دیگر غزوات اور فتح مکہ
غزوئہ بدر کے بعد مسلمانوں اور کفار کے درمیان اور بھی بہت سے غزوات ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر ایک موقعہ پر میں بھی اپنے آقا کے آگے پیچھے دائیں اور بائیں لڑنے والوں میں شامل تھا۔ غزوئہ احد اور غزوئہ غطفان میں بھی حضورؐ کے ساتھ موجود تھا۔ غزوئہ خندق کی کھدائی کے موقعہ پر میں بھی دیگر اصحاب کے ساتھ خندق کی کھدائی کا کام کرتا رہا۔
غزوئہ خندق کے بعد غزوئہ بنو قریظہ کی طرف روانگی کے لئے بھی حضور نے اعلان کرنے کے لئے مجھے ہی چنا اور فرمایا کہ اے بلال! مسلمانانِ مدینہ کو آگاہ کردو کہ جو شخص بات ماننے والا اور اطاعت کرنے والا ہے وہ فوراً تیار ہو جائے اور نماز بنو قریظہ کی آبادیوں میں پہنچ کر ادا کرے۔
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ فتح مکہ کے موقعہ پر اللہ تعالیٰ نے مجھے رسولؐ اللہ کی معیت عطا فرمائی اور مکہ میں داخلے کے وقت بھی اور اس سے بھی بڑھ کر خانہ کعبہ میں داخل ہوتے ہوئے میں ان چند خوش نصیبوں میں سے تھا جو حضورؐ کے ساتھ خانہ کعبہ کے اندر گئے تھے۔
رسول اللہ نے اس موقع پر مجھے ایک عظیم اعزاز سے بھی نوازا۔ آپ نے اپنے اس کمزور غلام کے بارے میں اعلان فرمایا کہ جو کوئی بلال کے جھنڈے کے نیچے آ جائے گا۔ اُسے امان دی جائے گی۔
میں خدا کی قدرت پر حیران تھا کہ وہ کمزور غلام جو کل تک مکہ کی گلیوں میں خود بے امان تھا آج اہل مکہ کے لئے امان کی ضمانت بن گیا تھا۔ مجھ پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے والے آج میری امان کے محتاج تھے۔ واقعی خدا تعالیٰ کے کام انسان کے فہم اور ادراک سے بہت بالا ہوا کرتے ہیں۔
حضور اکرمؐ نے بعد میں مجھے ارشاد فرمایا کہ خانۂ کعبہ کی چھت پر چڑھ کر اذان دوں اور خدائے واحد کا نام اس بستی میں بلند کروں جہاں چند سال پیشتر خدا کا نام لینے پر مظالم کی انتہاء کر دی جاتی تھی۔ وہ کیفیت بیان سے باہر ہے کہ میں نے یہ اذان کس طرح سے دی۔ میں کیسے بھول سکتا تھا کہ یہ وہی مکہ ہے جہاں خدائے واحد کا ذکر کرنے پر مجھے تپتی دھوپ میں لٹایا جاتا تھا اور کوڑے لگائے جاتے تھے۔
میرے ساتھیوں کو کوئلوں پر جلایا جاتا تھا اور بعض کو اسی جرم کی پاداش میں قتل بھی کر دیا گیا تھا۔ آج اسی مکہ کے مرکز سے جب میں اللہ اکبر کی صدا بلند کر رہا تھا تو بے اختیار یہ سوچ رہا تھا کہ اللہ واقعی بہت بڑا ہے جس نے اپنے رسول کو ہزاروں مخالفتوں اور طوفانوں کے باوجود فتح عطا فرمائی اور کوئی جتھہ اور گروہ اس کے بڑھتے ہوئے قدموں کو نہ روک سکا۔
میری آواز جوں جوں بڑھ رہی تھی اس کا جوش اور ولولہ بھی بڑھتا چلا جا رہا تھا۔ اور بتوں کے پوجنے والے نادان کفار مکہ کے دل اذان کے ایک ایک لفظ پر کانپ سے جاتے تھے۔ وہ جو 360 بتوں سے مدد کی امید لگائے بیٹھے تھے اب یہ جان چکے تھے کہ حقیقی خدا ایک ہی ہے اور ان کے بت اس کے مقابل پر کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتے۔
چنانچہ ان میں سے ایک نے تو بعد میں یہاں تک کہہ دیا کہ شکر ہے کہ میرا باپ پہلے مر گیا تھا ورنہ آج وہ کعبہ سے بلند ہونے والے الفاظ شاید برداشت نہ کر پاتا۔
میں خوش قسمت تھا کہ میں آج مکہ کی گلیوں میں خدا کا نام بلند کرنے کی توفیق پا رہا تھا۔ اور یہ آواز لمحہ بہ لمحہ پھیلتی ہی چلی جا رہی تھی۔
اَﷲُ اَکْبَرُ اَﷲُ اَکْبَرُلَا اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ
