آنحضورﷺ کی مدینہ روانگی
فیصلہ یہ ہوا کہ رسولؐ اللہ اور ابوبکرؓ علیحدہ علیحدہ نکلیں گے اور مکہ کے باہر اکٹھے ہو جائیں گے۔ وہاں سے رسولؐ اللہ اپنے گھر آئے اور کافروں کی امانتیں آپؐ کے پاس تھیں وہ علیؓ کو دیں، تاکہ وہ انہیں واپس پہنچا سکیں۔ اتنی دیر میں رات ہو گئی۔ آپ نے علیؓ کو اپنے بستر پر لٹا دیا اور اپنی چادر ان پر ڈال دی۔ باہر کفار نے گھر کو گھیرے میں لے لیا تھا تاکہ آپؐ کو قتل کر سکیں لیکن ہمارا خدا تو بہت طاقتور خدا ہے۔ آپؐ رات کے وقت باہر نکلے اور ان کے جانے کا علم ہی نہ ہوا۔ صبح ہوئی تو انہیں پتہ چلاکہ آپ جا چکے ہیں۔ انہیں بہت غصہ آیا۔ مگر اب کیا ہو سکتا تھا۔ آخر ایک سردار نے اعلان کیا کہ جو کوئی محمدؐ کو زندہ یا مردہ لائے گا۔ اسے سو اونٹ انعام دیئے جائیں گے۔ اس لالچ میں کئی آدمی رسولؐ اللہ کی تلاش میں نکلے۔ رسولؐ اللہ ابوبکرؓ کے ساتھ مل کر سیدھے یثرب کی طرف جانے کی بجائے جو شمال کی طرف ہے، جنوب میں غارِ ثور کی طرف چل پڑے۔ رسولؐ اللہ کی تلاش میں نکلنے والوں میں سے ایک میرے جیسا حبشی بھی تھا جو کھوجی کا کام کرتاتھا اور اپنے کام میں اتنا ماہر تھا کہ لوگ کہا کرتے تھے کہ یہ ہوا میں سونگھ کر پرندے کا پتہ لگا لیتا ہے۔ باقی پیچھا کرنے والے تو شمال کی طرف گئے یہ بڑا ہوشیار تھا۔ یہ کچھ لوگوں کو ساتھ لے کر جنوب کی طرف روانہ ہوا اور قدموں کے نشان دیکھتا ہوا غارِ ثور تک پہنچ گیا۔ جہاں رسولؐ اللہ ابوبکرؓ کے ساتھ چھپے ہوئے تھے۔ غار کے نام سے یہ نہ سمجھ لینا کہ وہ کوئی بڑی غار تھی۔ بس ایک چھوٹی سی جگہ تھی مگر میرے رب کے کام عجیب ہوتے ہیں۔ رسولؐ اللہ اور ابوبکرؓ کے غار میں داخل ہوتے ہی ایک مکڑی نے غار کے منہ پر جالا بن دیا اور قریب کے ایک درخت کی ایک شاخ پر جو جھک کر غار کے منہ کے سامنے آئی ہوئی تھی ایک کبوتری نے گھونسلا بنا کر انڈے دے دیئے تھے۔ غار پر پہنچ کر کھوجی نے قریش کے سرداروں سے کہا کہ سراغ اس سے آگے نہیں چلتا۔ اس لئے یا تو محمدؐ اس غار کے اندر ہیں یا آسمان پر چڑھ گئے ہیں۔ سردار مکڑی کے جالے کو دیکھ کر کہنے لگے تم عجیب بے وقوف آدمی ہو۔ اگر محمدؐ اس کے اندر جاتے تو یہ جالا اور کبوتری کا گھونسلا ٹوٹ نہ جاتے اس لئے محمدؐ اس غار کے اندر نہیں ہو سکتے۔
جب باہر یہ بات چیت ہو رہی تھی۔ اندر ابوبکرؓ رسولؐ اللہ سے کہنے لگے یا رسولؐ اللہ! اگر باہر کھڑے کافر ذرا جھک کر اپنے پیروں کی طرف بھی دیکھیں تو ہم انہیں نظر آجائیں گے۔ رسولؐ اللہ نے ابوبکرؓ کو تسلی دی اور فرمایا "فکر نہ کرو۔ اللہ ہمارے ساتھ ہے"۔ ابوبکرؓ نے کہا۔ یا رسولؐ اللہ! مجھے اپنی فکر نہیں۔ میرا کیا ہے۔ میں تو آپ کی وجہ سے فکرمند ہوں۔ اس واقعہ کا ذکر خدا نے اپنے پاک کلام قرآن مجید میں بھی کیا ہے۔
رسولؐ اللہ! ابوبکرؓ کے ساتھ تین دن اس غار میں ٹھہرے چوتھی رات وہاں سے نکلے۔ اب ایک اور آدمی عبداللہ بھی ساتھ روانہ ہوا۔ جس کو ابوبکرؓ نے یثرب کا راستہ دکھانے کے لئے ملازم رکھا تھا۔ جب چلنے لگے تو رسولؐ اللہ نے مکہ کی بستی پر آخری نظر ڈالی ور کہا "تو مجھے سب بستیوں سے زیادہ پیاری ہے مگر تیرے رہنے والے مجھے یہاں رہنے نہیں دیتے"۔
چونکہ ابھی ڈر تھا کہ لوگ پیچھا کریں گے۔ اس لئے آپؐ نے راستہ بدل کر ساحل سمندر کے ساتھ ساتھ مدینہ کی طرف سفر شروع کیا۔
دو تین دن بعد ابوبکرؓ نے دیکھا کہ ایک شخص گھوڑا دوڑاتا ہوا پیچھے پیچھے آ رہا ہے اس آدمی کا نام سراقہ تھا۔ یہ بھی سو اونٹوں کے انعام کے لالچ میں آپ کی تلاش میں نکلا تھا۔ جب یہ آپ کے قریب پہنچا تو گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور زمین پر گر پڑا۔ جلدی سے اٹھا اور عربوں کے طریق کے مطابق تیروں سے فال نکالی فال الٹ نکلی۔ مگر سو اونٹ کا لالچ اتنا تھا کہ پھر سوار ہو کر پیچھے چل پڑا۔ قریب پہنچا تو دوبارہ گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور گھوڑے کے پیر ریت کے اندر دھنس گئے۔ ایک دفعہ پھر گر گیا۔ اس نے پھر فال نکالی فال دوبارہ الٹ نکلی تو اس نے اپنا ارادہ ترک کر دیا۔ تب اس نے رسولؐ اللہ اور آپ کے ساتھیوں کو آواز دی۔ اس آواز پر آپ ٹھہر گئے۔ جب سراقہ آپ کے پاس پہنچا تو سارا واقعہ سنایا کہ وہ آپ کو پکڑنے یا قتل کرنے کی نیت سے آیا تھا مگر اب واپس جا رہا ہے۔ حضورؐ نے اسے صرف اتنا کہا "سراقہ! اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا۔ جب تمہارے ہاتھوں میں کسریٰ کے کنگن ہوں گے"۔
سراقہ حیران ہوا اور کہنے لگا۔ کسریٰ بن ہرمز ایران کے بادشاہ کے؟ حضور نے فرمایاہاں ! سراقہ کو کچھ سمجھ نہ آئی اور وہ واپس چلا گیا۔
حضرت عمرؓ کے زمانہ میں جب ہم نے ایران کو شکست دی تو کسریٰ کے کنگن بھی ہاتھ آئے۔ حضرت عمرؓ کو رسولؐ اللہ کی یہ بات یاد آئی تو انہوں نے سراقہ کو بلوایا۔ جو مسلمان ہو چکا تھا اور اپنے سامنے کنگن اسے پہنائے۔ اس طرح رسولؐ اللہ کی پیشگوئی پوری ہوئی۔ ہمیں آپؐ کے مکہ سے روانہ ہونے کی خبر مل چکی تھی ہم مکہ سے آئے ہوئے مہاجر یثرب کے مسلمانوں کے ساتھ مل کر روز آپؐ کے استقبال کے لئے یثرب سے باہر جاتے اور بہت دیر انتظار کرنے کے بعد واپس آتے تھے۔ ایک دن ہم انتظار کرتے کرتے اپنے گھروں کو واپس آئے ہی تھے کہ ایک یہودی نے آواز دی تمہیں جس کا انتظار تھا وہ آ رہا ہے۔ ہم خوشی سے دیوانے ہو گئے بھاگم بھاگ باہر نکلے یثرب کے مسلمانوں کی چھوٹی چھوٹی بچیاں بھی ہمارے ساتھ تھیں جو خوشی سے گا رہی تھیں :۔
طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَیْنَاوَجَبَ الشُّکْرُ عَلَیْنَا
مِنْ ثَنِیَّاتِ الْودَاعٖ
مَادَعَی لِلّٰہِ دَاعٖ
"وداع کی گھاٹیوں سے چودھویں کا چاند ہمارے لئے چڑھا ہے اور ہم پر ہمیشہ کے لئے شکر واجب ہو گیا۔ کیونکہ خدا کی طرف ایک بلانے والے نے ہمیں بلایا ہے"۔
اور یہ حقیقت بھی ہے کہ ہماری اندھیری راتوں میں رسولؐ اللہ کا آنا چودھویں کے چاند کے چڑھنے سے بھی زیادہ خوشی کی بات تھی۔ خدا کا نبی خدا کا پیارا ہمارا محبوب ہمارا محمدؐ خیریت سے یثرب پہنچ گیا تھا۔ وہ اپنے شہر پہنچ گیا تھا وہ شہر جس کی قسمت میں خدا کے نبی کی پناہ گاہ ہونا لکھا تھا۔ اس دن کے بعد سے ہم اسے یثرب کی بجائے "مدینۃ النبیؐ" یعنی نبی کا شہر کہنے لگے۔ اور اب تو شاید بہت سے لوگوں کو علم ہی نہ ہو کہ کبھی اس شہر کو یثرب کہا جاتا تھا۔ اب ہم آزاد تھے۔ مسلمان آزاد تھے۔ اپنے اللہ کی مرضی پر چلنے کے لئے۔ اپنی زندگی اسلام کے مطابق گزارنے کے لئے اور اللہ کا پیغام دوسروں تک پہنچانے کے لئے۔
