آنحضورﷺ کی ہجرت مدینہ
مکہ میں ایک جگہ تھی جس کو دارالندوہ کہتے تھے۔ یہاں قوم کے سردار اکٹھے ہو کر ان باتوں کے متعلق مشورہ کرتے جس کا ساری قوم سے تعلق ہوتا۔ اس جگہ سارے قبیلوں کے سردار اکٹھے ہوئے اور آپس میں مشورہ کرنے لگے کسی نے کوئی بات کہی کسی نے کچھ کہا، کسی نے کچھ۔ کسی نے کہا محمدؐ کو قید کر دیتے ہیں۔ ایک نے کہا مکہ سے جلا وطن کر دیتے ہیں۔ آخر ابوجہل نے مشورہ دیا "اگر تو تم سارا قصہ ختم کرنا چاہتے ہو تو اس کی ایک ہی صورت ہے اور وہ یہ کہ محمدؐ کو ہی قتل کر دیا جائے"۔
اس پر ایک سردار نے یہ اعتراض کیا کہ اس طرح محمدؐ کے قبیلہ کے لوگ قاتل سے بدلہ لینے کی کوشش کریں گے۔ جس پر ابوجہل بولا "اگر ہر قبیلہ میں سے ایک آدمی چنا جائے اور سارے مل کر محمدؐ کو قتل کر دیں تو محمدؐ کے قبیلہ کو کبھی جرأت نہیں ہوگی کہ سارے قبیلوں کے ساتھ لڑائی کرے"۔
یہ بات سارے لوگ مان گئے اور ہر قبیلہ سے ایک ایک آدمی چن لیا گیا اور فیصلہ ہوا کہ اسی رات اس تجویز پر عمل کیا جائے۔
اُدھر تو یہ مشورے ہو رہے تھے۔ اِدھر میرے رب نے اپنے رسول کو ان کی سازش کی اطلاع دے دی اور حکم دیا کہ رسول اللہ بھی یثرب چلے جائیں۔ دوپہر کا وقت تھا آپؐ اسی وقت حضرت ابوبکرؓ کے پاس گئے اور ان سے کہا مجھے ہجرت کی اجازت مل گئی ہے۔ حضرت ابوبکرؓ رسولؐ اللہ سے بہت محبت کرتے تھے۔ آپ نے بے اختیار کہا۔ یا رسولؐ اللہ! کیا میں بھی آپ کے ساتھ جا سکتا ہوں ؟ رسولؐ اللہ نے جواب دیا ہاں ! آپ اتنے خوش ہوئے کہ خوشی کے مارے آپ کے آنسو نکل آئے۔ حضرت عائشہؓ جو حضرت ابوبکرؓ کی بیٹی ہیں اس وقت وہیں تھیں۔ وہ کہتی ہیں مجھے اس دن پہلی دفعہ پتہ لگا کہ بہت خوشی میں انسان کے آنسو بھی آ جاتے ہیں۔ پھر حضرت ابوبکرؓ نے کہا یا رسولؐ اللہ! میں نے اس سفر کے لئے پہلے ہی دو اونٹنیاں پالی ہوئی ہیں۔ ان میں سے ایک آپ لے لیں۔ حضور نے کہا۔ ٹھیک ہے مگر قیمت ادا کر کے لوں گا۔
حضرت ابوبکرؓ کے گھر والوں نے جلدی جلدی سامان تیار کیا۔ کھانے کی تھیلی باندھنے کے لئے جلدی میں اور کوئی کپڑا نہ ملا تو حضرت ابوبکرؓ کی بڑی بیٹی حضرت اسماءؓ نے اپنی چادر کو ہی پھاڑ کر اس سے کھانا باندھ دیا اور دوسرے حصہ سے پانی کا مشکیزہ باندھ دیا۔ اس لئے ہم انہیں "ذات النطاقین" یعنی دو چادروں والی کہتے ہیں۔
