In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » کتبِ سلسلہ » کتب خدام الاحمدیہ پاکستان » PDF ڈاؤن لوڈ کریں PDF ڈاؤن لوڈ کریں

سیدنابلالؓ

تصنیف حسن محمد خان، فرید احمد نوید۔ شائع کردہ : مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان
+ فہرست مضامین

دل بدل گیا

مجھے یاد ہے اور خوب یاد ہے کہ ابوسفیان غصے میں بھرا کبھی ادھر جاتا کبھی ادھر اور پھر اگلا لمحہ۔ ہاں اگلا لمحہ۔ اُسی لمحہ میری زندگی میں انقلاب آ گیا۔ ابوسفیان غصے میں بھرا بک رہا تھا کہ "محمدؐ یہ نہیں سمجھتا کہ یہی بت ہماری روزی اور ہماری کمائی کا باعث ہیں۔ ہر سال سارے عرب کے قبائل انہی بتوں کی پرستش کے لئے یہاں آتے ہیں۔ ان پر چڑھاوے چڑھاتے ہیں اور پھر ہم سے ایسے ہی بت خرید کر بھی لے جاتے ہیں۔ یہی ہمارے معبود بھی ہیں اور یہی ہمارا رزق بھی ہے۔ کیا ہم غریبوں اور کمزوروں کی دیکھ بھال نہیں کرتے۔ اے عمارؓ! کیا تمہارا حصہ تمہیں نہیں ملتا؟ اور دیکھو عمارؓ اگر ہمارے تین سو ساٹھ بتوں کی جگہ ایک خدا آ گیا جو نہ نظر آتا ہے اور نہ اس کی آواز سنائی دیتی ہے اور محمدؐ کہتا ہے کہ وہ ہر جگہ موجود ہے۔ یہاں بھی ہے۔ وہاں بھی ہے۔ اس باغ میں بھی اُس گھر میں بھی۔ مکہ میں بھی یثرب میں بھی اور یروشلم میں بھی۔ سورج میں بھی اور چاند میں بھی۔ تو پھر ہم مکہ والے کہاں جائیں گے ہمارا کیا بنے گا۔ جب سب کا خدا ان کے گھروں میں ہی ہوگا۔ تو مکہ والے تو لٹ گئے۔ ہم کو کون پوچھنے والا ہوگا۔ سوچ تو سہی عمارؓ! محمدؐ کی بات کیا ہمیں برباد نہ کردے گی؟"

ابوسفیان کی تقریر سے ایسا معلوم ہوا کہ گویا بات ختم ہو گئی۔ لیکن میرا آقا امیہ بن خلف بیچ میں کود پڑا اور مجھے آواز دی۔ میرے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ میں نے دیکھا کہ امیہ اپنی ریشمی قبا سرسراتے ہوئے عمارؓ کے پاس پہنچا اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا۔

"ابے عمار!ؔ یہ بلال۔ یہ میرا غلام۔ اسے میں نے رقم دے کر خریدا ہے۔ یہ میرے برابر ہے؟ ذرا سوچ کر بتاؤ"۔

امیہ کا سوال! اس کا جواب کیا تھا۔ امیہ اور بلال برابر ہیں ؟ میری تو حیثیت ہی کچھ نہ تھی۔ امیہ کے سوال کے دو جواب ہو ہی نہیں سکتے تھے۔ ایک ہی جواب تھا۔ امیہ آقا۔بلال غلام، امیہ آسمان۔ بلال زمین۔ یہ دونوں برابر ہو جائیں یہ کبھی نہیں ہو سکتا۔ عمارؓ تو اس وقت عجیب بدھو سا لگ رہا تھا۔ لیکن کہنے لگا "محمدؐ ہمیں سکھاتے ہیں سب انسان، سب قومیں، سب نسلیں، اللہ کے حضور سب برابر ہیں "۔

اُس کے جواب کے بعد سنّاٹا چھا گیا۔

پھر مجھے امیہ کی آواز سنائی دی۔ "بلال" اور مجھے اس وقت کیا معلوم تھا کہ یہی آوازمیری دُنیا بدل دے گی۔ میرا خدا۔ میرا اللہ ہی عالم الغیب ہے۔

میں بلال۔ اپنے آقا کا حُکم سُن کر آ گیا اور اس نے کہا "بلال! اس احمق کو سردارِ مکہ اور بلال کے درمیان فرق بتاؤ۔ یہ لو کوڑا اور اس کے مُنہ پر مارو۔ اسے سمجھ آ جائے گی کہ امیہ اور بلال برابر نہیں ان میں فرق ہے"۔

عمارؓ نے مجھے دیکھا اور بڑے سکون سے منہ میری طرف کر دیا اور میں حواس باختہ ہو گیا۔ اور آج بھی مجھے وہ واقعہ یاد ہے۔ لیکن اسے دوہرانے کے لئے میرے پاس الفاظ نہیں کہ اس وقت مجھے کیا ہو گیا۔ میری آنکھوں کے آگے اندھیرا تھا۔ عمارؓ نہیں تھا۔ لیکن ایک لمحہ بعد ہی مجھے ہوش آگیا۔ عمارؓ سکون اور چین کا مجسمہ میرے سامنے کھڑا تھا اور یہی وہ لمحہ تھا کہ میرے آقا بدل گئے۔ امیہ بن خلف میرے جسم کا مالک رہ گیا۔ محمدؐ پر میری روح قربان ہو گئی اور اس روح کی غلامی پر آج بھی میں فخر کرتا ہوں۔ اب میں محمدؐ کا غلام تھا۔

کوڑا میرے ہاتھ سے گر گیا۔

مجھے ان سانسوں کی آواز آ رہی تھی۔ انہوں نے جو دیکھا۔ وہ اسے خوب سمجھ گئے اور میں بھی سمجھ گیا کہ میں کیا کر گیا ہوں۔

یہ ایک غلام کی بغاوت تھی۔

عمارؓ جھکے کوڑا اٹھایا اور میرے ہاتھ میں تھما کر کہا "بلال! لو یہ کوڑا اور اپنے آقا کے حکم کی تعمیل کرو۔ وگرنہ بلال!۔۔۔ بلال! یہ لوگ تمہیں موت کی نیند سلادیں گے"۔

لیکن میں نے کوڑا پھینک دیا اور میرا دل چین اور سکون سے بھر گیا۔ میں نے ان آنکھوں سے ابوسفیان کو دیکھا۔ اس نے امیہ کو اشارہ کیا اور پھر میں نے ہندہ ابوسفیان کی بیوی کو بھی دیکھا جسے آج تک میں نے نظر بھر کر نہ دیکھا تھا۔ وہ زہر بھری مسکراہٹ کے ساتھ ہنسی اور امیہ اپنے غصہ کی وجہ سے بول نہ سکا۔ چند لمحوں میں طوفان گزر گیا تو بولا "بلال میرے گھر میں صرف میرے ہی دیوتاؤں کے لئے جگہ ہے وہاں کوئی اور خدا نہیں آ سکتا"۔

اور پھر اس نے ڈھلتے ہوئے سورج پر نظر کی اور کہا "تمہاری مرمت ہوگی لیکن آج نہیں کل۔ آج سورج ڈھل گیا ہے۔ کل کی دھوپ میں تم بالکل درست ہو جاؤ گے"۔

صفحہ نمبر: 3 (کل صفحات: 23)