In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » کتبِ سلسلہ » کتب خدام الاحمدیہ پاکستان » PDF ڈاؤن لوڈ کریں PDF ڈاؤن لوڈ کریں

سیدنابلالؓ

تصنیف حسن محمد خان، فرید احمد نوید۔ شائع کردہ : مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان
+ فہرست مضامین

حضرت حمزہؓ مسلمان ہوتے ہیں

ادھر مکہ میں مسلمانوں پر ظلم و ستم اسی طرح جاری تھے۔ ایک دن کی بات ہے کہ رسولؐ اللہ صفا کی پہاڑی پر بیٹھے تھے۔ ابوجہل کا وہاں سے گزر ہوا۔ اس نے آتے ہی رسولؐ اللہ کو گالیاں دینی اور برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔ رسولؐ اللہ چپ رہے اور ایک لفظ بھی جواب میں نہ کہا۔ رسولؐ اللہ کے چچا حمزہ کی ایک خادمہ نے سارا واقعہ دیکھا۔ تھوڑی دیر کے بعد حمزہ جو شکار کو گئے ہوئے تھے واپس آئے۔ جب گھر پہنچے تو خادمہ نے کہا کہ آپ شکار کھیل رہے ہیں اور آپ کے پیچھے ابوجہل آیا تھا اور آپ کے بھتیجے کو گالیاں دیتے ہوئے ابھی یہاں سے گیا ہے۔ محمدؐ چپ کر کے سنتے رہے اور جواب میں ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ یہ سن کر حمزہ کے تن بدن میں آگ لگ گئی اور خادمہ سے پوچھا۔ کیا یہ بات درست ہے؟ اس نے جواب دیا اس میں شک کی کوئی بات ہی نہیں سارا واقعہ میرے سامنے ہوا ہے۔ یہ سنتے ہی حمزہ الٹے قدموں باہر نکلے اور خانہ کعبہ کی طرف چلے گئے۔ جہاں ابوجہل اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھا تھا۔ جاتے ہی زور سے اس کے سر پر اپنی کمان ماری اور کہا مجھے پتہ چلا ہے کہ تم نے آج میرے بھتیجےؐ کو گالیاں دی ہیں اور اس نے تمہیں جواب تک نہیں دیا یہ ان گالیوں کا جواب ہے۔ یہ بھی سن لو کہ میں بھی آج سے محمدؐ کے دین پر ہوں۔ اس کا خدا میرا خدا ہے جووہ کہتا ہے وہی میں کہتا ہوں۔ ہمت ہے تو میرے سامنے آؤ۔

ابوجہل کے ساتھی اس کی حمایت میں بولنے لگے مگر ابوجہل حمزہ کی بہادری اور جرأت دیکھ کر ڈر گیا اور اس نے اپنے ساتھیوں کو یہ کہہ کر روک دیا کہ نہیں مجھ سے زیادتی ہوئی تھی۔ حمزہ درست کہتے ہیں بات بڑھانے کی ضرورت نہیں۔ یوں بات تو ختم ہو گئی۔ حمزہ اپنے گھر آ گئے جوش میں تو یہ کہہ آئے تھے کہ میں محمدؐ کے دین پر ہوں۔ جب غصہ کم ہوا تو سوچنے لگے۔ یہ میں نے کیا کہہ دیا۔ دیر تک سوچتے رہے۔ دل تو پہلے ہی اسلام کی اچھی باتوں کو مان چکا تھا۔ ایک جھجک باقی تھی۔ آخر یہی فیصلہ کیا کہ بت پرستی چھوڑ دینی چاہیے۔ آپ رسولؐ اللہ کے پاس آئے اور اسلام قبول کر لیا۔ حمزہؓ کے مسلمان ہونے پر ہم بہت خوش ہوئے۔ ابوبکرؓ تو اتنے خوش ہوئے کہ خانہ کعبہ میں اللہ اکبر کا نعرہ لگایا اور خدا کے ایک ہونے کا اعلان کیا۔ ابوبکرؓ کے اس اعلان پر قریش کو بہت غصہ آیا۔ انہوں نے ابوبکرؓ کو اتنا مارا کہ آپ بے ہوش ہو گئے۔ ہم انہیں اٹھا کر گھر لائے۔

صفحہ نمبر: 11 (کل صفحات: 23)