قدرتِ ثانیہ سے گہرا تعلق
قدرتِ ثانیہ پر آپ کا دل سے ایمان تھا۔ امامِ وقت کی اطاعت کرنا اور ان کا ہر حکم ماننا اپنا فرض سمجھتی تھیں۔ قدرتِ ثانیہ کے مظہرِاوّل حضرت مولانا نورالدین صاحب نے اس بات کی گواہی دی اور فرمایا ”جو اطاعت میری میاں محمود اور حضرت امّاں جان نے کی ہے کسی نے بھی نہیں کی۔“
ایک بار کسی کو بتایا کہ ” حضرت بیوی صاحبہ (یعنی حضرت امّاں جان) نے جو کہ میرے ایسے حالات سے واقف ہیں ایک بار کچھ نقد روپیہ مجھے دیا اور کہا یہ آپ کے کھانے کے لیے ہے۔ ساتھ ہی کچھ رقم لنگرخانہ کے لیے دی اور کہا: لیکن دوسرے حصّے میں سے نہ دیں۔“
اس واقعہ سے پتہ چلتاہے کہ آپ کو امامِ وقت کے ساتھ کتنی عقیدت تھی۔ امام جماعت احمدیہ حضرت مولانانورالدین صاحب آپ کو جو کوئی کام کہتے آپ وہ خود کر دیتیں۔ ایک دفعہ کا واقعہ ہے حضور کے پاس کچھ لڑکے پڑھنے کے لیے آئے ہوئے تھے۔ ان میں ایک دیہاتی بھی تھا۔ ایک دن وہ کھانے پر روپڑا۔ پوچھنے پر پتہ چلا کہ اسے لسّی کی عادت ہے جو اسے ملتی نہیں۔ حضور نے حضرت امّاں جان کو کہلوایاکہ یہ قصّہ ہواہے۔ آپ اپنے گھر سے لَسّی بھیج دیا کریں۔ چنانچہ آپ روزانہ اس طالب علم کو لَسّی بھجوادیاکرتیں۔
ایک بار کچھ لحاف قابلِ مرمت تھے۔ حضور نے صوفی غلام محمد صاحب امرتسری سے فرمایا۔ یہ حضرت امّاں جان کو بھجوا دیں۔ یہ سن کر انہیں بہت رنج ہوا کہ حضرت امّاں جان سے ایسے کام کروائے جارہے ہیں۔ ان کی جو بُری سی شکل بنی دیکھی تو حضرت صاحب سمجھ گئے اور فرمایا ”انہوں نے مجھے کہا ہوا ہے کہ مَیں ان کو کام بتا دیا کروں۔“
حضرت امّاں جان نے اپنے ہاتھ سے لحاف مرمت کرکے بھجوا دیے۔ ایک بار حضور نے آپ سے فرمایا کہ آپ اپنی غیر احمدی رشتہ دار عورتوں سے تعلق پیدا کریں اور مشورہ دیا کہ پہلے آپ ان کے گھر تشریف لے جائیں پھر انہیں بلائیں۔ حضرت امّاں جان نے اپنے امام کا حکم مانا۔ ان عورتوں سے ملنا شروع کیا اور اس طرح خداکے فضل سے بہت سی رشتہ دار خواتین احمدی ہوگئیں۔
حضرت امّاں جان کا یہ طریق تھا کہ جب بھی آپ نے کسی دوسرے شہر جانا ہوتا تو حضور سے اجازت لے کر جاتیں اور ایسا ہی حضرت مصلح موعودکے وقت بھی ہوتا رہا۔ حضرت مصلح موعودگو آپ کے بیٹے تھے لیکن ان کے امام جماعتِ احمدیہ بننے کے بعد حضرت امّاں جان نے ان کی اسی طرح عزت اور فرمانبرداری کی جیسا کہ امامِ وقت کی ہونی چاہیے۔
آپ کی مالی قربانیاں
سلسلہ احمدیہ کے لیے آپ نے بہت بڑی بڑی مالی قربانیاں دیں۔ جب حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے منارۃ المسیح بنانے کی تحریک کی اور آپ نے ایک سو ایک خدام سے فرمایا کہ آپ احباب سو سوروپیہ دیں، لیکن حضرت امّاں جان نے ایک ہزار روپے کا وعدہ لکھوایا اور اپنا دہلی کا ایک مکان بیچ کر یہ رقم ادا کردی۔
جب حضرت مصلح موعود مرزابشیرالدین محمود احمد صاحب نے تحریک جدید جاری فرمائی اور چندہ کا اعلان کیا تو حضرت امّاں جان نے اس میں بھی بڑھ چڑھ کر حصّہ لیا اور دفتر اوّل میں وفات تک 3142 روپے کا چندہ ادا کیا۔ اس کے علاوہ جو بھی چندہ کی تحریک ہوتی آپ اس میں ضرور حصّہ لیتیں اور اچھی خاصی رقم ادا کرتیں۔ مثلاً سلسلہ کی بیوت الذکر، مشن، لنگر خانہ، دفتر لجنہ اماء اللہ، بیوت الذکر لندن و برلن وغیرہ وغیرہ۔ لنگرخانے کے لیے دیگوں کا مہیا کرنا۔ اخبار الفضل کے لیے امداد۔ غرض کہ کوئی بھی مالی تحریک حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے زمانہ میں یا آپ کے بعد ایسی نہیں ہوئی جس میں آپ نے بڑھ چڑھ کر حصّہ نہ لیاہو۔
تربیت اولاد
تربیت اولاد کے متعلق آپ کا نمونہ مثالی تھا۔ اس بارہ میں حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ اپنے تجربات اس طرح بتاتی ہیں۔
تربیت کے اصولوں کے متعلق مَیں نے بہت سے لوگوں کو غور سے دیکھا، لیکن حضرت امّاں جان سے بہتر کسی کو بھی نہ پایا۔ آپ نے سکول کالج میں تعلیم نہ پائی تھی، گھر میں ہی معمولی اردو لکھنا پڑھنا سیکھا تھا، لیکن اخلاق اور تربیت کے متعلق جو آپ کے اصول ہیں ان کو دیکھ کر یہی کہا جاسکتا ہے کہ یہ محض خدا کا فضل اور حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی تربیت کا نتیجہ تھا اور اس کے سوا کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ سب کچھ کہاں سے سیکھا اور کس سے سیکھا۔ بچوں کی تربیت کا پہلا اصول یہ تھا کہ بچے پر مکمل اعتماد ظاہرکرکے ماں باپ کے اعتبار کا بھرم رکھنا، جھوٹ سے نفرت، غیرت دکھانا اور روپے پیسے اور دنیاوی چیزوں کی پرواہ نہ کرنا آپ کا پہلا سبق ہوتا تھا۔ ہم لوگوں سے بھی یہی فرماتی رہیں کہ بچے میں یہ عادت ڈالو کہ وہ کہنا مان لے۔ پھر بے شک بچپن کی شرارت بھی آئے تو کوئی حرج نہیں جس وقت بھی روکا جائے گا رُک جائے گا۔ اگر ایک بار تم نے کہنا ماننے کی عادت ڈال دی تو پھر ہمیشہ اصلاح کی امید رہے گی۔ ہمیں بھی یہی سکھا رکھا تھا۔ ہم لوگ یہ سوچ بھی نہ سکتے تھے کہ ماں باپ کی غیرموجودگی میں، ان کی مرضی کے خلاف کوئی کام کریں۔ حضرت امّاں جان ہمیشہ یہ فرمایا کرتیں کہ میرے بچے جھوٹ نہیں بولتے۔ یہی اعتبار ہمیں ہمیشہ جھوٹ سے بچاتا تھا بلکہ اس سے اور نفرت آتی تھی۔ مجھے آپ کا سختی کرنا کبھی یاد نہیں۔
آپ یہ بھی فرمایا کرتیں کہ پہلے بچے کی تربیت پر پورا زور لگاؤ دوسرے بچے اس کا نمونہ دیکھ کر خود ہی ٹھیک چلیں گے۔
حضرت مرزا ناصر احمد صاحب رحمہ اللہ جن کی تربیت امّاں جان کی گود میں ہوئی فرماتے کہ حضرت امّاں جان کایہ اصول تھا کہ بچوں کو مغرب کے بعد گھر سے باہر نہ رہنے دیتیں۔ اس اصول کی سختی سے پابندی فرماتیں۔ یہ حکم تھا کہ مغرب کی نماز پڑھ کر سیدھے گھر آؤ پھر باہر نہیں جانا سوائے عشاء کی نماز کے لیے۔ اور بڑے ہونے تک یہی پابندی رہتی۔ اور حضرت امّاں جان کی تربیت کا انداز بالکل الگ تھا۔ آپ ڈانٹ ڈپٹ کر بالکل کوئی بات نہ کہتیں۔ ایک بارحضرت امّاں جان نے کچھ بچوں کو کھانے پر بُلایا (یہ آپ کادستور تھا) اس زمانہ میں زمین پر ہی دسترخوان بچھا دیا جاتا اور سب بیٹھ کر کھانا کھاتے۔ مجھے بھی کہا کہ آؤ سب کے ساتھ کھانا کھاؤ۔ میری عمر اس وقت بہت چھوٹی تھی اور جیسا کہ بچے ضِدّ کرتے ہیں مَیں نے بھی بچپن کی ناسمجھی کی وجہ سے انکار کردیا۔ حضرت امّاں جان نے ڈانٹنے کے بجائے فرمایا ”اچھا نہ کھاؤ، لیکن یاد رکھنا کہ پھر بعد میں کھانا نہیں ملے گا۔“ آخر کچھ دیر جھجھکنے کے بعد مَیں بھی ان بچوں کے ساتھ شامل ہوگیا۔
حضرت امّاں جان تربیت کرنے کے لیے اس بات کابھی خیال رکھتیں کہ گھر کے بچے اور دوسری یتیم لڑکیاں جو آپ کے گھر پل رہی تھیں اچھی عادتوں والے بچوں کے ساتھ ہی کھیلیں تاکہ ان میں کسی دوسرے گندے بچے کی بری عادت نہ پڑے اور بچے بری صحبت سے دور رہیں۔
آپ جب بھی کسی بچے کی کوئی بری بات دیکھتیں تو اس طرح نصیحت فرماتیں کہ اس کی اصلاح بھی ہوجائے اور خواہ مخواہ دوسروں کے سامنے شرمندگی بھی نہ اُٹھانی پڑے۔
حضرت امّاں جان کے دل میں استاد کی بہت عزت تھی اور آپ کی یہی کوشش ہوتی کہ بچوں کے دل میں بھی استاد کا احترام ڈالا جائے اور بچے اپنے استاد کی عزت کریں۔ شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحب کے استاد تھے۔ ایک دن ان کی بیوی حضرت امّاں جان کے پاس بیٹھی ہوئی تھیں۔ میاں صاحب جو اس وقت ابھی بہت چھوٹے تھے ایک ربڑ کا سانپ لیے ہوئے آگئے اور ایک دم سے اسے ان کے سامنے چھوڑ دیا۔ اس طرح اچانک ایک سانپ دیکھ کر وہ خوف سے کانپنے لگیں۔ حضرت امّاں جان نے ان کی حالت دیکھ کر انہیں تسلّی دی کہ ”بہو!یہ تو ربڑ کا سانپ ہے تم ایسے ہی ڈر رہی ہو۔“ اور ساتھ ہی اپنے بیٹے سے فرمایا ”میاں محمود! یہ تمہارے استاد کی بیوی ہیں۔ یہ تم نے کیا کِیا؟“
وہ شرمندہ ہوگئے اور معافی مانگ کر بولے ”امّاں جان مجھ سے بھول ہوگئی۔“
