چغلی اور غیبت سے نفرت
آپ کو چغلی، غیبت یا کسی کی غیر حاضری میں شکایت کرنابہت ہی برا لگتا تھا۔ اس بات کو بہت ناپسند کرتی تھیں۔ ایک عورت تھی جس میں یہ کمزوری تھی۔ اس کو آپ نے سمجھایا کہ یہ باتیں اچھی نہںل لگتیں۔ اللہ میاں منع کرتا ہے۔ اس عورت نے سن کر فوراً کہا کہ ”آپ کو فلاں عورت نے بتایا ہوگا کہ میں ایسا کرتی ہوں۔“ اماں جان اس بات پر بہت خفا ہوئیں اور کہا ”تم بے وجہ بدظنی سے کام لے رہی ہو۔“
قبولیت دعا
بچو! جیساکہ ہم پہلے بھی ذکر کر چکے ہیں کہ حضرت اماں جان کو دعاؤں پر بہت یقین تھا۔ آپ ہر وقت ہر بات کے لیے دعا کرتیں اور اللہ تعالیٰ آپ کی سنتا بھی بہت تھا۔ اس بارے میں ہم آپ کو ایک واقعہ سناتے ہیں۔
ماڑی بُچیاں گاؤں میں ایک احمدی میاں اللہ رکھا دُکاندار تھے۔ وہ گاؤں سے غلّہ خرید کر آس پاس یعنی اردگرد کی منڈیوں میں فروخت کرتے تھے۔ ایک دن وہ قادیان گئے تو ان کا گھوڑا خودبخود کھل کر بھاگ گیا یا اللہ جانے کوئی چور کھول کر لے گیا۔ وہ بے چارے بہت پریشان ہوئے۔ قادیان اور اس کے قریب جتنے گاؤں تھے سب جگہ تلاش کیا، مگر گھوڑا نہ ملا۔ مایوس ہوکر حضرت اماں جان کے پاس آئے اور دعا کی درخواست کی۔ آپ نے ایک دعا کاغذ پر لکھ کر دی اور فرمایا۔ ”میں بھی دعا کروں گی، آپ بھی یہ دعا پڑھتے جائیں اور دوبارہ گھوڑے کو تلاش کریں۔ انشاء اللہ مل جائے گا۔“
میاں اللہ رکھا دعا پڑھتے ہوئے ساتھ ہی کاغذ کی سیاہی خشک کرنے کے لیے پھونکیں مارتے ہوئے لنگر خانہ سے تھوڑی دور گئے تھے کہ دیکھا گھوڑا دوڑتا ہوا سامنے آرہا ہے اور اس طرح حضرت اماں جان کی دعا سے گھوڑا مل گیا۔
پیارے بچو! یہ سارے واقعات پڑھ کر اور جو کچھ بھی ہمیں حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب، حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ اور حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے حضرت اماں جان کے متعلق بتایا ان تمام باتوں کودیکھ کر ہم حضرت اماں جان کی سیرت کے بارے میں بلا تامل یہ کہہ سکتے ہیں کہ آپ بہت صدقہ وخیرات کرنے والی۔ ہر چندہ میں شریک ہونے والی تھیں۔ پانچوں وقت کی نماز پہلے وقت میں ادا کرتیں۔ بلکہ تہجد اور دوسرے نوافل بھی پڑھتیں۔ دل میں ہر وقت خدا کا خوف رہتا۔ آپ جہاں ایک خدمت گزار اور وفادار بیوی تھیں وہاں اولاد کے لیے ایسی ماں تھیں کہ جس کی مثال نہیں ملتی۔ گھرداری اور دوسرے انتظام بھی بڑے اعلیٰ طریق پر کرتیں۔ بہت محنتی تھیں۔ صبر اور شکر سے کام لیتیں۔ بہت کھلے دل کی مالک تھیں۔ بہت بڑا دل تھا ان کا۔ کوئی کچھ بھی کہہ دے، کوئی تکلیف پہنچائے، کبھی بھی شکایت نہ کرتیں بلکہ ظاہر بھی نہ ہونے دیتیں۔ تکلیف دینے والا خود ہی خاموش اور شرمندہ ہو جاتا۔ شکوہ، چغلی، غیبت نہ آپ کرتیں نہ سننا پسند کرتیں۔ دل میں کسی کے خلاف کوئی کینہ نہ تھا، محبت ہی محبت تھی۔
خدا کی محبت، اُس کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی محبت، اُس کی کتاب سے محبت اور اُس کے بندوں کی محبت سے آپ کا دل بھرا رہتا۔ ہر ایک کے کام آنا، دکھ درد بانٹنا، ہر ایک خوشی میں دل سے شامل ہونا آپ کی فطرت تھی۔ خوش مزاج بھی تھیں اور شاعرہ بھی۔ ادب اور علم سے لگاؤ بھی تھا اور قدر بھی۔ بہت صفائی پسند تھیں۔ صاف ستھرا لباس پہنتیں۔ خوشبو آپ کو بہت پسند تھی۔ حضور بھی آپ کے لیے عطر اور چنبیلی کا تیل خاص طور پر منگوایا کرتے۔ لباس کے ساتھ اپنا گھر بھی صاف ستھرا رکھتیں۔ آپ کا کمرہ ہر وقت اگربتی اور ہرمل اور لوبان کی دھونی کی خوشبو سے مہکا رہتا۔ کھانے میں بھی سوکھی میتھی ڈالتیں تاکہ خوشبو آئے۔
آپ کے ننھیال کی طرف سے رشتہ کے ایک بھائی تھے جو غیر احمدی تھے، وہ ایک دفعہ سردیوں میں قادیان آئے۔ یوں تو قادیان اورقادیان والوں سے بہت متاثر ہوئے، لیکن اپنی آپا نصرت جہاں بیگم نے آپ پر خاص اثر چھوڑا۔ وہ کہتے ہیں :۔
” آپا صاحبہ کا یہ طریقہ تھاکہ وہ صبح صبح میرے پاس پہنچ جاتیں اور دروازہ کھٹکھٹا کر اندر آجاتیں، السلام علیکم کہہ کر باتیں شروع کر دیتیں۔ میں لحاف لپیٹے پلنگ پر بیٹھا ہوتا اور وہ ٹہل ٹہل کر باتیں کرتی جاتیں۔ آواز میں کرارا پن باقی تھا۔ نظر کام کرتی ہے۔ ہاتھ پاؤں مضبوط، صحت اچھی ہے اور بڑی چست ہیں۔ بات کو غور سے سنتی ہیں اور ہر بات کا معقول جواب دیتی ہیں۔ زندگی کے ہر موضوع پر باتیں کرتی ہیں اور بے دھڑک اپنے خیالات کا اظہار کرتی ہیں۔ پان کا زیادہ شوق ہے۔ باتیں کرتی جاتی ہیں اور پان کھاتی جاتی ہیں۔ دلّی والوں کا سا لباس ہے۔ کرتا اور تنگ پائجامہ، کرتا پر سویٹر پہن کر کشمیری شال اس طرح اوڑھتی ہیں کہ سر بھی ڈھک جاتا اور مفلر بھی معلوم ہوتا اور کوٹ پہن کر ان سب کو ایک جگہ کر لیتی ہیں۔ ایک ہاتھ میں تسبیح اور ایک میں دستانہ ہوتا ہے۔ صبح ہی نماز کے بعد گھر سے نکلتی ہیں۔ پہلے عزیزوں کے اور پھردوستوں کے اور جماعت کے دوسرے مخلص احباب کے گھر جاتی ہیں۔ اس میں حال پوچھنا اور بیماروں کی تیمارداری کرنا وغیرہ سب شامل ہوتا ہے۔ کہیں بچوں کا علاج کرتی ہیں کہیں بڑوں کی طبیعت پوچھتی ہیں۔ کسی جگہ دوا بتاتیں ہیں کہیں خود تیار کرکے دیتی ہیں۔۔۔ اور اس علاج معالجے میں ان کی اچھی مہارت ہے۔۔۔ دس گیارہ بجے تک فارغ ہو کر گھر پہنچ جاتی ہیں۔ دوپہر کے کھانے کے بعد آرام کرتیں ہیں۔ عصر کی نماز تک گھر میں بہوبیٹوں سے ملتی ہیں۔ شام کو پھر سیر کے لیے نکل جاتی ہیں۔
اس پروگرام پر تقریباً روزانہ عمل کرتی ہیں۔ اس وقت ان کی عمر 54سال ہے، مگر ارادہ میں جوان ہیں۔ اپنے عزم میں جوان ہیں عمل میں جوان ہیں۔ ایک بارعب کمانڈر کی طرح قادیان کی آبادی پر اثر ہے۔ جس طرح خلوص اور محبت سے ملتی ہیں اسی طرح رعب اور اثر سے کام لیتی ہیں۔ ان کاموں میں ان کو دلچسپی ہے اور ان کو ہی اپنا مشغلہ بنا رکھا ہے جس طرح خاندان کو ان کی ضرورت ہے۔ قوم اور مذہب کا لحاظ کیے بغیر ہر ایک سے حسن سلوک کے ساتھ ملتی ہیں۔ جو کچھ ممکن ہوتا ہے اس کی خدمت کرتی ہیں۔ اطمینان اور دلاسہ دیتی ہیں۔“
غرض آپ بہت بلند اخلاق کی مالک تھیں۔ پیارے نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ اور سنت اور حدیث پر پورے طریقہ پر چلنے والی تھیں۔ آپ کا یہ اعلیٰ نمونہ جماعت نے دیکھا اور آپ سے محبت کی اور محبت پائی۔ آپ جماعت کے لیے حقیقی ماں سے بھی بڑھ کر تھیں۔
