سوتیلے رشتہ داروں سے سلوک
جب آپ شادی کے بعد قادیان آئیں تو وہاں سب رشتہ داروں کو حضور کے خلاف دیکھا یہاں تک کہ جو چند خادم تھے ان کے خلاف بھی گھر والوں نے بائیکاٹ کیا ہواتھا۔ حضور کا تعلق اپنی پہلی بیوی سے ان کے سلوک کی وجہ سے نہ ہونے کے برابر تھا اور آپ کو ئی بیس سال سے علیحدہ زندگی گزار رہے تھے۔ گھر کی رشتہ دار عورتوں کایہ حال تھا کہ وہ یہ بھی پسند نہ کرتیں کہ کوئی حضرت صاحب کو کھانے کی چیز ہی تحفہ کے طور پر بھیج دے اور نہ ہی خود کھانے پینے کا خیال رکھتیں۔ اِن حالات میں حضرت امّاں جان کا بیاہ کرآنا اور بُرا لگا، لیکن امّاں جان نے سب کچھ بُھلا کر سب سے اچھا سلوک کیا اور حضور سے اجازت لے کر آپ کی پہلی بیوی بچوں اور بھاوج وغیرہ سے ملنا شروع کردیا۔ آپ سب کا بہت خیال رکھتیں اور ضرورت کے وقت ان کے کام آتیں اور ہر طرح سے مدد فرماتیں۔
حضرت امّاں جان نے خود یہ واقعہ بتایا کہ ایک دفعہ حضرت مرزاسلطان احمد کی والدہ بیمار ہوئیں تو وہ انہیں پوچھنے گئیں۔ واپس آکر حضرت صاحب سے ذکر کیا کہ انہیں یہ تکلیف ہے۔ پہلے آپ خاموش رہے۔ پھر دوسری مرتبہ کہنے پر فرمایا ” مَیں تمہیں دو گولیاں دیتا ہوں۔ یہ دے آؤ مگر اپنی طرف سے دینا۔ میرا نام درمیان میں نہ آئے۔“ حضرت امّاں جان فرماتی تھیں کہ ”اَور بھی کئی دفعہ حضور نے اشاروں اشاروں میں مجھ سے کہا کہ مَیں ایسے طریق پر کہ حضرت صاحب کانام نہ آئے اپنی طرف سے مدد کردیا کروں۔ سومَیں کردیا کرتی تھی۔“
ہزاروں کہانیاں آپ نے سُنی ہوں گی جن میں سوکنوں کے آپس کے جھگڑے اورسوتیلی ماؤں کے خوفناک سلوک کا ذکر کیا جاتاہے، لیکن حضرت امّاں جان چونکہ عام عورتوں سے مختلف تھیں۔ ایک تو خود بھی نیک اور متقی تھیں اور بلند حوصلہ رکھتی تھیں دوسرے حضور کی صحبت اور تربیت کا اثر کہ آپ نے باوجود دشمنیوں کے حضرت صاحب کے رشتہ داروں اور اپنے سوتیلے بچوں اور سوکن سے ہمیشہ اچھاسلوک کیا۔
