In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » کتبِ سلسلہ » کتب خدام الاحمدیہ پاکستان » PDF ڈاؤن لوڈ کریں PDF ڈاؤن لوڈ کریں

سیدنابلالؓ

تصنیف حسن محمد خان، فرید احمد نوید۔ شائع کردہ : مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان
+ فہرست مضامین

"میں بلال ہوں "

میں بلال ہوں۔ حبشہ میرا وطن تھا میرے ابا کا نام رباح تھا۔ وہ بھی غلام تھے اور میری امی کا نام حمامہ تھا اور وہ بھی غلام تھیں۔ گویا میں خاندانی غلام ہوں۔ جب مجھے مکہ کی منڈی میں میرے آقا امیہ بن خلف نے خریدا تو جانتے ہو ان دنوں غلام کیا چیز ہوا کرتی تھی؟ بھیڑ، بکری، گائے یا اونٹ کی کچھ قدر تھی لیکن غلام اس سے بہت کمتر تھا۔ غلام جب بِکتا تھا تو صرف موت اسے آزاد کراتی تھی۔ اس کی زندگی اس کے مالک کا حکم بجالانا ہوتا تھا۔ غلام حکم نہ ماننے کا تو کبھی خیال بھی نہیں کر سکتا تھا۔ محنت کے بوجھ تلے آ کر غلام مر گیا تو مالک کی بلا سے۔ اُسے اگر غم ہوتا تو صرف یہ کہ اُس کی رقم کا نقصان ہو گیا وگرنہ غلام کی زندگی ختم ہو جانے کا کوئی دُکھ نہیں ہوتا تھا۔ میں دو مرتبہ غلام بنا۔ پہلی بار امیہ بن خلف مکہ کے ایک سردار نے مجھے خریدا اور دوسری بار ابوبکرؓ نے مجھے اس سے خرید کر محمد(ﷺ) کا غلام بنا دیا۔ پہلے مالک کی غلامی میں ذلیل و خوار تھے اور مجھے اس بیدردی سے مارا جاتا تھا کہ ایک مرتبہ مجھے اس مار کی وجہ سے مردہ سمجھ کر ہی چھوڑ کر چلے گئے۔ دوسری غلامی میں مَیں اتنا معزز ہوا کہ آدھی دنیا کے بادشاہ حضرت عمرؓ مجھے "سیدنا بلال" کہہ کر پکارا کرتے تھے۔ یہ غلامی میرے لئے بادشاہی سے کم نہ تھی۔ مجھے سردار دوجہاں کی وہ خدمت نصیب ہوئی جسے بڑے بڑے سرداروں نے بھی رشک کی نگاہوں سے دیکھا۔

میرا جسم دبلا پتلا ہے اور قد لمبا ہے اور میں دوسروں میں اونچے درخت کی طرح نظر آتا ہوں۔ میں حبشہ کا رہنے والا ہوں اور اپنے ملک کے لوگوں کی طرح میرا رنگ کالا ہے۔ میرا ایک بھائی خالد ہے وہ بھی مسلما ن ہے۔ میری ایک بہن عقرہ ہے۔ میری کنیت ابوعبداللہ ہے اور بعض اوقات لوگ مجھے ابوعمرو بھی کہتے ہیں۔ میری آواز بہت بلند ہے اور بہت اثر کرنے والی ہے۔

مَیں آپ کو وہ باتیں سناؤں گا جو مَیں نے خود دیکھیں یا جو مجھ پر گزر گئیں۔ مَیں نے اسلام کا آغاز دیکھا۔ مَیں نے اپنے آقاؐ کی دُکھوں بَھری زندگی بھی دیکھی اور پھر مَیں نے وہ وقت بھی دیکھا کہ جب آپؐ دس ہزار مقدس ساتھیوں کے ساتھ اُسی مکہ میں فاتحانہ طور پر داخل ہوئے جہاں سے مکہ والوں نے انہیں نکل جانے پر مجبور کر دیا تھا۔ مَیں نے اُس دن اُن کا اعلان بھی سنا کہ اگر کوئی ان کے غلام کے جھنڈے تلے بھی آ جائے گا اسے امان دی جائے گی اور اسے کچھ نہیں کہا جائے گا۔ جانتے ہو اس غلام کا کیا نام تھا وہ میں تھا جس کا نام بلال ہے۔ غلاموں کی اتنی عزت شاید آسمان نے اور زمین نے اس سے پہلے کبھی نہ دیکھی تھی۔

صفحہ نمبر: 1 (کل صفحات: 23)
پچھلا صفحہ