحانیت کے طور سے ایسا ہی روشن کرو جیسا کہ وہ ظاہری طور پر روشن ہیں، انسان اس وقت سجاکھا کہلا سکتا ہے جبکہ باطنی رویت یعنی نیک و بد کی شناخت کا اس کو حصہ ملے اور پھر نیکی کی طرف جھک جاوے، فرمایا نجات انہی کو ہے جو دنیا کے جذبات سے بیزار اور بری اور صاف دل ہے ، جب تک دل فروتنی کا سجدہ نہ کرے ، صرف ظاہری سجدوں پر امید رکھنا طمع خام ہے ۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا: انشاءاﷲتعالیٰ اس مہینے کے آخر میں رمضان کا مہینہ بھی شروع ہو رہا ہے جو عملی تربیت کا مہینہ ہے ، اگر ان دنوں کی برکتوں کو رمضان لمبارک کی عظیم برکتوں سے جوڑنے کی کوشش کریں تو ایک روحانی انقلاب ہم میں پیدا ہو سکتا ہے اور اگر اس نیت سے جلسہ پر نہیں آئے یا یہ دن کوئی تبدیلی پیدا کرنے والے نہ بن سکے یا ان کیلئے کوشش نہ کی تو اس جلسہ پہ آنا یا نہ آنا ایک جیسا ہے ، بلکہ بعض دفعہ نقصان کا باعث بھی بن جاتا ہے، ٹھوکر کا باعث بن جاتا ہے۔ سیرالیون سے ہمارے مبلغ لکھتے ہیں: ایک چیف امام جماعت کے بہت مخالف تھے ، ہمارے لوکل معلم ان سے جماعتی مسائل پر بات چیت کرتے رہتے تھے ، جلسہ سیرالیون قریب آیا تو معلم سے کہا کہ چیف امام اور ڈپٹی چیف امام کو جلسہ پہ بطور مہمان آنے کی دعوت دیں،چیف امام نے تو انکار کر دیا لیکن ڈپٹی چیف امام نے دعوت قبول کر لی ، وہ کہتے ہیں میں سوچ رہا تھا کہ یہ لوگ کس بات کیلئے اتنا خرچ کر کے یہاں اکٹھے ہوئے ہیں ، لیکن جلسہ کے پہلے دن جب لوگ نماز تہجد کیلئے اکٹھے ہوئے جو ایک بہت بڑا مجمع تھا اور جب نماز تہجد میں قرآن کریم سنا ور لوگوں کا خدا کے حضور دعائیں کرتے ہوئے روتے ہوئے سنا تو میرا دل پگھل گیا، یہ نشانیاں بتاتا ہے کہ یہ سچے لوگ ہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا: یہ بھی یاد رکھیں کہ جو مہمان خاص طور پر ان دنوں میں آتاہےجب حضور یہاں ہوں تو ان کی احسن رنگ میں مہمان نوازی آپ کا فرض ہے اور یہ مستقل مہمان نوازی کرنے والی ضیافت کی ٹیم کا فرض ہے اور جس جس شہر میں جایا جائے، وہاں کے مقامی لوگوں کا فرض ہے، اور کسی قسم کے اظہار کے بغیر مہمان نوازی کرنی چاہئے، کسی بھی قسم کی جذباتی تکلیف کسی کو پہنچنے کا احتمال ہواس سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے، مہمان نوازی تو مہمانوں کا حق ہے، اس کی مہمان نوازی کر کے پھر باتیں بنانا ، یہ انتہائی گھٹیا فعل ہے ، بعض لوگ ایسے ہیں جو ایسی حرکتیں کرتے ہیں، یہاں تک کر جاتے ہیں کہ میرے ساتھ جو لوگ آئے ہوئے ہیں ان سے بھی ایسی باتیں کرتے جو جذباتی ٹھیس پہنچانے والی ہو۔

Ahmadis living in the West are fortunate that they can hold Jalsa and other gatherings. They should be grateful for this opportunity and in gratefulness they should fully avail of the Jalsa programme. Ahmadis in Pakistan face restrictions in this regard and endure agony and yearn to be able to hold Jalsa and be recipients of its promised blessings. The Promised Messiah said that he repeatedly advises to purify one’s eyes and make them as spiritually bright as they are physically bright. He also said that salvation is attained by those who are disenchanted and free from worldly sentiments. He said unless the heart prostrates before God in humility, physical prostration is pointless. InshaAllah, Ramadan starts at the end of this month. It is a month of spiritually training our practices. If we connect/link the blessings of these three days with the magnificent blessings of Ramadan, a spiritual revolution could come about. If the three days of Jalsa cannot bring any good change in anyone then it would be as if they never attended Jalsa. In fact, at times such attendance can cause harm. Our missionary Sahib in Sierra Leone wrote that a chief Imam was and is an opponent of the Jama’at. Our local Mu’alim (tutor) invited him to our Jalsa. Although the chief Imam did not come, the deputy Imam did. He wanted to see why Ahmadis incurred so much expense to hold Jalsa. However, on the very first day when he came to offer Tahajjud with others and saw them offer their Salat with heart-rending humility, his heart melted and he realised that Ahmadis were truthful. Huzoor said it should be remembered that it is obligatory to provide good hospitality to guests during the days Huzoor is present. It is the duty of the ziafat team and the local Jama’at. Any kind of emotional hurt should be avoided. It is the right of a guest that he is looked after. It is extremely ignoble to be hospitable and then gossip. Huzoor alluded to the fact that something on these lines was experienced by those who are travelling with Huzoor.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
06-Jun-2014   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Unconditional Obedience to Khilafat
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

پس اس زمانے میں جب اﷲتعالیٰ نے اپنے وعدوں اور آنحضرتﷺ کی پیشگوئیوں کے مطابق مسیح موعودؑ کو بھیجا اور ہمیں پھر انہیں ماننے کی توفیق بھی عطا فرمائی اور پھر آپؑ کے بعد خلافت کے جاری نظام سے بھی نوازا، ہمیں اس انعام کی قدر کرنی چاہئےاور اس روح کو سمجھنا چاہئے جو خلافت کے نظام میں ہے، حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ میرے نام پر افراد جماعت سے بیعت لینے والے افراد آتے رہیں گے، یعنی خلافت آپ کی نیابت میں آپ کے نام پر بیعت لے گی، جب آپؑ کے نام پر بیعت لی جارہی ہے تو پھر خلافت کی بیعت اوراطاعت کی کڑی بھی حضرت مسیح موعودؑ سے ملتی ہے جاکے، آپؑ کے بعد خلافت کےجاری نظام سے جڑے رہنے میں حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت میں آنے والوں کی روحانی بقا اور ترقی ہے اور ضمانت ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا : جو باتیں مجھ تک پہنچی ہیں، اگر یہ صحیح ہیں کہ یہ سوال اٹھاتے ہیں سوال اٹھانے والے کہ کامل اطاعت نقصان دہ ہے اور یہ سوچ ایسے لوگوں کی شاید اس لئے ہےجو کامل اطاعت کو نقصان دہ سمجھتے ہیں کہ یہاں جرمنی میں ہٹلر نے اپنا ہر حکم منوایا اور ڈکٹیٹر بن کے رہا ، اس لئے جنگ عظیم میں یہ تاثر ہے کہ اس وجہ سے جرمنی کی دوسری جنگ عظیم میں شکست بھی ہوئی، حضور نے فرمایا میں یہاں ہر احمدی اور ہر نئے آنے والے اور ہر نوجوان پر یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ امامت اور خلافت اور ڈکٹیٹر شپ میں بڑا فرق ہے، خلافت زمانے کے امام کو ماننے کے بعد قائم ہوئی، اﷲتعالیٰ کے وعدوں کے مطابق قائم ہوئی۔ خلیفہ وقت کا تو دنیا میں پھیلے ہوئے ہر قوم اور ہر نسل کے احمدی سے ذاتی تعلق ہے،روزانہ کے خطوط کو ہی اگر دیکھیں تو دنیا والوں کیلئے یہ ناقابل یقین بات ہے ، ان کے ذاتی خطوط آتے ہیں جن میں ان کے ذاتی معاملات کا ذکر ہوتا ہے، یہ خلافت ہی ہے جو دنیا میں بسنے والے ہر احمدی کی تکلیف پر توجہ دیتی ہے، ان کیلئے خلیفہ وقت دعا کرتا ہے، کونسا دنیاوی لیڈر ہے جو بیماروں کیلئے دعائیں بھی کرتا ہو، کونسا دنیاوی لیڈر ہے جو اپنی قوم کی بچیوں کیلئے بے چین ہو اور ان کیلئے دعا کرتا ہو۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا: بعض لوگوں کی اس غلط فہمی کو بھی دور کردوں گو کہ پہلے بھی حضور شرائط بیعت کے خطبات کے ضمن میں اس کا تفصیلی ذکر کر چکا ہوں، ہر احمدی خلیفہ وقت سے اس کے معروف فیصلہ پر عمل کر نے کا عہد کرتا ہے، بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ معروف کی تعریف انہوں نے خود کرنی ہے ، ان پر واضح ہو کہ معروف کی تعریف اﷲتعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے کر دی ہے، معروف فیصلہ وہ ہے جو قرآن اور سنت کے مطابق ہو۔ حضور نے فرمایا: اسلام کے پھیلنے کے حوالے سے ایک بات اور بھی میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اعتراض کرنے والی کی بات سن کر آپ میں سے کچھ پریشان ہو جاتے ہیں کہ حضرت مصلح موعودؓ نے یہ فرمایا کہ جرمنی فتح ہوگیا تو یورپ فتح ہوگیا ، کسی نے دیکھ کر یہ اعتراض کیا کہ گویا آپ یہاں جرمنی کو فتح کرنے آ ئے ہیں، بظاہر نرمی اور پیار کا نعرہ آپ لگاتے ہیں اور لبادہ اوڑھا ہوا ہے لیکن خطرناک عزائم ہیں آپ کے، یہ بات کہنے والے کی بھی بےسمجھی ہے ، بے عقلی ہے یا شرارت ہے۔

We have been enabled to accept the Promised Messiah(as) in this age and after him the system of Khilafat has been granted to us, which we should value and try to understand its essence. The Promised Messiah(as) had said that persons who will take Bai’at in his name will continue to come, thus is the direct link of Khilafat with him. The Promised Messiah’s(as) explanation of the verse above clearly shows that spiritual development and permanence of those who take his Bai’at is in staying connected to Khilafat. If the information that reaches Huzoor is correct and some people do say that complete obedience is perhaps harmful, it is probably borne of the German historical background of Adolf Hitler insisting on obedience of everything he said resulting in German defeat and loss in WWII. Huzoor said he wished to make it very clear to every Ahmadi, every new Ahmadi and every youth that there is great difference between Khilafat and dictatorship. Khilafat is established after accepting the Imam of the age and everyone takes a pledge to work for the perpetuation of Khilafat. Khalifa of the time has a personal connection with people of all backgrounds and all races. The content of the daily post of Khalifa of the time is an unbelievable matter for worldly people. People write personal letters to him, discussing their personal affairs. It is Khilafat that focuses on the pain of every Ahmadi of the world and Khalifa of the time prays for them. Which worldly leader prays for the ailing? Which worldly leader is anxious for young women to get married and prays for them? Another misunderstanding that Huzoor wished to remove, although he has previously explained it in his sermons on conditions of Bai’at, is about the pledge each Ahmadi makes with the Khalifa of the time to obey him in every ma’roof (good) decision. Some people assume that it is for them to define/interpret what is ma’roof and what is not. Let it be very clear that ma’roof has been defined by God and His Messenger(saw). Ma’roof decision is the decision made in light of the Holy Qur’an and Sunnah. With reference to spreading Islam Huzoor said that some people are concerned about an objection raised over a saying of Hazrat Musleh Maud(ra) which was on a banner at Jalsa that if Germany is conquered Europe will be conquered. The objection raised was that we appear to have dangerous resolve although we seem peaceful. The objection was either raised due to unawareness or mischief.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
30-May-2014   Urdu (mp3)English (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)

Title: Khilafat, Prayers and Martyrdom of Mehdi Ali Qamar
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Tamil | Persian | Malayalam
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Indonesian
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

اﷲتعالیٰ کا ایک بہت بڑا احسان جس نے جماعت احمدیہ کو ایک اکائی میں پرویا ہوا ہے ، حضرت مسیح موعودؑ کے بعد جاری نظام خلافت ہے ، جماعت احمدیہ کی تاریخ کے گزشتہ 106 سال اس بات کے گواہ ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ کے وصال کے بعد جیسا کہ آپؑ نے رسالہ الوصیت میں بیان فرمایا تھا ، افراد جماعت نے کامل اطاعت کے ساتھ نظام خلافت کو قبول کیا۔ خلافت سے وابستہ رہتے ہوئے اﷲتعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے اور پریشانیوں سے نجات پانے اور امن کی حالت میں آنے والوں کیلئے اﷲتعالیٰ نے دعاؤں اور عبادتوں کی طرف توجہ دلائی ہے، پس یہی ہمارے اصل ہتھیار ہیں جن پر ہم مکمل اور مستقل انحصار کر سکتے ہیں، دعاؤں کے ہتھیاروں کو چھوڑ کر ہم چھوٹے اور عارضی ہتھیاروں کو دیکھیں گے تو ہمیں کامیابی نہیں مل سکتی، نہ چھوٹے ہتھیاروں سے کسی کو کامیابی ملی ہے ، انبیاء کی تاریخ میں ہمیں کامیابیاں انہیں دعاؤں کے ذریعے سے ہی ملتی نظر آتی ہیں اور خاص طور پر جب ہم اسلام کی تاریخ دیکھیں اور خاص طور پر ہم آنحضرت ﷺ اور خلافت راشدہ کے زمانے کو دیکھیں۔ پس ہمیں اپنی دعاؤں میں اور عبادتوںمیں پہلے سے بڑھ کر توجہ دینے کی ضرورت ہے، اضطراب پیدا کرنے کی ضرورت ہے، اﷲتعالیٰ کے رحم کو ابھارنے کی ضرورت ہے، حضور نے بعض دعاؤں کی طرف توجہ دلائی، جو پہلے بھی جماعت احمدیہ کی جوبلی کیلئے بھی حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے بتائیں تھیں پھر بعد میں خلافت جوبلی کیلئے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس نے بھی بتائیں تھیں، ان کو بھولنا نہیں نہ کم کرنا ہے، ان کو ہمیشہ کرتے رہنا چاہئے۔ حضور نے فرمایا کہ آج وہ اپنے انتہائی پیارے مخلص ، باوفا، نافع الناس اور بہت سی خوبیوں کے مالک جن کا نام ڈاکٹر مہدی علی قمر ابن چوہدری فرزند علی صاحب تھاکا ذکر خیر کریں گے، جنہیں 26 مئی 2014 کو ربوہ میں شہید کر دیا گیا ، واقعہ یہ ہے کہ دو نامعلوم موٹر سائیکل سوار صبح تقریبا پانچ بجے جب یہ بہشتی مقبرے جارہے تھے دارلفضل کے قریب، وہاں فائرنگ کر کے انہیں شہید کر دیا گیا۔ ڈاکٹر مہدی اپنے شعبہ کے علاوہ ادبی ذوق بھی رکھتے تھے ، ایک اچھے شاعر بھی تھے، ان کا مجموعہ کلام برگ خیال کے نام سے طباعت کے مراحل میں ہے، اسی طرح کیلی گرافی بھی اچھی کر لیتے تھے ، خلافت سے انتہائی گہری محبت اور خلوص کا تعلق تھا ان کا، ہر تحریک پر فوری لبیک کہنے والے تھے، بڑھ چڑھ کر چندہ دیتے تھے ، کولمبس کی مسجد کی تعمیر میں بہت بڑی خطیر رقم پیش کی انہوں نے، اس کی زیبائش اور آ رائش کا کام بھی کیا انہوں نے۔ ہمارے ڈاکٹر نوری صاحب طاہر ہارٹ انسٹیٹیوٹ کے کہتے ہیں ڈاکٹر مہدی علی صاحب اپنے مریضوں میں بے حد مقبول تھے ، غریب اور نادار مریض آپ کے پاس بہت خوشی اور امید سے علاج کیلئے آ تے تھے، ذاتی دلچسپی اور توجہ سے ہر مریض کو دیکھتے، طبیعت میں انتہائی سادگی تھی، لباس اتنا سادہ ہوتا کہ ان کو مریضوں کے درمیان پہچاننا مشکل ہوتا تھا ، طاہر ہارٹ انسٹیٹیوٹ میں رضا کارانہ طور پر بغیر کسی تکلف کے اپنے آ پ کو پیش کیا۔ جو ظلم ہو رہا ہے پاکستان میں ہر ایک پہ وہ اﷲاور رسول کے نام پر ہورہا ہے، اس رسول کے نام پر ہورہا ہے جو محسن انسانیت ہے، اس رسول کے نام پر ہورہا ہے جو رحمتہ اللعالمین ہے، پس ہمارے دل اس بات سے زخمی اور چھلنی ہوتے ہیں کہ اگر ظلم کرنے ہیں تو کم از کم اﷲاور رسول کے نام پر تو نہ کرو، اس محسن انسانیت اور رحمتہ اللعالمین کے نام پر تو نہ کرو ، اسلام کو بدنام تو نہ کرو۔

A great favour of God which has united Ahmadiyya community as one and which has been prevalent since the passing of the Promised Messiah(as) is the institution of Khilafat. The last 106 years of the history of the community bear witness to the fact that after the Promised Messiah’s(as) passing, just as he stated in his booklet Al Wasiyyat (The Will) members of the community have accepted Khilafat with perfect obedience. God has drawn our attention to prayer and His worship to stay connected to Khilafat, to absorb Divine blessings, to get rid of our difficulties and to have inner peace and prayer and worship indeed are our real weapons on which we can rely constantly. Temporary ways and means do not bring success. We note that in the historical accounts of Prophets of God success only came through prayer, in particular in history of Islam and uniquely in the time of the Holy Prophet(saw). We need to focus on prayer and worship of God more than ever and we need to make them with heart-felt pathos and we need to draw God’s mercy. Next Huzoor drew attention to some prayers which were first exhorted by Hazrat Khalifatul Masih III(rh) at the time of the Jama’at’s centenary and Huzoor also reminded them later at the time of Khilafat centenary. These prayers should neither be forgotten nor decreased. Next Huzoor said he would pay tribute to a very dear, sincere, loyal, most useful individual who also had many other great qualities. He was Dr Mehdi Ali Qamar , son of Chaudhry Farzand Ali Sahib. He was martyred in Rabwah on 26 May 2014. He was going to visit the Bahishti cemetery in Rabwah with his wife, one son and a relative at 5 a.m. when two unknown assailants came on a motorbike and shot him. Dr Mehdi also had artistic flair and was a very good poet. His poetry collection entitled ‘Barg e Khayal’ is in the stages of publication. He was also a skilled calligraphist. He had great love and devotion for Khilafat and always keenly complied when exhorted towards good causes. He gave most generously to donations and financial schemes and donated a large sum towards the mosque in Columbus. Our Dr Noori Sahib of Tahir Heart Institute writes that Dr Mehdi Ali was extremely popular among the patients. The underprivileged came to him for treatment most eagerly. He treated each patient with personal care and interest. He had an extremely simple nature and would be dressed so simply that it would be difficult to point him out when among the patients. He volunteered services for Tahir Heart Institute most freely. This oppression in Pakistan is taking place in the name of God and His Messenger. In the name of that Messenger who was a benefactor of humanity, who was a mercy for all the worlds. Our hearts bleed at this. If they have to perpetrate oppression at least they should not do it in the name of God and His Messenger. They should not commit persecution in the name of that benefactor of humanity and mercy for all the worlds and bring Islam in disrepute!

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
23-May-2014   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: The Exemplary Ahmadiyya Jama'at
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Persian | Malayalam | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

اﷲتعالیٰ کا یہ بڑا فضل و احسان ہے کہ اﷲتعالیٰ نے حضرت مسیح موعودؑ کی جماعت کو ایسے لوگ عطا فرمائے ہیں جو اپنے عہدوں کی روح کو جانتے ہیں اور جو قربانیوں کی روح کو جانتے ہیں، اور نہ صرف جانتے ہیں بلکہ اس کے ایسے نمونے قائم کرنے والے ہیں جن کی زمانےمیں کہیں اور مثال نہیں ملتی، مال کی قربانی کا سوال اٹھے تو کہاں ہیں ایسے لوگ جو اپنے مال کو دین کی خاطر قربان کرنے والے ہیں، تو جماعت احمدیہ کے افراد کا گروہ سامنے آ کر کھڑا ہو جاتا ہے، وقت کی قربانی کا مطالبہ ہو تو آج جماعت احمدیہ میں دین کی خاطر وقت قربان کرنے کے اعلیٰ نمونے موجود ہیں۔ پہلی بات تو یہ یاد رکھنے والی ہے کہ جب ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ ہم الٰہی جماعت ہیں تو پھر ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ الٰہی جماعتیں دنیاوی حکومتوں یا دنیاوی طرز کے احتجاجوں پر یقین نہیں رکھتی، نہ الٰہی جماعتوں کی ترقی میں دنیاوی مددکا کوئی کردار ہے یا ہاتھ ہے، دنیاوی مددیں بغیر شرائط کے نہیں ہوتیں، بغیر کسی غرض کے نہیں ہوتیں، اپنے آگے کسی نہ کسی رنگ میں جھکائے بغیر نہیں ہوتیں اگر دنیا کی طرف ہی دیکھنا ہے تو، اور یہ باتیں ایک حقیقی مومن کبھی برداشت نہیں کرسکتا۔ دنیا داروں کے رویوں کی مثال دیتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح فرماتے ہیں ، گزشتہ دنوں یہاں کے ایک اخبار نے مضمون دیا کہ یہاں مسلمان حکومت کے وفادار نہیں ہیں، اس لئے مغربی ممالک سے مسلمانوں کو نکال دینا چاہئے ، اس پر ہمارے پریس سیکشن نے کہا کہ یہ غلط ہے، اسلام ملکی قانون کی پابندی اور وطن سے محبت کا حکم دیتا ہے، اس پر اخبار نے کہا کہ دوسرے مسلمان فرقوں کا تو یہ عمل نہیں ہے، تم بھی نصیحت کرو دوسرے مسلمان فرقوں کو، ہم نے کہا ٹھیک ہے اگر تمہارا اخبار اس نصیحت کو شائع کیلئے تیار ہے، تو ہم دے دیتے ہیں بیان۔ قربانی کی روح کو اس زمانے میں سمجھنے کی جو مثال ہے حضرت مسیح موعودؑ کے زمانے میں وہ صاحبزاہ عبداللطیف شہید ہیں، آپؑ سے جب بادشاہ نے بار بار اصرار کے ساتھ یہ کہا کہ اگر حضر ت مسیح موعودؑ کا انکار کر دو تو میں اس کے نتیجے میں تمہاری جان بخشی کر دوں گا، تو آپؑ نے ہر دفعہ یہی فرمایا کہ آج اگر مجھے اﷲتعالیٰ وہ موت دے رہا ہے جو اسکے انعامات کا وارث بنانے والی ہے تو میں دنیا کی خاطراس کا انکار کیوں کر دوں، عجیب جاہلوں والا سوال تم مجھ سے کر رہے ہو یا سودا مجھ سے کر رہے ہو۔ پس یہ حالت جو حضرت مسیح موعودؑ نے بیان فرمائی ہے، ہم میں سے ہر ایک کو حاصل کر نے کی کوشش کرنی چاہئے اور یہ خدا تعالیٰ کے فضل کے بغیر نہیں ہو سکتی، جب یہ حالت ہو کہ انسان ہر قربانی کیلئے تیار ہو جائے تو پھر خدا تعالیٰ چھوڑتا نہیں اپنے بندے کو، وہ بڑھ کر تھام لیتا ہے، تبھی تو جنتوں کے وعدے بھی دے رہا ہے، اسی لئے تو اس نے ثبات قدم کی دعا بھی سکھلائی ہے اور دشمنوں پر فتح پانے کی دعا بھی سکھلائی ہے، اس کا مطلب ہی یہ ہے کہ اﷲتعالیٰ ان دعاؤں کو قبول کرتے ہوئے فتوحات کے دروازے اس طرح کھولے گا کہ دشمن کے لئے کوئی جائے فرار نہیں ہوگی۔ خلیل احمد صاحب کی 16 مئی کو شیخوپورہ پاکستان میں شہادت، مولوی احسان الٰہی صاحب اور نسرین بٹ صاحبہ کی شہادت۔

It is great grace and favour of God on the Jama’at of the Promised Messiah(as) that He has given it people who understand the spirit of their pledges and understand the spirit of sacrifice and not only do they understand the spirit of sacrifice but they also set models of it of which many examples can be found in this age. If it is a matter of financial sacrifice, it is the Ahmadis who demonstrate it, if sacrifice of time is demanded, the Ahmadiyya Jama’at present excellent models of it. The first thing to remember here is that when we claim to be a Divine community we should be mindful that such communities do not believe in relying on worldly governments and protestations. There is no hand of any worldly help in the progress of Divine communities. Moreover, worldly help is never unconditional, it is never offered without any clause to capitulate before whoever is offering help and true believers cannot abide by this. They seek help from God and turn to Him alone. By way of example of the stance of worldly people Huzoor said a newspaper here published an article saying that Muslims are not loyal to this country and they should be expelled/deported. Our press section responded to this and told them that this was incorrect and Islam teaches being loyal to the law of the land and to love ones’ country. They said in response that this was not what how other Muslims behaved and asked us to write something advisory to them. Another example of a person who understood the spirit of sacrifice was demonstrated by Sahibzada Abdul Latif Shaheed. The king repeatedly asked him to reject and deny the Promised Messiah(as) and incited him with freedom in return. Every single time Sahibazada Sahib’s reply would be that if God was granting him a death that makes one a recipient of blessings, why would he turn away from it. He said it was a strange ignorant deal to ask for! Each one of us should try and aspire to become as the Promised Messiah explains and this is not possible without the grace of God. If a person makes effort and becomes like this, then God comes forward and holds such a person and this is when God gives glad-tidings of Paradise and for this He has taught us prayer for steadfastness, prayer for gaining triumph over the enemy. It signifies that by accepting the prayer God will open the doors of triumph in such a way that the enemy will have nowhere to escape. Martyrdom of Khalil Ahmad Sahib was martyred on 16 May in district Shiekhupura, Pakistan. Death of Maulawi Ahsan Illahi Sahib and Nasreen Butt Sahiba.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
16-May-2014   Urdu (mp3)English (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Seek Unity of Allah through The Prophet (saw)
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Persian | Malayalam
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: یہ خدا کا فضل ہے جو اسلام کے ذریعے مسلمانوں کو ملااور اس فضل کو رسول اﷲﷺ لے کر آئے، جس پہلو سے دیکھو مسلمانوں کو بہت بڑے فضل اور ناز کا موقع ہے، مسلمانوں کا خدا ،پتھر ، درخت ، ستارہ یا کوئی مردہ انسان نہیں ہے، بلکہ وہ قادر مطلق خدا ہے جس نے زمین و آسمان کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے پیدا کیا، اور حی و قیوم ہے، مسلمانوں کا رسول وہ رسول اﷲﷺ ہے جس کی نبوت اور رسالت کا دامن قیامت تک دراز ہے۔ قرآن شریف کی تعلیم کا اصل مقصد یہی ہے کہ خدا تعالیٰ جیسا وحدہ لا شریک ہے ایسا ہی محبت کی رو سے اس کو وحدہ لا شریک یقین کیا جائےاور کل انبیاء کی تعلیم کا اصل منشاء ہمیشہ یہی رہا ہے، چنانچہ لا الہ الا ﷲ جیسے ایک طرف توحید کی تعلیم دیتا ہے ، ساتھ ہی توحید کی تکمیل محبت کی ہدایت بھی کرتا ہے، اور جیسا کے میں نے ابھی کہا ہے کہ یہ ایسا پیارا اور پر معنی جملہ ہے کہ اس کی مانند ساری تورات اور انجیل میں نہیں۔ اب اس جگہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انسان جیسا کہ تجربہ دلالت کرتا ہے کہ عموما گناہ کا کوئی نہ کوئی حصہ اپنے ساتھ رکھتا ہے ، بعض موٹے گناہوں میں مبتلا ہوتے ہیں اور بعض اوسط درجے کے گناہوں میں اور بعض باریک در باریک قسم کے گناہوں میں مبتلا ہوتے ہیں، جیسے بخل ہے، ریا کاری ہےاور اسی قسم کے گناہوں کے حصوں میں گرفتار ہوتے ہیں،جب تک ان سے رہائی نہ ملے انسان اپنے گمشدہ انوار کو حاصل نہیں کر سکتا، اصل بات یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے بہت سے احکام دیئے ہیں، بعض ان میں سے ایسے جن کی بجا آوری ہر ایک کو مؤثر نہیں۔ توحید اس کا نام نہیں کہ صرف زبان سے اشھد ان لا الہ الا ﷲ و اشھد ان محمد رسول اﷲ کہ دیا، بلکہ توحید کے یہ معنی ہے کہ عظمت الہٰی بخوبی دل میں بیٹھ جاوے ، اور اس کے آگے کسی شے کی عظمت دل میں جگہ نہ پکڑے، ہر ایک فعل اور حرکت اور سکون کا مرجع اﷲتعالیٰ کی پاک ذات کو سمجھا جاوے اور ہر ایک امر میں اسی پر بھروسہ کیا جاوے، کسی غیر اﷲ پر کسی قسم کی نظر اور توکل ہر گز نہ رہےاور خدا تعالیٰ کی ذات میں اور صفات میں کسی قسم کا شرک جائز نہ رکھا جائے، اس وقت مخلوق پسندی کے شرک کی حقیقت تو کھل گئی ہےاور لوگ اس سے بیزاری ظاہر کر رہے ہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: مومن ایک لا پرواہ انسان ہوتا ہے، اسے صرف خدا تعالیٰ کی رضا مندی کی حاجت ہوتی ہےاور اسی کی اطاعت کو وہ ہر دم مدنظر رکھتا ہےکیونکہ جب اس کا معاملہ خدا سے ہے تو پھر اسے کسی کے ضرر اور نفع کا کیا خوف ہے، جب انسان خدا تعالیٰ کے بالمقابل کسی کے وجود کو دخل دیتا ہے ، تو ریا وغیرہ، معاصی میں گناہوں میں مبتلا ہوتا ہے، فرمایا کہ یاد رکھو یہ دخل دہی ایک زہر ہےاور کلمہ لا الہ الا ﷲ کے اول جزو لا الہ میں اس کی بھی نفی ہے۔ عبدالکریم صاحب کی ملک شام میں وفات۔

Promised Messiah(as) said: Muslims were granted grace of God through Islam as brought by the Holy Prophet(saw). Whichever perspective one may take, Muslims have every reason to be proud and gratified. The God of Muslims is not stone, tree, animal, star or a dead person, on the contrary it is the All-Powerful God Who created the heavens and the earth and all that is between them; Who is Living, the Self-Subsisting and All-Sustaining. The real objective and purpose of the teachings of the Holy Qur’an is to deem God Almighty as the One, without any partner that He is, also by virtue of love for Him. This has indeed been the goal of the teaching of every Prophet of God(as). Just as لا الہ الا اللہ gives the teaching of Unity of God, it also teaches to attain the highest point in love of Unity of God. Those who turn to the authorities or seek rewards and titles from them are in awe of them as one should be in awe of God. They become their aficionados and this is a factor that eliminates level of Unity of God and makes man distant from his real objective. Prophets of God(as) have taught that there should be no conflict between Unity of God and worldly means, each should have its own place and the ultimate outcome should be Unity of God. However, question arises here that as experience has shown generally people commit some kind of sin or the other. Some commit big sins; others commit average sins while others are embroiled in minute sins like niggardliness or hypocrisy and other such sins. Man cannot reclaim his light unless he is free of sins. There are many commandments given by Allah the Exalted some of which cannot be undertaken by all. Unity of God is not simply saying اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمد رسول اللہ . Rather, Unity of God signifies that Divine greatness is instilled in heart and beyond this greatness of nothing else is rooted. Every act, gesture and quietude should be for Allah the Exalted and He alone should be relied on in every way. None other than Allah should be looked up to and relied on and there should be no kind of shirk as regards the Being and attributes of God Almighty. These days the reality of the shirk of attributing divinity to man has been exposed and people are wary of it. Promised Messiah(as) said: A true believer is free of care; he only wants to please God Almighty and is ever mindful of obeying Him. Since his dealing is with God he is not interested in any other loss or gain. When a person associates anyone besides God Almighty, he is caught up in sins of hypocrisy and arrogance etc. Remember this kind of association is a toxin and it is negated in the first part of لا الہ الا اللہ , that is, لا الہ . Death of Abdul Karim Abbas Sahib of Syria.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
09-May-2014   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: There is no god but Allah
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Persian | Malayalam
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

یہ جن لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے، یہ کس بات پر ایمان نہیں لاتے، اس بات پر کہ شرک نہ کرو ، جب ان کو کہا جاتا ہے تو اس پر ایمان نہیں لاتے ، خدا کا بیٹا نہ بناؤ، شرک ایک ایسا گناہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ اسے معاف نہیں کرتا، پس یہ ہمدردی اور محبت ہے ہر انسان سے ، حتیٰ کہ ایک مشرک کے ساتھ بھی کہ اسے سیدھے راستے پر لانے کیلئے جہاں عملی کوشش کی جائے ، وہاں اس کیلئے دعا بھی کی جائے۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا: کچھ عرصہ ہوا مجھے احساس ہو کہ خدمت انسانیت کیلئے ہمارا ادارہ ہے Humanity First کے نام سے ، اس کے کام کرنے والوں اور شاید انتظامیہ کو یہ خیال ہو گیا ہے کہ دین سے اپنے آپ کو بالکل علیحدہ کرنا، اور اگر علیحدہ کر کے خدمت کریں تو شاید ہماری دنیا میں زیادہ آؤ بھگت ہوگی، تو یہاں مرکزی انتظامیہ کو حضور نے فرمایا کہ آپ کی اہمیت اس لئے ہے کہ دین سے جڑے ہوئے ہیں، جماعت کا کہیں نہ کہیں نام آتا ہے، اگر کہیں حسب ضرورت جماعت کا نام بھی استعمال کر نا پڑے تو لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ دنیا میں اخلاقی ترقی کو بھی مطمع نظر بنانے کا نعرہ لگایا جاتا ہے، تعلیمی ترقی کو بھی مطمع نظر بنانے کا نعرہ لگایا جاتا ہے، اگر کسی جگہ عوام کے یا کسی کے حقوق غصب ہو رہے ہیں تو سیاسی تنظیمیں آ زادی کو اپنا ماٹو بنا لیتی ہیں، اس کیلئے کوشش کرتی ہیں اور نعرے لگاتی ہیں، اگر کسی جگہ کوئی اور صورت ہے تو اس کو اپنا مطمع نظر بنایا جاتا ہے، بہر حال مطمع نظر کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہم اس بات کو دنیا میں قائم کرنا ہےاور اپنی جماعت کے سامنے بھی ہر وقت اسے موجود رکھنا ہے۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں: بعض ماٹو ایسے ہوتے ہیں جن کاآپس میں اشتراک ہو تا ہے،مثلا یہ کہ خدا کی اطاعت کرواور یہ ماٹو کہ نیکیوں میں ترقی کرو، یہ آپس میں لازم و ملزوم ہیں کیونکہ خدا کی اطاعت کے بغیر نیکیوں کا حصول ناممکن ہے اور اسی طرح جو نیک نہیں وہ خدا کا مطیع نہیں ہو سکتا، اس طرح یہ ماٹو کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گااور یہ کہ میں نیکیوں میں سبقت لے جانے کی کوشش کروں گا، دونوں آپس میں مشابہ ہیں، دونوں ایک دوسرے کے اندر آجاتے ہیں، پس ساری نیکیاں ہی اچھی ہیں اور ہمیں انہیں اپنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اگر کسی میں دینی کمزوری پیدا ہوتی ہے تو اس کی بھی یہی وجہ ہے کہ لا الہ الا اﷲاس کے سامنے سے ہٹ گیا ہوتا ہے، ورنہ لا الہ الا اﷲ اگر ہر وقت سامنے ہو تو انسان دینی کمزوریوں سے محفوظ رہے، صرف منہ سے ہی لا الہ الا اﷲ کہنا مقصد نہیں ہےجیسے لوگ دہراتے رہتے ہیں اکثر، جھوٹ بھی بولیں گے تو لا الہ الا اﷲ کہ کر جھوٹ بول دیں گے، بلکہ لا الہ الا اﷲ اگر کہا ہے تو خدا تعالیٰ کی عظمت اور اس کا خوف اور اس کی تمام صفات سامنے آ جاتی ہیں، اور جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے لا الہ الا اﷲ کی حقیقت آنحضرت ﷺ سے ہی واضح ہوتی ہے۔ توحید پر قائم ہونے کے بعد اسلام میں اعلیٰ اخلاق ، علم، عرفان، تمدن، سیاست، دوسرے فنون میں کمال ، سب کچھ آ جاتا ہے، کیونکہ اﷲتعالیٰ کا نور ایک تریاق ہے، جس میں تمام امراض کا علاج ہے، پس ہمارا ماٹو جو خود بخود خدا تعالیٰ نے مقرر فرما دیا ہے وہ لا الہ الا اﷲ ہے ، باقی تفصیلات ہیں جو نصیحت کے طور پر کام آ سکتی ہیں، اس زمانے میں دجال اپنی تمام طاقت کے ساتھ دنیا میں رونما ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ میں دنیا کو دین پر مقدم رکھوں گا۔ صدیق اکبر رحمان صاحب ابن فیض الرحمان صاحب کی وفات۔

What was it that the people of that time not believe in which agonised the Holy Prophet(saw)? They did not believe in desisting from associating partners with God, in making man son of God. Shirk or associating partners with God is a sin which God has called unpardonable. It is love and compassion for every human being, even for an idolater, with which one makes practical effort to bring them to the right path and also pray for them. Hazrat Khalifatul Masih said that some time ago he felt that the workers and management of Humanity First had the idea that if they gave their services unconnected with faith, perhaps the world would appreciate them more. Huzoor explained to the central management here that their significance was in being connected to faith and the Jama’at is mentioned in their works somehow or the other. And there was nothing wrong to, if need be, mention the Jama’at in some instances. In the world slogans are raised to have mottos about moral development, slogans are raised to have mottos about academic development and if human rights are violated somewhere political organisations make freedom their motto and make efforts in this regards and raise slogans. Any other specific situation elsewhere gives rise to specific mottos. The reason to have a motto is to establish it in the world and to also keep it in view at the same time. Hazrat Musleh Maud(ra) said that some mottos are inter-connected. For example the mottos ‘obey God’ and ‘advance in virtues’ are interdependent because obedience of God is not possible without advancing in virtues and one who is not virtuous cannot be obedient to God. Similarly the mottos ‘I shall give precedence to faith over worldly matters’ and ‘I shall try and excel in good works’ are congruous and inter-linked. Thus, all virtues are good and we should try and adopt them. When someone becomes spiritually weak it is because he has lost sight of لا الہ الا اللہ because if one always keeps لا الہ الا اللہ in view one is saved from spiritual weaknesses. The objective is not to simply verbalise لا الہ الا اللہ like many people do, even if they tell lies they do so by saying لا الہ الا اللہ whereas articulating لا الہ الا اللہ brings into focus God’s greatness and His fear and all His attributes. And as mentioned earlier the reality of لا الہ الا اللہ is only manifested through the Holy Prophet(saw). Through abiding by Unity of God high morals, knowledge, culture, politics and excellence in other arts are instilled in man because the light of God is an antidote to all ailments. Thus, our motto which is appointed by God is لا الہ الا اللہ (There is none worthy of worship except Allah) the rest are all details which can be useful as advice. Dajjal is evident in full force in this age and his objective is to give precedence to worldly matters over faith. Death of Sadeeq Akbar Rahman Sahib, son of Faizur Rahman Sahib.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
02-May-2014   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Seeking Nearness to Allah
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Persian | Malayalam
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: حقیقی طور پر بجز خدا ئے تعالیٰ کے اور کوئی نیک نہیں، تمام اخلاق فاضلہ اور تمام نیکیاں اسی کیلئے مسلم ہوں، پھر جس قدر کوئی اپنے نفس اور ارادت سے فانی ہو کر اس ذات خیر محض کا قرب حاصل کرتا ہے اسی قدر اخلاق الٰہیہ اس کے نفس پر منعکس ہوتی ہے ، بندے کو جوخوبیاں اور سچی تہذیب حاصل ہوتی ہے وہ خدا ہی کے قرب سے حاصل ہوتی ہے اور ایسا ہی چاہئے تھا کیونکہ مخلوق فی ذاتہ کچھ چیز نہیں ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: اسلام کی حقیقت یہ ہے کہ اپنی گردن خدا کے آ گے قربانی کے بکرے کی طرح رکھ دینا اور اپنے تمام ارادوں سے کھوئے جانا اور خدا کے ارادے اور رضا میں محو ہو جانا اور خدا میں گم ہو کر ایک موت اپنے اوپر وارد کرلینا اور اس کی محبت ذاتی سے پورا رنگ حاصل کر کے محض محبت کے جوش سے اس کی اطاعت کرنانہ کسی اور بناپراور ایسی آنکھیں حاصل کرنا جو محض اس کے ساتھ دیکھتی ہوں اور ایسے کان حاصل کرنا جو محض اس کے ساتھ سنتے ہوں اور ایسا دل پیدا کرنا جو سراسر اس کی طرف جھکا ہوا ہو اور ایسی زبان حاصل کرنا جو اس کے بلائے بولتی ہو۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: بعض لوگ بظاہر حکومت سے کچھ حاصل کر کے اطمینان حاصل کرتے ہیں ، بعض لوگوں کے اطمینان کا ذریعہ ان کی اولاد اور رشتہ دار اور ارد گرد کے لوگ ہوتے ہیں مگر یہ سب کچھ سچا اطمینان نہیں مہیا کر سکتابلکہ پیاس کے مریض کی طرح جوں جوں ان لوگوں سے بظاہر یہ اطمینان حاصل کر رہے ہوتے ہیں ، پیاس بڑھتی چلی جاتی ہے، تسلی نہیں ہوتی ، آخر انسان کو یہ بیماری ہلاک کر دیتی ہے۔ جو شخص اپنے وجود کو خدا کے آگے رکھ دےاور اپنی زندگی اس کی راہوں میں وقف کرے اور نیکی کرنے میں سرگرم ہو، سو وہ سرچشمہ قرب الٰہی سے اپنا اجر پائے گااور ان لوگوں پر نہ کچھ خوف ہے اور نہ کچھ غم، یعنی جو شخص اپنے تمام تر قواع کو خدا کی راہ میں لگا دے اور خالص خدا کیلئے اس کا قول اور فعل اور حرکت اور سکون اور تمام زندگی ہوجائے اور حقیقی نیکی کے بجا لانے میں سرگرم رہے سو اس کو خدا اپنے پاس سے اجر دے گا اور خوف اور حزن سے نجات بخشے گا۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: پس جس وقت توہین اور ایذا کا امر کمال کو پہنچ گیا اور جو ابتلاء خدا کے ارادے میں تھا وہ ہو چکا، پس اس وقت خدا تعالیٰ کی غیرت اس کے دوستوں کیلئے جوش مارتی ہے اور خدا ان کی طرف دیکھتا ہے اور ان کو مظلوم پاتا ہے اور دیکھتا ہے کہ وہ ظلم کئے گئے اور گالیاں دیئے گئے اور ناحق کافر ٹھئرائے گئے اور ظالموں کے ہاتھوں سے دکھ دیئے گئے، پس وہ کھڑا ہوتا ہے تاکہ ان کیلئے اپنی سنت پوری کرے اور اپنی رحمت کو دکھلائےاور اپنے نیک بندوں کی مدد کرے ، پس ان کے دلوں میں ڈالتا ہے تاکہ پورے طور پر خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوں۔

Promised Messiah(as) said: In the real sense no one is pious except God Almighty, all high morals and all pieties are in Him in their entirety. As much as one breaks free of one’s nafs (self) and one’s desires and gains nearness to God, one is able to reflect Divine qualities in his person accordingly. Whatever qualities and true refinement one attains is by virtue of Divine nearness. And so it should be since creation is nothing on its own accord. Promised Messiah(as) said: The reality of Islam is to present one's neck to God like the sacrificial lamb; to give up one's own designs and to be devoted to the designs of God and His pleasure; to lose oneself in God and to impose a type of death upon oneself; to be dyed in the personal love of God and to obey Him entirely for the sake of that love; to obtain eyes that see only through Him, and to obtain ears that hear only through Him, and to develop a heart that should be wholly devoted to Him, and to obtain a tongue which would speak only at His command. The Promised Messiah(as) also explained that some people are satisfied by obtaining something from the government while the source of satisfaction for others is their family, children and acquaintances. However, all this cannot give true satisfaction, in fact as they continue to seek satisfaction from these people their thirst/yearning increases and is never satiated and is ultimately ruinous. One who surrenders his being to God and devotes his life in His path and is eager to do good will get his reward from the fountain of Divine nearness. They shall have no fear, nor shall they grieve. In other words, one who employs all his faculties in the way of God Almighty and whose word and deed, action and inaction, indeed his whole life is devoted to God, and who occupies himself in doing good, shall be rewarded by God Himself and shall be delivered from fear and grief. Promised Messiah(as) said: When contempt and persecution reaches its height and the trial that God had willed comes to pass, is when God Almighty’s sense of honour for His friends is stirred, God looks at them and find them the victims and sees that they are persecuted and abused and hare unjustly branded kafir and are hounded by the oppressors. He rises so that He can fulfil His way for them and demonstrate His mercy and help His pious people.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
25-Apr-2014   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Mahmood Ahmad Bengali: A True Ahmadi Passes Away
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Persian | Malayalam
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا: اس وقت میں ذکر کرنا چاہتا ہوں ایک انتہائی پیاری شخصیت کا جو اپنے انتہائی باوفا ہونے کی وجہ سےایک خاص مقام رکھتے تھے، فدائی خادم سلسلہ تھے، دو دن پہلے ان کا انتقال ہوا ، اناﷲ و انا الیہ راجعون، ہر انسان نے ایک دن اس دنیا کو چھوڑنا ہے لیکن کتنے خوش قسمت ہیں وہ انسان جو اپنی زندگیاں خداتعالیٰ کی رضا کے مطابق گزارنے کی کوشش کرتے ہیں، جب عہد کرتے ہیں تو اپنے عہدوں کو نبھانے کی حتی المقدور کوشش کرتے ہیں، خدمت دین کے ساتھ خدمت انسانیت کی بھی کوشش میں بھی ہمہ وقت لگے رہتے ہیں۔ یہ خادم سلسلہ خلفاء وقت کے سلطان نصیر اور خلافت کیلئے انتہائی غیرت رکھنے والے ہمارے پیارے بھائی مکرم محمود احمد شاہد صاحب تھے، جن کو محمود بنگالی صاحب کے نام سے پاکستان میں بھی جانتے ہیں اکثر لوگ ، اس وقت یہ آسٹریلیا جماعت کے امیر تھے اور وہیں بدھ کے روز 23 اپریل کو ان کی وفات ہوئی ہےانا ﷲ و انا الیہ راجعون، حضور کو انکی وفات کے بعد ایک عزیز کا جو پہلا خط آ یا ، انہوں نے لکھا کہ خلافت کے فدائی ایسے تھے کہ اﷲتعالیٰ ہمیں بھی بنائے۔ ان کا تعارف کچھ اس طرح ہے، محمود صاحب 18 نومبر 1948 کو بنگلہ دیش کے گاؤں چار دکھیا ضلع چاند پور میں پیدا ہوئے تھے، ان کے والد کا نام مولانا عبد الخیر محمد محب اﷲتھا اور والدہ کا نام زیب النساء تھا، ان کے والد محمدمحب اﷲ صاحب نے 1943 میں احمدیت قبول کی تھی، ابتدائی نام ابولخیر محمد تھا، حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے انکے نام میں محب اﷲ کا اضا فہ فرمایا تھا، یہ اپنے علاقے کے سب سے پہلے احمدی تھے اور بڑے پائے کے عالم تھے۔ خالد سیف اﷲ صاحب جو اس وقت قائم مقام امیر جماعت آسٹریلیا ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ ایک موقع پر محمود بنگالی صاحب نے خود انہیں بتایا کہ 1979 میں جب انٹرنیشنل صدر صاحب خدام الاحمدیہ کا انتخاب ہوا تو آپ ووٹوں کی گنتی کے لحاظ سے پانچویں نمبر پر تھے، حضرت خلیفۃ المسیح الثالث آپ سے بہت شفقت فرماتے تھے، حضور نے آپ کو بلوا کر فرمایا کہ آج شام تک کثرت سے استغفار کرو۔ خالد سیف اﷲ صاحب لکھتے ہیں کہ امیر صاحب مرحوم ایک ذہین انسان تھے ، تعلق بنانے اور نبھانے کا فن خوب جانتے تھے اور اسے جماعت کے مفاد میں استعمال کرتے تھے، اس کے نتیجے میں امیگریشن کا عمل پاکستانی احمدیوں کیلئے آسان ہوگیا اور آسٹریلیا کی جماعت جو آپ کے آسٹریلیا آنے پر چند سو تھی اب ہزاروں میں ہو چکی ہے اور یہ ترقی کا سلسلہ جاری ہے۔ اﷲ تعالیٰ ان کو غریق رحمت کرے، ان کے درجات بلند سے بلند تر کرتا چلا جائے، یقینا بے نفس اور اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ جماعت کی خدمت کرنے والے بزرگ تھے ، نہ اپنی صحت کی پرواہ اور نہ کسی روک کو جماعتی کام میں سامنے آنے دیا، حضور کے گزشتہ دورہ آسٹریلیا کے دوران باوجود اس کے کہ انتہائی تکلیف میں تھے ہر کام کی نگرانی کرتے رہے، حضور جب جہاز سے باہر تشریف لائے ہیں تو وہ سامنے کھڑے تھے ، ان کی حالت دیکھ کر بڑی فکر پیدا ہوئی، انہیں کمر کی شدید تکلیف تھی، ریڑھ کی ہڈی کافی خراب ہو چکی تھی۔

I wish to pay tribute here to a very dear personality who had a special station owing to his absolute loyalty. He was utterly devoted to serve the Jama’at and passed away two days ago. Inna lillahe wa inna illaihe raji’oon. Each person has to leave and will one day depart from this world. Most fortunate are those who try to spend their lives according to the wishes of Allah the Exalted and try their utmost to honour the pledges they make. This was our dear brother Mahmood Ahmad Shahid, who is known as Mahmood Bengali Sahib by many in Pakistan. He was a servant of the Jama’at, an excellent helper of the Khulafa of the time who had intense sense of honour for Khilafat. These days he was serving as the Ameer Jama’at Australia. He passed away on 23 April. Inna lillahe wa inna illaihe raji’oon. The first letter or message that I received after his passing away was from a relative saying that may Allah the Exalted make all of us as devoted to Khilafat as he was. By way of introduction Mahmood Ahmad Sahib was born on 19 November 1948 in a Bangladeshi village Char Dukhiya in Chandpur district. His father’s name was Maulana Abdul Khair Muhammad MuhibUllah and his mother’s name was Zebunnisa. His father had accepted Ahmadiyyat in 1943. Initially his father’s name was just Abdul Khair Muhammad to which Hazrat Khalifatul Masih II(ra) added MuhibUllah. He was the first Ahmadi of his region and was a great scholar. Khalid SaifUllah Sahib, who is currently the acting Ameer of Australia writes that Mahmood Bengali Sahib told him that when the election of Sadr Khuddamul Ahmadiyya took place in 1979 the votes he garnered were in fifth position. Hazrat Khalifatul Masih III(rt) was most affectionate to Mahmood Sahib. He beckoned him and told him to abundantly engage in Istighfar till the evening. Khalid Saif Ullah Sahib writes the late Ameer Sahib was an intelligent person who was extremely skilled in making contacts and honouring them and used this for the benefit of the Jama’at. As a result of this the immigration process for Pakistanis became easy and the Australian Jama’at which numbered in a few hundred when he first came here now numbers in its thousands and is progressing. May Allah the Exalted have mercy on him and continue to elevate his station. No doubt he was a selfless elder who served the Jama’at with all his capacities. He neither cared for his health nor let any impediment come in the way of Jama’at work. Although he was in great pain during my last tour of Australia he supervised everything himself. When I emerged from the air plane he stood there. I was quite concerned to see his condition. He had severe back ache. His back bone had deteriorated a lot.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
18-Apr-2014   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: The All Powerful One God
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Persian | Malayalam
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Indonesian
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

اس کائنات کے خدا تک پہنچنے کا ذریعہ اب صرف آنحضرت ﷺکی ذات ہے، آپﷺ کے ذریعہ ہی خدا تعالیٰ تک پہنچا جا سکتا ہے، جس کا حسن و احسان میں کوئی ثانی نہیں ، آپؑ نے بتایا کہ خداتعالیٰ کی قدرتوں کو دیکھنے کیلئے اس کی طرف خالص ہو کر جھکنا ضروری ہے، اس کی عبادت بجا لانا ضروری ہے، اگر یہ حالت ہوتی ہے انسان کی تو پھر دوڑ کر خداتعالیٰ انسان کو گلے لگاتا ہےاور اس پر اپنے فضلوں کی بارش برساتا ہے، پس آپؑ نے بڑے دردسے فرمایا کہ ایسے خدا سے تعلق جوڑو تاکہ اپنی دنیا و آخرت سنوارنے والے بن سکو۔ اس کی ذات پر کوئی احاطہ نہیں کر سکتا، ہم آفتاب اور ماہتاب اور ہر ایک مخلوق کا سراپہ دیکھ سکتے ہیں مگر خدا کا سراپہ دیکھنے سے قاصر ہیں، ہر چیز کو ہم دیکھ سکتے ہیں لیکن خدا کو جسمانی صورت میں نہیں دیکھ سکتے، وہ عالم الشھادۃ ہے، یعنی کوئی چیز اس کی نظر سے پردہ میں نہیں، یہ جائز نہیں کہ خدا کہلا کر پھر علم اشیاء سے غافل ہو ، وہ اس عالم کے ذرہ ذرہ پر اپنی نظر رکھتا ہے،وہ جانتا ہے کہ کب اس نظام کو توڑ دے گا اور قیامت برپا کر دے گا اور اس کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ ایسا کب ہو گا، سو وہی خدا ہے جو ان تمام طاقتوں کو جانتا ہے۔ جن لوگوں کو تم خدا بنا بیٹھے ہو وہ تو ایسے ہیں کہ سب مل کر ایک مکھی پیدا کرنا چاہیں تو کوئی پیدا نہ کر سکیں، اگرچہ ایک دوسرے کی مدد بھی کریں، بلکہ مکھی اگر ان کی چیز چھین کر لے جائے تو انہیں طاقت نہیں ہوگی کہ مکھی سے وہ چیز واپس لے سکیں، ان کے پرستار عقل کے کمزور اور وہ طاقت کے کمزور ہیں، کیا خدا ایسے ہوا کرتے ہیں؟ خدا تو وہ ہے کہ سب قوتوںوالوں سے زیادہ قوت والا اور سب پر غالب آنے والا ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: مذہب اسلام کے تمام احکام کی اصل غرض یہی ہے کہ وہ حقیقت جو لفظ اسلام میں مخفی ہے ، اس تک پہنچایا جائے، اسی غرض کے لحاظ سے قرآن شریف میں ایسی تعلیمیں ہیں کہ جو خدا کو پیارا بنانے کیلئے کوششیں کر رہی ہیں، کہیں اس کے حسن و جمال کو دکھاتی ہیں، کہیں اس کے احسانوں کو یاد دلاتی ہیں کیونکہ کسی کی محبت یا تو حسن کے ذریعے سے دل میں بیٹھتی ہے یا احسان کے ذریعے سے۔ وہ مالک ہے تمام جزا سزا کااور مرجع ہے تمام امور کا، تمام اعمال جو ہیں اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں اور نزدیک ہے باوجود دوری کے اور دور ہے باوجود نزدیکی کے، وہ سب سے اوپر ہے مگر نہیں کہ سکتے کہ اس کے نیچے کوئی اور بھی ہے اور سب چیزوں سے زیادہ پوشیدہ ہے مگر نہیں کہ سکتے کہ اس سے کوئی زیادہ ظاہر ہے، وہ زندہ ہے اپنی ذات سے اور ہر ایک چیز اس کے ساتھ زندہ ہے، وہ قائم ہے اپنی ذات سے اور ہر ایک چیز اس کے ساتھ قائم ہے ۔ خدا تعالیٰ کے وجود پر یقین دلانے کیلئے حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: ہمارے خدا میں بے شمار عجائبات ہیں مگر وہی دیکھتے ہیں جو صدق اور وفا سے اس کے ہوگئے ہیں ، وہ غیروں پر جو اس کی قدرتوں پر یقین نہیں رکھتے اور اس کے صادق وفا دار نہیں ہیں ، وہ عجائبات ظاہر نہیں کرتا، کیا بد بخت وہ انسان ہے جس کو اب تک یہ پتہ نہیں کہ اس کا ایک خدا ہے جو ہر ایک چیز پر قادر ہے، ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے ، ہماری اعلیٰ لذات ہمارے خدا میں ہیں کیونکہ ہم نے اس کو دیکھا اور ہر ایک خوبصورتی اس میں پائی۔

Now the only source to reach the God of this universe is the Holy Prophet(saw). In order to appreciate the power of God one must turn to God in complete sincerity and worship Him. If this is done, God runs to embrace His servants and showers them with His blessings. The Promised Messiah(as) asked us with great anguish to connect to God in this manner and thus adorn our life in this world as well as in the Hereafter. No one can comprehend His Being. We can comprehend the sun and the moon in their entirety, but we cannot comprehend God in His entirety. Then he said: عالم الشھادۃ that is He is the Knower of the seen, that is to say, nothing is hidden from Him. It is not to be imagined that He should be unaware of anything. He has every particle of the universe within His sight; but man does not possess such comprehensive vision. He knows when He might break up this system and bring about the Judgement. Those on whom you call beside Allah cannot create even a fly, though they should all combine together for the purpose; and if a fly should snatch away anything from them, they cannot recover it therefrom. Their worshippers lack intelligence and they themselves lack power. Can such as these be gods? God is One Who is more powerful than all those who possess power. The Promised Messiah(as) wrote: ‘The objective of all commandments of the religion of Islam is to elucidate the reality of the beauty that is inherent in the word ‘Islam’. The Holy Qur’an comprises teachings which work towards endearing God. They exhibit His beauties and remind us of His beneficence, inasmuch as love is created either by the observation of beauty or by the remembrance of beneficence. He is the Master of all recompense and everything returns to Him. He is near and yet far, and He is far and yet near. He is above all, but it cannot be said that there is someone below Him. He is more hidden than everything else is but it cannot be said that there is something more manifest than Him. He is Self-Existing in His Being and everything is alive through Him. He is Self-Sustaining and everything is sustained by Him. Writing about complete belief in God, the Promised Messiah(as) said: ‘Our God possesses many wonders, but they are visible only to those who become His out of sincerity and loyalty. He does not disclose His wonders to those who do not believe in His Power and who are not sincere and loyal to Him. How unfortunate is the man who does not know that he has a God Who has power to do all that He wills. Our paradise lies in our God. Our highest delight is in our God for we have seen Him and have found every beauty in Him.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
11-Apr-2014   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Khutbah Ilhamiyya - The Revealed Sermon
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Persian | Malayalam
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Tamil | Malayalam
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا کہ آج حضور حضرت مسیح موعودؑ کے ایک ایسے نشان کا ذکر کروں گا جو آج کے دن یعنی اا اپریل ۱۹۰۰ میں ظاہر ہوا تھا ، یہ نشان آپؑ کا عربی زبان میں خطبہ ہےجو خاص تائید الٰہی سے آپؑ کی زبان پر جاری ہوا، یہ ایک ایسا نشان تھا جو الہامی تھا، اس لئے اس کا نام خطبہ الہامیہ رکھا گیا ، اس الہامی خطبے اور اس الہامی کیفیت کو 200 کے قریب لوگوں نے سنا اور دیکھا ، حضور کو بھی کسی نے اس طرف توجہ دلائی کہ آج کے دن کی مناسبت سے جبکہ آج جمعہ بھی ہے، حضرت مسیح موعودؑ کے اس عظیم الشان نشان کو بیان کروں۔ تاریخ احمدیت میں لکھا ہے کہ خطبہ چونکہ ایک زبردست علمی نشان تھا جیسا کہ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا، اس لئے اس کی خاص اہمیت کے پیش نظر حضرت مسیح موعودؑ نے اپنے خدام میں تحریک فرمائی کہ اسے حفظ کیا جائے چنانچہ اس کی تعمیل میں صوفی غلام محمد صاحب ، حضرت میر محمد اسماعیل صاحب ، مفتی محمد صادق صاحب اور مولوی محمد علی صاحب کے علاوہ بعض اور اصحابؓ نے اسے زبانی یاد کیا بلکہ مؤخر الذکر دو اصحاب نے حضرت مسیح موعودؑ کی مجلس میں اسے زبانی سنایا۔ حضرت مولانا شیر علی صاحب ؓ فرماتے ہیں کہ اس عید کا خطبہ الہامیہ حضرت صاحب ؑنے پڑھایا، یوم الحج کی صبح کو حضرت مسیح موعودؑ نے حضرت مولوی صاحب ؓ کو پیغام بھیجا یا خط لکھا کہ جتنے لوگ یہاں موجود ہیں ان کے نام لکھ کر میرے پاس بھیج دیں تا میں ان کیلئے دعا کروں، حضرت مولوی صاحب ؓنے موجود احباب کو تعلیم الاسلام سکول میں جمع کیا اور لوگوں کے ناموں کی فہرست تیار کروائی اور حضرت صاحب ؑ کی خدمت میں بھیجیں، حضرت صاحبؑ نے اپنے دالان کے دروازے بند کر کے دعائیں فرمائیں ، بعض لوگ جو پیچھے آتے تھے بند دروازے سے اپنے رقعے اندر بھجواتے تھے۔ حاجی عبدالکریم صاحب فوجی ملازمت کے سلسلے میں مصر گئے، شاید 1940 سے پہلے کا کچھ وقت ہے وہاں انہوں نے تبلیغ کا کام جاری رکھااور ایک دوست علی حسن صاحب احمدی ہوگئے ، انکو لیکر حاجی صاحب مختلف مصری عرب احباب کی طرف جاتےاور تبلیغ کرتے تھے، ان میں سے ایک دوست محکمہ تار میں کلرک تھے، کئی روز ان سے تبادلہ خیال ہوتا رہا، وہ تمام مسائل میں ان کےساتھ متفق ہوگئے مگر حضرت مسیح موعودؑ کو امتی نبی ماننے پر تیار نہ تھے۔ حضرت مسیح موعودؑ خطبہ الہامیہ میں فرماتے ہیں: اے لوگو! خدا کیلئے تم سب کے سب یا اکیلے اکیلے خدا کا خوف کر کے اس آدمی کی طرح سوچو جو نہ بخل کرتا ہےاور نہ دشمنی، کیا یہ وہ زمانہ نہیں کہ خدا بندوں پر رحم کرے اور کیا یہ وہ زمانہ نہیں کہ بدی کو دفع کیا جائے اور جگروں کی پیاس کا می برسانے سے تدارک کیا جائے ، کیا بدی کا سیلاب اپنی انتہا کو نہیں پہنچا اور جہالت کے دامن نے اپنے کناروں کو نہیں پھیلایا اور ملک فاسد ہو گیا اور شیطان نے جاہلوں کا شکریہ ادا کیا۔ پس یہ وہ عظیم الشان الفاظ ہیں ، دعوت ہے جو اﷲتعالیٰ کے حکم سے آپؑ نے دی ، اﷲتعالیٰ کے الہام سے آپؑ نے دی دنیا کواور یہ نشان ۱۱ اپریل 1900 کو ظہور میں آیا، آج تک یہ نشان اپنی چمک دکھلا رہا ہے اور آج تک کوئی ماہر سے ماہرزبان دان اور بڑے سے بڑا عالم اور ادیب بھی چاہے وہ عرب کا رہنے والا ہے اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور کس طرح یہ مقابلہ ہوسکتا ہے، یہ خداتعالیٰ کا کلام تھا جو آپؑ کی زبان سے ادا ہوا۔ حنیفہ بی بی صاحبہ کی شیخوپورہ میں وفات، سید محمود احمد صاحب کی کراچی میں وفات۔

Hazrat Khalifatul Masih said that he would give a discourse on a sign of the Promised Messiah(as) which appeared on today’s date, 11 April in 1900. This sign was a sermon delivered by the Promised Messiah(as) in Arabic with the special help and support of God. As it was a revelatory sign, it is called The Revealed Sermon. It was listened and witnessed by two hundred people. Someone drew Huzoor’s attention to speak on this magnificent sign as the date fell on a Friday. It is written in Tarikh e Ahmadiyyat that because the Sermon was a tremendous literary sign the Promised Messiah(as) motivated his Khuddam to memorise it. In compliance, Sufi Ghulam Muhammad Sahib, Hazrat Mir Muhammad Ismail Sahib, Mufti Muhammad Sadiq Sahib , Maulawi Muhammad Ali Sahib and some others memorised it. Hazrat Maulawi Sher Ali Sahib said that the Promised Messiah(as) delivered the Revealed Sermon at Eid. He had sent a message to Maulana Nur ud Din in the morning of the day before Eid to send him a list of names of all the people who were present so that he could pray for them. Maulawi Sahib prepared a list and sent it. Huzoor prayed with the doors of his courtyard shut and people who came later would slip their notes [with names] through the closed door. Haji Abdul Karim Sahib went to Egypt for his military service, perhaps some time prior to 1940. He did Tabligh work there and a friend called Ali Hassan Sahib became Ahmadi. Haji Sahib would accompany him and visit Egyptian friends for Tabligh. One of them was a clerk in telegraph department. They exchanged thoughts for many days and he was convinced of all matters but did not accept the Promised Messiah(as) to be a subordinate Prophet. Promised Messiah(as) in his Revealed Sermon said: O People! For the sake of God, fear Him and think collectively or individually like that person who is neither narrow-minded nor has any enmity. Has the time not come for God to have mercy on people? And has the time not come for wickedness to be eliminated and parched souls to be satiated with spiritual rain? And has the deluge of evil not reached its height and ignorance spread boundlessly? The country has become wicked and Satan is grateful to the ignorant. These are the magnificent words of the invitation that the Promised Messiah(as) gave with the command of Allah the Exalted on 11 April 1900. This sign continues to demonstrate its glory to this day and to this day no expert linguistic or great scholar or author even if he is from Arabia can match it. How could this ever be matched, for these were the words of God which were uttered from the tongue of the Promised Messiah(as). Death of Hanifa Bibi Sahiba of Sheikhupura and Syed Mahmood Ahmad Shah Sahib of Karachi.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
04-Apr-2014   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Dutch (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Essence of True Love for Allah
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Persian | Malayalam
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا : پس یہی محبت کا راز ہے کہ خداتعالیٰ کی صفات کو اپنانا ، معرفت کے ضمن میں بتایا گیا تھا کہ جب تک تمام صفات کا علم نہ ہو معرفت نہیں ہوسکتی اور معرفت کے بعد جب انسان مزید آگے بڑھتا ہے تو محبت ہے اور محبت اسی وقت کامل ہوتی ہے جب اﷲتعالیٰ کی صفات کو اپنایا بھی جائے، صرف علم صاصل کرنا ہی ضروری نہیں بلکہ اسے اپنایا بھی جائے، اﷲتعالیٰ کے رنگ میں رنگین ہوا جائے اور پھر اﷲتعالیٰ کا نور حاصل ہوتا ہے۔ یہ مقولہ کہ میری اپنی ہی آبپاشی سے ہی میری کھیتی ہوئی، میرے اپنے ہی بازو سے یہ کامیابی مجھے ہوئی یا زید کی مہربانی سے فلاں مطلب پوری ہوا اور بکر کی خبر گیری سے میں تباہی سے بچ گیا، یہ تمام باتیں ہیچ اور باطل معلوم ہونے لگتی ہیں اور ایک ہی ہستی اورایک ہی قدرت اور ایک ہی محسن اور ایک ہی ہاتھ نظر آتا ہے تب انسان ایک صاف نظر سے جس کے ساتھ ذرہ شرک فی الاسباب گرد و غبار نہیں خدا تعالیٰ کے احسانوں کو دیکھتا ہے ۔ خداتعالیٰ نے تو اس دین کا نام اسلام اس غرض سے رکھا ہے کہ تا انسان خدا تعالیٰ کی عبادت نفسانی اغراض سے نہیں بلکہ طبعی جوش سے کرے کیونکہ اسلام تمام اغراض کو چھوڑ دینے کے بعد رضا بالقضاء کا نام ہے ، دنیا میں بجز اسلام جیسا کوئی مذہب نہیں جس کے یہ مقاصد ہوں، بیشک خداتعالیٰ نے اپنی رحمت جتلانے کیلئے مومنوں کو انواع و اقسام کی نعمتوں کے وعدے دئیے ہیں مگر مومنوں کو جو اعلیٰ مقام کے خواہش مند ہیں یہی تعلیم دی ہے کہ وہ محبت ذاتی سے خداتعالیٰ کی عبادت کریں ۔ یہی بھید ہے کہ خداتعالیٰ سے پاک اور کامل تعلق رکھنے والے ہمیشہ استغفار میں مشغول رہتے ہیں کیونکہ یہ محبت کا تقاضا ہے کہ ایک محب صادق کو ہمیشہ یہ فکر لگی رہتی ہے کہ اس کا محبوب اس پر ناراض نہ ہو جائے اور چونکہ اس کے دل میں ایک پیاس لگادی جاتی ہے کہ خدا کامل طور پر اس سے راضی ہو ، اس لئے اگر خدا تعالیٰ یہ بھی کہے کہ میں تجھ سے راضی ہوں تب بھی وہ اس قدر پر صبر نہیں کر سکتا۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: یہ معلوم کر لو کہ تم میں سے عاشق صادق کی سی محبت ہے ، جس طرح وہ اس کے ہجر میں اس کے فراق میں بھوکا مرتا ہے ، پیاس سہتا ہے، نہ کھانے کا ہوش ، نہ پانی کی پرواہ، نہ اپنے تن بدن کی کچھ خبر ، اسی طرح تم بھی خدا کی محبت میں ایسے محو ہو جاؤکہ تمہارا وجود ہی درمیان سے گم ہو جائے پھر اگر ایسے تعلق میں انسان مر بھی جاوے تو بڑا ہی خوش قسمت ہے ، ہمیں تو ذاتی محبت سے کام ہے ، نہ کشوف سے غرض نہ الہام کی پرواہ۔ اگر تم خدا کے ہو جاؤ گے تو یقینا سمجھو کہ خدا تمہارا ہی ہے ، تم سوئے ہوئے ہو گے اور خداتعالیٰ تمہارے لئے جاگے گا ، تم دشمن سے غافل ہوگے اور خداتعالیٰ اسے دیکھے گا اور اس کے منصوبے کو توڑے گا ، تم ابھی تک نہیں جانتے کہ تمہارے خدا میں کیا کیا قدرتیں ہیں ، اگر تم جانتے تو تم پر کوئی ایسا دن نہ آتا کہ تم دنیا کیلئے سخت غمگین ہو جاتے ، ایک شخص جو خزانہ اپنے پاس رکھتا ہے، کیا وہ ایک پیسے کے ضائع ہوجانے سے روتا ہے اور چیخیں مارتا اور ہلاک ہونے لگتا ہے۔

Huzoor explained that adopting Divine attributes is an expression of love of God and as Huzoor had explained in his Friday sermons based on knowledge and understanding of God a few weeks ago, unless one is aware of all attributes of God one cannot have His knowledge and understanding. Love of God is the next step up and when Divine attributes are adopted one receives Divine light. Phrases like, ‘my crop flourished only because I irrigated it’ or ‘I was successful because of my own endeavour’, or ‘my such and such purpose was fulfilled because of Zaid’s kindness’ or ‘I was saved from ruin because of Bakr’s vigilance’ appear trivial and false. One sees only One Being, One Power, One Benefactor and One Hand. It is then that man sees favours of God Almighty with clarity and with no hint of the murkiness of relying on ways and means. God Almighty has named this religion Islam with the objective of man worshipping God Almighty owing to his inherent passion and not selfish motives because Islam is the name of abandoning all motives and willingly submitting to the will of God. There is no other religion in the world save Islam which has these objectives. No doubt, as a sign of His grace God Almighty has promised the believers all kinds of blessings. However, the believers who aspire to higher station have been taught to worship God out of personal love for Him. It is for this reason that those who enjoy a holy and perfect relationship with God always occupy themselves with Istighfar. A true lover is always apprehensive lest his beloved should become annoyed with him, and his heart is filled with the thirst to please Him perfectly, and he is not content even when God Himself informs him that He is pleased with him. The Promised Messiah(as) said: ‘If you find out that you have the capacity to love like a true and ardent devotee, who endures hunger and thirst when separated from the Beloved and has no care for food or drink or his body, you should become absorbed in love of God in such a way that your own being is lost somewhere along the way. Man is very fortunate if he dies in such a state. We are interested in personal love and not revelations and visions. If you become God’s, be assured that God is yours. He will wake for you when you are asleep, you will be unaware of the enemy and He will watch over him, and will destroy his ploys. You do not know yet of the powers of your God. Had you known you would have been extremely saddened every day for this world! A person who has a treasure-trove with him does not scream and cry over losing a penny.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
28-Mar-2014   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Signs of Truth: The Promised Messiah and Mahdi
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Persian | Malayalam
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: میری تائید میں اس نے وہ نشان ظاہر فرمائے ہیں کہ آج کی تاریخ سے جو 16 جولائی 1906 ہے، اگر میں ان کو ایک ایک کر کے شمار کروں تو میں خداتعالیٰ کی قسم کھا کر کہ سکتا ہوں کہ وہ تین لاکھ سے بھی زیادہ ہیں اور اگر کوئی میری قسم کا اعتبار نہ کرے تو میں اس کو ثبوت دے سکتا ہوں ،بعض نشانات اس قسم کے ہیں جن میں خدا تعالیٰ نے ہر ایک محل پر اپنے وعدے کے موافق مجھ کو دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھا اور بعض نشان اس قسم کے ہیں جن میں ہر محل میں اپنے وعدے کے موافق میری ضرورتیں اور حاجتیں اس نے پوری کیں۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: سورج اور چاند کو رمضان میں گرہن لگنا ، کیا یہ میری اپنی طاقت میں تھا کہ میں اپنے وقت میں کر لیتا اور جس طرح آنحضرت ﷺ نے اس کو سچے مہدی کا نشان قرار دیا تھا اور خداتعالیٰ نے اس نشان کو میرے دعویٰ کے وقت پورا کر دیا ، اگر میں اس کی طرف سے نہیں تھا تو کیا خداتعالیٰ نے خود دنیا کو گمراہ کیا؟ اس کا سوچ کر جواب دینا چاہئے کہ میرے انکار کا اثر کہاں تک پڑتا ہے، آنحضرت ﷺ کی تکذیب اور پھر خداتعالیٰ کی تکذیب لازم آ تی ہے۔ سید حامد شاہ صاحب سیالکوٹی لکھتے ہیں کہ حافظ سلطان سیالکوٹی حضور کا سخت مخالف تھا، یہ وہی شخص تھا جس نے ارادہ کیا تھا کہ سیالکوٹ میں آپؑ کی سواری گزرنے پر آپؑ پر راکھ ڈالے، آخر وہ سخت طاعون سے اسی 1906 میں ہلاک ہوا اور اس کے گھر کے 9 یا 10 آدمی بھی طاعون سے ہلاک ہوئے۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: جو نشانات دیئے گئے بعض ان میں سے وہ پیشگوئیاں ہیں جوبڑے بڑے غیب کے امور پر مشتمل ہیں کہ بجز خدا کے کسی کے اختیار اور قدرت میں نہیں کہ ان کو بیان کر سکےاور بعض دعائیں ہیں جو قبول ہو کر اطلاع دی گئی اور بعض بددعائیں ہیں جن کے ساتھ شریر دشمن ہلاک کئے گئےاور بعض دعائیں از قسم شفاعت ہیں جن کا مرتبہ دعا سے بڑھ کر ہےاور بعض مباہلات ہیں جن کا انجام یہ ہوا کہ خدا نے دشمنوں کو ہلاک اور ذلیل کیا ۔ مالی سے ہمارے معلم عبداﷲصاحب لکھتے ہیں کہ ایک احمدیت کے سخت مخالف جب بھی احمدیہ ریڈیو فون کرتے تو جماعت کو گالیاں نکالنے لگ جاتے ، اسی طرح انہیں کافی عرصہ گزر گیا، ایک دفعہ انہوں نے روتے ہوئے احمدیہ ریڈیو جس کا نام ربوہ ایف ایم ہے ٹیلی فون کیا اور بتایا کہ انہوں نے ایک رات پہلے حضرت اقدس مسیح موعودؑ کو خواب میں دیکھا تھا اور جو نور اس نے حضرت مسیح موعودؑ کے ساتھ دیکھا وہ پہلے کبھی نہیں دیکھا ، لہذٰا وہ جماعت سے صدق دل سے معافی مانگتے ہیں اور اس بات سے ڈرتے ہیں کہ اگر احمدیوں نے انہیں معاف نہ کیا تو خدا بھی انہیں معاف نہیں کرے گا ، اس پر معلم صاحب نے انہیں احمدیت میں شامل ہونے کی دعوت دی چنانچہ انہوں نے احمدیت قبول کر لی۔ حضور نے امت مسلمہ اور مسلمان ممالک کیلئے دعا کرنے کی درخواست کی، اﷲتعالیٰ ان ملکوں میں امن اور سلامتی قائم فرمائے اور اس بات کو یہ تسلیم کر لیں کہ یہ امن اور سلامتی اگر حقیقت میں قائم کرنی ہے تو اس کا ایک ہی حل ہے ، اﷲتعالیٰ نے جس کو امام مہدی بنا کر بھیجا ہے، جس کو امن قائم کرنے کیلئے بھیجا ہے ، اس کو یہ قبول کرلیں، اس مسیح محمدی کی پیروی کریں جس کی پیشگوئیاں آنحضرت ﷺ نے بھی فرمائی تھیں، اﷲ تعالیٰ ان کو توفیق عطا فرمائے۔

Promised Messiah(as) said God has shown so many signs in my support that if I were to count them one by one up to this day, 16th July, 1906, I can swear by God that they are in excess of three hundred thousand. And if someone does not believe in my oath, I can provide him with proof. Some of these signs are to do with occasions when God Almighty, in keeping with His promise, protected me from being harmed by the enemy. Some of the signs are such that, in keeping with His promise, God always fulfilled my needs and my wishes. Promised Messiah(as) said: Was it within my capacity that the sun and the moon should eclipse in Ramadan and could I have made it happen in my time! As the Holy Prophet(saw) had called it a sign of the true Mahdi and Allah the Exalted fulfilled this sign at the time of my claim. If I was not from Him, did God Almighty Himself lead the world astray? You should think and answer as to how far be the repercussions of denying me! Certainly it includes denial of the Holy Prophet (saw) and denial of God Almighty. Syed Hamid Shah Sialkoti writes that Hafiz Sultan Sialkoti was a severe opponent of Huzoor. This is the person who had planned to throw dust on the carriage/conveyance of Huzoor as it passed through Sialkot. He died of severe plague in 1906 and nine or ten members of his family also died of the plague. Promised Messiah(as) said: Among the miracles given to me were prophecies which constitute tremendous matters of the unseen and it is not in anyone’s power apart from God’s to articulate them. There are some prayers which were accepted and thus fulfilled and there are some maledictions through which mischievous enemies were destroyed. Some prayers are in the mode of intercession and are of a greater status than prayer and there are also some Mabahalas (prayer duels) which resulted in God destroying and disgracing the enemies. Our mu’allim from Mali Abdullah Sahib writes that an opponent of the Jama’at always rang Ahmadiyya radio to hurl abuse. A long time had passed when he rang radio Rabwah FM, our radio station, crying. He said he had seen the Promised Messiah(as) in a dream the night before and he had never experienced the spiritual radiance he saw around the Promised Messiah(as). He feared that if Ahmadis did not forgive him God may not forgive him either. He was invited to accept Ahmadiyyat which he did! Huzoor asked for prayers for Muslim Ummah and Muslim countries. May Allah establish peace and security in all the countries and may they acknowledge that there is only one solution to establish peace and security and that is accepting the Promised Messiah(as) about whom the Holy Prophet(saw) had prophesised. May Allah enable them to do so!

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
21-Mar-2014   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Signs of Truth: The Promised Messiah and Mahdi
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Persian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

علم اور معرفت کو خداتعالیٰ نے حقیقت دین اسلامیہ کے حصول کا ذریعہ ٹھئرایا ہے اور اگرچہ حقیقت اسلام کے وسائل اور بھی ہیں جیسے صوم و صلوٰۃ اور دعا اور تمام احکام الٰہی جو 600 سے بھی کچھ زیادہ ہیں لیکن عظمت تو وحدانیت ذات اور معرفت شیون صفات جلالی اور جمالی حضرت باری ذات ، وسیلۃ الوسائل اور سب کا موقوف ہے ، کیونکہ جو شخص غافل دل اور معرفت الٰہی سے بکلی بے نصیب ہے،وہ کب توفیق پاسکتا ہے کہ صوم اور صلوٰۃ بجا لاوے ۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا کہ دو دن کے بعد 23 مارچ یوم مسیح موعودؑ کے حوالے سے منایا جائے گا ، جس میں اس دن کی مناسبت سے مربیان و علماء حضرت مسیح موعودؑ کی سیرت اور آپؑ کے ساتھ الٰہی نصرت اور الٰہی تائیدات اور نشانات و معجزات کا ذکر کریں گے ، اتفاق سے آج کے خطبہ میں بھی اسی بات کا ذکر ہو رہا ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: جیسا کہ ایک اور حدیث میں بیان کیا گیا ہے گرہن دو مرتبہ رمضان میں واقعہ ہو چکا ہے ، اول اس ملک میں دوسرے امریکہ میں اور دونوں مرتبہ انہی تا ریخوں میں ہوا ہے جن کی طرف حدیث اشارہ کرتی ہے اور چونکہ اس گرہن کے وقت میں مہدی موعود کا مدعی بجز میرے کوئی نہیں تھا اور نہ کسی نے میری طرف اس گرہن کو اپنی مہدویت کا نشان دے کر صد ہا اشتہار اور رسالے اردو اور عربی اور فارسی میں دنیا میں شائع کئے ، اسلئے یہ نشان آ سمانی میرے لئے متعین ہوا۔ بعض نادان مولوی لکھتے ہیں کہ غلام دستگیر نے مباہلہ نہیں کیا، صرف ظالم پر بدعا کی تھی مگرمیں کہتا ہوں کہ جبکہ اس نے میرے مرنے کی بدعا کے ساتھ خدا سے فیصلہ چاہا تھا اور مجھے ظالم قرار دیا تھا تو پھر وہ بدعا اس پر کیونکر پڑ گئی اور خدا نے ایسے نازک وقت میں جب لوگ خدائی فیصلےکے منتظر تھے ، غلام دستگیر کو ہی کیوں ہلاک کر دیا اور جبکہ وہ اپنی دعا میں میرا ہلاک ہونا چاہتا تھا تا دنیا پر یہ ثابت کردے جیسا کہ محمد طاہر کی بدعا سے جھوٹا مہدی اور جھوٹا مسیح ہلاک ہو گیا تھا ، میری بدعا سے یہ شخص ہلاک ہو گیا۔ آج 125 سال ہو گئے ہیں اور اﷲتعالیٰ کے فضل سے یہ سلسلہ ترقی کرتا چلا جا رہا ہے، پس کیا یہ لوگ عقل استعمال نہیں کریں گے؟ مخالفین اپنی مخالفتوں سے باز نہیں آئیں گے؟ اﷲتعالیٰ سے دعا ہی ہے کہ اﷲتعالیٰ ان کو عقل دے اور یہ زمانے کے امام اور مسیح موعودؑ کو پہچاننے والے ہوں ورنہ جب اﷲتعالیٰ کی پکڑ آتی ہے تو پھر تمام مخالفین چاہے وہ کتنی طاقت رکھنے والے ہوں خش و خاک کی طرح اڑ جاتے ہیں ، ایک سوکھی ہوئی لکڑی کی طرح بھسم ہو جاتے ہیں، اﷲ کرے ان کو عقل آ ئے اور یہ پہچاننے والے بنیں۔ مکرمہ و محترمہ لطیفہ الیاس صاحبہ کی امریکہ میں وفات۔

God has appointed knowledge and understanding as the principal means of obtaining a true concept of Islam. Though there are other means for obtaining such knowledge, like fasting, Prayer, supplication and carrying out all the Divine commandments, the number of which exceeds six hundred, yet the knowledge of the Greatness of God and of His Unity and of His attributes of Glory and Beauty is basic for everything. After this explanation Huzoor said that in two days InshaAllah the Jama’at will commemorate Masih e Maud Day on 23 March. On this occasion scholars and orators speak on the subject and mention God’s help and support for the Promised Messiah(as). It was a beautiful coincidence that Huzoor spoke today, two days prior, with reference to the same subject. The Promised Messiah(as) further said: ‘Just as another Hadith relates the eclipse took place twice in the month of Ramadan. First in this country and the second time in America and it came to pass both times during the dates the Hadith refers to. Since at the time these eclipses took place, no one in the world except me claimed to be the Mahdi and Messiah and no one declared the eclipse to be a sign of him being the Mahdi like I did publishing hundreds of posters and pamphlets in Urdu, Persian and Arabic around the world, therefore this heavenly sign is designated to me. Some foolish Maulwis write that Ghulam Dastgir did not give challenge of Mubahla and only invoked malediction upon the cruel. But I say that since he asked God’s verdict through my death and called me cruel then why did the malediction befall him? And why did God kill Ghulam Dastgir at a sensitive time when people anticipated Divine verdict, whereas he wished my death in his prayer so that he could prove to the world that just as a false Mahdi and Messiah had died through the malediction of Muhammad Tahir, this person died through my malediction. Today 125 years have elapsed and the Jama’at is moving onwards and upwards. Will these people not have sense? Will our opponents not desist from their opposition? It is our prayer that may God give them sense and they accept the Imam of the age, the Promised Messiah(as). Because when God’s chastisement comes it seizes no matter how powerful one may be, it blows like dust and turns into cinders! May they understand and recognise the truth. Death of Sister Latifa Ilyas Sahiba in USA.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
14-Mar-2014   Urdu (mp3)English (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Essence of Recognizing Allah
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Persian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Tamil | Malayalam
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

آج حضرت خلیفۃ المسیح حضرت مسیح موعودؑ کی تحریرات اور ارشادات کے کچھ نمونے پیش فرمائیں گےجس میں معرفت الٰہی کے بارہ میں آپؑ نے راہنمائی فرمائی ہے، صرف اس ضمن میں ہی آپؑ کی تحریرات پیش کی جائیں تو بیسیوں بلکہ سینکڑوں صفحات اس بارہ میں مل جاتے ہیں تاہم جیسا کہ حضور نے فرمایا چند اقتباسات بطور نمونہ پیش فرمائیں گے جو اس بارہ میں ہماری راہنمائی کرتے ہیں کہ معرفت الٰہی کیا ہے، انبیاء اور اولیاء کا تواس میں ایک مقام ہے ہی، ایک عام مسلمان کو بھی اس کا کیا معیار ہونا چاہئے ۔ حضرت مسیح موعودؑ اس بات کی تشریح کرتے ہوئے کہ انسان گناہ کی طرف کیوں زیادہ گرتا ہے فرماتےہیں: گناہ پر دلیری بھی خدا کے خوف کا دلوں میں نہ موجود ہونا ہے لیکن یہ خوف کیونکر پیدا ہو اس کیلئے معرفت الٰہی کی ضرورت ہے ، جس قدر خدا کی معرفت زیادہ ہوگی اسی قدر خوف زیادہ ہوگا، جو زیادہ عرفان رکھتا ہے وہ اتنا ہی خوف رکھتا ہے اور لرزاں اور ترساں رہتا ہے،فرمایا اس امر میں اصل معرفت ہے، معرفت ایک ایسی شے ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے انسان ادنیٰ ادنیٰ کیڑوں سے بھی ڈرتا ہے ، جیسے پسو اور مچھر کی معرفت ہوتی ہے تو انسان اس سے بھی بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ گناہوں سے پچنے کیلئے معرفت کی اہمیت کو ایک جگہ حضرت مسیح موعودؑ نے یوں بیان فرمایا ہے، فرماتے ہیں کہ معرفت بھی ایک شے ہے جو گناہ سے انسان کو روکتی ہے جیسے جو شخص سم الفار، سانپ اور شیر کو ہلاک کرنے والا جانتا ہے تو وہ انکے نزدیک نہیں جانتا ایسے جب تم کو معرفت ہوگی، تم گناہ کے نزدیک نہ پھٹکو گے، اس کیلئے ضروری ہے کہ یقین بڑھاؤ اور وہ دعا کے ذریعے بڑھے گا اور نماز خود دعا ہے ، نماز کو جس قدر سنوار کر ادا کرو گے اسی قدر گناہوں سے رہائی پاتے جاؤ گے، معرفت صرف قول سے حاصل نہیں ہوسکتی۔ نیکیوں کے بجالا نے اور برائیوں سے روکنے کیلئے معرفت الٰہی کے مضمون پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں : تمام سعادت مندیوں کا مدار خدا شناسی پر ہے اور نفسانی جذبات اور شیطانی محرکات سے روکنے والی صرف ایک ہی چیز ہے جو خدا کی معرفت کاملہ کہلاتی ہے، جس سے پتہ لگ جاتا ہے کہ خدا ہے ، وہ بڑا قادر ہے ، وہ ذوالعذاب شدید ہے ، یہی ایک نسخہ ہے جو انسان کی سرکش زندگی پر ایک بھسم کرنے والی بجلی گراتا ہے، پس جب تک انسان اﷲ پر ایمان لانے کی حدسے نکل کر اسکی پہچان اور معرفت حاصل کرنے کی منزل پر قدم نہیں رکھتا ، اس کا گناہوں سے بچنا محال ہے۔ بعض لوگ شکایت کرتے ہیں کہ ہم نے سب نیکیاں کیں ، نماز بھی پڑھی، روزے بھی رکھے، صدقہ خیرات بھی دیا، مجاہدہ بھی کیا مگر ہمیں وصول کچھ نہیں ہوا تو ایسے لوگ شقی ازلی ہوتے ہیں ، وہ خداتعالیٰ کی ربوبیت پر ایمان نہیں رکھتے اور نہ انہوں نے سب اعمال خداتعالیٰ کیلئے کئے ہوتے ہیں، اگر خداتعالیٰ کیلئے کوئی فعل کیا جاوے تو یہ ممکن نہیں کہ وہ ضائع ہو اور خداتعالیٰ اس کا اجر اسی زندگی میں نہ دیوے، اسی وجہ سے اکثر لوگ شکوک و شبہات میں رہتے ہیں اور انکو خداتعالیٰ کی ہستی کا کوئی پتہ نہیں لگتا۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا : پس یہ وہ مقصد ہے جس کیلئے حضرت مسیح موعودؑ مبعوث ہوئے تھے کہ خداتعالیٰ کی ایسی معرفت ہم میں پیدا فرمائیں گویا ہم خداتعالیٰ کو دیکھتے ہیں اور اپنے ہر فعل کو خداتعالیٰ کی محبت اور اس کے خوف کو سامنے رکھتے ہوئے بجا لائیں ، ایسی معرفت الٰہی ہم میں پیدا ہو جائے جو ہمارے تمام گناہوں کو جلادے اور ہم آپؑ کی بعثت کے مقصد کو پورا کرنے والے بنیں ، اﷲتعالیٰ ہمیں ان تمام باتوں پر عمل کرنے کی اور اس روح کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ عبدالسبحان منان دین صاحب کی یوکے میں وفات۔

Today Hazrat Khalifatul Masih presented some extracts from the writings and pronouncements of the Promised Messiah(as) regarding Divine knowledge, or knowledge of God. His writings on this subject cover hundreds of pages but today just a few examples were presented as regards to his guidance on Divine knowledge. Prophets of God and saints have a distinct station in Divine knowledge, but the Promised Messiah(as) explained what should be the standard of an ordinary Muslim in this respect. The Promised Messiah(as) explained why man lowers himself towards sin so much. He said the audacity to commit sin stems from hearts devoid of fear of God. How can fear of God be generated? For this Divine knowledge is required, the greater one’s Divine knowledge the more one will fear God. Divine knowledge is central and it results in fear of God. When man has knowledge of something, he even fears and avoids tiny insects like the flea and mosquito etc. The Promised Messiah(as) said about the significance of knowledge in respect of avoiding sin that knowledge is something that prevents man from sinning. Just as a man who knows that arsenic kills snakes and lions, does not go near it. Similarly, if man has knowledge he does not go near sin. This is why it is important to enhance/develop knowledge and this happens with prayer. Salat is Prayer. The more one adorns one’s Salat the freer one is from sin. Knowledge cannot be attained by verbally professing something. The Promised Messiah(as) said about doing good and shunning evil that all goodness is dependent on recognising God and there is only one thing that stops selfish passions and satanic actions and that is perfect knowledge of God. It tells us that there is a God Who is All-Powerful and is Severe in reckoning. This is the only formula which falls like scorching lightening on man’s refractory life. Until man moves from the stages of ‘belief in Allah’ to ‘knowledge of Allah’ it is not possible for him to avoid sin. Some people complain that they did good, offered Salat, fasted, gave alms and charity and made spiritual endeavour but they did not attain anything. Such people are inherently miserable and they do not believe in the Divine quality of Rububiyyat (quality of nurturing) and their good deeds were not done for God Almighty. If something is done for the sake of God Almighty it is not possible for it to go wasted and for God Almighty to not reward it in this life. This is why many people remain embroiled in suspicions and they are not even sure if God Almighty exists or not. Huzoor said this was the objective for which the advent of the Promised Messiah(as) took place; to instil knowledge of God in us in a manner as if we are seeing God. May we do everything in light of love and fear of God and may we have such Divine knowledge instilled in us which burns away all our sins and we fulfil the objective of the Promised Messiah’s advent. May God enable us to put all this in practice and understand its spirit! Death of Abdul Subhan Mannan Din Sahib in UK.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
07-Mar-2014   Urdu (mp3)English (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Conference of World Religions 2014
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Persian | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Tamil | Malayalam
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا: تقریبا تین ہفتے پہلے جماعت احمدیہ یوکے نے برطانیہ میں جماعت کے سو سال مکمل ہونے پر ایک تقریب منعقد کی تھی جس میں مختلف مذاہب کے علماء یا نمائندوں کو دعوت دی گئی تھی کہ وہ اپنی اپنی مقدس کتب پر بنیاد رکھتے ہوئے خداتعالیٰ اور مذہب کے تصور کی تعلیم کو پیش کریں اور یہ کہ 21ویں صدی میں خداتعالیٰ کا کردار اور خداتعالیٰ کی کیا ضرورت ہے ،بہرحال ظاہر ہے اس میں اسلام کی نمائندگی تو ہونی تھی اور جماعت نے کرنی تھی جو حضور نے کی ، اس کے علاوہ یہودی، عیسائی، بدھ مت، دروزی، ہندومت وغیرہ کی بھی نمائندگی تھی جنہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور زرتشتی اور سکھوں کی نمائندگی بھی تھی۔ حضور نے فرمایا کہ تفصیلات بیان کرنے سے پہلے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یوکے جماعت کی انتظامیہ جنہوں نے اتنا بڑا فنکشن کیا ، ان کو جس طرح اس فنکشن کی تشہیر کرنی چاہئے تھی، اس طرح نہیں کی، یعنی فنکشن سے پہلے اور اس بات پر خوش ہوگئے کہ فنکشن کر رہے ہیں اور اتنے لوگ آئیں گے حالانکہ یہ موقع تھا کہ جماعت کے وسیع پیمانے پر تعارف اور اسلام کی خوبصورت تعلیم کے پرچار کا زیادہ سے زیادہ لوگوں کو بتایا جاتا، اگر پریس سے صحیح رابطہ ہوتا تو جو کوشش امیر صاحب اور ان کی ٹیم کر رہی ہے ، خبریں لگوا رہے ہیں ،یہ خود بخود لگتی ہیں اور اس سے بہتر طریق پر لگتی ہیں۔ بیرونیس سعیدہ وارثی صاحبہ کہتی ہیں :آج اس ہال میں جلسہ مذاہب عالم کیلئے جمع ہونے والے معزز مہمانوں کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کرنا میرے لئے اعزاز ہے، یہ کانفرنس جماعت احمدیہ کے وسعت حوصلہ ، کشادہ دلی، کشادہ نظری، اعلیٰ ظرفی کی آ ئینہ دار ہے کہ آ پ لوگوں نے عالمی نوعیت کی ایسی تقریب کا انعقاد کیا ہے جس میں صرف اپنی جماعت کے عقائد کو پیش کرنے کی بجائے تمام مذاہب کے نمائند گان کو اپنا اپنا نقطہ نظر پیش کرنے کی دعوت دی ہے۔ ملکہ جو چرچ آف انگلینڈ کی سربراہ ہیں ، ان کے پرائیویٹ سیکرٹری نے لکھا کہ ملکہ عالیہ انگلستان کیلئے جماعت احمدیہ انگلستان کی طرف سے اپنے صد سالہ جشن کے موقع پر گلڈ ہال میں اس عظیم الشان جلسہ مذاہب عالم کے انعقاد کا پیغام باعث مسرت ہے، ملکہ عالیہ کو اس جلسہ کے مقاصد جان کر بہت خوشی ہوئی اور وہ آپکے پیغام بھجوانے کی درخواست پر بہت ممنون ہیں ، ملکہ عالیہ کی آپ سب کیلئے دلی تمنا ہے کہ جلسہ کامیاب ہوجائے۔ حضرت خلیفۃ المسیح نےکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: جب خداتعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو دنیا کی اصلاح کیلئے بھیجا تو آپﷺ نے اس کے حصول کیلئے تبلیغ کو انتہا تک پہنچایا اور صرف تبلیغ ہی نہیں کی بلکہ راتوں کو اس شدت سے اس کے نتائج حاصل کرنے اور لوگوں کے سینوں کو کھولنے کیلئے دعائیں کیں کہ آپﷺ کی سجدہ گاہیں آنسوؤں سے تر ہوجاتی تھیں ، آپﷺ کے دل میں انسانیت کی اصلاح اور اسے تباہی سے بچانے کیلئے جو درد تھا وہ بیان نہیں کیا جاسکتا۔ حضرت خلیفۃ المسیح نےکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اس زمانے میں اﷲتعالیٰ کے بھیجے ہوئے کے ساتھ اﷲتعالیٰ کی تائیدات ہیں ، اگر یہ نہ ہوتیں تو ہندوستان کے ایک دور دراز قصبے میں رہنے والا اﷲتعالیٰ کے پیغام کو تمام دنیا میں نہ پھیلا سکتا اور پھر حضرت مسیح موعودؑ کی وفات کے بعد خلافت کا نظام قائم ہوا جس کے تحت یہ مشن آگے بڑھتا چلا جا رہا ہے اور یہ جہاں خداتعالیٰ کے وجودکا ثبوت ہے اس زمانے میں وہاں جماعت احمدیہ کے ساتھ خداتعالیٰ کی تائیدات کا بھی ثبوت ہے۔ آخر پر حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا : اﷲ کرے کہ دنیا اپنے پیدا کرنے والے کی طرف رجوع کرے ، اسے پہچانے اور خداتعالیٰ کو پہچاننے سے ہی اس تباہی سے بچ سکتے ہیں جو ہمارے سامنے کھڑی ہے جس کی وارننگ حضرت مسیح موعودؑ نے اپنے کلام اور تحریرات میں بہرحال دی ہے ، حضور نے پاکستان کے حالات کے بارہ میں دعا کیلئے فرمایا ، دعا کریں کہ اﷲتعالیٰ شر پسند لوگوں سے اس ملک کو بچائے ، احمدیوں کو بھی محفوظ رکھے اور ان سب لوگوں کو بھی محفوظ رکھے جو امن کے خواہاں ہیں اور اس فتنہ و فساد سے بچنا چاہتے ہیں اور اس کا حصہ نہیں ، اسی طرح شام کے حالات کیلئے بھی دعا کریں ، اﷲتعالیٰ وہاں بھی احمدیوں کو محفوظ رکھیں۔

Hazrat Khalifatul Masih said that about three weeks ago Jama’at Ahmadiyya UK held a conference to commemorate its 100 years in Britain. Scholars and representatives of various religions were invited to present concept of God and religion based on their scriptures. The theme of the conference was God in the 21st Century. Indeed, Islam was going to be represented at the conference and it was done by Hazrat Khalifatul Masih. Other religions represented were Judaism, Hinduism, Buddhism, Druzes and Zoroastrianism. Also present at the event were Sikhs and Baha’i. Before giving the details Huzoor said that the administration of UK Jama’at which organised such a big event did not promote it ahead of time as they should have and were satisfied by simply organising it and anticipating a large number of guests. This was a chance to introduce the Jama’at on a wide scale and disseminate the beautiful teaching of Islam to as many people as possible. If the media had been contacted properly it would have produced better results than what we have as a result of efforts Ameer Sahib and his team is making now. Baroness Warsi said: ‘It is an honour to speak before such an illustrious audience in such prestigious surrounding here at the conference of world religions. It is a testament to the openness and the pragmatism and the humility of the Ahmadiyya community that your flagship global event today is not just about celebrating your own faith but you are celebrating all faiths. A message from Her Majesty the Queen who is the supreme governor of the Church of England and defender of the faith read: ‘The Queen was pleased to receive your kind message sent on behalf of the Ahmadiyya Muslim Association UK on the occasion of the conference of world religions being held today at Guildhall as part of your centenary celebrations. Her Majesty was interested to learn of the aims of the conference and appreciates your thoughtfulness in writing as you did. Huzoor told the conference that when God sent the Holy Prophet(saw) to reform the entire world, he surpassed in disseminating the message and not only that, he spent his nights in intense prayer and supplication made to God. In doing so he wept with such anguish and heartache that the place where he prostrated would become submerged in tears. His agony and anguish to reform mankind cannot be described in words. Huzoor also told the conference that God’s help is with the one He sent in this age, otherwise how could a claimant from a small village in India become renowned throughout the world. And following his passing away without God’s help he could not have left behind such a flourishing community. A community which due to being firmly attached to the institution of Khilafat, was furthering his mission throughout the world. Next Hazrat Khalifatul Masih said that may the world turn to its Maker, it can only be saved from the destruction that it faces by turning to God. Indeed, the Promised Messiah(as) had warned about this in his writings. Huzoor asked for prayers for the situation in Pakistan. May God save the country from the evil and keep Ahmadis safe and also them safe who wish for peace and wish to avoid conflict and strife. Prayers should also be made about the situation in Syria, may God protect Ahmadis there.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
28-Feb-2014   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: A Conference on Some Living Religions
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Persian | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

ستمبر 1924 میں اس شہر لندن میں ایک مذاہب کانفرنس منعقد ہوئی تھی، اس میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی بنفس نفیس شامل ہوئے تھے،آجکل تو ہمارے تعارف بھی ہیں ،تعلقات بھی ہیں اور احمدیوں پر دنیا میں مختلف ملکوں پر جو ظلم ہو رہا ہے اس کی وجہ سے بہت سی حقوق انسانی کی تنظیمیں جو ہیں ، ان کی نظر بھی ہے، پھر ان تعلقات کی وجہ سے پارلیمنٹ کے ممبران اور پڑھے لکھے طبقے سے ہمارا یہاں بھی اور دنیا میں بھی تعارف ہے لیکن اس زمانے میں ہمیں یہ سب کچھ نہیں ملا تھا۔ یہ کانفرنس ویمبلے کانفرنس کہلاتی ہے، شروع 1924 میں انگلستان کی مشہور ویمبلے نمائش کے سلسلے میں سوشلسٹ لیڈر جو تھے لوفٹس ہیئر نے یہ تجویز کی کہ اس عالمی نمائش کے ساتھ ایک مذہبی کانفرنس بھی منعقد کی جائے ، جس میں برطانوی مملکت کے مختلف مذاہب کے نمائندوں کو بھی دعوت دی جائے تاکہ وہ اس کانفرنس میں شریک ہوں اور اپنے اپنے مذہب کے اصولوں پر روشنی ڈالیں۔ 23 ستمبر 1924 کا دن حضرت مصلح موعودؓ کے سفر یورپ کا سنہری دن تھا، اس دن ویمبلے کانفرنس میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کا جو بے نظیر مضمون تھا وہ پڑھا جانا تھا اور اس کے پڑھے جانے سے اسلام اور احمدیت کی شہرت کو چار چاند لگے، یورپ میں اسلام کا پیغام صحیح رنگ میں پہنچایا گیااور حضرت مسیح موعودؑ کا لندن میں تقریر کرنے کا جو ایک رویا تھا اس کا ذکر حضرت مصلح موعودؓ نے اپنی تقریر میں بھی کیا ہے وہ پوری آب و تاب سے پورا ہوگیا۔ چوہدری ظفراﷲخان صاحب نے ایک گھنٹہ لگایا اس مضمون کو پڑھنے میں ، بڑے پر شوکت لہجے میں مضمون پڑھا گیا ، اس کے باوجود کہ چوہدری صاحب کے گلےمیں خراش تھی لیکن اﷲتعالیٰ نے بڑی خاص تائید فرمائی اور بڑے اعلیٰ رنگ میں انہوں نے مضمون پڑھا ، حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے ایک جگہ یہ بھی فرمایا ہے کہ یہ مضمون جو چوہدری صاحب نے پڑھا یہ اصل میں میری زبان تھی، بہرحال اس مضمون پر حاضرین میں ایک وجد کی کیفیت طاری تھی، ایسا معلوم ہوتا تھا گویا سب حاضرین احمدی ہیں ۔ کانفرنس کے صدر اجلاس نے کہا جو الفضل کی رپورٹ میں درج ہے کہ مرزا بشیر الدین امام جماعت احمدیہ کے مضمون پڑھے جانے پر اپنے صدارتی کلمات میں کہا کہ اس یعنی احمدیہ سلسلہ اور زمانہ حال کے دوسرے سلسلوں کا پیدا ہونا ثابت کرتا ہے کہ اسلام ایک زندہ مذہب ہے جس کی تجدید کیلئے لوگ اعلیٰ مطالعہ جاری رکھتے ہیں ، مرزا بشیرالدین نے جن کے ساتھ بہت سے سبز اماموں والے تبعین تھے فرمایا کہ سلسلہ احمدیہ سلسلہ موسویہ میں سلسلہ عیسویہ کی طرح اسلام میں ایک ضروری اور قدرتی تجدید ہے۔ فری چرچ کے ہیڈ ڈاکٹر والٹر واش جو خود فسیح البیان لیکچرر تھے ، اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا ، میں نہایت خوش قسمت ہوں کہ مجھے یہ لیکچر سننے کا موقع ملا ، پھر ایک قانون کے پروفیسر نے بیان کیا کہ جب میں مضمون سن رہا تھا تو یہ محسوس کر ریا تھا کہ یہ دن گویا ایک نئے دور کا آغاز کرنے والا ہے، پھر کہا اگر آپ لوگ کسی اور طریق سے ہزاروں ہزار روپیہ بھی خرچ کرتے تو اتنی زبردست کامیابی نہیں حاصل کر سکتے تھے، پھر ایک پادری نے کہا تین سال ہوئے مجھے خواب میں دکھایا گیا کہ حضرت مسیح ؑ تیرہ حواریوں کے ساتھ یہاں تشریف لائے ہیں اور اب میں دیکھتا ہوں کہ یہ خواب پورا ہوگیا۔ اخبار مانچسٹر گارڈین نے اپنی 24 ستمبر 1924 کی اشاعت میں لکھا کہ اس کانفرنس میں ایک ہلچل ڈالنے والا واقعہ جو اس وقت ظاہر ہوا وہ آج سہ پہر کو اسلام کے ایک نئے فرقے کا ذکر تھا ، نئے فرقے کا لفظ ہم نے آسانی کیلئے اختیارکیا ہے ورنہ یہ لوگ اس کو درست نہیں سمجھتے، اس فرقے کی بنا ان کے قول کے بموجب آج سے 34سال پہلے اس مسیح نے ڈالی جس کی پیشگوئی بائیبل اور دوسری کتابوں میں ہے ۔ کمال احمد کروغ صاحب آف ڈنمارک کی وفات۔

A conference on world religions was held here in London in 1924 which was graced by Hazrat Khalifatul Masih II(ra). These days our Jama’at is known to others and we have connections; due to the Ahmadiyya persecution many human rights organisations know about us. Due to our connections, we are known to MPs and academics here and other countries. We did not have these connections in those days. The said conference is widely known as Wembley Conference. In early 1924, a socialist leader William Loftus Hare suggested to hold a religious conference in conjunction with the renowned Wembley Exhibition to which religious representatives of the religions of the British Empire should be invited to expound principles of their religions. 23 September 1924 was a golden day in Huzoor’s European tour when Huzoor’s superlative treatise was read out at the Wembley Conference and it was a splendorous representation of Islam Ahmadiyyat and brought the message of Islam in the true sense to Europe. This was also a fabulous fulfilment of the vision of the Promised Messiah(as) about giving an address in London. Chaudhry Zafrullah Khan Sahib read the treatise in a commanding tone although he had a bit of sore throat but Divine succour was with him, he took one hour to read the treatise. Hazrat Khalifatul Masih II(ra) once said, ‘although Chaudhry Zafrullah Sahib read the treatise, it was my tongue [speaking].’ The audience listened to the address in a trance. It appeared as if all the audience were Ahmadi, people sat with rapt attention till the end. Al Fazl reported 'after the treatise of Mirza Bashir ud Din Ahmad the president of the conference said in his remarks that the Ahmadiyya Movement and other such current movements prove that Islam is a living religion and high level scholarship was engaged in for its renaissance. Mirza Bashir ud Din who was accompanied by many green-turbaned followers said that Ahmadiyya Movement is an important and natural revival of Islam just as dispensation of Jesus was for the dispensation of Moses.' Head of the Free Church Dr Walter Wash who was a great orator said that he was most fortunate to listen to the treatise. A professor of law said that as he listened he felt as if it was the beginning of a new era. He also said that had thousands been spent in some other way, it would not have availed such great success. A priest said that three years ago he had seen in a dream that Jesus had come with thirteen disciples and now the dream had been fulfilled. Newspaper Manchester Guardian reported the conference on 24 September 1924 and said: ‘An incident that caused excitement in the conference took place when a new sect of Islam was mentioned.’ They said they were using the term new sect for ease as its adherent did not consider it as a correct term. The paper said: ‘According to people of this sect they were established 34 years ago by the Messiah who is prophesised in the Bible and other books. Death of Kamal Ahmed Krogh Sahib of Denmark.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
21-Feb-2014   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Musleh Maud: The Prophecy and The Man
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Persian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا: گزشتہ کل 20 فروری کا دن گزرا ہے ، یہ دن جماعت میں مصلح موعودؑ کی پیشگوئی کے حوالے سے خاص اہمیت کا حامل ہے، جس میں حضرت مسیح موعودؑ نے اپنے ایک بیٹے کے پیدا ہونے کی خبر دی تھی، جو نیک، صالح اور بہت سی صفات کا حامل ہونا تھا، گزشتہ جمعہ کو بھی حضور نے حضرت مسیح موعودؑ کے نشانات کے حوالے سے ذکر کیا تھا، آج بھی حضرت خلیفۃ المسیح نے یہی مناسب سمجھا کہ 20 فروری کے قریب کا جمعہ ہے اس وجہ سے اس پیشگوئی کاذکر کیا جائے جس کو حضرت مسیح موعودؑ نے ایک عظیم الشان نشان قرار دیا ہے۔ حضور نے فرمایا: پس یہ وہ خصوصیات ہیں جن کا حامل وہ بیٹا ہونا تھا اور ایک دنیا نے دیکھا کہ وہ بیٹا پیدا ہوا اور 52سال تک خلافت پر متمکن رہنے کے بعد اپنی خصوصیات کا لوہا دنیا سے منوا کر اس دنیا سے رخصت ہوا ، اگر ان خصوصیات کی گہرائی میں جا کر دیکھیں اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد المصلح موعودؓ کی زندگی کا جائزہ لیا جائے تو اس کیلئے کئی کتابیں لکھنے کی ضرورت ہے، کسی خطبہ میں یا کسی تقریر میں حضرت مصلح موعودؓ کی زندگی اور آپ کے کارناموں کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا ، جماعت میں اس حوالے سے ہر سال 20فروری کو جلسہ منعقد کئے جاتے ہیں اور مقررین اور علماء اپنے اپنے ذوق اور علم کے مطابق اس مضمون کو بیان کرتے ہیں۔ حضرت مصلح موعودؓ نے کلام کے اوپر 10 کتب اور رسائل لکھے ، روحانیات، اسلامی اخلاق اور اسلامی عقائد پر 31 کتب اور رسائل تحریر فرمائے آپؓ نے ، سیرت و سوانح پر 13کتب اور رسائل لکھے ، تاریخ پر چار کتب اور رسائل لکھے، فقہ پر تین کتب اور رسائل لکھے، سیاسیات قبل از ہند 25 کتب اور رسائل لکھے، سیاسیات بعد از تقسیم ہند اور قیام پاکستان پر 9 کتب اور رسائل، سیاست کشمیر 15 کتب اور رسائل ، تحریک احمدیت کے مخصوص مسائل اور تحریکات پر تقریبا 100 کتب اور رسائل لکھے۔ اختر صاحب پٹنہ یونیورسٹی لکھتے ہیں کہ میں نے یکے بعد دیگرے حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی تفسیر کبیر کی چند جلدیں پروفیسر عبدالمنان بیدل سابق صدر شعبہ فارسی پٹنہ کالج کی خدمت میں پیش کیں اور وہ ان تفسیروں کو پڑھ کر اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے مدرسہ عربیہ شمس الہدیٰ کے شیوخ کو بھی تفسیر کی بعض جلدیں پڑھنے کیلئے دیں اور ایک دن کئی شیوخ کو بلا کر انہوں نے انکے خیالات دریافت کئے ، ایک شیخ نے کہا فارسی تفسیروں میں ایسی تفسیر نہیں ملتی، پروفیرسر عبدالمنان صاحب نے پوچھا عربی تفسیروں کے متعلق کیا خیال ہے۔ مغربی مفکرین کی ایک مثال پیش کرتے ہوئے حضور نے برطانوی مستشرق اے جے آربری کا ذکر فرمایا جو عربی، فارسی، اسلامیات کے سکالر ہیں، کہتے ہیں قرآن شریف کا یہ نیا ترجمہ اور تفسیر ایک بہت بڑا کارنامہ ہے، یہ 5 والیوم کی بات کر رہے ہیں ، موجود جلد گویا اس کارنامے کی پہلی منزل ہے ، کوئی 15 سال کا عرصہ ہوا، جماعت احمدیہ کے محقق علماء نے یہ کام شروع کیا اور کام حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد کی حوصلہ افزاء قیادت میں ہوتا رہا ، کام بہت بلند قسم کا تھا یعنی قرآن کریم کے متن کی ایسی ایڈیشن شائع کی جائے جس کے ساتھ اس کا نہایت صحیح صحیح انگریزی ترجمہ ہو اور ترجمہ کے ساتھ آیت آیت کی تفسیر ہو۔ صاحبزادہ مرزاحنیف احمد صاحب جو حضرت مصلح موعودؓ کے بیتے ہیں کی وفات۔

Yesterday was 20 February, a day which is commemorated as the day of the prophecy of Musleh Maud in the Jama’at. In this prophecy, the Promised Messiah(as) foretold the birth of a son of his who would be pious and righteous and would have many other qualities. Last Friday sermon was about signs given to the Promised Messiah(as) by God Almighty. As today is the closest Friday to 20 February, Hazrat Khalifatul Masih deemed it appropriate to give a discourse on the prophecy of 20 February, which was called a magnificent sign by the Promised Messiah(as). These were the qualities the son was to have. We know that Hazrat Musleh Maud(ra) graced the office of Khilafat for 52 years and departed from this world having proved his mettle to the world. Many books would need to be written if one was to study in-depth these qualities and appraise the life of Hazrat Musleh Maud(ra). It is not possible to encompass his life and achievements in sermons and speeches. Jama’at commemorates 20 February every year and scholars give speeches according to their knowledge and insight on this subject. Hazrat Musleh Maud(ra) wrote 10 books and journals on Kalam and 31 books and journals on spirituality, Islamic morals and Islamic creed. He wrote 13 books and journals on the life of the Holy Prophet(saw), 4 books and journals on history, 3 books and journals on jurisprudence (fiqah), 25 books and journals on the politics of pre-partition India and 9 books and journals on post-partition politics and establishment of Pakistan. Akhtar Sahib of Patna University wrote that he sent the volumes of Tafseer e Kabir to a professor of Persian, Abdul Mannan Sahib, and the professor was so impressed that he distributed some of the volumes to other academics to read. He later asked them for their opinion on it. The academics acknowledged that there was no commentary of this calibre in Persian. When it was put to them what did they think about comparing it to Arabic commentaries, they said that Arabic commentaries were not available in Patna. An example of Western scholars opining about Five Volume Commentary is British academic A J Arberry who was a scholar of Arabic, Persian and Islamic studies. He said that the Five Volume Commentary was a huge achievement and the then current volume was the first stage of the achievement. He said Ahmadi scholars started this great work under the encouraging auspices of Hazrat Mirza Bashir ud din Mahmood Ahmad. The work was of towering nature, i.e. to produce an edition of the Qur’an with accurate and corresponding translation in English as well as commentary on every verse. Death of Sahibzada Mirza Hanif Ahmad, a son of Hazrat Musleh Maud(ra).

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
14-Feb-2014   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)Dutch (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Signs of Truth
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Persian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت مسیح موعودؑ اپنی کتاب براہین احمدیہ میں فرماتے ہیں : یہ سب اہتمام اس لئے کیا گیا ہے کہ جو لوگ فی الحقیقت راہ راست کے خواہاں اور جویاں ہیں ان پر باکمال انکشاف ظاہر ہو جائے کہ تمام بر کات اور انوار اسلام میں محضود اور محصور ہیں اور تا جو اس زمانے کے ملحد اور ذریت ہے اس پر خداتعالیٰ کی حجت قاطعہ اتمام کو پہنچے اور تا ان لوگوں کی فطری شیطنت ہر یک منصف پر ظاہر ہوکر جو ظلمت سے دوستی اور نور سے دشمنی رکھ کر حضرت خاتم الانبیاء کے مراتب عالیہ سے انکار کر کے اس عالی جناب کی شان کی نسبت پر خبث کلمات منہ پر لاتے ہیں۔ مخالف لوگ ارادہ کریں گے کہ خدا کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بھجا دیں یعنی بہت سے مکر کام میں لاویں گے مگر خدا اپنے نور کو کمال تک پہنچائے گا اگر چہ کافر لوگ کراہت ہی کریں یہ اس زمانے کی پیشگوئی ہے کہ جبکہ اس سلسلے کے مقابل پر مخالفوں کو کچھ جوش اور اشتعال نہ تھا اور پھر اس پیشگوئی سے دس برس بعد وہ جوش دکھلایا گیا کہ انتہا تک پہنچ گیا یعنی تکفیر نامہ لکھا گیا ، قتل کے فتوے لکھے گئے اور صدہا کتابیں اور رسالے چھاپ دیئے گئے۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: میں خاص طور پر خداتعالیٰ کی اعجاز نمائی کو انشاء پردازی کے وقت بھی اپنی نسبت دیکھتا ہوں کیونکہ جب میں عربی میں یا اردو میں کوئی عبارت لکھتا ہوں تو میں محسوس کرتا ہوں کہ کوئی اندر سے مجھے تعلیم دے رہا ہے اور ہمیشہ میری تحریر گو عربی ہو یا اردو یا فارسی ، دو حصہ پر منقسم ہوتی ہے ، ایک تو یہ کہ بڑی سہولت سے سلسلہ الفاظ اور معانی کا میرے سامنے آتا جاتا ہے اور میں اس کو لکھتا جاتا ہوں اور گو اس تحریر میں مجھے کوئی مشقت اٹھانی نہیں پڑتی مگر دراصل وہ سلسلہ میری دعماغی طاقت سے کچھ زیادہ نہیں ہوتا یعنی الفاظ اور معانی ایسے ہوتی ہیں کہ اگر خداتعالیٰ کی خاص رنگ میں تائیدنہ ہوتی تب بھی اس کے فضل کے ساتھ ممکن تھا کہ اس کی معمولی تائید کی برکت سے جو لازمہ فطرت خاص انسانی ہے کسی قدر مشقت اٹھا کر اور بہت سا وقت لے کر ان مضامین کو میں لکھ سکتا۔ وﷲ اعلم۔ فلسطین سے ایک خاتون لکھتی ہیں کہ مروجہ طرز فکر کے زیر اثر میرا بڑا پکا ایمان تھا کہ عیسٰیؑ آسمان پر موجود ہیں اور آخری زمانے میں آسمان سے نازل ہونگے اور امت کو دیگر اقوام کی غلامی سے تلوار کے زور پر آ زاد کروائیں گے نیز تلوار کے زور سے ہی جبرا لوگوں کو اسلام میں داخل کریں گے لہٰذا مجھے بڑی شدت کے ساتھ اس دن کا انتظار تھا ، پھر جماعت سے میرا تعارف ہوا، میرے دیور کے ذریعے یہ تعارف جو نہ صرف جماعت کے بارہ میں میرے ساتھ اکثر بات چیت کرتے تھے بلکہ مجھے حضرت مسیح موعودؑ کی عربی کتب اور لٹریچر بھی بھیجتے رہتے تھے، ان کتب میں مجھے بے مثل اور انمول موتی ملے۔ عباس صاحب جو اٹلی میں رہتے ہیں لیکن عرب ہیں کہتے ہیں کہ میں باجود مولویوں کی ہرزہ سرائی کے ایم ٹی اے العربیہ کا ہو کر رہ گیا تھا ، ایک دن میں الحوار دیکھ رہا تھا کہ اس میں وقفہ کے دوران حضرت مسیح موعودؑ کا عربی قصیدہ آ گیا ، میں یہ قصیدہ سننے کے ساتھ ساتھ حضرت مسیح موعودؑ کی تصویر کو بھی دیکھتا جاتا تھا ، یہانتک کہ بے اختیاری کے عالم میں بلند آ واز میں میری زبان سے یہ کلمات نکلے کہ خدا کی قسم یہ بات کوئی جھوٹا ہرگز نہیں کہ سکتا، یہ شخص لازمی خدا تعالیٰ کا فرستادہ ہے، ایسا کلام خداتعالیٰ اور اس کے رسول کی بے حرمتی کرنے والا نہیں ہوسکتا ۔ اطامی صاحب یمن سے لکھتے ہیں کہ ایک صحافی اور ایک محقق ہونے کے ناطے حقیقت حال جاننے کا مجھے شوق تھا لہٰذا جماعت کے مخالفین کی کتب بھی پڑھیں ، ان میں ناروا الزام تراشی کے بعد نوبت تکفیر تک پہنچتی نظر آئی ، مزید تحقیق کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ ان میں وہی پرانے غلط الزامات کے سوا کچھ نہیں ، دوسری طرف حضرت مسیح موعودؑ کی عربی دانی وغیرہ جیسے معجزات تھے ، یہ بھی الٰہی معجزہ تھا کہ امام مہدیؑ کو فارسی النسل پیدا کیا ، حضرت مسیح موعودؑ کی کتب پڑھ کر اس نتیجہ پر پہنچا کہ آپؑ نے اسلام کا صحیح تصور دوبارہ پیش کیا ہے جس کو لوگوں نے بھلا دیا تھا یا بگاڑ دیا تھا۔ رضی اﷲ دین صاحب کی شہادت اور ڈاکٹر خالد یوسف صاحب کی وفات۔

The Promised Messiah(as) writes in his magnum opus, Baraheen e Ahmadiyya about keeping a record of his revelations and says that all these arrangements have been put in place so that it may be perfectly disclosed to those who seek the truth that all blessings and lights are inherent in Islam and so that the convincing proofs of Allah reach the godless people of this age, so that in turn their satanic nature is made evident to every fair-minded person. ‘The opponents will plan to extinguish the light of God with the breaths of their mouths, that is, they will utilise cunning. However, God will perfect His light although the disbelievers will resent it.’ This is a prophecy of a time when there was no opposition or enmity against this movement. Ten years after this prophecy such enmity was shown that it became an upsurge; allegation of disbelief was recorded, edicts of murder were recorded and published in hundreds of books and journals. Promised Messiah(as) said ‘When I write something in Urdu or Arabic I feel as if someone is tutoring me from within. My writing, be it in Arabic, Urdu or Persian is divided in two types. One type is when phraseology and its meanings flow for me as I write. I do not have to work hard for this writing and the phraseology is within my mental capacity. The words and their connotation is such that it is possible for me to write them without any special grace of God Almighty and with the blessing of His general support which is in the nature of human ability. A Palestinian lady writes that she firmly believed that Hazrat Isa(as) was alive in the heaven and would revive Islam with the use of force. She was introduced to the Jama’at through her younger brother-in-law and read books of the Promised Messiah(as). She felt as if she had found priceless pearls. The eloquent Arabic writings were like gems of spiritual knowledge and she felt that it is such valuable writings that initiate man’s connection with God. Abbas Sahib who is an Arab and resides in Italy writes that in spite of what the maulwis said, he used to watch MTA. Once he heard Arabic Qaseeda of the Promised Messiah(as) on MTA. As he listened to it, he looked at an image of the Promised Messiah until, spontaneously he said our aloud, by God, a liar cannot express such sentiments. This person is definitely from God. Atami Sahib from Yemen writes that as a journalist and researcher he was intrigued to find the truth. He read a book by detractors of the Jama’at which had resorted to slandering. He realised these were age-old allegations and nothing else. On the other hand he found the eloquent Arabic of the Promised Messiah(as) miraculous. After reading books of the Promised Messiah he reached the conclusion that he had presented the true image of Islam once again. Martyrdom of Raziullah Din Sahib and Death of Dr. Khalid Yusuf Sahib.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
07-Feb-2014   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)Dutch (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: The Exemplary Ahmadi Muslim
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Persian | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam
Slide Deck: PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

گزشتہ ہفتہ کے راہ ہدیٰ کا پروگرام کا کچھ حصہ دیکھنے کا حضرت خلیفۃ المسیح کو موقع ملا،تو اس وقت ایک غیر ازجماعت کا سوال پیش ہورہا تھا ، حضرت مسیح موعودؑ کے ایک الہام کے حوالے سے سوال وہ کر رہے تھے ، تمہید بھی اس طرح باندھی کہ قرآن کریم خداتعالیٰ کا کلام ہے، بعض احادیث ہیں ، پھر اسی طرح بزرگوں کا کلام ہے، ان سب کو جب ہم دیکھتے ہیں تو ان میں آپس میں ربط نظر آتا ہے لیکن یہ الہام پیش کرنے کے بعد کہتے ہیں اس میں ربط نہیں یا ہمیں سمجھ نہیں آئی، بہر حال ایک اعتراض کا رنگ تھا اور اگر نیت نہیں بھی تھی ان کی اعتراض کی، تو سوال کی ٹون ایسی تھی کہ لگتا تھا اعتراض ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: جماعت کے باہم اتفاق اور محبت پر میں پہلے بہت دفعہ کہ چکا ہوں کہ تم باہم اتفاق رکھو اور اجماع کرو، خداتعالیٰ نے مسلمانوں کو یہی تعلیم دی تھی کہ تم وجود واحد رکھو ورنہ ہوا نکل جائے گی، نماز میں ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کے کھڑے ہونا کا حکم اس لئے ہے کہ باہم اتحاد ہو، برقی طاقت کی طرح ایک کی خیر دوسرے میں سرایت کرے گی، اگر اختلاف ہو، اتحاد نہ ہو تو بے نصیب رہو گے۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: یاد رکھو بغض کا جدا ہونا مہدی کی علامت ہے اور کیا وہ علامت پوری نہ ہوگی، ضرور ہوگی، تم کیوں صبر نہیں کرتے، جیسا طبی مسئلہ ہےکہ جب تک بعض امراض میں قلع قمع نہ کیا جاوے مرض دفع نہیں ہوتا ، میرے وجود سے انشاءاﷲ ایک صالح جماعت پیدا ہوگی ، باہمی عداوت کا سبب کیا ہے؟ بخل ہے ، رعونت ہے، خود پسندی ہے اور جذبات ہیں، ایسے تمام لوگوں کو جماعت سے الگ کردوں گا جو اپنے جذبات پر قابو نہیں پا سکتے اور باہم محبت اور اخوت سے نہیں رہ سکتے۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: یہ بات بھی خوب یاد رکھنی چاہئے کہ ہر بات میں منافع ہوتا ہے ، دنیا میں بھی دیکھ لو ، اعلیٰ درجہ کی نباتا ت سے لیکر کیڑوں اور چوہوں تک میں کوئی چیز ایسی نہیں جو انسان کیلئے منفعد اور فائدہ سے خالی ہو ، یہ تمام اشیاء خواہ وہ عرضی ہیں یا سماوی ، اﷲتعالیٰ کی صفات کے اضلال اور آ ثار ہیں اور جب صفات میں نفع ہی نفع ہے تو بتلاؤ کہ ذات میں کس قدر نفع ہوگا، یعنی خداتعالیٰ کی ذات سے اگر تعلق پیدا کر لو گے تو کس قدر نفع ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: اﷲتعالیٰ کسی کی پرواہ نہیں کرتا مگر صالح بندوں کی، آپس میں اخوت اور محبت کو پیدا کرو اور درندگی اور اختلاف کو چھوڑدو ہر ایک قسم کے ہذل اور تمسخر سے متعلقا کنارہ کش ہوجاؤ کیونکہ تمسخر انسان کے دل کو صداقت سے دور کر کے کہیں کا کہیں پہنچا دیتا ہے ، آپس میں ایک دوسرے سے عزت سے پیش آؤ ، ہر ایک اپنے آ رام پر اپنے بھائی کے آ رام کو ترجیح دیوے، اﷲتعالیٰ سے ایک سچی صلح پیدا کرلو اور اسکی اطاعت میں واپس آ جاؤ۔ ہماری جماعت جس سے مخالف بغض رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ جماعت ہلاک اور تباہ ہو جاوے اس کو یاد رکھنا چاہئے کہ میں اپنے مخالفوں سے باوجود ان کے بغض کے ایک بات میں اتفاق رکھتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ خداتعالیٰ نے چاہا ہے کہ یہ جماعت گناہوں سے پاک ہو اور اپنی چال چلن کا عمدہ نمونہ دکھاوے، وہ قرآن شریف کی سچی تعلیم پر سچی عامل ہو اور آنحضرت ﷺ کی اتباع میں فنا ہوجاوے ، ان میں باہم کسی قسم کا بغض اور کینہ نہ رہے، وہ خداتعالیٰ کے ساتھ پوری اور سچی محبت کرنے والی جماعت ہو۔ پس یہ وہ معیار ہے جو ہم سب نے حاصل کرنے کی کوشش کرنی ہے اور کرنی چاہئے، تقویٰ پر چلنا ، اپنے اعمال کی اصلاح کرنا، اپنے ایمان کے معیار بلند کرنا ، یہ باتیں کوئی معمولی باتیں نہیں ہیں ، ہم نے زمانے کے امام کو مانا ہے تو اس کی توقعات پر پورا اترنے کیلئے ہمیں پوری طرح سے یہ کوشش کرنی چاہئے ، ہر چھوٹی سے چھوٹی نیکی کو ہمیں انجام دینے کی کوشش کرنی چاہئےاور ہر بدی سے ہمیں مکمل طور پر نفرت کا اظہار کرنا چاہئے، محبت پیار اور اخوت کو بڑھانے کی ہمیں ضرورت ہے۔

Last week Hazrat Khalifatul Masih happened to watch part of the programme Rah-e-Huda when a non-Ahmadi questioner was putting his question with reference to a revelation of the Promised Messiah(as). In a way his question was an objection and in his preamble the caller said that the Holy Qur’an, which is the Word of God, Hadith and works of other holy persons all have a concordance and a flow which he failed to see in the Promised Messiah’s(as) words. Even if the intention of the caller was not to object, his tone appeared so. The Promised Messiah(as) said: ‘I have said as regards mutual love and harmony of the Jama’at that you should have accord and unity. This is the teaching God gave to the Muslims that be as one otherwise you will collapse. The commandment to stand close to each other in Salat is to promote unity, so that the good in one permeates like electric power in each other. If you have conflict and no unity, you will remain unfortunate. ‘Remember removal of malice is a sign of the Mahdi. Will this sign not come to pass? Indeed, it will. Why don’t you be patient! Just as in medical matters some ailments do not go away unless they are completely eradicated. InshaAllah a pious community will be created through me. What is the reason for mutual enmity? Miserliness, arrogance, self-centredness and emotions. I will exclude all those from my Jama’at who do not have control over their emotions and cannot live with mutual love and unity. The Promised Messiah(as) said: ‘It should be remembered very well that there is benefit in everything. Look around the world, from high quality of vegetation to rodents and insects, there is nothing that is devoid of benefit to man. All these ordinary things, whether they are earthly or heavenly, are shadows of the attributes of Allah the Exalted. When there is so much benefit in [Divine] attributes, imagine the benefit of the Being of God! The Promised Messiah(as) said: ‘Allah the Exalted does not care for anyone but for the righteous person. Instil mutual love and unity and abandon beastliness and conflict and give up all manner of mockery and derision because mockery makes the heart remote and distant from the truth. Treat each other with respect and everyone should give precedence to the comfort of his brother over his own comfort. Generate true conciliation with Allah the Exalted and return to His obedience. ‘Our detractors have animosity against us and wish for the Jama’at to be destroyed. It should be remembered that in spite of their animosity, I agree with them in one thing. And that is that God Almighty has willed that this Jama’at is free of sin and that it demonstrates a fine model of conduct and truly practices the true teachings of the Holy Qur’an and is fervently devoted in adherence of the Holy Prophet(saw). These are the standards we need to aspire to, indeed, should aspire to; abiding by Taqwa, reforming our practices and enhancing the levels of faith. These are not small matters. We have accepted the Imam of the age and we should make endeavours to come up to the mark of his expectations. We should try and accomplish the smallest of virtue and should recoil from every evil. There is need to enhance mutual love, affection and unity.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
31-Jan-2014   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)Dutch (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Kyrgyz (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Introspection, Self-Reformation and Success
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Persian | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا :گزشتہ خطبہ میں قوت ارادی کے پیدا کرنے کا اور علمی کمزوری کے دور کرنے کا ذکر ہوگیا تھا لیکن تیسری بات اس ضمن میں بیان نہیں ہوئی تھی یعنی عملی کمزوری کو دور کرنے کا طریق یا عملی قوت کو کس طرح بڑھایا جا سکتا ہے؟ اس کے بارہ میں حضور آ ج کچھ ارشاد فرمائیں گے، اس کیلئے جیسا کے پہلے خطبات میں ذکر ہوچکا ہے، بیرونی علاج یا مدد کی ضرورت ہے یا کہ سکتے ہیں کہ دوسرے کے سہارے کی ضرورت ہےاور عملی اصلاح کیلئے یہ سہارا دو قسم کا ہوتا ہے یا دو قسم کے سہاروں کی ضرورت ہے ،ایک نگرانی کی اور دوسرا جبر۔ دوسری بات جو اصلاح کیلئے ضروری ہے،جبر ہے، یہاں کسی کے دل میں یہ خیال پیدا ہوسکتا ہے کہ ایک طرف تو ہم کہتے ہیں کہ دین کے معاملے میں جبر نہیں ہے ، دوسری طرف عملی اصلاح کیلئے جو علاج تجویز کیا جا رہا ہے وہ جبر ہے ، پس واضح ہو کہ یہ جبر دین قبول کرنے یا دین چھوڑنے کے بارہ میں نہیں ہے، ہر ایک آزاد ہے جس دین کو چاہے اختیار کرے اور جس دین کو چاہے چھوڑ دے ، اسلام تو بڑا واضح طور ہر یہ اختیار دیتا ہے، یہاں جبر یہ ہے کہ دین کی طرف منسوب ہو کر پھر اس کے قواعدپر عمل نہ کرنا اور اسے توڑنا، ایک طرف تو اپنے آپ کو نظام جماعت کا حصہ کہنا اور پھر نظام کے قواعد کو توڑنا۔ پس ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ نیک اعمال بجا لانے کی عادت ڈالنے کیلئے مختلف ذرائع اختیار کرنے پڑتے ہیں ، بغیر ان ذرائع کو اختیار کئے اصلاح اعمال میں کامیابی نہیں ہوسکتی، پس ان ذرائع کا استعمال انتہائی ضروری ہے، یعنی ایمان کا پیدا کرنا، علم صحیح کا پیدا کرنا، ان باتوں کا گزشتہ خطبہ میں ذکر ہوگیا تھا، اور نگرانی کرنا اور جبر کرنا جن کا حضور نے ابھی ذکر فرمایا ہے ، قوت عملی پیدا کرنے کے ضمن میں ، یہ چار چیزیں ہیں جن کے بغیر اصلاح مشکل ہے، جب ہم گہرائی میں جائزہ لیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ دنیا میں ایک طبقہ ایسا ہے جو ایمانی قوت اپنے اندر نہیں رکھتا، یعنی وہ معیار نہیں رکھتا جو اصلاح عمل کیلئے ایک انسان میں ہونا ضروری ہے۔ پس بیشک وفات مسیح، ختم نبوت یا دوسرے مسائل جو ہیں جن کا اعتقاد سے تعلق ہے، ان کا علم ہونا تو بہت ضروری ہے اور ان پر دلیل کے ساتھ قائم رہنا بھی ضروری ہےبغیر دلیل کے نہیں لیکن عملی اصلاح کیلئے ہمیں خداتعالیٰ سے تعلق جوڑنا ہوگا اور اس کیلئے وہ ذرائع اپنانے ہونگے جو اس زمانے میں حضرت مسیح موعودؑ نے ہمیں دکھائے ، ہمیں اپنے قول و فعل کے تضاد کو ختم کرنا ہوگا جو ہم دوسروں کو کہیں اس کے بارہ میں اپنے بھی جائزے لیں۔ حضرت مصلح موعودؓ نے ایک مثال دی ہے کہ اگر سورج چڑھا ہوا ہو اور کوئی کہے کہ تمہارے پاس کیا دلیل ہے کہ سورج چڑھا ہوا ہے تو دوسرا اسے سورج کے چڑھنے کی دلیلیں دینا شروع کر دے تو وہ دلیل دینے والا بھی احمق ہی ہوگا ، اس کا سادہ علاج تو یہ تھا کہ سورج کی دلیل پوچھنے والی کی ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھ کر اس کا منہ اونچا کرتا اور کہتا وہ سورج ہے دیکھ لو، پس اس وقت خدا تعالیٰ بھی ہمارے سامنے جلوہ گر ہے، وہ بھی عریاں ہو کر اپنی تمام صفات کے ساتھ دنیا کے سامنے رونماہو گیا ہے اور حضرت مسیح موعودؑ کے ذریعے و ہ اپنے سارے حسن کے ساتھ جلوہ نما ہے۔ اپنے آپ کو حضرت مسیح موعودؑ سے جوڑ کر پھر خلافت سے کامل اطاعت کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، یہی چیز ہے جو جماعت میں مضبوطی اور روحانیت میں ترقی کا باعث بنے گی، خلافت کی پہچان اور اس کا صحیح علم اور ادراک اس طرح جماعت میں پیدا ہو جانا چاہئے کہ خلیفہ وقت کے ہر فیصلے کو بخوشی قبول کرنے والے ہوں اور کسی قسم کی روک دل میں پیدا نہ ہو، کسی بات کو سن کر انقباض نہ ہو۔ آخر پر حضرت خلیفۃ المسیح نے اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی جس نے ہر حقیقی مومن کو بے چین کردیا ہوا ہے آج کل اور وہ ہے مسلمان ممالک کی قابل رحم حالت ، آج مسلم امہ کو آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق کے ماننے والوں کی دعاؤں کی بہت ضرورت ہے، پس یہ ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم اس کیلئے بہت دعا کریں ، سیریا کے حالات بد سے بدتر ہورہے ہیں، حکومت نے بھی ظلموں کی انتہا کی ہوئی ہے اور حکومت مخالف گروپ نے بھی ظلم کی انتہا کی ہوئی ہے۔"

Last Friday sermon dealt with instilling strength of resolve and removing lack of knowledge. The third aspect, that is, the way to remove weakness in implementing matters or how to enhance capacity in implementing matters was not dealt with. This was expounded today. As explained earlier, external remedy or help and outside support is needed for this third aspect. The outside support needed is of two kinds: supervision and compulsion. The second necessary matter for reformation is compulsion. Some may think that while there is no compulsion in matters of faith, here compulsion is being recommended for reformation. It should be clear that there should be no compulsion in accepting or giving up faith. In Islam one has the freedom to accept faith or give it up. But there is compulsion once one associates with faith and then breaks its rules and regulations. It should be remembered that different means have to be used for inculcating doing of good works and utilising these means is extremely important. These means are, instilling faith, instilling correct knowledge and to supervise and use compulsion. Reformation is difficult without these four aspects. If we look deeply we find out that there is a section of people in the world which does not have the level of strength of faith required for reformation. There is no doubt that it is very important to have knowledge of subjects like death of Hazrat Isa(as) and finality of Prophethood and it is also important to stay firm on them with proofs and reasoning. Yet, in practical terms, we have to instil a connection with God and for this we have to adopt those ways and means which the Promised Messiah(as) taught us. We will have to remove any discrepancy in our word and deed, and while taking the message to others, we should also self-reflect. Hazrat Musleh Maud(ra) said that if the sun is out and someone asks for proof of the existence of the sun and another person starts giving him proofs, then the person giving proofs is indeed foolish. The simple way to resolve this is to turn the chin of the questioner towards the sun and say, ‘look there’. God too is resplendent in front of us. He has uncovered Himself before the world and through the Promised Messiah(as) all His beauties are evident. It is greatly needed to attach oneself to the Promised Messiah(as) and then completely obey Khilafat. This is what will become a source of strength and spiritual development of the Jama’at. Recognition of Khilafat and its correct awareness and perception should be so instilled in the Jama’at that it should happily accept every decision of the Khalifa of the time and have no doubt about it. Next Hazrat Khalifatul Masih said he would also like to draw attention to a matter which has caused anxiety for every true believer, that is, the pitiful condition of Muslim countries. These days the Muslim Ummah is in great need of the prayers of the followers of the true and ardent devotee of the Holy Prophet(saw). It is our duty to pray abundantly. The situation in Syria is getting from bad to worse.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
24-Jan-2014   Urdu (mp3)English (mp3)Arabic (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)Dutch (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Kyrgyz (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Reformation: A Collective Responsibility & Effort
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Persian | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

اصلاح کے ذرائع کا جو سب سے پہلا حصہ ہے جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے وہ قوت ارادی کی مضبوطی ہے یا دوسرے لفظوں میں ایمان ہے جس کے پیدا کرنے کیلئے انبیاء دنیا میں آتے ہیں اور تازہ اور زندہ معجزات دکھاتے ہیں وہ انبیاء، حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ہماری جماعت کے پاس تو اﷲتعالیٰ کے تازہ بتازہ نشانات کا اتنا وافر حصہ ہے کہ اتنا سامان کہ اس سامان کے قریب قریب بھی کسی اور کے پاس موجود نہیں، اور اسلام کے باہر کوئی مذہب دنیا میں ایسا نہیں جس کے پاس خداتعالیٰ کا تازہ بتازہ کلام ، اس کے زندہ معجزات یااس کی ہستی کا مشاہدہ کرانے والے نشانات موجود ہوں، جو انسانی قلوب کو ہر قسم کی آلائشوں سےصاف کرتے اور اﷲتعالیٰ کی معرفت سے لبریز کردیتے ہیں ۔ کیا وجہ ہے کہ وفات مسیح پر جس شد و مد سے تقریریں کرتے ہیں یا معترضین کے اعتراضات پر حوالوں کے حوالے نکال کر ان معترضین کے بزرگوں کے اقوال ہیں معترضین کے سامنے پیش کرتے ہیں اور انکا منہ بند کر دیتے ہیں، اتنی کوشش جماعت کے افراد کے سامنے، جماعت کی صحیح تعلیم پیش کرنے کی نہیں ہوئی یا کم از کم جماعت کی طرف سے نہیں ہوتی، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہماری جماعت میں ایسے لوگ تو مل جائیں گے جو وفات مسیح کے دلائل جانتے ہیں، یا مولوی کے اعتراضات کے منہ توڑ جواب دے سکتے ہوں۔ ہمیں اس بات کو جاننے کی ضرورت ہے اور جائزے کی ضرورت ہے کہ ہم دیکھیں کہ ہم میں سے کتنے ہیں کہ اﷲتعالیٰ کی عبادت کریں، رمضان میں ایک مہینہ نہیں یا ایک مرتبہ اعتکاف بیٹھ کر پھر سارا سال یا کئی سال اس کا اظہار کر کے نہیں بلکہ مستقل مزاجی سے اس شوق اور لگن کو اپنے اوپر لاگو کر کے تاکہ اﷲتعالیٰ کا قرب مستقل طور پر حاصل ہو، ہم میں سے کتنے ہیں جن سے اﷲتعالیٰ پیار کا سلوک کرتے ہوئے دعاؤں کی قبولیت کے نشان دکھاتا ہے، حضرت مسیح موعودؑ کو مان کر یہ معیار حاصل کرنے کی کوشش کرنا ہر احمدی کا فرض ہے پس یہی وہ انقلاب ہے جو احیاء نو کا حضرت مسیح موعودؑ پیدا کرنے آئے تھے۔ لوگ دنیاوی باتوں میں نقل کرتے ہیں اور اس کے حصول کیلئے یا تو عزت نفس کو داؤ پر لگا دیتے ہیں یا دیوالیہ ہو کر اپنی جائیداد سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں یعنی دنیاوی باتوں کی نقل میں فائدے کم اور نقصان زیادہ ہیں لیکن دین کے معاملے میں نقل اور ویسا بننے کی کوشش جیسا حضر ت مسیح موعودؑ نے ہمارے سامنے اس زمانے میں نمونہ پیش فرمایا ہے، بلکہ ہم میں سے بہت سوں نے ان صحابہؓ کو بھی دیکھا ہوا ہے جنہوں نے قرب الٰہی کے نمونے قائم کئے، ان کی نقل کی کوشش ہم نہیں کرتے بلکہ نقصان کا تو یہاں سوال ہی نہیں پیدا ہوتا بلکہ فائدہ ہی فائدہ ہے اور فائدہ بھی ایسا ہے جس کو کسی پیمانے سے ناپا نہیں جا سکتا ، پس کیا وجہ ہے ہم اس نقل کی کوشش نہیں کرتے؟ ہمارے مبلغ کرغزستان نے لکھا ہے کہ ایک بزرگ احمدی مکرم عمر صاحب جنہوں نے ۱۰ جون 2002 کو بیعت کی تھی، 58 برس انکی عمر ہے، پیدائشی مسلمان تھےلیکن کمیونسٹ نظریات کے حامی تھے، کہتے ہیں جس دن خاکسار نے بیعت کیلئے خط لکھا وہ دن درحقیقت خاکسار کی زندگی کا یاد گار دن تھااور میں اس دن کو اپنی نئی پیدائش سے تعبیر کرتا ہوں، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس سے پہلے میں ہر قسم کی دینی جماعتوں کے پاس گیا مگر میری زندگی میں کوئی خاص تبدیلی پیدا نہیں ہوسکی جبکہ بیعت کے بعد میری زندگی میں حقیقی روحانی انقلاب برپا ہوگیا تھا۔ دوسری چیز عملی اصلاح کیلئے علمی قوت ہے یا علم کا ہونا ہے، غلطی سے یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ کچھ گناہ بڑے ہوتے ہیں اور کچھ گناہ چھوٹے ہوتے ہیں، اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جن گناہوں کو انسان چھوٹا سمجھ رہا ہوتا ہے وہ گناہ اس کے دل و دماغ میں بیٹھ جاتے ہیں، کہ یہ تو کوئی گناہ ہے ہی نہیں، چھوٹی سی بات ہے، یہ ایسا گناہ ہے جس کے بارے میں زیادہ باز پرس نہیں ہوگی، خود ہی تصور کر لیتا ہے انسان، گزشتہ خطبات میں حضور نے توجہ دلائی تھی کہ سیاسی پناہ لینے والے لوگ ، وہ بھی جہاں آکر غلط بیانی کرتے ہیں تو اپنا کیس منظور کروانے کیلئے جھوٹ کافائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں تو حقیقت میں وہ اپنا کیس خراب کر رہے ہوتے ہیں اور نہ صرف اپنا کیس خراب کر رہے ہوتے ہیں بلکہ جماعت کی ساکھ پر بھی حرف آ رہا ہوتا ہے۔ نواب بی بی صاحبہ کی وفات، عبدالرشید شرما صاحب کی وفات۔

The first source of reformation of practices is strength of resolve or strength of faith. Prophets of God come to inculcate this; they demonstrate fresh and living signs of God. Hazrat Musleh Maud(ra) said that the abundance with which our Jama’at has fresh signs of God before it is matchless. There is no other religion apart from Islam with signs of ever-fresh Word of God, living miracles and signs demonstrating the existence of God which cleanse human hearts from all kind of adulteration and grant it knowledge and closeness of God. Why is it that we can debate the matter of death of Jesus(as) in minute detail and can produce reference upon reference before the detractors and silence them but similar effort has not been made by the religious scholars of the Jama’at to present the correct teaching of the Jama’at before it! As a result, there are people in the Jama’at who can respond to the matter of death of Jesus(as) very well and can respond to objections raised by Maulwis. We need to find out and analyse how many of us are eager as regards worship of God! Not just in Ramadan, or sit Itikaf in Ramadan and simply relate it for the rest of the year. Rather, by making this love of worship a part of our life throughout the year so that we have nearness of God on a permanent basis. How many of us experience acceptance of prayers through God’s love and to whom He speaks? Having accepted the Promised Messiah(as), it is the obligation of every Ahmadi to try and attain this level for he came to bring about this very revival of Islam. In terms of worldly matters people copy and emulate others but we do not emulate and copy in religious matters. We do not emulate the model of the Promised Messiah(as) and his companions in doing which there is no question of incurring any loss, in fact there is immeasurable gain! What is the reason then, that we do not emulate these models? Our missionary from Kyrgyzstan writes that an Umer Sahib who is now 58 years old took his Bai’at in 2002. He was a born Muslim but held communist views. Umer Sahib says that the day he took his Bai’at was a memorable day which he equates to a new birth. He had tried many other religious communities but found no change in himself. Since taking Bai’at he has undergone a spiritual revolutionary change. The second factor for reformation of practices is strength of knowledge or having knowledge. Sometimes it is erroneously thought that some sins are big and others small. As a result it gets embedded in one’s heart and mind that some sins are small and inconsequential. Attention was drawn in a recent sermon that some asylum seekers make false submissions in their cases. Not only do they harm their own case, they are also a cause of disrepute of the Jama’at. Death of Nawab Bibi Sahiba and Sheikh Abdul Rasheed Sherma Sahib.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
17-Jan-2014   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Kyrgyz (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Self-Reformation: Resolve, Faith & Rehabilitation
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Persian | Latin American Spanish | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

عملی اصلاح کیلئے جن تین چیزوں کی ضرورت ہے، ان میں سب سے پہلی قوت ارادی ہے، یہ قوت ارادی کیا چیز ہے ؟ ہم میں سے بعض کے نزدیک یہ عجیب بات ہوگی کہ قوت ارادی کے بارہ میں کہا جا رہا ہے کہ یہ کیاچیز ہے، اکثر یہ کہیں گے کہ قوت ارادی کے جو اپنے الفاظ ہیں ان سے ہی یہ ظاہر ہے کہ مضبوط ارادے اور اسے انجام دینےکی قوت ہے، یہاں یہ سوال اٹھانے کی کیا ضرورت ہے کہ یہ قوت ارادی کیا چیز ہے؟ اس بارے میں واضح ہونا چاہئے اور حضرت مصلح موعودؓ نے بڑے احسن رنگ میں اس کا بیان فرمایا ہے کہ قوت ارادی کا مفہوم عمل کے لحاظ سے ہر جگہ بدل جاتا ہے، پس یہ بنیادی بات ہمیں اپنے سامنے رکھنی چاہئے اور جب یہ بات اپنے سامنے رکھیں گے تو پھر ہی اس نہج پر سوچ سکتے ہیں کہ دین کے معاملے میں قوت ارادی ایمان کا نام ہے۔ صحابہؓ شراب پیا کرتے تھے اور جب اس کا نشہ چڑھتا ہے تو کیا حالت انسان کی بنا دیتا ہے، ان (مغربی)ملکوں میں رہنے والے یہاں شرابیوں کے نمونے اکثر دیکھتے رہتے ہیں، ہماری مسجد فضل کی سڑکوں پر بھی ایک شرابی پھرتا ہے اور اس کے پاس سوائے شراب کے ٹین کے اور کچھ نہیں ہوتا، گندے کپڑے لیکن شراب خرید لیتا ہے، حضور کو یہ بھی پتہ چلا ہے کہ وہ پڑھا لکھا ہے اور شاید کسی زمانے میں انجینیئر بھی تھا، بہرحال اب تو کام کچھ نہیں کرتا، ویسے بھی اس کی عمر ایسی ہی ہے، حکومت سے جوکچھ خرچہ ملتا ہو اس کو سب شراب پہ خرچ کر دیتا ہے۔ چند صحابہؓ ایک مکان میں بیٹھے ہوئے تھے، دروازے بند تھے اور یہ سب شراب پی رہے تھے اور ابھی شراب کی ممانعت کا حکم اس وقت نازل نہیں ہوا تھا، اور شراب پینے میں کوئی ہچکچاہٹ بھی نہیں تھی، جتنا جس کا دل چاہتا تھا پیتا تھا، نشے میں بھی آجاتے تھے، شراب کا ایک مٹکا اس مجلس میں بیٹھے لوگوں نے خالی کردیا اور دوسرا شروع کرنے لگے تھے، اتنے میں گلی سے آواز آئی کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ مجھے خداتعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ آج سے مسلمانوں پر شراب حرام کی جاتی ہے۔ امریکہ میں ایک زمانے میں کھلے عام شراب کی ممانعت کی کوشش ہوئی جس کیلئے لوگوں نےدوسرا طریقہ استعمال کیا کہ سپرٹ پینے شروع کر دیئے اور سپرٹ پینے کے نقصانات بھی بہت زیادہ ہیں اور اس کی وجہ سے لوگ مرنے لگے، حضر ت مصلح موعودؓ نے لکھا ہے ایمان نہیں تھا اس لئے یہ دنیاوی قانون کی کوشش کامیاب نہیں ہوسکی، حکومت نے پھر قانون بنایا کہ اگر ڈاکٹر اجازت دیں تو پھر شراب ملے گی، تو اس کا نتیجہ کیا نکلا کہ ہزاروں ڈاکٹروں نے اپنی آمدنیاں بڑھانے کیلئے غلط سرٹیفکیٹ جاری کرنے شروع کر دئیے، ایسے ڈاکٹر جن کی پریکٹس نہیں چلتی تھی، اس کی اسی طرح آمدنی شروع ہوگئی، آخر وقت ایسا آیا کہ قانون کو گھٹنے ٹیکنے پڑے۔ بہرحال واضح ہو کہ قوت عملیہ کی کمی یا نہ ہونے کے بھی بعض اسباب ہیں، مثلا ایک سبب عادت ہے، ایک شخص میں قوت ارادی بھی ہوتی ہے ، علم بھی ہوتا ہے لیکن عادت کی وجہ سے مجبور ہو کروہ عمل میں کمزوری دکھا رہا ہوتا ہے، یا ایک شخص جانتا ہے کہ خداتعالیٰ کا قرب حاصل ہوسکتا ہے لیکن مادی اشیاء کیلئے جذبات محبت یا مادی نقصان کے خوف سے جذبات خوف غالب آتے ہیں اور اﷲتعالیٰ کا قرب حاصل کرنے سے انسان محروم رہ جاتا ہے، ایسے لوگوں کیلئے اندرونی کے بجائے بیرونی علاج کی ضرورت ہے،اس کیلئے صحیح سہارے کی ضرورت ہے۔ بہرحال یہ تینوں قسم کے لوگ دنیا میں موجود ہیں اور دنیا میں یہ بیماریاں بھی موجود ہیں، بعض ایسے لوگ ہیں جن کی عمل کی کمزوری کی وجہ ایمان میں کامل نہ ہونا ہے، بعض لوگ ایسے جن میں عمل کی کمزوری اس وجہ سے ہے کہ ان کا علم کامل نہیں ہے، کچھ لوگ ایسے ہوتے جو ایمان اور علم رکھتے ہیں لیکن دوسرے ذرائع سے ان پر ایسا زنگ لگ جاتا ہے کہ دونوں علاج ان کیلئے کافی نہیں ہوتےاور بیرونی علاج کی ضرورت ہوتی ہے، کسی سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ارسلان سرور صاحب کی راولپنڈی پاکستان میں شہادت۔

As we have established, the first thing needed for reformation of practices is strength of resolve. What is strength of resolve? Many will say strength of resolve is self-explanatory, it is obviously the strength to resolve and conclude something, then why the question! Let it be clear, as Hazrat Musleh Maud(ra) has beautifully explained, that the connotation of strength of resolve alters in accordance with the action it is about. With this basic point in mind, we can appreciate that in religious matters strength of resolve is iman (belief). The Companions used to drink alcohol and we know what alcohol does to people. Those living in these [Western] countries often see drunks out and about. There is a drunk who roams the streets around our Fazl Mosque. He carries nothing but cans of alcoholic drinks and his clothes are filthy. Huzoor came to know that he is an educated man who perhaps once was an engineer. He does not work now, is perhaps of pensionable age. A Tradition relates that once before the commandment regarding prohibition of alcohol was revealed, Companions were drinking in a house. They had emptied one pitcher of alcohol and were about to open the second when a voice came from the street that the Holy Prophet(saw) had said that God had commanded him that consumption of alcohol was prohibited for Muslims from that day onwards. There was a time when effort was made to prohibit public consumption of alcohol in USA. It turned people to consume spirits which is harmful and people started dying. Hazrat Musleh Maud(ra) wrote that because there was lack of faith the worldly law did not work. The government then passed a law which made alcohol available on doctor’s permission justifying its use. As a result thousands of doctors started writing bogus certificates to boost their income until the law had to capitulate. Let it be clear that there are some reasons for weakness in capacity to implement matters. For example, habit. A person may have strength of resolve and also knowledge but owing to his habit, he shows weakness in his practice. A person knows that God’s nearness and love can be attained, but his love for material things or fear of material loss is overpowering and he is thus deprived of God’s love and nearness. For such people external rather than internal remedy is required and it alone can bring betterment to their capacity to implement matters. In any case there are three types of people in this world and there are [spiritual] ailments. There are people whose practices are weak because their faith is not complete. There are people whose practices are weak because their knowledge is not complete and then there are people who have faith and knowledge but their hearts are so corroded that both these aspects are not sufficient and they need support. Martyrdom of Arsalan Sarwar in Rawalpindi, Pakistan.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
10-Jan-2014   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)Dutch (mp3)French (mp3)German (mp3)Kyrgyz (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Knowledge and Will Power for Practical Reformation
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Persian | Latin American Spanish | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

پس اگر ہم نے حضرت مسیح موعودؑ کے مشن میں کار آمد ہونا ہے، آپؑ کے مقصدکو پورا کرنے والا بنانا ہے، تو یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ ہم میں سے ہر ایک اپنی عملی اصلاح کی روکوں کو دور کرنے کی بھرپور کوشش کرے، کیونکہ یہ عملی اصلاح ہی دوسروں کی توجہ ہماری طرف پھیرے گی اور نتیجۃ ہم حضرت مسیح موعودؑ کے مشن میں معد و معاون بن سکیں گے، پس ہمیں سوچنا چاہئے کہ اس کے حصول کیلئے ہم نے کیا کرنا ہےکیونکہ ہمارے غالب آنے کا بہت بڑا ہتھیار عملی اصلاح بھی ہے۔ حضر ت مصلح موعودؓ نے مثال دی ہے کہ مغربی معاشرے میں ناچ کا رواج ہے، یہ حضرت مصلح موعودؓ کے زمانہ میں اتنا عام نہیں تھا یا کم از کم اس کیلئے خاص جگہوں پر جانا پڑتا تھا، آجکل تو ٹی وی اور انٹرنیٹ نے ہر جگہ یہ پہنچا دیا ہے،اور گھروں میں ہی تفریح کے نام پر بعض گھروں میں ناچ کے اڈے بن گئے ہیں اور بعض گھریلو فنکشن پر بھی یہ ناچ وغیرہ ہوتے ہیں، خاص طور پر شادیوں کے موقع پر تفریح اور خوشی کے نام پر بیہودہ ناچ کئے جاتے ہیں، ایک احمدی گھر کو اس سے بالکل پاک ہونا چاہئے، اس پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ جب ہم جائزہ لیتے ہیں اس پہلو سے کہ ہماری قوت ارادی کیسی ہے؟ تو ہمیں نظر آتا ہے جہاں تک ارادے کا تعلق ہے اس میں بہت کم نقص ہے ، کیونکہ ارادے کے طور پر جماعت کے تمام یا اکثر افراد ہی تقریبا یہ چاہتے ہیں کہ ان میں تقویٰ اور طہارت پیدا ہو، وہ اسلامی احکامات کی اشاعت کرسکیں، وہ اﷲتعالیٰ کی محبت اور قرب حاصل کر سکیں ، حضرت مصلح موعودؓ نے اس کی وضاحت یوں فرمائی ہے کہ یہ باتیں ثابت کرتی ہیں کہ ہماری قوت ارادی تو مضبوط ہے اور طاقت ور ہے پھر بھی نتائج صحیح نہیں نکلتے،تو پھر یقینا دو باتوں میں سے ایک بات ہے ، یا تو یہ کہ عمل کیلئے حقیقی قوت ارادی جو چاہئے، اتنی ہمارے اندر نہیں ہے، لیکن عقیدے کی اصلاح کیلئے جتنی قوت ارادی کی ضرورت تھی وہ ہم میں موجود تھی۔ حضرت مصلح موعودؓ نے ایک بات یہ بھی بیان فرمائی کہ اﷲتعالیٰ نے ہر انسان میں ایک قوت موازنہ رکھی ہے، جس سے وہ موازنہ کر سکتا ہے دو چیزوں کے درمیان، جو یہ فیصلہ کرتی ہے کہ فلاں کام کرنے کیلئے اتنی طاقت درکار ہےاور ساری طاقت انسان کے ہاتھ میں نہیں ہوتی بلکہ دماغ میں میں محفوظ ہوتی ہے، اسلئے پہلی دفعہ جب ایک کام نہ ہو جیسے وزن اٹھانے کی مثال دی گئی ہے، وزن نہ اٹھا یا جا سکے تو پھر انسان دماغ کو مزید طاقت بھیجنے کیلئے کہتا ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا : یہاں جو سیاسی پناہ لینے والے آتے ہیں، یہ پتہ نہیں کیوں ، اکثریت کے ذہنوں میں یہ بات راسخ ہوگئی ہے کہ لمبی کہانی بنائے بغیر اور جھوٹی کہانی بنائے بغیر ہمارے کیس پاس نہیں ہونگے، حالانکہ کئی مرتبہ حضور فرماچکے ہیں کہ اگر مختصر اور صحیح بات کی جائے تو کیس جلدی پاس ہو جاتے ہیں، کئی مثالیں ہیں ایسی میرے سامنے ، کئی لوگوں نے مجھے بتایا ہےکہ انہوں نے مختصر اور سچی بات کی ہے اور چند دنوں میں کیس پاس ہو گیا۔ ان سب باتوں کا خلاصہ یہ بنے گا کہ عملی اصلاح کیلئے ہمیں تین چیزوں کی ضرورت ہے، پہلے قوت ارادی کی طاقت کہ وہ بڑے بڑے کام کرنے کی اہل ہو، علم کی زیادتی کہ ہماری قوت ارادی اپنی ذمہ داری کو محسوس کرتی رہے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط اور صحیح کی تائید کرنی ہے اور اس پر عمل کرنے کیلئے پورا زور لگانا ہے، غفلت میں رہ کر انسان مواقع نہ گنوا دے، تیسرے قوت عملیہ کی طاقت کہ ہمارے اعضاء ہمارے ارادے کے تابع چلیں، بد ارادوں کے نہیں، نیک ارادوں کے اور اس کا حکم ماننے سے انکار نہ کریں، یہ باتیں گناہوں سے نکالنے اور اعمال کی اصلاح کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ ماسٹر مشرق علی صاحب کی قادیان ، انڈیا میں وفات۔

Wishing to be useful to the mission of the Promised Messiah(as) can only be made possible when each one of us tries our utmost to remove the impediments to the reformation of our practices. Reformation of our practises alone will draw others to us and we will be able to help in the completion of the mission of the Promised Messiah(as). The strength to reform others can only come about after our own reformation. Hazrat Musleh Maud(ra) said that dancing is part of Western culture. Perhaps it was not as common in the time of Hazrat Musleh Maud as it is today through the agency of television and the internet. Some homes have been turned into dance houses. In some families dancing takes place in the name of entertainment during family functions, especially during weddings. Ahmadi families should be completely free of these practices and attention should be given to this matter. There is little wrong with our strength of resolve. Majority of the Jama’at wants to have Taqwa (righteousness) and purity, to disseminate the message of Islam and to attain the love and nearness of God. Hazrat Musleh Maud(ra) said that although our strength of resolve was strong it did not bring results. Perhaps there is not enough resolve to implement what is desired. Hazrat Musleh Maud(ra) said that God has given every individual the capacity to asses/compare which determines how much strength is required to do such and such tasks because there is muscular strength and then there is mental strength, just as it was illustrated in the example of a person lifting an object, whereby capacity to assess/compare was utilised. It is bewildering why many people who seek [political] asylum think that unless they concoct a story their case will not be successful. This is in spite of Hazrat Khalifatul Masih repeatedly mentioning that if the matter is explained briefly and correctly asylum cases are successful quickly. There are many examples of this when people have said that they made brief and correct statements and their cases were successful promptly. In summary, reformation of practice requires three things: strength of resolve which is capable of big things, abundance of knowledge so that our strength of resolve realises its responsibility as regards what is wrong and what is right and supports what is right and endeavours to follow it and not lose out due to ignorance. Thirdly, we need strength to implement matters so that our limbs follow our good intentions and do not reject what the good intentions order them to do. Death of Master Mashriq Ali Sahib in Qadian, India.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
03-Jan-2014   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)Dutch (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Kyrgyz (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Progress of Ahmadiyyat in 2013, Financial Sacrifice and Waqf-e-Jadid
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Persian | Latin American Spanish
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Tamil | Malayalam | Indonesian
Slide Deck: Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا : سب سے پہلے میں آج آپ کو اور دنیا میں پھیلے تمام احمدیوں کو نئے سال کی مبارکباد دیتا ہوں، حضور کو بھی جماعتوں کی طرف سے بھی، اداروں کی طرف سے بھی، افراد کی طرف سے بھی مبارکباد کے پیغام آرہے ہیں، ان سب کو مبارک ہو اور تمام جماعت کو مبارک ہواور اس دعا کے ساتھ یہ مبارکباد ہے کہ اﷲتعالیٰ محض اور محض اپنے فضل سے پہلے سے بڑھ کر اس سال کو اپنی رحمتوں ، فضلوں اور برکتوں کا سال بنا دے۔ ہمارا صرف نئے سال کی رات کو اجتماعی نفل پڑھ لینا کافی نہیں ہے، اگر ہمیں ان نوافل کی ادائیگی کے ساتھ یہ احساس پیدا نہیں ہوتا کہ اب ہم نے حتی الوسع یہ کوشش کرنی ہے کہ نوافل کی ادائیگی کرتے رہیں، اپنی عبادت کے معیار کو بھی خدا تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے کیلئے بہتر بنانا ہے اور اپنی عملی زندگی میں ہر کام اﷲتعالیٰ کی رضا کے حصول کیلئے کرنے کی کوشش کرنی ہے۔ اﷲتعالیٰ کرے کہ ہمارے تمام عہدیدار یا خدمت سر انجام دینے والے بھی اپنے آپ میں یہ عاجزی انکساری اخلاص محنت اور دعا کی عادت پیدا کرنے والے ہوں اور پہلے سے بڑھ کر پیدا کرنے والے ہوں اور جب یہ ہو گا تبھی وہ یقینا خلیفہ وقت کے بھی سلطان نصیر بننے والے ہوں گے اور افراد جماعت بھی وفا کے ساتھ سلسلے کے کاموں کو ہر دوسرے کام پر مقدم کرنے والے ہوں، تاکہ ہم اﷲتعالیٰ کے فضلوں کے نظارے ہمیشہ دیکھتے چلے جانے والے ہوں۔ 2013 کے سال میں اﷲتعالیٰ کے فضل سے 136 باقاعدہ مساجد اور انڈیا میں چھوٹے چھوٹے گاؤں میں فوری طور پر عارضی مسجد یا شیڈ بنائے گئے ہیں لکڑی اور ٹین سے ان کی تعداد 22 ہے اور 258 نئی مساجد ملیں، یہ مساجد ا س طرح ملیں کہ جو تبلیغ کا کام جماعت کر رہی ہے اس کے ذریعے سے جو ائمہ شامل ہوئے جماعت میں ان کے ساتھ ان کی مساجد بھی آئیں اور لوگ بھی شامل ہوئے ۔ اسی طرح جرمنی کے دوروں کے دوران حضور نے مساجد کے سنگ بنیاد رکھے اور جلسہ میں شامل ہوئے ، تو وہاں اخباروں ، ریڈیو سٹیشن اور ٹی وی چینل نے جو کوریج دی ہے ، وہ صرف جرمنی تک ہی نہیں بلکہ آسٹریا اور سوئٹزرلینڈ کے مشترکہ ٹی وی چینل بھی تھے اور اس طرح مجموعی طور پر جو سفر جرمنی کے ہوئے چار ملین افراد تک پیغام پہنچا۔ دعاؤں کے ساتھ نئے سال کو بھر دیں، درود استغفار پر اس قدر توجہ دیں کہ اﷲتعالیٰ ہمیشہ ہم پر رحمت کی نظر ڈالتے ہوئے ، اپنے فضلوں کو ہم پر وسیع تر کرتا چلا جائے، دشمن کے مکروں کو ان پر الٹا دے، ہر مخالف کو اور ہر مخالفت کو ہوا میں اڑا دے، اﷲتعالیٰ کے فضل پہلے سے بڑھ کر ہم پر نازل ہوں، حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں دعا میں خدا تعالیٰ نے بڑی قوتیں رکھی ہیں،خدا تعالیٰ نے مجھے بار بار بذریعہ الہامات یہی فرمایا ہے کہ جو کچھ ہوگا دعا کے ذریعہ سےہی ہوگا۔ آج جنوری کا پہلا جمعہ ہے اور روایت کے مطابق وقف جدید کے نئے سال کا بھی اعلان اس جمعہ کو ہوتا ہے، اور گزشتہ سال جو اﷲتعالیٰ کے فضل ہوئے ہیں ان کا ذکر بھی ہوتا ہے، جو وقف جدید کے ذریعے اﷲتعالیٰ نے کئے اور کر رہا ہے، کچھ کا حضور نے ذکر کیا، افریقہ میں وقف جدید کے چندے کا بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے اور یہ بھی اﷲتعالیٰ کا فضل ہے کہ یہ ایک ذریعہ اس چندے کی رقم بن رہی تبلیغی میدان میں آگے بڑھنے کی، مساجد بنانے کی اور دوسرے چیزیں کرنے کی۔ یوسف لطیف صاحب کی بوسٹن امریکہ میں وفات۔

First, I wish to say to all of you and to all Ahmadis spread throughout the world, that may Allah bless the new year. I have been receiving such congratulatory, prayerful, mubarakbaad [blessings] messages from individual Ahmadis, from Jama’ats and from Ahmadiyya Jama’at institutions. May Allah bless this new year for them all and for all Jama’ats. It is not enough for us to get together and offer voluntary prayers in congregation on New Year’s night if we also do not develop the feeling that now we have to try, as far as possible, to continue to offer these voluntary prayers every night; and have to improve the standard of our worship to acquire the Grace of God; and have to try in our daily practical life to do everything with the sole motive of winning the pleasure of God. May Allah enable all our officeholders and those devoted to serving the Jama’at develop and adopt humility, lowliness and sincerity and become hard working and prayerful and daily more so than before. And when this happens then truly they will become the “sultanan naseera” - a helping power - for the Khalifa of the time also. And the members of the Jama’at also would then turn, with full loyalty, to attend to the work of the Jama’at giving such work preference over all other worldly tasks. In 2013, by the Grace of Allah, the Exalted, 136 mosques were built; and in India, in some small places, small temporary mosques or sheds have been constructed using wood and tin and these numbered 22. We were also blessed with 258 new mosques. We were given these 258 mosques in this way that the work of tabligh/outreach that the Jama’at is doing resulted in Imams joining us and they brought these mosques also with them and the people also joined. Similarly, during the trips to Germany, I placed the foundation stones of two mosques and joined in their Jalsa and during these trips their newspapers and radio and tv stations provided us coverage that went well beyond the borders of Germany and reached Austria and Switzerland also since the tv channels who covered the events were jointly serving these countries also. And in this way, overall, during these journeys of Germany, the message reached some 4 million people. So fill the coming year with prayers. Pay so much attention to the recitation of durood and istighfar that Allah, the Exalted, casting always a glance of Mercy upon us, may continue to make more and more expansive the Grace that He has been bestowing upon us and turn the machinations of our enemies upon them themselves. May He wipe out and make extinct, every opponent and every opposition. May His Grace continue to descend upon us in greater measure every day. Today is the first Jumu’ah [Friday] of January and in keeping with tradition, the announcement of the new Waqf-e-Jadid year also happens on this Friday and the Grace of God that descended during the previous year by way of Waqf-e-Jadid and that continues to descend is also mentioned. Some of it I have already mentioned. Much of the Waqf-e-Jadid chanda [contributions] is used in Africa and this is another Grace of God that this chanda is enabling mosques to be made and tabligh to be carried out and for doing many other things. Death of Yusuf Lateef Sahib of Boston, USA.