In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » عبادات » PDF ڈاؤن لوڈ کریں PDF ڈاؤن لوڈ کریں

قبولیت دعا کے طریق

(سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ)
+ فہرست مضامین

کثرت سے خدا تعالیٰ کی حمد کریں

چوتھا گُر یہ ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کی حمد کرے ۔ یہ بھی ایک عام طریق ہے جو اسلام کی تعلیم سے بھی معلوم ہوتاہے اور فطرت انسانی میں بھی پایا جاتاہے۔ دیکھو فقراء جب کچھ مانگنے آتے ہیں تو جس سے مانگتے ہیں اس کی بڑ ی تعریف کرتے ہیں ۔ کبھی اسے بادشاہ بناتے ہیں ، کبھی اس کی بلند شان ظاہرکرتے ہیں ،کبھی کوئی اور تعریفی کلمات کہتے ہیں ۔ حالانکہ جو کچھ وہ کہتے ہیں اس میں وہ کوئی بات بھی نہیں پائی جاتی۔ مگرمانگنے والا اس طرح کرتا ضرورہے۔ اور ساتھ ہی اپنے آپ کو بڑامحتاج اور سخت حاجتمند بھی ظاہر کرتاہے کیونکہ سمجھتاہے کہ اس طرح کرنے سے میں اپنے مخاطب کو رحم اوربخشش کی طرف متوجہ کر لوں گا اور اللہ تعالیٰ کی تو جس قدر بھی تعریف کی جائے وہ کم ہوتی ہے۔ کیونکہ وہی سب خوبیاں اپنے اندررکھتا ہے اور اسی لئے دوسرے لوگوں کی جو تعریف ہوتی ہے وہ سچی اور جھوٹی دونوں طرح کی ہو سکتی ہے مگر خدا تعالیٰ کی جو تعریف بھی کی جائے وہ سب سچی ہی ہوتی ہے ۔ اسلئے جب کبھی دعا کی ضرورت ہو تو دعاکرنے سے پہلے خدا تعالیٰ کی حمد کرلینی چاہئے۔ چنانچہ سورۃ فاتحہ سے ہمیں یہ نکتہ معلوم ہوتاہے ۔ سورۂ فاتحہ وہ سب سے بڑی دعا ہے جو خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں کو سکھائی ہے او ر ہر روز کئی بار پڑھی جاتی ہے۔ اس میں پہلے خدا نے یہی رکھا ہے کہ

اَلحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ العَالَمِیْنَ ۔ اَلرٖحمٰنِ الرٖحِیْمِ مٰلِکِ یَومِ الدّیْن ۔ اِیٖاکَ نَعْبُدُ وَاِیٖاکَ نَسْتَعِیْن ۔اِھْدِنَاالصّراطَ المُسْتَقِیْمَ صِرَاطَ الٖذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِ المَغْضُوبِ عَلَیھِم وَلاَالضٖالّیْن فرمایاہے۔اس میں یہی گُر سکھایا گیاہے کہ جب کوئی دعا کرنے لگو تو پہلے کثرت سے خدا تعالیٰ کی حمد کر لو۔ (حمد تمام خوبیوں اور پاکیزیوں کے جمع ہونے اور سب نقصوں اور کمزوریوں سے منزہ سمجھنے کانام ہے ۔ اس لئے تسبیح بھی اس میں شامل ہے اور یہ بھی ایک قسم کی حمد ہوتی ہے )۔ خدا تعالیٰ کی حمد کر کے دعا کرنے سے بہت زیادہ دعا قبول ہوتی ہے۔ پس انسان کو چاہئے کہ دعا کرنے سے پہلے خدا تعالیٰ کی حمد کرے، اس کی عظمت اور جلال کا اقرار کرے اور اس کی تعریف بیان کرے اس طرح دعا بہت زیادہ قبول ہوتی ہے۔ وجہ یہ کہ چونکہ بندہ خدا تعالیٰ کی صفات کو بیان کرتا اور اپنے آپ کو بالکل ہیچ ظاہر کرتا ہے اس لئے وہ خدا جو رحمن اوررحیم ، مالک ، خالق، قادر ہے اورجس کے خزانوں میں کبھی کمی نہیں آ سکتی۔ اس کی دعا کو قبول کر لیتاہے۔ جب ایک انسان کسی انسان کے سامنے اپنے آپ کو محتاج پیش کرتا اور اس کی تعریف و توصیف کرتا ہے تو اسے رحم آجاتاہے اور وہ اس کی کچھ نہ کچھ مدد کر دیتا ہے تو خدا تعالیٰ کے حضور جب کوئی انسان اپنی حالتِ زار کو پیش کرے اور اس کی حمد و تعریف بیان کرے تو کیونکر ہو سکتا ہے کہ وہ اس کی دعا کو ردّ کر دے ۔ پس جب کوئی انسان خدا تعالیٰ کی صفات کو بیان کر کے کچھ مانگتاہے تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرا یہ محتاج بندہ جوکچھ مانگتاہے وہ اسے دیاجائے ۔ جس طرح آنحضرت ﷺ پردرود بھیجنے سے خداتعالیٰ کی محبت جوش میں آتی ہے اسی طرح حمد کرنے سے اس کی غیرت جو ش میں آ تی ہے ۔ درود پڑھنے سے تو خدا تعالیٰ یہ کہتاہے کہ یہ بندہ چونکہ ہمارے پیارے بندہ کے لئے دعا کرتاہے کہ اس پر فضل کیا جائے اس لئے میں اس پر بھی فضل کرتاہوں اور حمد کرنے کے وقت کہتاہے کہ یہ میرا بندہ جو میری صفات بیان کر رہا ہے میں اس پراپنی صفات ظاہر بھی کر دیتاہوں تا اس کو عملی طور پر معلوم ہو جائے کہ جوکچھ وہ میرے متعلق کہتاہے وہ سب درست ہے ۔ تو حمد خدا تعالیٰ کی سب صفات کو جوش میں لے آتی ہے اور سب صفات جمع ہو کر ایک طرف جھک جاتی ہیں تا کہ اس بندہ کا کام کر دیں۔

صفحہ نمبر: 10 (کل صفحات: 14)