In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » عبادات » PDF ڈاؤن لوڈ کریں PDF ڈاؤن لوڈ کریں

قبولیت دعا کے طریق

(سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ)
+ فہرست مضامین

تھک کر یا مایوس ہو کر دعا کرنا چھوڑ نہ دیں

دعا قبول نہ ہو تو بھی انسان کو یہ نہیں چاہئے کہ وہ دعا کرنا چھوڑ دے ۔ کیونکہ اگر اب قبول نہیں ہوئی تو پھر سہی ، پھرسہی ۔ دیکھو بعض اوقات جب بچہ ماں سے پیسہ مانگتاہے تو اسے نہیں بھی ملتا۔ لیکن اس کے باربار کے اصرار پر مل ہی جاتاہے اسی طرح انسان کو کرناچاہئے۔ اگر ایک دفعہ دعا قبول نہ ہو تو دوسری دفعہ سہی ، دوسری دفعہ نہ ہو تو تیسری دفعہ سہی۔ تیسری دفعہ نہ سہی تو چوتھی دفعہ سہی حتی کہ کبھی تو ہو ہی جائے گی۔ اس لئے مانگنے سے نہیں رکنا چاہئے ۔ حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے تھے کہ دو قسم کے گدا گر ہوتے ہیں ۔ایک وہ جو دروازے پر آکر مانگنے کے لئے آواز دیتے ہیں توکچھ لئے بغیر نہیں ٹلتے۔ ان کو نرگدا کہتے ہیں اوردوسرے وہ جو آ کر آواز دیتے ہیں اگر کوئی دینے سے انکار کردے تو اگلے دروازے پرچلے جاتے ہیں۔ ا ن کو خر گدا کہتے ہیں۔ آپ ؑ فرماتے کہ انسان کو خدا تعالیٰ کے حضور خرگدا نہیں بننا چاہئے بلکہ نرگدا ہوناچاہئے اوراس وقت تک خداکی درگاہ سے نہیں ہٹنا چاہئے جب تک کچھ مل نہ چکے ۔ اس طرح کرنے سے اگر دعا قبول نہ بھی ہونی ہو تو خداتعالیٰ کسی اور ذریعہ سے یہ نفع پہنچا دیتاہے۔ پس دوسرا گر دعا کے قبول کروانے کا یہ ہے کہ انسان نرگدا بنے نہ کر خر گدا۔ اور سمجھ لے کہ کچھ لے کے ہی ہٹناہے خوا ہ پچاس سال ہی کیوں نہ دعا کرتا رہے یہی یقین رکھے کہ خدامیری دعا ضرور سنے گا۔ یہ خیال بھی اپنے دل میں نہ آنے دے کہ نہیں سنے گا۔ اگرچہ جس کام یا مقصد کے لئے وہ دعاکرتاہو وہ بظاہر ختم شدہ ہی کیوں نہ نظر آئے پھر بھی دعاکرتا ہی جائے ۔

کہتے ہیں ایک بزرگ ہر روز دعا مانگا کرتے تھے ۔ایک دن جبکہ وہ دعا مانگ رہے تھے ان کا ایک مرید آ کر پاس بیٹھ گیا ۔ اسوقت ان کو الہام ہوا جو اس مرید کو بھی سنائی دیا لیکن وہ ادب کی خاطر چپکا ہو رہا اور اس کے متعلق کچھ نہ کہا ۔ دوسرے دن پھر جب انہوں نے دعا مانگنی شروع کی تو وہی الہام ہوا جسے اس مرید نے بھی سنا۔ اس دن بھی چپ رہا ۔تیسرے دن پھروہی الہام ہوا اس دن اس سے نہ رہاگیا اس لئے اس بزرگ کو کہنے لگا کہ آج تیسرا دن ہے کہ میں سنتاہوں ہر روزآپ کو خدا تعالیٰ فرماتاہے کہ میں تمہاری دعا قبول نہیں کروں گا ۔ جب خدا تعالیٰ نے یہ فرما دیا ہے توپھر آپ کیوں کرتے ہیں۔ جانے دیں۔ انہوں نے کہا ، نادان ! توُ تو صرف تین دن خداکی طرف سے یہ الہام سن کر گھبرا گیاہے اور کہتاہے کہ جانے دو دعا ہی نہ کرو مگر مجھے تیس سال ہوئے ہیں یہی الہام سنتے لیکن میں نہیں گھبرایا ۔ اور نہ ناامید ہواہوں ۔خدا تعالیٰ کا کام قبول کرنا ہے اورمیرا کام دعا مانگنا۔ تو خواہ مخواہ دخل دینے والا کون ہے؟ وہ اپنا کام کر رہا ہے میں اپنا کر رہاہوں۔ لکھاہے کہ دوسرے ہی دن الہام ہوا کہ تم نے تیس سال کے عرصہ میں جس قدردعائیں کی تھی ہم نے سب قبول کر لی ہیں۔ تو اللہ سے کبھی ناامید نہیں ہونا چاہئے ۔ ناامید ہونے والے پر اللہ تعالیٰ کا غضب بھڑک اٹھتاہے ۔ جو شخص ناامید ہوتاہے وہ سوچے کہ کون سی کمی ہے جو اس کے لئے خدا نے پوری نہیں کی۔ کیسے کیسے فضل اور کیسے کیسے انعام ہوئے اور ہور ہے ہیں۔ پھر آئندہ ناامید ہونے کی کیا وجہ ہے؟

پس دعا مانگنے کا ایک طریق تو یہ ہے کہ انسان اپنے اعمال کو شریعت کے مطابق کرے۔ کیوں؟۔ اس لئے کہ جس طرح ماں باپ بھی اُسی بچے کی باتیں مانتے ہیں جو ان کی مانے اور پوری پوری فرمانبرداری کرے ۔ جو ان کی باتوں کی پرواہ نہیں کرتا اس کی باتوں کی وہ بھی نہیں کرتے۔ پھر استاد اسی لڑکے کی بات مانتا ہے جو محنتی اور اچھی طرح سبق یاد کرنے والا ہو۔اسی طرح خدا تعالیٰ بھی اپنے فرمانبردار بندوں کی نافرمان بندوں سے زیادہ مانتاہے۔

پس تم اوّل تو اپنے اعمال کو شریعت کے مطابق بناؤ اور دوسرے یہ کہ خدا کے فضل اور رحمت سے کبھی مایوس نہ ہو بلکہ دعا کرتے وقت یہ پختہ یقین رکھو کہ خدا تعالیٰ تمہاری دعا ضرور سنے گا اور ضرور سنے گا اور اس وقت تک دعا کرتے رہو کہ خدا کی طرف سے یہ حکم نہ آ جائے کہ اب یہ دعا مت مانگو۔ لیکن جب تک خداتعالیٰ یہ کسی کو نہیں کہتا بلکہ یہ کہتاہے کہ میں تمہاری دعا قبول نہیں کرتاا س وقت تک ہر گز ہرگز باز نہ رہو۔ کیونکہ خدا تعالیٰ کا یہ کہنا کہ میں تمہاری دعا قبول نہیں کرتا گویا اشارۃً یہ کہنا ہے کہ اے میرے بندے تو مانگتا جا ، میں گو اس وقت قبول نہیں کرتا لیکن کسی وقت ضرور کر لوں گا ۔ورنہ اگر اس کہنے سے یہ مراد نہ ہوتی بلکہ دعا کرنے سے روکناہوتا تو خدا تعالیٰ یہ کہہ سکتا تھا کہ یہ دعا مت مانگ نہ یہ کہ میں نہیں مانوں گا ۔ پس جب تک کان میں یہ الفاظ نہ پڑیں کہ ’’یہ دعا مت مانگ، اس کے مانگنے کی میں تمہیں اجاز ت نہیں دیتا‘‘ اس وقت تک نہیں رکنا چاہئے۔ اس طرح توان کو مطلع کیا جاتاہے جنہیں الہام اور کشف کارتبہ حاصل ہوتاہے۔ اور جنہیں یہ نہ ہو ان کو اس بات سے متنفر کر دیا جاتاہے جس کے متعلق وہ دعاکرتے ہیں۔

جن پر الہام اور وحی کا دروازہ کھلاہوتاہے ان کو تو خدا کہہ دیتاہے کہ ایسا مت کرو لیکن جن کے لئے نہیں ہوتا ان کے دل میں نفرت پیدا کردی جاتی ہے اس لئے وہ خود ہی اس دعا کے مانگنے سے باز رہ جاتے ہیں۔ اس کا نام مایوسی نہیں بلکہ ان کا یہ تو یقین ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ ہمارا فلاں مقصد پورا کر سکتاہے اور ہمیں فلاں چیز دے سکتاہے ۔لیکن ہم خود ہی اسے نہیں لینا چاہتے ۔ پس اگر کسی کے دل میں دعا مانگتے ہوئے اس چیز سے نفرت پیدا ہو جائے تو اسے بھی دعا کرنا چھوڑ دینا چاہئے ورنہ نہیں رکنا چاہئے خواہ قبولیت میں کتنا ہی عرصہ کیوں نہ لگ جائے ۔ بعض دفعہ دعا کرتے کرتے کچھ ایسے سامان پیدا ہو جاتے ہیں کہ اگر دعا قبول ہو جائے تو اس سے شریعت کا کوئی حکم ٹوٹتا ہے اس سے بھی سمجھ لینا چاہئے کہ وہ وقت آ گیا ہے کہ اس دعا سے باز رہنا چاہئے ۔ خدا تعالیٰ کے دعا کو قبول کرنے سے انکار کرنے کا یہ بھی ایک طریق ہے یعنی بجائے قول کے خدا تعالیٰ کا فعل سامنے آ جاتاہے اس لئے اس کے کرنے سے رک جانا چاہئے۔ تو دعا کرنے سے رکنے کے تین پہلو ہیں ۔

*۔۔۔ اول یہ کہ الہام یا کشف ہو جائے کہ یہ دعا مت کرو۔ یاہماری طرف سے اس کے کرنے کی اجازت نہیں۔

*۔۔۔ دوم یہ کہ جس مقصد کے حصول کے لئے دعا کی جائے اس سے نفرت پیدا ہو جائے ۔

*۔۔۔سوم یہ کہ جس بات کے لئے دعا کی جائے وہ شریعت کے محذورات کے ساتھ وابستہ ہو جائے ۔

اگر ان تینوں حالتوں میں سے کوئی حالت بھی نہ ہو تو دعا کرنے سے کبھی نہیں رکنا چاہئے ۔ اور کبھی مایوس نہیں ہونا چاہئے ۔ بلکہ یہی سمجھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے یہ جو مانگنے کا موقعہ دیاہوا ہے اس میں مانگتا ہی جاؤں تا کہ یہ ضائع نہ جائے۔ جب کوئی اس طرح کرے گا تو ضرور ہے کہ خدا تعالیٰ اس کی دعا یا تو قبول کرلے گا یا ان تینوں طریقوں میں سے کسی سے اسے روک دے گا ۔(ان تینوں کے علاوہ ابھی تک اور کوئی روک میری سمجھ میں نہیں آئی) لیکن اگر روک بھی دے تو کیا دعا مانگنے کا یہ تھوڑافائدہ اور نفع ہے کہ خداوند تعالیٰ کے ساتھ مکالمہ و مخاطبہ کا شرف حاصل ہو گیا۔ اور خدا تعالیٰ نے اسے اس قابل سمجھا کہ مخاطب کرے۔

آج میں دعا کے قبول ہونے کے صر ف یہی دو طریق بتاتاہوں ۔ اور بھی ہیں مگر وقت تنگ ہو رہاہے ۔ اگر خدا تعالیٰ نے توفیق دی تو اگلے جمعہ میں ان کو انشاء اللہ بیان کردوں گا۔

(الفضل ۲۹؍جولائی ۱۹۱۶؁ء ۔بحوالہ خطبات محمود جلد ۵)

(مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 15؍ جنوری 1999ء تا 21 جنوری 1999ء)

صفحہ نمبر: 5 (کل صفحات: 14)