حضرت عمرؓ بھی مسلمان ہو گئے
خدا جب خوشیاں دینے پر آتا ہے تو کون اسے روک سکتا ہے۔ چند ہی روز بعد خدا تعالیٰ نے ہمیں ایک اور خوشی دی۔ عمر جو خطاب کے بیٹے تھے مکہ کے مشہور سرداروں میں سے تھے اور حمزہؓ کی طرح بہت بہادر اور نڈر تھے۔ اونچے قد کے مضبوط جوان تھے۔ طاقتور اتنے تھے کہ چلتے ہوئے اونٹ پر چھلانگ مار کر سوار ہو جاتے۔ اسلام کے سخت دشمن تھے اور مسلمانوں کو بہت تکلیفیں دیا کرتے۔ ایک دن انہیں خیال آیا کہ روز روز کا جھگڑا ختم کیا جائے اور محمدؐ ہی کو قتل کر دیا جائے۔ یہ خیال آتے ہی تلوار ہاتھ میں لے کر گھر سے نکل پڑے۔ ہم لوگ ان دنوں ارقمؓ کے مکان میں اکٹھے ہوا کرتے تھے۔ میں نے عمر کو تلوار لے کر غصہ میں جاتے ہوئے دیکھا تو ان کے ارادہ کو سمجھ گیا اور رسولؐ اللہ کو اس کی اطلاع دینے کے لئے ارقمؓ کے مکان پر پہنچا۔ اس وقت وہاں اور بھی مسلمان موجود تھے مگر کسی کے پاس کوئی ہتھیار نہ تھا۔ میں نے رسولؐ اللہ کو اطلاع دی۔ آپ نے کہا بلال! خدا جانتا ہے کہ عمر کب مسلمان ہوگا۔ میں بہت گھبرایا ہوا تھا۔ میں نے اِدھر اُدھر کوئی ہتھیار تلاش کیا مگر وہاں کچھ نہ تھا۔ آگ پر پانی کا برتن ابل رہا تھا۔ میں وہی اُٹھا کر دروازے پر کھڑا ہو گیا۔ حضور میرے پاس آئے اور کہا۔
"بلال! تمہارا شکریہ۔ اگر میرا وقت آ گیا ہے تو ابلتا ہوا پانی تو کیا ابلتا ہوا تیل بھی مجھے نہیں بچا سکتا"۔
عمر ابھی ارقمؓ کے گھر سے پچاس قدم دور ہوں گے کہ انہیں عبداللہ بن نعیم ملے۔ پوچھنے لگے کہاں کا ارادہ ہے۔ عُمر نے جواب نہ دیا۔ عبداللہ نے پھر پوچھا۔ آخر ننگی تلوارلے کر کہاں جا رہے ہو؟ عمر نے جواب دیامحمدؐ کو ختم کرنے جا رہا ہوں۔ عبداللہ نے یہ سن کر کہا "محمد کو قتل کرو گے تو عبدمناف کا سارا قبیلہ تمہارا دشمن ہو جائے گا۔ یہ تو خیر بعد کی بات ہے پہلے اپنے گھر کی خبر تو لو تمہاری بہن اور بہنوئی مسلمان ہو چکے ہیں "۔
یہ سنتے ہی عمر اپنی بہن فاطمہؓ کے گھر کی طرف چل پڑے۔ اس وقت خبابؓ ان کے گھر میں تھے اور میاں بیوی کو قرآن پڑھا رہے تھے۔ جب عمر نے دروازے پر آ کر آواز دی، تو فاطمہؓ نے خبابؓ کو چھپا دیا اور وہ کاغذ بھی چھپا دیئے جن پر قرآن لکھا ہوا تھا۔ فاطمہؓ نے دروازہ کھولا۔ عمر غصے میں بھرے ہوئے اندر آئے اور کہنے لگے تم اپنے دین سے پھر گئے ہو اور تم نے نیا دین اختیار کر لیا ہے۔ یہ کہتے ہی اپنے بہنوئی سعیدؓ بن زید کو مارنے کے لئے جھپٹے۔ فاطمہؓ انہیں بچانے کے لئے درمیان میں آ گئیں اور اُن کے چہرے پر چوٹ لگی۔ فاطمہؓ نے یہ سوچ کر کہ بات تو اب کُھل ہی چکی ہے کہا۔ عمر! ہاں ہم مسلمان ہو چکے ہیں تم سے جو ہو سکتا ہے کر لو ہم اسلام نہیں چھوڑیں گے۔ بہن کے چہرے پر بہتا ہوا خون اور اس کے لہجہ کی سچائی دیکھ کر عمر شرمندہ ہو گئے۔ کہنے لگے اچھا جو تم پڑھ رہے ہو مجھے بھی دکھاؤ۔ فاطمہؓ کہنے لگیں اگر ہم نے تمہیں وہ کاغذ دیئے تو تم پھاڑ دو گے۔ عمر نے کہا میں کچھ نہیں کرتا تم دکھاؤ تو سہی! فاطمہؓ بولیں اس طرح نہیں یہ خدا کا پاک کلام ہے۔ تم غسل کر کے پاک ہو جاؤ تو تمہیں دکھادوں گی۔ عمر نے غسل کیا اتنے میں غصہ بھی اتر گیا اور طبیعت میں سکون آ چکا تھا۔ فاطمہؓ نے وہ کاغذ ان کو دیا۔ عمر نے پڑھنا شروع کیا وہ سورۃ طٰہٰ کی یہ آیتیں تھیں:
اِنَّنِی اَنَا اﷲُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنَا فَاعْبُدْنِیْ وَ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِیْ۔ اِنَّ السَّاَعَۃَ اٰتِیَۃٌ أَکَادُ اُخْفِیْھَا لِتُجْزٰی کُلُّ نَفْسٍ بِمَا تَسْعٰی۔
"میں یقیناً اللہ ہوں میرے سوا کوئی معبود نہیں۔ پس تو میری ہی عبادت کر۔ میرے ذکر کیلئے نماز قائم کر۔ قیامت یقیناً آنیوالی ہے قریب ہے کہ میں اسے ظاہر کردوں تاکہ ہر نفس کو اپنے اعمال کے مطابق جزا دی جائے"۔
خدا کے کلام سے عمر پر عجیب اثر ہوا۔ ایک دفعہ تعصّب کی دیوار گر جانے کے بعد خدا کے کلام کی خوبصورتی اور عظمت نے آپ کا دل کھول دیا۔ بے اختیار ہو کر کہہ اٹھے میں گواہی دیتا ہوں اللہ ایک ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں محمدؐ اس کے رسول ہیں۔ خبابؓ جو عمر کو غصہ میں دیکھ کر چھپے ہوئے تھے۔ یہ سن کر الحمدللہ الحمدللہ کہتے ہوئے باہر آئے اور کہنے لگے۔ ابھی کل کی بات ہے کہ میں نے رسولؐ اللہ کو دعا کرتے سنا تھا۔ اے اللہ! عمر بن خطاب اور عمرو بن ہشام (ابوجہل) میں سے ایک اسلام کو عطا کردے۔ عمرؓ پوچھنے لگے میں رسولؐ اللہ کو کہاں مل سکتا ہوں ؟ آپ کو بتایا گیا کہ رسولؐ اللہ ارقمؓ کے گھر میں ہوں گے۔ اسی طرح تلوار ہاتھ میں پکڑے عمرؓ ارقمؓ کے گھر کی طرف چل پڑے اور وہاں دروازہ کھٹکھٹایا۔ ہم میں سے ایک نے جھانک کر دیکھا اور کہا اوہ! یہ تو عمرؓ ہیں ان کے ہاتھ میں ننگی تلوار ہے! حمزہؓ کہنے لگے ؟آنے دو۔ اگر عمرؓ کی نیت خراب ہے تو اس کی تلوار ہی سے اس کی گردن اڑادوں گا۔
رسولؐ اللہ کے حکم پر دروازہ کھول دیا گیا۔ عمرؓ اندر آئے۔ رسولؐ اللہ نے آپ کے کرتے کو پکڑ کر کھینچا اور کہا "عمرؓ کس ارادے سے آئے ہو؟ مخالفت سے باز آ جاؤ اگر باز نہیں آؤ گے تو خدا کے زورآور ہاتھ کا انتظار کرو"۔
عمرؓ آگے بڑھے بڑی عاجزی سے بولے۔ میں گواہی دیتا ہوں۔ خدا ایک ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں آپ اس کے رسول ہیں۔ ہم مسلمان جو وہاں موجود تھے۔ رسولؐ اللہ کی دُعا کے اتنا جلد پورا ہونے پر خوشی سے بے حال ہو گئے اور ہم نے مل کر اللہ اکبر کے نعرے اتنے جوش سے لگائے کہ دارِارقمؓ جو صفا کی پہاڑیوں کے قریب تھا گونج اٹھا۔
عمرؓ نے عرض کی یا رسولؐ اللہ! کیا ہم سچائی پر نہیں ہیں ؟ کیوں نہیں۔ رسولؐ اللہ نے فرمایا۔ یقیناً ہم سچائی پر ہیں۔ عمرؓ نے عرض کی۔ پھر چھپ کر کیوں عبادت کریں۔ کھل کر نماز کیوں نہ پڑھیں۔ اس وقت ہم چالیس مسلمان تھے۔ عمرؓ اور حمزہؓ کی قیادت میں ہم خانہ کعبہ گئے اور کفار کی نظروں کے سامنے پہلی بار ہم نے نماز پڑھی۔
میں پہلے بتا چکا ہوں کہ قریش مسلمانوں کو بہت دکھ اور تکلیف پہنچاتے تھے تاکہ وہ اسلام چھوڑ دیں لیکن جو بھی ایک دفعہ مسلمان ہو جاتا پھر واپس نہیں پھرتا تھا۔ اب مکہ کے دو بڑے سرداروں کے مسلمان ہو جانے سے ان کو فکر ہوئی اور انہوں نے سوچا رسولؐ اللہ کے ساتھ کوئی ایسی بات کریں جس کے نتیجے میں وہ اپنے دین کے پھیلانے سے رک جائیں۔ چنانچہ قریش کے سردار ولید بن مغیرہ، عاص بن وائل اور میرا پہلا آقا امیہ بن خلف، رسولؐ اللہ کے پاس آئے اور کہنے لگے۔ محمدؐ ہمارا آپس کا اختلاف بڑھتا جاتا ہے۔ قوم میں پھوٹ پڑ گئی ہے۔ اسے ختم کرنا چاہئے۔ آؤ کوئی ایسی تدبیر کریں کہ جس سے یہ جھگڑے ختم ہو جائیں۔ آپؐ نے کہا تم بتاؤ تم نے کیا سوچا ہے۔ کہنے لگے کہ یوں کرو کہ ہم اور تم دونوں مل کر عبادت کریں۔ جب تم اپنے خدا کی عبادت کرو تو ہم بھی تمہارے ساتھ شامل ہو جائیں گے اور جب ہم اپنے بتوں کو پوجیں تو تم بھی شریک ہو جانا۔ اس طرح ہم میں سے جو بھی سچا ہو اس کا فائدہ دوسرے کو پہنچ جائے گا۔ ایسی بیوقوفی کی بات سن کر آپؐ مسکرائے اور ان کو بتایا کہ یہ کیسے ممکن ہے میں تو تمہارے بتوں کو سمجھتا ہی بے جان ہوں۔ یہ بالکل بے کار چیزیں ہیں۔ ان کے آگے سرجھکانا تو خدا کو ناراض کرنا ہے۔ تمہارے خیال میں مَیں وہ بات کر سکتا ہوں جس سے خدا نے مجھے منع کیا ہے؟ دوسری طرف تم بتوں کو پوجتے ہو۔ تم ایک خدا کی عبادت کس طرح کرو گے۔ یہ سن کر وہ واپس چلے گئے۔
