تربیت کا سفر
ایک دفعہ کی بات ہے میں ابھی امیہ بن خلف کے لگائے ہوئے زخموں سے اچھا بھی نہیں ہوا تھا کہ ایک دن آپؓ میرے لئے بکری کا دودھ دوہ کر لائے۔ میں نے شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے مجھے آزاد کرایا ہے۔ میں حیران ہو گیا کہ آپ الٹا میرا شکریہ ادا کرنے لگ گئے اور کہنے لگے کہ رسولؐ اللہ نے ہمیں بتایا ہے کہ غلام آزاد کرانے سے اللہ تعالیٰ خوش ہوتا ہے۔ پھر کہنے لگے بلال! میں نے تمہارے لئے ایک نیا کام سوچا ہے کیا تم اسے کرلو گے؟ یہ کام غلامی کے زمانہ کے کام سے زیادہ سخت ہوگا۔ میں نے جواب دیا ہاں میرے آقا! میں ضرور کروں گا۔ یہ سننا تھا کہ آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور مجھے یوں لگا کہ میرا جواب سن کر آپ کو تکلیف ہوئی ہے۔ آپ نے دودھ کا برتن ہاتھ سے رکھ دیا۔ میرا کان پکڑ کر اپنا ماتھا میرے ماتھے سے لگا کر مجھے کہنے لگے۔
"بلال! تم اب آزاد ہو تمہارا کوئی آقا نہیں۔ آزادی سے جینا سیکھو تم کسی کے غلام نہیں ہو"۔
میں سنبھل گیا اور کہا ہاں یہ درست ہے۔ ابوبکرؓ نے میرا کان چھوڑ دیا اور ہنس پڑے۔ اسی وقت ایک بلی ابوبکرؓ کے قریب آ کر آپ کے پاؤں پر لوٹنے لگی۔ اور میاؤں میاؤں کر کے دودھ مانگنے لگی۔ آپ نے علیحدہ برتن میں اس کا دودھ ڈال دیا اور وہ خوشی سے پینے لگی۔ یہ دیکھ کر میں بڑا حیران ہوا کیونکہ میں تو شاید بلی کو ٹھوکر مار کر بھگا دیتا۔ اس سے مجھے خیال آیا کہ ابھی تو میں نے بہت کچھ سیکھنا ہے۔ ابھی تو میں نے سچا مسلمان بننے کے لئے بہت کچھ کرنا ہے۔ بلی کی بات سے مجھے ایک اور واقعہ یاد آ گیا۔
یہ بہت بعد کی بات ہے۔ ہجرت کے بعد جب تقریباً سارا عرب مسلمان ہو چکا تھا اور صرف مکہ کے قریش ہی کافر رہ گئے تھے۔ رسولؐ اللہ دس ہزار کے لشکر کے ساتھ مکہ کو فتح کرنے جا رہے تھے میں بھی ساتھ تھا۔ راستہ میں ایک جگہ ایک کتیا اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو لئے بیٹھی تھی آپ نے لشکر کو حکم دیا کہ وہ راستے سے ہٹ کر گزریں تا کہ اس کتیا اور اس کے بچوں کو تکلیف نہ ہو۔
آپ انسانوں پر ہی نہیں جانوروں کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرنے کی تعلیم دیتے تھے۔ آپؐ کہا کرتے تھے اگر تم نے کسی پیاسے جانور کو پانی پلایا تو تم نے اپنے لئے جنت میں جگہ بنالی اور اگر تم نے کسی بے زبان جانور کو تنگ کیا تو خدا تم سے ناراض ہو جائے گا۔ میں کہاں سے کہاں چلا گیا۔ بات میں کر رہا تھا ابوبکرؓ کی۔
آپ نے مجھے سمجھایا کہ میں اب آزاد ہوں۔ آزاد رہنے کے لئے مجھے کوئی کام سیکھنا چاہیے۔ آپ نے مجھے کہا اگر میں تمںیخ قلم بنادوں تو لکھنا سیکھ لو گے؟ میں تمہاری مدد کروں گا۔ یہ میری آزاد زندگی کا ایک بہت قیمتی لمحہ تھا۔ میں تو سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ابوبکرؓ مجھے لکھنا پڑھنا سکھائیں گے جو مکہ کے بڑے بڑے سرداروں کو بھی کم ہی آتا تھا۔ اس طرح میں نے لکھنا پڑھنا شروع کیا۔ ابوبکرؓ مجھے قلم بنا دیتے میں سیاہی بناتا۔ کبھی کھال پر لکھتا۔ درختوں کی چھال پر لکھتا۔ گیلی مٹی پر لکھتا۔ چولہے کی بچی ہوئی راکھ زمین پر بچھا کر لکھتا اور تو اور میں ہوا میں انگلیوں سے لکھتا رہتا۔ ابوبکرؓ مجھے سبق دیتے۔ میرے لکھے ہوئے کی اصلاح کرتے۔ ایک دن عجیب بات ہوئی۔ میں بیٹھا سیاہی بنا رہا تھا کہ ابوبکرؓ باہر سے آئے مجھے سیاہی بناتا دیکھ کر ان کا چہرہ کھل اٹھا۔ میرے سیاہی بھرے ہوئے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لئے۔ انہیں ایک لمحہ دیکھا اور پھر انہیں چوم لیا۔ مجھے اپنے ساتھ بٹھا لیا اور کہنے لگے رسولؐ اللہ کہتے ہیں۔ عالم کے ہاتھ کی سیاہی شہید کے خون سے زیادہ قیمتی ہے۔ ابوبکرؓ وہاں سے چلے گئے میں سیاہی بنانے والے برتن کے پاس بیٹھا اور دیر تک اپنے سیاہی بھرے ہاتھوں اور انگلیوں کو دیکھتا رہا۔ میرے ذہن میں عجیب عجیب خیال آئے۔ میں سوچ رہا تھا کہ محمدؐ بھی عجیب شخص ہے جس نے مجھے اتنا بلند کر دیا کہ ابوبکرؓ نے میرے ہاتھ چومے۔ میں دوسروں کی ٹھوکریں کھانے والا کالے رنگ کا غلام۔ ابوبکر مکہ کے سردار۔ میرا دل بھر آیا اور میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
اُن دنوں کے حالات میں نے مختصر ہی بیان کئے ہیں۔ اگر تفصیل بتاؤں تو بات لمبی ہو جائے گی۔ ہم مسلمان ابھی تعداد میں تھوڑے سے تھے۔ اسلام کی تبلیغ بھی کھلم کھلا نہ کر سکتے تھے۔ حضورؐ ایسے لوگوں سے جو اسلام کے متعلق معلوم کرنا چاہتے گھر کے اندر ملتے یا شہر سے باہر کسی جگہ ملاقات کرتے۔ یہاں تک کہ بعض دفعہ ہمیں بھی ایک دوسرے کا پتہ نہ لگتا تھا۔ کیونکہ اس وقت ہم اپنے مسلمان ہونے کا ذکر کسی سے نہ کرتے تھے۔ ان دنوں اسلام صرف ایک اللہ پر ایمان لانا تھا۔ جبرائیل نے شروع میں ہی رسولؐ اللہ کو نماز اور وضو کا طریق تو سکھا دیا تھا مگر جس طرح آج ہم دن میں پانچ نمازیں پڑھتے ہیں یہ بعد میں شروع ہوئیں اور روزے تو اور بھی بعد میں شروع ہوئے۔ ہم یا تو اپنے اپنے گھروں میں یا شہر سے باہر کسی گھاٹی میں دو دو چار چار مل کر نماز پڑھا کرتے تھے۔
انہی دنوں ایک شخص ارقم نامی مسلمان ہوئے۔ ان کا گھر شہر سے باہر تھا۔ ہم سب وہاں جمع ہو جاتے۔ رسولؐ اللہ بھی وہاں آ جاتے تھے۔ ہم وہاں نمازیں پڑھا کرتے۔ رسولؐ اللہ کی باتیں سنتے ان سے اسلام سیکھتے۔ ہم اس گھر کو دارالاسلام کہا کرتے تھے۔ اس وقت ہماری مخالفت تو ہوتی تھی مگر چونکہ ہم تھوڑے تھے اس لئے اس میں شدت نہ تھی آہستہ آہستہ قریش کو خیال ہونے لگا کہ ایسا نہ ہو کہ ہم لوگ ان کے لئے خطرہ بن جائیں اس لئے انہوں نے زور و شور سے ہماری مخالفت شروع کردی۔ دشمنی کی بڑی وجہ یہ تھی کہ مکہ والے بت پرست تھے اور رسولؐ اللہ بت پرستی کے خلاف تھے وہ صرف ایک خدا کو عبادت کے قابل سمجھتے تھے۔ پھر عرب اور خاص طور پر بڑے بڑے سرداروں کے لئے لوگوں پر ظلم کرنا، ڈاکے ڈالنا، شراب پینا، جؤا کھیلنا، قتل کرنا ایک عام سی بات تھی۔ جبکہ اسلام ان باتوں سے روکتا ہے۔ اسلام میں کوئی غلام ہے نہ آقا، سب برابر ہیں۔ اس لئے بھی سردار اسلام کے دشمن ہو گئے تھے وہ کہا کرتے تھے کہ قرآن اگر خدا کا کلام ہے تو محمدؐ کی بجائے مکہ کے کسی سردار پر کیوں نہیں اترا۔ کتنے بڑے اور امیر سردار تھے۔ مگر کتنے جاہل تھے کہ وہ چاہتے تھے کہ نعوذ باللہ خدا بھی ان کی مرضی پر چلے۔ ان ساری باتوں کی وجہ سے وہ ہمیں تنگ کرتے رہتے اور ان کی کوشش تھی کہ اسلام کو ختم کردیں۔
ایک دفعہ مکہ کے سردار مل کر رسولؐ اللہ کے چچا ابوطالب کے پاس گئے کہ وہ اپنے بھتیجے کو سمجھائیں کہ وہ اپنی باتیں بند کر دیں۔ ابوطالب نے انہیں نرمی سے سمجھا کر واپس کر دیا۔ دوسری دفعہ پھر کچھ سردار اکٹھے ہو کر آئے اور ابوطالب کو کہا کہ اگر محمدؐ ان باتوں سے رک جائے تو ہم اسے اس کی خواہش کے مطابق مال دینے کو تیار ہیں۔ اگر وہ سرداری چاہتے ہیں تو ہم انہیں اپنا سردار بنانے پر راضی ہیں۔ انہوں نے دھمکی بھی دی کہ اگر محمدؐ ان باتوں سے نہ رکے تو ہم سب مل کر تمہارا مقابلہ کریں گے۔ اس لئے اپنے بھتیجے کو سمجھاؤ۔ اس پر ابوطالب کو فکر ہوئی۔ آپ نے رسولؐ اللہ کو بلایا اور کہنے لگے میری ساری قوم میری مخالف ہو گئی ہے۔ اب بہتر یہی ہے کہ تم یہ کام چھوڑ دو۔ رسولؐ اللہ کوئی اپنی مرضی سے تو یہ کام نہیں کر رہے تھے یہ خدا کا حکم تھا وہ اس کو پورا کرنے سے کیسے رک جاتے۔ آپؐ نے کہا چچا! اگر آپ ڈرتے ہیں تو مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں۔ اگر یہ لوگ میرے دائیں ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاند رکھ دیں تب بھی جو کام اللہ نے میرے سپرد کیا ہے اس سے نہیں رکوں گا۔ جب ابوطالب نے رسولؐ اللہ کا پکا ارادہ اور ہمت دیکھی تو کہا محمدؐ جاؤ اپنا کام کرو جب تک میں زندہ ہوں تمہارے ساتھ ہوں۔
ابوطالب سے مایوس ہو کر قریش نے فیصلہ کیا کہ ہر سردار اپنے خاندان میں سے مسلمان ہونے والے پر سختی کرے اور اسے مجبور کرے کہ وہ اسلام چھوڑ دے۔ اس طرح مسلمانوں پر بہت سے ظلم شروع ہو گئے۔ ان دنوں ہم پر کیا گزرتی تھی۔ یہ دکھوں اور مصیبتوں کی ایک لمبی کہانی ہے۔ یہ تو آنسوؤں کی داستان ہے کوئی ایسا ظلم نہ تھا جو ہم پر نہیں ہوا۔ ہمیں رسیوں سے باندھ کر مارا جاتا تھا۔ مکہ کی تپتی ہوئی پتھریلی زمین پر آوارہ لڑکے ہمیں گھسیٹتے پھرتے اور بڑے بڑے پتھروں کی سلیں ہماری چھاتی پر رکھ کر اوپر بیٹھ جاتے۔ ہمارا کھانا بند کر دیا جاتا اور کہا جاتا جب تک اسلام نہیں چھوڑو گے تمہیں بھوکا رکھا جائے گا۔ ظالموں نے ہمارے کئی مسلمان بھائیوں کو تکلیفیں دے دے کر شہید کر دیا۔ مکہ کے سردار یوں تو بہت بہادر بنتے تھے مگر حال یہ تھا کہ بوڑھی مسلمان عورتیں بھی ان کے ظلم سے محفوظ نہ تھیں۔ ہماری ایک بہن سمیہؓ کی آنکھوں کے سامنے اس کے خاوند کو شہید کر دیا پھر اس کو بھی اتنے زخم لگائے کہ اس نے تڑپ تڑپ کر جان دے دی۔
یہ باتیں مختصر بتا رہا ہوں تفصیل اس لئے نہیں بتا سکتا کہ مجھے اپنے شہید بہن اور بھائی یاد آ جاتے ہیں۔ اور تو اور خود میرے آقا محمدؐ بھی اس ظلم سے بچے ہوئے نہ تھے۔ کبھی قریش ان کے گلے میں کپڑا ڈال کر دونوں طرف سے اتنا کھینچتے کہ آپؐ کا سانس گھٹنے لگتا۔ کبھی نماز پڑھتے ہوئے آپؐ کے سر پر اونٹ کی اوجھڑی رکھ دیتے جو اتنی بھاری ہوتی کہ آپؐ سجدہ سے سر بھی نہ اٹھا سکتے۔ آپؐ کو پتھر مارتے۔ کبھی آپؐ کے گھر میں گند پھینکتے آپ کے دروازے پر کانٹے بچھا دیتے تاکہ باہر نکلنے میں تکلیف ہو جب اس پر بھی مسلمانوں نے اسلام کو نہ چھوڑا بلکہ ایک ایک دو دو کر کے کافر مسلمان ہونے لگے تو قریش کا غصہ اور ظلم مزید بڑھ گیا۔
