In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » کتبِ سلسلہ » کتب خدام الاحمدیہ پاکستان » PDF ڈاؤن لوڈ کریں PDF ڈاؤن لوڈ کریں

سیدنابلالؓ

تصنیف حسن محمد خان، فرید احمد نوید۔ شائع کردہ : مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان
+ فہرست مضامین

بُتوں کے سائے میں

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نبوت کا اعلان فرما چکے تھے مخالفت کی آندھیاں چلنی شروع ہو گئی تھیں۔ کعبہ میں بُتوں کے ہجوم تھے۔ تین سو ساٹھ تھے یا تین سو پینسٹھ۔ ہر قبیلہ کا علیحدہ بت۔ ہر دن کا علیحدہ بت، ہر تقریب کا علیحدہ بت، دُکھوں کے بت، سُکھوں کے بت، ان میں دیوتا بھی تھے اور دیویاں بھی۔ لات، منات اور عزّیٰ سب سے محترم دیویاں تھیں۔

سارے عرب کے قبائل ہر سال مکہ آتے اور ایک خاص مہینہ ذوالحجہ میں حج کی رسومات ادا کرتے۔ یہ وہ دن ہوتے کہ جب کعبہ دارالامن ہوتا۔ کوئی کسی کو کچھ نہ کہہ سکتا۔ لڑائی جھگڑے سب بند۔قتل و خوں ریزی کے دلدادہ عرب یہ دن بڑے امن و سکون سے گزارتے۔ کعبہ کے مجاوروں کے کمائی کے دن بھی یہی ہوتے تھے۔ انہی دنوں منڈی بھی لگتی۔ شام کے سوداگر آتے، یمن سے بحری تاجر پہنچتے۔ یمن کے تاجر اپنا مال لاتے اور اِس مُلک سے بھی اور اُس مُلک سے بھی یا شاید ہر مُلک سے مال آتا۔ غُلام بھی بِکنے کے لئے آیا کرتے تھے۔ غلّہ، کپڑا، مرچ مصالحہ، مال مویشی سب بِکتے۔ دیوی دیوتاؤں کے بُت بھی اِسی قسم کی منڈیوں میں بِکا کرتے۔

اُنہی دنوں کا ذکر ہے کہ میں ایک مرتبہ ابوجہل کے غلام کے ساتھ کعبہ کی دیوار کے سایہ تلے بیٹھا تھا کہ ابوجہل وہاں سے گزرا۔ ہنستے ہوئے کہنے لگا۔

"لو میاں ! یہ ہے جو اللہ میاں سے باتیں بھی کرتا ہے"۔

اپنے مالک کی آواز سُن کر اُس کا غُلام تو جھٹ کھڑا ہو گیا اور اپنے آقا کے حُکم کا انتظار کرنے لگا لیکن بات ہنسی میں اُڑ گئی۔

"لیکن پانی پر بھی تو چل کر دکھاؤ"۔

یہ آواز میرے آقا اُمیہ بن خلف کی تھی جو آج جہنم میں پڑا جَل رہا ہے۔

پھر مَیں نے دیکھا کہ عبداللہ کے بیٹے محمد(ﷺ) تنہا خاموش اور سرجھکائے چلے آ رہے ہیں اور وہ کعبہ سے مُڑ کر پہاڑی کی طرف چلے گئے۔ لوگ کہا کرتے کہ یہاں ایک فرشتہ آ کر اُن سے باتیں کرتا ہے۔ ابوسُفیان بھی وہیں تھا۔ وہ سنجیدہ قسم کا آدمی تھا۔ یونہی ہنسی میں بات اُڑانا اس کی عادت نہیں تھی۔ اس کے چہرہ پر پریشانی نظر آ رہی تھی۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اس قسم کا "کُفر" اگر پھیلتا گیا تو ہمارے دیوتا ہم سے ناراض ہو جائیں گے۔ اُس نے ابولہب کو کچھ غصے کی نظروں سے دیکھا اور اسے کہا۔

"یہ تمہارا ہی تو بھتیجا ہے اسے سیدھا کرو۔ یہ تمہارے خاندان کا فرد ہے"۔

ابولہب اس وقت کچھ نشہ کی حالت میں تھا۔ کہنے لگا "چالیس برس کا ہو گیا ہے ذرا عقل نہیں آئی۔ ہے تو میرا ہی بھتیجا لیکن خاندان کے نام کو بٹہ لگا گیا ہے۔ پاگل کہیں کا۔ ابھی کل اپنے غلام کو بیٹا بھی بنا لیا ہے۔ پاگل پن نہیں تو اور کیا ہے جو کوئی اس کے در پر جاتا اور جو مانگتا ہے کبھی انکار نہیں کرتا۔ ہر ایرے غیرے کو کھانا کھلا دیتا ہے۔ دَسیوں آ کر اسے یوں بیوقوف بنا کر چل دیتے ہیں۔ کسی کو بکری، کسی کو بھیڑ، کسی کو کچھ کسی کو کچھ۔ خالی ہاتھ اس کے در سے کوئی نہیں جاتا۔ میں کیا کروں۔ بھتیجا پاگل ہو جائے تو چچا کیا کرے؟"

یہ کہہ کر ابولہب نے اپنے ارد گرد ساتھیوں کو اس نظر سے دیکھا کہ شاید وہ اس مشکل کا کوئی حل بتائیں۔ پریشانی بڑھتی جا رہی تھی اور اسی عالم میں ابوسفیان کا بازو پکڑ کر کچھ متفکر ہو کر بولا "ابوسفیان! سوچو تو سہی۔ جوان آدمی، مضبوط اور صحت مند۔ بیوی بھی مالدار اور دولت مند اور شہر میں عزت و احترام۔ کیا چاہیے اور اسے؟ اب دیکھو پہاڑ پر گیا ہے۔ غار میں بیٹھا سردی سے کانپ رہا ہوگا۔ سمجھتا ہے کہ فرشتہ آ کر اس سے باتیں کرتا ہے۔ میں تو سمجھتا ہوں اس کے کان بجتے ہیں ا ور یہ سمجھتا ہے کہ فرشتہ ہے"۔

یہ بات سن کر سب فکرمند ہو گئے۔ آخر جنون تو جنون ہے۔ پاگل پاگل کہہ دینے سے تو کسی کا پاگل پن جاتا نہیں اور کہنے سننے سے پاگل اچھے کب ہوئے ہیں۔ کچھ لمحوں بعد ابولہب پھر فکرمندی کے لہجہ میں بولا "ابھی کون سا زیادہ عرصہ گزرا ہے؟ سال بھر پہلے ہی کی تو بات ہے تم سب اسے جانتے تھے اس کی عزت بھی کرتے تھے۔ اس وقت تم لوگ اس کا ٹھٹھا مخول بھی نہیں اڑاتے تھے۔ اور تو اور تم لوگ اس کے پاس اپنے جھگڑے تک تو طے کرانے لے جایا کرتے تھے۔ آخر اسے سیانا ہی سمجھتے تھے نا۔ تبھی تو تم لوگ اس کے پاس جاتے تھے"۔

ابوسفیان بولا "اچھا ٹھیک ہے۔ ہمارے دیوی دیوتا تو خود اس سے سمجھ لیں گے۔ لیکن یہ جو غریب فقیر یا غلام غلمٹے اس کے ساتھ چمٹنے شروع ہوئے ہیں۔ ان سے تو میں نمٹوں گا جو کنگلا کنگال ہے اس کے ساتھ ہو جاتا ہے"۔

ابھی یہ گفتگو ہو رہی تھی کہ عمارؓ وہاں آ گئے۔ عمارؓ کوئی امیر یا سرمایہ دار نہ تھے لیکن غلام بھی نہ تھے آزاد تھے اور اسلام لا چکے تھے۔ ان ظالموں نے اُنہیں پکڑ لیا اور گِرالیا۔ لیکن اُن کا سر نہ جھکا سکے۔ وہ بھی اگر غلام ہوتے تو جھکی گردن، نیچی آنکھوں اور دوہری ٹانگوں کو اپنی جان کی حفاظت سمجھتے لیکن وہ تو آزاد تھے۔ مگر غربت بھی تو جرم ہے۔ وہ غریب کیوں تھے۔ اس لئے اُن سرداروں نے انہیں پکڑلیا۔ اِن فرعونوں نے اُنہیں کہا کہ "بتاؤ محمدؐ تمہیں کیا سِکھاتا پڑھاتا ہے؟"

اُنہوں نے بڑے سکون سے جواب دیا کہ "وہ کہتے ہیں۔ اللہ ایک ہے اور ہمیں اُسی کی عبادت کرنی چاہیے، ہم سب اُسی کے بندے ہیں اور اِسی طرح برابر جیسی کنگھی کے دَندانے"۔

یہ سُن کر میری ہڈیاں تک سُن ہو گئیں۔ مَیں نے سوچا اچھا! ہم سب اللہ کے بندے ہیں ؟ ہم سب برابر ہیں۔ مَیں اور امیہ برابر۔ عمار، ابوسفیان اور ابولہب برابر۔ لیکن میں تو مجبور تھا۔ غلام جو ہوا۔ لیکن امیہ! امیہ تو سردارِ مکہ تھا۔ وہ اِسے کیسے برداشت کر لیتا۔ اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا چہرہ سرخ ہو گیا۔ مَیں نے سوچا۔ عمارؓ میں یہ جرأت کہاں سے آ گئی۔ وہ یہ بھی تو کہہ سکتا تھا کہ "محمدؐ ہمیں عِبادت کی تعلیم دیتے ہیں۔ ہمیں سچ بولنے کی نصیحت کرتے ہیں۔ ہمسایہ سے نیک سلوک کرنے کو کہتے ہیں "۔

اور یہی سُن کر یہ ظالِم اُنہیں چھوڑ چھاڑ دیتے۔ لیکن عمارؓ نے تو انہیں ساری کتاب ہی کھول کر سنا دی۔

ابوسفیان کے پاس ایک کوڑا ہوا کرتا تھا جب عمارؓ نے یہ بات کہی کہ محمدؐ ہمیں ایک خُدا کی عبادت سکھاتے ہیں اور اُس کے بندے سب برابر ہیں تو اُس نے عمارؓ کی کمر پر وہی کوڑا رسید کر کے کہا "ایک خُدا! ہمارے تو تین سو ساٹھ خُدا ہیں۔ ہمارے محافظ اور ہمارے خالق اور ہمارے رازق"۔

صفحہ نمبر: 2 (کل صفحات: 23)