آپ کی وفات
جب آپ کی وفات کا وقت قریب آیا تو ساری جماعت اس طرح تڑپ تڑپ کر اور بلک بلک کر خدا کے حضور دعائیں مانگ رہی تھی جیسے کوئی اپنی سگی ماں کے لیے مانگ رہا ہو، لیکن خدا کی تقدیر آن پہنچی تھی، اُس کا بلاوا آگیا تھا۔ 25 دن کی بیماری کاٹ کر 20 اپریل1952ء کو آپ اپنے مولائے حقیقی سے جاملیں۔ آپ قادیان سے ہی ایک لٹھے کا تھان اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک کرتہ ساتھ لائی تھیں اور فرمایا کرتی تھیں کہ ”یہ میں نے اپنے کفن کے لیے رکھا ہوا ہے۔“ چنانچہ آپ کو پہلے وہ متبرک کرتہ اور پھر وہی کفن پہنایا گیا اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں آپ کی تدفین ہوئی۔
حضرت مصلح موعود نے آپ کی وفات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ”اس سال احمدیت کی تاریخ کا ایک بہت ہی اہم واقعہ ہوا اور وہ ہے حضرت اماں جان کی وفات۔ ان کا وجود ہمارے اور حضرت (مسیح موعود علیہ السلام) کے درمیان کی ایک زنجیر کی طرح تھا۔۔۔ وہ ہمارے اور حضرت (مسیح موعود علیہ السلام) کے درمیان ایک زندہ واسطہ تھیں یہ واسطہ ان کی وفات سے ختم ہو گیا۔“
اور حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ نے آپ کی وفات کے بعد ایک مضمون میں لکھا ” صرف اس لیے نہیں کہ اماں جان بہت زیادہ محبت کرنے والی ماں تھیں اور اس لیے نہیں کہ آج وہ اس دنیا میں نہیں ہیں تو ان کا ذکر خیر ہونا چاہیے اور اس لیے بھی نہیں کہ مجھے ان سے بہت محبت تھی بلکہ یہ حق اور صرف حق ہے کہ حضرت اماں جان کو اللہ تعالیٰ نے سچ مچ اس قابل بنایا تھا کہ وہ ان کو اپنے (مامور) کے لیے چن لے۔ اپنی خاص نعمت کا خطاب دے کر اپنے (مامور) کو عطا کر دے۔“
آخر میں لکھتی ہیں ” میری ماں تو ایک بے بدل ماں تھیں، سب احمدیوں کی ماں۔ وہ تو اَب خاموش ہیں مگر ہم جب تک خدا ان سے ملائے گا نہیں ان کی جدائی کی کھٹک برابر محسوس کرتے رہیں گے۔“
وہ نہ آئیں گی مگر یاد چلی آئے گی
”حضرت امّاں جان کو ہماری تعریف کی حاجت نہیں خدا نے جس وجود کی تعریف کر دی اُس کو اَور کیا چاہیے، مگر ہمارابھی فرض ہَے کہ جو عمر بھر دیکھا اُس کو آئندہ آنے والوں کے لیے ظاہر کردیں۔“ (حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ)
