خدا تعالیٰ اسی کی دعا قبول کرتا ہے جو اس کو راضی رکھتاہے
پس سب سے پہلا طریق جو میں بتانا چاہتاہوں وہ اسی آیت میں ہے جو میں نے ابھی پڑھی ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے
میرے بندے جب میری نسبت سوال کریں یعنی کہیں کہ خدا کس طرح دعا قبول کرتاہے تو کہو فَاِنّی قَریْب میں سب سے بہتر مدعا کو پورا کر سکتاہوں کیونکہ میری ایک صفت یہ بھی ہے کہ میں ہر ایک چیز کے قریب ہوں ۔دعا کرنے والے کے بھی اور جس مدعا کے لئے دعا کی جائے اس کے بھی۔
یہاں ایک سوال ہو سکتاتھااور وہ یہ کہ ہر ایک قریب ہونے والا تو فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ ایک چپڑاسی بادشاہ کے دربار میں جاتاہے لیکن وہ ایسا نہیں کر سکتا کہ کسی کرسی پر بیٹھ سکے۔ اسی طرح چتر اٹھانے والا وزیر سے بھی زیادہ بادشاہ کے قریب بیٹھا ہوتاہے مگر کیا وہ وزیر کی کرسی پر بیٹھنے کی جرأت کر سکتاہے؟۔ہر گز نہیں ۔تو انسان کے خدا کے نزدیک ہونے سے یہ تو نہیں ہو سکتا کہ خدا تعالیٰ اس کی دعا بھی قبول کر لے گا اور وہ اس وجہ سے فائدہ حاصل کر لے گا۔ اس کے متعلق خدا تعالیٰ نے ایک ایسا گرُبتا یا ہے جس میں اس سوال کا جواب بھی آ جاتاہے اور جو عام طورپر فطرت انسانی میں کام کرتا نظر آتاہے اوروہ یہ کہ فَلیَستَجِیْبُوْا لِی تم میری ہر ایک بات مان لیاکرو۔ اور جو حکم ہم نے تمہارے لئے بھیجے ہیں ان پرعمل کرو۔ اور اپنے تمام حرکات و سکنات کو شریعت کے ماتحت لے آؤ تو پھر تمہاری دعا میں قبولیت بہت بڑھ جائے گی ۔کیوں؟۔ اس لئے کہ خادم کو انعام اس وقت ملاکرتاہے جبکہ آقا خوش ہوتاہے۔
اگر کوئی خادم اپنے آقا کوناراض کر کے مانگتاہے تو محروم رہتاہے اس طرح کبھی کسی کو انعام نہیں ملاکرتا کیونکہ ناراضگی کا وقت ایسا نہیں ہوتا جبکہ انعام و اکرام دیاجائے ۔ چھوٹے بچوں ہی کو دیکھ لو۔ انہیں کوئی سمجھ نہیں ہوتی لیکن اگر ماں باپ سے کچھ مانگنے آئیں اور انہیں غصہ میں دیکھیں تو چپکے ہو کر الگ بیٹھ جاتے ہیں لیکن جب خوشی میں دیکھتے ہیں توکہتے ہیں کہ یہ چیز لے دو وہ لے دو۔ تو بچے بھی سمجھتے ہیں کہ غصہ میں ہماری بات نہیں مانی جائے گی ۔ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کوئی بلا وجہ نہیں ہواکرتی ۔اسی وقت ہوتی ہے جبکہ اس کے احکام کی خلاف ورزی کی جائے ۔ پس دعا میں قبولیت حاصل کرنے کا ایک رنگ یہ ہے کہ انسان اپنے اعما ل پر غورکرے کہ کوئی فعل اس سے شریعت کے خلاف تو نہیں ہوگیا۔ ہر ایک کام جو وہ کرے شریعت کے ماتحت کرے جب یہ حالت پیدا ہو جائے گی تو اس کی دعا قبول ہو جائے گی۔ جس طرح ایک محنتی طالب علم جو اچھی طرح سبق یاد کر کے لاتاہو۔استاد کے نزدیک اس کی بات زیادہ مانی جاتی ہے بہ نسبت اس لڑکے کے جو یاد کر کے نہ لاتاہو۔ عام طور پر دیکھا جاتاہے کہ اگر طلباء نے چھٹی لینی ہو تو جو لڑکا لائق ہواسے استاد کے پاس بھیجتے ہیں تاکہ وہ چھٹی مانگے۔ اس کی ایک وجہ ہوتی ہے اور وہ یہ کہ طالب علم سمجھتے ہیں کہ اگرایسے لڑکوں نے چھٹی مانگی جو سکول کا کام اچھی طرح نہیں کرتے تو استاد کہے گا کہ پڑھائی سے بچنے کے لئے چھٹی لیتے ہیں۔اور اگر لائق لڑکے مانگیں گے تو پھرایسا خیال نہیں کیا جائے گا ۔چونکہ استاد پہلے بھی ان پر خوش ہوتاہے اس لئے رخصت دے دے گا۔ خدا تعالیٰ بھی اسی کی دعا قبول کرتاہے جو اس کوراضی رکھتاہے ۔ اس لئے فرمایا فَلیَستَجِیْبُوْا لِی میرے بندوں کو چاہئے کہ اگر وہ اپنی دعاؤں کو قبول کرواناچاہتے ہیں تو میری باتیں مان لیاکریں۔ اگر یہ میرے احکام کو قبول کر یں گے اور ان پر عمل کریں گے تو اس کانتیجہ یہ ہوگاکہ ان کی دعائیں قبول ہو جائیں گی۔ خدا تعالیٰ نے اپنے آپ کو مومن کاولی قراردیاہے ۔ حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام فرمایاکرتے تھے دوست اسے نہیں کہتے جو ہرایک بات مان لے بلکہ اسے کہتے ہیں جو کچھ مانے اور کچھ منوائے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے آپ کو مومنوں کاولی فرماتاہے جس کا مطلب یہ ہے کہ بہت سی باتیں بندہ کی میں مان لیتاہوں اور بہت سی اسے ماننی چاہئیں۔ خدا فرماتاہے کہ جومجھے پکارتاہے میں اس کی دعا قبول کرتاہوں۔ مگر اس کے قبول ہونے کا طریق یہ ہے کہ وہ بھی میری باتیں قبول کرے۔ وہ میرے احکام کو مانے پھر اسے جو تکلیفیں اور مصیبتیں پیش آئیں گی ان کو میں دورکر وں گا۔ گویاخدا تعالیٰ ایک عہد کرتاہے کہ تم میری باتیں مانومیں تمہاری مانوں گا تو دعاکے قبول ہونے کا یہ پہلا گرُ خدا تعالیٰ نے اس آیت میں بتا دیا ہے۔
