In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » کتبِ سلسلہ » کتب خدام الاحمدیہ پاکستان » PDF ڈاؤن لوڈ کریں PDF ڈاؤن لوڈ کریں

سیدنابلالؓ

تصنیف حسن محمد خان، فرید احمد نوید۔ شائع کردہ : مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان
+ فہرست مضامین

اپنے آقا کے قدموں میں

ابوبکرؓ مجھے لے کر آپؐکے پاس آئے میں خدا کے رسولؐ کے سامنے حاضر تھا۔ میں نے انہیں اس سے پہلے دیکھا تو تھا لیکن اب قریب سے دیکھا۔ میرا دل خوشی اور اطمینان سے بھر گیا۔ آپؐ کی پیشانی روشن تھی۔ آنکھیں سیاہ تھیں لیکن ان مںم شربتی رنگ جھلکتا تھا۔ مصافحہ بڑی گرمجوشی سے کرتے تھے۔ آپؐ کی چال بڑی تیز مگر پُروقار تھی۔ آپؐ مجھ سے مل کر بہت خوش ہوئے۔ ابوبکرؓ سے سارا ماجرا سنا تو انہیں دعائیں دیں اور مجھے تسلی دیتے رہے۔ پھر اسلام کی باتیں بتانے لگے اور ایک خدا کی عبادت کی نصیحت کرتے رہے۔

اسی دن میں نے دوسری مرتبہ اسلام کا نام سنا۔ لیکن ابھی مجھ پر اس کا پورا مطلب واضح نہ تھا۔ آپؐ نے میری لاعلمی کو بھانپ لیا اور میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بڑی محبت سے بولے "بلال! خدا کی رضا کے حصول کا نام اسلام ہے۔ خدا ایک ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ خدا کے بندوں سے نیکی کرنا اسلام ہے۔ خواہ وہ کسی ملک یا کسی رنگ اور نسل کے ہوں۔ بلال! اسلام میں سب برابر ہیں۔ اور یہ وہ دین ہے جو خدا نے خود اپنے بندوں کے لئے پسند کیا ہے۔"

اب مجھے پتہ لگا کہ اسلام کیا ہے۔ اسلام میرا دین اور محمدؐ میرے آقا تھے۔ میرے محبوب تھے۔ اسلام لانے کے بعد میری تو دنیا ہی بدل گئی تھی۔

اب میں ابوبکرؓ کے ہاں رہنے لگا۔ یہ مکہ کے سرداروں میں سے تھے لیکن مغرور اور متکبر سرداروں والی کوئی بات ان میں نہ تھی۔ ان کا گھر بھی کوئی بڑا نہ تھا۔ رہنا سہنا بہت سادہ اور بے تکلف تھا۔ باتوں میں بڑے دھیمے اور مزاج کے نرم تھے۔ جس سے بات کرتے اس کا دل موہ لیتے۔ آپ مکہ کے کامیاب اور خوشحال تاجروں میں سے تھے لیکن اپنا مال دوسرے سرداروں کی طرح جوئے اور شراب اور دوسرے برے کاموں میں ضائع نہیں کرتے تھے۔ رسولؐ اللہ کے بچپن کے دوست تھے۔ لیکن عمر میں چھوٹے تھے۔ جب آپؐ نے اپنی نبوت کا دعویٰ کیا تو عورتوں میں سب سے پہلے خدیجہؓ اور مردوں میں ابوبکرؓ آپؐ پر ایمان لائے۔ جس وقت آپ مسلمان ہوئے آپ کے پاس چالیس ہزار درہم تھے یہ بہت بڑی رقم تھی اور جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں آپ اپنا مال نیکی کی راہوں پر خرچ کرتے اور ان غلاموں کو خرید کر آزاد کرتے تھے جو مسلمان ہو جاتے اور جنہیں ان کے کافر اور ظالم مالک مارا پیٹا کرتے۔ مجھے بھی انہوں نے آزاد کرایا۔ ابوبکرؓ کے بارہ میں تھوڑی سی تفصیل اس لئے بیان کر رہا ہوں کہ وہ میرے محسن تھے اور انہوں نے مجھے امیہ بن خلف کے ظلم سے آزاد کرایا تھا۔

صفحہ نمبر: 8 (کل صفحات: 23)