In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » کتبِ سلسلہ » کتب خدام الاحمدیہ پاکستان » PDF ڈاؤن لوڈ کریں PDF ڈاؤن لوڈ کریں

سیرت حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا

تصنیف: صاحبزادی امۃ الشکور، شائع کردہ: مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان
+ فہرست مضامین

عِلم کی قدر اور ادبی ذوق

آپ کو عِلم کی بہت قدر تھی اِس لیے تعلیم دینے والے کا خیال بھی بے حد رکھتیں۔ محترمہ اُستانی سکینہ صاحبہ نے بتایا ” جب صاحبزادی امۃ الحفیظ بیگم صاحبہ پانچ چھ سال کی ہوئیں تو حضرت امّاں جان نے مجھے ان کو پڑھانے پر مقرر کیا۔ میں نے ان کو اُردو لکھنا پڑھنا سکھانا شروع کیا۔ ا س عرصہ میں امّاں جان نے مجھ پر اتنی مہربانیاں کیں اور میری زندگی کی ہر ضرورت کو پورا کیا کہ میری ساری فکریں جاتی رہیں اور جب محترمہ صاحبزادی صاحبہ کی شادی ہوئی تو آپ نے قریب ہی زمین بھی دی کہ اس پر مکان بناؤ۔

حضرت امّاں جان عِلم کی قدر بھی کرتیں اور خدا تعالیٰ نے انہیں علم عطا بھی کیا تھا۔ جب بھی کوئی کِسی قسم کا اعتراض کرتا آپ (دین) کی تعلیم سے دلیل دے کر اس کا جواب دیتیں۔ بیگم سیٹھ عبداللہ بھائی نے بتایا کہ:۔

”ایک مرتبہ ہم چند بہنیں حضرت امّاں جان کے پاس بیٹھی تھیں۔ مَیں نے کپڑے کی چند گڑیاں دیکھیں جو بچوں کے کھیلنے کے لیے رکھی ہوئی تھیں میں نے عرض کیا۔“گُڑیاں کیوں رکھی ہیں دین نے تو منع فرمایا ہے۔“ آپ نے بغیر بُرا مانے جواب دیا ” اصل بات یہ ہے کہ دین حق نے اس چیز کو منع کیا ہے جو ہندو بُت بنا کر بڑی عزت سے گھروں میں رکھتے ہیں۔ ان کو خدا کی صفات دے کر عبادت کرتے ہیں اِس لیے اللہ نے اس شِرک کو روکنے کے لیے بُت بنانے سے منع فرمایا۔ عرب کے لوگ بھی جہالت کے زمانہ میں بتوں کی عبادت کرتے تھے۔ اس لیے اللہ کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس بات کو دُور کرنے کے لیے بتوں کے بنانے یا رکھنے سے منع فرمایا، لیکن اِس قِسم کے کھلونوں کو نہیں روکا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا گڑیا سے کھیلا کرتی تھیں۔ اِس قِسم کی کسی بھی چیز کو اللہ کی صفت دیکر عبادت کی غرض سے گھرمیں رکھنا بے حد گناہ اور شرک ہے۔“

وہی خاتون کہتی ہیں کہ پھر میں نے حضرت مسیح موعودعلیہ السلام اور دوسرے احباب کی تصویریں دیکھ کر اعتراض کیا۔ اس پر حضرت امّاں جان نے جواب دیا۔ حضرت صاحب کی تصویر عبادت یا پرستش کے لیے نہیں بلکہ یہ تو اِس لیے ہے کہ جو لوگ دُور کے مُلکوں میں رہتے ہیں وہ اِس طرح اپنے امام کا چہرہ دیکھ لیں جو رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق ہے اور انگریز اور دوسرے مغربی ملکوں کے لوگ تصویر کو دیکھ کر انسان کے اَخلاق وغیرہ کا اندازہ کر لیتے ہیں۔ یہ تصویر تو خود دعوت اِلی اللہ کا ذریعہ ہے۔ اگر صرف تصویر رکھنا منع ہوتا تو تم جو جیب میں روپیہ رکھتی ہو، بچوں کی کتابوں میں تصویریں ہوتی ہیں، پھر تو یہ سب منع ہوتا۔ میں نے کہا اس بات سے تصویر کا مسئلہ بھی سمجھ آگیا۔ تیسرا واقعہ انہوں نے یہ سنایا کہ ایک مرتبہ میں نے دیکھا کہ بعض بیبیوں نے اپنے بالوں میں پراندے ڈال کر چوٹیوں کا بڑھایا ہوا تھا۔ میں نے اس کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا:۔

”یہ توریشم کے پراندے ہیں (اصلی) بالوں کے نہیں اِن کا ڈالنا جائز ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے ظالم لوگ عورتوں پر بڑے بڑے ظلم کرتے تھے۔ ان کے بال زبردستی کاٹ کر بیچتے تھے اِس لیے آپؐ نے منع فرمایا کہ عورتوں کے بالوں میں بال نہ ڈالے جائیں۔“

ادبی ذوق

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کو کسی اُردو لفظ کے خاص استعمال کے بارہ میں پوچھنا ہوتا تو سب سے پہلے حضرت امّاں جان سے پوچھتے۔ اگر کوئی شُبہ رہ جاتا تو پھر نانا جان یا نانی جان سے پوچھتے۔ امّاں جان کبھی کبھی شِعر بھی کہہ لیا کرتیں۔

ایک بار حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ جب مالیر کوٹلہ میں تھیں تو ان کو عید کے موقع پر یہ شعر لکھ بھیجے؂

تم تو اپنے گھر میں بیٹھی خُرّم و دِلشاد ہو

ہر طرح کے فکر وغم سے دُور ہو، آزاد ہو

دیکھ کر بچوں کو اپنے گِرد ہنستے کھیلتے

فضلِ مولیٰ سے مناتی عید کیا اعیاد٭ہو

حال کیا اُس کا بتاؤں جس کی بچی ہے جُدا

تم بُھلا بیٹھی ہو اس کو پر اُسے تم یاد ہو

(٭ اعیاد: عید کی جمع)

ایک دفعہ حضرت مولانا نور الدین صاحب کے طالب علموں میں سے ایک نے جن کا نام مولوی نظام الدین تھا ایک کاغذ پر روٹی کی شکایت لِکھ کر بھیجی جو اندر سے پک کر آئی تھی؂

اگر روٹی یہی بڑھیا پکاوے

کرو رخصت کہ پھر سب گھر کو جاوے

واِلّا عرض کرنا ہے ضروری

کہ ہو روٹی مصفّا اور تنوری

یہ دونوں شعر تو ٹوٹے پھوٹے تھے۔ بس جو وہ لکھ سکے لکھ کر بھیج دیا، لیکن حضرت امّاں جان نے اسی وقت اسی کاغذ کے پیچھے یہ شعر لکھ کر بھیج دیے؂

ہمیں تو ہے یہی بڑھیا غنیمت

جو روٹی کو پکا دیتی ہے بروقت

جسے بڑھیا کے ہاتھوں کی نہ بھاوے

تو لا وے اس کو جو اچھی پکاوے

صفحہ نمبر: 12 (کل صفحات: 15)