حالاتِ زندگی
پیارے بچو! ہندوستان کے شہر دہلی میں ایک بزرگ بخارا۔ سے آکر آباد ہوئے۔ ان کا نام خواجہ محمدطاہر تھا۔ ان دنوں ہندوستان پر شہنشاہ اورنگ زیبؒ کی حکومت تھی۔ بادشاہ حضرت خواجہ محمدطاہر کو اپنا پیر مانتا تھا اور آپ کی بہت عزت کرتاتھا۔ سادات کا یہ خاندان اپنے سلسلۂ نسب کی وجہ سے بہت معزز شمار ہوتاتھا۔ اِس خاندان میں بہت سے بزرگ پیدا ہوئے اور اسی خاندان میں بارھویں صدی ہجری میں حضرت خواجہ محمدناصر دہلوی کی پیدائش ہوئی۔ انہیں اس صدی کا وَلی ٭ کہا جاتا ہے اور ان کے بیٹے حضرت خواجہ میر دَردؒ کو بھی لوگ تیرھویں صدی کا وَلی کہتے ہیں۔ انہی خواجہ میردرد رحمۃ اللہ علیہ کی نسل میں حضرت سیّدہ نصرت جہاں بیگم پیدا ہوئیں جنہیں ہم حضرت اماں جان کہتے ہیں۔
آپ نے حضرت امّاں جان کا نام سُنا ہوگا اور آپ کو شوق بھی ہوگا کہ حضرت امّاں جان کی سیرت اور زندگی کے بارے میں آپ بھی کچھ جانیں۔ تو ہم نے سوچا کہ آپ کا یہ شوق پورا کریں اور آپ کو اپنی عظیم رُوحانی ماں کی پیاری پیاری باتیں بتائیں۔
٭ وَلی کے معنے دوست کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے سچّا پیار کرنے والوں کو وَلِیُ اللہ کہتے ہیں۔
آپ کے والدین
حضرت امّاں جان کے والد میرناصرنواب صاحب تھے اور آپ کی والدہ کا نام سیّدبیگم تھا۔ دونوں بے حد نیک اور سادہ تھے اور لوگ آپ کی بہت عزت کرتے تھے۔ یہ دونوں ہی دین کے پابند، خدا تعالیٰ اور اُس کے رسول حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم سے بہت محبت کرنے والے اور نمازیں بڑی پابندی سے پڑھنے والے تھے۔ حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ السلام کے دعویٰ کے بعد آپ دونوں بیعت کرکے احمدیت میں داخل ہوگئے۔ آپ کو تمام جماعتِ احمدیہ، حضرت اماں جان کے والدین ہونے کی وجہ سے، ناناجان اور نانی جان کے نام سے یاد کرتی ہے۔ حضرت نانا جان حضرت بانی ٔ سلسلہ احمدیہ کے جان نثار فدائی اور جماعت احمدیہ کے انتہائی مخلص خادم تھے۔ آپ (پیشہ کے لحاظ سے) اوورسئیر تھے۔ قادیان میں جماعت کی سب ہی عمارتیں حضرت نانا جان کی بنائی ہوئی ہیں جن کو دیکھ کر ان کے دین کی خدمت کے شوق کا اندازہ ہوتاہے۔ جس طرح حضرت نانا جان ایک اعلیٰ سیّد خاندان سے تعلق رکھتے تھے ایسے ہی حضرت نانی جان کا خاندان بھی بہت اونچا تھا۔ ان کا ننھیال اور ددھیال سیّد تھا۔ حضرت امّاں جان آپ دونوں کی اکلوتی بیٹی تھیں البتہ بیٹے دو تھے۔ بڑے بیٹے حضرت ڈاکٹرمیرمحمداسمٰعیل صاحب اور چھوٹے بیٹے حضرت میرمحمداسحٰق صاحب تھے۔ حضرت امّاں جان کو اپنے دونوں بھائی بہت پیارے تھے اور دونوں ہی خدا کے فضل سے مخلص جان نثار احمدی اور دین کے خادم تھے۔
پیدائش اور بچپن
حضرت امّاں جان کی پیدائش1865ء میں دہلی میں ہوئی۔ آپ کی پیدائش سے پہلے حضرت نانا جان کے حالات بہت تنگ تھے۔ بے کاری کا زمانہ تھا لیکن آپ کی پیدائش کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کا ایسا فضل ہوا کہ حالات بہتر ہوگئے۔ کھوئی ہوئی جائیداد کا ایک حصّہ واپس مل گیا اور ملازمت بھی مِل گئی جس سے مالی حالات بہت اچھے ہوگئے۔ گویا آپ کی پیدائش پر ہی اللہ تعالیٰ نے ظاہر کردیا کہ یہ ایک بابرکت خاتون ہے۔ حضرت نانا جان نے گھر ہی پر آپ کو تعلیم دی۔ قرآن کریم کی تعلیم کے علاوہ اُردو لکھنا پڑھنا سکھایا۔ آپ بچپن ہی سے بہت ذہین تھیں۔ بڑی سلیقے والی تھیں۔ آپ کی تربیت خالص دینی طرز پر ہوئی۔ چونکہ آپ لوگ دہلی کے رہنے والے تھے اس لیے آپ کا اُٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا، پہننا اوڑھنا، غرض سب دہلی والوں کی طرح تھا۔
حضرت نانا جان نے آپ کا پہلا نام نصرت جہاں بیگم اور دوسرا نام عائشہ رکھا۔
