In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » کتبِ سلسلہ » کتب خدام الاحمدیہ پاکستان » PDF ڈاؤن لوڈ کریں PDF ڈاؤن لوڈ کریں

سیدنابلالؓ

تصنیف حسن محمد خان، فرید احمد نوید۔ شائع کردہ : مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان
+ فہرست مضامین

آنحضورﷺ کی وفات

میری زندگی کا سب سے خوبصورت دن وہ تھا جب میں اپنے آقا حضرت محمد مصطفی ؐ کے قدموں میں پہنچا تھا اور اسی زندگی میں یہ تکلیف دہ دن دیکھنا بھی مقدر تھا کہ مجھے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے محبوب آقا سے جدائی کا دکھ دیکھنا پڑ رہا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ اپنے آقا کی وفات پر میری زبان سے بے اختیار یہ کلمات نکلے تھے کہ

"کاش میری ماں مجھے جنم ہی نہ دیتی اور اگر جنم دیا تھا تو کاش میں آج سے پہلے مر گیا ہوتا تاکہ حضورؐ کی رحلت کے اس منظر کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھنا پڑتا"۔

میں کیسے بھول سکتا ہوں کہ میں جو ہر نماز کی اذان دینے کے بعد اپنے پیارے آقا کے دروازے پر جا کر یہ صدا دیا کرتا تھا کہ الصلوٰۃ یا رسول اللہ یعنی یا رسول اللہ! نماز تیار ہے۔ حضور اکرمؐ کی وفات سے تین روز قبل جب آپ کافی علیل تھے آپ کے دروازے پر گیا اور حسب معمول نماز کے لئے اطلاع دی۔

میری بات سن کر حضورؐ نے فرمایا کہ "ابوبکرؓ سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں "۔

آپؐ کی علالت اور غیر حاضری کے تصور سے درد کی جو کیفیت مجھ پر گزری وہ بیان سے باہر ہے لیکن اس سے بھی بڑا صدمہ ابھی ہمارا منتظر تھا اور پھر بالآخر 12 ربیع الاول ۱۱ ھ؁ کو پیر کے دن وہ واقعہ ہو گیا۔ حضور اکرمؐ کی وفات کیا ہوئی، ہماری تو دنیا اندھیر ہوگئی۔ مدینہ تاریک ہو گیا اور ہمارا پیارا آقا! ہمیں الوداع کہہ کر اپنے محبوب حقیقی کے حضور حاضر ہو گیا۔ حسانؓ بن ثابت نے تو یہ شعر کہہ کر اپنی دلی کیفیت بیان کر دی کہ

کُنْتَ الْسَّوَادَ لِنَاظِرِیْ فَعَمِیْ عَلَیْکَ النَّاظِرٗ

مَنْ شَائَ بَعْدَکَ فَلْیَمُتْ فَعَلَیْکَ کُنْتُ اُحَاذِرٗ

"یعنی اے رسول! تو میری آنکھ کی پتلی تھا اور تیری وفات کے سبب میری آنکھیں اندھی ہو گئی ہیں۔ اب تیرے بعد جو چاہے مرے مجھے تو تیری وفات کا خوف تھا۔ جو واقع ہو گئی"۔

لیکن میں جانتا ہوں کہ ہم سب کی یہی حالت تھی بلکہ شاید اس سے بھی کچھ بڑھ کر۔ جس کا بیان الفاظ میں ناممکن ہے۔ اسے صرف وہی دل جان سکتا ہے جو ایسی کسی کیفیت سے گزرے۔

حضور کی وفات کے بعد مدینہ مجھے ایک ویرانے کی طرح لگتا تھا۔ اور جب بھی میں باہر نکلتا تھا درد کی کیفیت بہت بڑھ جایا کرتی تھی کیونکہ مدینہ کی ہر گلی ہر موڑ سے مجھے اپنے آقا کی یاد آ جاتی تھی۔ میرے لئے اب اس بستی میں رہنا ناممکن سا ہو گیا تھا چنانچہ ایک روز میں ہمت کر کے خلیفۃ المسلمین حضرت ابوبکر صدیقؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور درخواست کی کہ مجھے شامی سرحدوں کی طرف ہونے والے جہاد میں شرکت کی اجازت مرحمت فرمائیں تاکہ میرے دکھ میں کچھ کمی واقعہ ہو۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے میری درخواست سنی اور پھر بڑی محبت سے مجھے مدینہ میں ہی رہنے کا ارشاد فرمایا۔ آپ نے فرمایا کہ "اے بلال! اس بڑھاپے میں ہمیں جدائی کا داغ نہ دو۔ اور یہیں مدینہ میں ہی رہو"۔

خلیفۂ وقت کا یہ ارشاد سن کر میں نے اپنا ارادہ بدل دیا اور شام جانے کا خیال دل سے نکال دیا۔ تاہم حضور اکرمؐ کی وفات کے بعد میں نے مسجد نبویؐ میں اذان دینا بند کر دی کیونکہ جب میں اذان میں "اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اﷲِ" کہتا تھا تو رسولؐ اللہ کو موجود نہ پا کر مجھ پر سخت رقت طاری ہو جاتی تھی۔ اور میں اذان مکمل نہ کر پاتا تھا۔ یہ محبت کی دنیا کے قصے ہیں۔ عام آدمی ان باتوں کو نہیں سمجھ سکتا لیکن ایک عاشق صادق اس بات کو بڑی اچھی طرح سے جان سکتا ہے۔

حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ارشاد پر میں مدینہ میں رک گیا لیکن حضور اکرمؐ کی وفات کے بعد میں نے اذان دینا بند کر دیا۔

صفحہ نمبر: 22 (کل صفحات: 23)