حصہ دوم
سیرت واَخلاق
آپ کو اللہ تعالیٰ نے کیوں اپنے مامور کے لیے چُنا؟ یہ بات آپ کی سیرت پر ایک نظر ڈال کر ہی پتہ چل جاتی ہے۔ آپ کی سیرت کی نمایاں بات آپ کی عبادت ہے۔ آپ پا نچوں وقت کی نمازیں باقاعدگی اور بڑی توجہ اور اہتمام سے پڑھتی تھںت۔ صرف فرض نمازیں ہی نہیں بلکہ نمازِ تہجد اور نمازِ ضحٰی کی بھی پابندتھیں۔ نفلوں کے علاوہ بھی جب موقع ملتا آپ دل کا سکون نماز ہی میں حاصل کرتی تھیں۔ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب فرمایا کرتے کہ یہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پیارا قول ہے کہ:۔
”میری آنکھ کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔“
یہ حضرت امّاں جان کو بھی ورثہ میں ملا تھا۔ نمازوں کے علاوہ بھی یہ حال تھا کہ ہر وقت اُٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے بلند آواز میں دُعائیں کیا کرتیں۔ بعض دفعہ بیٹھے بیٹھے ایک دَم زور سے کہتیں، یا اللہ! اور دُعا شروع کردیتیں اور اس قدر تڑپ ہوتی تھی کہ پاس بیٹھنے والا بھی بے اختیار آپ کی دُعا میں شامل ہوجاتا۔ حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ فرمایا کرتیں کہ اِس طرح بے قرار ہوکر دعا آپ کے ہونٹوں سے نکلتی جیسے دَم گھٹ کر رُکا ہوا سانس دوبارہ چلتا ہے۔ کبھی کبھی مصرع یا شعر کی صورت میں دُعا کیا کرتیں۔ ایک بار لاہور میں ایک غیرآبادمسجد کو دیکھ کر آہ بھر کے فرمایا:
”الہٰی! مسجدیں آباد ہوں گِرجائیں گِرجائیں ٭۔“
(٭گرجائیں، گرجا کی جمع ہے جو کہ عیسائیوں کی عبادت گا ہ کو کہتے ہیں)
آپ کی دعا میں پوری جماعت شامل ہوتی۔ سب کے لیے دعا کرتیں۔ اکثر کے نام لے کر بڑی بے قراری سے دُعا کرتیں۔ ایک بار لیٹے لیٹے اس طرح یا اللہ کہا کہ مَیں گھبرا گئی، مگر اس کے بعد یہ جملہ کہا ”میرے نیّر٭کو بیٹا دے۔“ اور خدا نے آپ کے نیّر کو دو بیٹے عطا کیے۔ آپ صحیح معنوں میں پوری جماعت کی ماں تھیں۔
(٭حضرت مولانا عبد الرحیم صاحب نیّر جو افریقہ کے پہلے مربی تھے۔)
آپ نہ صرف خود نمازوں کی پابندی کرتیں بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی اس کی تاکید کرتی رہتیں۔ کوئی خاص بات ہوتی، چاہے وہ اپنے لیے ہو یا کسی اور کے لیے، تو سب سے دعا کرواتیں، خاص طور پر بچوں سے ضرور دعا کرواتیں اور فرمایا کرتی تھیں کہ ”بچے معصوم ہوتے ہیں اس لیے خدا بچوں کی دعا بہت سُنتا ہے۔“
ایک واقعہ خان بہادر چوہدری ابو الہاشم خان صاحب کی بیوی نے سنایا کہ ایک دفعہ وہ اپنی پہلی بیٹی کی پیدائش کے بعد حضرت امّاں جان کے پاس دعا کے لیے کہنے گئیں۔ نماز کا وقت ہوگیااور جب امّاں جان نماز پڑھ کر دوبارہ واپس آئیں تو ان سے پوچھا لڑکیو! کیا تم نے نماز پڑھ لی؟ انہوں نے جواب دیا۔ ”بچے نے پیشاب وغیرہ کیا ہوا ہے گھر جا کر پڑھیں گے۔“ اس پر فرمایا ”بچوں کے بہانے سے نماز ضائع نہ کیا کرو اس طرح بچے خدا تعالیٰ کی ناراضگی کی وجہ بنتے ہیں۔ بچہ تو خدا کا انعام ہے۔“
آپ اکثر فرماتیں کہ دعا ضائع نہیں جاتی۔ اگر ایک رنگ میں قبول نہ ہو تو دوسرے رنگ میں قبول ہوجاتی ہے یا عبادت میں شمار ہوتی ہے۔
قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر میں ایک چھوٹا سا کمرہ ہے جسے ”بیت الدعا“ کہتے ہیں۔ یہ حضور اور امّاں جان کے کمرے کے ساتھ بنا ہوا ہے اور ان کے کمرے سے ہی اس کمرے کو راستہ جاتا ہے۔ امّاں جان نے اس کے دروازے سے لے کر داخلے کے دروازے تک ایک رسّی باندھ کر اس پر پَردے لٹکائے ہوئے تھے اور ان پَردوں کے پیچھے اپنا پلنگ لگایا ہوا تھا تاکہ بیت الدعا میں آنے جانے والے لوگ آرام سے جاسںیٹ اور بے پردگی یا تکلیف نہ ہو۔ جماعت میں سے جو کوئی بھی بیت الدعا جانا چاہتا آپ بڑی خوشی سے اس کی اجازت دے دیتیں۔ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام اس کمرہ میں نفل پڑھتے اور دعائیں کیا کرتے۔ اس لیے اس کا نام ”بیت الدعا“ رکھا گیا۔ ایک بار ایک خاتون آئیں اور بیت الدعا میں نماز پڑھنے کی اجازت چاہی۔ آپ نے ہنس کر فرمایا ”ہم نے کوئی ٹیکس نہیں لگایا ہوا۔“
پھر جب وہ خاتون کمرے میں داخل ہونے لگیں تو فرمایا ”ہاں ایک ٹیکس ہے کہ میرے لیے دعا کرنا۔“
ایک بار مہاشہ محمد عمر صاحب (مربی) مولوی فاضل کا امتحان دینے سے پہلے بیت الدعا میں دعا کرنے کی غرض سے آئے۔ حضرت امّاں جان سے اجازت مانگی۔ آپ نے کہا آٹھ اور نو کے درمیان آجانا۔ وہ کہتے ہیں مَیں وقت پر حاضر ہوگیا۔ دروازہ کھٹکھٹایا۔ ایک ملازمہ نکلی۔ پوچھنے پر بتایا کہ حضرت امّاں جان کی اجازت سے بیت الدعا میں دعا کرنے حاضر ہوا ہوں۔ خادمہ نے کہا ”بعض خواتین کو امّاں جان نے وہاں کھانے پر بلایا ہوا ہے آپ کل صبح آجائیں۔“ مَیں نے کہا۔ آپ امّاں جان سے عرض کردیں کہ مَیں آج ہی امتحان دینے جارہا ہوں۔ اس پر وہ خادمہ اندر چلی گئی اور واپس نہ آئی۔ آخر پھر دروازہ کھٹکھٹایا تو مائی کاکو صاحبہ باہر آئیں۔ مَیں نے ساری بات ان سے عرض کی۔ میری بات سن کر وہ اندر چلی گئیں اور تھوڑی ہی دیر میں آکر بتایا کہ حضرت امّاں جان نے فرمایا ہے ”ہم نے دعوت کا وقت ساڑھے نو بجے کر دیا ہے آپ اَب دُعا کے لیے اندر جا سکتے ہیں۔“
اس طرح آپ ہر ایک کی خواہش کو پورا کرتی تھیں۔ آپ اکثر یہ دعائیں بلند آواز میں پڑھا کرتی تھیں :۔
سُبْحٰنَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحٰنَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ۔ یَاحَیُّ یَاقَیُّوْمُ بِرَحْمَتِکَ اَسْتَغِیْثُ یَارَبِّیْ وَرَبَّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔
جب قادیان سے ہجرت کرکے آئے تو آپ یہ دعا بھی بہت پڑھتی تھیں :۔
یَاحَفِیْظُ یَاعَزِیْزُ یَارَفِیْقُ۔ رَبِّ کُلُّ شَیْئٍ خَادِمُکَ رَبِّ فَاحْفَظْنَا وَانْصُرْنَا وَارْحَمْنَا۔
ہم بچوں کو بھی یہ دعا سکھا دی تھی اور فرمایا کرتی تھیں کہ یہ دعا بہت پڑھاکرو۔ یہ اس زمانہ کا اسم اعظم ہے یعنی سب سے بڑی دعا ہے۔ جب بھی آپ سفر پر جاتیں تو یہ دعا ضرور کرتیں :۔
بِسْمِ اللّٰہِ مَجْرٖھَا وَمُرْسٰھَا۔
خدا تعالیٰ اور اس کی کتاب اور اس کے رسول حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کو بہت محبت تھی۔ قرآن کریم کی تلاوت آپ روزانہ کیا کرتیں۔ بلکہ اکثر لوگوں کا کہنا ہے کہ آپ کوکوئی بھی تکلیف ہوتی یا حضور کی یاد آتی تو آپ قرآن شریف پڑھنا شروع کردیتیں۔ اپنے دِل کا سکون قرآن شریف میں ڈھونڈتی اور حاصل کرتی تھیں۔ جب بھی کوئی مشکل وقت ہوتا سورئہ یٰس کی تلاوت شروع کردیتیں اور فرمایا کرتی تھیں کہ نہ جانے لوگوں نے کیوں اتنی پیاری سورۃ کو صرف وفات کے وقت کے لیے مقرر کردیاہے حالانکہ حضور فرمایا کرتے تھے تکلیف میں سورئہ یٰس پڑھی جائے تو تکلیف دور ہوجاتی ہے۔
حدیثیں سُننے کا بے حد شوق تھا روزانہ خاندان کے کسی نہ کسی بچے کو بلا کر حدیث سُنا کرتیں۔ کبھی ان یتیم بچیوں میں سے جن کو آپ نے خود پالا تھا کسی ایک کو پاس بٹھا کر اس سے حدیث پڑھوا کر سنا کرتیں۔ وفات کے قریب بیماری میں یہ شوق اس قدر بڑھ گیا تھا کہ سنانے والا تھک جاتا لیکن آپ کی پیاس نہ بجھتی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت پر پوری طرح عمل کرنے کی کوشش کرتیں۔ ایک مرتبہ ایک آدمی نے باغ کا پھل جبکہ ابھی آموں کو بور ہی لگا تھا، چھ سو روپے میں خریدنے کے لیے منشی صاحب کی معرفت کہلا بھیجا۔ حضرت امّاں جان نے جواب میں انکار کردیا کہ یہ تو ناجائز ہے۔ جب باغ کو پَھل لگ گیا تو وہ بہت کم قیمت میں بکا۔ اس آدمی نے مُنشی صاحب سے کہا کہ چھ سو روپے لے لیتے تو اچھا تھا۔ اب دیکھو کتنے کم روپے ملے ہیں۔ اس پر منشی صاحب نے جواب دیا:۔
”امّاں جان اس کو ناجائز سمجھتی ہیں ایسے روپے کیسے لے لیتا۔“
قیدیوں کو کھانا کھلانا بھی سنّت ہے۔ اس لیے ایک دفعہ جب حضرت امّاں جان بٹالہ تشریف لے گئیں تو آپ نے ڈاکٹرحشمت اللہ خان صاحب سے کہا کہ پتہ کریں کہ یہاں جیل کے قیدیوں کو ہماری طرف سے عمدہ کھانا کھلانے کی اجازت مل سکتی ہے؟ انہوں نے اپنے کسی واقف کے ذریعہ اجازت حاصل کی اور حضرت امّاں جان نے پچّاس روپے انہیں کھانا تیارکرنے کے لیے دیے اور اس طرح قیدیوں کو عمدہ کھانا کھلایا گیا (یہ شاید وہ قیدی تھے جو قرض کی وجہ سے قید میں تھے۔)
