یتیموں کا خیال
یوں تو ہر یتیم کا خیال رکھتیں لیکن خاص طور پر جن یتیم لڑکیوں کو آپ نے پالا ان سے نہایت محبت اور پیار کا سلوک کیا۔ ان کی اپنے بچوں کی طرح تربیت کی۔ آپ انہیں خود نہلاتیں، سر میں دہی لگاتیں، تیل ڈالتیں تاکہ سر میں خشکی نہ ہوجائے۔ اور یہ کام کرتے ہوئے آپ کے چہرے پر خوشی ہوتی۔ جب بچی سمجھنے کے قابل ہوجاتی تو اسے سب سے پہلے کلمہ پھر نماز ترجمے سے سکھاتیں۔ ابتدائی دینی تعلیم خود دیتیں۔ پھر کسی استانی کو مقرر کرکے قرآن شریف ختم کرواتیں۔ کھانا پکانا، سلائی کڑھائی سکھاتیں۔ آمنہ نیک محمد صاحبہ کو بھی آپ نے ہی پالا اور یہ سب باتیں سکھائیں۔ سکول بھی بھیجا تاکہ دنیوی تعلیم بھی حاصل کرلیں۔ پھر ان سے چھوٹی چھوٹی کہانیوں کی کتابیں سُنتیں تاکہ اردو صحیح طریقہ پر بولنا آجائے۔ پھر حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی کتابیں سنتیں اور مطلب سمجھاتیں۔ تربیت بھی کرتیں۔ ساتھ ہی چھوٹی چھوٹی خوشی کا خیال بھی رکھتیں پھر ان لڑکیوں کی خود ہی شادی کی۔
ایک دفعہ کا ذکرہے کہ حضرت امّاں جان کسی چھوٹے گاؤں کی طرف سیر کو نکلیں۔ ساتھ میں دو خادمائیں امام بی اور مائی فجو بھی تھیں۔ جب آپ گاؤں کی ایک گلی میں سے گزریں تو دیکھا کہ گندی چیتھڑوں میں لپٹی ایک لڑکی پڑی ہے اور خربوزوں کے گندے چھلکے منہ میں ڈال رہی ہے۔ آپ نے اس کے پاس ٹھہر کر پوچھا ”یہ کون ہے؟ ، گاؤں کے چند لوگوں نے بتایا کہ یتیم ہے اور گونگی بہری ہے۔ آپ نے ایک خادمہ کو حکم دیا کہ اسے اسی طرح لے چلو۔ وہ کوئی چھ سات سال کی ہوگی۔ اسے لے کر قادیان آئیں اور سیدھی لڑکیوں کے اس سکول میں پہنچیں جو اس وقت دارالمسیح میں ہی لگتا تھا۔ اس بچی کا حلیہ اتنا خوفناک تھا کہ وہاں کی سب لڑکیاں اسے دیکھ کر ڈر گئیں اور چیخیں مار کرادھراُدھر بھاگیں۔ امّاں جان ان کی حالت دیکھ کر ہنس پڑیں اور فرمایا ”یہ ایک یتیم لاوارث بچی ہے۔ اسے تم نے ہی انسان بنانا ہے اس کا نام حیمی ہے۔“ پھر خود ہی جاکر فینائل، کنگھا، تیل، کپڑوں کا جوڑا قیمتی، جوتی وغیرہ لے کر آئیں اور استانی میمونہ صاحبہ سے کہہ کر اسے نہلایا دھلوایا۔ صاف کپڑے پہنوائے۔ کنگھی چوٹی کروائی، پھر اسے کھانا کھلایا۔ کچھ دنوں میں یہ بچی امّاں جان کی توجہ اور خدا کے فضل سے حیوان سے انسان بن گئی۔ تیسرے چوتھے دن امّاں جان اسے خود نہلاتیں، جوئیں نکالتیں، کنگھی چوٹی کرتیں۔ جیسے وہ ان کی ہی ہو۔ بچوں میں رہتے رہتے اسے اتنی عقل آگئی کہ وہ گھر کا کام کاج بھی کرنے لگ گئی۔ جب جوان ہوئی تو امّاں جان نے اسے اپنے ہاتھوں سے بیاہ دیا۔
خادموں سے حُسنِ سلوک
اپنے خادموں سے بہت اچھا سلوک کرتیں اور ان کے آرام اور کھانے پینے کا بہت خیال رکھتیں۔ دکھ تکلیف میں ان کے کام آتیں۔ ایک دفعہ کسی عورت نے عرض کی کہ فلاں ملازمہ کہتی ہے روٹی تھوڑی ملتی ہے۔ آپ نے باورچی خانہ سے اس کا کھانا منگوایا اور اس میں اور سالن ڈال دیا۔ دو اور روٹیاں منگوا کر اس کی روٹی میں شامل کردیں اور اپنے تولیے میں لپیٹ کر رکھ لیں اور فرمایا ”وہ بچوں والی ہے اُسے روٹی کم نہ دیا کرو۔“ اور جب وہ ملازمہ آئی تواس کا دل خوش کرنے کے لیے فرمایا ”دیکھو مَیں نے تمہاری روٹیاں اپنے تولیے میں لپیٹ کر رکھ دی ہیں تاکہ کم نہ ہوں۔“
ضرورت مندوں کی مدد
مکرم عبدالرحیم صاحب شرما اپنا ایک واقعہ سناتے ہیں :۔
”حضرت مرزا شریف احمدصاحب نے اپنی کوٹھی کا ایک کوارٹر ہمیں رہنے کے لیے دے دیا۔ اس وقت گھر کے پانچ افراد تھے اور تنخواہ بہت کم، گذارہ مشکل سے ہوتا تھا۔ جب حضرت امّاں جان کو ہماری تنگی کا پتہ چلا اور یہ کہ سارا گھرصرف 1/2سیر دودھ پر گذارہ کرتا ہے تو آپ کو بے حد رحم آیا اور اپنی ایک گائے ہمیں بھیج دی۔ وہ گائے اچھی نسل کی تھی۔ سات آٹھ سیر دودھ دیتی تھی۔ اس گائے کا گھر میں آنا تھا کہ ایسی برکت ہوئی کہ کچھ دن میں ہی ہمارے حالات بدل گئے۔“
