آپ کی شادی
اُس زمانہ میں لڑکیوں کی شادی بہت چھوٹی عمر میں کردی جاتی تھی۔ آپ کے بھی بہت سے رشتے آئے لیکن آپ کے والدین کوکوئی رشتہ پسند ہی نہ آتا تھا۔ کوئی رشتہ ناناجان کو پسند نہیں آیا تو کسی کا نانی جان نے انکار کردیا۔ اصل میں ناناجان کو کسی بہت دین دار رشتہ کی تلاش تھی۔ جب آپ کی عمر اٹھارہ سال کی ہوگئی تو حضرت ناناجان نے گھبرا کر حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ السلام کو لکھا کہ حضور دعا کریں کہ” اللہ تعالیٰ مجھے نیک اور صالح داماد عطاکرے۔“
اُدھر حضور کو اللہ تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ بتایا کہ ”مَیں نے ارادہ کیا ہے کہ تیری دوسری شادی کردوں اور سب انتظام مَیں خود کروں گا۔“ اور یہ بھی بتایا کہ ”تیرا رشتہ دہلی کے ایک سیّد خاندان میں ہوگا۔“
اِس لیے جب حضرت ناناجان کا دعا کا خط پہنچا تو حضور نے اللہ تعالیٰ کی مرضی پر اپنے رشتہ کا پیغام بھیجا اور ساتھ ہی لکھ دیا کہ آپ مجھ پر نیک ظنّ (یعنی اعتماد) کرکے لڑکی کا نکاح مجھ سے کردیں۔
اس وقت حضور کی پہلی بیوی موجود تھی۔ اس سے آپ کے دو بیٹے بھی تھے۔ بڑے کا نام تھا حضرت مرزاسلطان احمد اور چھوٹے تھے حضرت مرزا فضل احمد۔ لیکن چونکہ آپ کی پہلی بیوی کی طبیعت میں دنیا داری بہت تھی اور دینی حالت کمزور۔ اس لیے آپس میں بہت معمولی تعلق رہ گیا تھا اور حضور بہت بے آرامی کی زندگی گزار رہے تھے اِ س لیے اللہ نے چاہا کہ وہ آپ کی دوسری شادی کر دے۔
جب رشتہ آیا تو حضرت نانی جان کو یہ اعتراض ہوا کہ آپ پنجاب کے رہنے والے ہیں۔ آپ کا رہنا سہنا اور زبان دہلی والوں سے مختلف ہے۔ عمر بھی بڑی ہے۔ پہلے شادی بھی ہوچکی ہے۔ اس عرصہ میں حضرت امّاں جان کے کئی رشتے آئے لیکن نانی جان کو وہ رشتے پسند نہ آئے اور آخر ایک دن فرمایا ” اُن لوگوں سے تو غلام احمد ہزار درجہ بہتر ہے۔“
چونکہ حضرت نانا جان پہلے ہی یہ چاہتے تھے آپ نے موقع غنیمت جان کر فوراً ہی حامی بھری اور حضور کو رشتہ کی منظوری کی اطلاع دے دی۔ کچھ عرصہ بعد حضرت امّاں جان بیاہ کر دہلی سے قادیان لائی گئیں۔ آپ کا نکاح جامع مسجد دہلی کے مشہور خطیب سیّد نذیر حسین دہلوی نے پڑھایا۔
رہن سہن اور زبان کے فرق کے باوجود حضرت اماں جان نے اپنے آپ کو اس ماحول میں نہایت خوبی سے ڈھال لیا۔ اس سے آپ کی سمجھ بُوجھ، لیاقت اور غیرمعمولی خوبیوں کا پتہ چلتاہے کیونکہ یہ کسی عام عورت کے بَس کا کام نہ تھا۔ شروع میں تو آپ بہت گھبرائیں یہاں تک کہ حضرت نانی جان کو لکھ بھیجا کہ ”مَیں اس قدر گھبرائی ہوئی ہوں کہ شاید مَیں غم اور گھبراہٹ سے مَر جاؤں گی۔“
لیکن ایک ماہ بعد جب دہلی گئیں تو حضرت نانی جان کو خود ہی بتایا کہ”مجھے تو انہوں نے بڑے آرام سے رکھا ہوا ہے مَیں یونہی گھبراگئی تھی۔“
شروع شروع میں آپ کا گھبرا جانا ایک قدرتی بات تھی۔ اس کے متعلق حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ نے بتایا کہ امّاں جان نے ایک بار ذکر کیا کہ ”جب تمہارے ابّا مجھے بیاہ کر لائے تو یہاں سب خاندان والے سخت مخالف تھے (شاید شادی کی وجہ سے) ۔ گھر میں دو چار خادم مَرد تھے اور ان بیچاروں کی روٹی بھی گھر والوں نے بند کررکھی تھی۔ گھر میں عورت کوئی نہ تھی۔ صرف میرے ساتھ فاطمہ بیگم تھیں (یہ خادمہ دہلی سے ساتھ آئی تھیں ) نہ وہ کسی کی زبان سمجھتی تھیں اور نہ ان کی کوئی سمجھے۔ شام کا وقت بلکہ رات تھی جب ہم پہنچے۔ تنہائی کا عالَم، غیروطن، میرے دل کی عجیب حالت تھی اور روتے روتے میرا بُرا حال تھا۔ نہ کوئی اپنا تسلّی دینے والا، نہ منہ دُھلانے والا، نہ کھلانے والا، (کوئی اپنا رشتہ دار نہ تھا) اکیلی حیرانی پریشانی میں آن کر اُتری۔ کمرے میں ایک چارپائی پڑی تھی جس کی پائینتی پر ایک کپڑا پڑا تھا اس پر تھکی ہاری جو پڑی ہوں تو صبح ہوگئی۔ اگلی صبح حضور نے ایک خادمہ کو بُلوایا اور گھر میں آرام کا سب سامان کردیا۔“
بچو! اللہ تعالیٰ نے حضرت امّاں جان کو ایک بہت بڑی عزت یہ عطا کی تھی کہ امّاں جان کے اپنے خاندان کے ایک بزرگ کو اس شادی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی بتا دیا تھا اور پھر حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ السلام کو بھی اِس شادی کے متعلق الہام ہوا۔ گویا یہ شادی خدا کی عین مرضی کے مطابق تھی۔
ان باتوں کی وجہ سے دوسرے آپ کی ذاتی خوبیوں کی وجہ سے حضرت مسیح موعودعلیہ السلام آپ سے بہت محبت کرتے اور آپ کی بہت عزت اورقدر کرتے تھے اور انہیں اپنے لیے ایک مبارک وجود سمجھتے۔ حضرت اماں جان کو بھی اس بات کا بہت احساس تھا اور بعض دفعہ بڑی محبت اور ناز سے کہا کرتیں کہ”میرے آنے کے ساتھ آپ کی زندگی میں برکتوں کا دَور شروع ہوا ہے۔“
اس پر حضور مسکرا کر جواب دیتے ”ہاں یہ ٹھیک ہے۔“
حضرت امّاں جان بھی حضور سے بہت محبت کرتی تھیں اور ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے دو سینوں میں ایک ہی دل دھڑک رہا ہو۔ جس طرح عام میاں بیوی میں جھگڑے ہوتے ہیں ویسے ان دونوں میں کبھی کوئی جھگڑا نہ ہوتا۔ حضور حضرت امّاں جان کے ساتھ پیار سے نرم لہجے میں بات کیا کرتے۔ گھر کے کاموں میں کبھی کوئی اُونچ نیچ ہو بھی جاتی تو آپ کچھ نہ کہتے۔ ایک واقعہ حضرت امّاں جان نے خود سُنایا کہ
”مَیں پہلے پہل جب دہلی سے آئی تو مجھے معلوم ہوا کہ حضرت (مسیح موعودؑ) کو گُڑ والے چاول بہت پسند ہیں۔ مَںا نے بڑے شوق سے ان کے پکانے کا انتظام کیا۔ تھوڑے سے چاول منگوائے اور اس میں چار گُنا گُڑ ڈال دیا۔ وہ بالکل راب بن گئے۔ جب دیگچی چولھے سے اُتاری اور چاول برتن میں نکالے تو دیکھ کر سخت رنج اور صدمہ ہوا کہ یہ تو خراب ہوگئے۔ ادھر کھانے کا وقت ہوگیا تھا۔ حیران تھی کہ اب کیا کروں۔ اتنے میں حضرت صاحب آگئے۔ میرے چہرے کو دیکھا جو رنج اور صدمہ سے رونے والوں کا سا بنا ہوا تھا۔ آپ دیکھ کر ہنسے اور فرمایا ”کیا چاول اچھے نہ پکنے کا افسوس ہے؟“ پھر فرمایا ”نہیں یہ تو بہت مزیدار ہیں۔ میری پسند کے مطابق پکے ہیں۔ ایسے ہی زیادہ گُڑ والے تو مجھے پسند ہیں۔ یہ تو بہت ہی اچھے ہیں۔ “ اور پھر بہت خوش ہو کر کھائے۔ حضرت امّاں جان فرماتی تھیں کہ حضرت صاحب نے مجھے خوش کرنے کو اتنی باتیں کیں کہ میرا دل بھی خوش ہوگیا۔“
حضرت مسیح موعودعلیہ السلام امّاں جان کو خدا کے نشانوں میں سے ایک نشان سمجھتے تھے اور جو بات بھی وہ کرنے کو کہتیں پوری کوشش فرماتے کہ وہ پوری ہوجائے۔ ویسے بھی آپ فرمایا کرتے تھے کہ بیویوں کا بہت خیال رکھنا چاہیے۔
حضور کی مہربانیوں کی ایک مثال آپ کوسُناؤں۔ ایک دفعہ دارالمسیح کے اُس حصّہ میں جہاں حضور رہتے تھے وہاں ایک صحن ہے جس کی ایک کھڑکی جنوب کی طرف محلہ کُوچہ بندی میں کھلتی ہے۔ گرمیوں میں رات کو حضور اور آپ کے سب گھر والے اس صحن میں سویا کرتے تھے، لیکن برسات کے موسم میں جب بارش ہوتی تو مشکل یہ پڑ جاتی کہ ساری چارپائیاں اُٹھا کر کمروں میں لے جانی پڑتیں۔ اس واسطے حضرت امّاں جان نے یہ مشورہ دیا کہ اس صحن کے ایک حصّہ پر چھت ڈال دی جائے۔ یعنی برآمدہ سا بناد یا جائے تا کہ بارش ہونے پر چارپائیاں اس کے اندر کی جاسکیں۔ حضور نے حُکم فرما دیا کہ ایسا ہی کیاجائے۔ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب اور چند دوسرے رفقاء نے اعتراض کیا کہ ایسا نہ کریں، صحن کی شکل خراب ہوجائے گی، خوبصورتی ختم ہوجائے گی لیکن آپ نے سب کی باتیں سُن کر فرمایا کہ ٹھیک ہے لیکن چونکہ میری بیوی خدا کے نشانوں میں سے ایک نشان ہے اور میرے ان بیٹوں کی ماں ہے جن کے متعلق خدا نے مجھے بشارتیں دی ہیں اس لیے مَیں اس کی ہر بات مانتا ہوں۔ یہ برآمدہ بننا چاہیے۔
حضرت امّاں جان خود اپنا ایک واقعہ سُنایا کرتی تھیں کہ جب وہ نئی نئی قادیان آئیں تو انہیں روشنی میں سونے کی عادت تھی۔ جب آپ سو جاتیں تو حضور روشنی بُجھا دیتے۔ پھر آپ کی آنکھ کھلتی تو آپ اندھیرا دیکھ کر گھبرا اُٹھتیں اورحضرت صاحب دوبارہ روشنی کردیتے۔ آخر حضور کو ہی روشنی میں سونے کی عادت پڑ گئی۔ پھر تو یوں ہوا کہ گھر کے ہر کونے میں روشنی رہنے لگی، سیڑھیاں کیا، غُسل خانہ کیا، کمرہ کیا، صحن کیا، سب جگہ روشنی کی جاتی اور اس کے لیے ایک خاص خادم رکھا گیا۔ کبھی کبھار حضرت امّاں جان محبت سے حضور کو یاد دلایا کرتیں کہ”آپ کو وہ وقت یاد ہے جب آپ روشنی میں سو نہ سکتے تھے اور اَب گھر کے کونے کونے میں روشنی نہ ہو تو آپ کو نیند نہیں آتی۔“
حضرت صاحب یہ بات سُن کر ہمیشہ خوشی سے مُسکرا اُٹھتے۔
بچو! حضرت مسیح موعودعلیہ السلام اور حضرت امّاں جان کو جتنے لوگوں نے بھی قریب سے دیکھا۔ مثلاً حضرت اماں جان کے دونوں بھائی۔ آپ کی اولاد، بہوئیں اور خادمائیں وغیرہ سب کایہ کہنا ہے کہ یہ دونوں عام میاں بیوی کی طرح نہ تھے۔ آپ دونوں میں کبھی آپس میں جھگڑا نہ ہوتا۔ کسی بات پر لڑائی نہ ہوتی۔ اُدھر حضور حضرت امّاں جان کی ہربات مانتے اور پیار اور احسان کاسلوک کرتے تو اِدھر حضرت امّاں جان بھی حضور کی چھوٹی سے چھوٹی پسندناپسند کا خیال رکھتیں۔ کھانا بھی اکثر خود پکاتیں یا پھر سامنے بیٹھ کر اپنی نگرانی میں پکواتیں۔ آپ کے دوسرے کاموں میں بھی اس طرح آپ کا ہاتھ بٹاتیں جیسے کوئی دوست اپنے دوست کا کام کررہاہے۔
حضورؑ حضرت امّاں جان کو تم کہہ کر بلاتے اور اردو زبان جو کہ امّاں جان کی زبان تھی اس میں باتیں کرتے۔ کبھی کبھی پنجابی بھی بول لیا کرتے۔ حضرت امّاں جان بھی آپ کو عزت سے حضور یا حضرت صاحب کہہ کر بُلایا کرتیں۔ غرض یہ جوڑا بے مثال تھا اور آپس کی محبت ایسی تھی جو عام دیکھنے میں نہیں آتی۔
ایک بار جب حضرت امّاں جان نماز پڑھنے لگیں تو نیّت باندھنے سے پہلے آپ نے حضرت اقدس سے کہا کہ ”مَیں ہمیشہ یہ دُعا کرتی ہوں کہ خدا تعالیٰ مجھے آپ کا غم نہ دکھائے اور مجھے آپ سے پہلے اُٹھا لے۔“
یہ سُن کر حضورؑ نے فرمایا ”اور مَیں ہمیشہ یہ دعا کرتاہوں کہ تم میرے بعد زندہ رہو اور مَیں تم کو سلامت چھوڑ جاؤں۔“
اور ایسا ہی ہوا حضرت امّاں جان سے چوالیس سال پہلے آپ کی وفات ہوگئی۔
