اپنے کام خود ہاتھ سے کرنا
حضرت امّاں جان میں بے حد محنت کی عادت تھی۔ چھوٹے سے چھوٹاکام بھی خود اپنے ہاتھ سے کرنا پسندکرتی تھیں۔ حضرت مرزا بشیراحمدصاحب بتایا کرتے کہ ”مَیں نے انہیں اپنی آنکھوں سے کئی بار کھانا پکاتے، چرخہ کاتتے، نواڑ بنتے بلکہ بھینسوں کے آگے چارہ ڈالتے دیکھا ہے۔ بعض دفعہ خود بھنگیوں کے سر پر کھڑے ہوکر صفائی کرواتی تھیں اور ان کے پیچھے لوٹے سے پانی ڈالتی جاتی تھیں۔“ قادیان سے آکر بھی باوجود کمزوری کے اپنے اکثرکام خود کرتیں۔ بکسوں میں سے چیزیں خود نکالتیں اور رکھتی۔ کوئی ہنڈیا چڑھا دیتا تو بیٹھ کر خود چمچہ ہلانے لگتیں۔ سہارا لینا بالکل پسند نہ کرتیں۔ کوئی دینا چاہتابھی تو فرماتںں ”مَیں خود چلوں گی، سہارا نہ دو۔“
نہ صرف یہ کہ اپنا کام خود کرتیں بلکہ دوسروں کے کام میں بھی ہاتھ بٹانا آپ کی عادت تھی۔ محترمہ آمنہ بیگم چوہدری عبداللہ خان صاحب مرحوم کہتی ہیں کہ ایک دفعہ حضرت امّاں جان ہمارے گھر آئیں۔ میری والدہ دودھ بلو رہی تھیں۔ چھوٹا بھائی رو رہا تھا امّاں جان نے بڑے پیار سے کہا ”اُٹھ کر بچے کو لے لو۔“
اور خود بیٹھ کر دودھ بلونے لگیں۔ خود ہی مکھن نکالا۔ اس کے بعد کافی عرصہ تک حضرت امّاں جان کا یہ معمول رہا کہ آپ بہشتی مقبرہ جاتے ہوئے کسی نہ کسی عورت کو ہمارے گھرچھوڑ جاتیں جو دودھ وغیرہ بلوتی اورواپسی پر ساتھ لے جاتیں۔
غنا اور ایثار
حضرت مصلح موعود فرماتے تھے کہ جب حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فوت ہوئے تو اس وقت ہمارے پاس گذارے کا کوئی سامان نہ تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اس وقت کچھ قرض بھی تھا۔ حضرت امّاں جان نے جماعت سے نہیں کہا کہ وہ یہ قرض ادا کریں بلکہ آپ کے پاس جو زیور تھا اسے بیچ کر حضور کا قرض ادا کردیا۔ مَیں اس وقت بچہ تھا اور میرے لیے ان کی خدمت کرنے کا کوئی موقع نہ تھا مگر میرے دل پر ہمیشہ یہ اثر رہتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کو کتنا محبت کرنے والا اور قربانی کرنے والا ساتھی دیا۔
شرک سے نفرت
آپ کو شرک سے سخت نفرت تھی جس کی دوتین مثالیں ہم آپ کو سناتے ہیں۔
ایک دفعہ کوئی عورت اپنے کسی بیمار عزیز کا حال سنا رہی تھی۔ آخر میں بولی۔ کسی علاج سے فائدہ نہ ہوا مگر فلاں دوائی سے اب آرام ہے۔ حضرت امّاں جان نے بڑے جوش سے فرمایا: تم یہ کیوں نہیں کہتیں کہ اس تدبیر میں خدا کی مرضی شامل تھی اور اب اُس کے فضل سے آرام ہے۔
اور ایک بار کیا ہوا کہ ایک عورت نے ایک پیالہ حضرت امّاں جان کی خدمت میں پیش کیا جس پر کچھ لکھا ہوا تھااور کہا اس میں پانی ڈال کر پیجیے۔ آپ نے روک دیا اور فرمایا! ”ہم ایسا نہیں کرتے۔ یہ شرک ہے۔“
ایک خاتون روزانہ ریڈیو پر خبریں سن کر امّاں جان کو سنایا کرتی تھیں۔ ایک دن کوئی خبر سنا کر بولیں۔ صدقے جاؤں ریڈیو ایجاد کرنے والے کے، کیسی اچھی چیز ایجاد کی۔ گھر بیٹھ کر پوری دنیا کی خبریں سُن لو، آواز سن لو۔
حضرت امّاں جان نے بے ساختہ فرمایا صدقے جاؤں اپنے ربّ کے جس نے انسان کو اتنی عقل دی کہ وہ ایسی چیزیں ایجاد کرسکے۔
آپ کی مہمان نوازی
آپ کو مہمان نوازی کی بہت عادت تھی۔ جو بھی گھر آتا اس کی خاطر کرتیں۔ مہمانوں کا خیال رکھتیں اور ہر ایک کی عادت کے مطابق اس کو چیز پیش کرتیں۔ چوہدری فتح محمد صاحب سیال جب پہلے پہل قادیان آئے تو چوتھی جماعت میں پڑھتے تھے۔ اس زمانہ میں حضرت امّاں جان مہمان نوازی میں خاص طور پر حصّہ لیتیں۔ سب مہمان حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے ساتھ گول کمرے میں کھانا کھاتے تھے۔ پہلے دِن جب چوہدری صاحب نے کھانا کھایا تو کھانے کے بعد حضرت امّاں جان نے کسی شخص کو بھیج کرپوچھاکہ کسی مہمان کو کسی خاص چیز کی ضرورت ہو تو بتا دے۔ چوہدری صاحب نے بے تکلفی سے کہہ دیا کہ ”مجھے لسّی کی عادت ہے۔“ تھوڑی دیر بعد دہی کی میٹھی لسّی آگئی جو بعض دوسرے دوستوں نے بھی پی اور بعض نے چائے اور پان وغیرہ بھی منگوائے۔
خوش مزاجی
حضرت امّاں جان بے حد خوش مزاج تھیں، ہلکی پھلکی تفریح کو پسند فرماتیں۔ پَیدل سَیر کو جانا آپ کو بے حد پسند تھا۔ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی زندگی میں بھی آپ کے ساتھ پیدل سیر کو جایا کرتیں۔ بعد میں بھی ایسا ہی کرتی رہیں۔ پکنک بھی کیا کرتیں، ایک دفعہ آپ نے اپنے باغ میں آلو لگوائے اور حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ اور صاحبزادی امۃ الحفیظ بیگم صاحبہ اور دوسری لڑکیوں اور بہوؤں کو لے کر باغ میں سیر کے لیے تشریف لے گئیں۔ دو ٹوکرے آلُو اُبلوا کر اچار رکھا اور اپنے باغ کے لوکاٹ اُتروائے۔ چٹنی تیارکی، زمین پر دریاں بچھا کر سب نے یہ دعوت کھائی، لڑکیوں نے پینگ جھولی اور کھیلتی رہیں، خوب تفریح کی۔
ایک بار سیر کرتی ہوئی عرفانی صاحب کے گھر تشریف لے گئیں۔ ان کا گھر ڈھاب کے کنارے پر تھا۔ حضرت امّاں جان نے وہاں بچے اکٹھے کر کے کہا۔ لڑکو! مجھے تَیر کے دکھاؤ۔ ڈھاب کے کنارے ایک درخت کے نیچے اپنی چار پائی بچھوائی اور وہاں بیٹھ کر بچوں کی تیراکی دیکھتی رہیں۔ ان کے ساتھ حضرت اُمّ ناصر اور دوسری لڑکیاں بھی تھیں۔ کھانا بھی سب نے وہیں ڈھاب پر کھایا۔
آپ کی طبیعت میں مزاح بھی تھا۔ حضرت اماں جان کے پاس ایک عورت جنہیں سب اصغری کی اماں کہتے تھے کھانا پکایا کرتی تھیں۔ ان کی عادت تھی ہنڈیا میں چمچہ ہلاتی جاتیں اور ساتھ دُعا مانگتیں۔ یا اللہ! ساری دُنیا کے کھانوں کا مزا میرے حضرت صاحب کے کھانے میں آ جائے۔ حضرت امّاں جان نے ایک دن ہنس کر کہا ” کیوں اصغری کی امّاں کیا میرے بھائی کے کھانے کا بھی۔“ (یعنی حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب جو اُس وقت لاہور میں پڑھتے تھے۔)
اصغری کی امّاں جَھٹ سے بولیں ” ہاں اللہ میاں ! بس میاں اسمٰعیل کے کھانے کا مزا نہ آئے۔“
