شعب ابی طالب میں محصوری
اب انہوں نے سوچا کہ ہم تو محمدؐ کے مقابلہ میں ہر دفعہ ناکام ہو جاتے ہیں۔ پہلے ابوطالب کو ساتھ ملانے میں ناکام ہوئے۔ پھر باوجود ساری کوششوں کے مسلمانوں میں سے کسی ایک کو بھی واپس اپنے مذہب میں نہیں لا سکے۔ حمزہؓ اور عمرؓ بھی محمدؐ کے ساتھ مل گئے ہیں۔ جس کی وجہ سے محمدؐ کا گروہ طاقتور ہوتا جاتا ہے۔ نجاشی نے بھی ہماری بات ماننے سے انکار کر دیا ہے اور محمدؐ نے بھی ہماری بات نہیں مانی۔ اب کیا کِیا جائے؟ مشورہ کرنے کے لئے قریش کے سارے قبیلوں کے سردار اکٹھے ہوئے اور یہ فیصلہ ہوا کہ سارے مسلمانوں کا اور ان لوگوں کا جو مسلمانوں کا ساتھ دے رہے ہیں بائیکاٹ کر دیں۔ اور ان کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات نہ رکھیں۔ ان کے ساتھ کوئی رشتہ نہ کریں نہ ان سے کوئی چیزیں خریدیں نہ ان کے ہاتھ بیچیں۔ یہ فیصلہ لکھ کر سارے سرداروں نے اس پر دستخط کئے اور عہد نامہ خانہ کعبہ میں لٹکا دیا۔ اس کے نتیجہ میں سارے مسلمان اور بنو ہاشم کے وہ لوگ جو مسلمانوں کے ساتھ تھے مکہ کے قریب ایک گھاٹی میں جو ابو طالب کی ملکیت تھی چلے گئے۔ اسے شعبِ ابی طالب کہتے ہیں۔ میں بھی باقی مسلمانوں کے ساتھ تھا۔ ہم لوگ وہاں تقریباً تین سال رہے۔ حال یہ تھا کہ باہر سے نہ کوئی ہمیں ملنے آ سکتا تھا نہ ہی ہم کہیں باہر جا سکتے تھے چھپ چھپا کر کبھی باہر نکلتے اور کھانے پینے کی چیزیں لے آتے۔ کئی کئی دن کچھ کھائے پیے بغیر گزر جاتے۔ ہمارے کپڑے پھٹ چکے تھے۔ بھوک اور پیاس کے مارے ہم سخت کمزور ہو چکے تھے۔ حالت یہاں تک ہو گئی تھی کہ بعد میں ہمارے ایک مسلمان بھائی نے بتایا کہ جب ایک دفعہ کئی دن سے میں نے کچھ نہیں کھایا ہوا تھا۔رات کا وقت تھا۔ بھوک کے مارے بری حالت تھی۔ اسی بے چینی میں گرتا پڑتا اِدھر اُدھر پھررہا تھا کہ مجھے لگا کہ میرے پاؤں کے نیچے کوئی نرم چیز آئی ہے۔ اندھیرے میں مَیں نے ہاتھ بڑھایا اور وہ چیز اٹھا کر منہ میں ڈال لی۔ مجھے آج تک یہ نہیں پتہ کہ وہ کیا چیز تھی جو میں نے اس دن کھائی تھی۔
اڑھائی تین سال کے اس سارے عرصہ میں ہم میں سے کسی کو ایک دفعہ بھی پیٹ بھر کر کھانا نہیں ملا تھا مگر اتنی بات بتادوں کہ ان ساری تکلیفوں کے باوجود ہم میں سے ایک بھی ایسا نہ تھا، جس کو کبھی خیال بھی آیا ہو کہ اپنے رب سے منہ موڑ لے۔ ہم مایوس بھی نہ تھے اس وقت بھی ہمیں یقین تھا کہ ہمارا خدا ہماری مدد کریگا۔ جیتیں گے ہم ہی۔
تقریباً تین سال گزرنے کے بعد ایک دن رسولؐ اللہ نے ابوطالب کو کہا "چچا! مجھے خدا نے بتایا ہے کہ وہ عہد نامہ جس کے تحت قریش نے ہمارا بائیکاٹ کر رکھا ہے، اُسے کیڑوں نے کھا لیا ہے۔ صرف جہاں خدا کا نام لکھا ہوا ہے وہ حصہ رہ گیا ہے۔
ابوطالب اُٹھے اور دیکھنے کے لئے کہ رسولؐ اللہ کی بات درست ہے یا نہیں خانہ کعبہ گئے۔ وہاں جا کر دیکھا تو رسولؐ اللہ کی بات ٹھیک تھی۔ وہاں قریش کے کچھ سردار بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے انہیں کہا کہ محمدؐ کہتا ہے کہ جس معاہدہ کی وجہ سے تم نے ہمیں قید کیا ہوا ہے۔ اس کو کیڑوں نے کھا لیا۔ جب انہوں نے معاہدہ دیکھا تو وہ حیران رہ گئے کہ سارا عہد نامہ کیڑے کھا چکے تھے۔ صرف شروع میں اللہ کا نام بچ گیا تھا۔ اس پر قریش کے بعض سردار جو کچھ رحمدل تھے۔ انہیں خیال آیا اور انہوں نے کہا کہ یہ بڑے ظلم کی بات ہے کہ تین سال ہو گئے ہم لوگ آرام سے گھروں میں ہیں جبکہ ہمارے یہ بھائی مصیبت کے دن گزار رہے ہیں۔ اب یہ قصہ ختم ہونا چاہیے اور معاہدہ منسوخ کر دینا چاہیے۔ ابوجہل اور اس کے کچھ ساتھی اس بات پر تیار نہ تھے وہ چاہتے تھے کہ معاہدہ قائم رہے۔ ابھی یہ بحث ہی ہو رہی تھی کہ ایک سردار مُطْعِم بن عدَی نے وہ کاغذ اٹھا کر پھاڑ دیا اور کچھ اور لوگوں کو ساتھ لے کر شعبِ ابی طالب آئے اور ہمیں اپنی حفاطت میں لے جا کر اپنے اپنے گھروں میں چھوڑا۔ اس طرح یہ مصیبت کے دن ختم ہوئے۔ یہ نبوت کے دسویں سال کی بات ہے۔
