In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » کتبِ سلسلہ » کتب خدام الاحمدیہ پاکستان » PDF ڈاؤن لوڈ کریں PDF ڈاؤن لوڈ کریں

سوانح حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل

تصنیف رضیہ درد، شائع کردہ مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان
+ فہرست مضامین

توکل علی اللہ

آپ کی زندگی کی سب سے پہلی اور نمایاں بات اللہ پر توکّل ہے۔ جو آپ کی زندگی میں بڑی شان سے نظر آتی ہے۔ آپ کا خدا سے ایسا ذاتی تعلق تھا کہ آپ کی ہرضرورت پوری کرنے کا خدا انتظام کردیتا۔ اوراس بارہ میں آپ کی زندگی میں اتنے واقعات آئے جن کا شمار ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ میری آمدنی کا راز خدانے کسی کو بتانے کی اجازت نہیں دی۔

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ آپ کو کوئی ضرورت پڑی تو آپ نے دعامانگی۔ مصلّٰی اٹھایا تو ایک پونڈپڑا ہؤا تھا۔ اسی طرح ایک کشمیری دوست نے چارسو روپیہ بطور امانت دئیے۔ چند دن بعد اس کا تار آگیا کہ مجھے روپے کی ضرورت ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل اس وقت اپنے ہسپتال میں بیٹھے ہوئے تھے کہ کچھ وقت کے بعد شاہ پور کے دو ہندو رئیس آئے اور ایک تھیلی میں پھل اور چارسو روپیہ نذرانہ پیش کیا۔

عشقِ قرآن

دوسری بات آپ کی سیرت میں عشقِ قرآن تھی۔ آپ فرماتے ہیں۔ مجھے قرآن سے بڑھ کر کوئی چیز پیاری نہیں لگتی۔ ہزاروں کتابیں پڑھی ہیں ان سب میں مجھے خدا ہی کی کتاب پسند آئی۔ میرا تو اعتقاد ہے کہ اس کتاب کا ایک رکوع انسان کو بادشاہ سے بڑھ کر خوش قسمت بنا دیتا ہے۔ اسی طرح فرمایا مَیں نے قرآنِ کریم بہت پڑھا ہے۔ اب تو یہ میری غذا ہے اگر آٹھ پہر مَیں خود نہ پڑھوں اور نہ پڑھاؤں اور میرا بیٹا سامنے آکر نہ پڑھے تو مجھے سکون نہیں ملتا۔ سونے سے پہلے وہ آدھ پارہ مجھے سنا دیتا ہے۔ غرض مَیں قرآن کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ وہ میری غذا ہے۔

ایک دفعہ قرآن شریف کے درس کے لئے بیت اقصیٰ کی طرف تشریف لے جارہے تھے۔ آپ کو راستے میں اطلاع ملی کہ صوفی غلام محمد صاحب بی۔ اے نے قرآن مجید حفظ کرلیاہے۔ آپ وہیں ایک دکان کی چٹائی پر سجدہ شکر میں گِر گئے۔ آپ تیز بخار میں بھی درسِ قرآن کا ناغہ نہ ہونے دیتے تھے۔ ایک دفعہ بیت اقصیٰ میں درس دیتے ہوئے اچانک شدید ضعف ہوگیا۔ بیٹھ گئے۔ پھر لیٹ گئے۔ ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہوگئے۔ چلنے کی طاقت نہ رہی۔ چارپائی پر اُٹھا کر لائے گئے۔ مگر راستے میں جب بیت مبارک کے پاس پہنچے تو فرمایا۔ مجھے گھر نہ لے جاؤ۔ بیت مبارک میں لے جاؤ۔ باوجود اس تکلیف کے نماز مغرب کے بعد ایک رکوع کا درس دیا۔ پھر لوگ چارپائی پر اُٹھاکر گھر تک لائے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بے حد محبت

آپ کی زندگی کا تیسرا پہلو یہ ہے کہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی محبت اور اطاعت میں اُونچے مقام پر تھے۔

قادیان سے ایک منٹ باہر جانا آپ موت سمجھتے تھے۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ اگر کوئی شخص ہزارروپیہ روزانہ بھی مجھے دے۔ توپھر بھی مَیں حضرت صاحب کی محفل چھوڑ کر قادیان سے باہر جانا پسند نہ کروں گا۔

ایک دفعہ آپ کو اسہال کی بیماری تھی۔ حضرت صاحب کی طرف سے تقریر کا حکم ملا۔ چنانچہ اسی وقت باہر چلے گئے اور تقریباً تین گھنٹے تک تقریر کی۔

ایک دفعہ فرمایا۔ اگر میری لڑکی ہو اور مرزا صاحب اسے سَوسال کے بوڑھے سے بیاہنا چاہیں تو مَیں ہرگز انکار نہیں کروں گا۔

ایک دفعہ نواب خان صاحب مرحوم تحصیلدار نے آپ سے عرض کیا کہ حضرت مرزا صاحب کی بیعت سے کیافائدہ ہؤا؟ فرمایا۔ مجھے بہت فائدے حاصل ہوئے ہیں۔ پہلے مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت بذریعہ خواب ہواکرتی تھی اب بیداری میں بھی ہوتی ہے۔ (حیات نور صفحہ194)

سیّدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے پیارکرنے والے دوستوں میں سب سے زیادہ جس شخص کی تعریف فرماتے تھے۔ وہ حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفۃ المسیح الاوّل تھے۔ فرماتے ہیں :۔

“سب سے پہلے مَیں اپنے ایک رُوحانی بھائی کے ذکر کرنے کے لئے دل میں جوش پاتا ہوں جن کا نام ان کے نورِ اخلاص کی طرح نور الدّین ہے۔ مَیں ان کی بعض دینی خدمتوں کو جو اپنے مالِ حلال سے کررہے ہیں۔ ہمیشہ حسرت کی نظر سے دیکھتا ہوں کہ کاش وہ خدمتیں مجھ سے بھی ادا ہوسکتیں۔ ”

پھرفرمایا “آپ (مومنوں ) کافخر ہیں۔ آپ ایک بے مثال وجودہیں۔ ”

پھر فرمایا “مَیں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتاہوں کہ اس نے مجھے ایسا اعلیٰ درجے کا صدّیق دیا۔ ”

چہ خوش بُودے اگر ہر یک ز اُمّت نورِ دیں بودے

ہمیں بُودے اگر ہر دل پُر از نورِ یقیں بُودے

(نشانِ آسمانی)

کیا ہی اچھا ہوتا اگر اُمّت میں سے ہر ایک نورالدین ہوتا، یہ تبھی ہوتا اگر ہر دل نورِ یقین سے بھرا ہوتا۔

٭۔۔۔ ٭۔۔۔ ٭
اگلا صفحہ
صفحہ نمبر: 13 (کل صفحات: 13)