In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » کتبِ سلسلہ » کتب خدام الاحمدیہ پاکستان » PDF ڈاؤن لوڈ کریں PDF ڈاؤن لوڈ کریں

سیرت حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا

تصنیف: صاحبزادی امۃ الشکور، شائع کردہ: مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان
+ فہرست مضامین

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پرحضرت امّاں جان کا صبر

مئی 1908ء کی 26 تاریخ تھی جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی حالت بہت خراب ہوگئی۔ حضرت امّاں جان تڑپ تڑپ کر دعائیں کررہی تھیں۔ کبھی سجدہ میں گِر جاتیں، کبھی بے قراری سے ٹہل کر دعا کرتیں کہ ”اے حیّ وقیوم خدا! میری زندگی بھی تو ان کو دے دے۔“ لیکن الہٰی تقدیر کے مطابق آپ کا وقت آن پہنچا تھا۔ جب آپ پر نزع کی حالت شروع ہوگئی تو حضرت امّاں جان نے دعا کی”اے میرے پیارے خدا! یہ تو ہمیں چھوڑتے ہیں، لیکن تو ہمیں نہ چھوڑیو۔“

آپ باربار یہ الفاظ کہتی جاتی تھیں آخر دس بجے حضرت مسیح موعودعلیہ السلام سب کو تڑپتا چھوڑ کر اپنے آسمانی آقاسے جاملے۔

حضرت امّاں جان نے اس وقت ایسا صبر کا نمونہ دکھایا جس کی مثال نہ مِل سکے گی۔ دِل تو خون کے آنسو رو رہا تھا لیکن زبان پر صرف اِنَّالِلّٰہ تھا اور بس۔ بلکہ وہاں پر موجود کچھ عورتوں نے اونچی آواز میں رونا شروع کیا تو آپ نے بڑے زور سے انہیں ڈانٹا اور فرمایا ”میرے تو خاوند تھے مَیں نہیں روتی تم رونے والی کون ہو۔“

کچھ دیر بعد آپ نے اپنے بچوں کو جمع کیا اور انہیں نصیحت فرمائی ”بچو! گھر خالی دیکھ کر یہ نہ سمجھنا کہ تمہارے ابّا تمہارے لیے کچھ نہیں چھوڑ گئے۔ انہوں نے آسمان پر تمہارے لیے دعاؤں کا بڑا بھاری خزانہ چھوڑا ہے جو تمہیں وقت پر ملتا رہے گا۔“

حضور کا جنازہ لاہور سے قادیان لے جایا گیا۔ بٹالہ سے بَیل گاڑی پر رکھا گیا حضرت امّاں جان بھی رَتھ پر سوار ساتھ ہی تھیں۔ حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی ڈیوٹی پر ساتھ تھے۔ آپ سارا راستہ دعاؤں میں مشغول رہیں۔

جنازہ کو بہشتی مقبرہ کے ساتھ والے باغ میں رکھا گیا۔ حضرت امّاں جان چہرۂ مبارک دیکھنے آئیں تو پائینتی کی طرف کھڑے ہو کر نہایت وقار والی آواز میں بولیں”.......تیری وجہ سے میرے گھر میں فرشتے اُترتے تھے اور خدا کلام کرتا تھا۔“

یہ گواہی تھی جو حضرت امّاں جان نے حضرت اقدس کی سچائی کی دی اور اس سے آپ کے ایمان کی مضبوطی اور حضرت اقدسؑ سے عقیدت اور محبت کا پتہ چلتا ہے۔ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر سچے دل سے ایمان رکھتی تھیں اور آپ کے دعویٰ اور الہامات کو سچّا مانتی تھیں۔ کبھی بھی کِسی قسم کا شک یا شُبہ آپ کے دل میں پیدا نہ ہوا۔

تو بچو! حضرت امّاں جان پہلے دن سے ہی حضرت صاحب پر ایمان لے آئی تھیں اور دعویٰ سے پہلے بھی آپ کو بزرگ مانتی تھیں۔ اس جگہ ہم آپ کو ایک چھوٹا سا واقعہ سُناتے ہیں جو امّاں جان نے اپنی بیٹی حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کو سُنایا۔ فرمانے لگیں کہ “جب مَیں پہلی مرتبہ نئی نئی آئی تو حضرت (مسیح موعود علیہ السلام) کی ایک بات کا مجھ پر بہت اثر ہوا اور وہ یہ کہ خادمہ دُودھ اُبال رہی تھی۔ جب دُودھ میں جوش آرہا تھا توا س نے ڈھکن اُتار دیا۔ اِتفاق سے حضرت اقدس کی نظر پڑگئی اور آپ نے فرمایا”دُودھ ننگا ہے یہ ضرور پھٹ جائے گا۔“ میرے دل میں خیال آیا کہ دُودھ کے اُبال کے وقت ڈھکن اُتار ہی دیتے ہیں۔ یہ دُودھ بھلا کیوں پھٹے گا۔ مَردوں کو کچھ خبر نہیں ہوتی اس لیے ایسا کہہ دیتے ہیں۔ میرے دل میں یہ خیال گزر ہی رہا تھا کہ اُسی وقت دُددھ پَھٹ گیا۔ اس واقعہ سے میرے دل میں حضرت اقدسؑ کا بہت رُعب طاری ہوا اور مَیں نے یقین کرلیا کہ یہ تو بہت بڑے بزرگ ہیں۔

حضورکی وفات کے بعد امّاں جان بالکل بدل گئیں، آپ کاسکون اور اطمینان جاتارہا۔ اس کی جگہ گھبراہٹ اور بے چینی نے لے لی۔ حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ نے آپ کی زندگی کے بارہ میں لکھا کہ”حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد آپ میں ایک بہت بڑی تبدیلی پیدا ہوئی۔ پھر مَیں نے آپ کو پُرسکون اور مطمئن اور خاموش نہیں دیکھا۔ ہم بچوں کی وجہ سے بہت صبر دکھاتیں، لیکن طبیعت میں بے حد گھبراہٹ اور بے قراری پیدا ہوگئی تھی جو پھر کبھی نہ گئی۔ یُوں لگتا تھاجیسے آپ اس دنیا میں ہیں بھی اور نہیں بھی۔ آپ ایسے بے چین رہتیں جیسے آپ کا کچھ کھو گیا ہو۔“

حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے حضرت امّاں جان کی غیرمعمولی محبت کے بارے میں حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ لکھتی ہیں کہ

”آپ اکثر سفر پر جاتی تھیں اور بظاہر اپنے آپ کو بہت بہلائے رکھتیں۔ عورتوں کو ساتھ لے کرباغ کی یا گاؤں کی سَیر کو نکل جاتیں۔ گھر میں کچھ نہ کچھ کام کرواتی رہتیں۔ کھانا پکواتیں اور اکثر غریبوں میں تقسیم کرتیں (یہ کام آپ کو سب سے زیادہ پسند تھا) ۔ لوگوں کا آنا جانا رہتا۔ اپنی اولاد کی دلچسپیاں تھیں۔ یہ سب کچھ تھا مگر حضور کے بعد پورا سکون آپ نے کبھی محسوس نہیں کیا۔ صاف معلوم ہوتا تھا جیسے کوئی اپنا وقت کاٹ رہا ہے۔ ایک سفر ہے جسے طَے کرنا ہے۔ کچھ کام ہیں جو جلد ہی کرنے ہیں۔ ظاہر میں ایک صبر کی چٹان تھیں لیکن ایک قسم کی گھبراہٹ تھی جو آپ پر ہر وقت طاری رہتی لیکن بچوں کی خاطر اپنا یہ غم چھپائے رکھتیں اور سب کی خوشی کا سامان کرتی تھیں۔ جب کوئی بچہ خاندان میں پیدا ہوتا تو خوشی کے ساتھ حضرت اقدس کی جُدائی کا غم بھی تازہ ہوجاتا اور آپ اس بچہ کی آمدپر حضرت اقدس کو بہت یاد کرتیں۔ مَیں اپنے لیے ہی دیکھتی کہ حضرت صاحب کی وفات کے بعد ایک محبت کا چشمہ ہے جو امّاں جان کے دل میں پھوٹ پڑا ہے اور بار بار فرمایا کرتیں کہ تمہارے ابّا تمہاری ہر بات مان لیا کرتے اور میرے اعتراض کرنے پر فرماتے کہ لڑکیاں تو چار دن کی مہمان ہوتی ہیں یہ کیا یاد کرے گی۔ جو یہ کہتی ہے وہی کرو۔“

غرض یہ محبت بھی حضرت صاحب کی محبت تھی جو آپ کے دِل میں موجود تھی۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بے حد خواہش تھی کہ آپ حج کریں لیکن حالات کی وجہ سے ایسا نہ کرسکے۔ حضرت امّاں جان نے آپ کی وفات کے بعدآپ کی اس خواہش کو یاد رکھا اور اِس طرح پورا کیا کہ ایک صاحب کو اپنے پاس سے رقم دے کر حضرت اقدس کی طرف سے حج کرنے بھیجا۔ آپ کی عادت تھی کہ جب حضرت صاحب کی یاد آتی قرآن شریف پڑھنا شروع کر دیتیں۔

آپ اَور بھی کئی طرح سے حضرت اقدس کی یادیں زندہ رکھتیں۔ آپ کا یہ طریقہ تھا کہ روزانہ صبح بہشتی مقبرہ جاکر حضرت اقدس کے مزار پر دعا کیا کرتیں۔ حضور کو جو کھانے پسند تھے وہ پکوا کر یا خود پکاکر لوگوں کو کھلاتیں اور فرماتیں ”کھاؤ! یہ حضرت صاحب کو بہت پسند تھا۔“

حضرت امّاں جان کو قادیان سے بھی بہت محبت تھی۔ جب پاکستان بننے کے بعد حضرت مصلح موعود مستقل طور پر ربوہ تشریف لے آئے تو ساتھ محترمہ آپا آمنہ صاحبہ (بیگم چوہدری عبداللہ خان صاحب) بھی امّاں جان کے ساتھ تھیں۔ وہ کہتی ہیں کہ جس مکان میں ہم نے کھانا کھایا حضرت امّاں جان اس کے برآمدے میں تشریف رکھتی تھیں۔ مَیں جاکر پاس بیٹھ گئی۔ باتوں باتوں میں کچھ ایسافقرہ مَیں نے کہا جس کامطلب تھاربوہ قادیان جیسا لگتاہے۔ یہ قادیان کا غم دُور کردے گا۔

حضرت امّاں جان میرے پاس لیٹی ہوئی تھیں۔ جوش میں اُٹھ کر بیٹھ گئیں۔ میرے کندھے کو ذرا جھٹک کررنج سے بولیں ”تم اُس جگہ کو بھول جاؤ گی جہاں (حضور) دفن ہیں۔“

ایک بارحضرت امّاں جان مکرم عبداللہ صاحب کے گھر نیلاگنبد لاہور تشریف لے گئیں۔ ان کے گھر والوں نے آپ سے کہا کہ یہ گھر بہت تنگ ہے آپ دعا کریں اللہ تعالیٰ ہمیں بہترمکان عطا کرے۔ یہ سُن کر حضرت امّاں جان نے فرمایا ”نہیں یہ مکان تمہارے لیے بڑا برکت والا ہے کیونکہ یہاں (حضور) تشریف لا چکے ہیں۔ اس مکان کونہ چھوڑنا۔“

گویا آپ کو وہ مکان جن میں کبھی حضور تشریف لے گئے تھے، وہ راہیں جن پر آپ کے قدم مبارک پڑے تھے ان سب سے محبت تھی اور آپ انہیں برکتوں والا خیال کرتیں۔ حضرت امّاں جان کی ہر بات، ہرکام یہ ظاہر کرتاتھا کہ آپ کوحضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کتنی محبت اور عقیدت تھی۔ آپ کے رفقاء اور سچے پیار کرنے والے خادموں اور ان کی اولاد سے بھی بہت محبت رکھتی تھیں اور ان کی معمولی معمولی باتوں کا بھی خیال رکھتیں جیسے ایک ماں اپنے بچوں کا رکھتی ہے۔

یہاں ہم آپ کو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کاسُنایا ہوا ایک واقعہ بتاتے ہیں جس سے حضرت امّاں جان کے ایمان کی مضبوطی کا پتہ چلتا ہے۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خدا سے علم پا کر محمدی بیگم والی پیشگوئی فرمائی تو حضور نے دیکھا کہ حضرت امّاں جان علیحدگی میں نماز پڑھ کر رو رو کر دعا کررہی ہیں۔ بعد میں آپ نے پوچھا کہ ”کیا دعا کر رہی تھیں؟ “ حضرت امّاں جان نے جواب میں بتایا کہ مَیں یہ کہہ رہی تھی ”خدایا! تُو اس پیشگوئی کو اپنے فضل اور قدرت سے پورا فرما۔“ آپ نے فرمایا! کہ ”تم یہ دعا کررہی تھیں اور تم جانتی ہو کہ اس کے نتیجے میں تم پر سوکن آنی ہے۔ حضرت امّاں جان نے بے ساختہ فرمایا ”خواہ کچھ ہو مجھے اپنی تکلیف کی پرواہ نہیں۔ میری خوشی اسی میں ہے کہ خدا کی بات اور آپ کی پیشگوئی پوری ہو۔“

صفحہ نمبر: 4 (کل صفحات: 15)