دعا سے پہلےاپنے کپڑوں اور بدن کو صاف کریں
اس کے علاوہ دعا کی قبولیت کے لئے یہ بھی یاد رکھو کہ دعاکرنے سے پہلے اپنے کپڑوں اور بدن کو صاف کرو۔ گو ہر ایک دعا کرنے والا نہیں سمجھتا اور نہ محسو س کرتاہے مگر جو محسوس کرتے یا کر سکتے ہیں ان کا تجربہ ہے کہ جب انسان دعا کرتاہے تو اسے خدا تعالیٰ کا ایک قرب حاصل ہو جاتاہے اور اس کی روح اللہ تعالیٰ کے حضور کھنچی جاتی ہے گو دیکھنے والے کو معلوم نہیں ہوتا کہ خدا نظر آ رہا ہے مگر جس طرح خواب میں روح کوجسم سے آزاد کر دیا جاتاہے اسی طرح اس وقت خدا تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے کے لئے روح الگ کی جاتی ہے ۔ چونکہ روح کی صفائی جسم کی صفائی سے تعلق رکھتی ہے اورروح کی ناپاکی جسم کی ناپاکی سے ۔اس لئے اگر جسم ناپاک ہو تو روح پر بھی اس کا نا پاک ہی اثر پڑتاہے اور اگر جسم پاک ہو تو روح پر بھی اس کا پاک ہی اثر پڑتاہے ۔ ایک واقعہ لکھا ہے واللہ اعلم کہاں تک درست ہے،مگر ہے نتیجہ خیز۔ لکھا ہے کہ کسی شہزاد ی نے ایک معمولی شخص سے شادی کر لی ۔ جب وہ دونوں خلوت میں جمع ہوئے تو چونکہ مرد نے کھانا کھا کر ہاتھ نہ دھوئے تھے اس لئے ہاتھوں کی بوُ سے اسے اتنی تکلیف ہوئی کہ اس نے کہا کہ اس کے ہاتھ کاٹ دو۔ چنانچہ اس کے ہاتھ کاٹ دئے گئے ۔ گوخدا تعالیٰ پرکسی کے گندہ اور ناپاک ہونے کاکوئی اثر نہیں ہو سکتا مگر خدا تعالیٰ ہر ایک گند اورہر ایک ناپاکی کو سخت ناپسند کرتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے تمام عبادتوں کے لئے صفائی کی شرط ضروری قرار دی ہے ۔ جس طرح وہ شخص جو پیشاب سے بھرے ہوئے کپڑوں کے ساتھ کھڑا ہو کر نماز پڑھتاہے اس کی نماز قبول نہیں ہوتی۔ اسی طرح وہ دعائیں جو ایسی حالت میں کی جائیں وہ بھی قبول نہیں ہوتیں۔ بلکہ جب کوئی انسان گندی حالت میں خدا کے حضور پیش ہوتا ہے تو بجائے فائدہ اٹھانے کے وہاں سے نکال دیاجاتاہے ۔ یہی سرّ ہے کہ صوفیاء نے دعائیں کرنے کا لباس الگ بنا رکھا ہوتاہے جسے خوب صاف ستھرا رکھتے اور خوشبوئیں لگاتے ہیں۔ تو دعا کے قبول ہونے کا یہ بھی ایک طریق ہے کہ دعا کرنے سے پہلے انسان اپنے کپڑوں کو صاف ستھرا کر لے۔ جو شخص غریب ہے وہ اس طرح کر سکتاہے کہ ایک الگ جوڑا بنارکھے اور اسے صاف کر لیا کرے۔ اس طرح دعا زیادہ قبول ہوتی ہے۔
علیحدہ جگہ اور خاموش وقت کا انتخاب کریں
پھر دعا کی قبولیت کے لئے ایک اور طریق ہے اور وہ یہ کہ دعا کے لئے ایک ایسا وقت اور جگہ انتخاب کر ے جہاں خاموشی ہو۔ مثلاً اگردن کا وقت ہے تو جنگل میں کسی ایسی جگہ چلاجائے جہاں سمجھے کہ کوئی میرے خیالات میں خلل انداز نہیں ہو سکے گا۔ یا رات کے وقت جبکہ سب لوگ سوئے ہوئے ہوں دعا کرے۔ اس طرح یہ ہوتاہے کہ خیالات پراگندہ نہیں ہونے پاتے۔ جب کسی ایسی جگہ یا ایسے وقت دعا کی جاتی ہے کہ ادھر سے آوازیں آتی رہتی ہیں تو دعا کی طرف خاص توجہ نہیں ہو سکتی۔ اس طرح توجہ کبھی کسی طرف چلی جاتی ہے اور کبھی کسی طرف۔ چونکہ انسان کی طبیعت میں تجسس کامادہ ہے اس لئے ذرا سی آواز آنے پر جھٹ ادھر متوجہ ہو جاتا ہے تامعلوم کرے کہ کیا ہوا ہے۔ اس سے بچنے کے لئے وہ لوگ جن کوجلوت سے خلوت میسر نہیں آ سکتی یا آتی ہے مگر بہت تھوڑی دیر کے لئے وہ ایسے وقت دعا کریں جبکہ خاموشی ہو یاایسی جگہ کریں جہاں کسی قسم کا شور نہ ہو۔ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھا ہے آ پ جنگل میں تنہا چلے جایاکرتے تھے ۔ اس بات کاعلم اکثر لوگوں کو نہیں ہے مگر آپ اس راستہ سے جو میاں بشیر احمد کے مکان کے پاس سے گزرتاہے دس بجے کے قریب سیر کو جانے کے علاوہ اکیلے بھی جایا کرتے تھے ۔ ایک دن جو آپ جانے لگے تو میں بھی آ پ کے ساتھ چل پڑا ۔ تھوڑی دیر چلے تو واپس لوٹ آئے اورمسکرا کر فرمانے لگے پہلے تم جانا چاہتے ہو تو ہو آؤ، میں بعد میں جاؤں گا۔ اس سے میں سمجھ گیا کہ آپ اکیلے جانا چاہتے تھے۔ میں واپس آ گیا ۔غرضیکہ علیحدہ جگہ اور خاموش وقت میں خاص توجہ سے دعا کی جا سکتی ہے ۔ کیونکہ توجہ کے لئے کوئی بیرونی روک نہیں ہوتی اس لئے طبیعت کا زور ایک ہی طرف لگتاہے۔ اور جیسا کہ میں نے کسی گزشتہ خطبہ میں بتایا تھا جب تمام زور ایک طرف لگتاہے تو اپنے راستہ کی ہر ایک روک کو بہا کر لے جاتاہے۔
