In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » کتبِ سلسلہ » کتب خدام الاحمدیہ پاکستان » PDF ڈاؤن لوڈ کریں PDF ڈاؤن لوڈ کریں

سیدنابلالؓ

تصنیف حسن محمد خان، فرید احمد نوید۔ شائع کردہ : مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان
+ فہرست مضامین

مد ینہ سے ہجرت اور وفات

حضرت بلالؓ کی زندگی کے واقعات آپ نے سنے اور دیکھا کہ کس طرح ایک معمولی غلام کی زندگی سے وہ "سیدنا بلال" بنے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ارشاد پر آپ مدینہ میں رک گئے لیکن اداسی اتنی تھی کہ آپ کے لئے مدینہ میں رہنا بہت مشکل تھا۔ چنانچہ خلیفۂ اوّل کی وفات کے بعد جب حضرت عمرؓ خلیفہ بنے تو حضرت بلالؓ نے ایک مرتبہ پھر اپنی درخواست آپ کے سامنے پیش کی۔ آپ کی دلی کیفیات کو دیکھتے ہوئے حضرت عمرؓ نے آپ کو شام کی طرف جانے کی اجازت دے دی اور آپ مدینہ سے رخصت ہو کر شام چلے گئے۔ جہاں اسلامی لشکر کے ساتھ آپ نے بعض مہمات میں بھی حصہ لیا۔ آپ نے ایک سے زائد شادیاں کیں لیکن آپ کے ہاں کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ سیدنا بلالؓ کی وفات دمشق میں ۲۰ھ؁میں قریباً ستر سال کی عمر میں ہوئی اور آپ کو باب الصغیر کے قریب ایک قبرستان میں دفن کیا گیا۔

یہ قبرستان دمشق میں بہت معروف ہے۔ اور زائرین کا ایک ہجوم سیدنا بلالؓ کی قبر پر دعا کرنے کے لئے آتا ہے۔ ہم خود بھی جب اس مزار مبارک پر حاضری دینے کے لئے پہنچے تو ایک عجیب کیفیت ہماری منتظر تھی۔ بہت سی قبروں کے درمیان ایک مزار بنا ہوا تھا جس کی سیڑھیاں اُتر کر نیچے جانا پڑتا ہے۔ وہاں سیدنا بلالؓ کی قبر موجود ہے۔ ہم نے دعا کے لئے ہاتھ بلند کئے اور اپنے عظیم آقا اور اس کے عظیم غلام کے لئے دعا کی۔ تھوڑی دیر کے بعد وہاں مامور ایک شخص نے اذان دینا شروع کی اور خوبصورت اذان سے مزار کا وہ کمرہ گونجنے لگا۔ یہ بلالی اذان تو نہیں تھی لیکن الفاظ وہی تھے جن کا بلالؓ کے ساتھ ایک ایسا گہرا اور اٹوٹ تعلق تھا کہ ان کی وفات کے بعد بھی ان کے مزار میں ان الفاظ کی گونج سنائی دے رہی تھی۔ ہم نے اپنے گردوپیش پر نگاہ دوڑائی تو معلوم ہوا کہ وہاں موجود ہر ایک آنکھ نم تھی۔ اور مؤذن کی صدا بلند سے بلند تر ہوتی جا رہی تھی۔

اَﷲُ اَکْبَرُ اَﷲُ اَکْبَرُ

لَا اِلٰہَ اِلَّا اﷲُُ

اگلا صفحہ
صفحہ نمبر: 23 (کل صفحات: 23)