In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » کتبِ سلسلہ » کتب خدام الاحمدیہ پاکستان » PDF ڈاؤن لوڈ کریں PDF ڈاؤن لوڈ کریں

سیدنابلالؓ

تصنیف حسن محمد خان، فرید احمد نوید۔ شائع کردہ : مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان
+ فہرست مضامین

اسلام کا نور پھیلنے لگا

نبوت کا گیارہواں سال شروع ہو چکا تھا۔ ہماری مخالفت میں کوئی کمی نہ ہوئی تھی۔ مکہ والے ہمیں ہر طرح کی تکلیفیں پہنچاتے تنگ کرتے اور کسی کو ہماری بات نہ سننے دیتے تھے۔ لیکن اس کے باوجود جو کوئی اسلام کی پیاری باتیں سنتا وہ مسلمان ہو جاتا۔ اس لئے آہستہ آہستہ مسلمانوں کی تعداد بڑھ رہی تھی۔ رسولؐ اللہ کی اور ہماری کوشش یہی ہوتی کہ جب بھی موقعہ ملتا ہم اسلام کا پیغام دوسروں تک پہنچاتے رہتے۔ عام دنوں میں قریش کے ڈر کی وجہ سے ہم لوگوں سے زیادہ مل جل نہںع سکتے تھے۔ حج کے دنوں میں سارے عرب کے لوگ مکہ آتے تھے ان دنوں مکہ والے بھی لڑنے جھگڑنے سے باز رہتے تھے۔ اس لئے یہ بڑا اچھا موقعہ ہوتا۔ ہم باہر سے آنے والوں سے نسبتاً زیادہ آزادی سے ملتے اور اسلام کی باتیں سناتے۔

ایک سال مکہ سے تقریباً اڑھائی سو میل دور ایک شہر سے جس کا نام یثرب تھا کچھ لوگ حج کرنے آئے۔ یہ لوگ قبیلہ بنوخزرج سے تعلق رکھتے تھے۔ رسولؐ اللہ سے ان کی ملاقات ہوئی آپؐ نے انہیں اسلام کا پیغام سنایا اور بتایا کہ خدا ایک ہے۔ اسی نے ہمیں پیدا کیا ہے اور وہی عبادت کے لائق ہے۔ آپؐ نے انہیں خدا کا کلام سنایا۔ آپؐ کی باتیں سن کر وہ بہت اچھا اثر لے کر واپس ہوئے۔ یہ کل چھ آدمی تھے۔ رسولؐ اللہ نے ان کو کہا کہ جو کچھ تم نے سنا ہے وہ واپس جا کر اپنے بھائیوں کو بھی بتانا۔ چنانچہ جب وہ واپس پہنچے تو انہوں نے لوگوں کو بتایا کہ مکہ میں ایک آدمی نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور وہ یہ یہ باتیں کہتا ہے۔

مکہ والے اب سمجھ چکے تھے کہ ان کے ظلم مسلمانوں کو اسلام سے نہیں ہٹا سکتے۔ کیونکہ باوجود ان کی تمام کوششوں کے مسلمانوں کی تعداد بڑھ رہی تھی۔ جو ایک دفعہ اسلام کی باتیں سن لیتا وہ انہیں قبول کر لیتا تھا۔ اس لئے قریش اب اس فکر میں تھے کہ کونسا طریقہ اختیار کیا جائے۔ جس سے مسلمان ختم ہو جائیں۔

انہی حالات میں ایک سال اور گزر گیا۔ اور پھر حج کے دن آگئے۔سارے عرب سے لوگ حج کے لئے مکہ آئے۔ ایک دن رسولؐ اللہ مکہ کے قریب ایک جگہ عقبہ گئے اور وہاں یثرب سے آئے ہوئے لوگوں سے ملے۔ ان مںں پانچ وہ آدمی بھی تھے جو پچھلے سال رسولؐ اللہ سے مل چکے تھے اور سات آدمی نئے تھے۔ ان میں سے کچھ قبیلہ اوس کے آدمی تھے۔ رسولؐ اللہ نے انہیں اسلام کا پیغام سنایا اور اللہ تعالیٰ کا کلام ان کے سامنے رکھا۔ ان بارہ آدمیوں نے رسولؐ اللہ کی بیعت کر لی۔ اس واقعہ کو بیعتِ عقبہ کہتے ہیں۔

یثرب واپس پہنچ کر انہوں نے رسولؐ اللہ کو لکھا کہ کسی ایسے آدمی کو ہمارے پاس بھجوائیں جو ہمیں دین کی باتیں سکھائے۔ رسولؐ اللہ نے مصعب بن عمیر کو یثرب بھجوایا۔ آپ نے وہاں جا کر بہت کام کیا۔ وہ مسلمانوں کو دین کی باتیں سکھاتے اور دوسروں کو اسلام کا پیغام پہنچاتے۔

خدا تعالیٰ کی قدرت دیکھو کہ مکہ میں تو تیرہ سال میں بہت کم مسلمان ہوئے مگر یثرب کے لوگ اسلام کی طرف جلدی جلدی آنے لگے۔ جب اگلے سال حج کا وقت آیا تو یثرب سے مصعب بن عمیر کے ساتھ ستر آدمی آئے جو یا تو مسلمان ہو چکے تھے یا مسلمان ہونا چاہتے تھے۔ ایک دن رات کے وقت عقبہ میں ہی ان کی رسولؐ اللہ سے ملاقات ہوئی۔

قریش کے ڈر سے یثرب کے یہ آدمی ایک ایک کر کے وہاں جمع ہوئے تھے۔ پھر رسولؐ اللہ اپنے چچا عباسؓ کے ساتھ وہاں پہنچے۔ عباسؓ نے یثرب کے لوگوں سے کہا کہ

"محمدؐ ہم میں بہت معزز ہیں اور ہمیں بہت عزیز ہیں۔ ان کے خاندان نے ہمیشہ ان کی حفاظت کی ہے مگر اب حالات یہ ہیں کہ یہ مکہ چھوڑ کر تمہارے پاس جانے پر مجبور ہیں۔ اگر تم ان کو ساتھ لے جانا چاہتے ہو تو اچھی طرح سوچ لو اور نتائج پر غور کرلو۔ اگر تم ان کی حفاظت کر سکتے ہو تو ٹھیک ہے اور اگر تم سمجھتے ہو کہ ان کی حفاظت نہیں کر سکتے تو اس ارادہ کو چھوڑ دو"۔

اس پر ان کے ایک سردار نے کہا۔

"عباسؓ! ہم نے تمہاری بات سنی۔ ہم اپنے ارادہ میں پکے ہیں۔ ہماری زندگیاں رسولؐ اللہ کی خدمت کے لئے ہیں۔ اب اگر رسولؐ اللہ کچھ کہنا چاہتے ہیں تو فرمائیں "۔

رسولؐ اللہ نے قرآن مجید کا کچھ حصہ پڑھا۔ اسلام کے متعلق باتیں بیان کیں اور فرمایا "مَیں یہ چاہتاہوں کہ اگر تم خدا کے رسولؐ کو اپنے ساتھ لے جانا چاہتے ہو تو جس طرح تم اپنی اور اپنے بیوی بچوں کی حفاطت کرتے ہو اسی طرح میری حفاظت کا ذمہ لو"۔

آپ کے خاموش ہونے پر یثرب سے آئے ہوئے آدمی بے اختیار کہہ اٹھے "ہم اپنی جانوں اور اپنے مال کی قربانی دے کر بھی آپؐ کی حفاظت کریں گے"۔

اس کے بعد ان ستر۷۰ افراد نے رسولؐ اللہ کے ہاتھ پر باری باری بیعت کی۔ ہم اسے عقبہ کی دوسری بیعت کہتے ہیں۔ جب یہ لوگ واپس جانے لگے تو رسولؐ اللہ نے بارہ آدمی مقرر کئے جو ان کے نگران بنائے گئے۔ آپؐ نے ان کو یہ نصیحت بھی کی کہ خدا کے ساتھ کبھی کسی کو شریک نہیں ٹھہرانا۔

اب جب میں بوڑھا ہو چکا ہوں اور ماضی کی طرف نظر ڈالتا ہوں تو مجھے یوں لگتا ہے کہ جیسے عقبہ کی یہ بیعت اس اندھیری رات میں چھپ چھپ کر آنے والے ستر افراد کی بیعت نہ تھی بلکہ ایک نئے دور کی ابتداء تھی۔

صفحہ نمبر: 15 (کل صفحات: 23)