غم کا سال
اس کے کچھ عرصہ بعد ابوطالب جن کی عمر ۸۰ سال سے زائد ہو چکی تھی اور خدیجہؓ جن کی عمر ۶۵ برس کی تھی۔ کچھ وقفے سے وفات پا گئے۔ تین سال کی تکلیفوں اور قید نے ابوطالب اور خدیجہؓ کی صحت بہت خراب کر دی تھی۔ یہ دونوں رسولؐ اللہ کے لئے بڑا سہارا تھے۔ ابوطالب مسلمان نہیں ہوئے تھے مگر رسولؐ اللہ کی مدد کرنے میں انہوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ مَیں تو یہی سمجھتا ہوں کہ خدا انہیں اس مدد کا ضرور اچھا بدلہ دے گا۔
خدیجہؓ بھی ہمارے لئے بہت سہارا تھیں۔ ہماری تو ماں بھی وہی تھیں۔ رسولؐ اللہ پر سب سے پہلے ایمان لائی تھیں۔ شادی سے پہلے بڑی آرام کی زندگی گزاری تھی۔ لیکن بعد میں جب رسولؐ اللہ نے دعویٰ کیا تو ہر قسم کے دُکھ اُٹھانے پڑے مگر آپ نے کبھی شکوہ نہیں کیا۔ رسولؐ اللہ کو آپ سے بڑی محبت تھی۔ آپ کی وفات پر ہمیں بہت صدمہ ہوا۔ ان دونوں کی وفات کی وجہ سے ہم اس سال کو عامُ الحُزْن یعنی غم کا سال کہتے ہیں۔
طائف کا واقعہ
اب ہمیں اگرچہ شعبِ ابی طالب کی قید سے تو رہائی مِل چکی تھی لیکن قریش کی طرف سے مخالفت اسی طرح جاری تھی اور لوگ ہماری بات تک سننے کو تیار نہ ہوتے تھے۔ اس لئے رسولؐ اللہ نے ارادہ کیا کہ مکہ سے باہر جا کر اسلام کا پیغام سنایا جائے۔ مکہ کے جنوب میں ۴۰ میل کے فاصلہ پر ایک پہاڑی شہر ہے جس کا نام طائف ہے۔ ان دنوں وہاں بنو ثقیف کا قبیلہ رہتا تھا۔ یہ بڑے امیر لوگ تھے۔ انہوں نے پہاڑوں پر باغات لگائے ہوئے تھے جس میں پھل وغیرہ بہت ہوتا تھا۔ آپؐ زیدؓ کو لے کر پیدل ہی طائف کی طرف روانہ ہوئے۔ مگر طائف کے لوگوں نے بھی آپؐ کی باتیں نہ سنیں۔ آپؐ دس دن تک وہاں رہے مگر طائف کے لوگوں نے اسلام قبول کرنے کی بجائے آپؐ کی ہنسی اڑائی۔ شہر کے غنڈوں اور آوارہ لڑکوں کو آپؐ کے پیچھے لگا دیا۔ جنہوں نے پتھر مار مار کر آپؐ کو اور زیدؓ کو زخمی کر دیا اور آپؐ واپس مکہ آ گئے۔
