In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » کتبِ سلسلہ » کتب خدام الاحمدیہ پاکستان » PDF ڈاؤن لوڈ کریں PDF ڈاؤن لوڈ کریں

سیدنابلالؓ

تصنیف حسن محمد خان، فرید احمد نوید۔ شائع کردہ : مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان
+ فہرست مضامین

مد ینہ کی طرف ہجرت

یثرب میں مسلمانوں کی کافی تعداد ہو چکی تھی۔ دوسری طرف مکہ میں کافروں کے ظلم میں زیادتی ہوتی جا رہی تھی۔ اس لئے رسولؐ اللہ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم ایک ایک دو دو کر کے یثرب کی طرف چلے جائیں۔ مسلمان آہستہ آہستہ یثرب روانہ ہونے لگے۔ ایک دن میں نے بھی جانے کا ارادہ کیا۔ میرے ساتھ چھ مرد، دو عورتیں اور تین بچے بھی تیار ہوئے۔ رسولؐ اللہ نے مجھے اس چھوٹے سے قافلہ کا امیر بنایا۔ یہ لمحہ میرے لئے ایک عجیب لمحہ تھا۔ میں جو امیہ بن خلف کا ایک حبشی غلام تھا۔ ہر ایک سے مار کھانا ہر ایک کی جھڑکیاں سننا جس کی قسمت تھی۔ آج ایک چھوٹے سے مگر آزاد لوگوں کے گروہ کا امیر تھا۔ اگر یہ انقلاب نہیں تو اور کسے انقلاب کہتے ہیں۔ اڑھائی سو میل کا لمبا سفر ہم نے پیدل طے کرنا تھا۔ سارا راستہ ریگستان تھا۔ ہر طرف ریت ہی ریت تھی۔ گرمی زوروں پر تھی۔ اگر ہم جلدی بھی کرتے تو ۹ دن سے پہلے اپنی منزل پر نہیں پہنچ سکتے تھے۔ لیکن ہمارے ساتھ تو بچے اور عورتیں بھی تھیں۔

عجیب بات ہے کہ سخت گرمی کے باوجود یہ سفر ہمیں کوئی مشکل نہ لگا۔ تکلیفیں تو ضرور آئیں۔ بچے بیمار ہوئے۔ ہمارے ایک ساتھی کے پاؤں پر زخم بھی ہو گیا۔ جو اس نے مجھ سے چھپائے رکھا اور جب مجھے اس زخم کا پتہ لگا تو اس نے اپنی رفتار اور تیز کر دی اور ہم سے آگے آگے چلنے لگا۔ جب ہم یثرب پہنچے تو اس کی حالت اچھی نہ تھی۔ اور زخموں کی وجہ سے وہ میرے کندھے کا سہارا لے کر شہر میں داخل ہوا۔ ان ساری باتوں کے باوجود ہم نے اپنا سفر جاری رکھا اور آخر وہ دن بھی آ گیا۔ جب ہم یثرب پہنچ گئے۔ یہ ہے ہماری ہجرت کی کہانی۔

یہ سفر تمہیں تو شاید ایک معمولی سا سفر ہی لگے لیکن مجھے ہمیشہ یاد رہے گا۔ اگرچہ اس کے بعد میں نے یثرب سے مکہ کے کئی سفر کئے ہیں اور اب تو ہزاروں لوگ یہ سفر کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے، لیکن ہمارا سفر کچھ اور ہی رنگ کا تھا۔ ہم جو کافروں کے ظلم کے ستائے ہوئے اپنی جان اور جان سے بڑھ کر اس پیغام کی حفاظت کی خاطر جو خدا کا پیغام ہے، ہمارے پیدا کرنے والے کا پیغام ہے، اپنے وطن کو چھوڑ کر جا رہے تھے۔ ہم خالی ہاتھ تھے لیکن ہمارے پاس دونوں جہان کی دولت سے زیادہ مال تھا۔ تم پوچھو گے یہ مال کیا تھا، یہ وہ پیغام تھا جو خدا نے ساری دنیا کے لئے رحمت بنا کر بھیجا تھا۔ اسی لئے یہ سفر ایک ایسا سفر تھا جو کبھی بھلایا نہیں جا سکتا۔ جب تک دنیا قائم ہے۔ ریت کے اس صحراء کے نیچے ہمارے قدموں کے نشان قائم رہیں گے جو کبھی مٹ نہیں سکتے۔ یہ ایک نئے دور کا آغاز تھا۔ ایک زمانہ کی ابتداء تھی جب تک اسلام باقی ہے اور جب تک مسلمان اس دنیا میں آباد ہیں وہ اپنے اپنے وقت کا اندازہ ہمارے قدموں کے نشانوں سے کرتے رہیں گے۔

ہمارے آنے کے بعد آہستہ آہستہ اور مسلمان بھی ہجرت کر کے آتے رہے اور مکہ میں رسولؐ اللہ کے ساتھ بہت تھوڑے مسلمان رہ گئے۔ ہم جو مدینہ پہنچ کر امن میں آ گئے تھے اس بات سے بہت فکرمند رہتے تھے کہ پتہ نہیں رسولؐ اللہ کے ساتھ کفار کیا سلوک کر رہے ہیں۔ ہمارا انتظار لمبا ہی ہوتا گیا۔ آہستہ آہستہ سارے مسلمان آ گئے۔ عمرؓ بھی آ گئے، حمزہؓ بھی، لیکن رسولؐ اللہ، ابوبکرؓ، علیؓ اور چند اور مسلمانوں کے ساتھ مکہ میں ہی رہے اور آپؐ ا بھی کس طرح آسکتے تھے۔ جب تک خدا تعالیٰ آپ کو آنے کا حکم نہ دیتا۔ کیونکہ اللہ کے رسول کوئی کام بھی اس کے حکم کے بغیر نہیں کرتے۔ اکثر مسلمانوں کے وہاں سے آ جانے کی وجہ سے رسولؐ اللہ کے لئے خطرہ بڑھ گیا تھا۔ کیونکہ کافروں کو اب یہ فکر ہو گئی تھی کہ مسلمان مکہ سے باہر جا چکے ہیں اور وہ ڈرتے تھے کہ اسلام کا پیغام عرب کے دوسرے قبیلوں میں پھیلنا شروع ہو جائے گا۔ تنگ آ کر انہوں نے سوچا کہ اب کوئی ایسا طریق اختیار کرنا چاہیے کہ یہ قصہ ختم ہی ہو جائے۔

صفحہ نمبر: 16 (کل صفحات: 23)