مؤاخات
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ آمد کے بعد سب سے پہلے ہجرت کر کے آنے والے لٹے پٹے مہاجرین کو مدینہ کے رہنے والے انصار کے سپرد کیا اور ایک ایک مہاجر کو ایک ایک انصار کا بھائی بنا دیا۔ (اسے عرف عام میں مؤاخات کہا جاتا ہے) رسول اللہؐ نے مجھے ابو رویحہ خثعمیؓ کا بھائی بنایا اور ہمارا یہ تعلق جو خدا کے نبی نے باندھا تھا ہمیشہ قائم رہا اور ہم دونوں ایک دوسرے کو سگے بھائیوں سے بھی بڑھ کر چاہتے اور پیار کرتے تھے۔ اور جس حد تک ممکن ہوتا ایک دوسرے کے کام آنے کی کوشش کرتے تھے۔ میں جو مکہ کا ایک بے قیمت غلام تھا، جسے کوئی اپنے پاس بٹھانا بھی گوارا نہیں کرتا تھا۔ آج اسلام کی برکت سے ایک معزز برادری کا فرد بن چکا تھا۔
اذان کی ابتداء
مدینہ ہجرت کے بعد مسلمان اپنے عقیدے کے مطابق عبادت کرنے کے لئے بالکل آزاد تھے اور اسی مقصد کے لئے حضور اکرمؐ نے مدینہ تشریف لانے کے فوراً بعد ایک مسجدکی تعمیر شروع کی۔ جس کے لئے تمام مہاجرین اور انصار نے بڑے جوش و خروش سے کام کیا۔ اور کرتے بھی کیوں نہ جب کہ ان کا محبوب آقا خود ان کے ساتھ تعمیر کے کاموں میں مصروف تھا۔ میں وہ منظر کیسے بھول سکتا ہوں جب رسولؐ اللہ خود اس مسجد کی تعمیر کے لئے مٹی اٹھا اٹھا کر لاتے تھے۔ میں بھی ان کاموں میں شریک تھا اور اپنی ہمت کے مطابق پورے جوش اور جذبے سے یہ کام سرانجام دے رہا تھا۔ میں نہیں جانتا تھا کہ یہ مسجد جو آج ہم تعمیر کر رہے ہیں کل اسی میں اللہ تعالیٰ مجھے مؤذن کے طور پر اذان دینے کی سعادت بھی عطا کردے گا۔ چنانچہ جب نماز باجماعت کا آغاز ہوا تو نماز کے لئے لوگوں کو بلانے اور اکٹھا کرنے کے طریقے بھی سوچے جانے لگے۔ بعض کا خیال تھا کہ نماز کا وقت ہونے پر آگ جلا کر دھوئیں کے ذریعے سے لوگوں کو خبر کی جائے۔ بعض نے کہا کہ جھنڈا بلند کیا جائے اور بعض نے ناقوس بجا کر اطلاع کرنے کا مشورہ دیا۔ لیکن بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعض اصحاب کی رؤیا کے مطابق اذان دینے کے طریق کو پسند فرمایا اور مجھے بلا کر ارشاد فرمایا کہ اذان کے کلمات سیکھ کر نماز کے اوقات میں ان کے ذریعے سے لوگوں کو مسجد کی طرف بلایا کروں۔
یہ میری زندگی کی سب سے عظیم سعادت تھی جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی کہ میں مسجد نبوی میں مؤذن کے طور پر مامور کر دیا گیا۔ چنانچہ میں اپنا یہ فرض سرانجام دینے لگا۔ اللہ تعالیٰ نے کچھ تو فطری طور پر مجھے اونچی اور پرسوز آواز عطا کی تھی اور کچھ درد میری آواز میں اس محبت کی وجہ سے پیدا ہو جاتا تھا جو مجھے اپنے پیارے آقا اور اسلام سے تھی۔ یہی وجہ تھی کہ لوگ میری آواز میں اذان سننا پسند کرتے تھے۔ عورتیں اپنے کام چھوڑ کر اذان سننے لںتی اور بچے میرے اردگرد اکٹھے ہو جاتے تھے۔ لیکن ان سب باتوں کے باوجود میں جانتا ہوں کہ یہ سب لوگ اللہ کی محبت کی وجہ سے مجھ سے محبت کرتے تھے اور یہ اسلام کا پیغام ہی تھا جس نے مجھے ایسے محبت کرنے والے وجود عطا کر دیئے تھے۔
"ورنہ میں تو صرف ایک حبشی ہوں جو کل تک معمولی غلام تھا" (طبقات ابن سعد جز 3)
اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے مجھے ہجرت کے پہلے سال سے لے کر ۱۱ ھ تک باقاعدگی سے اس فرض کو ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائی اور سوائے شاذ کے اس تواتر کو کبھی نہیں توڑا۔ ہاں مدینہ سے میری غیر حاضری کی صورت میں اذان دینے کی ذمہ داری عبداللہؓ بن ام مکتوم کے سپرد ہوتی تھی۔ بعض حالات میں صبح کی نماز کیلئے مدینہ میں دو اذانیں بھی ہوتی تھیں مثلاً رمضان المبارک میں ایسی صورت میں پہلی اذان میں دیا کرتا تھا جو نماز کے وقت سے کافی پیشتر ہوتی تھی جبکہ دوسری اذان جو نماز کے لئے ہوتی تھی وہ عبداللہؓ بن ام مکتوم دیا کرتے تھے۔
ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ خیبر کی فتح کے بعد اسلامی لشکر آنحضرتؐ کی سربراہی میں مدینہ واپس آ رہا تھا کہ ہم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا۔ حضورؐ نے فرمایا کہ کوئی ایسا بندہ ہے جو صبح کی نماز کے لئے ہمیں جگانے کی ذمہ داری لے۔ اس پر میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ میں جاگ کر یہ ذمہ داری ادا کروں گا اور صبح کی نماز کے لئے سب کو جگا دوں گا۔ یوں سب لوگ بے فکر ہو کر سو گئے اور میں نے جاگنے کا ارادہ کر کے نفل نماز پڑھنی شروع کردی۔ کافی دیر تو نماز میں ہی گزر گئی اور اس کے بعد میں مشرق کی طرف منہ کر کے بیٹھ گیا تاکہ صبح کے آثار دیکھتے ہی سب کو جگا دوں۔
خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ باوجود سب تدبیروں کے میری بھی آنکھ لگ گئی اور جب صبح لوگوں نے مجھے جگایا تو دن طلوع ہو چکا تھا۔ ہم سب نے دن چڑھنے کے بعد نماز فجر ادا کی اور حضور اکرمؐ نے لوگوں کی دلی کیفیات کو بھانپ کر نماز کے بعد فرمایا کہ "جب تم میں سے کوئی شخص سوتا رہ جائے اور نماز قضا ہو جائے تو جس وقت آنکھ کھلے فوراً اس نماز کو پڑھ لے"۔
