مسلمانوں کی ہجرت حبشہ
مسلمانوں پر اتنا ظلم ہوتے دیکھ کر رسولؐ اللہ نے سوچا کہ بہتر ہوگا کہ مسلمان مکہ سے باہر چلے جائیں اس کے لئے انہوں نے میرے ملک حبشہ کو پسند کیا اور کہا کہ اس ملک کا بادشاہ عدل اور انصاف کرنے والا ہے۔ اس کے ملک میں ظلم نہیں ہوتا۔ جو مسلمان جانا چاہیں وہ وہاں چلے جائیں۔ پہلی دفعہ گیارہ مرد اور چار عورتوں پر مشتمل قافلہ حبشہ گیا۔ ان جانے والوں میں سے بہت سے لوگ قریش کے طاقتور قبیلوں سے تعلق رکھتے تھے اسی بات سے تم سمجھ گئے ہوگے کہ وہ مسلمان جو طاقتور قبیلوں سے تعلق رکھتے تھے وہ بھی ظلم و ستم سے محفوظ نہ تھے۔ غلاموں یا غریبوں کے پاس تو جانے کے لئے سامان ہی نہ تھا وہ کیسے سفر کرتے۔ اسی لئے میں بھی حبشہ نہ جا سکا۔ یہ لوگ چھپ چھپ کر مکہ سے نکلے اور سمندر کی طرف چل پڑے۔ جب شعیبیہ کی بندرگاہ پر پہنچے تو انہیں حبشہ جانے والا جہاز مل گیا اور وہ روانہ ہو گیا۔ جب قریش کو پتہ چلا کہ کچھ مسلمان ان سے بچ کر نکل گئے ہیں تو انہوں نے پیچھا کیا مگر اس وقت تک جہاز روانہ ہو چکا تھا۔ قریش بھی آسانی سے ہار ماننے والے نہ تھے۔ انہوں نے اپنے کچھ سرداروں کا وفد حبشہ بھجوایا۔ یہ سردار وہاں کے پادریوں اور درباریوں سے ملے اور قیمتی تحفے دے کر ان میں سے کچھ کو اپنے ساتھ ملا لیا۔ کچھ دن کے بعد یہ وفد بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوا۔ بادشاہ کو بہت سے تحفے پیش کئے اور عرض کی کہ "ہمارے شہر کے کچھ لوگوں نے ملک میں فساد ڈال دیا ہے اور ایک نیا مذہب بنا لیا ہے۔ ہمارے معبودوں کو بُرا بھلا کہتے ہیں۔ ان میں سے کچھ لوگ وہاں سے بھاگ کر آپ کے ملک میں آ گئے ہیں۔ آپ حکم دیں کہ ہم اُنہیں واپس لے جا سکیں "۔
بادشاہ نے جواب دیا "مَیں یونہی تو انہیں واپس نہیں کر سکتا۔ یہ لوگ میری پناہ میں ہیں۔ مَیں ان کی بات سن کر فیصلہ کروں گا"۔
اگلے دن بادشاہ نے مسلمانوں کو اپنے دربار میں بلایا ان سے پوچھا کہ بتاؤ یہ کیا قصہ ہے۔ ان مسلمانوں میں ابوطالب کے بیٹے جعفر طیارؓ بھی تھے۔ انہوں نے کہا "اے بادشاہ! بات یہ ہے کہ ہم لوگ جاہل تھے۔ بتوں کی پوجا کرتے تھے۔ برے کام کرتے تھے۔ اپنے سے کمزوروں اور غریبوں پر ظلم کرتے تھے۔ پھر خدا نے ہم میں ایک رسول بھیجا۔ اس نے ہمیں ان برائیوں سے روکا اور نیک کام کرنے کو کہا۔ ہمیں بتایا کہ خدا ایک ہے۔ صرف اسی کی عبادت کرنی چاہیے۔ ہم نے اس کی باتیں سنیں وہ باتیں ہمیں اچھی لگیں ہم نے بتوں کو چھوڑ کر ایک خدا کی عبادت شروع کردی اور برے کاموں سے توبہ کرلی۔ اچھے کام کرنے کی کوشش میں لگ گئے۔ اس پر ہماری قوم ہماری دشمن ہو گئی اور ہمیں مارنے پیٹنے اور ہم پر ظلم کرنے لگی۔ اے بادشاہ! اب ہم اس ظلم سے تنگ آ کر آپ کے ملک میں پناہ لینے آئے ہیں مگر انہوں نے یہاں بھی ہمارا پیچھا نہیں چھوڑا"۔
بادشاہ ساری بات سمجھ گیا۔ اس نے جعفرؓ سے کہا فکر نہ کرو تم میری پناہ میں ہو۔ تم پر کوئی ظلم نہیں ہوگا۔ ہاں مجھے وہ کلام تو سناؤ جو تمہارے نبیؐ پر اترا ہے۔ جعفرؓ نے سورۃ مریم کی آیات بادشاہ کو سنائیں۔ یہ آیتیں سن کر بادشاہ کے دل پر اتنا اثر ہوا کہ وہ رو پڑا۔ اس نے کہا خدا کی قسم! یہ تو ویسا ہی کلام ہے جیسا ہمارے نبی یسوع مسیح پر اترا تھا۔ پھر بادشاہ نے قریش سے کہا جاؤ میرے ملک سے نکل جاؤ۔ میں ان لوگوں کو تمہارے ساتھ نہیں بھیجوں گا۔
