In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » عبادات » PDF ڈاؤن لوڈ کریں PDF ڈاؤن لوڈ کریں

قبولیت دعا کے طریق

(سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ)
+ فہرست مضامین

آنحضرتؐ پرکثرت سے درود بھیجیں

تیسرا طریق یہ ہے کہ وہ انسان جو اس درجہ کو نہ پہنچے ہوں کہ خدا تعالیٰ خود انہیں دعائیں سکھائے اور بتائے کہ یہ دعاکرو اور یہ نہ کرو وہ دعا کرنے سے پہلے کثرت سے آنحضرتﷺ پردرود بھیجیں۔ آنحضرتﷺ وہ انسان ہیں جو خدا تعالیٰ کے حضور تمام بنی نوع انسان سے زیادہ مقبول ہیں۔خواہ و ہ آپؐ سے پہلے گزرے یابعد میں آئے یا آئندہ آئیں گے۔ ہر ایک انسان کی نظر میں اس کا استاد یا اس کے خاندان کا بزرگ بڑا ہوتاہے۔کہتے ہیں کہ رنجیت سنگھ کے مر نے پر بڑا واویلا مچا ہوا تھا۔ پاس سے ایک چوہڑا گزر رہا تھا ۔ اس نے کسی کو کہا اتنی بڑی کیا آفت آ گئی ہے کہ سارا شہر پاگل بنا ہوا ہے ۔ اس نے کہا مہاراجہ رنجیت سنگھ مر گیا ہے ۔ یہ سن کر وہ ایک ٹھنڈا سانس کھینچ کر کہنے لگا باپوجی جیسے مر گئے تو رنجیت سنگھ کون تھا جو نہ مرتا۔ گویااس کے نزدیک باپو جی اتنی حیثیت رکھتے تھے کہ رنجیت سنگھ جو اپنے وقت کا بادشاہ تھا کچھ حقیقت نہ رکھتا تھا۔ اس کے د ل میں وہی جذبہ کام کر رہا تھا جو اپنے بزرگوں کی محبت اور الفت کاہر ایک انسان میں ہوتاہے ۔ مذاہب میں بھی یہی بات پائی جاتی ہے۔ دیکھو باوجوداس کے کہ حضرت مسیحؑ حضرت موسیٰ ؑ کے خلفاء میں سے ایک خلیفہ تھے مگر اس محبت اور الفت نے جو اپنے استاد یا بزرگ سے ہوتی ہے عیسائیوں کو ایسا مجبور کیا کہ انہوں نے ان کو حضرت موسیٰؑ سے بہت زیادہ بڑھا دیا ۔ تو میں نے جو یہ کہا ہے کہ رسول کریم ﷺ اپنے سے پہلے آنے والوں اور اپنے سے بعد میں آنے والوں میں سے سب سے بڑے اور سب سے زیادہ شان رکھنے والے ہیں۔اُن میں میں نے حضرت مسیح موعود ؑ کو بھی شامل کرلیاہے۔ حضرت مسیح موعود ؑ اپنے موجودہ درجہ میں ہوں یا اس سے بھی بڑے درجہ میں تو بھی آپ آنحضرت ﷺ کے خادم اور غلام ہی کی حیثیت رکھتے ہیں کیونکہ آپ کاقرب اور درجہ آنحضرت ﷺ ہی کے طفیل ہے اور آپ ؐ ہی کی وجہ سے حاصل ہوا ہے۔

میں نے بتایا ہے کہ حقیقی محبت استثناء کرتی ہے یعنی جس سے تعلق ہو اس کو دوسروں سے بڑھ کر دکھاتی ہے۔ مگر ہم کو جس انسان سے اس زمانہ میں نورملا ہے ہم اس کو مستثنٰی نہیں کرتے اور علی الاعلان کہتے ہیں کہ سب انسانوں کی نسبت آنحضرت ﷺ کا مقام اعلیٰ و ارفع ہے اور آپ ؐایک ایسے مقام پر ہیں کہ گویا سب سے علیحدہ ہو کر ایک اکیلے نظر آ جاتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کلمۂ توحید کے ساتھ آپؐ کانام بھی رکھ دیا ہے۔ ایسے انسان کی نسبت جو درود بھیج کر خدا تعالیٰ سے برکات چاہے خدا تعالیٰ کی رحمت جو ش میں آ کر اس پر فضل کرنا شروع کر دیتی ہے ۔ یہ بات احادیث سے ثابت ہے۔ (وقت کی کمی کی وجہ سے میں یہ نہیں بیان کر سکتا کہ جو طریق میں بیان کر رہا ہوں ان کو میں نے کس آیت اور کس حدیث سے استدلال کیا ہے مگر اتنا بتا دیتاہوں کہ یہ سب باتیں قرآن کریم اور احادیث سے لی گئی ہیں) تو دعا کے قبول ہونے کے ساتھ درود کا بڑا تعلق ہے۔ وہ انسان جوآنحضرتﷺ پر درود بھیج کر دعا کرتا ہے اس کی ہر ایک ایسے انسان سے بڑھ کر دعا قبول ہوتی ہے جو بغیر درود کے کر ے۔

انعام دینے کا یہ بھی ایک طریق اور رنگ ہوتاہے کہ اپنے پیارے اور محبوب کی وساطت اوروسیلہ سے دیا جائے ۔ خدا تعالیٰ نے آنحضرتﷺ کو تمام انعامات کا وارث کرنے اور سب سے بڑارتبہ عطا کرنے کے لئے اس طریق سے بھی کام لیاہے کہ جو لوگ آنحضرت ﷺ پر درود بھیج کر دعا مانگیں گے ان کی دعائیں زیادہ قبول ہونگی۔ دنیا میں کونساانسان ہے جسے خدا تعالیٰ کی ضرورت نہیں۔ ہر ایک کوہے ۔ اسلئے ہر ایک ہی اپنی مصیبت کے دورہونے اور حاجت کے پورا ہونے کے لئے خدا تعالیٰ سے دعا کرے گا۔ اورجب دعا کرے گا تو اگرچہ وہ پہلے آنحضرت ﷺ پر درود بھیجنے کا عادی نہ ہوگا لیکن اپنی دعا کے قبول ہونے کے لئے درود بھیجے گا جو آنحضرت ﷺ کی ترقی درجات کاموجب ہوگا اورا س طرح اسے بھی انعام مل جائے گا ۔ غرض خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں کی دعائیں قبول کرنے کے لئے ایک بات یہ بھی بیان کی ہے کہ آنحضرت ﷺ پر درود بھیج کر پھردعا کی جائے اور یہ کو ئی ناروا بات نہیں۔ یہ اسی طرح کی ہے کہ جو محبوب سے اچھا سلوک کرتاہے وہ بھی مُحِبّ کامحبوب ہو جاتا ہے۔

صفحہ نمبر: 9 (کل صفحات: 14)