In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Browse Al Islam

Back Quran Search Home

The Holy Quran : Chapter 2: Al-Baqarah البَقَرَة

English Translation by Maulvi Sher Ali (ra)      اردو ترجمہ [حضرت مرزا طاہر احمد، خلیفۃ المسیح الرابع]
Get flash to see this player.

[2:257] There should be no compulsion in religion. Surely, right has become distinct from wrong; so whosoever refuses to be led by those who transgress, and believes in Allah, has surely grasped a strong handle which knows no breaking. And Allah is All-Hearing, All-Knowing.
[2:257] دین میں کوئی جبر نہیں۔ یقیناہدایت گمراہی سے کھل کر نمایاں ہوچکی۔ پس جو کوئی شیطان کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے تو یقینا اس نے ایک ایسے مضبوط کڑے کو پکڑ لیا جس کا ٹوٹنا ممکن نہیں۔ اور اللہ بہت سننے والا (اور) دائمی علم رکھنے والا ہے۔
Read: Short English Commentary | Detailed English Commentary | Urdu Tafaseer اردو تفاسیر

[2:258] Allah is the friend of those who believe: He brings them out of every kind of darkness into light. And those who disbelieve, their friends are the transgressors who bring them out of light into every kind of darkness. These are the inmates of the Fire; therein shall they abide.
[2:258] اللہ ان لوگوں کا دوست ہے جو ایمان لائے۔ وہ ان کو اندھیروں سے نور کی طرف نکالتا ہے۔ اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ان کے دوست شیطان ہیں۔ وہ ان کو نور سے اندھیروں کی طرف نکالتے ہیں۔ یہی لوگ آگ والے ہیں وہ اس میں لمبا عرصہ رہنے والے ہیں۔
Read: Short English Commentary | Detailed English Commentary | Urdu Tafaseer اردو تفاسیر



[2:259] Hast thou not heard of him who disputed with Abraham about his Lord, because Allah had given him kingdom? When Abraham said, ‘My Lord is He Who gives life and causes death,’ he said, ‘I also give life and cause death.’ Abraham said, ‘Well, Allah brings the sun from the East; bring it thou from the West.’ Thereupon the infidel was dumbfounded. And Allah guides not the unjust people.
[2:259] کیا تُو نے اس شخص پر غور کیا جس نے ابراہیم سے اس کے ربّ کے بارہ میں اس بِرتے پر جھگڑا کیا کہ اللہ نے اسے بادشاہت عطا کی تھی۔ جب ابراہیم نے کہا میرا ربّ وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا بھی ہے۔ اس نے کہا میں (بھی) زندہ کرتا ہوں اورمارتا ہوں۔ ابراہیم نے کہا یقیناً اللہ سورج کو مشرق سے لاتا ہے تُو اسے مغرب سے لے آ، تو وہ جس نے کفر کیا تھا مبہوت ہوگیا۔ اور اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔
Read: Short English Commentary | Detailed English Commentary | Urdu Tafaseer اردو تفاسیر

[2:260] Or like him who passed by a town which had fallen down upon its roofs, and exclaimed, ‘When will Allah restore it to life after its destruction?’ Then Allah caused him to die for a hundred years; then He raised him, and said: ‘How long hast thou remained in this state?’ He answered, ‘I have remained a day or part of a day.’ He said: ‘Nay, thou hast remained in this state for a hundred years. Now look at thy food and thy drink; they have not rotted. And look at thy ass. And We have done this that We may make thee a Sign unto men. And look at the bones, how We set them and then clothe them with flesh.’ And when this became clear to him, he said, ‘I know that Allah has the power to do all that He wills.’
[2:260] یا پھر اس شخص کی مثال (پرتُو نے غور کیا؟) جس کا ایک بستی سے گزر ہوا جبکہ وہ اپنی چھتوں کے بل گری ہوئی تھی۔ اس نے کہا اللہ اس کی موت کے بعد اسے کیسے زندہ کرے گا۔ تو اللہ نے اس پر ایک سو سالہ موت (کی سی حالت) وارد کر دی۔ پھر اسے اُٹھایا (اور) پوچھا تو کتنی مدت (اس حالت میں) رہا ہے؟ اس نے کہا میں ایک دن یا دن کا کچھ حصہ رہا ہوں۔ اُس نے کہا بلکہ تُو سو سال رہا ہے۔ پس تو اپنے کھانے اور اپنے مشروب کو دیکھ وہ گلے سڑے نہیں۔ اور اپنے گدھے کی طرف بھی دیکھ۔ یہ (رؤیت) اسلئے ہے کہ ہم تجھے لوگوں کے لئے ایک نشان بنا دیں۔ اور ہڈیوں کی طرف دیکھ کس طرح ہم ان کو اٹھاتے ہیں اور انہیں گوشت پہنا دیتے ہیں۔ پس جب بات اس پر کھل گئی تو اس نے کہا میں جان گیا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر جسے وہ چاہے دائمی قدرت رکھتا ہے۔
Read: Short English Commentary | Detailed English Commentary | Urdu Tafaseer اردو تفاسیر



[2:261] And remember when Abraham said, ‘My Lord, show me how Thou givest life to the dead.’ He said, ‘Hast thou not believed?’ He said, ‘Yes, but I ask this that my heart may be at rest.’ He answered, ‘Take four birds and make them attached to thyself. Then put each of them on a hill; then call them; they will come to thee in haste. And know that Allah is Mighty, Wise.’
[2:261] اور (کیا تُو نے اس پر بھی غور کیا) جب ابراہیم نے کہا اے میرے ربّ مجھے دکھلا کہ تُو مُردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے۔ اُس نے کہا کیا تو ایمان نہیں لا چکا؟ اُس نے کہا کیوں نہیں مگر اس لئے (پوچھا ہے) کہ میرا دل مطمئن ہو جائے۔ اس نے کہا تُو چار پرندے پکڑ لے اور انہیں اپنے ساتھ مانوس کر لے۔ پھر ان میں سے ایک ایک کو ہر پہاڑ پر چھوڑ دے۔ پھر انہیں بُلا، وہ جلدی کرتے ہوئے تیری طرف چلے آئیں گے۔ اور جان لے کہ اللہ کامل غلبہ والا (اور) بہت حکمت والا ہے۔
Read: Short English Commentary | Detailed English Commentary | Urdu Tafaseer اردو تفاسیر

[2:262] The similitude of those who spend their wealth for the cause of Allah is like the similitude of a grain of corn which grows seven ears, in each ear a hundred grains. And Allah multiplies it further for whomsoever He pleases; and Allah is Bountiful, All-Knowing.
[2:262] ان لوگوں کی مثال جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ایسے بیج کی طرح ہے جو سات بالیں اُگاتا ہو۔ ہر بالی میں سو دانے ہوں اور اللہ جسے چاہے (اس سے بھی) بہت بڑھا کر دیتا ہے۔ اور اللہ وسعت عطا کرنے والا (اور) دائمی علم رکھنے والا ہے۔
Read: Short English Commentary | Detailed English Commentary | Urdu Tafaseer اردو تفاسیر

[2:263] They who spend their wealth for the cause of Allah, then follow not up what they have spent with taunt or injury, for them is their reward with their Lord, and they shall have no fear, nor shall they grieve.
[2:263] وہ لوگ جو اپنے اموال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، پھر جو وہ خرچ کرتے ہیں اُس کا احسان جتاتے ہوئے یا تکلیف دیتے ہوئے پیچھا نہیں کرتے، اُن کا اجر اُن کے ربّ کے پاس ہے اور اُن پر کوئی خوف نہیں ہو گا اور نہ وہ غم کریں گے۔
Read: Short English Commentary | Detailed English Commentary | Urdu Tafaseer اردو تفاسیر

[2:264] A kind word and forgiveness are better than charity followed by injury. And Allah is Self-Sufficient, Forbearing.
[2:264] اچھی بات کہنا اور معاف کر دینا زیادہ بہتر ہے ایسے صدقہ سے کہ کوئی آزار اُس کے پیچھے آ رہا ہو۔ اور اللہ بے نیاز (اور) بُردبار ہے۔
Read: Short English Commentary | Detailed English Commentary | Urdu Tafaseer اردو تفاسیر

[2:265] O ye who believe! render not vain your alms by taunt and injury, like him who spends his wealth to be seen of men, and he believes not in Allah and the Last Day. His case is like the case of a smooth rock covered with earth, on which heavy rain falls, leaving it bare, smooth and hard. They shall not secure aught of what they earn. And Allah guides not the disbelieving people.
[2:265] اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے صدقات کو احسان جتا کر یا اذیت دے کر ضائع نہ کیا کرو۔ اس شخص کی طرح جو اپنا مال لوگوں کے دکھانے کی خاطر خرچ کرتا ہے اور نہ تو اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور نہ یومِ آخر پر۔ پس اس کی مثال ایک ایسی چٹان کی طرح ہے جس پر مٹی (کی تہ) ہو۔ پھر اس پر موسلادھار بارش برسے تو اُسے چٹیل چھوڑ جائے۔ جو کچھ وہ کماتے ہیں اس میں سے کسی چیز پر وہ کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ اور اللہ کافر قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔
Read: Short English Commentary | Detailed English Commentary | Urdu Tafaseer اردو تفاسیر

[2:266] And the case of those who spend their wealth to seek the pleasure of Allah and to strengthen their souls is like the case of a garden on elevated ground. Heavy rain falls on it so that it brings forth its fruit twofold. And if heavy rain does not fall on it, then light rain suffices. And Allah sees what you do.
[2:266] اور ان لوگوں کی مثال جو اپنے اموال اللہ کی رضا چاہتے ہوئے اور اپنے نفوس میں سے بعض کوثبات دینے کے لئے خرچ کرتے ہیں، ایسے باغ کی سی ہے جو اونچی جگہ پر واقع ہو اور اُسے تیز بارش پہنچے تو وہ بڑھ چڑھ کر اپنا پھل لائے، اور اگر اسے تیز بارش نہ پہنچے تو شبنم ہی بہت ہو۔ اور اللہ اس پر جو تم کرتے ہو گہری نظر رکھنے والا ہے۔
Read: Short English Commentary | Detailed English Commentary | Urdu Tafaseer اردو تفاسیر

 Previous Page
 
 
 Next Page