In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » کتبِ سلسلہ » کتب خدام الاحمدیہ پاکستان » PDF ڈاؤن لوڈ کریں PDF ڈاؤن لوڈ کریں

سیدنابلالؓ

تصنیف حسن محمد خان، فرید احمد نوید۔ شائع کردہ : مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان
+ فہرست مضامین

خدا ایک ہے

میں اب انسان نہیں دو ٹانگوں والا جانور تھا۔ مجھے زمین پر لٹا دیا گیا۔ امیہ نے کوڑا تھام لیا۔ پھر کیا ہوا۔ درد کی کہانی ہے۔ دیکھنے والوں نے جو دیکھا۔ مجھے اپنی موت نظر آ رہی تھی۔ لیکن خدا۔ میرا خدا! بے انتہا قدرتوں والا ہے۔ امیہ میرے جسم کو کوڑے مار رہا تھا۔ لیکن میری روح کو وہ کیسے کوڑا مار سکتا تھا۔ مجھے آج بھی اپنی وہ آواز یاد ہے جس طرح میں نے خدا کو اس دن پکارا۔ میں نے نماز کے لئے سینکڑوں نہیں ہزاروں بار مومنوں کو اذان دے کر اللہ کا نام لے کر بلایا ہے۔ لیکن اس دن مجھے صرف ایک ہی بات یاد تھی۔ میں ایک ہی لفظ کہہ رہا تھا۔ "اَحَدٌ۔ اَحَدٌ" اللہ ایک ہے۔ اللہ ایک ہے اور جب بھی میں اس کا نام لیتا۔ وہ میرا خدا۔ میرا اپنا اللہ میرے دل کو جواب دیتا۔ اللہ کا جواب دلوں کو ہی ملا کرتا ہے۔ میں کوڑے کھا رہا تھا لیکن میری زبان بند تھی اسے تالے لگ چکے تھے۔ میں ان ظالموں سے رحم کی بھیک نہیں مانگ رہا تھا۔ میں تو اللہ سے مانگ رہا تھا۔

اگر اس عذاب کے دوران میں کہیں مر جاتا تو امیہ کو بہت رنج اور افسوس ہوتا کہ اس کی رقم اتنی جلد ضائع ہو گئی۔ امیہ مجھے مار مار کر تھک چکا تھا۔ ہندہ ابوسفیان کی بیوی خوشبو لگائے اٹھلاتی ہوئی آئی۔ میں کوڑوں سے ادھ موا ہو چکا تھا۔ لیکن میری زبان پر اللہ کا ہی نام تھا اور اس نے جھک کر میرے وہ الفاظ سنے تو ہنس کر بولی "لو یہ غلمٹا تو اب بھی اپنے ہی دین کا پرچار کر رہا ہے"۔

اور چلی گئی۔ کوڑا پھر برسنے لگا۔

موت کا مزا زندہ نہیں جانتے۔ مرنے والا ہی جانتا ہے کہ موت کیا ہے۔ اس دن میری تکلیفوں کا خاتمہ ہو گیا۔ مجھے کوڑوں کی کوئی تکلیف محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ سینے پر چکی کا پاٹ رکھ دیا گیا۔ میری پیٹھ گرم ریت سے جھلس گئی۔ میرا دم لبوں پر تھا۔ میری زبان پیاس سے باہر نکل آئی اور امیہ نے کہا۔

"بلال کہہ کہ لاتؔ اور عزیٰؔ تیرے خدا ہیں۔ تیرے دیوتا ہیں"۔

میں نے جواب دیا "اَحَدٌ۔ اَحَدٌ"

اور پھر میری آنکھیں بند ہو گئیں۔ مجھے آسمان نظر آیا۔ اور وہاں میں نے سرسبز و شاداب کھیت دیکھے۔ پھلوں اور پھولوں سے لدے ہوئے باغ دیکھے اور میں اُن درختوں کے ٹھنڈے سائے میں بیٹھ گیا۔ یہاں ہر قوم اور نسل کے مرد بھی اور عورتیں بھی پھر رہی تھیں اور ان سب کے سر فخر سے اونچے تھے اور پھر وہ مجھے ایک چشمہ پر لے گئے اور میں نے جی بھر کر ٹھنڈا پانی پیا اور میری ساری پیاس بجھ گئی اور میں اپنے اللہ کے اور بھی قریب ہو گیا۔

صفحہ نمبر: 5 (کل صفحات: 23)