مصائب کے پہاڑ
پھر میرے ہاتھ رسیوں سے باندھ دیئے گئے۔ میری گردن میں رسی ڈال دی گئی اور جس خوشی سے مَیں نے اس دن یہ رسیاں بندھوائیں۔ اس جیسی خوشی مجھے پہلے کبھی نہیں ملی تھی۔ مجھے غلاموں کی کوٹھڑی میں پھینک دیا گیا اور اب مجھے موت کا انتظار تھا۔
موت کے انتظار میں بہت سے چراغ روشن ہو جاتے ہیں۔ مجھے اپنے والد کی یاد آئی جبکہ وہ ایک رنگریز کے بڑے بڑے کڑاہوں میں رنگریزی کا کام کرتے تھے۔ اس ہولناک محنت کی وجہ سے وہ قبل از وقت بوڑھے ہو گئے۔ اور پھر مجھے میری ماں یاد آئی جنہوں نے مجھے جنم دیا۔ وہ کھانسی کی مریض تںیی۔ اور کھانستے کھانستے ہی انہوں نے دم توڑ دیا تھا۔ میرے ماں باپ بحیرئہ قلزم کے اس پار حبشہ کے ملک سے لائے گئے تھے۔ وہ غلام کیسے بنے۔ یہ بات انہوں نے مجھے کبھی نہ بتائی البتہ میری ماں نے مجھے یہ ضرور بتایا کہ تمہارے حمل کے وقت تم آزاد تھے لیکن تمہاری پیدائش غلامی کے دوران ہوئی اسی وجہ سے مجھے ہمیشہ یہ یقین رہا کہ میری ابتداء تو آزادی سے ہی ہوئی تھی۔
اب میں اس اندھیری کوٹھڑی میں رسیوں سے بندھا پڑا تھا۔ میری کھال کٹی جا رہی تھی اور میں اگلے دن کے سورج کے انتظار میں تھا۔ مکہ کا سورج مجرموں کے لئے موت کا پیغام ہوا کرتا تھا۔ پھر مجھے عمارؓ یاد آ گیا کیا یہ سزا اس نے دلوائی تھی؟ نہیں نہیں۔ اس نے تو مجھے کوڑا اٹھا کر دیا تھا تاکہ میں سزا سے بچ جاؤں۔ کیا یہ میرا اپنا فیصلہ تھا؟ مگر غلام کو فیصلہ کا حق ہی کب ہوتا ہے وہ تو دوسروں کے فیصلوں پر عمل کرتا ہے۔ کیا یہ میری جرأت تھی یا میری حماقت تھی کہ میں نے بغاوت کردی؟ نہیں یہ میری جرأت بھی نہیں تھی۔ میں بیوقوف بھی نہ تھا۔ اس کا جواب تو کچھ اور ہی تھا اور وہ جواب تھا۔۔۔ محمد (ﷺ)
میں نے محمد (ﷺ) کو بارہا دیکھا تھا لیکن ان سے بات کبھی نہ ہوئی تھی۔ جب حج یا دوسرے میلے ختم ہو جاتے تو مکہ پھر اپنی پہلی حالت پر آ جاتا۔ لوگ میرے پاس سے گزرتے۔ ایک غلام کی کسی کو کیا پرواہ تھی لیکن محمدؐ! اُن کی بات ہی کچھ اور تھی۔ وہ جب بھی پاس سے گزرتے تو ان کی نگاہوں میں کچھ اپنائیت سی ہوتی۔ لیکن اب۔۔۔ اب تو وہ خدا کا ایک عظیم الشان نشان تھے۔
میں اب ایک خدا کے بارہ میں سوچ رہا تھا۔ میں ان دنوں جاہل ان پڑھ تھا۔ لیکن میں پیاسا تھا۔ پانی کی تلاش میں تھا۔ اور اس پانی کی تلاش میں خدا جانے کہاں کہاں سرگرداں تھا۔ اے میرے خدا! لوگ کہتے ہیں کہ انسان خدا کو تلاش کرتا ہے۔ لیکن یہ صحیح نہیں۔ اے میرے اللہ تو انسان کو منتخب کرتا ہے۔ اور کون ہے جو تیری مرضی کے بغیر تجھے تلاش کرے۔ اور یہی وہ رات تھی جب میں نے تیری ہی مرضی سے اور تیری ہی رضا سے تیرے ہی سامنے بلال کو سجدہ ریز کر دیا۔ اور میں بلال اسلام پر ایمان لے آیا۔
اب میری رسیاں، اب میری دردیں اور میری تکلیف میری خوشی کا سامان بن گئیں۔ اب میری روح ترانے گا رہی تھی۔ اب میں ایک خدا کے حضور سجدہ ریز تھا اور میں پرسکون ہو گیا۔ اب میں خدا کے رحم کا امیدوار ہو گیا اور میرے سارے خوف جاتے رہے۔
اگلا دن چڑھا اور اللہ کے حکم سے ہی نیا سورج نکلا۔ ہر کام اللہ ہی کے حکم سے ہوتا ہے اور وہ آئے اور شاید مجھ سے یہ امید کر رہے تھے کہ میں ان سے رحم کی بھیک مانگ لوں لیکن میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور وہ سمجھے کہ شاید میری عقل جواب دے گئی ہے مگر وہ کیا جانتے تھے کہ اب تو میرا سہارا میرا واحد خدا تھا۔ اب تو جو بھی سلوک وہ مجھ سے کریں گے وہی میرے مولا کی مرضی ہوگی اور میں اس پر راضی تھا۔
وہ مجھے گلیوں میں گھسیٹتے ہوئے لئے چلے گئے۔ ظلم آخر ظلم ہے اکثر لوگ اسے پسند نہیں کرتے۔ گھروں کی کھڑکیاں بند تھیں۔ لوگوں کو پتہ چل گیا کہ میں نے اپنے آقا کی حکم عدولی کی ہے اور یہی بغاوت ہے۔ اور اسے ہرگز برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ امیہ اپنی رقم کی قیمت وصول کرنا چاہتا تھا۔ میں تو اس کی رقم تھا۔ وہ اپنی رقم یوں کیسے پھینک دیتا۔ اب میں اس کے کسی کام کا نہ تھا۔ اب تو صرف میری کھال ہی اس کے کام کی تھی جو وہ ادھیڑ دینا چاہتا تھا تاکہ دوسرے غلاموں کے لئے عبرت ہو۔ آج جب اس واقعہ کو پچاس برس گزرتے ہیں مجھے امیہ پر رحم آتا ہے۔ جو دوسروں پر ظلم کرتا ہے اپنے آپ پر ظلم کرتا ہے۔
