In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » کتبِ سلسلہ » کتب خدام الاحمدیہ پاکستان » PDF ڈاؤن لوڈ کریں PDF ڈاؤن لوڈ کریں

سیرت حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا

تصنیف: صاحبزادی امۃ الشکور، شائع کردہ: مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان
+ فہرست مضامین

ثواب حاصل کرنے کا شوق

چھوٹی سے چھوٹی بات بھی جس کے کرنے سے ثواب ملتا ہو، آپ ضرور کرتیں۔ ایک دفعہ حضرت اماں جان بیت الدعا میں نماز پڑھ رہی تھیں۔ پاس ہی ایک خاتون بیٹھی انہیں پنکھا جھل رہی تھیں جب حضرت اماں جان نماز پڑھ چکیں تو انہوں نے بھی وہیں نماز شروع کر دی۔ حضرت اماں جان نے پنکھا ہاتھ میں لے کر ان کو جھلنا شروع کر دیا۔ ان بے چاری نے گھبرا کر جلدی سے نماز ختم کر دی یہ سوچ کر کہ کہیں بے ادبی نہ ہو، توبہ توبہ کرنے لگیں۔ حضرت اماں جان نے یہ سن کر فرمایا:۔

”کیا میں ثواب حاصل نہ کروں۔“

حسن انتظام اور لین دین

حضرت اماں جان کی زمینیں شیخ نور احمد صاحب سنبھالا کرتے تھے لیکن آپ خود ان کی نگرانی کرتی تھیں۔ ان کو بلا کر پوچھتی رہتیں۔ مثلاً فلاں کھیت میں مکئی کیوں بوئی گئی۔ اسے گندم اُگانے کے لیے چھوڑنا چاہیے تھا وغیرہ وغیرہ۔ جو مویشی پالے ہوتے تھے ان کا خیال رہتا۔ ایک بار ایک بھینس کو دو تین دن گتاوا نہ ملا تو آپ نے خود جاکر اسے گتاوا ڈال دیا۔

آپ حساب میں بہت صاف تھیں۔ یعنی جب بھی کوئی چیز وغیرہ منگواتیں اسی وقت اس کی رقم ادا کر دیتیں۔ ایک بار حضرت اماں جان نے بابوعبدالحمید صاحب سے کوئی چیز لاہور سے منگوائی۔ انہوں نے وہ چیز لا دی لیکن اماں جان کو اس کی قیمت نہ بتائی۔ اتفاق سے حضرت اماں جان کو بھی قیمت پوچھنی یاد نہ رہی۔ ورنہ عام طریقہ یہ تھا کہ جب بھی کوئی چیز لے جاکر دی اسی وقت روپے دے دیے۔ بعد میں آپ کو یاد آیا تو آپ نے اُسی وقت بابو صاحب کو بلا بھیجا اور فرمایا: ”اِس چیز کی کیا قیمت ہے؟ بتا دی ہوتی تو میں آپ کو بلوانے کی بجائے پیسے ہی بھیج دیتی۔“ بابو صاحب نے کہا کہ ”یہ تو میری طرف سے تحفہ ہے۔ میں نے جان کر قیمت نہیں بتائی۔“ اماں جان نے فرمایا: ”نہیں جو میں چیز کہہ کر منگواؤں اس کی قیمت ضرور لینی پڑے گی۔“ اور آپ نے زور دے کر قیمت ادا کر دی۔

جانوروں پر شفقت

حضرت صاحبزادہ میاں شریف احمد صاحب کو بچپن سے ہی شکار کا بہت شوق تھا۔ حکیم عبدالعزیز خان بھی یہی شوق رکھتے اور اکثر ان کو اپنے ساتھ شکار پر لے جایا کرتے۔ ایک دفعہ کا واقعہ ہے مئی کا مہینہ تھا۔ حکیم صاحب نے حضرت میاں شریف احمد صاحب سے کہا۔ ”میاں بندوق لاؤ شکار پر چلیں۔“

میاں صاحب خوش خوش بندوق لینے چلے گئے۔ واپس آکر بولے۔ ”اماں جان بندوق نہیں دیتیں۔“ اِس پر خان صاحب نے خود کہلا بھیجا کہ کچھ دیر کے لیے بندوق دے دیں۔ آپ نے جواب میں فرمایا۔ ”آج کل پرندے انڈوں پر ہوتے ہیں۔ میں بھی بچوں والی ہوں۔ میں آج کل بندوق ہرگز نہیں دوں گی۔“

درگزر کرنا

معاف کر دینا آپ کی فطرت کا حصّہ تھا۔ چھوٹی بات ہو یا بڑی اور کسی بات سے کیسی ہی تکلیف یا نقصان پہنچا ہو آپ درگزر کر دیتیں۔ ارشد قریشی صاحب ایک دلچسپ واقعہ سُناتے ہیں :۔

”میں جب چھوٹا سا تھا حضرت اماں جان کے گھر آیا جایا کرتا تھا۔ ایک بار گیا تو دیکھا آپ گود میں اپنے پوتے (حضرت) میاں ناصر احمد کو لیے بیٹھی ہیں۔ مجھے دیکھ کر فرمایا: ”لڑکے کو ذرا باہر لے جاؤ۔“ باہر سے ان کا مطلب شاید گھر کا صحن تھا۔ میں سمجھا گھر سے باہر لے جانے کو کہہ رہی ہیں کہ سیر کرا لاؤں۔ میں ننھے معصوم کو گود میں اُٹھا کر خوش خوش باغ میں جا پہنچا۔ ٹھنڈی ہوا میں کھلا کر جب واپس ہوا تو دیکھا پیر افتخار احمد صاحب ہانپتے کانپتے بھاگے چلے آرہے ہیں۔ مجھے دیکھ کرانہیں تسلی ہوئی اور بولے ”تم بچے کو کہاں لیے پھرتے ہو۔ جلدی لاؤ سب جگہ تلاش ہو رہی ہے۔“ یہ سن کر میں جلدی جلدی ان کے ساتھ ہو لیا۔ کیونکہ گھر میں بچے کو نہ دیکھ کر میری تلاش شروع ہو گئی تھی کہ یہ کدھر غائب ہو گیا۔ کئی عورتیں مرد میری تلاش میں ادھر ادھر دوڑا دیئے گئے تھے۔ میں ڈرتے ڈرتے گھر میں داخل ہوا۔ دل خوف سے کانپ رہا تھا کہ جانے اب میرے ساتھ کیا ہو، لیکن حضرت اماں جان پر نظر پڑتے ہی خوف دور ہو گیا اور دل میں اطمینان اور خوشی پیدا ہوئی۔ بجائے اظہارِ ناراضگی کرنے یا ڈانٹ ڈپٹ کرنے کے وہ کھل کھلا کر ہنس پڑیں اور بولیں اسے اتنی دور کہاں لے گئے تھے؟ میں نے تو باہر صحن میں لے جانے کو کہا تھا۔“

گھر میں کسی ملازمہ سے کوئی نقصان ہو جاتا یا کوئی چیز ٹوٹ جاتی تو اِنَّا لِلّٰہ پڑھ کر خاموش ہو جاتیں۔ ڈانٹنے کے بجائے درگزر سے کام لینے کو ہی بہتر جانتیں۔

صفحہ نمبر: 13 (کل صفحات: 15)