In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » عبادات » PDF ڈاؤن لوڈ کریں PDF ڈاؤن لوڈ کریں

قبولیت دعا کے طریق

(سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ)
+ فہرست مضامین

پس میں پہلے اس بات کو صاف کرنا چاہتاہوں کہ میں قطعاً کوئی ایسا گر نہیں جانتا کہ جس سے آقا خادم اور خادم آقا بن جائے ۔ خالق مخلوق ہو جائے اور مخلوق خالق ۔ مالک غلام قرار پا جائے اور غلام مالک۔ کیونکہ آقا ، آقاہی ہے اور غلام ، غلام۔ خدا تعالیٰ ازل سے آقا ہے ،خالق ہے ، مالک ہے ، رازق ہے اور ہمیشہ اسی طرح رہاہے ،اسی طرح رہے گا۔ انسان ہمیشہ سے خادم ، مخلوق اور مملوک رہاہے اوراس کی یہی حالت ہمیشہ رہے گی۔ حتی کہ جنت میں جب اعلیٰ سے اعلیٰ مدارج پر ہوگا تو بھی یہی حالت ہوگی ۔ تواس قسم کاخیال کفر ہے اور میں ہر گز ہرگز اس کاقائل نہیں ۔ ہاں ایسے رنگ اور طریق ضرور ہیں کہ جن سے انسان اللہ تعالیٰ کوخوش کرکے جہاں تک آقا اور مالک ،خالق اور مخلوق ، مالک اور مملوک کا تعلق ہے اپنی بات منوا سکتاہے ۔جیسے ایک بچہ اپنے باپ سے اور شاگرد اپنے استاد سے منوالیتاہے مگر ایسا کوئی بچہ نہیں ہو سکتا جو باپ سے اپنی ہر بات منوا لے اور ایسا کوئی شاگرد نہیں ہو سکتا جو استاد سے جوچاہے منظور کروا لے ۔ کوئی جاہل اور نادان باپ یااستاد ہر ایک بات مان لے تو یہ ایک الگ بات ہے جیسا کہ کہتے ہیں کہ کسی پٹھان نے اپنے لڑکے کو پڑھانے کے لئے ایک استادرکھا تھا ۔ایک دن استادنے لڑکے کو سبق یاد نہ کرنے پر اسے سخت پیٹنا شروع کر دیا۔ لڑکا تلوار لے کر مارنے پرآمادہ ہوگیا۔ استاد بے چارہ جان بچانے کے لئے بھاگا، وہ اس کے پیچھے دوڑا۔ راستہ میں لڑکے کا باپ مل گیا ۔ استاد صاحب نے سمجھا کہ اب جان بچ جائے گی ۔ اس لئے اس کے پاس جا کر کہنے لگا دیکھئے آپ کا لڑکا مجھے قتل کرنا چاہتاہے، اس کو روکئے۔ اس نے کہا کہ بھاگو مت ٹھہر جاؤ ۔ میرے بیٹے کا یہ پہلا وار خالی نہ جانے پائے۔ تو کوئی بے وقوف ہی ایسا کرسکتاہے نہ کہ عقل مند۔ پس میں جو دعاؤں کے قبول ہونے کا طریق بتاؤں گاوہ ایسا ہی ہوگا کہ جس سے خدا زیادہ دعائیں قبول کر لے گا، نہ ایسا کہ ہر ایک دعاکو قبول کر لے گا۔

پہلا طریق جس سے دعائیں قبول ہوتیں اورکثرت سے خدا تعالیٰ سنتاہے وہ تو اس قسم کا ہے کہ ہر ایک انسان اسے اختیار نہیں کرسکتا ۔بلکہ خاص خاص انسان ہی اس پر چل سکتاہے کیونکہ وہ انسان کے کسب سے متعلق نہیں بلکہ اس کے رتبہ اور مرتبہ سے تعلق رکھتاہے۔ اس مرتبہ کا جو انسان ہوتاہے اس کی نسبت تو میں یہ بھی کہہ سکتاہوں کہ اس کی ہرایک دعاقبول ہو جاتی ہے ۔ ابھی میں نے اس بات سے انکار کیاتھا کہ انسان کی ہرایک دعا قبول نہیں ہوتی ۔ مگراب میں نے کہا ہے کہ اس مرتبہ کے انسان کی ہر ایک دعا قبول ہو جاتی ہے ان دونوں باتوں میں اختلاف پایاجاتاہے لیکن جب میں یہ بتاؤں گا کہ وہ مرتبہ کیاہے تو آپ لو گ خود بخود سمجھ جائیں گے کہ کوئی اختلاف نہیں ہے۔

میں نے اس مرتبہ اور مقام کا نام آلہ یعنی ہتھیار رکھاہواہے۔ جس کے ہاتھ میں ہتھیار ہو وہ اسے جہاں چلائے چلتاہے اوراگرو ہ ہتھیار ضرب نہ لگائے تو اسکا قصور نہیں ہوتابلکہ چلانے والے کاہوتا ہے۔ لیکن کوئی چلانے والا یہ کبھی نہیں چاہتا کہ وہ کوئی ہتھیار چلائے اور وہ نہ چلے بلکہ وہ یہی چاہتاہے کہ میں جہاں بھی چلاؤں وہیں چلے۔ اسی طرح انسان پر ایک ایسا وقت آتاہے جبکہ وہ خدا کے ہاتھ میں بطور ہتھیار کے ہو جاتا ہے۔ وہ نہیں کھاتا جب تک کہ خدا اسے نہیں کھلاتا۔ وہ نہیں پیتا جب تک کہ خدا اسے نہیں پلاتا۔ وہ نہیں سنتا جب تک کہ خدا اسے نہیں سناتا۔ وہ نہیں جاگتا جب تک کہ خدا اسے نہیں جگاتا ۔ وہ نہیں سوتا جب تک کہ خدا اسے نہیں سلاتا۔ غرضیکہ اس کی ہر حرکت اور ہر سکون اللہ تعالیٰ کے لئے اور اسی کے اختیار میں ہوتی ہے ۔ ایسا انسان جو دعا کرتاہے وہ قبول ہو جاتی ہے۔ کیونکہ وہ اس کی نہیں ہوتی بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے اس کے کرنے کا حکم ہوتاہے اس لئے کرتاہے۔ اوراس کی دعا کا قبول کر لینا خدا تعالیٰ کی شان کے خلاف نہیں ہے کیونکہ جودعا مانگی جاتی ہے وہ دراصل خدا ہی نے منگوائی ہوتی ہے۔ پس چونکہ مانگنے والا بھی اللہ تعالیٰ ہی ہوتاہے اور دینے والا بھی اللہ ہی ۔ اس لئے وہ ضرور قبول ہوجاتی ہے اور ممکن نہیں کہ قبول نہ ہو۔مثال کے طورپر دیکھئے ۔

ُُْْ جب کوئی حاکم اپنے ماتحت کام کرنے والوں کا معائنہ کرنے آتے ہیں تو ماتحت اپنی ضروریات کو ان کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ مثلاً فرض کروایک ڈپٹی کمشنر تحصیل میں آیا۔ اور تحصیلدار نے اپنی ضروریات اس کے سامنے پیش کیں کہ فلاں چیز کی ضرورت ہے، فلاں سامان خریدنا ہے ، فلاں کام کرواناہے، وغیرہ وغیرہ۔ وہ ان میں سے کچھ مان لے گا اور کچھ ردّ کردے گا لیکن کبھی یہ بھی ہوتاہے کہ ڈپٹی کمشنر خود کوئی ضرورت دیکھتاہے اور کہتاہے کہ یہ چیز بھی ہونی چاہئے اسکے لئے تحصیلدار کو کہتاہے کہ اس چیزکی منظوری حاصل کرنے کے لئے رپورٹ کر دو۔ وہ رپورٹ کر دیتاہے۔ اب یہ کبھی نہ ہوگا کہ ڈپٹی کمشنر اس رپورٹ کو ردّ کر دے یا نامنظور کر دے کیونکہ اس کے متعلق وہ خود کہہ گیا تھا کہ کرو ۔اسی طرح خدا تعالیٰ بھی اپنے بندے کی زبان پر خود دعا جار ی کرتاہے ۔ پس جب خود کرتاہے تو پھراسے ردّ نہیں کرتا۔ یہ اس بندے کے قرب اور درجہ کے اظہار کے لئے ہوتاہے اور اگروہ کوئی اور دعا کرنے لگے تو خدا تعالیٰ اس کے دل اور دماغ پر ایسا تصرف کر لیتاہے کہ اس کے منہ سے وہ کلمات ہی نہیں نکلتے جو وہ نکالنا چاہتاتھا بلکہ ایسے کلمات نکلتے ہیں جو قبول ہونے والے ہوتے ہیں ۔

تو ایسے انسانوں کے دعا کرنے کے دو طریق ہو تے ہیں ۔ ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام یاکشف یاوحی یا رؤیا کے ذریعہ سے انہیں بتا دیا جاتاہے کہ یہ دعا مانگو۔

دوسرا یہ کہ اگر وہ کوئی ایسی دعا مانگنے کی نیت کرے جو قبول نہ ہونے والی ہو تو خدا تعالیٰ کی طرف سے ایسا تصرف ہوتاہے کہ ان کی نیت بالکل بدل جاتی اور یہ خواہش ہی بالکل جاتی رہتی ہے کہ دعاکرے۔ پھر جو الفاظ اور جو طریق اس دعا کے کرنے کے لئے اس کے مدّنظر ہوتاہے وہ بھو ل جاتا ہے اور زبان سے خدا کی طرف سے بنے بنائے الفاظ جاری ہو جاتے ہیں جس سے خود بھی حیران رہ جاتاہے کہ میں کہنا کیاچاہتاتھا اورکہہ کیا رہاہوں۔ اس قسم کی دعا میں وسعت بھی بہت زیادہ ہوتی ہے ، اتنی کہ دو دو گھنٹے گزر جاتے ہیں مگر انسان سمجھتاہے کہ کوئی پانچ چھ منٹ ہوئے ہونگے۔ وقت گزرتے ہوئے بھی پتہ نہیں لگتا کیونکہ وہ ایسا محو ہوتاہے کہ اس دنیا سے اس کا دل و دماغ بالکل کھنچ جاتاہے ۔ اور صرف خدا ہی خدا اسے نظر آتاہے۔

مگر یہ کوئی ایسا طریق نہیں ہے جس کے متعلق ہر ایک انسان کو کہہ دیا جائے کہ اس طرح کیا کرو۔ کیونکہ یہ مرتبہ سے تعلق رکھتا ہے جس کا پانا کسی انسان کے اپنے اختیار میں نہیں۔ پس جبکہ یہ انسانی اختیار میں ہی نہیں تو اس پرعمل کرنا یا کر سکنے کے کیا معنے؟ اس لئے میں یہ طریق بھی نہیں بتاؤں گا بلکہ وہ بتاؤں گا جس میں بندے کااختیار اور تصرف ہو لیکن اس سے یہ نہیں ہوگا کہ ساری کی ساری دعائیں قبول ہو جاتی ہیں بلکہ یہ کہ زیادہ قبول ہوتی ہیں۔

صفحہ نمبر: 2 (کل صفحات: 14)