In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » کتبِ سلسلہ » کتب خدام الاحمدیہ پاکستان » PDF ڈاؤن لوڈ کریں PDF ڈاؤن لوڈ کریں

سیرت حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا

تصنیف: صاحبزادی امۃ الشکور، شائع کردہ: مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان
+ فہرست مضامین

حضرت امّاں جان کا مقام خدا کی نظر میں

اپنے پاک ارادوں اور نیک کاموں کی برکت سے آپ نے اپنے خداکی خوشنودی حاصل کرلی تھی اور آپ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کو بہت سے الہام کیے۔ مثلاًایک الہام میں اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس کو اپنی اس مبشر بیوی کی صحت کے لیے خود دعا سکھائی:۔

رَبِّ اَصِحَّ زَوْجَتِیْ ھٰذِہٖ (یعنی اے میرے خدا! میری اس بیوی کو بیمار ہونے سے بچا اور بیماری سے تندرست کر۔ )

اس رشتے کو خدا نے ایک قابلِ شُکر انعام قرار دیا اور فرمایا: (ترجمہ) ”اس خدا کی تعریف ہے جس نے دامادی اور نسب ہردو کی رُو سے تم پر احسان کیا۔“

آپ کی عمر کے بارہ میں یہ الہامی دعا سکھائی گئی: (ترجمہ) ”اے میرے ربّ! میری عمر میں اور میرے ساتھی کی عمر میں غیرمعمولی زیادتی فرما۔“

اور یہ دعا غیرمعمولی طور پر پوری ہوئی۔ آپ نے بہت لمبی عمر پائی اورجیسا کہ ایک الہام میں یہ بتایا گیا تھا کہ ”تودُور تک کی نسل دیکھے گا۔“ آپ کی نسل کا یہ سلسلہ حضرت امّاں جان سے چلنا تھا اس لیے آپ بھی اس الہام کی دوسری مخاطب تھیں اور یہ الہام آپ نے بڑی شان سے پورا ہوتے دیکھا۔

حضرت امّاں جان کو خداکا ساتھ حاصل تھا۔ الہام ہے کہ

(ترجمہ) ”مَیں تیرے اور تیری بیوی کے ساتھ ہوں۔“

یعنی الہاماً بھی اللہ تعالیٰ کا ساتھ آپ کو حاصل تھا۔ آپ کی شادی کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضور کو مخاطب کرکے فرمایا:

(ترجمہ) ”میری اس نعمت کو یاد رکھ جومَیں نے تجھ پر کی ہے۔ مَیں نے تیرے لیے خود اپنے ہاتھ سے اپنی رحمت اور قدرت کا یہ درخت لگایا۔“

آپ کی اولاد

اللہ تعالیٰ نے آپ کو دس بچے عطاکیے۔ پانچ کم عمری میں فوت ہوگئے اور پانچ نے الہاموں کے مطابق لمبی عمر پائی جو بچے کم عمری میں فوت ہوئے ان کے نام یہ ہیں :۔

1۔ سب سے بڑی بیٹی صاحبزادی عصمت صاحبہ ۔ پیدائش:15 اپریل1886ء : وفات:جولائی1891ء

2۔ بشیر اوّل ۔ پیدائش:7 اگست 1887ء : وفات: 4 نومبر1888ء

3۔ صاحبزادی شوکت صاحبہ ۔ پیدائش: 1891ء : وفات: 1892ء

4۔ صاحبزادہ مرزا مبارک احمدصاحب ۔ پیدائش: 14 جون 1899ء : وفات: 16 ستمبر 1907ء

5۔ صاحبزادی امۃ النصیر صاحبہ ۔ 28 جنوری 1903ء میں پیدا ہوئیں اور3 دسمبر 1903ء کو فوت ہوگئیں۔

جن بچوں کو اللہ تعالیٰ نے لمبی زندگی دی اور آگے نسل چلائی اور ان کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:۔

”یہ پانچوں جو کہ نسلِ سیّدہ ہیں۔“

یہ سب مبشر اولاد ہیں۔ اِن سب کا مختصر تعارف یہ ہے:۔

1۔ حضرت صاحبزادہ مرزابشیرالدین محمود احمدصاحب

12 جنوری1889ء کو آپ کی پیدائش ہوئی۔ آپ جماعتِ احمدیہ کے دوسرے امام بنے۔ آپ کے متعلق ”فضل عمر“ اور ”مصلح موعود“ کے الہام ہوئے۔ ایک لمباعرصہ دین کی خدمت کرنے کے بعد 7 اور 8 نومبرکی درمیانی رات 1965ء میں وفات پاگئے۔

2۔ حضرت مرزا بشیراحمد صاحب (ایم۔ اے)

20 اپریل 1893ء کو پیدا ہوئے۔ لمبی عمر پانے کے بعد ستمبر 1963ء میں وفات پائی۔ آپ نے تمام عمر سلسلہ کی خدمت میں گزار دی۔

3۔ حضرت مرزا شریف احمد صاحب

آپ 24 مئی 1895ء کو پیدا ہوئے۔ آپ کے متعلق ایک الہام یہ تھا ”وہ بادشاہ آیا۔“ آپ نے بھی لمبی عمر پائی اور سلسلہ کی خدمت میں لگے رہے۔ آپ کی وفات دسمبر 1961ء میں ہوئی۔

4۔ حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ

آپ 2 مارچ 1897ء کو پیدا ہوئیں۔ آپ کے متعلق مشہور الہام یہ ہے ”نواب مبارکہ بیگم۔“ آپ بہت دُعا گو، عالم فاضل اور صابر وشاکر خاتون تھیں۔ خدمتِ دین میں لگی رہتیں۔ آپ کی وفات 23 مئی 1977ء کو ہوئی۔

5۔ حضرت صاحبزادی امۃ الحفیظ بیگم صاحبہ

25 جون 1904ء کو پیدا ہوئیں۔ آپ کے متعلق مشہور الہام ہے ”دختِ کرام۔“ آپ کی وفات 6 مئی 1987ء کوہوئی۔

آپ کے ان پانچوں بچوں کو خدا تعالیٰ نے لمبی عمر سے نوازا۔ ان سب کو اولاد بھی عطا کی اور امّاں جان نے اپنی دُور کی نسل بھی دیکھی یعنی اپنے پڑپوتے، پڑپوتیاں، پڑنواسے اور پڑنواسیاں دیکھیں۔ یہاں تک کہ جب آپ کی وفات ہوئی تو آپ کی زندہ نسل کی تعداد ایک سو گیارہ تھی اور 20 فوت ہوچکے تھے یعنی کل اولاد ایک سو اکتیس ہے۔ یہ ایک بہت ہی غیرمعمولی تعداد ہے جو کسی کو اپنی زندگی میں اپنی آنکھوں سے دیکھنی نصیب ہوئی۔

آپ کو خدا تعالیٰ نے بڑی عزتوں سے نوازا۔ آپ کے خاوند خدا کے مامور تھے۔ خدا تعالیٰ نے آپ کے بڑے بیٹے کو جماعتِ احمدیہ کی امامت عطا کی اور مصلح موعود کا خطاب دیا۔ 1944ء میں جب حضرت مرزابشیرالدین محمود احمد صاحب نے مصلح موعود ہونے کا دعویٰ کیا توحضرت امّاں جان نے اظہارتشکرکے طور پرتحریرکیا:

”میں اپنے خدا کا کس طرح شکریہ ادا کروں۔ کہ اس نے مجھ ناچیز کو اپنے پاک و بزرگ مسیح کی زوجیت کے لئے چُنا۔ اورمیرے سرکو اپنے انتہائی انعام کے تاج سے مزیّن فرمایا۔ اور پھر میں اپنے خداکا کس طرح شکریہ ادا کروں کہ اس نے میرے بیٹے محمود کو مصلح موعود کے مقام پر فائز کرکے میری عمر کے آخری حصہ میں مجھے ایک دوسرا تاج عطا کیا۔ پس مجھے میرے اوپر کی طرف سے بھی تاج ملا اور میرے نیچے کی طرف سے بھی۔ اور یہ میرے خداکا سراسرفضل و احسان ہے جس میں میری کسی خواہش اور کسی عمل اور کسی استحقاق کا ذرّہ بھربھی دخل نہیں اور یہ دوتاج میرا ہی حصہ نہیں ہیں بلکہ میری پیاری جماعت بھی ان میں میرے ساتھ برابر کی حصہ دار ہے مگر خدا کاہر خاص و عام انعام اپنے ساتھ خاص ذمہ داریوں کو بھی لاتا ہے اور میری یہ دعا ہے کہ خدا تعالیٰ مجھے بھی اور جماعت کو بھی ان اہم ذمہ داریوں کے پورا کرنے کی توفیق دے جو اس کی طرف سے ہم پر عائد کی گئی ہیں۔ اے ہمارے خدا تو ایسا ہی کر۔ آمین

والسلام

اُمِّ محمود

5 اپریل 1944ء“

(الفرقان مصلح موعود نمبر اپریل 1944ء صفحہ 3)

پھر ایک اَور انعام اللہ تعالیٰ نے آپ کی وفات کے بعد آپ کو عطا کیا کہ آپ کا وہ پوتا جس کے متعلق حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کو الہام ہوا:

”نَافِلَۃً لَّکَ“

اس کو آپ نے اپنا بیٹا بنا کر خود ہی پرورش کی اور اپنے ہاتھوں سے تربیت دی۔ اللہ تعالیٰ نے اسے بھی جماعتِ احمدیہ کا تیسرا امام بنادیا۔ یعنی حضرت مرزا ناصر احمد رحمہ اللہ۔ ان کی وفات کے بعد آپ کے ہی ایک اَور پوتے یعنی حضرت مرزا طاہر احمد رحمہ اللہ تعالیٰ کو جماعت کا چوتھا امام مقرر کیا۔ (اور اب اللہ تعالیٰ نے آپ کے پڑپوتے اور حضرت مرزاشریف احمدصاحب کے پوتے حضرت مرزامسروراحمدصاحب ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکو پانچواں امام مقرر فرمایا ہے۔)

صفحہ نمبر: 6 (کل صفحات: 15)