In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » کتبِ سلسلہ » کتب خدام الاحمدیہ پاکستان » PDF ڈاؤن لوڈ کریں PDF ڈاؤن لوڈ کریں

سیرت حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا

تصنیف: صاحبزادی امۃ الشکور، شائع کردہ: مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان
+ فہرست مضامین

بچوں سے پیار

اگر تربیت کے معاملے میں آپ کی کڑی نظر تھی تو دوسری طرف بچوں سے پیار بھی بہت تھا۔ ان کی چھوٹی چھوٹی بات کا بھی بہت احساس کرتیں۔ اپنے بچوں کے علاوہ جماعت کے بھی سارے بچوں سے آپ کو بہت محبت تھی۔ سب کو اپنی اولاد کی طرح سمجھتیں۔ انہیں کھلا پلا کر بہت خوش ہوتیں۔ ان سے خوشی کی باتیں کرتیں۔ لطیفے سُناتیں، پہیلیاں بوجھواتیں، کہانیاں سنواتیں، خود بھی بڑے شوق سے سنتیں۔ ایک دن عرفانی صاحب کی بیوی جن کا ذکر پہلے آچکا ہے امّاں جان کے پاس آئیں اُس وقت حضرت مصلح موعود اپنی چھوٹی عمر میں حضرت امّاں جان کے پاس بیٹھے تھے اورحضرت امّاں جان کی ملازمہ سردار سے کہانیاں سُن رہے تھے۔ عرفانی صاحب کی بیوی کو دیکھ کر سردار نے کہا ”میاں اَب اِن سے سنو۔“ خیر انہوں نے بھی ایک کہانی سنائی جو میاں محمود کو بہت پسند آئی۔ اگلے روز جب وہ حضرت امّاں جان کے پاس گئیں تو میاں محمود انہیں دیکھ کر آگئے اورحضرت امّاں جان کی گود میں بیٹھ کر بولے ”امّاں جان محمود کی امّاں آگئیں تم ان کو کہو کہانی سنائیں “ اور باربار زور دینے لگے۔ آخرحضرت امّاں جان بولیں۔ ”بہو تمہیں خیال نہیں آتا میرا بچہ کہانی سننے کو کہہ رہا ہے۔“ وہ بولیں ”امّاں جان! دِن کو کہانی اچھی لگے گی۔“ آپ نے فرمایا! ”نہیں۔ بس ہم دن کو ہی سنیں گے۔ ” جب وہ کہانی سنا رہی تھی تو حضرت مسیح موعودعلیہ السلام بھی تشریف لے آئے اور پوچھا ”یہ کیا کہہ رہی ہیں۔“ حضرت امّاں جان نے بتایا کہ کہانی سنا رہی ہیں۔ آپ نے فرمایا۔ ”ہاں ہاں سناؤ، بچوں کو کہانیاں سنانے سے عقل بڑھتی ہے۔“

حضرت امّاں جان بچوں کے ہلکے پھلکے مذاق کا برا نہ مناتی تھیں، نہ ہی چھوٹی چھوٹی باتوں پر غصّہ کرتی تھیں۔ ایک دفعہ حضرت امّاں جان کے پاس چار بچیاں آئیں۔ آپ اٹھیں اوران کے لیے چلغوزے لے کر آئیں۔ ان میں جو سب سے چھوٹی بچی تھی وہ شریر تھی۔ وہ اپنی بڑی بہن سے بولی۔ دیکھو طاہرہ! چلغوزے مت کھانا ورنہ امّاں جان تمہں ندیدہ سمجھیں گی۔ حضرت امّاں جان اس کی یہ بات سن کر خوب ہنسیں اور بولیں مَیں بالکل تمہیں ندیدہ نہیں سمجھوں گی خوب بے تکلّف ہو کر کھاؤ۔

عزیزرشتہ داروں اوراولاد سے محبت

آپ کو اپنے تمام رشتہ داروں سے بہت محبت تھی۔ خاص طور پر اپنے بھائیوں اور اولاد کو بہت چاہتی تھیں۔ اپنی بہوؤں سے بیٹیوں کی طرح پیار کرتیں اور ان کاخیال رکھتیں۔ سب کی ضرورتوں کا خیال رکھتیں۔ رشتہ داروں کی دعوت کرنا، پھر سب کو پسند کا کھانا پکا کر کھلانا تو آپ کی خاص عادت تھی۔ ہر عید پر سب آپ کے مہمان ہوتے۔ آخر عمر تک سب کی دعوت کرتی رہیں۔ بلکہ بالکل آخر میں جب طبیعت کافی کمزور ہوگئی تو حضرت مرزا بشیراحمد صاحب کو بلا کر فرمایا: ”میاں ! میری طبیعت کافی کمزور ہے۔ میرا دل کرتا ہے کہ کوئی رقم مجھ سے لے کر خاندان کی دعوت کا انتظام کردے۔ اَب خود میرے سے ہوتا نہیں۔“ چنانچہ حضرت مرزا بشیراحمد صاحب نے خود سارا انتظام کروا دیا۔

حضرت ڈاکٹرمیرمحمداسمٰعیل صاحب بتاتے تھے کہ حضرت امّاں جان کو اپنے بھائیوں کی تکلیف کا بہت احساس ہوتاتھا۔ جب مجھے حضرت مسیح موعودعلیہ السلام اور دوسرے احباب نے میری خواہش کے مطابق ڈاکٹری پڑھنے کا ہی مشورہ دیا تو مالی پریشانی کی وجہ سے مَیں مشکل میں پڑگیا اور مَیں مایوس ہوگیا کہ اَب میرا داخلہ نہیں ہوسکتا۔ جب حضرت امّاں جان کو پتہ چلا تو فوراً بولیں ”تم شوق سے پڑھنے جاؤ۔ مَیں اپنے ذاتی خرچ میں سے تمہیں رقم دوں گی۔ کسی کو پتہ نہ چلے گا۔“

یہ بات آپ نے اس لیے کی کہ میر صاحب کی غیرت کو چوٹ نہ لگے اور اس طرح خدا کے فضل سے میرصاحب اپنے وقت کے بہت بڑے اور اچھے سرجن بن گئے۔

بہوؤں کے ساتھ سلوک کے متعلق آپ کی بڑی بہو حضرت اُمّ ناصر صاحبہ نے بتایا کہ جب میری شادی ہوئی مَیں گیارہ سال کی تھی۔ پہلے دن حضرت امّاں جان نے مجھے اپنے ساتھ سلایا کہ ”بچی ہے اُداس ہوجائے گی۔“ اور بعد میں بھی مجھے اتنا پیار دیا اور میرا خیال رکھا۔ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ آپ کی محبت بڑھتی ہی گئی یہاں تک کہ مَیں اپنا میکہ بھول گئی۔ جیسے ایک ماں کی گود سے نکل کر دوسری ماں کی پیار بھری گود میں خدا نے مجھے بھیج دیا۔

اولاد سے آپ کی محبت کا حال، حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ اس طرح بیان کرتی ہیں کہ:

”آپ بہترین ماں تھیں۔ آپ کا سینہ مامتا کے جذبات اور پیار سے بھرا ہوا تھا۔ آخر عمر تک بچوں کی چھوٹی چھوٹی بات کا خیال رکھتی رہیں۔ حضرت مصلح موعود کو بچپن میں میٹھے تاروں کے گولے جنہیں پنجاب میں ”مائی بڈھی دا جھاٹا“ کہتے ہیں بہت پسند تھے۔ وہ جب بھی کسی بچے کو کھاتے دیکھتیں پیسے دے کر فوراً منگوا لیتیں اور فرماتیں جاؤ میاں محمود کو دے آؤ، انہیں بہت پسند ہے۔ اس طرح ہروقت ان کے کھانے پینے کا خیال رہتا۔ اسی طرح کوئی چیز اگر حضرت مرزا بشیراحمد صاحب کہ پسند کی پکی ہے تو کہتیں یہ میری ”بشریٰ“ کو پسند ہے کوئی جاکر اسے دے آؤ۔ اپنی آخری بیماری کے دنوں میں جب اکثر غنودگی کی حالت رہتی اس وقت بھی بچوں کا خیال رہتا۔ ایک دن حضرت مرزا بشیراحمد صاحب کو مرزا شریف احمدصاحب سمجھیں جو اس وقت بیماری کی وجہ سے لاہور تھے۔ مجھے آہستہ سے کہنے لگیں شریف کو چائے پلوا دو کہیں سر میں درد نہ ہوجائے۔

حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ اپنے میاں کی وفات کے بعد مَیں نے امّاں جان سے اتنی محبت پائی کہ مجھے اپنا غم بھول گیا۔ ایسے معلوم ہوتا تھا کہ جیسے مَیں دوبارہ ماں کی گود میں واپس آگئی ہوں۔ جب نئی نئی تقسیم ملک ہوئی اور قادیان سے لاہور آئے تو کسی کی بھی مالی حالت اچھی نہ تھی۔ ایک بار مَیں بازار گئی۔ ایک کپڑا بے حد پسند آیا، لیکن لے نہ سکی۔ واپس آکر باتوں باتوں میں امّاں جان سے ذکر ہوا تو بولیں ”کس دکان پر دیکھا تھا؟ کیا رنگ تھا؟ “ کہنے کو عام سی باتیں ہو رہی تھیں، لیکن اگلے دن کیا دیکھتی ہوں کہ وہی قمیض کا ٹکڑا امّاں جان لے کر آرہی ہیں کہ ”لو پکڑو اور سلوا کر پہنو۔ کل سے مجھے نیند نہیں آئی کہ میری بچی دل مار کر خالی ہاتھ واپس آگئی۔“ غرض حضرت امّاں جان کو اپنی اولاد کی چھوٹی سے چھوٹی خواہش کا خیال رہتا اور اولاد کی تکلیف اپنی تکلیف سمجھتیں۔

صفحہ نمبر: 9 (کل صفحات: 15)