جگہ کا بھی قبولیت دعاسے خاص تعلق ہوتاہے
ایک طریق یہ ہے کہ ایسی جگہ دعا مانگی جائے جو بابرکت ہو کیونکہ جگہ کا بھی قبولیت دعا سے خاص تعلق ہوتاہے۔ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ دنیا کی کسی چیز کا کوئی اثر اور کوئی حرکت ایسی نہیں ہوتی جو ضائع جاتی ہو بلکہ ہر ایک چیز کی خفیف سے خفیف حرکت بھی قائم اور محفوظ رہتی ہے ۔ پس جب کسی اچھی چیز سے انسان کا تعلق ہو تاہے تو اس انسان کا خاص اثر اس پر ہوتاہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آنحضرتﷺ نے مکہ مدینہ اورمسجد اقصیٰ میں نماز پڑھنے کا کسی اور جگہ پڑھنے سے بہت زیادہ درجہ بتایاہے۔ کیا وہاں کے پتھر اور گارا کوئی خاص قسم کے ہیں ۔ نہیں ،بلکہ جگہیں برکت والی ہیں۔ اورجو ان میں نماز پڑھتاہے اس پراچھا اثر ہوتاہے۔ یہ بات بھی یادرکھنے کے قابل ہے کہ انسان سے برکت چلی جاتی ہے ۔قومیں بے برکت ہو جاتی ہیں کیونکہ یہ اپنی نادانی اور بے وقوفی سے اس دُرِّ بے بہا کو کھو دیتی ہیں ۔ مگر بے جان اشیاء میں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے برکت ڈالی جاتی ہے وہ کبھی نہیں جا سکتی اور ہمیشہ کے لئے رہتی ہے (سوائے نہایت خاص وجوہ کے یاخطرناک بداعما لی کے ) اللہ تعالیٰ فرماتاہے ’’اِنٖ اللّٰہَ لاَیُغَیِّرُمَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوا مَابِاَنْفُسِھِمْ‘‘ (الرعد:۱۲) کہ جب خدا تعالیٰ کسی قوم پر احسان اور فضل کرتاہے تو اس وقت تک اس میں تغیر نہیں کرتا اوراسے نہیں ہٹاتاجب تک کہ وہ خود اپنی حالت میں تغیر نہ پیدا کرے۔ تو انسان انپی بداعمالیوں اور بدافعالیوں کی وجہ سے خدا تعالیٰ کے فضل کو اپنے اوپر سے بند کر لیتاہے لیکن ایک بے جان چیز ایسا نہیں کر سکتی اس لئے اس پر ہمیشہ کے لئے فضل قائم رہتاہے ۔ دیکھو مدینہ کے لوگ اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے ایسے ہو گئے ہیں کہ جس طرح وہاں کے لوگوں کی دعائیں آنحضرت ﷺ کے وقت پوری ہوتی تھیں اس طرح آج ان کی نہیں ہوتیں۔ مکہ کے رہنے والوں کی بھی یہی حالت ہے۔ وہاں آج بھی دعائیں قبول ہونے کاویسا ہی اثر ہے جیساکہ پہلے تھا کیونکہ وہاں کی اینٹیں گارااورزمین نہیں بگڑی بلکہ آدمی بگڑ گئے ہیں۔ تو جن جگہوں پر خدا تعالیٰ کا فضل نازل ہو جاتاہے وہ پھرکبھی نہیں رکتا۔ کیونکہ خدا تعالیٰ کا خزانہ ایساوسیع ہے کہ جس کے خالی ہونے کا کبھی خیال بھی نہیں آ سکتا۔ جن مقامات پر خدا تعالیٰ نے فضل کر دیا ہے پھر ان سے کبھی منفصل نہیں ہوتا۔ اس لئے خاص مقاما ت میں دعا خاص طورپر قبول ہوتی ہے۔ پس انسان کو چاہئے کہ جب دعاکرنے لگے تو ایسے ہی مقام کو چن کر کرے۔ حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ عنہ کے پاس بھی ایک مصلّٰی تھا ۔ آپ فرماتے تھے کہ میں جب کبھی اس مصلے پر بیٹھ کر دعاکرتاہوں ۔ خاص طورپر قبول ہوتی ہے۔ تو خاص اشیاء میں خاص برکت کی وجہ سے خاص ہی اثر ہوتاہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس بات کو پسند فرمایا ہے اور صحابہؓ کرا م نے اس پرعمل کیا ہے کہ گھر میں نماز پڑھنے کے لئے ایک خاص جگہ معین کر دیتے تھے۔جہاں سوائے عباد ت کے اورکام نہیں کئے جاتے تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی بیت الدّعا بنایا ہوا تھا تو یہ بھی دعا کے قبول ہونے کا ایک طریق ہے ۔
یہ بہت سے طریق میں نے آ پ لوگوں کو بتائے ہیں ۔ دیر ہو گئی ہے ورنہ میں ابھی اور بھی کئی ایک طریق بتا سکتاتھا۔ یہ باتیں گوبظاہر چھوٹی چھوٹی معلوم ہوتی ہیں مگر دراصل چھوٹی نہیں ان کو استعمال کر کے دیکھو تو پتہ لگے گا کہ ان سے کتنے کتنے بڑے نتائج نکلتے ہیں ۔ جس طرح ایک ذرا سی کشش بدخط سے خوبصورت خط بنا دیتی ہے اسی طرح یہ باتیں دعا کو قبولیت کے درجہ پر پہنچا دیتی ہیں۔
اس زمانہ میں ہمارے لئے بہت مشکلات کا سامنا ہے ۔ قسم قسم کے مخالف پیدا ہو گئے ہیں اور قسم قسم کے اعتراض اسلام پر کئے جاتے ہیں ان کے دفعیہ کے لئے ہمیں بہت کوشش اورہمت کی ضرورت ہے۔ اور اس سے بڑھ کر ہمارے لئے اور کون ساطریق کامیابی کاہو سکتاہے کہ ہم خدا تعالیٰ کے حضور عرض کریں کہ آ پ ہی ہماری مدد کیجئے ۔ پس آپ لوگ اپنے اعتقاد، اپنے اعمال میں خاص اصلاح کرلیں تا تمہارا کھانا پینا چلنا پھرنا سونا جاگنا غرضیکہ ہر سکون اور ہر حرکت اسی کے لئے ہو جائے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے خطبہ میں ایک ایسا وقت آتا ہے کہ اس وقت کی کی ہوئی دعا قبول ہو جاتی ہے۔ پھرجمعہ سے مغرب تک ایسا ہی وقت آتا ہے ۔ پھر رمضان کے آخری عشرہ میں بھی ایساموقعہ آتاہے ۔ خدا کے فضل سے آپ لوگوں کو یہ سب موقعے نصیب ہیں۔ اس لئے خوب دعائیں کرو تا خدا تعالیٰ اس مبارک مہینہ کے طفیل اوراس بابرکت پیغام کے طفیل جو تم دنیا کو پہنچانا چاہتے ہو تمہارے راستے سے سب روکیں دور کر دے او ر تمہیں اس کام کا پورا پورا اہل بنائے جو تمہارے سپرد کیا گیا ہے ۔ (آمین)
