خدا کے بندوں کے دکھ دور کریں
دوسری بات یہ ہے کہ ہم انسانوں میں دیکھتے ہیں کہ ان کے جو پیارے ہوتے ہیں ان سے جو نیک سلوک کرتاہے وہ بھی ان کی نظروں میں پیارا معلوم دینے لگ جاتاہے ۔ مثلاً اگر کوئی ایک بچے کو ہلاکت سے بچائے تو اس بچے کے ماں باپ اس کے شکرگزار ہونگے اوراسے یہ نہیں کہیں گے کہ تو نے بچے کو بچایا ہے نہ کہ ہم کو کہ ہم تیرے مشکورہوں۔ تویہ محبت کا تقاضا ہے کہ جو چیز کسی کی محبوب ہوتی ہے تو جب اس کو کوئی فائدہ پہنچائے یا اس کی نسبت کوئی اچھی بات کہے تو محب کے دل میں اس کی بھی محبت پیدا ہو جاتی ہے ۔
یہی گرُ دعا میں بھی انسان استعما ل کر سکتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کو اس سے بہت زیادہ محبت انسانوں سے ہوتی ہے جو بندوں کو بندوں سے ہوتی ہے۔ کیوں؟۔ اس لئے کہ محبت کی بنیاد تعلق پرہوتی ہے ۔ چونکہ بندوں کا ایک دوسرے کے ساتھ ابتداء کے لحاظ سے بھی اور انتہا کے لحاظ سے بھی عارضی تعلق ہوتاہے اس لئے ان کی محبت خواہ کتنی ہی زیادہ ہو پھر بھی خدا کی محبت سے مقابلہ نہیں کر سکتی ۔کیونکہ خدا تعالیٰ کی محبت دائمی اورہمیشہ کے لئے ہے ۔ ایک جنگ میں آنحضرت ﷺ تشریف رکھتے تھے ۔ کفار کو شکست ہو چکی تھی ۔ صحابہ قیدیوں کو ، مال اسباب کو جمع کر رہے تھے ۔ پکڑ دھکڑ شروع تھی کہ ایک عورت بھاگی بھاگی پھرتی نظر آئی۔وہ جس بچہ کو دیکھتی اسے پکڑ کر پیار کرتی اور پھر دیوانہ وار آگے چل پڑتی۔ اسی طرح چلتے چلتے اسے اپنا بچہ مل گیا جسے اس نے پکڑ کر چھاتی سے لگا لیا اور آرام سے بیٹھ گئی۔ آنحضرت ﷺ نے صحابہ کو مخاطب کرکے فرمایا کیاتم نے اس عورت کو دیکھااپنے بچہ کی محبت سے کس طرح بیتاب ہو رہی تھی ۔ اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں سے اس سے بھی زیادہ محبت اور پیار ہے۔ تو خدا تعالیٰ کی محبت انسانوں کی محبت سے بہت زیادہ ہے۔ پس جس طرح اگرکوئی کسی انسان سے محبت کرتاہے تو اس کے مُحِبّ کے دل میں اس کی بھی محبت اورالفت پیداہو جاتی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے بندوں پراگر کوئی احسان ،مروت اور رحم کرے تو اللہ تعالیٰ بھی اس پررحم کرتاہے۔ تو دعاؤں کی قبولیت کاایک طریق یہ بھی ہے۔ کہ جب کوئی اہم معاملہ درپیش ہو اور اس کے لئے دعا کرنی ہو تو اس وقت کسی ایسے انسان کے جو کسی قسم کے دکھ اور تکلیف میں ہو دکھ کو دور کر دیا جائے یا دور کرنے کی کوشش کی جائے۔جب کوئی شخص خدا تعالیٰ کے کسی بندے سے ایسا سلوک کرے گا تو اس کی وجہ سے خدا تعالیٰ اس کے دکھ کو دور کر دے گا کیونکہ اس نے اس کے ایک بندہ کا دکھ دور کیاتھا، یہ بہت اعلیٰ طریق ہے۔ دعا کرنے سے پہلے کوئی ایسا شخص تلاش کرنا چاہئے جو کسی مصیبت اور تکلیف میں ہو خواہ و ہ تکلیف جانی ہو یا مالی ، عزت کی ہو یا آبرو کی ، کسی قسم کی ہو ۔ تم کوشش کرو کہ دور ہو جائے آگے دور ہو یانہ ہو اس کے تم ذمہ دار نہیں ہو ۔ تم اپنی ہمت اور کوشش کے مطابق زور لگادو۔ اس کے بعد خدا تعالیٰ کے حضور جاؤ اور جا کر اپنے مدعا کے لئے دعاکرو۔ اس طریق کی دعا بہت حد تک قبول ہوجائے گی۔ تم خدا تعالیٰ کے کسی بندے کی تکلیف کو دور کرنے کے لئے جس قدر توجہ کرو گے خدا تعالیٰ تمہاری تکلیف دورکرنے کے لئے اس سے بہت زیادہ توجہ فرمائے گا۔ اور کیا سمجھتے ہو کہ خدا تعالیٰ کی توجہ بھی بے نتیجہ ہو سکتی ہے؟۔ ہرگز نہیں ۔ ممکن ہے کہ تم جس انسان کی تکلیف دور کرنے کی کوشش کرو اس میں تمہیں کامیابی نہ ہو کیونکہ تم بندے ہو اور کسی بندے کے اختیار میں نہیں کہ جو کچھ کرنا چاہئے اس میں کامیاب بھی ہو جائے ۔ لیکن خدا تعالیٰ کی وہ ذات ہے کہ وہ جس بات کوکرنا چاہے وہ ضرور ہی ہو جاتی ہے ۔ اس لئے تم کبھی یہ خیال مت کرنا کہ چونکہ تمہاری کوشش کامیاب نہیں ہوئی اس لئے خدا تعالیٰ بھی تمہاری دعا قبول نہیں کر ے گا ۔ کیونکہ جب خدا تعالیٰ تمہارا کام کرنے کاارادہ کرے گا تو وہ ضرور ہو جائے گا ۔وہ ہر چیز کا خالق اور مالک ہے ۔ جس طرح چاہتاہے ان سے کام لے لیتا ہے۔ پس تم اس طریق کو ضرور استعمال کرو ۔اس کے علاوہ :
