غزوات میں شرکت
کفار اور مشرکین کی طرف سے مسلمانوں پر بہت ہولناک مظالم ڈھائے گئے تھے۔ اور اب جبکہ مسلمان مدینہ ہجرت کر چکے تھے ان مظالم کا سلسلہ ایک اور رنگ میں شروع ہو گیا۔ کفار مکہ نے اسلام کو نابود کرنے کے ناپاک ارادے سے مدینہ کی طرف حملے کرنے شروع کر دیئے اور اس سلسلہ میں بہت سے معرکے ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے مظلوم مسلمانوں کو اپنے دفاع کے لئے جنگ کرنے کی اجازت دے دی تھی اس لئے اب ہم سب بڑی بے جگری کے ساتھ کفار کے مقابلے کے لئے نکلتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے تعداد میں کم ہونے کے باوجود ہمیشہ کفار کو ذلت آمیز شکست دیتے تھے۔ میں جو اپنے آقا کا ایک کمزور سا غلام تھا میں بھی ہر ایک معرکے میں اپنے آقا کے ساتھ شریک رہا۔ اور جس حد تک خدا نے توفیق دی اپنی خدمات پیش کرتا رہا۔
غزوئہ بدر اس سلسلہ کا پہلا معرکہ تھا جو مدینہ کے قریب بدر نامی ایک مقام پر پیش آیا۔ جس میں رسول ؐ اللہ کی سرکردگی میں صرف 313 نہتے مجاہدین نے 1000 مسلح کفار کو عبرت ناک شکست دی۔ اور یہ غزوہ میرے لئے اس لحاظ سے بھی یادگار ہے کہ اسی غزوہ کے بعد جب کفار شکست کھا کر اپنی جانیں بچانے کے لئے میدانِ جنگ سے فرار ہو رہے تھے تو اچانک میں نے دیکھا کہ ان بھاگنے والوں میں میرا ظالم مالک امیہ بن خلف اور اس کا بیٹا بھی تھا۔ اسلام اور رسولؐ خدا کے سب سے بڑے دشمن کو بھاگتا دیکھ کر مجھ سے رہا نہ گیا۔ اور میں نے " لَا نَجَوْتُ اِنْ نَجَا اُمَیّہ" کا نعرہ لگایا (یعنی اگر امیہ بچ کر چلا گیا تو میرا وجود بے فائدہ ہوگا) اور اپنے چند ساتھیوں کو ساتھ لے کر اس کا پیچھا کیا اور اسے جا لیا۔ اور تھوڑی ہی دیر کے بعد اسلام کا یہ بدترین دشمن خاک و خون میں لتھڑا ہوا زمین پر بے جان پڑا تھا۔ یہ وہی امیہ تھا جو خود کو خدا سمجھا کرتا تھا اور اپنی طاقت کے زعم میں کمزور اور مجبور مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑا کرتا تھا۔ جانوروں کی طرح انہیں پیٹتا تھا۔ گلیوں میں گھسیٹتا تھا اور گلے میں رسی ڈال کر محلے کے لڑکوں کے سپرد کر دیتا تھا۔ تاکہ وہ اس مظلوم کے ساتھ جو چاہیں سلوک کریں۔ اور آج وہی ظالم اپنے گناہوں کی پاداش میں بدر کے میدان میں بے یارومددگار پڑا تھا۔ اور اس عبرت ناک انجام کا وہ خود ذمہ دار تھا۔ کیونکہ ظلم کے جو بیج اس نے اپنے ہاتھوں سے بوئے تھے لازم تھا کہ وہ ان کا کڑوا پھل بھی کھاتا۔
سچ ہے کہ ظلم خواہ کتنا ہی بڑھ جائے اس کی قسمت میں مٹنا ہی لکھا ہے۔ پس ظلم کا ایک سیاہ باب آج ہمیشہ کے لئے بند ہو چکا تھا۔
