In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » عبادات » PDF ڈاؤن لوڈ کریں PDF ڈاؤن لوڈ کریں

قبولیت دعا کے طریق

(سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ)
+ فہرست مضامین

اپنی حالت کو چُست بنائیں

پھر جب کوئی شخص دعا کرنے لگے تو اپنی حالت کو چست بنائے کیونکہ جس طرح نفس مردہ ہو تو اس کا اثر جسم پر پڑتا ہے ۔ اسی طرح اگرجسم مُردہ ہو تو اس کا اثرنفس پر پڑتاہے۔ جب کوئی سستی کی حالت اختیار کرتاہے تو اس کے نفس پربھی سستی چھا جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نماز میں قیام ، رکوع، سجدہ وغیرہ جتنی حالتیں رکھی گئی ہیں وہ سب چستی کی رکھی ہیں۔ توجسم کی سستی کا اثر روح پر اور خیالات پر ہوتاہے۔ اس لئے دعا کرنے کے وقت انسان کو چستی کی حالت میں ہونا چاہئے۔ یہ نہ ہو کہ سجدہ میں جائے تو کہنیاں زمین پر گرا دے ۔ مجھے ہمیشہ اس بات کا شوق لگارہتاہے کہ میں شریعت کے ہر ایک چھوٹے سے چھوٹے حکم میں بھی معلوم کروں کہ کیا حکمت ہے ۔ اس وجہ سے میں نے اس بات پر غور کرنے کے لئے کہ کیوں حکم ہے کہ سجدہ کرتے وقت کہنیاں زمین پر نہ گرائی جائیں نوافل میں کہنیاں گرا کر دیکھا ہے اس سے مجھے معلوم ہوا ہے کہ اگر پہلے بڑے زور سے دعا ہو رہی ہو تو اس طرح کرنے سے رک گئی ہے اور جب کہنیاں اٹھائی ہیں تو پھروہی حالت پیدا ہو گئی ہے جو پہلے تھی۔ تو دعا کرتے وقت چستی ہونی چاہئے اور وہ چستی جو امید کی چستی ہوتی ہے نہ کہ کوئی اور ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ زبان سے دعا زیادہ عمدگی سے نکلتی ہے اور مختلف پیرایوں میں دعا کرنے کی توفیق ملتی ہے ۔

دعاؤں میں تدریج اختیار کریں

پھر ایک طریق یہ بھی ہے کہ جب کسی اہم امر کے متعلق دعا کرنے لگو تو اس سے پہلے چند اور دعائیں کر لواور پھر اصل دعاکرو۔ خدا تعالیٰ نے انسان کے لئے یہ بات رکھی ہے کہ اس کا ہر ایک کام آہستگی سے شروع ہوتاہے اور جب وہ شروع ہو جاتا ہے تو پھر ترقی کرتا جاتاہے۔ گویااس کے کاموں میں تیزی آہستہ آہستہ پیدا ہوتی ہے نہ کہ یکلخت۔ اس لئے بعض اوقات ایسا ہوتاہے کہ انسان کسی مقصد کے لئے دعا کرتاہے لیکن کچھ عرصہ بعد کامیابی نہ دیکھ کر کر نے سے رہ جاتا ہے ۔ وجہ یہ کہ وہ چاہتاہے کہ جلدی دعا قبول ہو جائے حالانکہ وہ جلدی نہیں ہونے والی ہوتی۔ اس لئے بہتر یہ ہے کہ کسی اہم معاملہ کے متعلق دعا کرنے سے پہلے اور دعائیں کی جائیں۔ جب ان کی وجہ سے ان میں تیزی اور چستی پیدا ہو جائے گی اور ا س کے خیالا ت بلند ہو جائیں گے اس وقت اپنے خاص مقصد کو خدا تعالیٰ کے حضور پیش کر دے۔

پہلے ایسی دعائیں مانگیں جنہیں خدا تعالیٰ ضرور قبول کر لیتاہے

اس کے لئے ایک اور بہتر طریق یہ بھی ہے کہ انسان پہلے ایسی دعائیں مانگے جنہیں خدا تعالیٰ ضرور قبول کر لیتاہے ۔ دفاتر میں جو ہوشیار کلرک ہوتے ہیں وہ اسی طرح کیاکرتے ہیں کہ اگر ان کامنشاء ہو کہ ہمارا افسر فلاں درخواست کونامنظور کرے تواس کے سامنے چار پانچ ایسی درخواستیں پیش کر دیتے ہیں جن کے متعلق انہیں پورا یقین ہو کہ نامنظور کی جائیں گی ۔ جب افسر ان کو نامنظور کر چکتاہے اور خاص طور پر برافروختہ ہوتاہے تو نامنظور کرانے والی کو پیش کر دیتے ہیں اس طرح وہ بھی نامنظور ہو جاتی ہے۔ اورجب کسی درخواست کے متعلق ان کا یہ منشاء ہو کہ منظور ہو جائے توپہلے ان امور کو پیش کر دیتے ہیں اور اس طرح وہ منظور ہو جاتی ہے اس طرح کام کرنے والے اور ہوشیار کلرک کیا کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ بھی نکتہ نواز ہے ۔ افسر کبھی تو جان بوجھ کر بھی کسی نامنظور کرنے والی درخواست کومنظور کر لیتاہے کہ اس نے چونکہ ہمیں خوش کیاہے اس لئے ہم بھی اس کو خوش کردیں۔ لیکن کبھی وہ نادانی سے ایسا کر بیٹھتاہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کی شان ہی ایسی ہے کہ اس کوکبھی دھوکہ نہیں لگ سکتا۔ اس لئے وہ خوش ہی ہو کر بات قبول کر تاہے ۔ پس کسی خاص معاملہ کے قبول کرانے کے لئے پہلے ایسی دعائیں کرنی چاہئیں جن کو خدا تعالیٰ نے قبول ہی کر لینا ہو۔ مثلاً یہ کہ الٰہی! دین اسلام کی بڑے زور شور سے اشاعت ہو ، تیرا جلال اور قدرت ظاہر ہو، تیرے انبیاء کی عزت اور توقیر بڑھے۔ خدا تعالیٰ کہے گا ایساہی ہو ۔ اس طرح دعائیں کرتے کرتے اپنا مقصد بھی پیش کر دیں کہ الٰہی یہ بات بھی ہو جائے ۔تو دعا قبول کرانے کا ایک یہ بھی طریق ہے ۔ا س طرح کرنے سے تیزی اور چستی پیدا ہو جاتی ہے۔ اس لئے دعا نہایت عمدگی اور خوبی سے کی جا سکتی ہے اور دوسرے سے خدا تعالیٰ خوش ہو جاتاہے اور جب اس کے خوش ہونے کی حالت میں دعا پیش کی جائے گی تو وہ ضرور قبول ہو جائے گی۔

صفحہ نمبر: 13 (کل صفحات: 14)